حد ث اصغر کی صورت میں مصحف قرآنی کو ہاتھ لگانے کا حکم

شاہد نذیر نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏اکتوبر، 23, 2020 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    786
    حد ث اصغر کی صورت میں مصحف قرآنی کو ہاتھ لگانے کا حکم
    بعض مسائل جیسے یزید کے مغفور اور جنتی ہونے کا مسئلہ، چار دن قربانی کا مسئلہ اور بلا وضو قرآن چھونے کا مسئلہ وغیرہم ایسے مسائل ہیں کہ دیگر اختلافی مگر اہم مسائل کی بھرمارمیں ان مذکورہ نسبتاً کم اہم مسائل کوماضی میں قابل توجہ یا لائق التفات نہ سمجھتے ہوئے زیر بحث نہیں لایا گیا۔اس کا ایک بنیادی سبب یہ بھی رہا کہ مخالفین اہل الحدیث نے اپنی تمام تر توجہ رفع الیدین، آمین بالجہر، فاتحہ خلف الامام اور تقلید جیسے مسائل پر مرکوز رکھی اور انہی مسائل کو مناظرے اور مناقشے کا محور بنائے رکھانتیجتاً فطری طور پر جماعت اہل حدیث کوکسی اور مسئلہ کی جانب توجہ کرنے کا موقع ہی میسر نہیں آیا۔ اس حقیقت کا اقرار و اعتراف مخالفین کو بھی ہے چناچہ مولانا اللہ وسایا دیوبندی لکھتے ہیں: حضرت مولانا سید انور شاہ صاحب رحمہ اللہ کی زندگی کا اہم ترین مقصد تحفظ ختم نبوت تھا، آپ کے شاگرد رشید حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب فرماتے ہیں کہ: ایک دفعہ آپ قادیان تشریف لے گئے، مسجد میں مغموم بیٹھے تھے، درد دل کے ساتھ آہ بھری اور فرمایا: شفیع! ہماری تو زندگی ضائع ہوگئی، قیامت کے دن خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دکھلائیں گے۔ مفتی صاحب فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: حضرت! دنیا کا کوئی کونا نہیں جہاں آپ کے شاگرد نہ ہوں، دنیا آپ کے علم سے سیر ہورہی ہے،صبح و شام بخاری و مسلم کا سبق پڑھاتے ہیں، بے شمار آپ نے کتابیں تصنیف فرمائی ہیں، اب بھی آپ فرمائیں کہ ہماری زندگی ضائع ہوگئی تو پھر ہمارے جیسوں کا کیا حال ہوگا؟ حضرت ؒ نے فرمایاکہ: ساری زندگی ہم وجوہ ترجیح مذہب احناف بیان کرتے رہے، حالانکہ امام شافعی رحمہ اللہ بھی حق پر ہیں، مسئلہ فاتحہ خلف الامام کو چھیڑے رکھا، حالانکہ ان سے کہیں زیادہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی ضرورت ہے۔ (تذکرہ مجاہدین ختم نبوت اور قادیانیوں کے عبرت انگیز واقعات، صفحہ 42،43)

    انور شاہ کشمیری دیوبندی کی اسی گفتگو کو ان کے شاگرد مفتی محمد شفیع نے اپنی تصنیف ”وحدت امت“ میں زراالگ اور مختلف انداز سے نقل کیا ہے جہاں انور شاہ موصوف نے فاتحہ خلف الامام کے علاوہ آمین بالجہر اور رفع یدین جیسے مسائل کے پیچھے پڑ کر قیمتی وقت کے ضیاع پر ندامت اور پشیمانی کا اظہار کیا ہے ملاحظہ ہو محمد شفیع صاحب اپنے استاد کے خیالات و احساسات بتاتے ہوئے رقمطراز ہیں: قبر میں بھی منکر نکیر نہیں پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا ترک رفع یدین حق تھا؟ آمین بالجہر حق تھی یا بالسر حق تھی، برزخ میں بھی اس کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا اور قبر میں بھی یہ سوال نہیں ہوگا............... تو جس چیز کو نہ دنیا میں کہیں نکھرنا ہے نہ برزخ میں، نہ محشر میں، اسی کے پیچھے پڑ کر ہم نے اپنی عمر ضائع کردی اپنی قوت صرف کردی..................وہ منکرات جن کو مٹانے میں ہمیں لگے ہونا چاہیے تھا وہ پھیل رہے ہیں، گمراہی پھیل رہی ہے، الحاد آرہا ہے، شرک و بت پرستی چل رہی ہے، حرام و حلال کا امتیازاٹھ رہا ہے، لیکن ہم لگے ہوتے ہیں ان فرعی وفروعی بحثوں میں۔ حضرت شاہ صاحب نے فرمایایوں غمگین بیٹھا ہوں اور محسوس کررہا ہوں کہ عمر ضائع کردی۔ (وحدت امت، صفحہ31،32)

    لہٰذاتوقع کے عین مطابق انجام کار اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اغیار اور مخالفین کے مابین یہ مسائل اہل حدیث کی شناخت اور پہچان کی حیثیت اختیار کرگئے اوراس صورت حال کے سبب اہل حدیث کی عوام حتی کہ بعض خواص میں بھی عام تاثر یہی پایا جانے لگا کہ بنا کسی اختلاف کے ذکرکردہ بالا مسائل (یعنی یزید کو رحمۃ اللہ علیہ کہنااور بلا شک و شبہ اس کے مغفوراور جنتی ہونے کا عقیدہ رکھنا، چار دن کی قربانی کو ثابت شدہ اور متروک سنت سمجھنا اس لئے خصوصیت کے ساتھ ہر سال اس کا اہتمام کرنااوربغیر ہچکچاہٹ وکراہت کے قرآن کو بلا وضو چھونابلکہ دین آسان ہونے کی بناپر اسے شریعت کا منشا اور مقصود سمجھنا) جماعت اہل حدیث کے شعار ہیں حالانکہ حقیقت سے اس تصور کا دور کا بھی واسطہ نہیں اور صحیح صورتحال اس سے قطعاً مختلف ہے نہ تو یہ مسائل اہل الحدیث کا جماعتی اور اجتماعی موقف ہیں اور نہ ہی جمہور سلف صالحین ان نظریات کے حامی رہے ہیں بالخصوص آخرالذکر موقف کے۔

    مندرجہ بالا مسائل میں سے ثالث الذکر مسئلہ کوچونکہ جوں کی توں شہرت نصیب ہوئی اور بر موقع و محل اس کا ازالہ نہ ہوسکا اس لئے لوگ غلط فہمی کا شکار ہوئے۔ اس پر مستزاد اہل حدیث ہونے کا تاثر رکھنے والے ڈاکٹر ذاکر نائیک جیسے مقبول عام مبلغ و مناظر کے بیانیے نے اسے مزید تقویت پہنچائی اور اس تاثر کو مزید گہرا کردیاکہ کتاب اللہ کو چھونے کے لئے وضو کی غیر ضروری شرط لوگوں کو مشقت میں ڈالنے والی ہے جو در اصل لوگوں کو قرآن سے دور رکھنے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔

    افسوسناک طور پر قرآن کے بارے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ذکر کردہ نامعقول خیالات،بیانیے اور موقف سے اتفاق کرنے والے علماء کی ایک لمبی فہرست ہے مثلاً ایک اہل حدیث عالم ابوفہد قاری عبدالحفیظ ثاقب بھی اپنے ہم خیالوں کی طرح قرآن فہمی میں رکاوٹ اور کتاب اللہ سے دوری کا سبب بننے والے بعض عوامل اور اسباب میں سے ترقیم نمبر آٹھ پر ایک سبب اور ایک عامل وضو کو قرار دیتے ہوئے گویا ہیں: اگر قرآن مجید کو چھونے اور تلاوت کرنے کے لیے وضو کرنے کا حکم دے دیا جاتا تو نہ صرف عام مسلمانوں کے لیے تلاوت قرآن میں ایک بہت بڑی رکاوٹ پیدا ہوجاتی بلکہ قرآن مجید کی تعلیم اورتحفیظ کے اساتذہ اور خصوصاً طلباء کے لیے بہت سی مشکلات پیدا ہوجاتیں لہٰذا اس بارے میں درست موقف یہی ہے کہ قرآن مجید کی بلا وضو تلاوت اور اسے چھونا درست ہے۔(فہم قرآن کورس،پارٹ ا،صفحہ 59)

    اپنی دانست میں قرآن سے تعلق میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور عوام الناس کے لئے زیادہ سے زیادہ آسانی پیدا کرنے کے لیے اپنے اپنے نظریے کی ترویج و تفہیم کی اس ساری بحث اور کوشش میں نہایت تکلیف دہ اور قابل افسوس امر یہ ہے کہ قاری عبدالحفیظ ثاقب صاحب نے انتہائی مبالغہ آمیزی کرتے ہوئے ”قرآن مجیدکو پکڑنے کے لیے وضو کی شرط“ کوبھی ایک بیماری اورانسان کے ازلی دشمن شیطان کی ایک چال کے مترادف قرار دیا ہے کیونکہ انکے نزدیک وضو کی شرط بھی قرآن سے دوری کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے۔ ملاحظہ فرمائیں موصوف قرآن فہمی کی رکاوٹوں کی تعداد اور تفصیل سے پہلے لکھتے ہیں: انسان کی ہدایت کے لیے قرآن مجید ہی سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اس لیے انسان کے ازلی دشمن، شیطان، نے اسے قرآن مجید سے دور رکھنے کے لیے بے شمار رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں اور ان کے لیے بڑے خوبصورت اور خوشنما دلائل بھی مہیا کر رکھے ہیں۔ اگرچہ ایسے اسباب تو بے شمار ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اجتماعی اسباب کے علاوہ ہرفرد کے لیے بعض انفرادی اسباب بھی ہوں تاہم، یہاں ہم بعض اہم اسباب کی نشاندہی کررہے ہیں۔بعض اوقات انسان کسی مرض میں مبتلا ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو مریض محسوس نہیں کرتا اور مرض کا احساس اسے اس وقت ہوتا ہے جب مرض لاعلاج ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید سے دوری کے اسباب کی نشاندہی کا مقصد یہی ہے کہ اگر کوئی شخص غیر محسوس طریقے سے یا لاشعوری طورپران امراض میں مبتلا ہے یا ان میں سے کسی ایک مرض میں مبتلا ہے تو وہ مرض کے لاعلاج ہونے سے پہلے پہلے اس پرتوجہ دے سکے۔ہمارے نزدیک قرآن مجید سے دوری کے اہم اسباب درج ذیل ہیں۔(فہم قرآن کورس، پارٹ ا،صفحہ 43)

    غیر شعوری طور پر قرآن کی بے ادبی کی راہ ہموار کرنے کے لئے بظاہر آسانی کا یہ نعرہ جتنا ہی قرین عقل اور پرکشش کیوں نہ ہو لیکن شریعت لوگوں کی عقل پر نہیں چلتی۔جیسا کہ عقل اور منطق کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ: اگر دین عقل پر ہوتا توموزے کے نچلے حصہ پر مسح کرنا اس کے اوپری حصہ پر مسح کرنے سے بہتر ہوتا۔(سنن ابوداود، جلد اوّل، کتاب الطہارت، باب: مسح کیسے ہو؟)

    نواب سید محمد صدیق حسن خان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض اہل علم نے کہا ہے: ”دیننا مبنی علی النقول لا علی مناسبۃ العقول“ ]ہمارا دین نقول (نصوص) پر مبنی ہے نہ کہ عقول کی پسند اور مناسبت پر[ (مجموعہ علوم قرآن، صفحہ 149)

    معلوم ہو ا کہ بعض معاملات میں انسانی عقل کچھ اور کہتی ہے جبکہ شریعت کا فیصلہ کچھ اورہوتا ہے اسی طرح قاعدہ کلیہ”دین آسان ہے“ کی رو سے توبعض الناس کی عقل اور منطق یہی کہتی ہے کہ وضو کی تکلیف اٹھائے بغیر ہی مصحف کو ہاتھ لگانے میں آسانی اور سہولت ہے لیکن نصوص بتاتی ہیں کہ شریعت کا منشاء یہاں بھی خلاف عقل کچھ اور ہے۔

    مضمون کے عنوان سے ظاہر ہے کہ ہم نے صرف حدث اصغر کی حالت میں مس قرآن کے شرعی حکم کو موضوع سخن بنایا ہے اور حدث اکبر کی حالت سے جان بوجھ کر صرف نظر کیا ہے اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حالت ناپاکی میں قرآن چھونے کے حرام ہونے پر امت کا اجماع واقع ہواہے اس لئے حدث اکبر کی صورت میں مصحف قرآنی کو ہاتھ لگانے کا مسئلہ مکمل طور پر خارج از بحث ہے۔گویا اس مسئلہ کی اجماعی حیثیت کو ملحوظ خاطررکھتے ہوئے اس پر اظہار خیال یابحث و مباحثہ کو قیمتی وقت کی بربادی اور ضیاع سمجھتے ہوئے اس جھنجٹ میں پڑنے سے دانستہ گریز کیا گیا ہے۔اس سب کے باوجود بھی حیرت اس بات پر ہے کہ بعض حاملین کتاب و سنت ایسی ناپاکی کی حالت میں بھی مس مصحف کے جواز کی شدید غلطی فہمی میں مبتلا نظر آتے ہیں غالباً ایسے صاحبان اس خاص مسئلہ میں اجماع امت پر مطلع نہیں ہوسکے۔ واللہ اعلم

    مثال کے طور پر خواجہ محمد قاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا کہ تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے تو پھر اس مسئلہ میں کیا وزن باقی رہ جاتا ہے کہ حائضہ یا جنبی قرآن مجید کو ہاتھ نہیں لگا سکتے۔منع والی بات کو ادب و احترام کے پیش نظر استحباب پر تو محمول کیا جاسکتا ہے اسے شرعی حیثیت نہیں دی جاسکتی۔(قد قامت الصلوٰۃ، صفحہ 102)

    مزید فرماتے ہیں: انسان جو اشرف المخلوقات ہے اس پر اگر وضو یا غسل واجب ہو اسے مسجد میں داخل ہونے یا قرآن مجید کو ہاتھ لگانے کے قابل نہ سمجھنا انسانیت کی زبردست توہین ہے۔انسان بھی وہ جو مسلمان ہے جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت موجود ہے کہ وہ نجس نہیں ہوتا۔(قد قامت الصلوٰۃ، صفحہ 102)

    بالا کلام کا صاف صاف مطلب یہ ہے خواجہ محمد قاسم کے نزدیک نہ صرف ایک مسلم ہر پاک و ناپاک حالت میں بلاتکلف قرآن کو ہاتھ لگاسکتا ہے بلکہ ایک مشرک و کافر بھی حالت جنابت و حیض میں کتاب اللہ کو بلا جھجک چھوسکتا ہے کیونکہ آخر کو وہ بھی انسان ہے اوربقلم خواجہ محمد قاسم صاحب ناپاکی میں انسان کو قرآن چھونے کی اجازت نہ دینا انسانیت کی زبردست توہین ہے!

    راقم کے اس استدلا ل کی تائید خواجہ محمد قاسم رحمہ اللہ کے مسلمان اور کافر دونوں کو طاہر سمجھنے کے نرالے نظریے سے ہوتی ہے۔ خواجہ صاحب رقم طراز ہیں: انسان کوئی بھی ہو مسلمان ہو یا کافر سچ پوچھئے تو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔(قد قامت الصلوٰۃ، صفحہ 101)

    خواجہ محمد قاسم کی یہ منفرد اور شاذرائے نصوص و دلائل کے برخلاف ہونے کی وجہ سے قابل رد ہے۔لطف کی بات یہ ہے کہ اس ضمن میں خواجہ محمد قاسم اور انکے ہم نواعلماء کی دلیل فقط یہ ہے کہ انکی نظر میں اسکی کوئی دلیل نہیں۔ ملاحظہ ہو خواجہ محمد قاسم رقمطراز ہیں: کسی آیت یا صحیح حدیث میں ایسا کوئی ثبوت موجودنہیں جس میں حائضہ یا جنبی کو قرآن مجید پڑھنے سے یا اس کو چھونے سے منع کیا گیا ہو۔ (قد قامت الصلوٰۃ، صفحہ 102)

    ضروری محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے موقف کے مخالفین علماء کے دلائل نما شبہات پر مختصراًروشنی ڈال کر ان کے ازلے کی کوشش کی جائے۔تاکہ دو طرفہ دلائل سامنے آجانے کے بعد اس مضمون کی بنیاد بننے والے علماء کے اقوال کو بہترطور پر سمجھا جاسکے۔

    بغیر وضو کے قرآن کو چھونے کی عام اجازت دینے والے علماء کے دو گروہ ہیں جس میں سے پہلا گروہ تو وہ ہے جو امام مالک رحمہ اللہ کی روایت کردہ حدیث ’’لایمس القرآن الا طاہر“ کی صحت کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتا اور سورہ واقعہ کی آیت ”لا یمسہ الاالمطہرون“سے مفسرین اور کبار علماء کے بغیر وضو قرآن کو نہ چھونے کے استنباط کو استدلالی اور استنباطی دلیل ہونے کی وجہ سے قیاس مع الفارق سے زیادہ کوئی اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں کیونکہ ان کے نزدیک قرآن کی یہ آیت انسانوں کے بجائے فرشتوں کے چھونے سے متعلق ہے۔چناچہ ایسے علماء کے نزدیک بے وضو، جنبی اور حائضہ کو مس مصحف سے روکنے والی کوئی دلیل نہیں۔ ان علماء کے رد کے لئے تو اتنا ہی کافی ہے کہ قرآن کی آیت سے قطع نظر اس مسئلہ میں فیصلہ کن حدیث بروایت امام مالک تو اسناد سے ہی مستغنی اور بے نیاز ہے کیونکہ اسے امت کا تلقی بالقبول حاصل ہے۔ لہٰذا ان علماء کا حدیث کی صحت کو تسلیم نہ کرنا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔

    امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: یہ مشہور خط ہے اور اہل علم کے ہاں معروف ہے، اس کی شہرت اسے اسناد سے مستغنی کردیتی ہے۔ عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے نام لکھے گئے اس مراسلے کی صحت کی یہی دلیل کافی ہے کہ اس کو جمہور علماء سے تلقی بالقبول حاصل ہے۔ (التمھید لا بن عبد البر: 7/163، 164 بحوالہ قاری قرآن کے اوصاف اور قرآن مجید کے آداب، صفحہ140)

    علامہ مبارکپوری تحفۃ الاحوذی میں فرماتے ہیں: (قال ابن عبدالبر انہ اشبہ المتواتر لتلقی الناس لہ بالقبول) ”یعنی ابن عبدالبر فرماتے ہیں کہ یہ کتاب متواتر کے مشابہ ہے کیونکہ لوگوں نے اسے قبولیت سے لیا ہے۔“ (بحوالہ فتاویٰ راشدیہ، صفحہ 244، 243)

    ڈاکٹر صالح بن فوزان بن عبداللہ الفوزان زیر بحث حدیث کے متعلق لکھتے ہیں: چونکہ اس حدیث کو تمام لوگوں نے قبولیت کا درجہ دیا ہے (یعنی تمام لوگوں نے اس کی صحت کو تسلیم کیا ہے) اس لئے یہ حدیث متواتر کی مانندہے۔(تحفہ برائے خواتین، صفحہ 37)

    اسی بابت شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: رواہ مالک مرسلاً و و صلہ النسائی وابن حبان و ھو معلول: اس حدیث کے وصل یا ارسال میں محدثین کے ہاں اختلاف ہے۔ لیکن علماء کے ہاں اس روایت کی شہرت، تلقی بالقبول اور اس پر متعددمسائل کی تفریع بتلاتی ہے کہ اس حدیث کی کوئی نہ کوئی صحیح اصل ضرور ہے اور جب کسی مرسل روایت کو تلقی بالقبول مل جائے تو وہ قوی ہوجاتی ہے۔ لہٰذا اس کی نقل متواتر، شہرت، تلقی بالقبول وغیرہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ (شرح بلوغ المرام،جلد اوّل، صفحہ 186)

    فائدہ: حافظ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ تلقی بالقبول کی اصطلاح کے بارے میں فرماتے ہیں: تلقی بالقبول کا مطلب یہ ہے کہ تمام امت نے بغیر کسی اختلاف کے ان روایات کو قبول کرلیا ہے اور یہی اجماع کہلاتا ہے۔(ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر91، صفحہ 36)
     
  2. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    786
    دوسرا گروہ وہ ہے جو پہلے گروہ کی طرح سورہ واقعہ کی آیت ۹۷ کو ملائکہ سے متعلق قرار دے کراس سے کسی بھی دوسرے استدلال کوتو درست قرار نہیں دیتا البتہ امام مالک کی روایت کردہ فیصلہ کن حدیث ’’لایمس القرآن الا طاہر“ کی صحت کو تسلیم کرنے پر خود کو بے بس اور مجبور پاتا ہے لیکن پھر الفاظ حدیث ”الا طاہر“ میں اختلاف کرتے ہوئے کہ آیا اس سے مراد کافر کے مقابلے میں مومن ہے یا حدث اکبر کے بالمقابل حدث اصغر سے پاک باوضوشخص ہے، اپنامطلوب و مقصود پانے کے لئے اس حدیث کی تفسیر و شرح میں بخاری کی ایک روایت پیش کرتا ہے جس کے الفاظ ”المومن لا ینجس“ سے اپنے نظریے، مذہب اور موقف پر استدلال قائم کرتا ہے۔جیساکہ ابوالحسن مبشر احمد ربانی لکھتے ہیں: قرآن مجید کو چھونے کے متعلق جو صحیح حدیث کے الفاظ ہیں: (لایمس القرآن الا طاہر) ”طاہر کے سواقرآن کو کوئی نہ چھوئے۔“

    اس طاہر کی تفسیر صحیح بخاری شریف کی حدیث میں موجود ہے جس کے راوی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ جنبی تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر دور سے گزر گئے۔ غسل کے بعد واپس آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہا: (المومن لا ینجس) ”مومن نجس ہوتا ہی نہیں ہے۔“

    اس حدیث سے ظاہر ہے کہ (الا طاہر)سے مراد (الامومن)ہے یعنی قرآن مجید کو مومن کے سوادوسرا نہ چھوئے۔(احکام و مسائل، کتاب وسنت کی روشنی میں،صفحہ 127)

    یہاں ”دوسرا نہ چھوئے“ سے مراد کافر کو چھونے کی ممانعت ہے جبکہ ان کے نزدیک مومن چھو سکتا ہے چاہے وہ حدث اصغر کا شکار ہو یا پھر حدث اکبر میں مبتلا ہو۔مبشر احمد ربانی اور انکے ہم خیال دیگر علماء کا لفظ ”طاہر“ کی توضیح و تفسیرلفظ ”مومن“ سے کرنادلیل کے اعتبار سے بالکل بے وزن محسوس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: طاہر سے مراد وہ شخص ہے جو حدث اصغر اور حدث اکبر دونوں سے پاک ہو یعنی جنبی بھی نہ ہو اور باوضو بھی ہو۔ البتہ یہاں طاہر سے مومن مراد لینا بے حد بعید ہے۔(شرح بلوغ المرام،جلد اوّل، صفحہ 186)

    اسی طرح حافظ عمران ایوب لاہوری صرف باوضو حالت میں مس مصحف کے قائلین علماء کی ترجمانی کرتے ہوئے طاہر سے مومن مراد لینے والوں کے غلط نظریے پر رد کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: جب یہ بات مسلم ہے کہ لفظ طاہر میں باوضو بھی شامل ہے تو بالآخر کس دلیل کی بناپراسے لفظ طاہر سے خارج کیا جاتا ہے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی جس حدیث سے لفظ طاہر کو صرف مومن کے لیے خاص کیا جاتا ہے اس میں یکسر ایسی کوئی بات موجود نہیں کہ لفظ طاہر سے مراد صرف مومن ہی ہے۔(فقہ الحدیث، جلد اوّل، صفحہ233)

    حافظ عبدالمنان نور پوری رحمہ اللہ بھی علماء کی طاہر سے مومن سمجھنے کی غلطی اور سبب غلطی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ”حیض تیرے ہاتھ میں نہیں“ تو اس سے حائضہ کا طاہر ہونا لازم نہیں آتا اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”مومن نجس نہیں ہوتا“ سے جنبی کا طاہر ہونا لازم نہیں آتا کیونکہ جنبی سے نجاست کی نفی اور حائضہ کے ہاتھ میں حیض ہونے کی نفی سے جنبی اور حائضہ کا طاہر ہونا لازم نہیں آتا ورنہ اللہ تبارک وتعالیٰ انہیں اطہار و تطہرکا حکم نہ دیتے۔(احکام و مسائل، جلداوّل، صفحہ 96)

    طاہر سے مومن مراد لینا اس لئے بھی مردود ہے کہ یہ موقف اور مراد جمہور علماء کے فہم اور رائے کے برخلاف ہے۔یاد رہے کہ اختلافی و نزاعی مسائل میں جمہور کی رائے کو ہر حال میں تقدم حاصل ہے۔ حافظ مبشر حسین حفظہ اللہ لکھتے ہیں: حدیث میں لفظ طاہر سے مراد کون ہے؟ اس میں بھی اہل علم کا اختلاف ہے۔ جمہور علماء کے نزدیک اس طاہر سے مراد ہر وہ مسلمان ہے جو ناپاک اور بے وضو نہ ہو۔ گویا ان کی رائے یہ ہے کہ بے وضو، جنبی اور حیض و نفاس والی عورت چونکہ طاہر نہیں ہیں، اس لئے ان کے لئے قرآن کو چھونا اور پکڑنا جائز نہیں۔ (انسان اور قرآن، صفحہ 106)

    معلوم ہوا کہ بعض الناس کا حدیث کے لفظ ”طاہر“ کی شرح مومن سے کرناعلمی اور عقلی دونوں لحاظ سے درست نہیں ہے اورسب سے بڑھ کر اس استدلال کی سنگین قباحت یہ ہے کہ اس سے اجماع کی مخالفت لازم آتی ہے اور یہی قباحت اس استدلال کے غلط اور کمزورہونے کی دلیل بھی ہے۔ چناچہ اس استدلال سے جنبی اور حائضہ کے لئے بھی مس قرآن کو جواز پید ا ہوجاتا ہے جبکہ امت مسلمہ نے اس بات پر اجماع و اتفاق کرلیا ہے کہ حدث اکبر میں مبتلا شخص قرآن کو ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ جیسا کہ حافظ عمران ایوب لاہوری لکھتے ہیں: اس بات پر اجماع ہوچکا ہے کہ جسے حدث اکبر لاحق ہو اس کے لیے قرآن پکڑنا جائز نہیں۔ (فقہ الحدیث، جلد اوّل، صفحہ232)

    محمد لقمان السلفی بھی اس اجماع کی خبر دیتے ہوئے رقمطراز ہیں: البتہ اس پر اجماع امت ہے کہ حدث اکبر والے آدمی کے لئے قرآن کا چھونا جائز نہیں ہے۔ (تیسیرالرحمن لبیان القرآن، صفحہ 1530)

    حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ بزعم خویش اس”اجماع امت“کا رد کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس بات پر اجماع ہے کہ مُحْدِثِ حَدَثِ اکبر (یعنی جنبی اور حائضہ) کے لیے قرآن کریم کا چھونا جائز نہیں ہے، اس لیے طاہر کے معنی، حدثِ اکبر سے پاک شخص، متعین ہیں اور یوں یہ حدیث اس مسئلے میں نص صریح کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن اجماع کا دعویٰ ہی صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ امام بخاری، امام ابن جریر طبری، امام داؤد ظاہری، امام ابن حزم، امام ابن المنذر، شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اور امام ابن القیم وغیرہم جنبی اور حائضہ کو قرآن کریم پڑھنے کی اجاز ت دیتے ہیں..........جب یہ بات ہے تو پھر دعوائے اجماع کیوں کر صحیح ہے؟ (ماہنامہ محدث لاہور، شمارہ نمبر381، جلد 49، مارچ2018)

    مودبانہ عرض ہے کہ یہ دعویٰ اجماع اس لئے درست و صحیح ہے کہ قرآن پڑھنا اور اسے چھونا دو مختلف اور علیحدہ اعمال ہیں جبکہ آپ بعض علماء کے جنبی و حائضہ کو قرآن پڑھنے کی اجازت دینے سے جنبی اور حائضہ کے قرآن چھونے کی ممانعت پرقائم ہونے والے امت مسلمہ کے اجماع کو غلط قرار دینے کی سعی کررہے ہیں۔یعنی آپ کے دعویٰ اور دلیل میں بعد المشرقین ہے آپ کی دلیل اس وقت درست ہوتی جب چھونے اور پڑھنے میں کوئی فرق نہ ہوتا جب کہ آپ بقلم خود اس فرق کو تسلیم کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: عدم مس (نہ چھونا) علیحدہ مسئلہ اور عدم قراء ت (نہ پڑھنا) علیحدہ مسئلہ ہے۔ (ماہنامہ محدث لاہور، شمارہ نمبر381، جلد 49، مارچ2018)

    اب آپ خود ہی بتائیں کہ آپ کا قرآن پڑھنے کی اجازت کی بنیاد پر مس ممانعت قرآن کے اجماع کو غلط قرار دینے کی کوشش کرنا کیونکر درست اور صحیح ہوسکتا ہے جبکہ پڑھنا کسی صورت بھی چھونے کی دلیل نہیں بنتا؟ نجانے آپ نے حدث اکبر میں مبتلا شخص کے حق میں علماء کی قرآن پڑھنے کی اجازت کو قرآن چھونے کی اجازت پر کس طرح محمول کرلیا؟

    اس نظریے کی تردید میں مزید عرض ہے کہ حافظ صلاح الدین یوسف جن علمائے کرام کے بھروسے حدث اکبر کی حالت میں قرآن نہ چھونے پر اتفاق امت کا انکار و تردید کرنے چلے ہیں ان علمائے کرام میں امام ابن المنذر، شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اور امام ابن القیم رحمہ اللہ تو جنبی و حائضہ کو تو درکنار بے وضو شخص کو بھی قرآن چھونے کی اجازت نہیں دیتے۔اور امام داؤد ظاہری اورامام ابن حزم جس ظاہری فرقے سے تعلق رکھتے ہیں اس کا منہج ہی جداگانہ ہے اس لئے بعض اہل علم اس فرقے کو گمراہ فرقوں میں شمار کرتے ہیں ایسی صورت میں داؤ د ظاہری اور ابن حزم وغیرہم کا اختلاف اہل الحدیث کے اجماع کا قاطع کس طرح ہوسکتا ہے؟

    بطور معلومات عرض ہے کہ کسی بھی اجماع کی صحت کے لئے اہل سنت والجماعت اہل حدیث کے علماء کا اتفاق ہی معتبر ہوتا ہے جبکہ دیگر لوگوں کا اختلاف کوئی حیثیت نہیں رکھتا اور نہ ہی اجماع پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لئے حافظ صلاح الدین رحمہ اللہ کا اجماع کی مخالفت میں داؤ د ظاہری اور ابن حزم کا نام پیش کرنا بے فائدہ ہے۔ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ داؤد ظاہری اور ابن حزم رحمہ اللہ وغیرہ کو اہل حدیث تسلیم نہیں کرتے بلکہ انہیں کسی بھی مذہب و مسلک سے تعلق نہ رکھنے والا ”غیر مقلد“ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: علامہ ابن حزم اندلسی (متوفی ۶۵۴ ھ) نے اپنی ”غیر مقلدیت“ اور تلون مزاجی کے باوجود اجماع صحابہ کو حجت قرار دیا ہے۔ (ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر91، صفحہ 38)

    تنبیہ: چونکہ امام داؤد ظاہری اور شاگرد ابن حزم ظاہری کا منہج و مسلک یکساں ہے اس لئے اصولاً ایک کو غیر مقلد قرار دینے کا اطلاق دونو ں پربیک وقت ہوتا ہے۔

    صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کے برعکس دیگر علمائے کرام نے اس اجماع کے تذکرے کے ساتھ صرف فرد واحد کے اختلاف کا ذکر کیا ہے اور وہ مخالف شخصیت امام داؤد ظاہر ی رحمہ اللہ کی ہے۔ قابل غور امر یہ ہے کہ اہل علم نے محدث اکبر کے قرآن نہ چھونے پر کئے گئے امت کے اجماع کے ساتھ داؤد ظاہر ی کے اختلاف کی خبر تو ضروردی ہے لیکن اس اختلاف کا اعتبار نہیں کیا۔کیونکہ اگر وہ اس مخالفت کو تسلیم کرتے یا اسے کوئی اہمیت دیتے تو اجماع ہی نہ ہوتا کیونکہ اصول ہے کہ کسی ایک صحیح العقیدہ عالم کے اختلاف کی وجہ سے بھی امت کااتفاق قائم نہیں رہ سکتا اوردعویٰ اجماع باطل ہوجاتا ہے۔اس بابت نواب سید محمد صدیق حسن خان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اہل اجماع مجتہدین میں سے ایک کا اختلاف بھی ناقص اجماع ہے۔ جمہور نے کہا ہے کہ نہ وہ اجماع ہوگا اور نہ حجت۔ (مجموعہ علوم قرآن، صفحہ 508)

    یعنی اجماع کے لئے لازم اورضروری ہے کہ ایک زمانے کے تمام صحیح العقیدہ علماء کسی مسئلے پر اتفاق کرلیں اور کوئی ایک بھی مخالفت نہ کرے۔پس معلوم ہوا کہ علماء نے داؤد ظاہری کی مخالفت کو در خور اعتنا نہیں جانا ورنہ وہ کبھی بھی اجماع کا دعویٰ نہیں کرتے اور نہ ہی اس اجماع کی خبر دیتے۔

    پس ثابت ہوا کہ جنبی اور حائضہ ونفاس کو قرآن چھونے سے روکنے پر ہونے والا اجماع بالکل صحیح و درست ہے اور حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کا اس اجماع پر تنقید کرنا اور اسے تسلیم نہ کرنا دلائل کی رو سے غلط اور بے جا رویہ ہے۔

    پھرسب سے بڑھ کر یہ کہ رب کائنات کا اس آیت (وَاِنْ کُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّھَّرُوْا) ]سورہ المائدہ:۶[ میں جنبی سے اس کے مومن ہونے کے باوجود طہارت کی نفی کرنا اوراس آیت (قُلْ ھُوَاَذًی فَاعْتَزِ لُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ وَلَا تَقْرَبُوْھُنَّ حَتّٰی یَطْھُرْن)]سورہ ابقرہ:۲۲۲[ میں حائضہ کو مومنہ ہونے کے باوجود بھی طاہر قرار نہ دینا ثابت کرتا ہے کہ طاہر سے مومن مراد لینے والے موقف کے قائلین علماء کو اس مسئلہ کی تفہیم اور سمجھ میں سخت ٹھوکرلگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حافظ عبدالمنان نورپوری رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: قرآن مجید کی آیت (وَاِنْ کُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّھَّرُوْا) ترجمہ: ]اور اگر تم ناپاک ہو تو پاکی حاصل کرو[ سے ثابت ہوتا ہے جنبی طاہر نہیں ورنہ اسے ”فَاطَّھَّرُوْا“ کا حکم نہ ہوتا اورجو طاہر نہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مندرجہ بالا فرمان کی رو سے قرآن مجید کو چھو نہیں سکتا تو پکڑ بھی نہیں سکتا اور معلوم ہے کہ حائضہ بھی طاہر نہیں کیونکہ اطہار و تطہر کا جنبی کی طرح اس کو بھی حکم ہے۔(احکام و مسائل، جلداوّل، صفحہ 95)

    اس کمزور موقف اورہلکے استدلال کی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت یہ بھی ہے کہ مومن کو ہر حال میں طاہر قرار دینے سے جنبی کے حق میں نماز اداکرنے اور روزہ رکھنے کے جواز کا واضح امکان پیدا ہوجاتا ہے جو اس موقف کے حاملین کے لئے سوہان روح ہے۔ حافظ عبدالمنان نور پوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر کوئی صاحب بضد ہوں کہ ان حدیثوں سے جنبی اور حائضہ کا طاہر ہونا ثابت ہوتا ہے تو ان سے پوچھیں پھر وہ غسل کئے بغیر نماز کیوں نہیں پڑھ سکتے؟ (احکام و مسائل، جلداوّل، صفحہ 96)

    حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ نے اس پریشان کن مسئلہ کے حل کے لئے جنبی اور حائضہ کو طاہر ہونے کے باوجواستثنیٰ کے بہانے نماز اور روزے سے روکنے کی کوشش کی ہے، لہٰذا لکھتے ہیں: ”مومن نجس (ناپاک) نہیں ہوتا۔“ (یعنی وہ پاک ہوتا ہے) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس وقت فرمائی تھی جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جنبی تھے۔ جس سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ مومن ہر حالت میں طاہر ہی ہوتا ہے، البتہ اس سے وہ صورتیں مستثنیٰ ہوں گی جن کی صراحت نص سے ثابت ہے، جیسے بے وضو یا جنبی آدمی کی بابت حکم ہے کہ وہ نماز نہیں پڑھ سکتا، جب تک وہ وضو یا غسل نہ کرلے۔ لیکن اس کے علاوہ دیگر کاموں کے لئے وہ پاک ہی متصور ہوگا۔(ماہنامہ محدث لاہور، شمارہ نمبر381، جلد 49، مارچ2018)

    اوّل تو اس خود ساختہ استثنیٰ کے ثبوت کے لئے بھی کم ازکم ایک خصوصی دلیل درکارہے جو کہ یکسر غائب اور مفقود ہے اگر اس کا کوئی وجود ہوتا تو یقینا دعویدار اسے ضرور پیش فرماتے لہٰذااس خالی خولی دعاوی کی صحت کی تباہی و بربادی کے لئے کسی بھی دلیل کا نہ پایا جانا ہی کافی ہے۔ اور دوم یہ کہ اگر ادنیٰ سا بھی غورو غوض کریں تو نماز اور روزے کے صحیح ہونے کے لئے شریعت نے ایک مومن پر جتنی بھی شرائط عائد کی ہیں جنبی ان تمام شرائط کی تکمیل پر پوری طرح قادر اور مختار ہے جیسے استقبال قبلہ کا اہتمام، دخول وقت کا انتظار، باوضو ہونا یا پھر نماز کی جگہ اور لباس کا پاک ہوناوغیرہ لیکن صرف ایک واحد شرط ایسی ہے جسے پورا کرنے پر جنبی اور حائضہ کوئی اختیار نہیں رکھتے اور وہ ہے طہارت کی شرط۔جنبی اور حائضہ میں طہارت کی کمی یا غیر موجودگی کی وجہ سے شریعت اسلامیہ نے انہیں نماز اور روزے کی ادائیگی سے روک دیا ہے لیکن جب حافظ صلاح الدین اور انکے ہم خیال علماء نے مومن کو حالت جنابت اور حالت حیض میں طاہر قرار دے کرشریعت کی یہ اہم، بنیادی اور اکلوتی شرط بھی پوری کردی ہے تو پھراصولی طور پر جنبی اور حائضہ کو نماز اور روزے سے روکنے اور باز رکھنے کے لئے کوئی رکاوٹ باقی نہیں بچتی۔ اس لئے اس موقف کے حاملین سے گزارش ہے کہ کیونکہ آپ کے نزدیک مومن ہر حالت میں طاہر ہی ہوتا ہے اس لئے اسے جنابت اور حیض میں بھی نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے کی اجازت مرحمت فرمادیں کہ آپ کے اختیار کردہ موقف کا منطقی نتیجہ یہی نکلتا ہے یا پھر اس خلاف فطرت موقف سے رجوع کرلیں۔

    ہر حالت میں ایک مسلمان کوقرآن چھونے کی اجازت دینے والے مندرجہ بالا ہر دو گروہ سے تعلق رکھنے والے علماء کے غلط اور کمزور استدلال کے مقابلے میں (لایمس القرآن الا طاہر) کی وہی تعبیر، تشریح اور تفسیرمعتبر، قابل عمل اور اقرب بالصواب ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے قولی اور فعلی دونوں طرح ثابت ہے۔ ملاحظہ ہو:

    مصعب بن سعد بن ابی وقاص رحمہ اللہ کا بیان ہے، میں (اکثر)سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے لئے قرآن کو پکڑے رکھتا (اور وہ پڑھتے رہتے تھے، ایک دن) میں نے کھجایا تو سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: شاید تونے اپنے ذکر (شرم گاہ) کو چھوا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، انہوں نے فرمایا: اٹھ اور وضو کر۔ چناچہ میں نے اٹھ کر وضو کیا، پھر واپس آیا۔ (موطا امام مالک: ۹۸، بحوالہ ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر116، صفحہ6)

    سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قرآن کو صرف طاہر ہی چھوئے۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ۲/۱۶۳ح ۶۰۵۷، بحوالہ ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر116، صفحہ6)

    یہ اثر غیر صریح ہے کیونکہ یہ توہمارے مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن کو صرف اسی شخص کو ہاتھ لگانا چاہیے جو طاہر ہوچونکہ ان کے ہاں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی صحیح بخاری کی روایت کی وجہ سے طاہر دراصل مومن ہے اس لئے اس روایت میں جسے چھونے کی ممانعت ہے وہ ان کے نزدیک کفار ہیں جو اصلاً طاہر نہیں ہیں۔ لیکن عرض ہے کہ یہ موقوف صحیح روایت ہمارے مخالفین کو قطعاً مفید مطلب نہیں بلکہ اس سے بھی ہمارا موقف ہی مضبوط ہوتا ہے کیونکہ مندرجہ بالااثر کی ایک اور سند میں طاہر کی جگہ متوضی کے الفاظ روایت کئے گئے ہیں جویہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی یہاں طاہر سے مراد ایک ایسے شخص سے ہے جو کامل طہارت کا حامل یعنی باوضو ہے۔ حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ لکھتے ہیں: الاوسط لابن المنذر (۲/۴۲۲) میں ”متوضی“ کے الفاظ ہیں، یعنی قرآن کو صرف باوضو شخص چھوئے۔ (ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر116، صفحہ6)

    حافظ عمران ایوب لاہوری کا بیان ہے کہ: حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے قضائے حاجت کے بعد بے وضگی کی حالت میں قرآن پکڑنے سے اجتناب کیا۔الدرالمنثور۶/۲۶۱ (فقہ الحدیث، جلد اوّل، صفحہ233)

    امام دارقطنی نے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ کئی سندوں سے روایت کیا ہے مثلاً وہ لکھتے ہیں: عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، آپ سفر پر روانہ ہوئے تو (راستے میں) قضائے حاجت کی، پھر آئے تو میں نے کہا: اے ابو عبداللہ! اگر آپ وضو کرلیں تو ہم آپ سے چند آیات کے بارے میں پوچھ لیں۔ تو انہوں نے فرمایا: میں اسے ہاتھ نہیں لگاؤں گا، کیونکہ اسے صرف وہی ہاتھ لگا سکتے ہیں جو باوضو ہوں، پھر انہوں نے ہمیں قرآن پڑھ کر سنایا جتناوہ چاہتے تھے۔ اس روایت کے تمام رواۃ ثقہ ہیں۔ (سنن دارقطنی، جلد اوّل، طہارت کے مسائل، صفحہ 163)

    حضرت علی رضی اللہ عنہ، ابن مسعودرضی اللہ عنہ اور سعید بن زید رضی اللہ عنہ بھی بلا وضو قرآن نہ چھونے کے موقف کے حامل تھے۔ امام قرطبی اس بابت اپنی تفسیر میں رقمطراز ہیں: علماء نے وضو کے بغیرمصحف کے چھونے میں اختلاف کیا ہے جمہور نے اس سے منع کیا ہے کیونکہ حضرت عمرو بن حزم کی حدیث اس بارے میں مروی ہے: یہ حضرت علی، حضرت ابن مسعود، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہم عطا، زہری، نخعی، حکم حماداور فقہاء کی ایک جماعت کا مذہب ہے۔(تفسیر قرطبی،جلد نہم، صفحہ 234)

    کتاب و سنت اور تعامل صحابہ پر مشتمل ان نقلی اور اہل علم کے عقلی دلائل کا ہی وزن اور اثرہے کہ بعض بڑے علماء نے صرف باوضو حالت میں قرآن پکڑنے پر صحابہ کے اجماع کا بھی دعویٰ کیا ہے جسے نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ چناچہ حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ سپرد قلم کرتے ہیں: شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (مجموع الفتاویٰ۱۲/۶۶۲) علامہ ابن رجب (فتح الباری ۱/۴۰۴) اور ابن قدامہ المقدسی (المغنی ۱/۲۰۲) کے نزدیک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اس مسئلے میں کہ ”قرآن مجید کو صرف طاہر چھوئے“ کوئی مخالفت معروف نہیں۔ (ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر116، صفحہ7)

    یاد رہے کہ صحابہ کی اس مسئلہ میں مخالفت نہ ہونا ہی دراصل اجماع ہے۔ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ آمین بالجہر کے متعلق دو موقوف روایات پیش کرنے کے بعد بطور نتیجہ لکھتے ہیں: اس کے خلاف کسی صحابی سے کچھ بھی ثابت نہیں، لہٰذا یہ اجماع ہے۔ (ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر107، صفحہ24)

    صحابہ کرام کی اس عملی تفسیر کے بعد تو حدیث کے فہم میں کوئی شبہ یا ابہام باقی نہیں رہتااور مخالف علماء کے نظریے کے برعکس یہ بات کھل کرایک روشن اور چمکتے ہوئے دن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ امام مالک کی روایت کردہ حدیث میں لفظ ”طاہر“ سے مرادمومن نہیں بلکہ صرف اور صرف باوضو شخص ہے۔ والحمد للہ۔ اس پر سونے پہ سہاگا کہ اس مسئلہ پر امت مسلمہ نے بھی صحابہ کرام کی ہمنوائی میں اجماع و اتفاق کرلیا ہے۔ حافظ ابن عبدالبررحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس مسئلے میں فقہائے مدینہ، عراق اور شام میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ قرآن کو صرف حالت وضو ہی میں چھوا جائے گا۔“ (التمہید۸/۱۷۲ و نسخۃ آخری۶/۸، بحوالہ ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر116، صفحہ6)

    عبدالرحمن الشافعی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اجماعی طور پر بے وضو شخص کے لئے قرآن کا چھونا اور اٹھانا جائز نہیں۔ (رحمۃ الامۃ ص ۵۱، بحوالہ ذاکر نائیک، ایک تحقیق، ایک جائزہ، صفحہ 226)

    سلیم الطبع شخص کے لئے تو مسئلہ کی وضاحت میں اوپر پیش کئے گئے مختصر مگر جامع دلائل ہی کافی وافی ہیں لیکن بعض دیگر تفصیل پسند حضرات کی دلی تسلی و اطمینان کے لیے قرآن مجیدفرقان حمید کوہاتھ لگانے کے واسطے وضو کے فرض اور واجب ہونے پر تہتر(73) عدد علمائے اہل حدیث کے مبنی برکتاب و سنت اقوال جو فہم سلف کی راہنمائی میں اختیار کئے گئے ہیں پیش خدمت ہیں لیکن اس سے کوئی قاری یہ غلط اندازہ قائم کرنے کی کوشش نہ کرے کہ زیر بحث مسئلہ اپنے ثبوت کے لئے محض علماء کی آراء اور اقوال کاہی محتاج ہے بلکہ یہ مسئلہ اجماع امت کی ناقابل تاویل اور قرآن وحدیث کی صحیح نصوص جیسی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے۔جس کی ایک جھلک قاری کو اوپر نظر آئی ہے اور آئندہ مضمون میں بھی قدم قدم پر دیکھی جاسکے گی۔ان شاء اللہ

    بالا بحث کے بعد قارئین کے علم میں کسی قدر یہ بات آچکی ہے اور آئندہ سطو ر میں ان شاء اللہ اوربہتر طور پر آجائے گی کہ قرآن کو بلا وضو مس نہ کرنے پر عمومی دلائل اوراجماع سمیت عمرو بن حزم کی جانب لکھے گئے خط کی صورت میں خصوصی دلائل تو موجود ہیں۔ لیکن اسکے باوجود بھی مسئلہ ہذا پرمتاخرین علماء کے اتفاق نہ کرنے کا بنیادی سبب ان براہین الہامی کے فہم پر اختلاف کا پایا جانا ہے۔لہٰذا مسئلہ زیر بحث میں راہ صواب پانے اور راجح مرجوع کا درست فیصلہ کرنے کے لئے رجو ع السلف ضروری و ناگزیر ہے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ علمائے سلف کا اس معاملے میں اپنا تعامل و عقیدہ کیا تھا۔دراصل یہ جاننے کی کوشش کرنا ہی راقم السطور کے لئے اس مضمون کی تخلیق کا محرک اور سبب بنا ہے۔

    یہاں مضمون سے متعلق یہ وضاحت بہت ہی ضروری ہے کہ اقوال علماء کو دلیل کے طور پر دیکھنا ایک عام اہل حدیث کے لیے جو عموماًمنہج کتاب و سنت سے صحیح طور پر ناواقف ہوتا ہے اچھنبے اور حیرت کی بات ہے بلکہ ان کی اکثریت کے نزدیک اقوال سلف و علماء کسی صورت میں بھی دلیل کا فائدہ نہیں دیتے۔ افسوس کہ انہیں معلوم ہی نہیں کہ قرآن و حدیث جو اہل حدیث کے لئے بنیادی اصول اور دلائل کی حیثیت رکھتے ہیں ان کے معنی و مفاہیم متعین کرنے لئے اولین اور واحد دلیل اقوال سلف ہی ہیں۔ یہ ایک ایسا سہارا ہے جس کی مدد کے بغیر قرآن و حدیث کے اصل منشاء تک پہنچا ہی نہیں جاسکتا بلکہ اس کے ترک و نظراندازی پر گمراہی یقینی ہے۔

    قرآن بموجب حکم الہٰی کسی بھی شرعی مسئلہ میں اختلاف کے وقت اللہ اور اسکے رسول یعنی کتاب و سنت کی جانب رجوع کا مشورہ اور حکم دیتا ہے لیکن اگر قرآن و حدیث کے نصوص کی سمجھ، فہم اور مراد میں اختلاف واقع ہوجائے تو پھر سلف صالحین کے اقوال کے جانب رجوع کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں رہتا اور اس اختلاف کا واحد حل یہی رہ جاتا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صالح صحبت اٹھانے والے پھر انکی صحبت سے فیض یاب ہونے والے سلف صالحین نے ان نصوص کا کیا مفہوم و مطلب لیا تھا۔

    اہل حدیث کا اصل منہج اور راستہ یہی ہے جس سے اکثر حاملین کتاب وسنت واقف ہی نہیں کہ وہ قرآن اور حدیث کے فہم کے لئے اقوال و افعال سلف ہی کی طرف دیکھتے ہیں کیونکہ یہی کامیابی کی اصل کلید ہے۔ قرآن مجید فرقان حمید میں ”صراط الذین انعمت علیہم“کے ذریعے ہمیں اللہ کے انعام اور فضل کے مستحق لوگوں کے نقش قدم پر چلنے کی طرف راہنمائی کی گئی ہے جبکہ انکے پیچھے چلنے سے مراد انفرادی طور پر ان کے ہر ہر عمل اور عقیدہ کو اپنانا نہیں کیونکہ نبی کے علاوہ ہر بندہ بشر سے خطا کا احتمال اور غلطی کا صدور ممکن اور یقینی ہے۔ بلکہ ان انعام یافتہ لوگوں کی نقش قدم کی پیروی سے مراد کتاب و سنت پر انکے اجتماعی فہم کو اپنانا اور اپنے لیے راہ عمل متعین کرناہے۔

    یہ تفصیل جان کر ذیل میں پیش کئے گئے اقوال سلف کی اہمیت اور ضرورت قاری کے ذہن میں اچھی طرح واضح ہوگئی ہوگی کہ زیر بحث مسئلہ میں اصل افتاد جو آن پڑی ہے وہ ثبوت مسئلہ میں مطلوبہ اور ضروری دلائل کا مفقود ہونا نہیں بلکہ واضح اورروشن دلائل کی موجودگی میں ان دلائل کا صحیح فہم حاصل نہ ہونا ہے۔

    اس مختصر اور ضروری توضیح کے بعد اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہیں اورمطلوبہ دلائل کے صحیح فہم کی تلاش میں اپنی ناقص عقل پر بھروسہ کرنے کے بجائے علمائے سلف کا نظریہ اور انکی رائے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
     
  3. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    786
    01۔ امام مالک بن انس رحمہ اللہ
    امام صاحب نے موطا میں ان الفاظ کے ساتھ باب قائم کیا ہے ”باب الامر بالوضوء لمن مس القرآن“ یعنی قرآن چھونے کے واسطے باوضو ہونا لازم و ضرور ی ہے۔(موطا امام مالک مترجم، کتاب القرآن، صفحہ 234) اور اس باب کے تحت مشہور حدیث ”لایمس القرآن الاطاہر“ لائے ہیں جو اس سلسلے میں ان کے موقف کو واضح کردینے کے لئے کافی ہے۔ دوسروں نے بھی اس سے یہی کچھ سمجھا ہے اور امام مالک کا یہی مسلک و مذہب بیان کیا ہے چناچہ امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مدینہ، عراق اور شام کے فقہاء نے اس میں اختلاف نہیں کیا کہ قرآن کو صرف باوضو پاک شخص ہی چھوئے۔ یہی امام مالک، امام شافعی، امام ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل کا قول ہے۔ (التمھید لا بن عبد البر: 7/163، 164)

    02۔ امام شافعی رحمہ اللہ
    امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مدینہ، عراق اور شام کے فقہاء نے اس میں اختلاف نہیں کیا کہ قرآن کو صرف باوضو پاک شخص ہی چھوئے۔ یہی امام مالک، امام شافعی، امام ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل کا قول ہے۔ (التمھید لا بن عبد البر: 7/163، 164)

    03۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ
    اسحاق بن منصور الکوسج بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا بے وضو حالت میں قرآن پڑھ سکتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: ”لا باس بہا ولکن لا یقرا فی المصحف الا متوضی“ کوئی حرج نہیں ہے۔ البتہ اگر وہ مصحف پر پڑھے تو وضو کے بغیر نہ پڑھے۔ (مسائل الامام احمد 1/103)

    امام احمد بن حنبل کے اسی موقف کی بنیاد پر امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مدینہ، عراق اور شام کے فقہاء نے اس میں اختلاف نہیں کیا کہ قرآن کو صرف باوضو پاک شخص ہی چھوئے۔ یہی امام مالک، امام شافعی، امام ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل کا قول ہے۔ (التمھید لا بن عبد البر: 7/163، 164 بحوالہ قاری قرآن کے اوصاف اور قرآن مجید کے آداب، صفحہ140)

    اہل حدیث عالم خواجہ محمد قاسم نے بھی اپنی کتاب میں ائمہ اربعہ کے اس موقف کا حوالہ دیا ہے۔ لکھتے ہیں: چاروں ائمہ کرام کا یہ مذہب ہے کہ وضو کئے بغیر قرآن مجید کو ہاتھ لگانا منع ہے۔ (قد قامت الصلوٰۃ، صفحہ 98)

    چونکہ خواجہ صاحب ائمہ اربعہ کے اس موقف کے زبردست مخالف ہیں اس لئے اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے نہ صرف اس موقف کو غلط قرار دیا بلکہ تنقید کرتے ہوئے اسے الٹا قرآن مجید کی مہذب بے حرمتی قرار دے ڈالا۔ دیکھئے لکھتے ہیں: ایک بات سمجھ میں نہیں آئی۔ چاروں ٖٖٖٖفقہاء کرام نے بلا وضو قراء ت کو جائز رکھا ہے مگر بلا وضو مس مصحف کو جائز نہیں رکھتے حالانکہ اصل چیز تو کلام اللہ ہی ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور غیر مخلوق ہے اور جس کی زبانی قراء ت کو سب جائز سمجھتے ہیں۔ یہ کاغذ اور یہ روشنائی سے لکھے ہوئے اور پریس میں چھپے ہوئے حروف دونوں چیزیں مخلوق ہیں نہ کاغذاللہ تعالیٰ کی صفت ہے نہ کاتب کی کتابت کو اور نہ مطبع کی طباعت کو اللہ تعالیٰ کی صفت سے کوئی تعلق ہے۔ البتہ یہ کلام اللہ کا مظہر ضرور ہے اسی لئے ہم پر اس کا احترام بھی فرض ہے۔ لیکن احترام کا یہ ہر گز تقاضا نہیں کہ بے شمار لوگوں کو اس کی تلاوت سے محروم کردیا جائے۔ یہ احترام نہیں بلکہ ایک مہذب قسم کی بے حرمتی ہے۔ (قد قامت الصلوٰۃ، صفحہ 102، 103)

    حالانکہ ائمہ اربعہ کے نزدیک بغیر وضو قرآن چھونا قرآن کی بے حرمتی میں داخل ہے جیساکہ امام مالک رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ: بے وضو قرآن مجید کو چھونا اس لئے مکروہ نہیں کہ اسے پکڑنے والے کے ہاتھ میں کوئی چیز(نجاست) ہوگی جس سے وہ آلودہ ہوجائے گا، بلکہ قرآن مجید کی تکریم و تعظیم کی وجہ سے اسے بے وضو پکڑنا مکروہ قرار دیا گیا ہے۔(الموطا: ۰۷۴، بحوالہ ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر116، صفحہ6)

    لیکن خواجہ محمد قاسم صاحب جوش مخالفت میں اتنی دور نکل آئے کہ باوضو قرآن چھونے کو قرآن کی بے حرمتی کہہ رہے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

    شاید خواجہ صاحب کو خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ انکے موقف کے خلاف اتنے بڑے نام سامنے آجائیں گے کہ جن کا بیک وقت رد کرنابذات خود جوئے شیر لانے کے مترادف ہے اسی لئے وہ رد میں اتنے پر جوش ہوئے کہ شدت جذبات میں ائمہ اربعہ کو ہی قرآن کا گستاخ بنا ڈالا۔معاذ اللہ

    وضاحت: راقم نے چونکہ علمائے اہل حدیث کی کتاب وسنت سے منصوص آراء جمع کرنے کی سعی کی ہے اس لئے امام ابوحنیفہ کو اس فہرست سے جان بوجھ کرخارج رکھا ہے کیونکہ امام موصوف اہل حدیث نہیں بلکہ اہل الرائے تھے۔ اسی طرح متقدمین علماء میں سے حنفی مذہب کی طرف منسوب ملا علی قاری صاحب کے موقف کو بھی دانستہ نظر انداز کیا گیا ہے حالانکہ قاری صاحب بھی اس مسئلہ میں ہمارے حامی ہیں۔ملاعلی قاری کہتے ہیں: قرآن کو طاہر کے سواجنبی یا بے وضو نہ پکڑے۔(تحفۃ الاحوذی: ۱۳۸۷۴ بحوالہ فقہ الحدیث، جلد اوّل، صفحہ 233)

    04۔ شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ الحرانی رحمہ اللہ
    اس سلسلے میں شیخ الاسلام کا موقف بھی جمہور سلف کے عین موافق ہے۔عمران ایوب لاہوری ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے متعلق لکھتے ہیں: کسی نے سوال کیا کہ قرآن کو بغیر وضو کئے پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟ تو انہوں نے جواب میں ائمہ اربعہ کا مذہب نقل کیا کہ قرآن کو صرف طاہر ہی پکڑ سکتا ہے اور مزید ذکر کیا کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ وغیرہ کا بھی یہی موقف ہے نیز صحابہ میں ان کا کوئی مخالف بھی معروف نہیں۔(فقہ الحدیث، جلد اوّل، صفحہ 233)

    05۔ امام ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ
    امام صاحب ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے شاگرد ہیں اور مس قرآن کے لئے اپنے استاد کے موقف سے صد فیصد متفق ہیں۔ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو اس آیت سے یہ استدلال کرتے سنا کہ مصحف کو بے وضو شخص نہیں چھو سکتا۔ انہوں نے فرمایا یہ تنبیہ اور اشارہ کے باب سے ہے۔ جب وہ مصحف جو کہ آسمان میں موجود ہے، اسے صرف پاکیزہ لوگ چھوسکتے ہیں تو پھر یہ قرآن جو ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے، اس کو چھونے کے لئے تو پاکیزہ حالت کا ہونا ضروری ہے۔ (التبیان فی ایمان القرآن، صفحہ 338، بحوالہ قاری قرآن کے اوصاف اور قرآن مجید کے آداب، صفحہ139)

    06۔ الامام الحافظ محمد بن عیسیٰ الترمذی
    عرض ہے کہ جب مصنف اپنی تائید میں کسی کا قول یا عبارت نقل کرتا ہے اور اس کے کسی حصّہ پر نقد نہیں کرتا تو وہی مصنف کا اپنا نظریہ بھی ہوتا ہے۔ چناچہ امام ترمذی علی رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ ایک حدیث کے بارے میں رقمطراز ہیں: علی رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یہی قول ہے کتنے صحابیوں اور تابعین کا کہتے ہیں بے وضو آدمی قرآن پڑھے مگر مصحف نہ چھوئے بے طہارت کے۔(جامع ترمذی، ابواب الطہارۃ، جلد اوّل،صفحہ 85)

    07۔ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ
    ایک حدیث کی توضیح میں امام ترمذی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: یہی قول ہے کتنے صحابیوں اور تابعین کا کہتے ہیں بے وضو آدمی قرآن پڑھے مگر مصحف نہ چھوئے بے طہارت کے اور یہی قول ہے سفیان ثوری اور احمد اور شافعی اور اسحاق کا۔(جامع ترمذی، ابواب الطہارۃ، جلد اوّل،صفحہ 85)

    08۔ مولانا محمد عطا اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ
    شیخ رحمہ اللہ مس مصحف کے لئے وجوب وضوکے قائل اور حامی تھے چناچہ ایک سوا ل کے جواب میں فرماتے ہیں: اکثر علمائے کرام کے نزدیک بلاوضو قرآن کو چھونا جائز ہے۔ باوضو افضل ہے۔ کیوں کہ وجوب پر کوئی صحیح اور صاف دلیل نہیں پائی گئی۔ آیت [ARB](لا یمسہ الا المطہرون)[/ARB]سے مراد طہارت اور جنابت کبریٰ ہے۔ ایک قلیل جماعت ضروری ہونے کی قائل ہے۔ اور راقم کے نزدیک یہی مسلک انطف و اسلم ہے۔(آثار حنیف بھوجیانی، جلد اوّل، صفحہ 247)

    09۔ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ
    ابن بازرحمہ اللہ قرآن کو بے وضو چھونے سے متعلق ایک استفسار کے ذیل میں رقمطراز ہیں: غیر طاہر حالت میں زبانی قرآن مجید کی تلاوت میں کوئی حرج نہیں لیکن حالت جنابت میں غسل کئے بغیر تلاوت جائز نہیں۔ قرآن مجید کو ہاتھ بھی اسی صورت میں لگانا چاہیے جب حدث اکبر و اصغر سے طہارت حاصل کرلی گئی ہو۔(فتاویٰ اسلامیہ،کتاب الطہارت، جلد اوّل، صفحہ277)

    اس باب میں ابن باز رحمہ اللہ کا موقف سخت ہے حتیٰ کہ وہ نابالغ بچوں کوبھی جو وضو کے مکلف نہیں ہیں مصحف قرآنی چھونے کی اجازت نہیں دیتے۔ اسی بابت وہ ایک سائلہ کو جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں: جب بچیاں سات برس کی ہوں تو انہیں وضو کی تعلیم دینی چاہیے، یہاں تک کہ وہ اچھی طرح وضو کا طریقہ جان لیں، پھر انہیں مصحف پکڑنے کی اجازت دے دینی چاہیے۔ لیکن جو اس سے کم عمر ہوں ان کے لئے وضو صحیح نہیں ہے اور نہ ہی ان پر وضو کا حکم عائد ہوتا ہے البتہ ان کے لئے قرآن کا مطلوب حصہ تختیوں یا اوراق پر لکھ دیا جائے جس سے وہ بہ آسانی پڑھ سکیں، اور وہ مصحف کو ہاتھ نہ لگائیں۔ وہ ایسا ہی طریقہ اختیار کریں، ان کے لئے یہی کافی ہوگا۔ (مجموع فتاویٰ و مقالات متنوعۃ:10 /146، بحوالہ قاری قرآن کے اوصاف اور قرآن مجید کے آداب، صفحہ144)

    10۔ محمد بن عبدالعزیزالمسند، ریاض
    شیخ صاحب کو اس فہرست میں اس لئے جگہ دی گئی ہے کہ موصوف ”فتویٰ اسلامیہ“کے مرتب ہیں۔ اس کتاب کے مقدمہ میں لکھتے ہیں: اس طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ میں نے ان فتاویٰ کو کئی سالوں میں مختلف مصادر و مآخذ،کتب اور رپورٹوں وغیرہ سے جمع کیا ہے، ان میں سے بعض فتاویٰ تا حال مخطوط اور خود حضرات علماء کرام کے پاس موجود تھے، میں نے جمع و ترتیب کے بعد ان حضرات علماء کرام کی خدمت میں انہیں پیش کیا، جن کے یہ فتاویٰ تھے اور انہوں نے خود ان کی تصحیح فرمائی ہے۔(فتاویٰ اسلامیہ، جلد اوّل،صفحہ 22)

    محمد بن عبدالعزیز نے چونکہ ابن باز رحمہ اللہ کے فتویٰ کو (جس میں انہوں نے بے وضو شخص کو قرآن چھونے سے منع کیا ہے) بنا کسی اختلاف کے اپنے منتخب کردہ مجموعہ فتاویٰ جات کا حصہ بنایا ہے لہٰذا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شیخ عبدالعزیز خود بھی اسی موقف کے حامی ہیں۔

    11۔ مولانا محمد خالد سیف،اسلام آباد
    مولانا ”فتاویٰ اسلامیہ“ کے مترجم ہیں اور اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں: یہ مجموعہ فتاویٰ بھی مسلک سلف کا ترجمان ہے، اس میں بھی ایک ایک فتویٰ کا کتاب و سنت کی روشنی میں جواب دیا گیا ہے۔(فتاویٰ اسلامیہ، جلد اوّل،صفحہ34)

    اس کتاب میں چونکہ ابن باز رحمہ اللہ کے فتویٰ کے تحت مس قرآن کے لئے باوضو ہونے کو ضروری قرار دیا گیا ہے اور مولانا محمد خالد سیف کے بقول اس کتاب کا ہر فتویٰ کتاب وسنت کے دلائل سے آراستہ ہے چناچہ یہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ مولانا خالد سیف خود بھی ابن باز رحمہ اللہ کے موقف سے سو فیصد متفق ہیں۔

    12۔ حٖافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ
    حافظ صاحب مشہور حدیث ”لایمس القرآن الا طاہر“ کے ”فقہ الحدیث“ میں لکھتے ہیں: ۳۔ قرآن مجید کی عظمت کا بیان کہ اسے ہر قسم کی نجاست سے پاک شخص ہی چھوئے۔ ۴۔ یہ حدیث جمہو ر اہل علم کی دلیل ہے کہ جنبی، حائضہ اور بے وضو افراد قرآن مجید نہیں چھوسکتے۔(ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر116، صفحہ 5 )

    13۔ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
    ابھی آپ نے حافظ ندیم ظہیر کا مذہب ملاحظہ کیا کہ وہ مس مصحف کے لئے وضو کو واجب سمجھتے ہیں۔ حافظ ندیم ظہیر کے اسی موقف کی وجہ سے ہم نے یہاں حافظ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ کا نام درج کیا ہے کیونکہ ان استاد شاگرد کا منہج ایک ہی تھا جیساکہ خود زبیرعلی زئی رحمہ اللہ نے اپنے قلم سے اسکی وضاحت کی ہے، لکھتے ہیں: میرا اور حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ کا منہج ایک ہی ہے۔(اسلامی وظائف، صفحہ21 )

    پس جو موقف شاگرد یعنی حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ کا ہے یقینا وہی موقف انکے استاد یعنی حافظ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ کا بھی تھا۔واللہ اعلم

    14۔ عبدالولی عبدالقوی، داعی مکتب دعوۃتوعیۃ الجالیات الحائط، سعودی عرب
    شیخ صاحب رقمطراز ہیں: قرآن کریم کو بغیر وضو کے چھونا جائز نہیں ہے۔جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کو نہ چھوئے مگر پاک آدمی۔(طہارت کے احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں،صفحہ 37)

    15۔ ابو محمد عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ
    محمد لقمان السلفی سورہ واقعہ کی تفسیر میں رقمطراز ہیں: کچھ دوسرے لوگوں کی رائے ہے کہ”مطھرون“ سے مراد جنابت وحدث سے پاک لوگ ہیں، اور مقصود مصحف کو ان حالتوں میں چھونے کی ممانعت ہے۔ ان حضرات نے محمد بن عمرو بن حزم کی روایت ”لایمس القرآن الاالطاہر“ ”قرآن کو صرف پاک آدمی چھوئے“ سے استدلال کیا ہے۔ جسے امام مالک نے روایت کی ہے۔ نیز دارقطنی کی اس حدیث سے بھی استدلال کیا ہے جس میں عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، اور ان کی بہن نے ان سے کہا تھا کہ وہ ناپاک ہیں، اور قرآن کو صرف پاک لوگ چھوتے ہیں۔ علی، ابن مسعود، عطاء، زہری، نخعی، مالک، شافعی اور حنابلہ وغیرہم کی یہی رائے ہے۔(تیسیرالرحمن لبیان القرآن، صفحہ 1530)

    16۔ امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ
    محمد لقمان السلفی سورہ واقعہ کی تفسیر میں رقمطراز ہیں: کچھ دوسرے لوگوں کی رائے ہے کہ”مطھرون“ سے مراد جنابت وحدث سے پاک لوگ ہیں، اور مقصود مصحف کو ان حالتوں میں چھونے کی ممانعت ہے...................علی، ابن مسعود، عطاء، زہری، نخعی، مالک، شافعی اور حنابلہ وغیرہم کی یہی رائے ہے۔(تیسیرالرحمن لبیان القرآن، صفحہ 1530)

    17۔ امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ
    محمد لقمان السلفی سورہ واقعہ کی تفسیر میں رقمطراز ہیں: کچھ دوسرے لوگوں کی رائے ہے کہ”مطھرون“ سے مراد جنابت وحدث سے پاک لوگ ہیں، اور مقصود مصحف کو ان حالتوں میں چھونے کی ممانعت ہے...................علی، ابن مسعود، عطاء، زہری، نخعی، مالک، شافعی اور حنابلہ وغیرہم کی یہی رائے ہے۔(تیسیرالرحمن لبیان القرآن، صفحہ 1530)

    نیزغالب ابوہذیل کا بیان ہے:
    امرنی ابورزین (مسعود بن مالک) أن أفتح المصحف علی غیر وضوء، فسألت إبراہیم، فکرہہ.

    ”مجھے ابورزین مسعود بن مالک اسدی نے بغیر وضو مصحف کو کھولنے کا کہا تو میں نے اس بارے میں ابراہیم نخعی تابعی رحمہ اللہ سے سوال کیا۔ انہوں نے اسے مکروہ جانا۔“ (مصنف ابن ابی شیبۃ: 2/321، و سندہ حسن)

    18۔ امام ابو عبداللہ محمد بن احمد بن ابوبکرقرطبی رحمہ اللہ
    دیگر ائمہ کی طرح امام قرطبی کااپنا رجحان بھی قرآن کو ہاتھ لگانے کے لئے باوضو ہونے کے واجب ہونے کا ہی ہے۔لہٰذاامام ترمذی کے حوالے سے بلا تردیدلکھتے ہیں: ابو عبداللہ حکیم ترمذیؒ اپنی کتاب نوادرالاصول میں فرماتے ہیں؛ قرآن کے احترام کا تقاضا یہ ہے کہ اسے بے وضو ہاتھ نہ لگایا جائے۔ (تفسیر قرطبی، جلد اوّل، مقدمہ کتاب،صفحہ 71، طبع شریعہ اکیڈمی)

    امام قرطبی کا اپنا مذہب بھی یہی ہے جو انہوں نے امام ترمذی کے حوالے سے بیان کیا ہے چناچہ امام صاحب خود فرماتے ہیں: مصحف ایسی چیز تو نہیں ہے کہ جس کی بذات خود کوئی حیثیت نہ ہو بلکہ مصحف کے تو الگ سے حقوق ہیں، جیسا کہ بغیر طہارت کے اس کو پڑھا نہیں جاسکتا اور بے وضو شخص کے لیے اس کو چھونے کی ممانعت ہے۔ اس لحاظ سے مصحف پر دیکھ کر پڑھنا اولیٰ و افضل ہے۔ (التذکار فی افضل الاذکار، صفحہ 187،بحوالہ قاری قرآن کے اوصاف اور قرآن مجید کے آداب، صفحہ 157)

    اور یہی وجہ ہے کہ امام قرطبی ”لایمسہ الا المطھرون“ کی تفسیر میں علماء کے ہر طرح کے اقوال نقل کرنے کے بعد سب سے زیادہ مناسب اور صحیح اس قول کو قراردیتے ہیں: جس نے یہ کہا کتاب سے مراد وہ مصحف ہے جو ہمارے ہاتھوں میں ہے یہ زیادہ مناسب ہے۔امام مالک اور دوسرے علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ عمرو بن حزم کا مکتوب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکھا تھا اس میں یہ خط حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے شرحبیل بن عبدکلال، حرث بن عبدکلال اور نعیم بن عبد کلال کی طرف ہے جو ذی رعین معاصر اور ہمدان کے بادشاہ ہیں۔ اما بعد، آپ کے مکتوب میں تھاخبردار! قرآن کریم نہ چھوئے مگر پاک آدمی۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو قرآن کو نہ چھوئے مگر اس وقت جب تو پاک ہو۔(تفسیر قرطبی، جلد نہم،صفحہ 233،طبع ضیاء القرآن پبلی کیشنز)

    19۔ قاضی ابوبکر بن عربی رحمہ اللہ
    امام قرطبی رحمہ اللہ سورہ واقعہ آیت نمبر ۹۷ کی تفسیر میں رقمطراز ہیں: ایک قول یہ کیا گیا ہے: آیت کا ظاہر شرع کی خبر ہے یعنی شرعی طور پر پاکیزہ لوگ ہی اسے چھوتے ہیں اگر اس کے برعکس پایا گیا تو یہ شرع کے خلاف ہوگا، یہ قاضی ابوبکر بن عربی کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ (تفسیر قرطبی، جلد نہم،صفحہ 234،طبع ضیاء القرآن پبلی کیشنز)

    20۔ عبدالرحمن بن عبدالعزیز الدھامی، امام و خطیب جامع الزھراء بالبکیریہ
    شیخ مس قرآن کے لئے وجوب وضو کا موقف رکھتے ہیں اسی لئے قرآن مجید کے آداب پر مشتمل اپنی کتاب میں کلام اللہ کے ضروری آداب بتاتے ہوئے پہلا ادب ”قرآن کو پاکیزہ حالت میں پکڑیں“ بیان کرتے ہیں اور اس ادب کے تحت ایسے اقوال الرجال لائے ہیں جو کتاب و سنت کے دلائل سے منصوص ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کی کتاب کو چھونے کے لئے وضو کرنا واجب و ضروری ہے۔ ملاحظہ ہو: (قاری قرآن کے اوصاف اور قرآن مجید کے آداب، صفحات 138 تا 142)
     
  4. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    786
    21۔ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
    کلام الہٰی کو چھونے کے لئے وضو کے واجب ہونے کے قائل تھے۔

    حدیث ”ان لایمس القرآن الا طاہر“ کی شرح میں محمد بن صالح عثیمین رقمطراز ہیں: اس حدیث میں یہ بنیادی مسئلہ بیان کیا گیا ہے کہ مصحف قرآنی کو بے وضو بلاواسطہ و بلا حائل ہاتھ لگانا، تھامنا، تھمانا، اٹھانا، رکھنا وغیرہ سب ناجائز اور حرام ہے۔(شرح بلوغ المرام،جلد اوّل، صفحہ 186)

    اس کے بعد حدیث سے اخذ شدہ فوائد کے ذیل میں لکھتے ہیں: قرآن کی عظمت کہ اسے نجس سے دور رکھا جائے چاہے وہ بے وضو ہو یا کافر۔ مصحف کو چھونے کے لئے وضو کرنا واجب ہے۔ اس میں چھوٹے بڑے کا کوئی فرق نہیں۔ (شرح بلوغ المرام،جلد اوّل، صفحہ 186)

    بعض علماء بچے کو بلاوضو قرآن چھونے کی رخصت دیتے ہیں ایسے علماء کا رد کرتے ہوئے شیخ فرماتے ہیں: ہم ایسا موقف رکھنے والوں سے پوچھیں گے کہ کیا بچہ اگر بے وضو حالت میں نماز پڑھے تو کیا آپ یہ کہہ کر اسے اس کی اجازت دے سکتے ہیں کہ اس پر وضوکرنے کا حکم لازم نہیں آتا.....ایسا بالکل نہیں ہو سکتا۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ اس پر وضو واجب ہوگا، ورنہ وہ نماز ہی نہ پڑھے۔ اسی طرح مصحف کو چھونے کے مسئلے میں بھی ہمارا یہی قول ہے کہ جب دلائل اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ مصحف کو بے وضو حالت میں چھونا جائز نہیں ہے تو پھر بچے کو بھی وضو کرنا پڑے گا۔ (فتاویٰ ابن عثیمین: 11/214 بحوالہ قاری قرآن کے اوصاف اور قرآن مجید کے آداب، صفحہ، 143)

    22۔ استاذ القراء قاری محمد ابراہیم میر محمدی
    اس فہرست میں قاری صاحب کا نام اس لئے شامل کیا گیا ہے کہ انکی پسند فرمودہ کتاب ”قاری قرآن کے اوصاف اور قرآن مجید کے آداب“ میں قرآن کو ہاتھ لگانے کے لئے وضو کے فرض ہونے کا موقف اختیار کیا گیا ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ بنا کسی اعتراض کے قاری صاحب کا ایسی کتاب اوراس کے مندرجات کو پسند کرنا اصل میں اس میں بیان شدہ موقف کی حمایت کرنا ہے۔

    23۔ امام جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی رحمہ اللہ
    امام موصوف رحمہ اللہ نے ”لا یمسہ الاالمطہرون“کی تفسیر میں سلف صالحین سے وہ دلائل نقل کئے ہیں جو قرآن کو چھونے کے لئے وجوب کا فائدہ دیتے ہیں اور اس بات کا ثبوت بھی بہم پہنچاتے ہیں کہ اس سلسلے میں خودامام صاحب کا اپنا موقف بھی یہی تھا۔ مثلاًامام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں: امام ابن منذر رحمہ اللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ باوضو آدمی کے سوا کوئی مصحف (قرآن کریم)کو نہیں چھوئے گا۔

    امام عبدالرزاق، ابن ابی داود اور ابن منذر نے حضرت عبداللہ بن ابی بکر سے اور انہوں نے اپنے باپ سے یہ بیان کیا ہے کہ عمرو بن حزم کے لئے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھ کر بھیجا کہ تو سوائے پاکیزہ حالت (باوضو)کے قرآن کریم کو مس نہ کر۔

    امام سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ نے مصنف میں ابن منذر اور حاکم رحمہم اللہ نے حضرت عبدالرحمن بن زید رحمہ اللہ سے یہ قول بیان کیا ہے کہ ہم حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ آپ قضائے حاجت کے لئے نکلے اور ہم مجلس سے اوجھل ہوگئے۔پھر آپ ہماری طرف آئے۔ تو ہم نے کہا: اگر آپ وضو کرلیتے تو ہم آپ سے قرآن کریم میں سے کچھ اشیاء کے بارے میں پوچھتے۔ تو آپ نے فرمایا: تم مجھ سے پوچھو۔ کیونکہ میں اسے مس نہیں کرونگا۔ بے شک اسے تو وہی چھوتے ہیں جو پاک ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:لا یمسہ الاالمطہرون۔

    امام طبرانی اور امام ابن مردویہ رحمہمااللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کریم کو نہیں چھوئے گا مگر وہی جو پاک (باوضو) ہے...... الخ (تفسیر در منثور، جلد ششم،صفحہ 396)

    24۔ علامہ طیبی رحمہ اللہ، مشکوۃ کے شارح اوّل
    ملا علی قاری امام مالک کی روایت کردہ حدیث جسے صاحب مشکوۃ نے بھی نقل کیا ہے کے متعلق لکھتے ہیں: علامہ طیبی ؒ نے فرمایاہے کہ یہ حدیث اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: (لایمسہ الا المطھرون)]الواقعہ ۹۷[”اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں“کے لیے بیان ہے کیونکہ لا یمسہ کی ضمیر یا تو قرآن کی طرف راجح ہے اور مراد لوگوں کو اس کے طہارت کے علاوہ چھونے سے روکنا ہے اور یا ضمیر ”لوح“ کی طرف راجح ہے اور اس صورت میں ”لا“ نافیہ ہوگا اور مطھرون کا معنی ”ملائکہ“ سے کریں گے۔ پس بے شک حدیث نے اس آیت کے معنی کو کھول دیا ہے کہ یہاں مراد وہ پہلا معنی ہے اوراس معنی کے لیے تائید وہ آیت بھی ہے کہ جس میں قرآن کو کریم کے ساتھ بطور مدح کے ذکر کیا ہے (انہ لقرآن کریم) اور اسی طرح اس آیت کے ساتھ کہ جس میں قرآن کے لوح محفوظ میں ثابت ہونے کے ساتھ مدح ہے (فی کتٰب مکنون) پس حکم (لایمسہ الا المطھرون) ]الواقعہ ۹۷[”اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں“ یہ مرتب ہوگا ان دو وصفوں پر جو قرآن پاک کے مناسب ہیں۔(مرقاۃ المفاتیح شرح اردو مشکوۃ المصابیح،صفحہ 256)

    25۔ امام ابوعبداللہ رحمہ اللہ
    ابوبکر المروزی بیان کرتے ہیں: ابوعبداللہ رحمہ اللہ بسا اوقات بغیر وضو کے ہی مصحف پر پڑھ لیتے تھے لیکن اسے ہاتھ نہیں لگاتے تھے، البتہ اپنے ہاتھ میں لکڑی یا کوئی چیز پکڑ لیتے جس کے ذریعے ورق پلٹتے تھے۔ (مسائل ابن ھانی، جلد 1، صفحہ 102 بحوالہ قاری قرآن کے اوصاف اور قرآن مجید کے آداب، صفحہ،106)

    26۔ ابوبکر المروزی رحمہ اللہ
    ابوبکر المروزی بیان کرتے ہیں: ابوعبداللہ رحمہ اللہ بسا اوقات بغیر وضو کے ہی مصحف پر پڑھ لیتے تھے لیکن اسے ہاتھ نہیں لگاتے تھے، البتہ اپنے ہاتھ میں لکڑی یا کوئی چیز پکڑ لیتے جس کے ذریعے ورق پلٹتے تھے۔ (مسائل ابن ھانی، جلد 1، صفحہ102)

    ابوبکر المروزی کا اپنا نظریہ بھی یہی تھا جو انہوں نے امام ابوعبداللہ کے حوالے سے بیان کیا ہے کیونکہ اصول ہے کہ جب کوئی مصنف بغیر کسی اعتراض کے کسی کا نظریہ نقل کرتا ہے تو خود مصنف کا اپنا نظریہ بھی وہی ہوتا ہے بشرط یہ کہ کسی اور مقام پر مصنف نے اس نظریہ کے خلاف کلام نہ کیا ہو اور وہ نظریہ جمہور کا مخالف بھی نہ ہو۔

    حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ آل دیوبندکے حوالے سے فرماتے ہیں: آل دیوبند کے نزدیک اگر کوئی مصنف کسی کا قول نقل کرے اور تردید نہ کرے تو یہ اسی مصنف کا اپنا نظریہ ہوتا ہے، جیسا کہ سرفراز خان صفدر دیوبندی نے لکھا ہے: ”سوم جب کوئی مصنف کسی کا حوالہ اپنی تائید میں پیش کرتا ہے اور اس کے کسی حصہ سے اختلاف نہیں کرتا تو وہی مصنف کا نظریہ ہوتا ہے۔“ (تفریح الخواطرفی رد تنویر الخواطر، ص۹۲) تنبیہ: ہمارے نزدیک یہ اس صورت میں ہے جب اسی مصنف سے اس کے مقابلے میں کوئی صریح دلیل یا جمہورمحدثین کی مخالفت موجود نہ ہو۔ (ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر: 97، صفحہ 36)

    مندرجہ بالا دیوبندی اصول کو صحیح تسلیم کرنے اور اہل حدیث کے نزدیک قابل قبول بنانے کے لئے حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے تنبیہ کے تحت جو دو عددشرائط رکھی ہیں ان پر ہمارا حوالہ پورا اترتا ہے کیونکہ ابوبکر المروزی سے اس نظریہ کے خلاف جو انہوں نے ابوعبداللہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کچھ ثابت نہیں اور نہ ہی ابوعبداللہ کا بلا وضو مصحف کو نہ چھونے کا یہ عمل جمہور محدثین کے خلاف ہے چناچہ ابو عبداللہ کے نظریے کو ابوبکر المروزی سے منسوب کرنے میں راقم حق بجانب ہے۔

    27۔ حافظ عمران ایوب لاہوری
    موصوف نے امام شوکانی رحمہ اللہ کی مشہور زمانہ تصنیف ”الدررالبھیۃ“کی تخریج، تحقیق، ترجمہ اور تشریح کے ساتھ ساتھ اختلافی مسائل میں راجح موقف کی نشاندہی بھی کی ہے جیسا کہ ان کے استاد ابوالحسن مبشر احمد ربانی نے اس کتاب کی تقریظ میں اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے: اس کتاب کی اردو زبان میں سہل و آسان انداز میں کوئی شرح موجود نہیں تھی۔ ہمارے ارشد تلامذہ میں سے’حافظ عمران ایوب سلمہ اللہ وصانہ من کل تلہف و تاسف‘ نے اس کی شرح کا بیڑا اٹھایااور بڑے ہی سلجھے ہوئے فقہانہ انداز میں اس کی عمدہ اور جامع شرح مرتب کر ڈالی جس میں الفاظ کی لغوی و اصطلاحی تشریح، مذاہب فقہاء اور دلیل کی رو سے راجح موقف کی نشاندہی کی ہے۔ (فقہ الحدیث، جلد اوّل، صفحہ 44)

    چناچہ حافظ عمران ایوب صاحب نے ”کیا قرآن پکڑنے کے لیے وضو ضروری ہے؟“ کے عنوان پر جانبین علماء کے دلائل کا مطالعہ و موازنہ کرنے کے بعدبطور نتیجہ راجح یعنی اقرب بالحق موقف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے: زیادہ مناسب یہی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن پکڑنے کے لئے وضو کیا جائے اور یہ بات یاد رہے کہ جب قرآن پکڑنے کے لیے وضو ضروری ہے تو حالت جنابت یا حالت حیض سے پاک ہونا بالاولیٰ ضروری ہے۔ (فقہ الحدیث، جلد اوّل،صفحہ 233)

    28۔ مجاہد بن جبر رحمہ اللہ
    محمد لقمان السلفی سورہ واقعہ کی آیت ۸۷ (کتب مکنون)کی تفسیر میں لکھتے ہیں: مجاہد اور قتادہ نے اس سے مراد وہ مصحف لیا ہے جو دنیا میں موجود ہے۔ (تیسیرالرحمن لبیان القرآن، صفحہ 1529)

    راقم الحروف کہتا ہے کہ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ سورہ واقعہ کی اس سے اگلی آیت یعنی (لا یمسہ الاالمطہرون) سے مجاہد بن جبر رحمہ اللہ نے یہی سمجھا ہے کہ بے وضو شخص قرآن کو ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ کیونکہ علماء کے جس گروہ نے کتاب مکنون سے لوح محفوظ والا مصحف مراد لیا ہے انہوں نے اس سے اگلی آیت میں مطہرین سے مراد فرشتے لیا ہے اس کے برعکس علماء کے جس گروہ نے کتاب مکنون سے مراد دنیاوی مصحف لیا ہے انہوں نے مطہرین سے مراد حدث اکبر و اصغر سے پاک باوضو شخص لیا ہے۔

    29۔ محمد الیاس بن عبدالقادر بن عبدالمجید
    یہ سنن دارمی کے شارح و مترجم ہیں چناچہ دارمی کی ایک حدیث کی تشریح میں رقمطراز ہیں: گرچہ اس حدیث کی سند میں کلام ہے لیکن اس کا معنی صحیح ہے۔ بغیر وضو قرآن چھونا منع ہے جیسا کہ آیت کریمہ میں ہے: (لا یمسہ الاالمطہرون) (الواقعہ:۹۷) اور نکاح کرنے سے پہلے عورت کو طلاق دینا اس کا ثبوت سنن میں ہے کہ یہ طلاق واقع نہیں ہوگی۔ (سنن الدّارمی، جلد دوم، صفحہ331)

    30۔ ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمن التمیمی الدّارمی
    امام دارمی رحمہ اللہ نے اپنی سنن کے باب لا طلاق قبل نکاح میں درج ذیل حدیث لاکر اپنا مسلک و مذہب واضح کردیا ہے کہ کامل طہارت کے بغیر مس مصحف درست نہیں۔قال الحکم قال لی یحیی بن حمزۃافصل ان رسول اللہ ﷺکتب الی اھل الیمن ان لا یمس القرآن الا طاہر ولا طلاق قبل املاک ولا عتاق حتی یبتاع۔(سنن الدّارمی، جلد دوم، صفحہ331)

    31۔ عبدالرحمن بن ناصر السّعدی رحمہ اللہ
    شیخ رحمہ اللہ لا یمسہ الاالمطہرون کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”اسے صرف پاک (فرشتے) ہی چھوتے ہیں۔“ یعنی قرآن کریم کو صرف ملائکہ کرام ہی چھوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام آفات، گناہوں اور عیوب سے پاک کیا ہے۔ جب قرآن کو پاک ہستیوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا اور ناپاک اور شیاطین اس کو چھو نہیں سکتے تو آیت کریمہ تنبیہاًاس امر پر دلالت کرتی ہے کہ پاک شخص کے سوا کسی کے لئے قرآن چھونا جائز نہیں۔ (تفسیر السّعدی، جلد سوم، صفحہ2693)

    تنبیہ: یہاں پاک شخص سے مراد باوضو شخص ہے کیونکہ ”طاہر“ کا لفظ جب کبھی بھی مطلقاً استعمال کیا جاتا ہے تو اس میں حدث اصغر اور حدث اکبر سے پاکی شامل ہوتی ہے۔ شیخ محمد بن صالح العثیمین فرماتے ہیں: غور و فکر کے بعد مجھ پر واضح ہوا کہ طاہر سے مراد حدث اصغر (بے وضو) اور حدث اکبر (جنابت وغیرہ) سے پاک ہونا ہے۔ (شرح موطا امام مالک2 / 60بحوالہ ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر116، صفحہ 7)

    اسی طرح صفی الرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ”الاطاہر“ کی لغوی تشریح میں لکھتے ہیں: بظاہر اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ حدث اکبر ہو یا اصغر دونوں سے پاک ہونا چاہیے۔(بلوغ المرام، طہارت کے مسائل، صفحہ 80)

    32۔ امام محدث ابوبکر محمد بن حسین الآجری رحمہ اللہ
    امام صاحب کا موقف بھی جمہور علماء کی طرح یہی ہے کہ قرآن کو ہاتھ لگانے کے لئے باوضو ہونا فرض ہے چناچہ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے اپنی کتاب میں یہ عنوان قائم کرتے ہیں ”مصحف پر پڑھنا ہو تو وضو کا التزام“ پھر اس عنوان کے تحت وہ دلائل ذکر کرتے ہیں جوزیر بحث مسئلہ کا اثبات کرتے ہیں۔ (قاری قرآن کے اوصاف اور قرآن مجید کے آداب، صفحہ105)

    ایک مقام پر امام آجری رحمہ اللہ واضح اور دوٹوک الفاظ کے ساتھ اپنا موقف یوں سپرد قلم کرتے ہیں: حامل قرآن کو چاہیے کہ وہ بے وضو حالت میں قرآن نہ پکڑے، البتہ اگر وہ مصحف کو چھوئے بغیر اس پر دیکھ کر بے وضو حالت میں پڑھنا چاہے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن اگر ورق پلٹنا ہو تو کسی چیز کے ذریعے پلٹ لے، قرآن کو ہاتھ نہ لگائے، کیونکہ وہ وضو کے بغیر قرآن کو چھو نہیں سکتا۔ (قاری قرآن کے اوصاف اور قرآن مجید کے آداب، صفحہ100)

    33۔ امام اسحاق بن راھویہ رحمہ اللہ
    امام اسحاق نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے فتویٰ جس میں انہوں نے سائل کو بلاوضو قرآن نہ چھونے کا حکم دیا کو سنت مسنونہ قرار دیا ہے جو کہ ظاہر کہ امام اسحاق کی جانب سے امام احمد بن حنبل کی فتویٰ کی تائید و تصدیق ہے۔ دیکھئے: (مسائل الامام احمد 1/103 بحوالہ قاری قرآن کے اوصاف اور قرآن مجید کے آداب، صفحہ105)

    34۔ حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ
    حافظ ندیم ظہیر ایک صحیح الاسناد اثر کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: حکم بن عتیبہ اور حماد بن ابی سلیمان رحمہما اللہ نے فرمایا: جب قرآن مجید کپڑے (یا غلاف) میں ہوتو اسے بغیر وضو چھونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (المصاحف لابن ابی داود: 709، بحوالہ ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر116، صفحہ 7)

    اس عبارت کا مخالف مفہوم یہ ہے کہ بے وضو شخص کو بنا رکاوٹ اوربراہ راست قرآن چھونا منع ہے اور ایسا کرنا صرف باوضو شخص کے لئے ہی جائز ہے۔

    35۔ حماد بن ابی سلیمان رحمہ اللہ
    مس مصحف کے بارے میں حماد بن ابی سلیمان کے اختیار کردہ موقف کے متعلق حافظ ندیم ظہیر نے لکھا: حکم بن عتیبہ اور حماد بن ابی سلیمان رحمہما اللہ نے فرمایا: جب قرآن مجید کپڑے (یا غلاف) میں ہوتو اسے بغیر وضو چھونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (المصاحف لابن ابی داود: 709، بحوالہ ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر116، صفحہ 7)

    36۔ امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے نام جو مراسلہ لکھا تھاجس میں یہ بھی درج تھا کہ ”ان لا یمس القرآن الا طاہر“ اس مراسلے کے بارے امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: یہ مشہور خط ہے اور اہل علم کے ہاں معروف ہے، اس کی شہرت اسے اسناد سے مستغنی کردیتی ہے۔ عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے نام لکھے گئے اس مراسلے کی صحت کی یہی دلیل کافی ہے کہ اس کو جمہور علماء سے تلقی بالقبول حاصل ہے اور مدینہ، عراق اور شام کے فقہاء نے اس میں اختلاف نہیں کیا کہ قرآن کو صرف باوضو پاک شخص ہی چھوئے۔ یہی امام مالک، امام شافعی، امام ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا قول ہے۔ (التمھید لا بن عبد البر: 7/163، 164 بحوالہ قاری قرآن کے اوصاف اور قرآن مجید کے آداب، صفحہ140)

    37۔ امام ابی بکراحمد بن الحسین البیہقی رحمہ اللہ
    موطا امام مالک میں ایک اثر روایت کیا گیا ہے جس میں صحابی رسول سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنے اس شاگرد کو دوبارہ وضو کرنے کا حکم دیا جس نے مصحف تھاما ہوا تھا اور اس دوران اس نے اپنی شرم گاہ کو ہاتھ لگا لیا تھا۔یہ موقوف روایت ثابت کرتی ہے کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ حدث اصغر میں مبتلا شخص کو قرآن کو چھونے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ نے بھی اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ امام صاحب نے مذکورہ اثر پر درج ذیل باب قائم کیا ہے: ”باب نہی المحدث عن مس المصحف“ یعنی بے وضو شخص کو قرآن چھونے کی ممانعت۔ (السنن الکبریٰ: 1/88، بحوالہ ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر116، صفحہ 6)

    38۔ الشیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ
    شیخ محترم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بے وضو کے لئے قرآن چھونا جائز نہیں ہے، البتہ غلاف سے یا آستین سے پکڑ کر اٹھانے کی اس کو رخصت ہے اور اسی طرح لکڑی وغیرہ کے ساتھ صفحہ پلٹنے کی بھی اجازت ہے۔ (آداب المشی الی الصلاۃ، صفحہ 21، بحوالہ قاری قرآن کے اوصاف اور قرآن مجید کے آداب، صفحہ142)


    39۔ شیخ الاسلام مولانا ثنا ء اللہ امرتسری رحمہ اللہ
    شیخ رحمہ اللہ سورہ واقعہ کی آیت نمبر ۹۷ کی تفسیر میں رقمطراز ہیں: اس کتاب قرآن مجید کو صرف پاک لوگ ہی چھوتے یعنی وہی اس پر عمل کرتے اور وہی اس کو رہنما اور ہدایت نامہ بناتے ہیں۔(تفسیر ثنائی، جلد سوم، صفحہ 333)

    اس ضمن میں پہلی گزارش تو یہی ہے کہ پاک کا لفظ جب بھی بغیر کسی قید کے مطلق طور پر آتا ہے تو اس سے مراد باوضو ہوتا ہے جیسا کہ ماقبل اسے بادلائل ثابت کیا گیا ہے اور دوسری گزارش یا عرض یہ ہے کہ جس مفسرنے بھی سورہ واقعہ کی اس آیت سے انسانوں کے کتاب اللہ کو چھونے پر استنباط کیا ہے اس نے اس عمل یعنی مس مصحف کے لئے وضو کو واجب اور ضروری قرار دیا ہے۔ چناچہ سید احمد حسن محدث دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: جن علماء نے لایمسہ کی ضمیر کو قرآن کی طرف پھیرا ہے اور مطھرون کے معنی قرآن کے چھونے والے آدمیوں کے کئے ہیں، انھوں نے بے وضو آدمی کے قرآن کو ہاتھ نہ لگانے کا مسئلہ اس آیت سے نکالا ہے۔ (تفسیر احسن التفاسیر، جلد ہفتم، صفحہ 86)

    40۔ الشیخ عبداللہ بن جبرین رحمہ اللہ
    شیخ اپنے ایک فتویٰ میں لکھتے ہیں: امور طلبہ کے نگرانوں پر یہ لازم آتا ہے کہ وہ انہیں بالفعل ان امور کی تعلیم دیں جو ہر عبادت کے لئے واجب ہوتے ہیں۔ ان امور میں سے قرآن کی قراء ت بھی ہے اور یہ طہارت کاملہ پر منحصر ہے۔ اسی طرح قرآن کے مدرسین پر بھی لازم ہے کہ وہ ہر درس کے شروع میں اس پر تنبیہ کریں اور ہر بے وضو طالب علم پر لازم کردین کہ وہ وضو کرکے آئے۔ (فتاویٰ اسلامیہ 4/27، بحوالہ قاری قرآن کے اوصاف اور قرآن مجید کے آداب، صفحہ144)

    بات صاف اور واضح ہے کہ جب عبداللہ بن جبرین کے نزدیک قاری کے لئے قرآن کی تلاوت کے لئے وضو کرنا واجب ہے تو اسے ہاتھ لگانے کے لئے بالااولیٰ حدث اصغر سے پاک ہونا یعنی باوضو ہوناواجب ہوگا۔
     
    Last edited: ‏اکتوبر، 30, 2020
  5. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    786
    41۔ ابوبکر جابر الجزائری حفظہ اللہ
    عبداللہ بن جبرین رحمہ اللہ ہی کی طرح جابر الجزائری بھی تلاوت قرآن کے لئے وضو کو ضروری قرار دیتے ہیں چناچہ وہ اپنی تصنیف میں عنوان”آداب تلاوت“ کے ذیل میں لکھتے ہیں: قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت ہر مسلمان پر درج ذیل امور کا التزام کرنا ضروری ہے: (۱)بہترین حالت میں تلاوت کلام پاک کرے یعنی باوضو اور قبلہ رخ ہوکر اور ادب و وقار کے ساتھ بیٹھ کر پڑھے۔ (منہاج المسلم،صفحہ 145)
    جابر الجزائری کا مندرجہ بالا کلام ان کے اس مذہب کی طرف واضح اشارہ ہے کہ ان کے نزدیک مس مصحف کے لئے باوضو ہونا واجب ہے۔

    راقم کے اس گمان کی تائید اس حقیقت سے بھی ہوتی ہے کہ جوعالم بغیر وضو مس قرآن کو جائز سمجھتا ہے وہ اس کی تلاوت کے لئے وضو پر ہرگززور نہیں دے گااس لئے کہ مصحف کو چھو کر تلاوت کرنا مصحف کو چھوئے بغیر تلاوت کرنے سے نسبتاً بڑی عبادت ہے کیونکہ اس میں زبان اور کانوں کے ساتھ آنکھیں اور ہاتھ بھی شامل ہیں۔

    امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بہت سے اہل علم نے یہ صراحت کی ہے کہ مصحف پر دیکھ کر قرآن پڑھنا افضل ہے کیونکہ اس سے تلاوت کا ثواب بھی مل جاتا ہے اور قرآن کو دیکھنا بھی عبادت ہے۔(فضائل القرآن لابن کثیر، صفحہ 209، بحوالہ قاری قرآن کے اوصاف اور.... صفحہ 155)

    اسی طرح امام قرطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: جب آدمی زبانی قراء ت کرتا ہے تو کان اسے سن کر نفس تک پہنچاتے ہیں اور جب وہ مصحف پر دیکھ کر پڑھتا ہے تو آنکھ اور کان دونوں ادائیگی میں شریک ہوجاتے ہیں اور یہی زیادہ بہتر اور مناسب ہے۔ آنکھ کان کی طرح اپنا حصہ وصول کرلیتی ہے اور پھر مصحف کا حق ادا کرتی ہے۔ (التذکار فی افضل الاذکار، صفحہ 187،بحوالہ قاری قرآن کے اوصاف اور.... صفحہ 157)

    اور مصحف کو چھونے کے سبب ہی قراء ت قرآن کی عبادت کامل طہارت کی متقاضی بھی ہے لہٰذا جب ایک عالم بڑی عبادت کے لئے وضو کا قائل نہیں تو اس سے چھوٹی عبادت کے لئے وضو کی بات کیوں کرے گا؟! یہ اس کے مذہب و نظریہ سے میل نہیں کھاتا صرف وہی عالم تلاوت قرآن کے لئے وضو کی رغبت دلاتا اور اس پر زور دیتا نظر آئے گا جو قرآن کو بنا وضو چھونا جائز نہیں سمجھتا ہوگا۔واللہ اعلم

    42۔ مولانا محمد صادق خلیل رحمہ اللہ
    حدیث ”لا یمس القرآن الا طاہر“ کی وضاحت اور تشریح کرتے ہوئے محمد صادق خلیل رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: قرآن پاک کو وہ شخص ہاتھ لگائے جو مومن ہو نیز حدث اصغر اور حدث اکبر سے پاک ہو اور اس کے بدن پر نجاست بھی نہ لگی ہو۔ خیال رہے کہ جو شخص باوضو ہو وہ حدث اصغر سے پاک ہے اور جو شخص جنبی نہیں ہے وہ حدث اکبر سے پاک ہے۔ (مشکوۃ المصابیح، جلد اوّل، صفحہ 219)

    43۔ حافظ ناصر محمود انور
    یہ مولانا محمد صادق خلیل کے شاگرد ہیں اور انہوں نے ہی مولانا صاحب کی مشکوۃ کی شرح پر نظر ثانی اور پروف ریڈنگ کا کام کیا ہے جیسا کہ اس شرح کی جلد اوّل کے پیش لفظ میں بقلم خود لکھتے ہیں: میں نے اس کتاب کی عربی احادیث پر نہایت محنت شاقہ سے اعراب لگائے ہیں اور ان اعراب کی تصحیح کا خصوصی طور پر خیال رکھا ہے۔ اس کتاب کی نظر ثانی، پروف ریڈنگ اور عربی احادیث کو اعراب لگانے کا کام اگرچہ انتہائی مشکل اور کٹھن تھا لیکن اللہ رب العزت کی توفیق اور فاضل مترجم شیخ التفسیر و الحدیث مولانا محمد صادق خلیل کی کمال راہنمائی نے اسے آسان کردیا۔(مشکوۃ المصابیح، جلد اوّل، صفحہ11)

    یہ بات تو یقینی ہے کہ اپنے استاد کی شرح کی نظر ثانی اور پروف خوانی کے وقت یہ عبارت جس میں ان کے استاد نے قرآن چھونے کے لئے وضو کی شرط تسلیم کی ہے موصوف کی نظر سے ضرور گزری ہوگی لیکن اسکے باوجود بھی انہوں نے اس بات پر کوئی نقد یا اعتراض نہیں کیاجبکہ ”پیش لفظ“ کی صورت میں انہیں اظہار خیال کا پورا موقع ملا تھا اور یہی رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ناصر محمود انور صاحب خود بھی اسی نظریے کے حامل ہیں۔الحمدللہ

    44۔ شیخ الحدیث مولانا عبدالسلام بستوی رحمہ اللہ
    عبدالسلام بستوی مشکوۃ کے باب الطہارت کی ایک حدیث کی شرح میں رقمطراز ہیں: عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تھا اور ان کو کتاب لکھ کر دی تھی جس میں بہت سے مسائل اور احکام تھے اس میں ایک حکم یہ بھی تھا کہ قرآن مجید کو پاک آدمی ہاتھ لگائے۔ قرآن مجید کی آیت سے بھی یہی سمجھا جاتا ہے۔ (انوار المصابیح شرح مشکوۃ المصابیح،جلد اوّل، صفحہ 279)

    45۔ فضیلۃ الشیخ ابو محمد حافظ عبدالستار الحماد
    سورہ واقعہ کی آیت کے حوالے سے شیخ سے سوال ہوا کہ کیا اس آیت کے پیش نظر بلا وضو قرآن کو چھوا جاسکتا ہے یا نہیں؟ سائل کے اس سوال پر شیخ نے سورہ واقعہ کی آیت نمبر ۹۷ کی تفسیر میں مفسرین کے متضاد مطالب بیان کرنے کے بعد اپنا فیصلہ ان الفاظ میں لکھاہے: ایسے حالات میں قرآنی آیات کا مفہوم متعین کرنے کے لئے صاحب قرآن کے ارشادات کی طرف رجوع کرنا ہوگا، چناچہ احادیث سے پتا چلتا ہے کہ اس سے مراد باوضو انسان ہے، یعنی بے وضو انسان کو چاہیے کہ وہ قرآن کو ہاتھ لگانے سے اجتناب کرے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے نام ایک ہدایت نامہ میں فرمایا تھا: ”طاہر انسان کے علاوہ اور کوئی قرآن پاک کو ہاتھ نہ لگائے۔“ (فتاویٰ اصحاب الحدیث، جلد دوم، صفحہ 86)

    46۔ مولانا سید محمد عبدالاوّل الغزنوی رحمہ اللہ
    مولانا موصوف رحمہ اللہ عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث کے فوائد الحدیث کے تحت لکھتے ہیں: مگر پاک یعنی باوضو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یمن کے نواح میں کسی شہر کا عامل بنا کر بھیجا تھا اور ایک کاغذ لکھ کر ان کے ساتھ کردیا تھا اس میں بیان فرائض اور سنن صدقات اور دیات وغیرہ کا لکھا تھا ازاں جملہ اس کتاب میں یہ بھی لکھا تھا جو مذکور ہوا۔ (مشکوۃ المصابیح مترجم، جلد اوّل، صفحہ 257)

    47۔ ابو میمون حافظ عابد الٰہی، مدیر مکتبہ بیت السلام ریاض
    ”500سوال و جواب برائے خواتین“نامی کتاب میں ابن عثیمین رحمہ اللہ کا ایک فتویٰ ان الفاظ میں منقول ہے: حائضہ، جنبی اور بے وضو پر یہ حرام نہیں ہے کہ وہ ایسی کتابوں اور رسالوں کو چھوئیں جن میں احادیث اور اللہ عزوجل کا کچھ کلام درج ہو کیونکہ یہ کتابیں اور رسالے بہر کیف مصحف قرآنی تو نہیں ہیں۔(500سوال و جواب برائے خواتین، صفحہ 203)

    اس فتوے یا عبارت کا مخالف مفہوم یہ ہے کہ بے وضو شخص کے لئے مصحف قرآنی کو چھونا حرام ہے۔

    جس کتاب میں بالا فتویٰ درج ہے اس کتاب میں ”عرض ناشر‘‘ کے عنوان سے حافظ عابد الٰہی صاحب لکھتے ہیں: زیر نظر کتاب میں خواتین کو پیش آمدہ مسائل کا قرآن و سنت کی روشنی میں حل پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں عالم اسلام کے نامور علماء کے فتاویٰ کو یکجا کیا گیا ہے جو کسی امتی کے اقوال پر مبنی نہیں بلکہ خالصتاً کتاب و سنت کی بنیاد پر تحریر کئے گئے ہیں۔ (500سوال و جواب برائے خواتین،صفحہ39، 40)
    پس ثابت ہوا کہ ابن عثیمین کے کتاب وسنت کی بنیاد پر تحریر شدہ متذکرہ فتویٰ سے ابومیمون حافظ عابد الٰہی صاحب پوری طرح مطمئن و متفق ہیں۔

    48۔ شیخ ولی الدین محمد بن عبداللہ خطیب عمری تبریزی رحمہ اللہ
    خطیب تبریزی رحمہ اللہ نے اپنی علمی کاوش مشکوۃ المصابیح میں حدیث ”ان لایمس القرآن الا طاہر“ لا کر ثابت کیا ہے کہ ان کے نزدیک بغیر وضو مس قرآن حرام اور ناجائز ہے۔

    49۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ
    ابن حجرکا مذہب بھی بے وضو قرآن نہ چھونے کا تھا جس کا اظہار انہوں نے اپنی شہر ہ آفاق کتاب ”بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام“ میں موطا اما م مالک کی حدیث ”ان لایمس القرآن الا طاہر“لا کر کیا ہے۔ پھر اس کتاب کے شارحین نے بھی اس حدیث سے یہی سمجھا ہے کہ یہ بے وضو قرآن نہ چھونے کے باب سے ہے۔

    50۔ ابو قیدارمحمد آصف نسیم مدنی
    آ ں جناب نے ”شرح بلوغ المرام“ کے اردو ترجمے کے فرائض سرانجام دئیے ہیں اور ان الفاظ کے ساتھ کتاب کے مولف ابن حجر عسقلانی اور اس کے شارح محمد بن صالح العثیمین کے حدیث ”ان لایمس القرآن الا طاہر“ کی بنیاد پر قائم موقف کہ”حدث اصغر میں مس مصحف ممنوع ہے پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے کہ: بلوغ المرام اپنی تالیف سے لے کرآج تک امت مسلمہ کی علمی و عملی توجہات کا مرکز رہی ہے اور اصحاب قلم و قرطاس نے اس کتاب کو اپنی علمی مسائی کی جولان گاہ بنائے رکھا ہے اور اخیر زمانہ میں شیخ وقت جناب ابن عثیمین رحمہ اللہ نے اسلاف و اخلاف کی تشریحات، توضیحات، تفاسیراور علمی موشگافیوں سے مرصع و آراستہ کرکے اس قیمتی کتاب کی خدمت کا حق ادا کردیاہے۔ امام ابن حجر اور ان کی تالیف بلوغ المرام بندہ عاجز کی تعریف وتوصیف سے از حد بے نیاز ہے۔(شرح بلوغ المرام، جلد اوّل، عرض مترجم، صفحہ 28)

    51۔ فواد بن عبدالعزیزالشلہوب
    شیخ محترم اس بارے اپنا موقف بتانے کے لئے ”قرآن کو صرف پاک ہی آدمی چھو سکتا ہے“کا عنوان قائم کرکے اس کے تحت لکھتے ہیں: اس سلسلے میں دلیل سورۃ الواقعۃ کی آیت ”لایمسہ الا المطھرون“ ہے۔ اور اس کی تصریح میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پیش کیا جاسکتا ہے جس کو آ پ نے عمرو بن حزم کو لکھا تھا۔ آپ نے اس خط میں لکھا تھا: ان لایمس القرآن الا طاہر ”یعنی قرآن کو صرف پاک ہی آدمی چھو سکتا ہے۔“ (کتاب الآداب، صفحہ 42)

    52۔ اللجنۃ الدائمۃ
    کیا بلا وضو مصحف لے کر پڑھا جاسکتا ہے؟ کے جواب میں فواد بن عبدالعزیزالشلہوب نے اللجنۃ الدائمۃ کے حوالے سے لکھا ہے: اللجنۃ الدائمۃ نے کئی جواب دئے ہیں جن میں سے ایک جواب یہ ہے کہ جنبی آدمی کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ بغیر غسل کے قرآن پڑھے خواہ وہ زبانی پڑھے یا مصحف کو دیکھ کر پڑھے اور جو شخص قرآن پڑھنا چاہے اس کو حدث اصغر و اکبر دونوں سے طہارت کاملہ حاصل کرنا چاہیے۔ (کتاب الآداب، صفحہ 45)

    شیخ ابن نواب نے بھی اس سلسلے میں اللجنۃ الدائمۃ کا ایک فتویٰ نقل کیا ہے جس سے لجنہ (جو کہ سعودی عرب کے جید مفتیان کرام کی ایک کمیٹی ہے) کے موقف پرواضح طور پر روشنی پڑتی ہے، فتویٰ یہ ہے: مسلمانوں میں سے جو بھی قرآن کا ہاتھ لگانا چاہتا ہے اس پر لازم ہے کہ حدث اصغر و اکبر سے وہ پاک ہو، حدث اصغر وہ ہے جووضو کو لازم کردیتا ہے اور حدث اکبر جو غسل کو، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا عموم ہے: (لایمسہ الا المطھرون) اور دوسرا جو عمرو بن حزم کے خط بارے وارد ہورا ہے (لایمس القرآن الا طاہر) کہ ”قرآن کو فقط طاہر ہی ہاتھ لگائے۔“ (تفسیرالنساء، صفحہ 880)

    53۔ محدث العصر فضیلۃ الشیخ ابو القاسم سید محب اللہ شاہ الراشدی رحمہ اللہ
    دیار سندھ کے عظیم اہل حدیث سپوت محب اللہ شاہ راشدی کی تحقیق میں بھی بغیر وضو قرآن چھونا جائز نہیں تھا۔اس کے ثبوت میں ہم عنقریب جو عبارت نقل کرنے جارہے ہیں وہ بہت طویل ہے لیکن عمدہ تحقیق اور بہت سے سوالوں کے جوابات اورشبہات کے ازالے اپنے اندر سموئے ہونے کی وجہ سے ہم اسے قارئین کی خدمت میں پیش کرنا ضروری خیال کرتے ہیں، ایک استفسار کہ بغیر وضو قرآن مجید ہاتھ میں لے کر پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ کے ردعمل میں تحقیقی جواب سپرد قلم کرتے ہوئے شیخ فرماتے ہیں: اس کتاب (یعنی خط) میں جس کو جناب حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم کے لئے لکھوائی تھی من جملہ اور احکام یہ بھی تحریر کیا گیا تھا کہ ”لایمس القرآن الا طاہر“یعنی طہارۃ وپاکی وضو کے بغیر کوئی آدمی قرآن کریم نہ چھوئے اس حدیث کو امام مالک نے مرسل روایت کیا ہے لیکن نسائی اور ابن حبان نے موصول ذکر کیا ہے اگرچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بلوغ المرام میں نسائی کی روایت کے متعلق ”انہ معلول“کہا ہے یعنی یہ حدیث معلول ہے یعنی اس میں علت ہے اس کے شارح صاحب سبل السلام فرماتے ہیں کہ مصنف نے اس حدیث کو معلول اس لئے کہا ہے کہ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد ہیں اور مصنف اس کو وہم کی وجہ سے سلیمان بن داؤد الیمانی سمجھ بیٹھے ہیں۔

    (جو اتفاقاً ضعیف و متروک ہے) لیکن اس کی سند میں سلیمان بن داؤد یمانی نہیں ہیں بلکہ سلیمان بن داؤد خولانی ہیں جو ثقہ ہیں اس پر ابوزرعہ نے ثنا کی ہے اور اسی طرح حافظ ابو حاتم اور عثمان بن سعید اور دوسرے حفاظ حدیث میں سے ایک جماعت نے بھی اس پر ثناکی ہے یعنی اس کی توثیق کی ہے لہٰذا یہ علت حدیث کی سند میں نہ رہی اور سند قابل اعتماد بن جاتی ہے جاننا چاہیے کہ اس کتاب (یعنی جو عمروبن حزم کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تحریر کروائی تھی)کے متعلق حفاظ حدیث میں اختلاف ہے لیکن محققین نے اس کتاب کو قبول کیا ہے۔

    علامہ مبارکپوری تحفہ الا حوذی میں فرماتے ہیں:
    (قال ابن عبدالبر انہ اشبہ المتواتر لتلقی الناس لہ بالقبول) ”یعنی ابن عبدالبر فرماتے ہیں کہ یہ کتاب متواتر کے مشابہ ہے کیونکہ لوگوں نے اسے قبولیت سے لیا ہے۔“

    (وقال یعقوب ابن سفیان”لااعلم کتابا اصح من ھٰذاالکتاب فان اصحاب رسول اللہ ﷺوالتابعین یرجعون الیہ وید عون رایھم“)

    ”یعنی مشہور محدث یعقوب بن سفیان فرماتے ہیں کہ مجھے اس کتاب سے زیادہ صحیح کتاب کا علم نہیں (یعنی یہی زیادہ صحیح کتاب ہے)کیونکہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کرام رضی اللہ عنھم اجمعین اور تابعین بھی اس کتاب کی طرف رجوع کرتے تھے۔(یعنی احکام کے سلسلے میں) اور اس کی وجہ سے اپنی رائے کو بھی چھوڑ دیتے تھے۔“

    اس سے معلوم ہوا کہ یہ کتاب صحیح ہے۔

    (وقال الحاکم قد شاھد عمر بن عبدالعزیز و امام عصرہ الزھری بالصحیحۃ بھٰذا الکتاب)
    ”اور مشہور محدث امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس کتاب کی صحت پر حضرت عمر بن عبدالعزیز خلیفہ راشد اور اپنے عصر کے امام مشہور محدث زہری شہادت دے چکے ہیں۔“

    خلاصہ کلام! راجح یہی ہے کہ یہ کتاب صحیح ہے اور یہ کتاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم کے لئے لکھوائی تھی اور اس میں یہ حکم موجود ہے کہ قرآن مجید کو طہارت (وضو) کے بغیر مس نہ کیا جائے اس کی موید اور بھی حدیثیں ہیں۔ مثلاً طبرانی، صغیر و کبیر میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: (وعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لا یمس القرآن الاطاہر) ”بیشک حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مس نہ کرے قرآن کو مگر ظاہر (پاک وضو سے)“

    اور ہیثمی مجمع الزاوئد میں فرماتے ہیں کہ: (ورجالہ موثقون) (المجع جلد نمبر ۱)

    اس حدیث کی سند کے سب راوی پختہ ہیں اسی طرح حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: (قال عثمان بن ابی العاص وکان شابا: وفدنا علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوجدو نی افضلھم اخذا للقرآن وقد فضلتھم بسورۃ البقرۃ فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم قد امرتک علی اصحابک وانت اصغر ھم ولا تمس القرآن الا و انت طاہر)

    ”حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم حضر ت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد کی صورت میں آئے پھر ہمارے ساتھیوں نے محسوس کیا کہ میں ان سے زیادہ قرآن لے سکتا ہوں یا لے چکا ہوں اور میں ان سے پہلے سورہ بقرہ کو حاصل کرنے کی فضیلت پاچکا تھا پھر نبی اکرام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تجھے تمہارے ساتھیوں کا امیر بنایا ہے (یعنی تمہارے زیادہ قرآن کے حصول کی وجہ سے) (گو) تم ان سے چھوٹے ہو اور قرآن کو طہارۃ کے بغیر مس نہ کرنا۔“

    ہیثمی مجمع الزوائد جلد نمبر ۱ میں فرماتے ہیں: (رواہ الطبرانی فی الکبیر) یعنی یہ حدیث طبرانی نے کبیر میں ذکر کی ہے۔

    (و فیہ اسمعیل بن رافع ضعفہ یحییٰ بن معین و النسائی وقال البخاری...... مقارب الحدیث) ”یعنی اس حدیث کی سند میں ایک راوی بنام اسمٰعیل بن رافع واقع ہیں جس کو یحییٰ بن معین اور نسائی نے ضعیف کہا ہے۔“
    اور امام بخاری فرماتے ہیں کہ ثقہ ہیں اور ان کا حال حدیث میں ثقاہت کے قریب ہے حافظ ابن حجر تقریب التہذیب میں فرماتے ہیں کہ ”ضعیف الحفظ“ یعنی یہ راوی حافظہ کا کمزور تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ راوی صدوق ہے اور شدید مجروح نہیں ہے بلکہ جن محدثین نے ان کو کمزور کہا ہے وہ حافظہ کی کمزوری کی وجہ سے نہ کسی اور وجہ سے لہٰذا ایسے راوی سے متابعات و شواہد میں کام لیا جاسکتا ہے چونکہ اس سے پہلے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث گزر چکی ہے جس کی سند کے سب راوی ثقہ ہیں تو یہ حدیث جس کی سند کا راوی ضعف کا حامل ہے اس کی موید بن جائے گی۔ ویسے بھی قرآن حکیم شعائر اللہ میں سے ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن حکیم میں شعائر اللہ کے متعلق فرمایا ہے کہ:
    (وَمَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآءِرَ اللّٰہِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْب) (الحج: ۲۳)
    اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شعائر اللہ کی تعظیم کرنا دلوں کی تقویٰ میں سے ہے لہٰذا قرآن مجید کی عظمت و علو شان بھی اس کا متقاضی ہے کہ اس کو بغیر طہارت لے کر نہ پڑھا جائے۔ ھذاما عندی واللہ اعلم با لصواب۔ (فتاویٰ راشدیہ، صفحات 243 تا 246)

    54۔ ابو الاحسان سید قاسم شاہ الراشدی حفظہ اللہ
    موصوف محب اللہ شاہ راشدی رحمہ اللہ کے فرزند ارجمند ہیں اور خود بھی عالم دین ہیں۔بحیثیت عالم ہونے کے اس بات کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں کہ فتویٰ دینا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں بلکہ اس کے لئے تبحر علمی کی ضرورت ہوتی ہے جو چیدہ چیدہ خوش نصیبوں کو ہی میسر آتی ہے۔لہٰذا اپنے والد بزرگوار کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: والد ماجد رحمہ اللہ اس علم میں نہایت مہارت تامہ رکھتے تھے اور خصوصی طور پر اس کی تعلیم بھی دیتے تھے اور بندہ کو بھی جو کچھ حاصل ہوا وہ صرف ان کی مرہون منت ہے۔ (فتاویٰ راشدیہ، صفحہ 5تا6)

    محب اللہ شاہ رحمہ اللہ کے فتویٰ کواپنے علاقے میں جو ارفع حیثیت حاصل تھی اسکے متعلق قاسم شاہ لکھتے ہیں: ہمارے مدرسہ دار الرشاد کو سندھ میں جو مقام حاصل تھا اوائل دور میں شاید کسی اور مدرسہ کو نہ تھا اس لئے اس کا فتویٰ بہت زیادہ نکلتا تھا کورٹ کا مسئلہ ہو یا کسی بڑے جاگیردار کی بیٹھک جہاں بھی اس مدرسہ کا فتویٰ پہنچ گیا تو پھر وہی فیصلہ ہوتا تھا۔ کوئی کورٹ یا بڑا آدمی اس کو رد کرنے کی جرات نہ کرتا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہاں کا دیا ہوا فتویٰ حرف آخر ہوتا تھا کیونکہ وہ فتویٰ قرآن و حدیث پر مبنی ہوتا تھا۔ (فتاویٰ راشدیہ، صفحہ6)

    درج بالا تصریحات سے معلوم ہوتا ہے قاسم شاہ راشدی اپنے پدر محترم سے حد درجہ متاثر اور ان کے علم و فضل کے بڑے معترف تھے۔ چناچہ غالب امید یہی ہے کہ محب اللہ شاہ راشدی رحمہ اللہ کے حدث اصغر کی صورت میں قرآن کو نہ چھونے کے موقف سے متفق تھے نیز جس کتاب میں محب اللہ شاہ صاحب کا یہ فتویٰ درج ہے اس کتاب میں انہیں مقدمہ لکھنے کا موقع بھی ملا لیکن وہ والد سے کسی مسئلہ پر اختلاف کا تذکرہ زبان پر نہیں لائے اس سے یقین کیا جاسکتا ہے کہ انہیں اس فتویٰ پر سرے سے کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ وہ خود بھی اسی موقف کے حامی ہیں۔ ان شاء اللہ

    55۔ شیخ الحدیث افتخار احمد تاج الدین جامعہ بحرالعلوم السلفیہ، میرپور خاص
    فتاویٰ راشدیہ میں مذکور فتوؤں کی جمع وترتیب اور انتخاب کا اہم ترین کام مولانا مذکور کے ہاتھوں سر انجام پایا ہے۔ ظاہر ی بات ہے کہ اگر مولانا کو باوضو قرآن چھونے کے فتویٰ سے کوئی اختلاف ہوتا تو وہ اسے داخل کتاب ہی نہ کرتے اور اگر کرتے بھی تو اختلافی نوٹ کے ساتھ۔جبکہ مولانا موصوف کا آغاز کتاب میں اپنے خیالات کا اظہار کرنا پھر اسکے باوجود بھی اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کرنا ظاہر کرتا ہے مولانا کا اپنا ذاتی نظریہ بھی یہی تھا جو کہ خود محب اللہ شاہ راشدی رحمہ اللہ کا تھا یعنی قرآن کو چھونے کے لئے باوضو ہونا واجب ہے۔

    56۔ حافظ عبدالمنان نور پوری حفظہ اللہ جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ
    ایک سائل کے استفسار کہ ”کیا آدمی بغیر وضوکے قرآن کو چھوسکتا ہے؟“ کے جواب میں حافظ صاحب ارشاد فرماتے ہیں: اس کا جواب بعض اہل علم کے ہاں نفی میں ہے اور بعض کے ہاں اثبات میں بہتر یہی ہے کہ قرآن مجید کو باوضو ہوکر چھوئے۔ ]نبی ؐ نے فرمایا: نہ چھوئے قرآن کو مگر پاک [ (احکام و مسائل، جلد دوم، صفحہ 145)

    یہاں حافظ صاحب نے علماء کے پہلے گروہ کی رائے اختیار کی ہے جو کہ باوضو قرآن چھونے کے واجب ہونے کے حق میں ہے۔

    57۔ محمد مسعود لون(ایڈوکیٹ) مدیرمکتبۃ کریمۃ
    مسعودصاحب کتاب احکام ومسائل کو منصہ شہود پر لانے والے ادارے کے سربراہ ہیں۔ کتاب کے بارے میں رقمطراز ہیں: ”احکام ومسائل“ کی جلد دوئم میں بھی قارئین کی سہولت کے لیے ہر موضوع سے متعلق سوالات کے جوابات الگ الگ باب کے تحت لائے گئے ہیں۔ ”احکام ومسائل“ کی نمایاں خوبی یہ ہے کہ اس میں سوالات کے جوابات محترم حافظ عبدالمنان نور پوری حفظہ اللہ تعالیٰ نے خالص قرآن و حدیث کے حوالے سے دیے ہیں۔(احکام و مسائل، جلد دوم، صفحہ 45)

    اس وضاحت کے بعد ممکن نہیں کہ محترم مسعود صاحب کو اس کتاب میں درج کسی بھی فتویٰ سے کوئی اختلاف ہو۔گویا ان کے نزدیک کتاب میں درج تمام فتاویٰ جات بشمول متذکرہ بالا فتویٰ درست و صحیح ہیں۔

    58۔ ابو انس محمد مالک بھنڈر
    ”احکام و مسائل“ کو مرتب کرنے کا اہم کام محمد مالک بھنڈر صاحب کے ذمہ تھاجو عبدالمنان نور پوری کے تلمیذ رشید ہیں۔ انہوں نے ”عرض مرتب“ کے تحت کتاب ہذا کے بارے میں مثبت خیالات کا اظہار بھی کیا ہے۔ اگر انہیں عبدالمنان نور پوری کے موقف کہ بنا وضو مس مصحف جائز نہیں پر کوئی اعتراض ہوتا تو یقینا وہ اس کا واضح یا اشارے کنائے میں اظہار کرتے جبکہ انہیں اسکا پورا پورا موقع بھی دستیاب تھا۔ لہٰذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ محمد مالک بھنڈر جو کہ خود بھی عالم و خطیب ہیں مسئلہ ہذا میں اپنے استاد سے قطعاً مختلف رائے نہیں رکھتے۔

    59۔ شیخ العرب و العجم حافظ ثنا اللہ مدنی
    ایک شخص نے علماء کے مابین وضو کے ساتھ قرآن کو چھونے یا نہ چھونے کے مسئلہ میں راجح اور مرجوع موقف جاننے کے متعلق سوال کیاتو شیخ نے فتویٰ دیا: قرآن مجید کو بلا وضو چھونے کے بارے میں اہل علم کے دو قول ہیں۔ جواز اور عدم جواز۔ دلائل کے اعتبار سے ثانی الذکر قول راجح ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: (لایمسہ الا المطھرون) (الواقعہ:۹) ”اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں۔“ اور حدیث عمرو بن حزم میں ہے:

    ]ان لا یمس القرآن الا طاہر[”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے تحریر لکھی۔ قرآن پاک کو صرف پاک ہی چھوئے۔“

    اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا:
    ]لاتمس القرآن الا و انت طاہر[ ”قرآن کو مت مس کر الاّ یہ کہ تو پاک ہو۔“

    اور حضرت سعد نے مس مصحف کے لئے اپنے بیٹے کو وضو کا حکم دیا تھا۔ پھر جمہور اہل علم کی رائے بھی یہی ہے۔ ہاں البتہ بعض اہل علم نے بچوں کو بلا وضو مس کی اجازت دی ہے اس لئے کہ وہ غیر مکلف ہیں۔ جب کہ بعض اس بات کے قائل ہیں کہ وضو کرنا ضروری ہے۔ بہر صورت احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ بچوں کو بھی وضو کرنا چاہیے۔(فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ، جلد سوم، صفحہ 539 تا 540)

    60۔ حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ
    اس قطار میں حافظ صاحب کو داخل کرنے کا سبب یہ ہے کہ شیخ صاحب نے فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ پر ایک تفصیلی مقدمہ تحریر فرمایا ہے۔نیزمذکورہ کتاب کے جمیع فتاویٰ جات نئے نہیں بلکہ اہل حدیث کے جماعتی مجلے میں شائع ہوچکے ہیں اور صلاح الدین یوسف سمیت دیگر اہل علم ان سے بخوبی آگاہ ہیں۔ صلاح الدین صاحب رقمطراز ہیں: حافظ صاحب کے یہ فتاویٰ ربع صدی سے زیادہ عرصے سے ہفت روزہ ”الاعتصام“ میں نہایت پابندی سے شائع ہورہے ہیں جن سے عوام و خواص مستفید ہوتے رہے اور ہو رہے ہیں۔ (فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ، جلد سوم، صفحہ 75)

    حافظ صاحب نے اپنے مقدمہ میں ان فتوؤں اور صاحب فتاویٰ کی بہت مدح سرائی کی ہے جو ہمیں یہ رائے قائم کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ مفتی و حافظ ثناللہ مدنی کے منقولہ بالا فتویٰ سے صلاح الدین صاحب پوری طرح متفق و راضی ہیں۔

    تنبیہ: پورے مضمون کا یہ واحد نام تھا جس کے اندراج پر راقم السطور کے دل کو کامل اطمینان حاصل نہیں تھا کیونکہ کوئی ایسا سراغ یا واضح اشارہ دستیاب نہیں تھا جس سے حافظ صلاح الدین کے موقف کے بارے مضبوط رائے قائم کی جاسکتی۔ مضمون کی تکمیل کے بعد دوران تحقیق ماہنامہ ”محدث“ لاہورکا ایک شمارہ نظر سے گزرا جس سے معلوم ہوا کہ حافظ صاحب اس موقف کے سخت مخالف ہیں جو ہم نے یہاں ان کے بارے میں قائم کیا ہے۔ ان کاموقف انہی کی تحریر میں ملاحظہ فرمائیں صلاح الدین یوسف صاحب لکھتے ہیں: اسی طرح قرآن مجید کا چھونا یعنی اسے ہاتھ لگانا اور ہاتھ سے پکڑنا بھی جائز ہے، اس کے لیے وضو یا غسل ضروری نہیں، جیسا کہ اکثر علماء غسل کو (جنبی اور حائضہ) کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔(ماہنامہ محدث لاہور، شمارہ نمبر381، جلد 49، مارچ2018)

    ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: جنبی یا حائضہ کا قرآن پڑھنا یا اسے چھونا ممنوع ثابت نہیں ہوتا کیونکہ جنبی اور حائضہ بھی مومن ہونے کی وجہ سے پاک ہیں۔ (ایضاً)

    لہٰذاحافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کے نام کو ہماری اس فہرست سے خارج سمجھا جائے۔بہرحال یہ ضرور ہے کہ صلاح الدین یوسف صاحب نے مکمل ایمانداری اور جرات کا مظاہرہ نہیں کیا اور ایسی کتاب کی بھی غیر مشروط حمایت کی جو انکے موقف کے خلاف مواد یا مندرجات پر مبنی تھی۔اور اگر انہوں کتاب کا با لاستیعاب مطالعہ کئے بغیر ہی کتاب کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کردیا ہے تو یہ ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ حرکت ہے جو کسی اہل علم کو زیب نہیں دیتی کیونکہ ایسی صورت میں جب کسی کتاب کے بارے میں اظہار خیال کرنا ہو اور کتاب کا حرف بہ حرف مطالعہ بھی نہ کیا گیاہو تو مقدمہ یا تقریظ لکھتے وقت ضرور اس بات کا اظہار کیا جانا چاہیے کہ کتاب کا مکمل مطالعہ نہیں کیا گیا تاکہ اگربعد میں اس کتاب میں ایسی کوئی بات پائی جائے جو تقریظ لکھنے والے کے خیالات یا عقائد کے خلاف ہو تو وہ اس سے بری الذمہ ہوسکے۔

    کسی کتاب کے بارے میں ایک ذمہ دارانہ اور ایماندرانہ بیان کیسا ہوتا ہے اس کی ایک خوبصورت مثال پیش خدمت ہے، خالد گرجاکھی رحمہ اللہ نماز کے موضوع پر لکھی جانے والی خواجہ محمد قاسم رحمہ اللہ کی تصنیف ”قد قامت الصّلوٰ ۃ“ کے پیش لفظ میں رقم طراز ہیں: خواجہ محمد قاسم صاحب بھی ہمارے برخوردار ہیں جو کہ تحقیقی ذہن رکھتے ہیں انہوں نے نماز کے موضوع پر یہ کتاب لکھی ہے الحمدللہ مجھے بہت پسند آئی ہے اگرچہ میں تمام مسائل سے اتفاق نہ کرسکوں لیکن ان کی اجتہادی کوششوں کا اعتراف کرتا ہوں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتاہوں کہ اللہ تعالی انہیں اور بھی دین کی خدمت کا جذبہ عنایت فرمائے۔ (قد قامت الصّلوٰۃ، صفحہ 13، 14)

    حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کے مضمون مسمّی ”کیا حائضہ عورت قرآن مجید کی تلاوت کرسکتی ہے؟“ کے بغور مطالعے کے دوران راقم نے اس بات کو شدت سے محسوس کیا کہ حافظ صاحب نے دیگر تمام محققین اور محدثین کی تحقیق نظر انداز کرکے صرف اور صرف علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی تحقیق پر اعتماد کیا ہے اگر انہوں نے کسی حدیث کو صحیح کہا تو حافظ صاحب نے بھی صحیح کہہ دیا اور اگر البانی رحمہ اللہ نے کسی حدیث کے ضعیف ہونے کا فیصلہ دیا تو حافظ صاحب نے بھی امنا صدقنا قبول کرلیا۔مثال کے طور پر حافظ صاحب اپنے مخالفین کے موقف کو سہارا دینے والی ایک حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں: اس روایت کو بعض حضرات نے اس کے کچھ متابعات کی بنیاد پر صحیح کہا ہے لیکن محدث عصر شیخ البانی ؒ نے انہیں بھی غیر معتبر قرار دے کر اس روایت کو ضعیف ہی قرار دیا ہے۔(ماہنامہ محدث لاہور، شمارہ نمبر381، جلد 49، مارچ2018)

    حافظ صلاح الدین لکھتے ہیں: تیسری حدیث جو مذکورہ حدیث کے متابع کے طور پر پیش کی جاتی ہے اور اسے علمائے معاصرین میں سے بعض نے صحیح اور بعض نے حسن کہا ہے، یہ مسند احمد کی روایت ہے........... لیکن شیخ البانیؒ نے ضعیف راوی ابو الغریب کی وجہ سے اس سے بھی اختلاف کیا ہے اور کہا ہے کہ .... اگر یہ روایت صحیح بھی ہو، تب بھی اس کا مرفوع ہونا صریح نہیں.... اس کا مرفوع ہونا بھی اگر صریح ہوتو یہ شاذ یا منکر ہے..... یہ روایت بھی شاید انہی (منکر) روایات میں سے ہو۔(ایضاً)

    دوسرے محدثین کی تصحیح کے باوجود یہ حدیث حافظ صاحب کے نزدیک اس لئے ضعیف ہے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ کے اس بارے یہی رائے ہے لیکن قاری علامہ نا صر الدین البانی کے اپنے الفاظ سے بخوبی اندازہ کرسکتا ہے کہ یہ تحقیق خود علامہ ناصر کے نزدیک بھی یقینی نہیں بلکہ شک و شبہ پر مبنی ہے لیکن افسوس کہ بعض لوگوں کے لئے کسی روایت کے صحیح یا غلط ہونے کے لئے محض ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کا نام ہی کافی ہے۔

    ایک اور حدیث کو علامہ البانی کی رائے کی وجہ سے ضعیف قرار دیتے ہوئے حافظ صلاح الدین رقمطراز ہیں: چوتھی روایت جس سے استدلال کیا جاتا ہے، وہ ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں کا رخ مسجد نبوی سے پھیرنے کا حکم دیا تاکہ لوگوں کا آنا جانا مسجد کے اندر سے نہ ہو بلکہ باہر سے ہو اور مسجد وہ صرف اسی وقت آئیں جب وہ پاک ہوں ........ شیخ البانی ؒ نے اس حدیث کی سند پر بھی تفصیلی گفتگو کرکے اسے بھی ناقابل اعتبار قرار دیا ہے۔(ایضاً)

    سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث کے جواب میں صلاح الدین یوسف فرماتے ہیں: اس روایت کی بابت حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں: ”اسے اصحاب السنن نے روایت کیا ہے اور ترمذی، ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے اور بعض نے اس کے بعض روایوں کی تضعیف کی ہے اور حق بات یہ ہے کہ یہ روایت حسن کے قبیل سے ہے جو حجت کے قابل ہوتی ہے۔“ حافظ ابن حجرؒ کی اس رائے کی وجہ سے اکثر علماء اس روایت سے استدلال کرتے ہیں، لیکن شیخ البانیؒ نے ابن حجرؒ کی اس رائے کا رد کرتے ہوئے دیگر محدثین کی تائید سے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔(ایضاً)

    حالانکہ ابن حجر اور امام ترمذی وغیرہم بھی محقق و محدث ہی ہیں لیکن ان پر عدم اعتماد کا اظہار کرکے صرف علامہ البانی رحمہ اللہ کی تحقیق کو ہی حرف آخر قرار دینا غیر تحقیقی رویہ ہے۔ البانی رحمہ اللہ واحد محدث و محقق نہیں بلکہ محدث العصر حافظ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ نے دلائل کی بنیاد پر کئی مقامات پر البانی رحمہ اللہ کی تحقیق کو غلط ثابت کیا ہے اس لئے البانی رحمہ اللہ پر اس درجہ اعتماد درست نہیں ہے۔ لیکن کیا کیجئے کہ اہل حدیث میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جواحادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں ناصر الدین البانی کی تضعیف و تصحیح کے سامنے کسی اور محدث اور اسکی تحقیق کوذرہ برابر اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں۔ ایسے حضرات کے بارے میں خالد گرجاکھی رحمہ اللہ کا یہ تجزیہ ملاحظہ فرمائیں،کتاب قد قامت الصّلوٰۃ کے ”پیش لفظ“ میں لکھتے ہیں: اہلحدیث میں ایک طبقہ ایسا پیدا ہوگیا ہے جو امام ابو حنیفہ ؒ کی تقلید کو تو کفر کہتے ہیں لیکن اپنے امام وقت کے اتنے سخت مقلد ہوتے ہیں کہ کسی کو معاف ہی نہیں کرتے جیسا کہ اسلامی جماعت والے مودودیؒ صاحب کے مقلد ہیں.......... اس روش پر چلنے والے آج کل شیخ ناصر الدین البانی صاحب کے مقلد بن گئے ہیں جب کوئی بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں البانی صاحب نے اسے ضعیف کہا ہے........ یہ حدیث امام ابوداؤد نے اپنی سنن میں بیان فرمائی ہے آخر وہ محدث بھی تھے محقق بھی تھے آج ہم دیکھتے ہیں کہتے ہیں یہ حدیث ضعیف ہے البانی صاحب نے لکھا ہے۔ میرے بھائی علامہ ابن حجررحمہ اللہ بھی محقق ہیں امام ابوداؤد رحمہ اللہ بھی محقق ہیں اگر آپ نے تقلیداً منوانا ہوتو فرمادیں کہ البانی صاحب کی تقلید کرو۔ (قد قامت الصّلوٰۃ، صفحہ 10، 11)
     
  6. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    786
    60۔ ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہر بن عبد العزیز رحمہ اللہ
    ڈاکٹر صاحب کے کتاب ”فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ“ پرمندرجہ ذیل تاثرات حافظ ثنا اللہ کے بلاوضو قرآن نہ چھونے کے فتوے سے متفق ہونے کا پتادے رہے ہیں: زیر نظر مجموعہ شیخ الحدیث والفقہ، استاذ العلماء والعالم الفقیہ الاصولی النظار محترم المقام حافظ ثناء اللہ مدنی بن عیسیٰ حفظہ اللہ کے ان فتاویٰ پر مشتمل ہے جو سالہا سال سے ملکی رسائل و جرائد میں چھپ رہے ہیں۔ خصوصاً ہفت روزہ ”الاعتصام“ لاہور میں۔موصوف کی شخصیت جہاں تدریس حدیث و فقہ میں اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہے وہاں آپ افتاء وارشاد میں بھی خصوصاً اہل حدیث حلقوں میں مرجع کی حیثیت حاصل کرچکے ہیں۔ (فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ، جلد سوم،صفحہ 50)

    یاد رہے کہ اس قسم کی تائید و حمایت کتاب کے تمام مندرجات و فتاویٰ جات کی تائیدو حمایت کے مترادف ہے اسی لئے حافظ عبدالرشید کا نام گرامی حدث اصغر کی صورت میں قرآن نہ چھونے کے قائلین میں شمار کیا گیا ہے۔

    61۔ حافظ عبدالرؤف خان
    ہم فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ کو ترتیب دینے والے حافظ عبدالرؤف خان کو بھی اسی فہرست میں داخل کریں گے کیونکہ موصوف ثناء اللہ مدنی کے شاگرد ہیں اور شاگرد عموماً اپنے استاد کا ہم خیال و ہم زبان ہوتا ہے۔ پھر موصوف نے ابتدائے کتاب میں ”حرفے چند“ کے عنوان سے اس فتاویٰ پر اظہار خیال و رائے بھی کیا ہے لیکن کسی اختلاف کا ذکر یا اشارہ نہیں کیا۔ اسکے علاوہ اس بات کا اور کیا ثبوت ہوگا کہ حافظ صاحب اپنے استاد کے موقف قرآن کو بنا وضو مس نہ کیا جائے کے حامی ہیں۔

    62۔ علامہ محمد عبدالرحمن مبارکپور ی رحمہ اللہ
    علامہ صاحب ترمذی کی شرح میں فرماتے ہیں: القول الراجح عندی قول اکثر فقہاء، و ھو الذی یقتضیہ تعظیم القرآن واکرامہ، والمتبادرمن لفظ الطاہرفی ھذا الحدیث ھو المتوضی، وھو الفرد الکامل للطاہر، واللہ تعالیٰ عالم. میرے نزدیک جمہور فقہاء کا قول راجح ہے۔ قرآن کریم کی تعظیم اور اکرام بھی اسی کی متقاضی ہے۔ اس حدیث میں طاہر کے لفظ کا متبادر معنی وضو والا شخص ہی ہے اور باوضو شخص ہی کامل طاہر ہوتا ہے۔ واللہ اعلم! (تحفۃ الاحوذی:1/137)

    63۔ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ تعالیٰ
    شیخ محترم سے سوال ہواکہ: کیا بے وضو قرآن کریم کو ہاتھ لگایا جاسکتا ہے؟ اس کے جواب میں شیخ صاحب نے لکھا: قرآن مجید کو بے وضو ہاتھ میں پکڑ کر تلاوت کرنا درست نہیں۔ سلف صالحین نے قرآن و سنت کی نصوص سے یہی سمجھا ہے۔ قرآن و سنت کا وہی فہم معتبر ہے جو اسلاف امت نے لیا ہے۔ مسلک اہل حدیث اسی کا نام ہے۔آئیے تفصیل ملاحظہ فرمائیے.... الخ

    اپنے موقف پر دلائل دینے کے بعد ظہیر امن پوری صاحب آخر میں لکھتے ہیں: الحاصل: قرآن کریم کو بغیر وضو زبانی پڑھا جاسکتا ہے لیکن بے وضو شخص ہاتھ میں پکڑ کر اس کی تلاوت نہیں کرسکتا۔ یہی قول راجح ہے کیونکہ سلف صالحین کی تصریحات کی روشنی میں قرآن و سنت کے نصوص سے یہی ثابت ہوتا ہے۔ (دیکھئے: ماہنامہ السنّۃ، جہلم)

    64۔ السّیّد سابق
    شیخ موصوف کا مسلک بغیر وضو مصحف کو چھونا حرام ہے پر مشتمل ہے چناچہ لکھتے ہیں: وضو تین امور کے لئے واجب ہوتا ہے: (اول) مطلق نماز۔ (ثانی) بیت اللہ کا طواف کرنا۔ (ثالث)قرآن کو چھونا۔ (طہارت کے مسائل، صفحہ 117)

    65۔ حضرت قتادہ بن دعامہ سدوسی رحمہ اللہ
    قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا: قرآن کو صرف وہی مسلمان چھوسکتے ہیں جو نجاست اور ہر قسم کے حدث سے پاک ہوں۔”یعنی نہ ان پر غسل واجب ہو نہ وضو“ (النکت والعیون، جلد 5، صفحہ 464)

    66۔ حافظ مبشر حسین
    بے وضو حالت میں قرآن چھونے یا نہ چھونے میں علماء کے اختلاف اور ان کے دلائل کا آپسی موازنہ کرنے کے بعد حافظ مبشر حسین اس سلسلے میں راجح اور محتاط پہلو کی جانب راہنمائی کرتے ہوئے اپنا تجزیہ ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں: اس مسئلہ میں ہمیں جمہور اہل علم کی رائے ہی محتاط معلوم ہوتی ہے اور وہ یہ کہ ان تینوں حالتوں ]یعنی (۱) عدم وضو کی حالت (۲) جنابت کی حالت (۳) حیض و نفاس کی حالت[ میں قرآن چھونے اور پکڑنے سے احتیاط کرنی چاہیے، البتہ ان حالتوں میں زبانی تلاوت میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (انسان اور قرآن، صفحہ 107)

    مبشر حسین صاحب کے الفاظ ”احتیاط کرنی چاہیے“ سے کوئی اس غلط فہمی کا شکار نہ ہوکہ حافظ موصوف قرآن کو بے وضو چھونے کے سلسلے میں کسی رعایت یا نرمی کے قائل ہیں کیونکہ ان کے نزدیک بے وضو حالت میں براہ راست قرآن چھونا کسی صورت جائز نہیں جو کہ ان کے باوضو قرآن چھونے کے واجب ہونے کے موقف کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے۔ جہاں تک مجبوری کا تعلق ہے توحافظ مبشر حسین کسی ناگزیر صورت میں بھی بے وضو حالت میں قرآن چھونے کے بجائے کسی آڑ سے مس قرآن کی اجازت دیتے ہیں۔چناچہ لکھتے ہیں: یاد رہے کہ اگر کسی ضرورت کی وجہ سے قرآن مجید کو چھونا پڑ جائے تو صاف کپڑے وغیرہ کی آڑ لے کر اسے چھوا جاسکتا ہے۔ کئی اہل علم نے اس طرح قرآن چھونے کی اجازت بھی دی ہے۔ (انسان اور قرآن، صفحہ 107)

    67۔ مصعب بن سعد بن ابی وقاص تابعی رحمہ اللہ
    مصعب بن سعد فرماتے ہیں: میں اپنے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس قرآن کریم کا نسخہ پکڑے ہوئے تھا۔ میں نے جسم پر خارش کی۔ انہوں نے پوچھا: کیا تم نے اپنی شرمگاہ کو چھوا ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں، تو انہوں نے فرمایا: جاؤ اور وضو کرو۔ میں نے وضو کیا، پھر واپس آیا۔ (موطا امام مالک، جلد 1، صفحہ 42، سندہ صحیح)

    68۔ سالم بن عبداللہ بن عمر تابعی رحمہ اللہ
    سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کو صرف باوضو شخص ہی ہاتھ لگائے۔ (سنن دارقطنی، جلد اوّل، طہار ت کے مسائل، صفحہ 161)

    69۔ امام ابو الحسن علی بن عمر الدّار قطنی رحمہ اللہ
    دار قطنی رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں مندرجہ باب باندھ کر مس مصحف کے بارے میں اپنا مسلک واضح کردیا ہے۔ ”باب فی نھی المحدث عن مس القرآن“ بے وضو شخص کے لئے قرآن کو ہاتھ لگانے کی ممانعت۔ (سنن دارقطنی، جلد اوّل، طہار ت کے مسائل، صفحہ 161)

    70۔ علامہ عبیداللہ رحمانی مبارکپوری رحمہ اللہ
    ایک سوال کے جواب میں شیخ صاحب حدث اصغر کی صورت میں مصحف قرآنی کو چھونے کے بارے میں اپنا موقف بیان کرتے ہوئے یوں گویا ہیں: جواب مع سوال ملاحظہ فرمائیں:

    س: بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ بغیر وضو کے قرآن کو ہاتھ لگانا حرام ہے دلیل میں یہ آیت لکھی ہے: ”لایمسہ الا المطھرون“ (الواقعۃ:۹۷) اس کا ترجمہ یہ کیا ہے ”بغیر وضو قرآن کو ہاتھ لگانا حرام ہے“ کیا اس آیت کا یہی معنی ہے؟ یا اس کا معنی یہ ہے ”نہیں چھوتے اس کو مگر پاک لوگ“
    ج: چاروں امام کہتے ہیں کہ بغیر وضو، قرآن کو چھونا جائز نہیں ہے۔ ان لوگوں کے نزدیک اس آیت کا معنی یہ ہے ”قرآن کو نہ چھوئیں مگر پاک لوگ“۔ یعنی بے وضو قرآن کا چھونا حرام اور ممنوع ہے۔ امام داود ظاہری اور علامہ ابن حزم کہتے ہیں کہ بغیر وضو قرآن کو ہاتھ لگانا جائز ہے وہ اس آیت کا یہ معنی کرتے ہیں ”نہیں چھوتے ہیں اس کو یعنی قرآن کو جو لوح محفوظ میں درج ہے مگر پاک لوگ یعنی فرشتے“ ان دونوں اماموں کے نزدیک یہ آیت بمنزلہ اس آیت کے ہے: ”کلا انھا تذکرۃo فمن شاء ذکرہ o فی صحف مکرمۃ o مرفوعۃ مطھرۃ o بایدی سفرۃ oکرام بررۃ“ (عبس:۱۱/۲۱/۳۱/۴۱) پہلا معنی راجح اور قوی ہے۔
    قال الرازی:”ان حمل اللفظ علی حقیقۃ الخبر، فالاول ان یکون المراد القرآن، الذی عنداللہ تعالیٰ، والمطھرون الملئکۃ وان حمل علی النھی، وان کان فی صورۃ الخبر، کان عموما فینا، وھذا اولی، لما روی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم، انہ کتب لعمرو بن حزم لایمس القرآن الاطاہر، فوجب ان یکون نھیہ ذلک بالآیۃ، اذ فیھااحتمال لہ“ انتھی، وذکر الباجی ھذین الاحتمالین بالتفصیل فی ”شرح الموطا“فلیراجعہ من شاء۔(فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری، جلد اوّل،صفحہ 180)

    71۔ مولانااصغر علی امام مہدی سلفی، ناظم عمومی، مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند
    مطلق طور پر کسی کتاب کی حمایت میں کچھ کہنا یا لکھنا دراصل اس کتاب کے ہر حصہ کی حمایت کا اعلان و اعتراف ہے لہٰذا اسی بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے عرض ہے کہ اصغر علی صاحب نے ”فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری“ کی پرزور اور بھرپور حمایت کی ہے حتیٰ کہ کتاب میں مندرج ان فتاویٰ جات کوجماعت اہل حدیث کا سرمایہ اور اثاثہ قرار دیا ہے چناچہ بقلم خود رقمطراز ہیں: شیخ الحدیث مبارکپوری جیسی شخصیات کو کسی خاص خول میں بند نہیں کیا جاسکتا آپ کی تحریریں جہاں جماعت اہل حدیث کے لئے علمی سرمایہ اور علمی و دینی اثاثہ و میراث ہیں وہیں پوری ملت و انسانیت کے لئے بھی بیش بہا خزانہ ہیں۔ اور ان کی صیانت و حفاظت لازم ہے۔لہٰذا آپ کی تمام نگارشات اور مقالات وتحریرات کو جمع تدوین و ترتیب کے بعد زیور طباعت و اشاعت سے آراستہ کرنا ہمارا فرض ہے۔ (دیکھئے:فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری، جلد اوّل،مقدمہ)

    بالا کلام سے ثابت ہوا کہ مولانا اصغر علی کوکتاب میں درج اس فتویٰ کہ مصحف قرآنی کو حدث اصغر کی صورت میں چھونا حرام ہے پر بالکل بھی کوئی اعتراض نہیں بلکہ وہ اس سے متفق و راضی ہیں۔

    72۔ محمد طاہر نقاش
    اس فتاویٰ کے لئے اپنی غیر مشروط اور کھلی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں جس میں کسی اختلاف کا کوئی شائبہ نہیں ہے کہ: یقینا یہ ”فتاویٰ شیخ الحدیث“مولانا عبید اللہ رحمانی مبارکپوری رحمہ اللہ کی علمی فقہی، فتاویٰ اور نادر و نایاب تحقیقی تحریروں کا ایک ایسا مہکتا گلدستہ ہے جو برصغیر کے علمی حلقوں کو اپنی خوشبو سے ہمیشہ مہکائے رکھے گا۔ یہ فتاویٰ یقینا ہر طالب علم، عالم دین، مفتی و استاد، شیخ الحدیث اور ایک عام انسان کے لیے بھی اس عارضی اور ناپائیدار زندگی کی صحیح سمت قائم کرنے کے لیے مینارہ نور ثابت ہوگا۔ ان شاء اللہ۔ (فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری، جلد اوّل،حرف تمنا)

    73۔ فواز عبدالعزیز عبیداللہ مبارک پوری
    کسی بھی انصاف پسند عالم کے یہ بات لائق و زیبا نہیں کہ وہ کسی کتاب کے کسی جز یا حصہ سے اختلاف رکھنے کے باوجود بھی عمومی طور پر اس کتاب کی تعریف یا توصیف بیان کرے الا یہ کہ وہ واضح طور پر نہ سہی تو کم ازکم ڈھکے چھپے انداز میں اپنے اختلاف کو بیان کرے۔اس بنا پر ہم شیخ الحدیث مبارکپوری کے پوتے فواز عبدالعزیز مبارکپوری سے حسن زن رکھتے ہوئے ان کے تنقید سے ماورا توصیفی احساس و کلام کوجو انہوں نے ”عرض مرتب“ کے تحت اپنے دادا کے فتاوؤں پر مشتمل کتاب ”فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری“ میں سپرد قلم کیا ہے اس دعویٰ کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں کہ اپنے دادا کی طرح وہ بھی باوضو مس مصحف کے واجب ہونے کے حامی تھے وگرنہ دیگر صورت میں وہ یقینا اس اختلاف کا کسی نہ کسی شکل میں اظہار کرتے۔

    اس ضمن میں اہم ترین بات یہ بھی ہے کہ اس کتاب یعنی ”فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری“ میں مبشر احمد ربانی نے بھی ایک زبردست مقدمہ تحریر کیا ہے جس میں داد و تحسین کے علاوہ کچھ نہیں لیکن اس کو بنیاد بنا کر راقم نے مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ کانام نامی مصحف کو حدث اصغر کی حالت میں چھونے کو حرام کہنے والے علماء کی فہرست میں درج و شامل نہیں کیاکیونکہ راقم الحروف اس سلسلے میں مبشر صاحب کے معروف موقف پر مطلع ہے۔ شیخ مبشر کا موقف انہی کی زبانی ملاحظہ فرمائیں موطا امام مالک کی مشہور حدیث ”لایمس القرآن الاطاہراً“ کے بارے میں لکھتے ہیں: جو حدیث آپ نے پیش کی ہے یہ حدیث مجموعی طرق کے لحاظ سے صحیح ہے کہ طاہر کے سوا قرآن مجید کو کوئی نہ چھوئے۔ اس کی تفسیر بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کی جماعت میں آئے، جن میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آہستگی سے مجلس سے نکل گئے۔ جب مجلس میں واپس آئے تو سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    ((سبحان اللہ!ان المومن لاینجس)) ]بخاری، کتاب الغسل، باب عرق الجنب وان المسلم لاینجس:۳۸۲[
    ”سبحان اللہ! مومن نجس نہیں ہوتا۔“ (یعنی طاہر ہی رہتا ہے)

    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ”الاطاہرا“ سے مراد ”الامومناً“ہے یعنی کافر قرآن مجید کو نہ چھوئے، مومن چھو سکتا ہے خواہ وہ باوضو ہو یا بے وضو۔ (احکام و مسائل،صفحہ116، 117)

    مطلب واضح ہے کہ مبشر احمد صاحب بغیر وضو قرآن کے چھونے کو بالکل جائز و درست سمجھتے ہیں۔ اس ساری صورتحال میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ شیخ صاحب نے”فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری“ کے مقدمہ میں ایماندار ی اور راست بازی کا ثبوت دیتے ہوئے تعریف کے ساتھ ساتھ لطیف پیرائے میں اپنے اختلاف کا اظہار بھی کیا ہے۔ جس کی وجہ سے کتاب کے حق میں ان کی تعریف کو کتاب میں موجود ہر ہر فتویٰ کا مکمل حمایت سے تعبیر نہیں دیا جاسکتا۔ چناچہ مبشر احمد ربانی لکھتے ہیں: مولانا عبیداللہ مبارکپوری رحمہ اللہ نے بھی اسی بات کو مدنظر رکھا اور فتاویٰ و مقالات مرتب فرمائے اور اپنی بھرپور مساعی کو بروئے کار لاکر حتیٰ الامکان مسائل احکام کو دلائل سے مبرھن فرمایا پھر بھی اگر کہیں کوئی خطا سرزد ہوگئی تو ہم اللہ تعالیٰ سے عفو و درگزر کا دست سوال درازکرتے ہیں۔ (دیکھئے: فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری، جلد اوّل،مقدمہ، دین صرف کتاب و حکمت (قرآن و سنت) کا نام ہے)

    بطور معلومات مزید عرض ہے ایک اور کتاب جس میں یہ دو ٹوک موقف اختیار کیا گیا ہے کہ قرآن کو ہاتھ لگانے کے لئے باوضو ہونا ضروری ہے مبشر احمد کے مایہ ناز شاگرد کی تالیف کردہ ہے جس کی تقریظ لکھتے ہوئے مبشر صاحب نے کتاب کے مندرجات کی خوب خوب ثنا خوانی کی ہے لیکن انکی یہ ثناخوانی ان کے اس مسئلہ سے متفق ہونے کی دلیل اس لئے نہیں بن سکتی کہ شیخ صاحب نے کتاب کابالاستعیاب مطالعہ نہیں کیا بلکہ یہ الفاظ لکھ کر خود کو اس خاص فتویٰ کی تائید سے بری الذمہ کر لیا کہ: راقم اس شرح کو مفصل اور بنظر غائر تو ملاحظہ نہیں کرسکا۔ البتہ جستہ جستہ مقامات سے آنکھیں ٹھنڈی کی ہیں اور دل کو تسکین پہنچائی ہے۔ (فقہ الحدیث، جلد اوّل، صفحہ 44)

    ابو الحسن مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ کے متعلق ان گزارشات کا اصل مقصد قارئین کو یہ بتا نا ہے کہ راقم المضمون نے طہارت اصغر کے بغیر مس مصحف کو حرام قرار دینے والے علماء کی فہرست میں اندھا دھند ناموں کا اندراج نہیں کیا بلکہ اس کام میں حتی المقدور تحقیق اور چھان بین کا اہتمام و التزام کیا ہے۔
     
  7. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    786
    زیر نظر مضمون کا انجام و اختتام ان گزارشات پر کیا جاتا ہے کہ جو حضرات وضو کے ساتھ قرآن کو ہاتھ لگانا فرض اور واجب نہیں سمجھتے ہم ان کی خدمت میں سورہ حج کی آیت نمبر ۲۳(وَمَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآءِرَ اللّٰہِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْب) پیش کرتے ہیں۔یہ آیت قرآن کو صرف باوضو ہوکر چھونے پر دلالت کرتی ہے کیونکہ بے وضو یا حالت جنابت اورحیض و نفاس میں مس مصحف تعظیم قرآن کے سراسر منافی ہے جبکہ رب کائنات کا قرآن ہم سے شعائر اللہ جس میں سر فہرست کلام الہٰی ہے کے ادب و احترام کا تقاضا کرتا ہے۔اوریہ تقاضا محض تقاضا نہیں بلکہ اللہ رب العالمین نے انسان کے دل میں پہلے سے ہی کتب سماویٰ کی عقیدت کو داخل کرکے احترام قرآن کو آسان اورباعث سکون وراحت بنا دیا ہے یہی وجہ ہے کہ مخالف علماء نجس، گندی اور ناپاک حالت میں قرآن کو ہاتھ لگانے کے جتنے بھی دلائل کیوں نہ دیں ایک مومن اور مسلمان کا دل کسی صورت ان دلائل پر اطمینان حاصل نہیں کرتا اور نہ ہی وہ ناپاکی میں قرآن چھونے کی جرات خود میں پاتاہے اور اگر وہ ایسی خلاف فطرت حرکت کر بھی لے تو دل کے کسی نہ کسی گوشے میں ایک احساس جرم ضرور موجود رہتا ہے۔ اسکی دلیل یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تورات پیش کی گئی تو نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے احترام کے پیش نظر اسے زمین کے بجائے تکیہ پر رکھ کراپنی امت کو آسمانی کتب کی عزت اور احترام کا واضح پیغام اور اشارہ دے دیا۔ چناچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہود کے کچھ لوگ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر قف لے گئے آپ ان کے پاس مدرسہ میں آئے تو وہ کہنے لگے: ابوالقاسم! ہم میں سے ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کرلیا ہے، آپ ان کا فیصلہ کر دیجئے، ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک گاؤ تکیہ لگایا، آپ اس پر ٹیک لگا کر بیٹھے، پھر آپ نے فرمایا: میرے پاس تورات لاؤ چناچہ وہ لائی گئی، آپ نے اپنے نیچے سے گاؤ تکیہ نکالا اور تورا ت کو اس پر رکھا....... الخ۔(سنن ابی داود، کتاب الحدود، باب فی رجم الیھودیّین)

    اس روایت سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ انجیل و تورات یا دیگر آسمانی کتابوں کے مقابلے میں قرآن اس بات کا کہیں زیادہ حق دار ہے کہ ایک مسلمان ان تمام امور سے اجتناب کرے جو اسکی تعظیم کے منافی ہیں جیسے حدث وغیرہ کیونکہ حالت جنابت، حیض و نفاس میں مصحف چھونے سے زیادہ کلام اللہ کی توہین اور بے ادبی کیا ہوسکتی ہے؟!

    اس جاری بحث کی مناسبت سے عرض ہے کہ جناب حافظ صلاح الدین یوسف اپنے مضمون ”کیا حائضہ عورت قرآن مجید کی تلاوت کرسکتی ہے؟“ کے ابتدائیہ کلمات میں لکھتے ہیں: ایام مخصوصہ (حیض) او رنفاس و جنابت میں عورت قرآن کریم کی تلاوت کرسکتی ہے یا نہیں؟ نیز اس حالت میں اس کا قرآن چھونا جائز ہے یا نہیں؟ اس مسئلے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ کوئی جواز کا قائل ہے اور کوئی عدم جواز کا۔ اس میں عدم جواز (نہ پڑھنے والا)مسلک سب سے زیادہ مشہور ہے اور دوسرے موقفوں پر لوگ حیرت و استعجاب کا بالعموم اظہار کرتے ہیں۔ (ماہنامہ محدث لاہور، شمارہ نمبر381، جلد 49، مارچ2018)

    دراصل حافظ صلاح الدین یہ سمجھتے ہیں کہ عام مسلمان ناپاکی میں قرآن کو مس کرنے اور اس کی تلاوت کرنے کے موقف پر اس لئے حیرت کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ یہ موقف پہلے سے ان کے علم میں نہیں ہوتا اوراسی ناواقفی اور لاعلمی کے سبب وہ اس سے مانوس بھی نہیں ہوتے جبکہ دوسر ا موقف یعنی ناپاکی میں قرآن نہ پڑھنے اور نہ چھونے کا موقف انکے مابین مشہور اور معروف ہے اس لئے ان کے دل و دماغ میں جاگزیں ہو گیاہے۔راقم کے نزدیک حافظ صاحب کا یہ تجزیہ غلط ہے اس لئے کہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ خود رب کائنات نے الہامی کتب کی عظمت اور احترام کو لوگوں کے دلوں میں ویعدت کیا ہے چناچہ قرآن مجید سے اپنی اسی فطری محبت کے سبب ایک عام مسلمان کو گندگی کی حالت میں قرآن چھونے کا مسئلہ خلاف فطرت اور عجیب محسوس ہوتا ہے اور اسی لئے وہ اس پر حیرت اور استعجاب کا بھی اظہار کرتا ہے۔

    جو شخص اس مندرجہ بالا عمومی دلیل سے مطمئن نہیں اس کے لئے سورہ واقعہ کی آیت نمبر۹۷(لَّا یَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْن) پیش خدمت ہے۔ اگرچہ اس آیت میں چھونے کی نسبت فرشتوں کی جانب ہے لیکن اس سے یہ جائز استدلال ضرور کیا جاسکتا ہے کہ جب آسمان میں موجود قرآن کو حدث اصغر و اکبر سے پاک ملائکہ ہی چھوتے ہیں تواصولی طور پر دنیا میں موجود مصحف کو بھی حدث اکبر اور حدث اصغر سے پاک شخص ہی کو چھونا چاہیے۔یہ استدلال اتنا مناسب اور معقول ہے کہ بڑے بڑے علماء نے اس سے دلیل لے کر ہر قسم کے حدث میں مبتلا شخص کے لئے قرآن چھونے کی ممانعت کی ہے۔

    اگر بعض حضرات کو یہ دلیل بھی معقول نہیں لگتی تو ا ن کے اطمینان کے لئے صریح اور دو ٹوک حدیث حاضر خدمت ہے۔ اسے امام مالک رحمہ اللہ نے الموطا میں، امام دارمی نے سنن دارمی میں اور امام دارقطنی نے سنن دارقطنی میں روایت کیا ہے۔ متن حدیث یہ ہے: ”لا یمس القرآن إلا طاہر“
    اگر تو یہ واضح حدیث بھی ہمارے مہربانوں کے لئے باعث اطمینان نہیں اور وہ حدیث میں موجود لفظ طاہر کے متعلق شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں کہ اس سے باوضو شخص نہیں بلکہ مسلمان و مومن مراد ہے تو ان کی تشفی کے لئے ہم اس حدیث کے لفظ طاہر کے اختلاف پر فہم سلف صالحین پیش کرتے ہیں۔ حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ مندرجہ بالا حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں: یہ حدیث جمہور اہل علم کی دلیل ہے کہ جنبی، حائضہ اور بے وضو افراد قرآن مجید نہیں چھوسکتے۔(ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر116، صفحہ6)

    اس خبرسے معلوم ہوا کہ جمہور علماء کے نزدیک مذکورہ حدیث میں واردلفظ”طاہر“ سے مومن یا مسلمان نہیں بلکہ حدث اکبر اور حدث اصغر سے پاک باوضو شخص مراد ہے۔یاد رہے کہ جمہور سلف صالحین کے فہم کو ترجیح حاصل ہے اور یہ کسی بھی حدیث یا آیت کے معنی و مفہوم کی حدود اور تعین کے لئے کلید کی حیثیت رکھتا ہے۔

    نیزراقم السطور کی جانب سے اس مخاصمے کا ایک شافی حل حاضر خدمت ہے وہ یہ کہ مخالفین لایمس القرآن الاطاہر والی حدیث کو اس لئے غیر واضح اور اپنے مفہوم پر غیر صریح کہتے ہیں کہ حدیث میں وارد لفظ ”طاہر“ میں بیک وقت مختلف اور ایک سے زائد معنوں کا احتمال پایا جاتا ہے اور اس لفظ سے وضو کیا ہوا شخص مراد لینے کے لئے کوئی خصوصی دلیل ندارد ہے۔جیسا کہ حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ لکھتے ہیں: لیکن یہ روایت مسئلہ زیر بحث میں واضح نہیں ہے، اس لیے اسے بھی مدار استدلال نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ کیوں کہ اس میں طاہر (پاک شخص) کو قرآن مجید چھونے کی اجازت دی گئی ہے اورطاہر کا لفظ چار قسم کے افراد پر بولا جاتا ہے:
    جو ”حدث اکبر“ (جنابت، حیض و نفاس) سے پاک ہو۔
    جو ”حدث اصغر“ سے پاک ہو۔ (یعنی بے وضو نہ ہو)
    جس کے بدن پر ظاہری نجاست نہ ہو۔
    جو مومن ہو۔ (چاہے وہ جنبی ہو یا بے وضو)۔ (ماہنامہ محدث لاہور، شمارہ نمبر381، جلد 49، مارچ2018)

    اس پر راقم کہتا ہے کہ ہمیں طاہر کا کوئی مخصوص مفہوم متعین کرنے کے لئے کسی بھی خصوصی دلیل کی حاجت نہیں ہے جب زبان رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ طاہر کو مطلق استعمال فرمایا اور کسی خاص معنی کے ساتھ اسے مقید نہیں کیا تو ہمیں بھی اس کی کوئی ضرورت نہیں۔لہٰذا لفظ طاہر کے جتنے بھی معنی اور خصوصیات ہیں قرآن کو ہاتھ لگانے کے لئے انسان کو ان تمام خصوصیات سے متصف ہونا ضروری ہے۔ اگر لفظ طاہر کے معنی کافر و مشرک کے مقابلے میں مومن اور مسلمان کے ہیں تو لازمی ہے کہ جو قرآن کو چھو رہا ہو وہ مسلمان ہو۔ اوراگر لفظ طاہر سے مراد ظاہری نجاست سے پاک شخص ہے تو قرآن چھونے والا ظاہری نجاست سے پاک ہونا ضروری ہے۔ اگر طاہر کا مطلب حدث اکبر سے پاک شخص ہے تو قرآن کو چھونے والے پر واجب ہے کہ وہ جنابت اور حیض و نفاس سے پاک ہو۔اور اگر طاہر کے معنی حدث اکبر کے بالمقابل حدث اصغر سے پاک ہونے کے ہیں تو قرآن کو مس کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ قرآن کو چھونے سے پہلے وضو کرلے۔ یعنی ضروری ہے کہ قرآن کو ہاتھ لگانے والا شخص مسلمان بھی ہو، ظاہری نجاست سے پاک بھی ہو اور حدث اکبر میں بھی مبتلا نہ ہو اور با وضو بھی ہو۔ گویا جب ایک ہی وقت میں لفظ طاہر میں پائے جانے والے تمام احتمالات اور امکانات پر عمل ممکن ہے تو پھر جھگڑا کس بات کا ہے؟ اصل مسئلہ تو اس وقت ہو جب لفظ طاہر میں مختلف اور آپس میں ایسے متضاد معنوں کا احتمال پایا جائے جن کا بیک وقت کسی شخص کے لئے عملی طور پر جمع کرنا ممکن ہی نہ ہو۔ جب ایسا کچھ نہیں تو پھرعلماء کا لفظ ”طاہر“ میں کئی معنوں کے احتمال کا بہانہ بنا کربے وضو اور جنبی وغیرہ کو قرآن چھونے کی اجازت مرحمت فرمانا سینہ زوری کے علاوہ کچھ نہیں۔

    اگر مذکورہ بالا واضح حدیث اور اس پر جمہور علماء کا فہم بھی آپ کاذہن تبدیل کرنے سے قاصر ہے اور راقم کی جانب سے پیش کیا گیا شافی حل بھی آپکو ہمارے موقف سے ہمنوا ئی پر مجبور نہیں کرتا تو ہم آپ کے سامنے سیدنا علی،سعد بن ابی وقاص، سیدنا عبداللہ بن عمر اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہم اجمعین جیسے صحابہ کا عمل پیش کرتے ہیں یہ صحابہ نہ صرف یہ کہ خود بغیر وضو قرآن کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے بلکہ دوسروں کو بھی اس کی اجازت نہیں دیتے تھے پھر سب سے بڑھ کر کہ ان صحابہ کے اس طرز عمل پر کسی صحابی نے کوئی اعتراض نہیں کیا جو کہ اجماع کا فائدہ دیتا ہے۔

    اگر بعض الناس صحابہ کرام کے اس اجماع کو اس لئے تسلیم نہیں کرتے کہ ان کے نزدیک مفسر قرآن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا موقف بغیر وضو قرآن چھونے کا ہے جیسا کہ سید سابق لکھتے ہیں: ابن عباس، شعبی، ضحاک، زید بن علی، موید باللہ، داؤد، ابن حزم اور حماد بن ابی سلیمان کا مذہب یہ ہے کہ حدث اصغروالے کے لئے قرآن کو چھونا جائزہے۔ (التعلیق المغنی علیٰ سنن الدارقطنی۱/۲۲۱، ۱۲۱، بحوالہ طہارت کے مسائل، صفحہ 119) تو ہم آپ کو یاد دلادیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تونکاح متعہ کے معاملے میں بھی تمام صحابہ سے الگ رائے رکھتے تھے اور متعہ کو جائز و حلال سمجھتے تھے۔امام ابوعبید قاسم بن سلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    فَالْمُسْلِمُونَ الْیَوْمَ مُجْمِعُونَ عَلٰی ہٰذَا الْقَوْلِ: إِنَّ مُتْعَۃَ النِّسَاءِ قَدْ نُسِخَتْ بِالتَّحْرِیمِ، ثُمَّ نَسَخَہَا الْکِتَابُ وَالسُّنَّۃُ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا مِّنَ الصَّحَابَۃِ کَانَ یَتَرَخَّصُ فِیہَا، إِلَّا مَا کَانَ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَإِنَّہ، کَانَ ذٰلِکَ مَعْرُوفًا مِّنْ رَّأْیِہُ.
    ”آج مسلمانوں کا اجماع ہے کہ نکاحِ متعہ منسوخ ہونے کی بنا پر حرام ہے۔ کتاب و سنت نے اسے منسوخ کہا ہے۔ کسی صحابی سے نکاح متعہ کی رخصت دینا ثابت نہیں، سوائے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے۔ اس بارے میں ان کا فتویٰ مشہور تھا۔“ (الناسخ والمنسوخ، صفحہ80)

    کہا جاتا ہے کہ عبداللہ بن عباس نے بعد میں اس جواز متعہ کے مسئلہ سے رجو ع کرلیا تھا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ جب عبداللہ بن عباس اتنے واضح اور غیر اختلافی مسئلہ میں غلط فہمی کا شکار ہو کر صحابہ کی مخالفت کرسکتے ہیں تو کیا بغیر وضو قرآن چھونے کے مسئلہ میں ایسا ممکن نہیں؟

    اورپھر یہ واحد مسئلہ نہیں جس میں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے تمام صحابہ سے الگ اور مختلف موقف اختیار کیا ہے بلکہ ان کے جمہور صحابہ سے اختلافات کی فہرست طویل ہے حتی کہ ڈاکٹر محمد روّاس قلعہ جی نے ان اختلافات کو اٹھائیس (28) تک شمار کیا ہے۔ (دیکھئے: فقہ حضرت عبداللہ بن عباس، صفحہ 33، 34، 35)

    ان میں سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے بعض تفردات درج ذیل ہیں۔
    نماز کی صحت کے لئے نجس سے پاک ہونا شرط نہیں ہے۔
    جنبی کے لئے قرآن پڑھنے کی اباحت۔
    لونڈی کو چوپائے کا درجہ دینا۔ اس سے یہ بات متفرع ہوتی ہے کہ لونڈی کی شرمگاہ عاریت کے طور پر دینا مباح ہے۔
    سجدہ تلاوت میں قبلہ رخ ہونے کی شرط نہیں۔
    کافر پر حدود قائم نہ کرنا۔
    عدت وفات گزارنے والی بیوہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے اور عدت کے دوران سفر بھی کرسکتی ہے۔
    خلع لینے والی عورت پر کوئی عدت لازم نہیں۔ ایک حیض کے ذریعے استبراء رحم اس کے لئے کافی ہے۔(فقہ حضرت عبداللہ بن عباس، صفحہ 33، 34، 35)

    عرض ہے کہ جب اتنے سارے مسائل میں ابن عباس رضی اللہ عنہ اجتہادی خطاء کا شکار ہوکر جمہور صحابہ سے اختلاف کرکے اپنی منفرد اور شاذ رائے قائم کرسکتے ہیں توان کے بلاوضو قران چھونے کے موقف کوجمیع صحابہ کے خلاف ہونے کی وجہ سے اہمیت نہ دینے اور ان کے اس مذہب اور موقف کوانکی اجتہادی خطا سمجھ کر نظر انداز کردینے میں کیا امر مانع ہے؟

    اگر ہمارے موقف کا مخالف ابھی بھی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے موقف کو اجماع صحابہ کا توڑ سمجھتا ہے تو ہم آخری حوالے کے طور پر امت مسلمہ کا اجماع پیش کرتے ہیں: حافظ ابن عبدالبررحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس مسئلے میں فقہائے مدینہ، عراق اور شام میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ قرآن کو صرف حالت وضو ہی میں چھوا جائے گا۔“ (التمہید۸/۱۷۲ و نسخۃ آخری۶/۸)

    قرآن و حدیث کے دلائل کے برعکس اجماع کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں کسی اور معنی و مفہوم کے احتمال کا پایا جانا ممکن نہیں ہوتا اس لئے اس میں بیان شدہ مسئلہ اور اختیار کردہ موقف بالکل واضح، صریح، غیر متحمل اور دو ٹوک ہوتا ہے۔ اجماع کی یہی خاصیت اختلافی مسائل میں اس کے کردار اور حیثیت کو ایک فیصلہ کن دلیل کے طور پر ظاہر کرتی ہے اور اسی وجہ سے اجماع معترضین کے تمام حیلوں، بہانوں اور تاویلات کا خاتم ثابت ہوتاہے۔ امت مسلمہ کے اتفاق(اجماع) کے اسی فائدے کے پیش نظر امام ابو محمد عبداللہ بن مسلم بن قتیبہ الدینوری الکاتب الصدوق رحمہ اللہ نے فرمایا: ”و نحن نقول ان الحق یثبت عندنا بالاجماع اکثر من ثبوتہ بالروایۃ لان الحدیث قد تعترض فیہ عوراض من السھو والاغفال وتدخل علیہ الشبہ والتاویلات والنسخ ویاخذہ الثقۃ من غیرالثقۃ... و الاجماع سلیم من ھذہ الاسباب کلھا“ اور ہم کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک روایت سے زیادہ، اجماع سے حق ثابت ہوتا ہے، کیونکہ حدیث پر سہو اور غفلت کا اعتراض ہوسکتا ہے، شبہات، تاویلات اور ناسخ منسوخ کا احتمال ہوسکتا ہے اور یہ بھی کہ ثقہ نے اسے غیر ثقہ سے لیا تھا... اور اجماع ان تمام باتوں سے محفوظ ہے۔(تاویل مختلف الحدیث فی الرد علی اعداء اہل الحدیث ص۶۷۱، بحوالہ ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر 91، صفحہ 31)

    اورپھر اجماع ایک ایسی حجت بھی ہے جس سے فرار یا انکار کسی مسلمان کے لئے ممکن نہیں اس لئے اسے تسلیم اور اس پر عمل کئے ہی بنتی ہے۔ حافظ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اہل حدیث یعنی اہل سنت کایہ بنیادی ایمان، عقیدہ اور عمل ہے کہ قرآن مجید اور حدیث رسول کے بعد اجماع امت (صحیح العقیدہ سنی مسلمانوں کا اجماع) حجت اور شرعی دلیل ہے۔(ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر 91، صفحہ9)

    شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”الحمد للہ. معنی الاجماع: ان تجتمع علماء المسلمین علیٰ حکم من الاحکام. واذا ثبت اجماع الامۃ علیٰ حکم من الاحکم لم یکن لاحد ان یخرج عن اجماعھم فان الامۃ لا تجتمع علیٰ ضلالۃ“ حمد و ثنا اللہ ہی کے لئے ہے۔ اجماع کا معنی یہ ہے کہ احکام میں سے کسی حکم پر مسلمانوں کے علماء جمع ہوجائیں اور جب کسی حکم پر امت کا اجماع ثابت ہوجائے تو کسی کے لئے جائز نہیں کہ وہ علماء کے اجماع سے باہر نکل جائے، کیونکہ امت گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی۔(الفتاویٰ الکبریٰ ج۱ ص ۴۸۴، مجموع فتاویٰ ج۰۲ ص۰۱، بحوالہ ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر 91، صفحہ10)

    ابن جوزی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وترک الاجماع ضلال“ اوراجماع کا ترک کرنا گمراہی ہے۔(المشکل من حدیث الصحیحین لابن الجوزی۱/۲۴، بحوالہ ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر91، صفحہ 37)

    اجماع کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگائیں کہ بمطابق حدیث اجماع امت کے مخالف کا قتل جائز ہے۔ حافظ زبیرعلی زئی رقمطراز ہیں: ایک حدیث میں آیا ہے کہ تین آدمیوں کا قتل جائز ہے: (۱) قاتل (۲) شادی شدہ زانی (۳) اور ”والتارک لدینہ المفارق للجماعۃ“ (صحیح مسلم: ۶۷۶۱، ترقیم دار السلام:۵۷۳۴ واللفظ لہ، صحیح البخاری: ۸۷۸۶)

    اس حدیث کی تشریح میں حافظ ابن حجر العسقلانی نے لکھا ہے: ”و مخالف الاجماع داخل فی مفارق الجماعۃ“ اور اجماع کا مخالف مفارق الجماعہ (کے مفہوم) میں داخل ہے۔ (فتح الباری ج۲۱ ص۴۰۲) (ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر 91، صفحہ 22)

    بالا دلائل کے بعد کسی شخص کے پاس کوئی عذر باقی نہیں بچتا کہ وہ مس قرآن کے لئے وضو کے واجب ہونے کا قائل اور فاعل نہ ہو الّا یہ کہ وہ اجماع ہی کا انکار کردے۔

    آغاز: 12-12-2019
    اختتام: 12-06-2020
     
  8. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    786
    مضمون میں جن علمائے کرام کی گرانقدر آراء سے استفادہ کیا گیا ہے انکے اسمائے گرامی بالترتیب مندرجہ ذیل ہیں:


    01۔ امام مالک بن انس رحمہ اللہ
    02۔ امام شافعی رحمہ اللہ
    03۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ
    04۔ شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ الحرانی رحمہ اللہ
    05۔ امام ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ
    06۔ الامام الحافظ محمد بن عیسیٰ الترمذی
    07۔ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ
    08۔ مولانا محمد عطا اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ
    09۔ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ
    10۔ محمد بن عبدالعزیزالمسند، ریاض
    11۔ مولانا محمد خالد سیف،اسلام آباد
    12۔ حٖافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ
    13۔ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
    14۔ عبدالولی عبدالقوی، داعی مکتب دعوۃتوعیۃ الجالیات الحائط، سعودی عرب
    15۔ ابو محمد عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ
    16۔ امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ
    17۔ امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ
    18۔ امام ابو عبداللہ محمد بن احمد بن ابوبکرقرطبی رحمہ اللہ
    19۔ قاضی ابوبکر بن عربی رحمہ اللہ
    20۔ عبدالرحمن بن عبدالعزیز الدھامی، امام و خطیب جامع الزھراء بالبکیریہ
    21۔ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
    22۔ استاذ القراء قاری محمد ابراہیم میر محمدی
    23۔ امام جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی رحمہ اللہ
    24۔ علامہ طیبی رحمہ اللہ، مشکوۃ کے شارح اوّل
    25۔ امام ابوعبداللہ رحمہ اللہ
    26۔ ابوبکر المروزی رحمہ اللہ
    27۔ حافظ عمران ایوب لاہوری
    28۔ مجاہد بن جبر رحمہ اللہ
    29۔ محمد الیاس بن عبدالقادر بن عبدالمجید
    30۔ ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمن التمیمی الدّارمی
    31۔ عبدالرحمن بن ناصر السّعدی رحمہ اللہ
    32۔ امام محدث ابوبکر محمد بن حسین الآجری رحمہ اللہ
    33۔ امام اسحاق بن راھویہ رحمہ اللہ
    34۔ حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ
    35۔ حماد بن ابی سلیمان رحمہ اللہ
    36۔ امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ
    37۔ امام ابی بکراحمد بن الحسین البیہقی رحمہ اللہ
    38۔ الشیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ
    39۔ شیخ الاسلام مولانا ثنا ء اللہ امرتسری رحمہ اللہ
    40۔ الشیخ عبداللہ بن جبرین رحمہ اللہ
    41۔ ابوبکر جابر الجزائری حفظہ اللہ
    42۔ مولانا محمد صادق خلیل رحمہ اللہ
    43۔ حافظ ناصر محمود انور
    44۔ شیخ الحدیث مولانا عبدالسلام بستوی رحمہ اللہ
    45۔ فضیلۃ الشیخ ابو محمد حافظ عبدالستار الحماد
    46۔ مولانا سید محمد عبدالاوّل الغزنوی رحمہ اللہ
    47۔ ابو میمون حافظ عابد الٰہی، مدیر مکتبہ بیت السلام ریاض
    48۔ شیخ ولی الدین محمد بن عبداللہ خطیب عمری تبریزی رحمہ اللہ
    49۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ
    50۔ ابو قیدارمحمد آصف نسیم مدنی
    51۔ فواد بن عبدالعزیزالشلہوب
    52۔ اللجنۃ الدائمۃ
    53۔ محدث العصر فضیلۃ الشیخ ابو القاسم سید محب اللہ شاہ الراشدی رحمہ اللہ
    54۔ ابو الاحسان سید قاسم شاہ الراشدی حفظہ اللہ
    55۔ شیخ الحدیث افتخار احمد تاج الدین جامعہ بحرالعلوم السلفیہ، میرپور خاص
    56۔ حافظ عبدالمنان نور پوری حفظہ اللہ جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ
    57۔ محمد مسعود لون(ایڈوکیٹ) مدیرمکتبۃ کریمۃ
    58۔ ابو انس محمد مالک بھنڈر
    59۔ شیخ العرب و العجم حافظ ثنا اللہ مدنی
    60۔ ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہر بن عبد العزیز رحمہ اللہ
    61۔ حافظ عبدالرؤف خان
    62۔ علامہ محمد عبدالرحمن مبارکپور ی رحمہ اللہ
    63۔ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ تعالیٰ
    64۔ السّیّد سابق
    65۔ حضرت قتادہ بن دعامہ سدوسی رحمہ اللہ
    66۔ حافظ مبشر حسین
    67۔ مصعب بن سعد بن ابی وقاص تابعی رحمہ اللہ
    68۔ سالم بن عبداللہ بن عمر تابعی رحمہ اللہ
    69۔ امام ابو الحسن علی بن عمر الدّار قطنی رحمہ اللہ
    70۔ علامہ عبیداللہ رحمانی مبارکپوری رحمہ اللہ
    71۔ مولانااصغر علی امام مہدی سلفی، ناظم عمومی، مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند
    72۔ محمد طاہر نقاش
    73۔ فواز عبدالعزیز عبیداللہ مبارک پوری
     
  9. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    786
    کتابیات

    ۱۔ قد قامت الصلوٰۃ، نماز کے ضروری مسائل، تالیف: خواجہ محمد قاسم، ناشر:گوجرانوالہ ایڈورٹائزر اردو بازار گوجرانوالہ
    ۲۔ قاری قرآن کے اوصاف اور قرآن مجید کے آداب، تالیف: ابوبکر محمد بن حسین الآجری رحمہ اللہ، عبدالرحمن بن عبدالعزیز الدھامی، ترجمہ و توضیح: حافظ فیض اللہ ناصر، ناشر: کلیۃ القرآن الکریم والتربیۃ الاسلامیۃ ادارۃ الاصلاح ٹرسٹ پاکستان، البدر (بونگہ بلوچاں)نزد پھول نگر قصور، ڈسٹری بیوٹر: مکتبہ اسلامیہ، اردو بازار لاہور
    ۳۔ طہارت کے احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں، تالیف: عبدالولی عبدالقوی، داعی مکتب دعوۃتوعیۃ الجالیات الحائط، سعودی عرب، طابع و ناشر: انجمن اصلاح معاشرہ، بندی کلاں، محمد آباد، ضلع مؤ، یوپی،انڈیا
    ۴۔ موطا امام مالک مترجم، مرتب: مالک بن انس رحمہ اللہ، ترجمہ و فوائد ضروریہ ”کشف المغطّا“: علامہ وحیدالزماں، ناشر: میر محمد کتب خانہ مرکز علم و ادب آرام باغ، کراچی
    ۵۔ فقہ الحدیث، اسلامی طرز ندگی سے متعلق فقہی احکام و مسائل، امام شوکانی ؒ کی فقہ کی معروف کتاب ”الدررالبھیۃ“ کا ترجمہ و تشریح بمع تخریج وتحقیق، جلد اوّل، تالیف و تخریج: حافظ عمران ایوب لاہوری، تحقیق و افادات: محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی، ناشر: فقہ الحدیث پبلیکیشنز، لاہور، پاکستان
    ۶۔ فتاویٰ اسلامیہ(کتاب العقائد تا کتاب الصلاۃ)، جلد اوّل، فتاویٰ: عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز، محمد بن صالح العثیمین، عبداللہ بن عبدالرحمن الجبرین اور الجنۃ الدئمۃ للافتاوالارشاد سعودی عرب، جمع و ترتیب: محمد بن عبدالعزیزالمسند، ترجمہ: مولانا محمد خالد سیف، ناشر: دارالسلام،لاہور
    ۷۔ الدعاء المقبول المعروف اسلامی وظائف، مرتب: شیخ الحدیث مولاناعبدالسلام بستوی، تخریج، تحقیق و تسہیل: حافظ ندیم ظہیر، تقدیم و نظر ثانی: حافظ زبیر علی زئی، ناشر: مکتبہ اسلامیہ، لاہور
    ۸۔ ماہنامہ الحدیث، مدیر: حافظ زبیرعلی زئی، ناشر: حافظ شیر محمد الاثری، مقام اشاعت: مکتبۃ الحدیث، حضرو، ضلع اٹک
    ۹۔ تیسیر الکریم الرحمن فی تفسیر کلام المنان المعروف تفسیر السّعدی(اردو)، مفسر قرآن: عبدالرحمن بن ناصر السّعدی، ترجمۃ القرآن: حافظ صلاح الدین یوسف، ترجمۃ التفسیر: پروفیسر طیب شاہین لودھی، ناشر: دارالسلام، لاہور
    ۰۱۔ تفسیر در منثور مترجم، جلد ششم، تالیف: امام جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی، ترجمہ متن قرآن: پیر محمد کرم شاہ الازہری، مترجمین: سید محمد اقبال شاہ، محمد بوستان، محمد انور مگھالوی، ناشر: ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور، کراچی، پاکستان
    ۱۱۔ تفسیر احسن التفاسیر، تالیف: مولانا سید احمد حسن محدث دہلوی رحمہ اللہ، ترجمہ قرآن: شاہ عبدالقادر دہلوی، تخریج احادیث: مولانا حافظ محمد ادریس کیلانی، ناشر: المکتبۃ السلفیۃ، شیش محل روڈ، لاہور
    ۲۱۔ تفسیر ثنائی، تالیف: شیخ الاسلام حضرت مولانا ثنا ء اللہ امرتسری رحمہ اللہ، ناشر: مکتبہ قدوسیہ، اردو بازار، لاہور
    ۳۱۔ بلوغ المرام ترجمہ من ادلۃالاحکام، تالیف: ابو الفضل شہاب الدین احمد ابن حجرالعسقلانی، شارح:مولانا صفی الرحمن مبارکپوری، ناشر: دارالسّلام، لاہور
    ۴۱۔ منھاج المسلم، اسلامی طرز زندگی، تمام شعبہ ہائے زندگی کے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات، تالیف: ابوبکر جابر الجزائری حفظہ اللہ، ترجمہ: مولانا محمد رفیق الاثری، ناشر: دارلسّلام، لاہور
    ۵۱۔ مشکوۃ المصابیح، ترجمہ وتشریح: مولانا محمد صادق خلیل رحمہ اللہ، تحقیق و نظر ثانی: حافظ ناصر محمود انور، ناشر: مکتبہ محمدیہ،چیچہ وطنی، ضلع ساہیوال
    ۶۱۔ انوار المصابیح شرح مشکوۃ المصابیح، تالیف: شیخ ولی الدین الخطیب التبریزی، ترجمہ و تشریح: شیخ الحدیث مولانا عبدالسلام بستوی، تحقیق و تخریج ماخوذ از: ہدایۃ الرواۃ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ، ناشر: مکتبہ قدوسیہ، اردو بازار لاہور
    ۷۱۔ مشکوۃ المصابیح مترجم، ترجمہ و فوائد الحدیث: مولانا سید محمد عبدالاوّل الغزنوی رحمہ اللہ، مع حکم حدیث: علامہ محمد ناصر الدین البانی، تخریج الحدیث: الشیخ جمال عیتانی، تسہیل ترجمہ و حواشی: حافظ عبدالخبیراویسی، پروفیسر ابو انس محمد سرور گوہر، ناشر: مکتبہ محمدیہ، اردو بازار، لاہور
    ۸۱۔ فتاویٰ اصحاب الحدیث، تالیف: فضیلۃ الشیخ ابو محمدحافظ عبدالستار الحماد، ناشر: مکتبہ اسلامیہ، فیصل آباد، پاکستان
    ۹۱۔ کتاب الآداب (سلیقہ زندگی)، مولف: فواد بن عبدالعزیز الشلہوب، مترجم: محمد نعیم محمد شفیع سلفی، تقدیم: اصغر علی امام مہدی سلفی، ناشر: مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند
    ۰۲۔ فتاویٰ راشدیہ، تالیف: محدث العصرفضیلۃ الشیخ ابوالقاسم سید محب اللہ شاہ الراشدی رحمہ اللہ، تقدیم: سید قاسم شاہ راشدی حفظہ اللہ، اعداد: الشیخ افتخار احمد تاج الدین، ناشر: نعمانی کتب خانہ، لاہور
    ۲۲۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں احکام ومسائل، سینکڑوں خطوط کے جوابات کا مجموعہ، جلد دوم، تالیف: حافظ عبدالمنان نور پوری حفظہ اللہ، جمع و ترتیب: ابوانس محمد مالک بھنڈر، ناشر: مکتبۃ الکریمہ، لاہور، گوجرانوالہ
    ۳۲۔ فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ، تالیف: شیخ العرب و العجم مفتی حافظ ثنا اللہ مدنی، تقدیم: حافظ صلاح الدین یوسف، جمع و ترتیب، تبویب وتخریج: حافظ عبدالرؤف خان،عبدالقدوس السلفی، ناشر: کلیۃ القرآن الکریم و التربیۃ الاسلامیۃ
    ۴۲۔ انسان اور قرآن، تالیف: حافظ مبشر حسین، ناشر: مبشر اکیڈمی، لاہور، پاکستان
    ۵۲۔ جامع ترمذی، جلد اوّل، مولف: امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی، ترجمہ: علامہ مولانا بدیع الزماں برادر علامہ وحیدالزماں، تسہیل و تخریج آیات: حافظ خالد سلفی ناشر: اسلامی کتب خانہ، اردو بازار، لاہور
    ۶۲۔ فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری، جلداوّل، تالیف: علامہ عبید اللہ رحمانی مبارکپوری، جمع و ترتیب: فواز عبدالعزیز عبیداللہ مبارکپوری، اہتمام و تقدیم: اصغر علی امام مہدی سلفی، تقریظ: ابوالحسن مبشر احمد ربانی، ناشر: دارالابلاغ پبلشرز اینڈڈسٹری بیوٹر ز، اردو بازارا،لاہور
    ۷۲۔ احکام و مسائل، کتاب و سنت کی روشنی میں، تالیف: مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی، نظر ثانی: حافظ عبدالسلام بن محمد، جمع و ترتیب: حافظ عمران ایوب، ابو عمر اشتیاق احمد، ناشر: دارالاندلس، لاہور
    ۸۲۔ تیسیرالرحمن لبیان القرآن، تالیف: محمد لقمان السلفی، ایم اے، پی ایچ ڈی(حدیث نبوی)، ناشر: علامہ ابن باز اسلامک اسٹیڈیزسنٹر، بہار، ہند
    ۹۲۔ 500سوال و جواب برائے خواتین، مفتیان کرام: الامام ابن باز، العلامۃ العثیمین، العلامۃ الفوزان، سعودی فتویٰ کمیٹی، ترجمہ: حافظ عبداللہ سلیم، ناشر: مکتبہ بیت السلام، لاہور، ریاض
    ۰۳۔ تفسیر قرطبی معروف بہ الجامع لاحکام القرآن، جلد نہم، مفسر: امام ابوعبداللہ محمد بن احمد بن ابوبکرقرطبی رحمہ اللہ، متن قرآن کا ترجمہ: پیر محمدکرم شاہ الازہری، مترجمین: مولانا ملک محمد بوستان، مولانا سید محمد اقبال شاہ گیلانی، مولانا محمد انورمگھالوی، مولانا شوکت علی چشتی، ناشر: ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور
    ۱۳۔ تفسیر قرطبی، جلد اوّل، تالیف: ابو عبداللہ محمد بن احمدالانصاری القرطبی، ترجمہ و تحقیق: ڈاکٹر حافظ اکرام الحق یسٰین، ناشر: شریعہ اکیڈمی،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد
    ۲۳۔ مرقاۃ المفاتیح اردو شرح مشکوۃ المصابیح، جلد دوم، مولف: محمد بن عبداللہ الخطیب التبریزی، شارح ملا علی قاری، مترجم: مولانا راؤمحمد ندیم، ناشر: مکتبہ رحمانیہ، اردو بازار، لاہور
    ۳۳۔ شرح بلوغ المرام من ادلۃالاحکام،جلد اوّل، تالیف:حافظ ابن حجر العسقلانی ، شارح:محمد بن صالح العثیمین، ترجمہ: مولانا آصف نسیم، ناشر: دارالمعرفۃ، الفضل مارکیٹ، اردو بازار، لاہور
    ۴۳۔ تحفہ برائے خواتین، خواتین کے مخصوص مسائل قرآن و سنت کی روشنی میں، مولف: ڈاکٹر صالح بن فوزان بن عبداللہ الفوزان، ترجمہ: ڈاکٹر رضاء اللہ محمد ادریس مبارکپوری، اعداد و اضافہ: روبینہ نقاش، ناشر: دارالابلاغ پبلشرز اینڈڈسڑی بیوٹر، لاہور
    ۵۳۔ فہم قرآن کورس، پارٹ ا، ترتیب: ابوفہد قاری عبدالحفیظ ثاقب، زیر نگرانی: حافظ صلاح الدین یوسف، ناشر: فہم دین انسٹیٹیوٹ، مون مارکیٹ علامہ اقبال ٹاؤن، لاہور
    ۶۳۔ تفسیر النساء، تالیف: الشیخ ابن نواب، تقریظ: پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی، نظر ثانی: ڈاکٹر حافظ محمد شہبازحسن، ناشر: دار المعرفۃ، اردو بازار، لاہور
    ۷۳۔ سنن الدّارمی، جلد دوم، تالیف: ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمن التمیمی الدّارمی، ترجمہ و تحقیق: محمد الیاس بن عبدالقادر بن عبدالمجید، ناشر: الفرقان ٹرسٹ، خان گڑھ ضلع مظفرگڑھ، پاکستان
    ۸۳۔ آثار حنیف بھوجیانی،دروس و فتاویٰ جات، جلداوّل، تالیف: مولانا محمد عطا اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ، تقریظ: مولانا ارشاد الحق اثری، تقدیم: فضیلۃ الشیخ محمد عزیر شمس، ترتیب: احمد شاکر، ناشر: المکتبۃ السلفیۃ، شیش محل روڈ، لاہور
    ۹۳۔ تذکرہ مجاہدین ختم نبوت اور قادیانیوں کے عبرت انگیز واقعات، جمع و ترتیب: شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ، ناشر: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضوری باغ روڈ، ملتان
    ۰۴۔ وحدت امت، تالیف: مولانا مفتی محمد شفیع، ناشر: طارق اکیڈمی، ڈی گراؤنڈ، فیصل آباد
    ۱۴۔ مجموعہ علوم قرآن، تالیف: نواب سید محمد صدیق حسن خان، تسہیل و تخریج: حافظ عبداللہ سلیم، حافظ شاہد محمود، ناشر: دار ابی الطیب، للنشرو التوزیع، گل روڈ، حمید کالونی،گلی نمبر 5، گوجرانوالہ
    ۲۴۔ ماہنامہ محدث، لاہور، مدیراعلیٰ: حافظ عبدالرحمن مدنی، مدیر: ڈاکٹر حافظ حسن مدنی، ناشر: مجلس التحقیق الاسلامی
    ۳۴۔ ماہنامہ السنّۃ، جہلم، مدیر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری، ناشر: دار التخصص، دارالتحقیق، جہلم، پاکستان
    ۴۴۔ طہارت کے مسائل، تالیف: السّیّد سابق، ترجمہ و تخریج: حافظ محمد اسلم شاہد روی، تقریظ؛ ابو ضیامحمود احمد غضنفر، ناشر: حدیبیہ پبلیکیشنز، رحمان مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اردو بازار، لاہور
    ۵۴۔ انسائیکلو پیڈیا-۷، فقہ حضرت عبداللہ بن عباس، تالیف: ڈاکٹر محمد روّاس قلعہ جی، ظہران یونیورسٹی، سعودی عرب، اردو ترجمہ: مولانا عبدالقیوم، ناشر: ادارہ معارف اسلامی، منصورہ، لاہور
    ۶۴۔ سنن دارقطنی، جلد اوّل، تالیف: امام ابو الحسن علی بن عمر الدّارقطنی، تخریج: اشیخ شعیب الارنوؤط، ترجمہ: حافظ فیض اللہ ناصر، ناشر: ادارہ اسلامیات، لاہور، کراچی، پاکستان
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں