کوشش کے باوجود جس بہن کی شادی نہ ہوسکے

مقبول احمد سلفی نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏ستمبر 28, 2022 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    832
    کوشش کے باوجود جس بہن کی شادی نہ ہوسکے
    سوال: ایک بہن کا سوال ہے کہ ایک لڑکی کا نکاح اس کے چاہنے اور کوشش کرنے کے باوجود بھی نہ ہوپائے تو کیا وہ گنہگار ہوگی یا ایسی لڑکی کو سزا یا اجر کیا ملے گا؟

    جواب :شادی کا حکم مختلف حالات میں مختلف ہوتے ہیں، عمومی طور پر شادی کرنا انبیاء کی سنت ہے ، اس کی بڑی تاکید آئی ہے اور شادی کی طاقت رکھنے والے نوجوانوں کو رسول اللہ ﷺ نے شادی کرنے کا حکم دیا ہے۔جب کسی کےلئےاپنی نظر ، شرمگاہ ، ہاتھ وپیر حتی کہ دل ودماغ کو شہوت سے محفوظ نہ رکھ سکنے کا امکان ہو تو پھر شادی کرنااس پر واجب وفرض ہوجاتاہے۔ آج فتنے کا دور دورہ ہے اس لحاظ سے عفت وعصمت کی حفاظت کے لئےشادی بہترین ذریعہ ہے لہذا ان دنوں شادی پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
    ایک لڑکی کےلئے رشتہ تلاش کرنے میں دیر ہوسکتی ہے، مسائل پیدا ہوسکتے ہیں مگردنیا میں رشتوں کی کمی نہیں ہے اس لئے ہارجانا، ایک مدت بعد رشتہ تلاش کرنا بند کردینا درست نہیں ہے ۔ ایک مسلمان شادی کا اسلامی اصول جو سادگی والا ہے اسے مدنظر رکھے تو مختلف طریقے سے شادی کرسکتا ہے مگر پریشانی یہ ہے کہ ہم اپنے معیار کے مطابق رشتہ تلاش کرتے ہیں ۔ ہزاروں غریب لڑکے سماج میں ہیں، کوئی ان سے شادی کرنے کو تیار نہیں، لاکھوں کی تعداد میں بے روزگار نوجوان ہیں کوئی ان سے رشتہ نہیں چاہتا، متعدد شادی شدہ مرد دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں مگر لڑکیاں ان سے شادی کو تیار نہیں۔بے شمار لڑکے دوسری ذات وبرادری میں موجودہیں مگر ہم اپنی برادری کے علاوہ دوسری برادری میں شادی کو عیب سمجھتے ہیں حتی کہ آج بہت سی لڑکیاں داڑھی والوں سے شادی کرنے کو راضی نہیں ۔ اگر لڑکا دین و اخلاق والا ہے تو وہ کالا ہو، غریب ہو، دہاڑی مزدور ہو، چھوٹے پیشے والا ہو، دوسری شادی کرنے والا ہو، دوسری برادری کا ہو ان سب سے شادی کی جاسکتی ہے اور ایسے افراد کی ہرملک وخطہ میں بڑی تعداد ہے۔ شادی میں غربت بھی نہ دیکھیں، شادی کے بعد حالات بالکل بدل جاتے ہیں اور پھر اللہ تعالی ہرکسی کے مقدر میں روزی پہلے سے لکھ رکھا ہے جو لڑکا کو ، لڑکی کواور آنے والی اولاد کوہرحال میں ملے گی۔
    لڑکی کی شادی کا اصل ذمہ دارولی ہوتا ہےلہذا وہ اپنی جانب سے لڑکی کی شادی کرانے میں رنگ ونسل ، عزت وشہرت اور ذات وبرادری سے اوپر اٹھ کربھرپور کرشش کرے اور شادی میں اسلامی معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے رشتہ تلاشنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتے تاہم ممکن ہےکوشش کے باوجود بھی کسی لڑکی کی شادی نہ ہوسکے تو اللہ نیت اور مجبوری کو جانتا ہے، اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا بلکہ اس راستے میں آنے والی پریشانیوں پر صبر کرنے کی وجہ سے اللہ تعالی صبر کا بدلہ اور مصیبت برداشت کرنے کا اجر عطا فرمائے گا۔ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ما يُصِيبُ المُسْلِمَ، مِن نَصَبٍ ولَا وصَبٍ، ولَا هَمٍّ ولَا حُزْنٍ ولَا أذًى ولَا غَمٍّ، حتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا، إلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بهَا مِن خَطَايَاهُ.(صحيح البخاري:5641)
    ترجمہ:مسلمان جب بھی کسی پریشانی، بیماری، رنج و ملال، تکلیف اور غم میں مبتلا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھ جائے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔
    تاہم یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ جس لڑکے یا لڑکی کی کسی مجبوری کی بناپر شادی نہ ہوسکے تو اللہ کا خوف کھاتے ہوئے بے حیائی اور فحش کاری سے بچتے ہوئے زندگی گزارے بلکہ نمازوں کی پابندی کے ساتھ اکثر روزہ رکھنے کی کوشش کرے کیونکہ روزہ شہوتوں کو توڑنے والا ہے۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبہ : مقبول احمد سلفی(جدہ دعوہ سنٹر)

    28.09.2022
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں