کیا رجب اللہ کا مہینہ ہے ؟

مقبول احمد سلفی نے 'ماہِ رجب المرجب' میں ‏جنوری 25, 2023 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    879
    کیا رجب اللہ کا مہینہ ہے ؟
    تحریر: مقبول احمد سلفی​
    جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ -سعودی عرب

    رجب کی آمد پر مرد و عورت میں رجب کے اعمال کے تعلق سے مختلف قسم کی باتیں شروع ہوجاتی ہیں، ان سب باتوں کا ذکر یہاں مقصودنہیں ہے ، صرف ایک بات کی اصل حقیقت بتاؤں گا ، وہ یہ ہے کہ کیا رجب اللہ کا مہینہ ہے ؟
    دراصل بدعتی اپنی بات اسی سے شروع کرتا ہے کہ دیکھو سال کے بارے مہینے ہیں، سارے مہینے اللہ نے بنائے مگر کسی کو اپنا مہینہ نہیں کہا ، ہم دیکھتے ہیں ذوالحجہ میں حج جیسا عمل پایاجاتا ہے، قربانی جیسی عبادت ہوتی ہے، محرم میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے مگر کسی ماہ کو اللہ کا مہینہ نہیں کہا گیا ، صرف رجب کو ہی کیوں اللہ کا مہینہ کہا گیا؟ ضرور اس مہینے میں راز چھپاہے، اس ماہ کی بڑی فضیلت ہے ۔ یعنی اس قسم کی باتیں کہہ کر بدعتی لوگوں کو اس ماہ کے تعلق سے مختلف قسم کے مخصوص اعمال بتاتے ہیں جبکہ سچ تو یہ ہے کہ رجب حرمت کے چار مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے جس کا تقاضہ ہے کہ ہم اس ماہ میں فتنہ و فساد، قتل و ظلم اور کفر و معصیت سے بچیں ۔ مگر بدعتیوں نے ضعیف اور موضوع روایات کو بنیاد بناکر امت میں طرح طرح کے بدعی اعمال رواج دیا ہے۔ آپ مختصر طور پربس اتنا جان لیں کہ رجب میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی بھی مخصوص عمل یا سنت ثابت نہیں ہے، نہ کوئی مخصوص نماز، نہ کوئی مخصوص روزہ، نہ کوئی مخصوص ذکر،نہ کوئی مخصوص عمرہ اور نہ کوئی مخصوص دعا وغیرہ ۔
    اب آتے ہیں اصل سوال کی طرف کہ کیا رجب اللہ کا مہینہ ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایک حدیث اس طرح سے آتی ہے ۔
    ((رجَبٌ شَهرُ اللَّهِ وشعبانُ شَهري ورمضانَ شَهرُ أمَّتي))
    ترجمہ: رجب اللہ کا مہینہ ہے، شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے ۔
    یہ حدیث کی اہم کتابوں میں موجود نہیں ہے ، نیچے طبقے کی بعض کتب حدیث میں یہ روایت موجود ہے جیسے مسند الفردوس اور الجامع الضعیر وغیرہ میں ۔
    یہ ضعیف حدیث ہے بلکہ اس حدیث پر متعدد محدثین نے موضوع ہونے کا حکم لگایا ہے یعنی یہ حدیث من گھرنت ہے، کسی نے اپنی طرف سے اس کو گھڑ کو رسول اللہ ﷺ کی جانب منسوب کردیا ہے ۔ آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف جھوٹ منسوب کرنا کتنا بڑا گناہ ہے، اتنا گناہ اس کو بھی ملے گا جو اس جھوٹی حدیث کو لوگوں میں بول کر یا لکھ کرپھیلائے گا۔
    جن محدثین نے اس حدیث کو موضوع کہا ہے ان کے اسمائے گرامی مندرجہ ذیل ہیں ۔
    (1)امام صغانی نے "الموضوعات:72" میں موضوع کہا ہے۔
    (2)علامہ ابن القیم نے "المنارالمنیف:76" میں موضوع کہا ہے۔
    (3)علامہ شوکانی نے "الفوائد المجموعۃ:100" میں موضوع کہا ہے۔
    (4)امام ذہبی نے "تاریخ الاسلام :28/351" میں موضوع کہا ہے۔
    (5)علامہ ابن الجوزی نے "الموضوعات: 2/576 " میں اسے موضوع کہا ہے۔
    (6)حافظ ابن حجر عسقلانی نے" تبیین العجب:35" میں موضوع کہا ہے۔
    (7)علامہ البانی نے اس معنی کی ایک اور روایت کہ رجب اللہ کا مینہ ہے، جو رجب کی تعظیم کرے وہ اللہ کی تعظیم کرتا ہے، کو "السلسلۃ الضعیفہ :6188 " میں موضوع کہا ہے۔
    خلاصہ یہ ہے کہ جس حدیث میں یہ کہاگیا ہے کہ رجب اللہ کا مہینہ ہے وہ حدیث گھڑی ہوئی اور موضوع ہے اس لئے اس حدیث کو بیان کرنے سے بچیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی طرف اس کی نسبت ثابت نہیں ہے اور آپ ﷺ کا فرمان ہے:
    مَنْ كَذَبَ عَلَي مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ (صحیح البخاري:1291،صحیح مسلم:933)
    ترجمہ: جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے۔
    مذکورہ بالا حدیث کی روشنی میں مسلمانوں کو ڈرنا چاہئے اور کوئی بھی جھوٹی بات رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرنے سے اللہ کا خوف کھانا چاہئے ۔
    ویسے سارے مہینے اللہ نے بنائے ہیں تو یہ سارے مہینے بھی اللہ کے ہی ہوئے اس لئے صرف رجب کو خاص کرکے یہ کہنا یہ اللہ کا مہینہ ہے ، غلط ہےکیونکہ اس کی کوئی صحیح دلیل نہیں ہے۔ ہاں صحیح حدیث سے یہ ثابت ہے کہ محرم اللہ کا مہینہ ہے ، صحیح مسلم کی حدیث ہے، ‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ، وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ.(صحیح مسلم:1163)
    ترجمہ:افضل سب روزوں میں رمضان کے بعد محرم کے روزے ہیں جو اللہ کا مہینہ ہے اور بعد نماز فرض کے تہجد کی نماز ہے۔
    گویا بدعتی اس مہینہ میں مخصوص بدعی اعمال انجام دینے کے لئے جو بنیاد بناتے ہیں وہ بنیاد ہی غلط ہے، بلاشبہ رجب حرمت والا مہینہ ہے مگر اس مہینہ میں کوئی مخصوص عمل یا عبادت کرنے کا ثبوت نہیں ہے، اس ماہ سے متعلق جو بھی مخصوص اعمال اور ان کے فضائل بیان کئے جاتے ہیں ، ان میں سے کوئی بھی حدیث ثابت نہیں ہے۔جس طرح آپ رجب سے پہلے دیگر مہینوں میں عبادات انجام دیتے تھے اسی طرح اس ماہ میں بھی عبادات کریں ، ساتھ ہی یہ حرمت والا مہینہ ہے تو گناہ و معصیت اور ظلم و فساد سے پرپیز کریں، اس ماہ کی حرمت کا تقاضہ تو یہ کہ بدعتی اعمال انجام نہ دئے جائیں مگر بدعتی مسلمان الٹا طرح طرح کی بدعات انجام دیتے ہیں اور اس ماہ کی حرمت پامال کرتے ہیں ۔ اللہ ہم سب کو بدعات و خرافات سے بچائے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 1
  2. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    592
    بالکل بجا فرمایا آپ نے
    بدعتی لوگوں کی عقل ٹھکانے پر نہیں رہتی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    592
    آمین
     
  4. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,490
    کیا شب معراج ٢٧ رجب کو ہی ہے؟اور اگر ٢٧ رجب ہی ہو ...تو کیا قرآن و حدیث میں اس رات کی مخصوص عبادات کا کوئ ذکر یا تعامل صحابہ کرام ؓ سے کوئ ثبوت ملتا ہے.!!
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں