حافظ زبیرعلی زئی کی تحریروں میں علم وادب کی بعض لغزشیں

شاہد نذیر نے 'متفرقات' میں ‏جنوری 19, 2025 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    799
    حافظ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ کی تحریروں میں پائی جانے والی علم وادب کی بعض لغزشیں
    علمی اور تحقیقی تحریروں کا بھی اپناایک معیار ہوتا ہےاس میں سطحی محاوروں اورعام باتوں سے اجتناب برتنا چاہیےتاکہ تحریر کا وقار مجروح نہ ہو مجھے بہت افسوس سے یہ بات کہنی پڑتی ہے کہ حافظ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ کا انداز تحریر اتنا سادہ اور عام ہے کہ اردو زبان وادب کااچھا ذوق رکھنے والا قاری جب ان کی تحریروں کے بعض مقامات کا مطالعہ کرتا ہے تو حیا اور ناگواری محسوس کئے بغیر نہیں رہ پاتا ۔مثال کے طور پر حافظ صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
    چارپائی پر جس طرف سے بھی لیٹیں گے، ازاربند درمیان میں ہی آئے گا۔(تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات، جلد چہارم، صفحہ 246)
    بہت ہی عامیانہ محاورہ ہے حتی کہ راقم کو پڑھتے ہوئے نا خوشگوار حیرت ہوئی۔ حافظ صاحب اپنی سادگی میں اسے تحریر کرگئے کیونکہ ان کے ماحول اور علاقے میں اس محاورے میں یقیناً کوئی قباحت نہیں ہوگی جبکہ ہمارے گھروں میں ازار بند اور شلوار وغیرہ کا اس طرح ذکر جو ذو معنی بھی ہو انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے۔
    حافظ زبیر علی صاحب رحمہ اللہ اپنی تحریر میں خوبصورتی پیدا کرنے کے لئے ایک شعر کا استعمال کرتے ہیں: آنکھیں ہیں اگر بند تو پھر دن بھی رات ہے اس میں سورج کا بھلا کیا قصورہے(تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات، جلد چہارم، صفحہ 229)
    انتہائی سطحی اور غیر معیاری شعر ہے جو کہ حافظ زبیرعلی زئی کی عالمانہ شان سے مطابقت نہیں رکھتا۔ان کا شعری انتخاب عام لوگوں سے بہتر ہونا چاہیے تھا۔ راقم الحروف تو جن علماء کو جانتا ہے ان کا شعری ذوق بہت عمدہ ہے شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ درس نظامی میں ان کا واسطہ عربی شعراء اور ان کی شاعری سے بھی پڑتا ہے جس سے ان میں شعر سمجھنے کی استعداد پیدا ہوتی ہے اور ان کا شعری انتخاب بھی بہتر ہوجاتاہے۔بہرکیف مذکورہ بالا شعر نہ تو کسی معروف شاعر کا کلام ہے اور اگر اسے محاورہ سمجھا جائے تو اس کا اندراج تلاش بسیار کے باوجودراقم کو اردو محاوروں میں دستیاب نہیں ہوسکا۔ ستم تو یہ ہے کہ یہ شعر عام طور پر جن الفاظ میں استعمال کیا جاتا ہےاور عام علماء کی تحریروں میں جس طرح نظر آتا ہے حافظ صاحب نے اس میں بھی ترمیم کرکے اسے عام سے بھی عام تر بنا دیا ہے۔ اصل شعر کچھ یوں ہے:
    آنکھیں اگر ہوں بند تو پھر دن بھی رات ہے
    اس میں بھلا قصور ہے کیا آفتاب کا
    آپ اس شعر کا حافظ صاحب کے شعر سے تقابل کریں تو آپ محسوس کریں گے کہ حافظ زبیر علی زئی نے الفاظ کی تاخیرو تقدیم اور تبدیلی سے اس شعر کا اچھا خاصہ حلیہ بگاڑا ہے جس سے کلام میں حسن پیدا ہونے کے بجائے الٹا تحریر بدنما ہوگئی ہے۔ جب اس شعر کی بات چل ہی رہی ہے تو عرض ہے کہ وہ شاعر بیچارہ بدنصیب ہے جس کے شعر کو تقریباً ہر ایک نے ہی غلط استعمال کیا ہے ۔ یہ شعر عموماًدینی کتابوں میں مستعمل ملتا ہے لیکن کہیںبھی راقم نے اسے اصل کے مطابق نہیں پایا۔دراصل یہ شعر شاہ نیاز احمد بریلوی کی غزل سے ماخوذ ہے اس غزل کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
    چادر سے موج کے نہ چھپے چہرہ آپ کا
    برقعہ حباب کا نہ ہو برقعہ حباب کا

    پہنا ہے کچھ تصرف اوہام ہے کہ ہم
    چہرہ پہ حق کے پاتے ہیں پردہ نقاب کا

    آنکھیں مندی ہوئی ہوں تو پھر دن بھی رات ہے
    اس میں قصور کیا ہے بھلا آفتاب کا ​
    دیکھا آپ نے کہ نقل بالکل بھی بمطابق اصل نہیں ہے۔اصل مصنف کے اشعار میں اپنی من مرضی کرکے اسے کچھ سے کچھ بنادینا شاعر کے ساتھ ظلم اور ناانصافی ہے۔ویسے بھی کسی دوسرے کے کلام میں تصرف کرنے کا کسی کو بھی حق حاصل نہیں ہے۔ کم ازکم علماء کوان اخلاقی قدروں کا خیال کرناچاہیے اور کسی کی محنت پر اس طرح پانی نہیں پھیرنا چاہیے۔​
    حافظ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ ایک اورشعر پر تبع آزمائی کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ورنہ پھر یہ مصرع فٹ آجائے گا: ہم تو ڈوبے ہیں صنم تجھے بھی لے ڈوبیں گے!(تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات، جلد چہارم ، صفحہ 273)
    یہ شعر کا وہ مصرع ہے جس نے ضرب المثل کی شکل اختیارکرلی ہے لیکن مکمل شعر اور اس کے شاعر کی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔عرض یہ کرنی ہے کہ شعر کا ایک مخصوص وزن ہوتا ہےجو اسےصحیح معنوں میںشعر بناتا ہے اگر اس میں کوئی بھی لفظ تبدیل کیا جائے تونہ صرف اس کی ترکیب بدل جاتی ہےبلکہ اسکا وزن درہم برہم ہونے سے وہ شعرپھر شعر نہیں رہتا اس کی تاثیرختم ہوجاتی ہےاس لئے شعر نقل کرتے وقت بہت احتیاط کرنی چاہیے اور اصل اور صحیح الفاظ ہی نقل ہوں اس کا خیال رکھنا چاہیے۔اگر جہلاء اس میں احتیاط کو بالائے طاق رکھ دیں تو کوئی حرج نہیں لیکن اہل علم سے ایسی بے احتیاطی سرزد ہو نا باعث حیرت اور افسوس ہے۔اب نامعلوم شاعر کے شعر کایہ اصل مصرع یا ضرب المثل ملاحظہ فرمائیں، محاوروں کی کتابوں اور لغات میں یہ اسی طرح لکھا ہوا ملتا ہے:
    ’’ ہم تو ڈوبے ہیں صنم، تم کو بھی لےڈوبیں گے‘‘
    حافظ زبیرعلی زئی نے اصل مصرع میں موجود ’’تم کو بھی‘‘ کو’’تجھے بھی‘‘ کرکے مصرع کا سارا وزن خراب کردیا ہے۔ شاید اس کا سبب حافظ صاحب کا اشعار وغیرہ سے دلچسپی نہ رکھنا ہے۔ ٹھیک ہے اگر کسی کو شعر وشاعری سے رغبت نہیں ہےتو نہ سہی لیکن جو اشعار وہ اپنی تحریر میں درج کررہا ہے ان کی تھوڑی تحقیق کی مشقت تواٹھالے تاکہ ان کی مٹی پلید نہ ہو وگرنہ دوسری صورت میں یہ مصرعے ، محاورے اور اشعار استعمال کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ کسی چیز کے غلط استعمال سے اس کا نہ استعمال کرنا بہتر ہے۔
    حافظ زبیرعلی زئی لکھتے ہیں: غیرت تھانام جس کاگئی تیمور کے گھر سے (تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات، جلد چہارم ، صفحہ 275)
    اس شعر کے شروع کے الفاظ درست نہیں ہیں۔ یہ علامہ اقبال کی ایک نظم کا مصرعہ ہے جو کہ ان کے مجموعے’’بانگ درا میں شامل ہے۔ نظم کا آخری اور مکمل شعر یہ ہے:
    مگر یہ راز آخر کھل گیا سارے زمانے پر
    حمیت نام ہے جس کا، گئی تیمور کے گھر سے
    راقم کو اس بات کا احساس ہے کہ اس سلسلے میں اکیلے حافظ صاحب کو ہی مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں ہےکیونکہ دیگر علماءنے بھی اس مصرع کو اسی طرح کتابوں میں درج کیا ہے جیسے حافظ صاحب نے لکھاہے لیکن بات یہ ہے کہ دوسروں کی غلطی، لاپرواہی اور جہالت کسی بھی شخص کے لئے غلطی کی سند نہیں بن سکتی کیونکہ ہر شخص پر اسکے الفاظ و تحریر کی انفرادی طورپر ذمہ داری عائد ہوتی ہے جس سے عہدہ برآ ہونے کے لئے اسے خو د ہی کوشش اور جدوجہد کرنی ہے اگر وہ کچھ نہیں جانتا تو اسے متعلقہ ماہرین اور ان اہل علم سے دریافت کر لینا چاہیے جو اس کا علم رکھتے ہیں۔ تھوڑے علم یا لاعلمی کی بنیاد پر چیزوں کو نقل نہیں کرنا چاہیے کیونکہ مکھی پر مکھی مارنے اور سنی سنائی باتوں کو بنا تحقیق اپنی تحریروں کا حصہ بنا لینے سے کوئی اپنی جوابدہی کی ذمہ داری سے فرار نہیں ہوسکتا۔
    علمی اور سنجیدہ تحریروں کی ایک اور فروگذاشت پر نظر ڈالتے ہیں۔ حافظ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: لہٰذا اس اصولی مسئلے میں مفہوم مخالف گھڑ کر اصول کو تار پیڈومارنے کی کوشش مردود ہے۔(تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات، جلد چہارم، صفحہ 227)
    اسی طرح ایک اور مقام پرحافظ صاحب رقمطراز ہیں: لہٰذا جو تخصیص دلیل سے ثابت ہے ، اسے تارپیڈو مارنے کی ہر کوشش رائیگاںجائے گی۔ (تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات، جلد چہارم، صفحہ 214)
    اتنی علمی اور تحقیقی تحریر میں تارپیڈو مارنے جیساعام اورمعمولی محاورہ جچتا نہیں ہے۔بلکہ سرے سے یہ کوئی محاورہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ حافظ صاحب کا اپنا اختراع کردہ انداز ہے۔ تارپیڈو ایک خاص مچھلی کا نام ہے جو برقی رو چھوڑ کر شکار کرتی ہے اسکے علاوہ تارپیڈو اس ہتھیارکو بھی کہتے ہیں جو بحری جہازوں اور آبدوزوں کو نقصان پہچانے کے لئے سمندروں میںمارے یا پھینکے جاتے ہیں۔اردو زبان اور محاورے میں آج تک تار پیڈو مارنے جیسی کوئی ضرب المثل استعمال نہیں ہوئی لہٰذا یہ اردو زبان کی تخلیق اور اس میں تبدیلی کی نادانستہ کوشش ہے ۔ اس مذموم عمل سے اجتناب ضروری ہے کیونکہ اردو کا دامن بہت وسیع ہے جس میں نہ محاوروں کی کوئی کمی ہے اور نہ اپنے جذبات کی ترجمانی کے لئے مناسب الفاظ کی کوئی قلت۔ ایک عالم کو اپنے مقام اور تحقیقی کام کی اہمیت کو پیش نظر رکھتےہوئے صرف معیاری اور مناسب محاورے ہی استعمال کرنے چاہیں تاکہ ایک علم وادب سے محبت کرنے والا قاری کوفت اور بے زاری میں مبتلا نہ ہو۔
    عام طور پر عالم کا تعلق کسی بھی قوم و زبان سے ہو لیکن کسی بھی مخصوص زبان میں تحریر لکھتے ہوئے وہ اس زبان کے حسن اور اسکے خالص پن کا خیال کرتے ہوئے اپنی مادری زبان اور علاقائی محاوروںکے استعمال سے پرہیز کرتا ہے کیونکہ ہرقاری کے لئے بہت ہی مشکل ہے کہ وہ مصنف کی مادری زبان سے بھی واقفیت رکھتا ہو اس لئے پڑھنے والے کے لئے بہت سے مقامات اور باتوں کو سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے اوراسی وجہ سے بعض اوقات تحریر کا مزہ بھی کرکرا ہوجاتا ہے۔راقم الحروف نے خاص طور پر پنجابی ادیبوں اور مصنفوں کو دیکھا ہے کہ اردو تحریر لکھتے ہوئے بلاتکلف پنجابی محاوروں اور زبان کو استعمال کرلیتے ہیں جبکہ اردو پڑھنے والا پنجابی بھی جانتا ہو یہ ضروری نہیں۔ راقم الحروف کے نزدیک کسی بھی تحریر کا یہ نقص اور خامی ہے کہ وہ جس زبان میں لکھی گئی ہو اس زبان کو جاننے والا بھی کئی مقامات پر اجنبی کہاوتوں اور محاورات پر ہکا بکا رہ جائےاور مصنف کا مدعا سیدھااس کے سر پر سے گزر جائے۔حافظ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ کی تحریروں میںبھی یہ لاپرواہی نظر آتی ہے جو تحریر کی خوبصورتی کو ماند کردیتی ہےکہ انتہائی سنجیدہ، علمی اور تحقیقی تحریر لکھتے ہوئے وہ بڑی آسانی سے اپنی مادری زبان اور اپنے علاقے میں رائج محاوروں کا استعمال کرلیتے ہیں اگرچہ خوش قسمتی سے راقم السطور کی مادری زبان پنجابی ہے جس کی وجہ سے حافظ صاحب یا دیگر ادیبوں کی تحریروں کو سمجھنے میں کوئی دقت یا پریشانی نہیں ہوتی لیکن ایسی جگہوں پر راقم ہمیشہ یہ سوچتا اور افسوس ضرور کرتا ہے کہ جسے پنجابی نہیں آتی اس شخص نے کیسے تحریر کے اس مقام کو سمجھا ہوگا وہ بیچارہ تو تشنہ ہی رہ گیا ہوگا کیونکہ لغت کے استعمال یا انٹرنیٹ کے ذریعے بھی اسے ان کے معنوں کا علم نہیں ہواہوگا۔حافظ زبیرعلی زئی ایک جگہ رقمطراز ہیں: اگر حوالہ بالکل باطل اور مردود تھا تو پھر عباس رضوی کو کیا چٹی پڑی تھی کہ سفیان ثوری کی تصریح سماع تلاش کرکے اس کا حوالہ لکھ کر جواب دیا۔ (تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات، جلد چہارم ، صفحہ249)
    یہاں ’’چٹی پڑنا‘‘ پنجابی محاورہ ہے جس کے معنی مصیبت پڑنا ہے۔ راقم نہیں سمجھتا کہ کسی اردو دان کے یہ بات پلّے بھی پڑی ہوگی ہوسکتا ہے کہ قاری کے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہ ہو کہ حافظ صاحب نے یہاں پنجابی محاورہ استعمال کیا ہےوہ بیچارہ یہ سمجھ رہا ہوگا کہ یہ کتابت کی کوئی غلطی ہے حافظ صاحب کچھ اور لکھنا چاہ رہے تھے لیکن کاتب نے کچھ اور لکھ دیا۔ اسی طرح ایک اورجگہ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: چارپائی پر جس طرح سے بھی لیٹیں’’لک وِچکار‘‘ ہی آتا ہے۔ (تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات، جلد چہارم ، صفحہ281)
    پنجابی کے بعض لہجوں میں ’’وِچکار‘‘ کے بجائے ’’وشکار‘‘ کہا جاتا ہےجس کا مطلب درمیان ہے اور ’’لک‘‘ کا مطلب کمر ہےچناچہ یہ محاورے نما جملہ ترجمہ کے ساتھ اس طرح ہے کہ ’’چارپائی پر جس طرح سے بھی لیٹیں کمر درمیان ہی میں آتی ہے‘‘مقام عبرت یہ ہے کہ پنجابی ہونے کے باوجود خود راقم شروع میں اس جملے کو سمجھ نہیں پایا کیونکہ ہمارے ہاں بجائے وچکار کے وشکار بولاجاتا ہےایسی صور ت میں کس طرح یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ ایک غیرپنجابی حافظ صاحب کے اس مخصوص محاورے کو سمجھ سکا ہوگا۔راقم السطور کو اس پر دو بڑے اعتراضات ہیںپہلا یہ کہ محاورہ چاہے کسی زبان کا ہو یا پھرکسی علاقہ کا اپنے اندر گہری معنویت رکھتا ہے یہ زبان سے ادا ہونے والا کوئی عام جملہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے اندرلوگوں کے صدیوں پر مشتمل تجربات اور مشاہدات کا نچوڑ پنہاں ہوتا ہے۔جبکہ حافظ صاحب کا متذکرہ بالا جملہ محاورے کی تعریف پر پورا نہیں اترتا اور محاورے کی خصوصیات اور خوبیوں سے بھی عاری ہےکیونکہ اس میں کسی قسم کی معنویت نہیں پائی جاتی بلکہ یہ ناخواندہ لوگوںکی زبانوں پر جاری رہنے والا وہ جملہ ہے جسے وہ اپنے تئیں بطور محاورہ استعمال کرتے ہیں۔ دوسرا اعتراض اس محاورے کا پنجابی زبان میں ہونا ہےکیونکہ یہ اکثر لوگوں کے ناقابل فہم ہے۔ ویسے راقم السطور کو پنچابی الفاظ اور محاوروں کے استعمال پر کوئی خاص اعتراض نہیں ہے لیکن مصنف کی یہ اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ جب وہ اس طرح کے نامانوس الفاظ استعمال کرے تو بریکٹ میں یا پھر حاشیے میں اس کی وضاحت کردے یا اسکے معنی لکھ دے تاکہ ایک اردو جاننے والا بھی جملوں سے اسی طرح محظوظ ہوسکے جس طرح ایک پنجابی جاننے والا اس سے لطف اٹھاتاہے۔
    حافظ صاحب ایک بریلوی کو نصیحت کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: ذرا اپنی چارپائی کے نیچے لاٹھی پھیر کر بھی دیکھ لیں۔(تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات، جلدچہارم، صفحہ 246)
    یہ اصلاً پنجابی کی مثال یا محاورہ ہے جو کہ یوں ہے’’منجی تھلے ڈانگ پھیرنا‘‘ جبکہ اردو میں ایسی کوئی مثال نہیں ہے۔ حافظ صاحب نے یہاں صرف پنجابی مثال کا ترجمہ کرکے اسے اردو محاورے کا لبادہ پہنایا ہے جوکہ اردو میں پنجابی زبان کے استعمال ہی کی ایک شکل ہے۔ یہ پنجابی محاورہ اس وقت بولا جاتا ہے جب کسی کی کوتاہیوں اور غلطیوں کی طرف اس کی اپنی توجہ مبذول کروانی مقصود ہو یا یوں کہہ لیجئے کہ اسے آئینہ دکھانا مطلوب ہو۔ ایسا نہیں ہے کہ اردو زبان میں اس محاورے کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے بلکہ اردو میں اس کے لئے مناسب محاورہ ’’اپنے گریبان میں جھانکنا ‘‘ہے۔یہاںبڑی آسانی سےپنجابی سےصرف نظر کرتے ہوئے اردو کا محاورہ استعمال کیا جاسکتا تھا۔ راقم کو یقین ہے کہ صرف اردو سے واقفیت رکھنے والوں کو یہ ترجمہ شدہ مثال پسند نہیں آئی ہوگی کیونکہ وہ اس سے قطعاًناواقف اور غیرمانوس ہیں۔
    حافظ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ ایک پنجابی نعتیہ شعر درج کرتے ہیں لکھتے ہیں:
    قدر نبی دا ایہ کی جانن دنیا دار کمینے
    قدر نبی دا جانن والے سوگئے وچ مدینے

    (تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات، جلد چہارم،صفحہ 222)
    راقم عرض کرتا ہے کہ کیاکسی اردو شاعر کا کوئی ایسا نعتیہ کلام نہیں تھا جو یہاں حافظ صاحب کے جذبات کی ترجمانی کرسکتا؟ یقیناً ایسے اردو اشعار کی کمی نہیں تھی لیکن ان کی تلاش کا تردد اٹھانے کے بجائے پنجابی شعر لکھ دیا جبکہ اردو پڑھنے والے کو اسکا کوئی سرپیر سمجھ میں نہیں آیا ہوگا ۔ کیا اردو بولنے والے قاری کا حق نہیں کہ وہ ان اشعار کو سمجھ سکے؟کیونکہ اس نے پنجابی تحریر پڑھنے کا انتخاب نہیں کیا کہ وہ گلہ بھی نہ کرسکے۔وہ اپنی اس شکایت میں حق بجانب ہے کہ مصنف یا قلم کار نے ایک غیرمانوس زبان کے استعمال سے اس پر تحریر کے بعض حصوں کو سمجھنے کا دروازہ بند کرکے اسکے بنیادی حق سے اسے محروم کردیا۔عین ممکن ہے کہ بعض لوگوں کو راقم کا یہ اعتراض بہت ہی معمولی محسوس ہو بلکہ کچھ حضرات کو یہ معاملے کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کی ایک کوشش نظر آئے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ راقم کا اپنا حال یہ ہے کہ جب وہ کسی تحریر،مضمون یا کتاب کا مطالعہ کرتا ہے تو بالکل برداشت نہیں کرتا کہ دوران مطالعہ کوئی لفظ یا جملہ اس کے لئے ناقابل فہم رہ جائے اگر کوئی لفظ نیا ہونے کی وجہ سے سمجھ میں نہ آرہا ہو تو لغت سے اسے سمجھ لیتا ہے تاکہ مصنف کی پوری بات سمجھ میں آسکے ۔ اور اگر اردو میں کسی ایسی غیر مانوس زبان کا جملہ یا لفظ آجائے جولغت میں بھی دستیاب نہ ہواور نیٹ پر بھی نہ ملے تو بہت پریشانی ،کوفت اور الجھن ہوتی ہے۔راقم الحروف سمجھتا ہے کہ ایسی سوچ رکھنے والے اور بہت سےہوں گے لہٰذا اس طرح کے قارئین کا خیال رکھتے ہوئے اجنبی زبان اور محاوروں کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے تاکہ ہر قاری مصنف کی بات کوپوری بصیرت کے ساتھ ٹھیک ٹھیک سمجھ سکے۔
    فارسی، عربی اور انگریزی لفظوں اور جملوں کا استعمال ہمیں اردو تحریروں میں عام نظر آتا ہے لیکن بات یہ ہے کہ عام طور پر اردو دان لوگ متذکرہ زبانوں کے ان لفظوں، اشعار یا محاوروں سے واقف ہوتے ہیں اور اگر نہ بھی واقف ہوں تو لغات کے استعمال یا پھر انٹرنیٹ اور موبائل پر ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمے کی سہولت سے فائدہ اٹھاکر وہ ان زبانوں کے الفاظ وجملوں کوآسانی سے سمجھ سکتے ہیںجبکہ پنجابی زبان کا معاملہ دوسری زبانوں سے الگ نوعیت کا ہے۔ پنجابی زبان کو حقیر سمجھ کر لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے اورپنجابی زبان کی کوئی لغت مارکیٹ، کتب خانوں یا پھر انٹرنیٹ پر دستیاب نہیں اس کے علاوہ زبانوں کے تراجم کے جو (softwares) پروگرام انٹرنیٹ پر موجود ہیں ان میں دنیا میں بولی جانے والی ہر قابل ذکر زبان شامل ہے لیکن اس میں بھی پنجابی زبان کا نام و نشان نہیں ہے۔مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کی مادری زبان پنجابی نہیں تو اس کے لئے اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ وہ اردو تحریروں میں استعمال شدہ پنجابی کو سمجھ سکے۔تو پھراگر اردو بولنے والےقاری کے لئے پنجابی قابل فہم ہی نہیں تو پھر اس کے استعمال کا فائدہ اور مقصد ہی کیا ہے؟ کیا قاری کو الجھن، پریشانی اور مصیبت میں ڈالنا؟!
    اب اس بحث کا ایک اور پہلو ملاحظہ فرمائیں،حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ اپنی ایک تحریر میں پشتو زبان کا استعما ل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ایک پختون شاعر(حافظ الپورئ)نے کیا خوب کہا ہے:
    نُور دَنوربنا پیرک تہ لیدےنہ شی
    دےکورچشمہ پہ نُوَر داغ دَ تھمت ردی

    (تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات، جلد چہارم، صفحہ275)
    فائدہ: یاد رہے کہ پاکستان کے کچھ علاقے ایسے ہیں جوصوبہ پنجاب اورصوبہ سرحد کے درمیان میں واقع ہیں ۔ اسکے سبب وہاں کے لوگ عموماً پنجابی اور پشتو دونوں زبانوں کو بول اور سمجھ سکتے ہیں۔حافظ زبیرعلی زئی کا علاقہ حضرو بھی ایک ایسا ہی علاقہ ہے جو راولپنڈی اور پشاور کے درمیان میں ہے۔
    یہاں حافظ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ نے اس بات کا دھیان رکھتے ہوئے کہ ہر کوئی اس پشتو شعر کا مفہوم سمجھ نہیں پائے گا اردو میں اس کا مفہوم پیش کیا ہے، چناچہ لکھتے ہیں: مفہوم: سورج کی روشنی چمگادڑ نہیں دیکھ سکتا ، یہ اندھا(اپنے اندھے پن کی وجہ سے) سورج پر تہمت کا داغ لگاتا ہے۔ (ایضاً)
    جو وجہ پشو کا اردو میں مفہوم پیش کرنے کا سبب بنی وہ تمام تر وجوہات پنجابی میں بھی موجود ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ ایک زبان کا ترجمہ کرنا ضروری سمجھا گیا اور ایک زبان کو نظرانداز کردیا گیا۔ اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ پنجابی سمجھنے والے زیادہ ہیں تو یہ کوئی مناسب عذر نہیں کیونکہ صوبہ سرحدوالوں کی زبان ہی پشتو ہے اس کے علاوہ ان پنجابیوں کی ایک معقول تعداد علیحدہ ہے جو ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھتی ہے یا پنجاب سے خیبرپختونخواہ کی ملنے والی سرحد پر مقیم ہے اور بیک وقت پنجابی اور پشتو زبان پر عبور رکھتی ہے اس طرح پشتو زبان سمجھنے والوں کی بھی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو پنجابیوں سے زیادہ نہیں تو ان سے کم بھی نہیں ہے۔ بہرحال یہ مصنف کا تساہل اور لاپرواہی ہےکہ انہوں نے اردومفہوم یا ترجمے کی زحمت گواراکئےبغیر اپنی تحریروں میں جابجا پنجابی زبان کا استعمال کیا ہے اس حقیقت سے بے نیاز ہوکر کہ یہ عمل تحریر کے حسن کو گہنا دینے کی وجہ بنے گا کیونکہ بہت سے قارئین کے لئے یہ ایک ایسامعمہ ثابت ہوگا جو سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔
    انداز تحریر کا یہ مسئلہ واحد زبیرعلی زئی رحمہ اللہ کے ساتھ نہیں بلکہ یہاں تو آوے کاآوا ہی بگڑا ہوا ہے چونکہ اکثر ادیبوںکی زبان پنجابی ہے اس لئے وہ اپنی اردو تحریروں میں بھی اپنی مادری زبان کے استعمال میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے جبکہ صرف اردو سمجھنے اور بولنے والوں کے جذبات اور مشکلات کی انہیں چنداں فکر نہیں۔ ادیب کو ایک طرف رہے یہاں تو اردو زبان کے شعراء تک اپنے اشعار میں پنجابی زبان کے الفاظ بلا تکلف استعمال کرلیتے ہیں جبکہ شاعری میں اس کی گنجائش بہت کم یا نہ ہونے کے برابر ہوتی ہےمنیرنیازی اوراحمد فرازکو اس سلسلے میں نقاد کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔مشہور ادیب مستنصر حسین تارڑ کے اردو کالم پر مشتمل ایک کتاب بنام’’ہزاروں ہیں شکوے‘‘ شائع ہوئی ہے جس میں انہوں نے متعدد پنجابی لفظوں کابے دھڑک استعمال کیا ہےجس میں ایک ٹھیٹ پنجابی لفظ ــ’’کتورا‘‘ بھی ہےایک جگہ تو انہوں نے اپنے کالم کا عنوان ہی’’کتورا پرابلم‘‘ رکھا ہے۔ شاید ہمارے اس طرح کے ادیب یہ سمجھتے ہیں کہ ہراردو پڑھنے والا ضرور ہی پنجابی زبان سے بھی واقف ہوتا ہے اس لئے اس کو سمجھنا مشکل نہیں ہوگا کہ پنجابی میں کتورا کتّے کے پلّے یا بچے یعنی (Puppy) کو کہتے ہیں یا پھر ان کا خام خیال یہ رہا ہو کہ ان کے اردو کالم صرف پنجاب ہی میں پڑھے جائیں گےاور صرف پنجابی ہی ان کے انتخاب الفاظ کا مزہ اٹھائیں گے۔اس امکان سے راقم کو انکار نہیں کہ ان ادیبوں، شاعروں اور عالموں کے پاس اپنے اس انداز کی کوئی معقول وجہ ہوگی لیکن راقم الحروف نے اپنا نقطہ نگاہ پڑھنے والوں کے سامنے رکھ دیا ہے اب چاہے یہ صحیح ہے یاغلط قارئین کو اس سےاتفاق یا اختلاف کا پورا حق حاصل ہے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں