خطبہ حرم مدنی دعا کے فضائل و آداب از ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن البعیجان حفظہ اللہ 15 شوال 1447ہجری

شفقت الرحمن نے 'خطبات الحرمین' میں ‏اپریل 6, 2026 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    770


    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ البعیجان حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 15شوال 1447ہجری کا خطبہ جمعہ " دعا کے فضائل و آداب" کے عنوان پر ارشاد فرمایا یہ خطبہ رب کے ساتھ کامل وابستگی اور دعا کی عظمت کو واضح کرتا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ انسان ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے، وہی خالق، رازق، شفا دینے والا اور حاجات پوری کرنے والا ہے۔ دعا کو عبادت کا جوہر قرار دیا گیا ہے، جو نعمتوں کے حصول اور مصیبتوں کے ازالے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ خطبہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ بندہ ہر حال میں اللہ ہی سے مانگے اور اسی پر بھروسا کرے، کیونکہ تمام نفع و نقصان اسی کے اختیار میں ہے۔ دعا کے آداب بھی بیان کیے گئے ہیں، جیسے اخلاص، عاجزی، یقین، اور گناہ یا ظلم کی دعا سے اجتناب۔ مزید یہ کہ قبولیت کے خاص اوقات اور مواقع کا ذکر کیا گیا ہے، جیسے سجدہ، جمعہ کا وقت، رات کا آخری حصہ اور لیلۃ القدر وغیرہ۔ آخر میں اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ خوشحالی میں کثرت سے دعا کرنے والا ہی مصیبت میں اللہ کی مدد پاتا ہے، اور بندے کو ہر حال میں اللہ سے تعلق مضبوط رکھنا چاہیے۔ آخر میں انہوں نے جامع دعا کروائی۔

    پہلا خطبہ:
    حمد و صلاۃ کے بعد:

    بعد ازاں:

    لوگو! انسان اپنے رب اور اپنے مولیٰ کا محتاج اور اس کا سخت ضرورت مند ہے؛ وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا، اسے درست اور متوازن بنایا، اس میں روح پھونکی اور اسے زندگی عطا کی، اسے رزق دیا، اسے نوازا اور غنی بنایا، اسے کھلایا اور پلایا، اسے ڈھانپا اور لباس پہنایا، اسے شفا دی اور عافیت بخشی۔ (وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ) ’’اور جب تمہیں سمندر میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ کے سوا جنہیں تم پکارتے ہو وہ سب گم ہو جاتے ہیں۔‘‘ (الإسراء: 67)، اور اسی طرح فرمایا: (وَمَا مِنْ دَابَّةٍ في الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ في كِتَابٍ مُبِينٍ) ’’اور زمین میں چلنے والے ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذمے ہے، اور وہ اس کے ٹھکانے اور اس کے دفن کیے جانے کی جگہ کو بھی جانتا ہے، سب کچھ ایک واضح کتاب میں درج ہے۔‘‘ (هود: 6)

    اللہ کے بندو! سائلین کی دعائیں قبول کرنا اور حاجت مندوں کی ضروریات پوری کرنا صرف رب العالمین ہی کے اختیار میں ہے؛ وہی ہر منگتے کو نوازتا ہے، ہر امیدوار کو عطا کرتا ہے، اس کے خزانے کبھی کم نہیں ہوتے اور نہ ہی اس کے پاس موجود نعمتیں ختم ہوتی ہیں۔ لوگوں کی ضروریات نہ گنتی میں آ سکتی ہیں، نہ کسی حد پر رکتی ہیں، اور نہ ہی ان سب کا احاطہ یکتا اور تنہا اللہ تعالی کے سوا کوئی کر سکتا ہے۔

    سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’ میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے، لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ میرے بندو! تم سب گمراہ ہو سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، پس تم مجھ سے ہدایت مانگو، میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں، لہٰذا تم مجھ سے کھانا مانگو، میں تمہیں کھلاؤں گا۔ میرے بندو! تم سب ننگے ہو سوائے اس کے جسے میں پہناؤں، اسی لیے تم مجھ سے لباس مانگو، میں تمہیں لباس پہناؤں گا۔ میرے بندو! تم رات دن گناہ کرتے ہو اور میں سب گناہ بخش دیتا ہوں، لہٰذا تم مجھ سے مغفرت طلب کرو، میں تمہیں بخش دوں گا۔ میرے بندو! تم نہ مجھے نقصان پہنچا سکتے ہو، اور نہ مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو۔ میرے بندو! اگر تم میں سے اگلے اور پچھلے، انسان اور جن سب کے سب ایک شخص کے دل کی طرح سب سے زیادہ متقی ہو جائیں تو اس سے میری بادشاہی میں کچھ اضافہ نہیں ہو گا۔ اور اگر تم سب ایک ہی شخص کے دل کی طرح سب سے زیادہ بد کار ہو جاؤ تو اس سے بھی میری بادشاہی میں کچھ کمی نہیں ہو گی۔ اے میرے بندو! اگر تم سب ایک میدان میں کھڑے ہو جاؤ اور مجھ سے مانگو، اور میں ہر ایک کو اس کی مراد دے دوں تو میرے پاس موجود خزانے میں اتنی بھی کمی نہ ہو گی جتنی سمندر میں سوئی ڈالنے سے ہوتی ہے۔ میرے بندو! یہ تمہارے ہی اعمال ہیں جنہیں میں تمہارے لیے شمار کرتا ہوں، پھر تمہیں ان کا پورا بدلہ دوں گا؛ پس جو بھلائی پائے وہ اللہ کا شکر ادا کرے، اور جو اس کے سوا کچھ پائے تو وہ اپنے سوا کسی کو ملامت نہ کرے۔‘‘ [صحیح مسلم]

    لوگو! دعا ہی اصل عبادت ہے، اور یہ عظیم ترین نیکی اور اعلی ترین اطاعت ہے۔ اس کی شان بہت بڑی اور اس کا فائدہ نہایت وسیع ہے۔ یہی وہ مؤثر ترین ذریعہ ہے جس کے ذریعے نعمتیں حاصل کی جاتی ہیں، اور اسی کے ذریعے مصیبتوں اور آفتوں کو روکا جاتا ہے۔ دعا حاجت روائی، حصولِ مقاصد ، درجات کی بلندی، ہر خیر کے ملنے اور ہمہ قسم کی مشکل کشائی کا سب سے بڑا دروازہ ہے۔

    دعا مصیبتوں میں مومن کی ساتھی اور سختیوں کے وقت تسلی کا ذریعہ ہے۔ اسی کے ذریعے مظلوم کی مدد ہوتی ہے، کیونکہ اس کی دعا اور اللہ کے درمیان کوئی روکاٹ نہیں ہوتی۔ دعاؤں سے حاجتیں پوری ہوتی ہیں اور بلائیں اور سزائیں ٹل جاتی ہیں۔ اور تقدیر کو بھی دعا کے سوا کوئی چیز نہیں ٹال سکتی۔ اس لیے توجہ کریں! اللہ کی طرف دعا کے ذریعے رجوع کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے بڑھ کر کوئی چیز معزز نہیں۔ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاؤ اور خالص اللہ کے لیے دین کو یکسو کرتے ہوئے اسی کو پکارو۔

    اور اپنے رب کو عاجزی اور آہستگی کے ساتھ پکارو؛ کیونکہ بندہ اپنے رب سے اپنی حاجت مانگنے سے بے رغبت ہو جائے یہ کمزوری اور محرومی کی بات ہے، حالانکہ اللہ تعالی نے ہی اسے مانگنے کا حکم دیا ہے اور پھر قبولیت کا وعدہ بھی فرمایا ہے، وہ بڑا کریم، نہایت مہربان، بے نیاز، قدرت والا اور عظمت والا ہے۔ اس کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے، اور اس کے دونوں ہاتھ کشادہ ہیں، وہ جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔

    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:{ يَدُ اللَّهِ مَلْأَى لَا يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ، سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ. وَقَالَ: أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا في يَدِهِ } ’’اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے، خرچ کرنا اسے کم نہیں کرتا، وہ رات دن لگاتار عطا فرماتا رہتا ہے۔ آپ نے فرمایا: کیا تم نے دیکھا ہے کہ جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، اس نے کتنا کچھ خرچ کیا ہے؟ پھر بھی اس کے ہاتھ میں جو کچھ ہے اس میں کوئی کمی نہیں آئی۔‘‘ [صحیح بخاری]

    دوسرا خطبہ:
    اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان کی حاجتیں پوری کرتا ہے، انہیں دعا کرنے کا حکم دیا، ان سے قبولیت کا وعدہ کیا، اور جسے چاہا اس کی توفیق بھی عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ) ’’اور تمہارے رب نے فرمایا: مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا‘‘ (غافر: 60)، اور فرمایا: (وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ) ’’اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو میں قریب ہوں، دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے، انہیں چاہیے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر بھر پور اعتماد رکھیں تاکہ وہ ہدایت پائیں‘‘ (البقرہ: 186)۔

    سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (مَا عَلَى الْأَرْضِ مُسْلِمٌ يَدْعُو اللَّهَ بِدَعْوَةٍ إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ إِيَّاهَا أَوْ صَرَفَ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا، مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِذًا نُكْثِرُ. قَالَ: "اللَّهُ أَكْثَرُ")’’زمین پر کوئی مسلمان جب تک گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے اللہ تعالی اسے منہ مانگی چیز عطا فرماتا ہے یا اس کے بدلے اس سے اتنی ہی برائی دور کر دیتا ہے۔‘‘ اس پر ایک شخص نے عرض کیا: تب تو ہم زیادہ دعا کریں گے! آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ اس سے بھی زیادہ عطا فرمائے گا۔‘‘ [ترمذی]

    لوگو! دعا کے لیے بہترین اوقات تلاش کرو، تبھی دعا کی قبولیت کا امکان بڑھ سکتا ہے، اور ہماری منہ مانگی دعائیں قبول ہو سکتی ہیں۔ بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے میں ہوتا ہے، لہٰذا دوران سجدہ خوب دعا کیا کرو۔ اور جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے کہ جس میں کوئی مسلمان اللہ سے بھلائی مانگے تو اللہ اسے ضرور عطا فرماتا ہے۔ اسی طرح رات کے آخری تہائی حصے میں اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے: کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ میں اسے عطا کروں؟ اور اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں کی جاتی۔ اور لیلۃ القدر قبولیت کے لیے زیادہ امید والی رات ہے۔ نیز جن دعاؤں کے قبول ہونے کی خاص امید ہے ان میں: روزے دار کی دعا، مسافر کی دعا، مظلوم کی دعا، والد کی دعا، لاچار کی دعا، نیک آدمی کی دعا، اور مسلمان کی اپنے بھائی کے لیے غائبانہ دعا شامل ہیں۔

    اللہ کے بندو! دعا عبادت ہے، لہذا صرف اللہ ہی دعا کریں ، دعاؤں کی قبولیت میں اللہ تعالی کا کوئی شریک نہیں۔ خوشحالی کے وقت اللہ کو پہچانو، وہ تنگی اور مصیبت میں تمہارے ساتھ ہو گا۔ آسانی میں اس کے ساتھ رہو، وہ سختی میں تمہارا ساتھ دے گا۔

    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دن رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ( يَا غُلَامُ إِنِّي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ: احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ، إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ. وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ) ’’لڑکے! میں تمہیں چند باتیں سکھاتا ہوں: اللہ کی حفاظت کرو، وہ تمہاری حفاظت کرے گا۔ اللہ کو یاد رکھو، تم اسے اپنے سامنے پاؤ گے۔ جب بھی مانگو تو اللہ ہی سے مانگو، اور جب بھی مدد چاہو تو اللہ ہی سے مدد چاہو۔ اور یاد رکھو! اگر پوری امت تمہیں کوئی فائدہ پہنچانے کے لیے یکجان ہو جائے تو وہ تمہیں صرف اتنا ہی فائدہ پہنچا سکتی ہے جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ اس بات پر جمع ہو جائے کہ تمہیں کوئی نقصان پہنچائے تو وہ تمہیں صرف اتنا ہی نقصان پہنچا سکتی ہے جو اللہ نے تمہارے خلاف لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھا لیے گئے اور صحیفے خشک ہو چکے ہیں۔‘‘ [ترمذی]

    اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَسْتَجِيبَ اللَّهُ لَهُ عِنْدَ الشَّدَائِدِ وَالْكُرَبِ فَلْيُكْثِرِ الدُّعَاءَ في الرَّخَاءِ)’’جسے یہ بات پسند ہو کہ اللہ اس کی دعا سختیوں اور مصیبتوں کے وقت بھی قبول کرے تو اسے چاہیے کہ خوشحالی کے وقت کثرت سے دعا کیا کرے۔‘‘ [ترمذی]

    اللہ کے بندو! دعا کی قبولیت کا ایک سبب یہ ہے کہ اللہ کی طرف رجوع سچا ہو، اس میں عاجزی اور خشوع اختیار کیا جائے، اور انتہائی فروتنی اور انکساری کے ساتھ دعا کی جائے، اور دعا میں حد سے تجاوز نہ کیا جائے۔ لہذا نہ اپنے خلاف بد دعا کرو، نہ اپنی اولاد کے لیے، اور نہ اپنے مال کے لیے۔ کوئی شخص ظلم، گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے۔ جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو اپنی آواز پست رکھے اور قبولیت کی پختہ امید رکھے۔ مسلمان پر لازم ہے کہ دعا کرتے ہوئے پوری کوشش کرے، اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ اسے قبول کرتا ہے، سنتا ہے اور جواب دیتا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی نے اس کا وعدہ فرمایا ہے اور اللہ تعالی وعدہ خلافی نہیں فرماتا ۔ چنانچہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (ادْعُوا اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَةِ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَجِيبُ دُعَاءً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاهٍ) ’’اللہ سے دعا کرو اس حال میں کہ تمہیں قبولیت کا پورا یقین ہو، اور جان لو کہ اللہ ایسی دعا قبول نہیں کرتا جو غافل اور بے توجہ دل کے ساتھ کی جائے۔‘‘ [ترمذی]

    پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ یا پرنٹ کرنے کے لیے کلک کریں۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں