خطبہ حرم مدنی " اسمائے حسنی کی معرفت؛ حقیقی سعادت" از خالد بن سلیمان المھنا، 22 شوال 1447 ہجری

شفقت الرحمن نے 'خطبات الحرمین' میں ‏اپریل 16, 2026 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    763

    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر خالد بن سلیمان المھنا حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 22 شوال 1447ہجری کا خطبہ جمعہ " اسمائے حسنی کی معرفت؛ حقیقی سعادت" کے عنوان پر ارشاد فرمایا ، یہ خطبہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ انسان کی حقیقی خوشی، سکون اور کامیابی اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کی صحیح معرفت میں مضمر ہے۔ بندہ جتنا اپنے رب کو پہچانتا ہے، اتنا ہی اس کی محبت، خشیت اور اطاعت میں آگے بڑھتا جاتا ہے، اور یہی معرفت اس کی زندگی کو سنوار دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی پہچان اپنے اسمائے حسنیٰ، صفاتِ کاملہ، اپنی کتاب اور کائنات کی نشانیوں کے ذریعے کروائی ہے۔ ان ناموں اور صفات کو جاننا ایمان کی بنیاد اور دلوں کی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔ چنانچہ اسمائے حسنیٰ اللہ تعالی کی کامل صفات پر دلالت کرتے ہیں، اور ان کا صحیح احصاء (یاد کرنا، سمجھنا اور ان پر عمل کرنا) دخولِ جنت کا سبب بنتا ہے۔ مزید یہ کہ اسمائے حسنیٰ کی معرفت انسان کے دل میں مختلف ایمانی کیفیات پیدا کرتی ہے، مثلاً: رحمت کی صفات امید پیدا کرتی ہیں، عذاب کی صفات خوف پیدا کرتی ہیں، اور دیگر صفات اطاعت، اخلاص، توکل اور خشوع کو مضبوط کرتی ہیں۔ یوں بندہ توازن کے ساتھ اللہ کی طرف بڑھتا ہے۔ آخر میں نبی کریم ﷺ پر درود و سلام کی تلقین اور امتِ مسلمہ کے لیے جامع دعائیں کی گئی ہیں، جن میں مسلمانوں کی عزت، مظلوموں کی نصرت اور امن و استحکام کی دعا شامل ہے۔

    پہلا خطبہ:
    ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو یکتا اور بے نیاز ہے؛ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے، اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہے۔ اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ تخلیق اور پھر ترتیب اسی کے اختیار میں ہے، اسی کے ہاتھ میں نفع و نقصان ہے، اس جیسی کوئی چیز نہیں، اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ اور کامل ترین درود و سلام ہوں ہمارے نبی اور سردار محمد ﷺ پر، جو خوشخبری دینے والے، ڈرانے والے اور روشن چراغ ہیں۔

    بعد ازاں:

    اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اس کا خوف دل میں رکھو، اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ؛ (وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ) ’’اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ سے ڈرے اور تقویٰ الہی اختیار کرے، تو یہی لوگ کامیاب ہیں۔‘‘ (النور: 52)

    مسلم اقوام! انسان کو اس طرح پیدا کیا گیا ہے کہ وہ پاکیزہ زندگی کا خواہش مند، سکون کا طالب اور خوشی کا متلاشی ہوتا ہے، لیکن یہ سب کچھ اسے اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب وہ اپنے رب کا بندہ بن جائے، ایسی بندگی کے ذریعے جس میں کامل محبت کے ساتھ اس کے سامنے جھکنا اور اس کے حکم کے آگے سرِ تسلیم خم کرنا شامل ہو؛ تاکہ وہ مقصد پورا ہو جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے جن و انس کو پیدا فرمایا ہے، جیسا کہ اس کا فرمان ہے: (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ) ’’اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے‘‘ (الذاریات: 56)۔

    پھر بندہ اس وقت تک حقیقی عبودیت حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنے رب کو پہچان نہ لے؛ چنانچہ جو اپنے رب کو جتنا زیادہ پہچانتا ہے، وہ اتنی ہی زیادہ اس کی عبادت کرتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے رسول بھیجے اور کتابیں نازل کیں، تاکہ لوگ اپنے رب اور اپنے مالک کو پہچان سکیں۔ اسی لیے یہ معرفت تمام معرفتوں سے افضل، بلند اور باعزت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی معرفت ہی اسلام کی بنیاد اور ایمان کی اصل ہے۔

    اور اس معرفت کا سب سے عظیم دروازہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ، صفات اور افعال کی پہچان ہے؛ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو اپنے رب کی محبت، اس کی عظمت اور اس کے سامنے عاجزی تک پہنچاتا ہے۔ بندہ جتنا اپنے رب کو پہچانتا جاتا ہے، اتنی ہی اللہ کی محبت اس کے دل میں بڑھتی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو اللہ تعالی کے اسمائے گرامی اور صفات کو زیادہ جاننے والے ہوتے ہیں۔ اسی لیے اللہ کے رسول—علیہم الصلاۃ والسلام—سب سے بڑھ کر اللہ سے محبت کرنے والے تھے، اور ان میں سے بھی خلیلین (ابراہیم اور محمد علیہما الصلاۃ والسلام) سب سے زیادہ محبت رکھنے والے تھے۔

    اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ کی معرفت سے نفس کامل ہوتے ہیں اور پاکیزگی حاصل کرتے ہیں۔ روحیں نعمت پاتی اور بلند ہوتی ہیں، اور اسی معرفت کے ذریعے بندہ احسان کے مقام تک پہنچتا ہے؛ چنانچہ وہ اپنے رب کی اس طرح عبادت کرتا ہے گویا اسے دیکھ رہا ہو۔

    اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی پہچان اس طرح کروائی ہے کہ اس نے اپنی مقدس ذات کے بارے میں اپنی محکم کتاب میں خبر دی، اور رسول اللہ ﷺ کے اللہ کے ناموں، صفات اور افعال کے بارے میں فرامین کے ذریعے بھی، اسی طرح آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور ان میں پھیلی ہوئی اپنی عظیم اور حیرت انگیز کائناتی نشانیوں کے ذریعے بھی، ایسے ہی اپنی ظاہری و باطنی بے شمار نعمتوں کے ذریعے بھی اپنے بندوں کو اپنی معرفت عطا کی؛ یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نام نہایت حسین ہیں، کامل ترین صفات اور ایسے افعال ہیں جو رحمت، مصلحت، حکمت اور عدل کے اعلیٰ درجے پر پہنچے ہوئے ہیں۔ اسی بنا پر وہ اس بات کا مستحق ہے کہ دنیا و آخرت میں اسی کی حمد کی جائے، زمین و آسمان میں اسی کی ایسی تعریف بیان کی جائے جو اس کی کامل محبت کو لازم کر دے؛ کیونکہ وہی سب سے زیادہ ذکر کیے جانے کے لائق ہے، سب سے زیادہ حمد کے قابل ہے، اور سب سے زیادہ عبادت کے مستحق ہے۔ اسی نے اپنی مقدس ذات کے بارے میں فرمایا: (وَلَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَى فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ) ’’اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے سب سے اعلیٰ شان ہے۔‘‘ (الروم: 27)، یعنی اس کی ذات، اس کے ناموں اور اس کی صفات میں کامل ترین کمال ہے۔ اور اس نے اپنی بلند و بالا ذات سے اپنے بندوں کو متعارف کراتے ہوئے اور توحیدِ ربوبیت کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا: (اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى) ’’اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کے لیے بہترین نام ہیں‘‘ (طٰہٰ: 8)۔

    یعنی یہ نام حسن و جمال کے اعلیٰ ترین درجے کو پہنچے ہوئے ہیں؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے نام سب سے بہترین نام ہیں، دلوں اور کانوں پر ان کا نہایت خوشگوار اور گہرا اثر ہوتا ہے، کیونکہ وہ حمد، عظمت اور تعریف کی صفات پر دلالت کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر نام ایک ایسی کامل صفت پر دلالت کرتا ہے جس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں، اسی لیے انہیں ’’حُسنیٰ‘‘ کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان ناموں کو اختیار فرمایا اور اپنے بندوں کے سامنے ظاہر کیا تاکہ وہ انہیں پہچانیں، ان کے معانی میں غور کریں، اور انہی کے ذریعے اللہ کو یاد کریں اور اس کی عبادت کریں۔

    اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس بات کی دعوت دی ہے کہ وہ اس کے ناموں اور صفات کی معرفت میں اپنا حصہ حاصل کریں، اور انہیں توحیدِ الوہیت کی راہ دکھاتے ہوئے فرمایا: (وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا) ’’اور اللہ کے لیے بہترین نام ہیں، پس تم اسے انہی کے ذریعے پکارو‘‘ (الاعراف: 180)، یعنی عبادت اور ثنا کے طور پر اسے انہی ناموں سے یاد کرو، اس کی حمد بیان کرو، اس کا ذکر کرو اور اس کی تعریف کرو، اور دعا و طلب کے طور پر اپنی حاجات کی تکمیل کے لیے انہی ناموں کا واسطہ دو اور اسی کے فضل سے مانگو۔

    مسلمانو! اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ بہت زیادہ ہیں، ان کی صحیح تعداد اللہ تعالی ہی جانتا ہے، جیسا کہ آپ ﷺ کے اس فرمان سے واضح ہوتا ہے: (أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ في كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ في عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ)’’میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے ذریعے سوال کرتا ہوں جو تیرا ہے، جس سے تو نے خود کو موسوم کیا، یا اسے اپنی کتاب میں نازل فرمایا، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا، یا اسے اپنے پاس خاص علمِ غیب میں رکھا۔‘‘

    اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ان میں سے چند ناموں سے ہی آگاہ کیا ہے، اور ان کے ذریعے عبادت کرنے والوں کے لیے جنت کا وعدہ فرمایا، جیسا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: (إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا؛ مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ)’’اللہ کے ننانوے نام ہیں، ایک کم سو؛ جو انہیں شمار کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا‘‘

    پس یہ ننانوے نام اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ معروف، واضح المعنی اور نمایاں نام ہیں، اور انہیں شمار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے الفاظ کو یاد رکھا جائے، ان کے معانی کو سمجھا جائے، اور ان کے تقاضوں کے مطابق اللہ کی عبادت کی جائے؛ یعنی اللہ کی تعظیم و تقدیس کی جائے، اللہ تعالی احکام پر عمل کیا جائے، اور انہی ناموں کے ذریعے اس سے دعا کی جائے۔

    اور ان اسمائے حسنیٰ کی بنیاد پانچ اسمائے گرامی ہیں، جو کہ سورۃ الفاتحہ، یعنی امّ القرآن میں مذکور ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے تمام نام انہی کے ماتحت آتے ہیں:

    ان میں پہلا نام ’’اللہ‘‘ ہے؛ یہ اسمِ جلالہ اور سب سے بڑا نام ہے، جو تمام اسمائے حسنیٰ اور صفاتِ عالیہ کے معانی کو شامل ہے۔ اس کا معنی ہے: وہ معبودِ برحق جس کی الوہیت اور بندگی تمام مخلوق پر لازم ہے، جسے تمام مخلوقات محبت، تعظیم اور عاجزی کے ساتھ مانتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نام کسی اور کا رکھنے سے منع فرمایا ہے، اور نہ ہی کسی اور کو اس نام سے پکارا جا سکتا ہے۔ اسی کو اللہ نے ایمان کی بنیاد، اسلام کا ستون اور اخلاص و حق کی اصل قرار دیا ہے؛ اسی کے نام سے عبادات کا آغاز ہوتا ہے، قسمیں اسی پر اٹھائی جاتی ہیں، شیطان سے پناہ بھی اسی کے نام کے ذریعے مانگی جاتی ہے، اور تمام کام اسی کے نام سے شروع اور ختم کیے جاتے ہیں۔ بابرکت ہے اس کا نام، اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔

    دوسرا نام ’’الرب‘‘ ہے؛ یعنی وہ ذات جس کے لیے ربوبیت کے تمام مفاہیم ثابت ہیں، جن کی بنا پر وہ عبادت کا مستحق ہے۔ اس ذات میں تمام صفاتِ کمال اور تمام خوبیاں جمع ہیں۔ ساری مخلوق اس کی پروردہ، اس کے جلال و عظمت کے سامنے مغلوب اور اس کے آگے جھکی ہوئی ہے۔ وہی حقیقی مالک ہے، کامل تدبیر کرنے والا ہے، اپنے بندوں کی مختلف نعمتوں اور بے شمار احسانات کے ذریعے پرورش کرنے والا ہے، اور اپنے خاص بندوں کی تربیت؛ ان کے دلوں، روحوں اور اخلاق کی اصلاح کے ذریعے فرماتا ہے۔

    اور تیسرا اور چوتھا نام ’’الرحمن‘‘ اور ’’الرحیم‘‘ ہیں؛ یعنی وہ ذات جس کی رحمت ہر چیز سے وسیع ہے، جس نے مخلوق کو رزق، زندگی کے اسباب اور ان کے مصالح میں گھیر رکھا ہے، اور اسی رحمت کے ذریعے ان کے امور کو سنوارا، انہیں فائدہ دینے والی چیزیں سکھائیں، اور اسی رحمت سے ان کی طرف رسول بھیجے اور شریعتیں نازل فرمائیں: (الرَّحْمَنُ * عَلَّمَ الْقُرْآنَ * خَلَقَ الْإِنْسَانَ * عَلَّمَهُ الْبَيَانَ) ’’رحمن نے قرآن سکھایا، انسان کو پیدا کیا، اور اسے بیان سکھایا‘‘ (الرحمن: 1-4)۔

    ’’ الرحمن‘‘ایسا نام ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے سب سے بڑے نام کے برابر قرار دیا ہے؛ جیسا کہ فرمایا: (قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى) ’’کہہ دیجیے: تم اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو، اسی کے لیے بہترین نام ہیں‘‘ (الإسراء: 110)۔ اللہ تعالیٰ نے اس نام کے ساتھ خاص طور پر اپنی ذات کو موسوم کیا ہے اور اپنے بندوں پر اس نام سے موسوم ہونے کو حرام قرار دیا ہے۔ اور ’’الرحیم‘‘ وہ ہے جو دنیا و آخرت میں مومنوں اور متقی بندوں پر خاص رحمت کرنے والا ہے؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا) ’’اور وہ مومنوں پر بہت مہربان ہے‘‘ (الأحزاب: 43)۔ اسی رحمت کے ذریعے اس نے انہیں اپنی عبادت کی توفیق دی، انہیں اپنی اطاعت کے لیے خاص کیا، اور اسی کے ذریعے انہیں جنت میں داخل کرے گا جو دراصل اسی کی رحمت ہے؛ جیسا کہ فرمایا: (وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِي رَحْمَةِ اللَّهِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ) ’’اور جن کے چہرے روشن ہوں گے، وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے، اسی میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ (آل عمران: 107)، اور حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (أَنْتِ الْجَنَّةُ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ)’’جنت تو میری رحمت ہے، میں تیرے ذریعے جس پر چاہوں رحم کرتا ہوں۔‘‘

    اور پانچواں نام [ایک قراءت میں] ’’المَلِك‘‘ ہے؛[جسے قراءت حفص عن عاصم میں مالک پڑھا جاتا ہے۔] یعنی روزِ جزا کا بادشاہ اور اس کا مالک، بادشاہت کا مالک، کامل اقتدار رکھنے والا، جس کے لیے آسمانوں اور زمین اور ان میں موجود ہر چیز کی بادشاہی ہے۔ دنیا و آخرت میں اسی کی کامل بادشاہی ہے، حکم دینا، تدبیر کرنا، منع کرنا اور جزا دینا سب اسی کے اختیار میں ہے۔ کائنات کی ہر چیز اس کی غلام اور اس کی ملکیت ہے، اور اسی کے لیے بادشاہی کے وہ تمام مفاہیم ثابت ہیں جن کی بنا پر اس کے لیے بہت سے اسمائے حسنیٰ ثابت ہوتے ہیں؛ جیسے: (المُهَيْمِنِ، العزيزِ، الجبَّارِ، المتكبرِ، العظيمِ، الجليلِ، الكبيرِ، الخافضِ، الرافعِ، المُعزِّ، المُذِلِّ، الحَكَمِ، العدلِ، المُتعالِ.)نگہبان، غالب، زبردست، بڑائی والا، عظمت والا، جلیل، بڑا، پست کرنے والا، بلند کرنے والا، عزت دینے والا، ذلیل کرنے والا، فیصلہ کرنے والا، عدل کرنے والا اور بلند و برتر۔

    اسلامی اور ایمانی بھائیو! اللہ تعالیٰ اپنے ناموں اور صفات سے محبت رکھتا ہے، اور ان لوگوں سے بھی محبت کرتا ہے جو ان سے محبت کرتے ہیں، ان کا کثرت سے ذکر کرتے ہیں اور انہی کے ذریعے اس کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت دلالت کرتی ہے کہ (أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بَعَثَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ، فَكَانَ يَقْرَأُ لِأَصْحَابِهِ في صَلَاتِهِ فَيَخْتِمُ بـ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ). فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: "سَلُوهُ لِأَيِّ شَيْءٍ يَصْنَعُ ذَلِكَ؟". فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ: لِأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ، وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بها. فَقَالَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ يُحِبُّهُ") رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا، وہ جماعت کراتے ہوئے ہمیشہ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) پر قراءت ختم کرتا تھا۔ جب وہ واپس آئے تو صحابہ نے اس کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اس سے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟‘‘ انہوں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: کیونکہ اس میں رحمٰن کی توصیف ہے اور میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’اسے بتا دو کہ اللہ اس سے محبت کرتا ہے‘‘۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو اپنی واضح کتاب کی ہدایت اور اپنے امانت دار نبی ﷺ کی سنت سے مستفید ہونے کی توفیق دے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور اپنے سمیت آپ سب کے لیے بھی اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔

    دوسرا خطبہ:
    ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جس طرح اس نے اپنی کتاب میں خود اپنی حمد بیان فرمائی، اور درود و سلام ہوں ہمارے نبی محمد ﷺ، آپ کی آل اور صحابہ کرام پر۔

    بعد ازاں:

    اللہ کے بندو! جو شخص اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ اور اس کی بلند و بالا صفات کی طرف متوجہ ہوتا ہے، وہ اپنی خوشی جلد پا لیتا ہے، اس کے دل کی مسرت مکمل ہو جاتی ہے، اور اللہ کی طرف چلنے والوں کے درمیان اس کا مقام بلند ہو جاتا ہے؛ یہاں تک کہ اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی چیز محبوب نہیں رہتی، اور وہ کسی اور چیز کی خواہش رکھتا بھی ہے تو اسی حد تک جو اسے اللہ کے قریب کر دے۔

    بندے کو معرفتِ الہی یقیناً قرآنِ حکیم کی آیات میں ملتی ہے؛ قرآن کریم پر جو شخص بھی غور و فکر کرے قرآنی معانی پر تدبر کرے، تو وہ ایسے رب کو پہچان لیتا ہے جس میں کمال کی تمام صفات اور جلال کی تمام شانیں جمع ہیں۔ پھر بندہ اس معرفت کے ثمرات کو بھی چکھتا ہے یعنی حب الہی و عظمت الہی کا احساس پاتا ہے اور اللہ تعالی کے خوف و جلال کے سامنے جھک جاتا ہے۔ چنانچہ اللہ کی رحمت، احسان، لطف اور بھلائی دلوں میں امید کو مضبوط کرتی ہیں، تو بندہ عمل کے لیے سرگرم ہو جاتا ہے، اللہ کے بارے میں حسنِ ظن پیدا کرتا ہے اور اس کی رحمت کا امیدوار بن جاتا ہے۔

    جبکہ اللہ تعالی کے عدل، انتقام، ناراضی، غضب اور سزا کی صفات اللہ کے خوف کو دلوں میں پیدا کرتی ہیں، اللہ کی پکڑ سے بے خوفی کو ختم کرتی ہیں، اور نفسِ امّارہ کو دبا دیتی ہیں؛ یوں خواہشات، غصہ، لہو و لعب اور حرام چیزوں کی حرص کمزور پڑ جاتی ہے۔

    اسی طرح اللہ تعالی کے حکم دینے اور منع کرنے، رسولوں کو بھیجنے اور کتابیں نازل کرنے کی صفات اطاعت کی قوت پیدا کرتی ہیں۔ نیز احکام کی پیروی، ممنوعات سے بچنے، حق کی تلقین کرنے اور سچی باتوں کی تصدیق پر ابھارتی ہیں۔

    اللہ تعالی کے علم، سننے، دیکھنے، نگرانی، احاطہ اور گواہی کی صفات اخلاص کی قوت، اللہ سے حیا اور اس سے ڈرنے کا جذبہ پیدا کرتی ہیں۔

    اللہ تعالی کے رزق دینے، کفایت کرنے، حساب لینے، حفاظت کرنے، مدد دینے اور ولایت کی صفات اللہ سے محبت، اس پر اعتماد، اسی پر بھروسا اور اللہ تعالی کے بارے میں حسنِ ظن پیدا کرتی ہیں۔

    اللہ تعالی کی عزت اور کبریائی کی صفات اللہ کے سامنے جھکنے، اس کی عظمت کے سامنے عاجزی اختیار کرنے، اس کے سامنے تواضع اختیار کرنے اور دل و اعضا کے خشوع کا باعث بنتی ہیں۔

    یا اللہ! ہم تجھ سے تیرے اسمائے حسنیٰ اور صفاتِ عالیہ کے واسطے سے تیری معرفت کی لذت اور اپنے قرب سے ٹھنڈکِ چشم عطا فرما، اور ہم تجھ سے اپنے فضل اور رحمت کے ذریعے تیرے چہرۂ کریم کے دیدار کی لذت اور اپنی ملاقات کا شوق عطا فرما۔

    مسلمانو! اس بابرکت دن میں اپنے رب کا قرب حاصل کرنے کے لیے سب سے افضل عمل یہ ہے کہ تم اپنے نبی محمد ﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجو؛ آپ ﷺ متقین کے امام اور اولین و آخرین کے سردار ہیں۔

    یااللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر درود و سلام نازل فرما، اور آپ کی پاکیزہ آل پر بھی، اور اے اللہ! چاروں خلفائے راشدین—ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم—سے راضی ہو جا، اور تمام نیک صحابہ کرام سے بھی، اور ہمیں معاف فرما، ہماری مغفرت فرما اور ہمارے والدین کی بھی، اور ہمیں اپنی رحمت کے صدقے صالحین میں شامل فرما۔

    یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکین کو ذلیل فرما، اپنے و دین دشمنوں کو تباہ و برباد فرما۔

    یا اللہ! ہمارے کمزور اور مظلوم بھائیوں کی فلسطین میں مدد فرما، یا اللہ! انہیں تیرے اور ان کے دشمنوں پر غلبہ عطا فرما، یا خیر الناصرین!

    یا اللہ! ہمارے ملک اور تمام مسلم ممالک کو مکاروں کے مکر اور ظالموں کے ظلم سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمیں ہمارے وطنوں اور گھروں میں امن عطا فرما، ہماری افواج کی مدد فرما، اور ہمارے دشمنوں کو مغلوب فرما۔

    یا اللہ! اس ملک کو پر امن ، مطمئن ، فراوانی اور خوشحالی والا بنا دے، یا اللہ! جو کوئی بھی ہمارے ملک کے خلاف برائی کا ارادہ رکھے، اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! ان کی مکاریوں کو انہی کی تباہی کا باعث بنا دے، ہمیں ان کے شر سے محفوظ فرما، اور ان کی چالوں کو ان ہی کی ہلاکت کا باعث بنا دے، یا حق! یا قوی! یا عزیز!

    یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین اور ان کے ولی عہد کی حفاظت فرما، یا اللہ! دونوں کو تیرے پسندیدہ اور تیری رضا کے مُوجِب کاموں کی توفیق دے، یا اللہ! یا ذوالجلال والاکرام! ان دونوں کی ان امور میں مدد فرما جن میں ملک و قوم کی کی بھلائی ہو، جن میں اسلام اور مسلمانوں کی نصرت ہو۔

    اللہ کے بندو! اللہ کو اسی طرح یاد کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت دی، اور اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں پر اسی کا شکر ادا کرو، اور یقیناً اللہ کا ذکر سب سے بڑی عبادت ہے، اور اللہ تمہاری کارستانیوں کو خوب جانتا ہے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں