خطبہ حرم مکی " تقدیر پر ایمان اور مومن پر اس کے اثرات" از ڈاکٹر یاسر الدوسری حفظہ اللہ 29 شوال 1447ہجری

شفقت الرحمن نے 'خطبات الحرمین' میں ‏اپریل 19, 2026 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    770
    فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر یاسر بن راشد الدوسری حفظہ اللہ نے مسجد الحرام مکہ مکرمہ میں 29 شوال 1447ہجری کا خطبہ جمعہ " تقدیر پر ایمان اور مومن پر اس کے اثرات" کے عنوان پر ارشاد فرمایا ، انہوں نے کہا کہ تقدیر پر ایمان لانا ایمان کا ایک عظیم رکن ہے، جس کے بغیر بندے کا ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ مومن کو یہ یقین رکھنا چاہیے کہ کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کے مطابق ہوتا ہے، اور جو چیز اسے پہنچتی ہے وہ اس سے ٹل نہیں سکتی، اور جو چیز نہیں ملتی وہ اسے مل نہیں سکتی تھی۔ اسی یقین سے دل میں اطمینان، سکون اور اللہ کے فیصلوں پر رضا پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے تقدیر کے چار مراتب—علم، کتابت، مشیئت اور تخلیق—بیان کیے گئے اور واضح کیا گیا کہ بندہ مجبور نہیں بلکہ اسے اختیار حاصل ہے، تاہم اس کا اختیار اللہ کی مشیئت کے تابع ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی سکھایا گیا کہ مومن کو اسباب اختیار کرتے ہوئے اللہ پر کامل بھروسا رکھنا چاہیے۔ پھر ایمان بالقدر کے عملی اثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مصیبتوں میں صبر، نعمتوں پر شکر، دل کا سکون، اللہ کے فیصلوں پر کامل رضا، حسد اور کینہ سے پاکی، اور ہر حال میں خیر کی امید جیسے فوائد حاصل ہوتے ہیں ، اس طرح مومن کا ہر حال اس کے لیے بھلائی کا باعث بن جاتا ہے۔ پھر آخر میں امتِ مسلمہ کی بھلائی، نصرت اور سلامتی کے لیے دعا فرمائی۔

    مکمل خطبہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں پڑھنے/ پرنٹ کے لیے کلک کریں۔
    https://drive.google.com/file/d/1_tQdLyJbUQ8ZKACLrguT3k7K7FG-QV3P/view?usp=sharing

    پہلا خطبہ:

    ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے ہر چیز کو پیدا فرمایا اور اس کی تقدیر لکھی، تمام امور اللہ تعالی کی حکمت اور تدبیر کے مطابق مکمل ہوتے ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور وہی بہترین کارساز اور مدد گار ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ کو جن و انس کی طرف بشیر و نذیر بنا کر بھیجا، اور اللہ کی اجازت سے اسی کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ بنایا۔ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر، آپ کی آل اور صحابہ پر، اور ان سب پر جو احسان کے ساتھ ان کی پیروی کریں، خوب درود و سلام اور برکتیں نازل فرمائے۔

    بعد ازاں:

    میں تمام سامعین اور اپنے آپ کو تقویٰ الٰہی کی وصیت کرتا ہوں، یقیناً متقی لوگ کامیاب ہو گئے۔ اپنے رب پر ہر معاملے میں بھروسا رکھو ، اور یہ جان لو کہ ہر چیز اسی کے فیصلے اور تقدیر سے ہے، اسی رب کی طرف سے جو کسی چیز سے کہتا ہے: ہو جا، تو وہ ہو جاتی ہے۔

    مسلم اقوام! تقدیر پر ایمان لانا ایمان کے ارکان میں سے ایک عظیم رکن اور اس کی بنیادی اکائی ہے، جیسا کہ سیدِ کائنات ﷺ کا ارشاد ہے۔ اسی کے ذریعے بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتا ہے، نیز جنت میں داخلہ اور جہنم سے نجات پا جاتا ہے۔ چنانچہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "لَو كَانَ لَكَ مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا تُنْفِقُهُ في سَبِيلِ اللَّهِ مَا قَبِلَهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالقَدَرِ، فَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَأن مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَأَنَّكَ إِنْ مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا دَخَلْتَ النَّارَ" ’’اگر تمہارے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تم اسے اللہ کے راستے میں خرچ کرو تو وہ تم سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا جب تک تم تقدیر پر ایمان نہ لاؤ، یہاں تک کہ تم یقین کر لو کہ جو تمہیں پہنچا وہ تم سے چوکنے والا نہ تھا، اور جو تم سے رہ گیا وہ تمہیں حاصل ہونے والا نہ تھا، اور اگر تم اس کے سوا کسی اور عقیدے پر مر گئے تو جہنم میں داخل ہو جاؤ گے‘‘۔ [سنن ابن ماجہ]

    چنانچہ جب یہ عقیدہ دلوں میں راسخ ہو جاتا ہے تو یہ عمل کرنے والوں کو سرگرم کر دیتا ہے اور انہیں ہر حال میں کمال کے بلند درجات تک پہنچا دیتا ہے۔

    لوگو! تقدیر اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق کے بارے میں ایک راز ہے، اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے مقدر فرمایا ہے وہ اسی کی حکمت کے ساتھ واقع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ) ’’بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کیا ہے‘‘۔ [القمر: 49] اور فرمایا: (وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا) ’’اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا، پھر اس کے لیے تقدیر مقرر فرمائی‘‘۔ [الفرقان: 2] پس وہی ہے جس نے پیدا کیا اور فنا کیا، محتاج کیا اور غنی بنایا، موت دی اور زندگی دی، گمراہ کیا اور ہدایت دی۔ چنانچہ جو کچھ ہمارے رب نے ہمارے لیے ظاہر فرما دیا ہم اس پر ایمان لاتے اور اسے قبول کرتے ہیں، اور جس کا علم اس نے اپنے پاس خاص رکھا اور جس کی حکمت ہم سے پوشیدہ رہی ہم اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے اور اس پر راضی رہتے ہیں، اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کامل ہے، اس کی تقدیر عظیم ہے، اس کی مشیئت اس کی بادشاہت میں نافذ ہے اور اس کی تدبیر نہایت عمدہ ہے۔ بے شک وہ حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے، الہ تعالی سے کاموں کے بارے میں سوال نہیں کیا جاتا جبکہ لوگوں سے سوال کیا جائے گا، اور وہ ہر حال میں حمد کے لائق ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔

    پس جو شخص اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان لاتا ہے، اور یہ یقین رکھتا ہے کہ ہر چیز حکمت والے، نہایت مہربان رب کی قضا و قدر سے ہے، اور اس کا ایمان سچا ہو کر اس کے تقاضوں کو اقوال و اعمال کی صورت میں پورا کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو رضا کے ساتھ مضبوط کر دیتا ہے اور اسے تسلیم و اطاعت کی راہ دکھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ) ’’اور جو اللہ پر ایمان لاتا ہے، اللہ اس کے دل کو ہدایت دے دیتا ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے‘‘ [التغابن: 11]۔

    اور جو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے، اپنے دل کے ساتھ اسی پر بھروسا رکھے، اللہ اس کی مدد فرماتا ہے، اور جو اس کی طرف رجوع کرے اور اس کے دامن میں پناہ لے، اللہ اسے محفوظ رکھتا اور اس کی حفاظت فرماتا ہے، اور جو اس کی راہ میں بوجھ اور مشقتیں برداشت کرتا ہے، اللہ ان کو اس کے لیے آسان اور ہلکا کر دیتا ہے، اور جو اخلاص کے ساتھ اسی کا قصد کرے، اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور اس کے لیے خیر کے راستوں کو مزین اور خوشگوار بنا دیتا ہے۔ ایسا شخص مخلوق سے کیوں ڈرے جو جانتا ہے کہ اس کی موت کا وقت مقرر ہے؟ اور وہ فقر سے کیوں خوف کھائے جو یقین رکھتا ہے کہ رزق تقسیم ہو چکا ہے؟ اور وہ مصیبتوں اور تکلیفوں پر کیوں ناراضی کرے جو جانتا ہے کہ اللہ ہی نے انہیں مقدر فرمایا ہے؟ اور وہ ان پر اجر کی نیت کیوں نہ رکھے اور ان کے ذخیرۂ آخرت ہونے کی امید کیوں نہ رکھے، جبکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ ہی نے انہیں جاری فرمایا اور ان کی تدبیر کی ہے؟

    اسی لیے جب بندہ اس عقیدے پر ایمان لے آتا ہے تو اللہ اس پر آنے والی سختیوں اور مشکلات کو آسان کر دیتا ہے، اور مصیبتوں کے وقت اسے ثابت قدمی عطا فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ في الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ) ’’اللہ ایمان والوں کو مضبوط بات کے ساتھ دنیا کی زندگی میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے اور آخرت میں بھی‘‘ [ابراہیم: 27]۔

    بلکہ اس کے ساتھ اسے عظیم ثواب اور بڑا اجر بھی حاصل ہوتا ہے، جیسا کہ حکمت والے، سب کچھ جاننے والے رب کا فرمان ہے: (إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ) ’’بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا‘‘ [الزمر: 10]، اور یہ اللہ تعالی کی طرف سے اہل ایمان کو حاصل ہونے والے بہترین انعامات میں شامل ہے۔

    اور سیکھ لو—اللہ تم پر رحم فرمائے—کہ قضا و قدر پر ایمان کے چار مراتب ہیں:

    پہلا مرتبہ: علم کا مرتبہ ہے، یعنی بندہ اللہ تعالیٰ کے ہر چیز پر محیط کامل علم پر ایمان رکھے؛ لہذا یہ یقین رکھے کہ :جو ہو چکا، جو ہو رہا ہے، جو ہونے والا ہے، اور جو نہیں ہوا اگر ہوتا تو کیسے ہوتا ؛اللہ تعالی سب جانتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِنْ قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ) ’’اور تم جس حال میں بھی ہوتے ہو، اور قرآن میں سے جو کچھ بھی پڑھتے ہو، اور تم جو بھی عمل کرتے ہو، ہم اس وقت تم پر گواہ ہوتے ہیں جب تم اس میں مشغول ہوتے ہو، اور تمہارے رب سے نہ زمین میں ذرہ بھر کوئی چیز پوشیدہ رہتی ہے اور نہ آسمان میں، اور نہ اس ذرے سے چھوٹی کوئی چیز اور نہ بڑی، مگر وہ سب ایک واضح کتاب میں درج ہے‘‘ [يونس: 61]۔

    دوسرا مرتبہ: لکھے جانے کا مرتبہ ہے، یعنی بندہ اس بات پر ایمان رکھے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کی تقدیریں لوحِ محفوظ میں لکھ دی ہیں؛ لہذا سب کی عمر اور موت کا وقت، بدبختی اور سعادت، رزق اور اعمال سب کچھ لکھ دیا ہے۔ جیسے کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "كَتَبَ اللهُ مَقَادِيرَ الخَلَائِقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ" ’’اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کی تقدیریں آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے لکھ دی تھیں۔‘‘ [صحیح مسلم]

    تیسرا مرتبہ: ارادہ اور مشیئت کا مرتبہ ہے، یعنی بندہ اس بات پر ایمان رکھے کہ اس کائنات میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نافذ مشیئت سے ہوتا ہے؛ پس اس کی مشیئت اور ارادے سے کوئی چیز باہر نہیں نکلتی چاہے وہ معمولی اور غیر معمولی؛ جو اللہ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہ چاہے وہ نہیں ہوتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا * إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ) ’’اور کسی چیز کے بارے میں ہرگز یہ نہ کہنا کہ میں کل یہ کام کر لوں گا، مگر یہ کہ اللہ چاہے‘‘ [الكهف: 23-24]۔

    اور یہ بات ذہن نشین کر لیں—اللہ آپ پر رحم فرمائے—کہ تقدیر پر ایمان کا یہ مطلب نہیں کہ بندہ اپنے آپ کو اپنے تقدیر کے سامنے مجبور سمجھے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو ارادہ اور اختیار عطا فرمایا ہے، لیکن ان کا ارادہ اللہ تعالیٰ کی مشیئت سے بالا تر نہیں ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا) ’’اور تمہارے چاہنے کے کچھ نہیں ہوتا تا آں کہ اللہ تعالی چاہے، بے شک اللہ خوب جاننے والا، حکمت والا ہے‘‘ [الإنسان: 30]۔ اور تقدیر پر ایمان رکھنے والا شخص شرعاً جائز اسباب اختیار کرنے میں سستی نہیں کرتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ قانونِ الہی یہی ہے کہ چیزوں کو ان کے اسباب کے ساتھ مقدر کیا جاتا ہے۔

    اور قضا و قدر پر ایمان کا چوتھا مرتبہ: تخلیق کا مرتبہ ہے، یعنی بندہ اس بات پر ایمان رکھے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے، اس کے سوا کوئی خالق نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی رب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ) ’’اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے‘‘ [الزمر: 62]۔

    اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ قرآن و سنت کو ہمارے لیے بابرکت بنائے اور ان میں موجود آیات اور حکمت سے ہمیں فائدہ دے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اور اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور آپ سب کے لیے مغفرت چاہتا ہوں، آپ بھی اسی سے مغفرت طلب کریں، بے شک وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔


    دوسرا خطبہ:
    ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جو سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا، زبردست اور حکمت والا ہے؛ اس نے اپنا فیصلہ نافذ فرمایا اور بندوں کے عمل کرنے سے پہلے ہی اس کی لکھی ہوئی تقدیر جاری ہو چکی ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہی اولین و آخرین کا معبود ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، روشن چہروں اور چمکتے اعضا والوں کے امام ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر، آپ کی آل، آپ کے صحابہ اور تابعین پر، اور ان سب پر جو قیامت کے دن تک احسان کے ساتھ ان کی پیروی کریں، درود و سلام اور برکتیں نازل فرمائے۔

    بعد ازاں:

    اہلِ ایمان! قضا و قدر پر ایمان کے بے شمار عظیم ثمرات اور نہ ختم ہونے والے عمدہ اثرات ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ دل کو سکون اور نفس کو اطمینان حاصل ہوتا ہے، اور انسان گزری ہوئی چیزوں اور چھن جانے والی نعمتوں پر غم نہیں کرتا؛ کیونکہ مومن نہ کسی محبوب چیز کے فوت ہو جانے پر غمگین ہوتا ہے اور نہ کسی ناپسندیدہ چیز کے پیش آنے پر بے قابو ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (لِكَيْ لَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ) ’’تاکہ تم اس پر غم نہ کرو جو تم سے چھوٹ جائے، اور اس پر اتراؤ نہیں جو تمہیں دیا جائے‘‘ [الحديد: 23]۔

    پس جو یہ جان لے کہ ہر چیز قضا و قدر سے ہے، اس کے لیے مشکلات برداشت کرنا آسان ہو جاتا ہے، اور وہ اپنے نفس کو مصیبتوں پر صبر کے لیے آمادہ کر لیتا ہے، اور وہی کچھ کہتا اور کرتا ہے جو ربِ کائنات کو راضی کرے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) ’’وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو ’’ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ‘‘کہتے ہیں‘‘ [البقرة: 156] یعنی بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

    اور قضا و قدر پر ایمان کے ثمرات میں سے یہ بھی ہے کہ بندہ اللہ کے حکم کے آگے جھک جائے اور اس کے فیصلے کو دل سے قبول کرے، اور یہ یقین رکھے کہ رب نے اس کے لیے جو اختیار کیا ہے اسی میں بھلائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ) ’’اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو، اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے‘‘ [البقرة: 216]۔

    سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "مَا أُبَالِي عَلَى أَيِّ حَالٍ أَصْبَحْتُ عَلَى مَا أُحِبُّ أَوْ عَلَى مَا أَكْرَهُ، لِأَنِّي لَا أَدْرِي الْخَيْرَ فِيمَا أُحِبُّ أَوْ فِيمَا أَكْرَهُ؟"’’مجھے اس بات کی پروا نہیں کہ صبح خوشگوار یا ناگوار حالت میں ہو؛ کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ بھلائی خوشگوار حالت میں ہے یا ناگوار حالات میں؟‘‘

    اور ان ثمرات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر قناعت اور رضا اختیار کرتا ہے، اور پھر شرعاً جائز اسباب بھی اختیار کرتا رہتا ہے۔ چنانچہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اِرْضَ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ لَكَ تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ"’’جو کچھ اللہ نے تمہارے لیے تقسیم کر دیا ہے اس پر راضی رہو، تم سب سے زیادہ مالدار ہو جاؤ گے‘‘ [ترمذی]۔

    اور ان ہی ثمرات میں سے یہ بھی ہے کہ دل کو حسد، کینہ اور بغض سے پاکی حاصل ہوتی ہے، کیونکہ یہ بُری قلبی بیماریاں ہیں جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی لکھی ہوئی تقدیر پر اعتراض تک لے جاتی ہیں۔ جیسے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "انْظُرُوا إِلَى مَنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ، وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ، فَهُوَ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ" ’’اپنے سے کم تر لوگوں کی طرف دیکھو اور اپنے سے اوپر والوں کی طرف نہ دیکھو، اس سے امکان ہے کہ تم حاصل کردہ اللہ کی نعمتوں کو حقیر نہ سمجھو‘‘ [صحیح مسلم]

    اور ان ہی ثمرات میں سے یہ بھی ہے کہ آزمائش کے وقت صبر اور نعمت ملنے پر شکر ادا ہوتا ہے۔ چنانچہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ، صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ"’’مومن کے معاملے پر تعجب ہے، اس کا ہر حال خیر ہی خیر ہے، اور یہ بات مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں؛ اگر اسے خوشحالی ملے تو شکر کرتا ہے، تو یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے، اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے، تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے‘‘ [صحیح مسلم]

    اسی طرح سیدنا عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے فرمایا: أَلا أُرِيكَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الجَنَّةِ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: هَذِهِ المَرْأَةُ السَّوْدَاءُ، أَتَتِ النَّبِيَّ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَتْ: إِنِّي أُصْرَعُ، وَإِنِّي أَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللَّهَ لِي، فقَالَ -صلى الله عليه وسلم-: "إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الجَنَّةُ، وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَكِ"، فَقَالَتْ: أَصْبِرُ، فَقَالَتْ: إِنِّي أَتَكَشَّفُ، فَادْعُ اللَّهَ لِي أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ، فَدَعَا لَهَا’’کیا میں تمہیں جنتی عورت نہ دکھاؤں؟‘‘ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ انہوں نے فرمایا: ’’یہ سیاہ فام عورت ہے، یہ نبی ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: مجھے مرگی کے دورے پڑتے ہیں اور اس حالت میں میرا جسم کھل جاتا ہے، آپ میرے لیے دعا فرما دیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو صبر کرو اور تمہارے لیے جنت ہے، اور اگر چاہو تو میں اللہ سے دعا کر دوں کہ تمہیں شفا دے دے۔ اس نے کہا: میں صبر کروں گی، پھر عرض کیا: میرا جسم کھل جاتا ہے، آپ میرے لیے دعا فرما دیں کہ ایسا نہ ہو، تو آپ ﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی‘‘ [متفق علیہ]۔

    اہلِ ایمان! جو باتیں بیان ہو چکی ہیں، انہی کی بدولت سخت مصیبتوں اور بڑے حوادث کے وقت اہلِ ایمان ثابت قدم رہتے ہیں۔ عالم الغیب رب کا فرمان ہے: (قُلْ لَنْ يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ) ’’کہہ دیجیے: ہمیں ہرگز کوئی مصیبت نہیں پہنچے گی مگر وہی جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے، وہی ہمارا کارساز ہے، اور مومنوں کو چاہیے کہ وہ اللہ ہی پر بھروسا کریں‘‘ [التوبۃ: 51]۔

    لہذا تقوی الہی اپناؤ، اللہ کے بندو! اور ان لوگوں میں شامل ہو جاؤ کہ جب انہیں آزمائش میں ڈالا جائے تو صبر کریں، جب انہیں نعمت دی جائے تو شکر کریں، اور جب ان سے کوئی گناہ ہو جائے تو استغفار کریں؛ تم دنیا و آخرت میں کامیابی، نجات اور سرخروئی پا لو گے۔

    اور اب درود و سلام بھیجو تمام مخلوقات میں سے برگزیدہ ہستی، اور انبیاء و رسولوں کے سردار پر؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا) ’’بے شک اللہ اپنے نبی پر رحمت بھیجتا اور اس کے فرشتے رحمت کی دعا کرتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو‘‘ [الأحزاب: 56]۔

    یا اللہ! اپنے امین رسول پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرما، اور آپ کی پاکیزہ اور طیب آل پر، اور آپ کی ازواج مطہرات امہات المؤمنین پر ، اور چاروں خلفائے راشدین سے راضی ہو جا، اور تمام صحابہ، تابعین اور ان سب سے بھی جو قیامت تک احسان کے ساتھ ان کی پیروی کریں، اور ہمیں بھی اپنے فضل، اپنی سخاوت اور اپنے احسان کے ساتھ ان میں شامل فرما، یا اکرم الاکرمین!

    یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، دین کی حفاظت فرما، اپنے دین، قرآن و سنت اور اپنے مومن بندوں کی مدد فرما، اور ہمارے ملک اور تمام مسلمان ممالک پر امن و امان قائم فرما، اور ہمیں اور اُنہیں ہر قسم کی برائی، آزمائش، سختی اور تنگی سے محفوظ فرما، اور ہمیں اور اُنہیں ظاہری و باطنی جنگوں، فتنوں، شرور اور مصیبتوں سے محفوظ فرما۔

    یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین اور ان کے ولی عہد کی حق، توفیق اور درستی کے ساتھ تائید عطا فرما، اور انہیں اور ان کے معاونین کو ہر اس کام کی توفیق دے جو تیرے پسندیدہ اور محبوب ہوں، اور جس میں ملک و قوم کی بھلائی، عزت اور اسلام و مسلمانوں کی نصرت اور سربلندی ہو۔

    یا اللہ! ہمارے امن و دفاع کے محافظوں، اور ہماری سرحدوں پر موجود ہمارے سپاہیوں کی حفاظت فرما اور ان کی مدد فرما، ان کے لیے مدد گار اور پشت پناہ بن جا۔

    یا اللہ! پریشان حالوں کی پریشانی دور فرما، مصیبت زدہ لوگوں کی تکلیفیں دور فرما، مقروضوں کے قرض ادا فرما، تمام مسلمان بیماروں کو شفا عطا فرما، اور تمام مسلمان فوت شدگان پر رحم فرما۔

    اور فلسطین سمیت ہر جگہ کمزور مسلمانوں کی مدد فرما، اور ان کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنا، ہر غم سے نجات عطا فرما، اور ہر بلا سے عافیت نصیب فرما۔

    اے ہمارے رب! ہماری دعائیں قبول فرما، بے شک تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے، اور ہمیں بخش دے، بے شک تو ہی بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے، اور ہماری توبہ قبول فرما، بے شک تو ہی توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔

    (سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ * وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ * وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ) ’’پاک ہے آپ کا رب، عزت والا رب، ان باتوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں، اور سلام ہو رسولوں پر، اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا رب ہے‘‘ [الصافات: 180-182]
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں