خطبہ حرم مدنی " آپ کی محنت؛ عادت یا عبادت؟" از ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ 07 ذو القعدہ 1447 ہجری

شفقت الرحمن نے 'خطبات الحرمین' میں ‏اپریل 26, 2026 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    770
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 07 ذوالقعدہ 1447ہجری کا خطبہ جمعہ " آپ کی محنت؛ عادت یا عبادت؟" کے عنوان پر ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ انسان کی پوری زندگی مسلسل جدوجہد اور محنت کا نام ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس جدوجہد کی سمت کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بظاہر لوگوں کے اعمال ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کی قدر و قیمت نیت، مقصد اور دل کے رخ کے اعتبار سے مختلف ہو جاتی ہے۔ اگر انسان اپنی زندگی، محنت، تجارت، تعلیم، گھریلو ذمہ داریوں اور معاشرتی تعلقات کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دے تو اس کی روزمرہ سرگرمیاں بھی عبادت بن جاتی ہیں اور معمولی عمل بھی عظیم اجر کا سبب بنتا ہے۔ اس کے برعکس وہ جدوجہد جو اللہ کی رضا سے خالی ہو، خواہ کتنی ہی بڑی دکھائی دے، حقیقت میں بے وزن اور ضائع ہے۔ مزید انہوں نے بیان کیا کہ جب انسان اپنی محنت کو آخرت کے لیے خالص کر لیتا ہے تو اس کا دل پاک ہوتا ہے، حسد اور کینہ ختم ہوتے ہیں، اور اس کی صلاحیتیں تعمیر و اصلاح میں صرف ہونے لگتی ہیں۔ اسی طرح جب ایک معاشرہ اللہ کی رضا کو اپنا مشترک مقصد بنا لے تو اس کے افراد کی کوششیں متحد ہو کر خیر، ترقی اور اجتماعی فلاح کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ خطیب محترم نے تاکید کی کہ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کی ہر جدوجہد کا رخ اللہ تعالیٰ کی طرف درست کرے اور نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرے، آخر میں انہوں نے تمام مسلمانوں کے لیے جامع دعا کروائی۔
    مکمل خطبہ پی ڈی ایف میں پڑھنے / پرنٹ کرنے کے لیے کلک کریں: [​IMG]
    https://drive.google.com/.../1wTPyfgfCiFFuM800QL0...
    پہلا خطبہ:
    ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جو زمین و آسمان کا رب ہے۔ میں اس کی حمد بیان کرتا ہوں اور اس کا شکر ادا کرتا ہوں؛ دنیا و آخرت میں سب تعریف اسی کے لیے ہے، اور فضل و عطا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، عظمت اور کبریائی میں یکتا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں؛ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہدایت اور دینِ حق دے کر تمام جہانوں کے لیے رحمت اور روشنی بنا کر بھیجا۔ اللہ تعالیٰ آپ پر، آپ کی آل اور صحابہ پر ہمیشہ ہمیشہ رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔
    بعد ازاں:
    میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو تقویٰ الٰہی کی وصیت کرتا ہوں؛ کیونکہ یہی دلوں کا زادِ راہ ہے اور اسی کے ذریعے خیر و برکتیں حاصل ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ۝ يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا) ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہا کرو، وہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے وہ بڑی کامیابی پا گیا۔‘‘[الأحزاب: 70-71]
    جب آپ زندگی کی گردش اور اس کی مسلسل حرکت پر غور کریں تو دیکھیں گے کہ سب لوگ کسی نہ کسی جدوجہد میں مصروف ہیں؛ نہ کوئی ساکن ہے اور نہ کوئی عمل سے رکا ہوا۔ قرآن اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے: (إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى)’’بے شک تم سب کوششیں الگ الگ [سمت والی] ہیں۔‘‘[الليل: 4]
    ظاہری طور پر لوگوں کی دوڑ دھوپ ایک جیسی دکھائی دیتی ہے، لیکن حقیقت میں اس کی قدر و قیمت مختلف ہوتی ہے؛ کیونکہ اعمال اگرچہ ایک جیسے ہوں، مگر مقاصد مختلف ہوتے ہیں۔ کوئی دنیا کے لیے محنت کر رہا ہے، کوئی آخرت کے لیے، اور کوئی ایسا بھی ہے جو دوڑ تو رہا ہے مگر اسے معلوم ہی نہیں کہ کس لیے دوڑ رہا ہے! ہاتھوں کی حرکت ایک جیسی ہوتی ہے، لیکن دلوں کا رخ ہی اصل فرق پیدا کرتا ہے؛ کیونکہ اعمال نیتوں کی سچائی سے بلند ہوتے ہیں۔
    اسلام میں محنت اور کوشش صرف نماز یا ظاہری عبادات تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مفہوم اس سے کہیں وسیع ہے؛ انسان کی پوری زندگی اس میں شامل ہے: اس کا کام، اس کا گھر، اس کی تجارت، اس کی تعلیم، اس کے تعلقات اور اس کے فیصلے۔ استاد بھی محنت اور کوشش کر رہا ہے، تاجر بھی، ڈاکٹر بھی، اور گھر کا سربراہ بھی۔ ان میں سے ہر ایک یا تو اللہ کی طرف بڑھ رہا ہے یا اس سے دور جا رہا ہے۔
    اسی حقیقت کو منضبط کرنے والی بنیاد اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں بیان ہوئی ہے: (وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا) ’’اور ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے جس کی طرف وہ رخ کیے ہوئے ہے۔‘‘[البقرة: 148]
    لہٰذا عمل بظاہر ایک جیسا ہو سکتا ہے، لیکن اسے بلند یا پست کرنے والی چیز وہ سمت ہے جس کی طرف دل متوجہ ہے۔ تعلیم میں دو افراد ایک ساتھ علم حاصل کرتے ہیں؛ ایک بلند ہو جاتا ہے کیونکہ اس کا مقصد اصلاح ہوتا ہے، اور دوسرا خسارے میں رہتا ہے کیونکہ اس کا مقصد شہرت ہوتا ہے۔ تجارت میں دو لوگ ایک ہی کاروبار کرتے ہیں؛ ایک کے کاروبار میں برکت دی جاتی ہے کیونکہ اس نے حلال روزی اور لوگوں کی خدمت کا ارادہ کیا، جبکہ دوسرا محروم رہتا ہے کیونکہ اس کا مقصد محض مال کمانا ہوتا ہے۔
    اسی بنا پر محنت دو قسموں میں تقسیم ہوتی ہے: ایک قابلِ تعریف محنت، اور دوسری ضائع ہونے والی محنت۔
    چنانچہ قابل تعریف محنت یہ ہے کہ انسان کی پوری زندگی حرکت سے بھر پور ہونے ساتھ اپنا رخ اللہ تعالیٰ کی طرف رکھے؛ چنانچہ دنیاوی کام بھی جب نیک نیت کے ساتھ کیے جائیں تو عبادت بن جاتے ہیں، ان کے اثرات میں برکت آتی ہے اور ان کی قدر بڑھ جاتی ہے۔ اسی لیے نیند اگر قوت حاصل کرنے کی نیت سے ہو تو عبادت ہے، کام کو عمدگی سے انجام دینا عبادت ہے، اہل و عیال پر خرچ کرنا باعثِ قرب ہے، لوگوں کے کام آنا احسان ہے، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک رفعت کا سبب ہے، اولاد کی تربیت ایک امانت ہے، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے، اچھی بات معاشرے کی تعمیر ہے، لوگوں کی اذیت پر صبر ایک پوشیدہ عبادت ہے، اور معاملات میں عدل ایک نمایاں عبادت ہے۔
    یہ سب اسی وقت ہے جب سمت درست ہو؛ کیونکہ جب رخ صحیح ہو جائے تو معمول کی عادت کے کام بھی عبادت بن جاتے ہیں، روزمرہ کے مشاغل قربِ الٰہی کا ذریعہ بن جاتے ہیں، اور معمولی عمل بھی عظیم ہو جاتا ہے؛ اس لیے کہ دل اللہ کی طرف متوجہ ہو چکا ہے اور نیت سچی ہو چکی ہے۔
    جبکہ ضائع ہونے والی محنت یہ ہے کہ جس میں محنت بہت ہو مگر نیت مفقود اور سمت معدوم ہو۔ یہ شخص کام تو بہت کرتا ہے، لیکن اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کیوں کر رہا ہے؟! وہ بغیر سمت کے چلتا رہتا ہے، یہاں تک کہ منزل پر پہنچ کر بھی کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ قرآن نے اسے: (كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ)’’چٹیل میدان میں سراب کی مانند۔‘‘ [النور: 39] قرار دیا ہے۔
    یعنی توانائی تو صرف ہوئی، لیکن نتیجہ حاصل نہ ہوا؛ کیونکہ اس کی توجہ اللہ سے ہٹ کر شہرت، خواہش، نام و نمود یا لوگوں کی خوشنودی کی طرف ہو گئی۔ اس طرح اس کی محنت ظاہراً بہت نظر آتی ہے مگر حقیقت میں اس کی قدر بہت کم رہ جاتی ہے۔
    دن گزرتے رہتے ہیں اور اعمال جمع ہوتے رہتے ہیں، لیکن انسان کبھی خود سے یہ سوال نہیں کرتا کہ میں جا کہاں رہا ہوں؟ یہاں تک کہ وہ اچانک زندگی کے اختتام پر پہنچ جاتا ہے اور دیکھتا ہے کہ اس کی عمر اس مقصد کے علاوہ کسی اور چیز میں گزر گئی جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا) ’’یہ وہ لوگ ہیں جن کی دنیا کی کوششیں ضائع ہو گئیں، حالانکہ وہ سمجھتے رہے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔‘‘[الكهف: 104]
    یہ آیت ہر انسان کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنے آپ کا محاسبہ کرے: کیا جو میں کر رہا ہوں وہ درست ہے؟ کیا وہ ہدایت کے مطابق ہے؟ کیا میں اسے اللہ کے لیے کر رہا ہوں یا کسی اور کے لیے؟ قرآن انسان کے سامنے وہ میزان رکھتا ہے جو اسے خود احتسابی کی طرف واپس لاتا ہے اور اس پر اس کی پوری ذمہ داری واضح کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى ۝ وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى)’’اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی، اور یہ کہ اس کی کوشش عنقریب دکھا دی جائے گی۔‘‘[النجم: 39-40]
    اس دن کوئی دوسرا نہ اس کا عمل اپنے ذمہ لے گا، نہ اس کا نام اور مقام اسے کچھ فائدہ دے گا۔ انسان کی حقیقی پونجی صرف وہی محنت ہے جو اس نے آگے بھیجی ہے۔ ایک دن وہ اسے اپنے سامنے موجود پائے گا؛ اس دن اس کے اعمال کی باریکیاں کھول کر سامنے رکھ دی جائیں گی اور اس کی نیتوں کے پوشیدہ راز ظاہر کر دیے جائیں گے۔
    جب یہ حقیقت دل میں راسخ ہو جائے تو پھر صرف اسی محنت کی ہی کوئی قدر باقی رہتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے ہو۔ اسی مقام پر قرآن قبولیت کا راستہ واضح کرتے ہوئے فرماتا ہے: (وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُورًا) ’’اور جو آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے ویسی ہی کوشش کرے جیسی اس کے لیے کرنی چاہیے، اور وہ مومن بھی ہو، تو یہی لوگ ہیں جن کی محنت کی قدر کی جائے گی۔‘‘[الإسراء: 19]
    جو شخص آخرت کا طالب ہو، اپنے دل کو درست کرے، اپنی سمت کو سیدھا رکھے، اور شریعت کی رہنمائی کے مطابق ایمان کے ساتھ اس کے لیے جدوجہد کرے—ایسا ایمان جو عمل میں جان ڈال دے اور اس کے اثرات میں برکت پیدا کرے—تو ایسے لوگوں کی محنت مقبول ہوتی ہے۔ ایسی محنت محفوظ رکھی جاتی ہے، بڑھائی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کی قدر فرماتا ہے اور اس پر کئی گنا اجر عطا فرماتا ہے۔ اور یہاں قرآنی آیت میں ’’مَشْكُورًا‘‘ سے مراد صرف تعریف نہیں، بلکہ قبولیت، اعزاز، برکت اور اضافہ ہے؛ یہاں تک کہ تھوڑا عمل بہت بنا دیا جاتا ہے اور معمولی محنت عظیم اجر کا سبب بن جاتی ہے۔
    جب مسلمان اس عظیم فضل کو اپنے سامنے رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عطا کی وسعت کو سمجھتا ہے تو پھر ربانی پکار اس کے دل کو جھنجھوڑتی ہے: (وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ) ’’اور ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے جس کی طرف وہ رخ کیے ہوئے ہے، پس نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو۔‘‘[البقرة: 148]
    یہ ایسی پکار ہے جو مومن کے دل کو بیدار کرتی ہے اور اس کی ہمت کو ابھارتی ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کو نیکیوں کے میدانِ مقابلہ میں بدل دے؛ بلکہ اپنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کے لیے کر دے—اپنے کام میں بھی، اپنی راحت میں بھی، اپنی کمائی میں بھی اور اپنے خرچ میں بھی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۝ لَا شَرِيكَ لَهُ) ’’کہہ دیجیے: بے شک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔‘‘[الأنعام: 162-163]
    میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اور اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے، آپ سب کے لیے، اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ کی مغفرت طلب کرتا ہوں؛ پس تم بھی اسی سے مغفرت طلب کرو، بے شک وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
    دوسرا خطبہ:
    ہمہ قسم کی بہت زیادہ اور پاکیزہ حمد اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ میں اس کی حمد بیان کرتا ہوں اور اس کا بھر پور شکر ادا کرتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں؛ یہ اقرار توحید دلوں کو نور بخشتا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جو ہدایت دینے والے اور خوش خبری سنانے والے بنا کر بھیجے گئے۔ اللہ تعالیٰ آپ پر، آپ کی آل اور صحابۂ کرام پر بہت زیادہ درود و سلام نازل فرمائے۔
    بعد ازاں:
    میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو تقویٰ الٰہی کی وصیت کرتا ہوں۔
    جب دل اپنی پوری جدوجہد کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے تو نفس پاکیزہ ہو جاتا ہے، حسد کی آگ بجھ جاتی ہے، کینے ختم ہو جاتے ہیں، اور انسان حقیر قسم کے مقابلوں سے بالا تر ہو جاتا ہے۔ پھر وہ فنا ہو جانے والی چیزوں پر جھگڑتا اور چھینا جھپٹی نہیں کرتا، بلکہ اس کی ترجیحات تعمیر، ترقی، اصلاح اور حسنِ کارکردگی کی طرف بلند ہو جاتی ہیں۔
    پھر یہی روح معاشرے تک پھیلتی ہے؛ چنانچہ ہر فرد کے مقاصد بلند ہو جاتے ہیں، کوششیں باہم مل جاتی ہیں، تعاون مضبوط ہو جاتا ہے، اور صلاحیتیں مفید خدمات، مؤثر منصوبوں اور دیرپا اجتماعی نفع میں تبدیل ہو جاتی ہیں؛ کیونکہ جب دل ایک ہی سمت پر جمع ہو جائیں تو کامیابی اور قبولیت کے اسباب بھی جمع ہو جاتے ہیں۔
    اب آپ سب خیر خلق اللہ یعنی محمد بن عبد اللہ ﷺ پر درود و سلام بھیجو۔ اے اللہ! اپنے نبی پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرما، جتنی بار تیرا ذکر کرنے والوں نے تیرا ذکر کیا اور جتنی بار غافل لوگ غفلت میں رہے۔ اے اللہ! اولین و آخرین میں اور قیامت تک ملأ اعلیٰ میں آپ پر رحمتیں نازل فرما۔
    اے اللہ! ہمیں آپ ﷺ کی شفاعت نصیب فرما، آپ ﷺ کی بہترین اتباع کی توفیق عطا فرما، اور ہمیں آپ کی سنت پر چلنے والوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! خلفائے راشدین ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم سے راضی ہو ، اور تمام اہلِ بیت، صحابۂ کرام اور ہم سے بھی اپنی عفو و بخشش کے ساتھ راضی ہو ، اے سب سے بڑھ کر کرم فرمانے والے!
    اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! ان کے حالات درست فرما، اور انہیں حق و ہدایت پر متحد فرما۔
    اے اللہ! مسلمانوں کے علاقوں کی حفاظت فرما، اور فلسطین میں اور ہر جگہ ان کے لیے مددگار، معاون اور پشت پناہ بن جا۔
    اے اللہ! جو ہمارے متعلق یا کسی بھی مسلمان ملک سے متعلق برائی کا ارادہ کرے، اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاری کو اسی کی تباہی بنا دے، اور اس کے مکر کو اسی کے گلے کا طوق بنا دے۔
    اے اللہ! ہمارے ملک سعودی عرب کی حفاظت فرما، جو کہ ایمان کا مرکز اور مسلمانوں کے دلوں کا قبلہ ہے۔ اسے ہر برائی سے محفوظ رکھ، اس پر امن و استحکام کی نعمت دائم فرما، اس کے محافظوں اور سپاہیوں کی حفاظت فرما، اور اسے دشمنوں کے مکر، سازش اور جارحیت سے بچا۔ اے اللہ! ہم تجھے ان کے مد مقابل کرتے ہیں اور ان کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔
    اور تمام مسلم ممالک میں خیر، خوش حالی اور سعادت عام فرما، اور انہیں امن و استحکام کا لبادہ پہنا دے۔
    اے اللہ! ہمارے دلوں کی اصلاح فرما، ہمارے نفوس کو پاکیزہ بنا، اور ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔ اے اللہ! ہماری محنت کو اپنی رضا میں لگا دے، ہمیں اپنی پسندیدہ اعمال کی توفیق عطا فرما، اور ہمارے اعمال کو اپنی رضا کے لیے خالص بنا دے۔ اے اللہ! ہم سے قبول فرما، ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔
    یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا ارحم الراحمین! اے اللہ! ایسی بارش جو رحمت ہو، عذاب، مصیبت، تباہی یا غرق کرنے والی نہ ہو۔ اے اللہ! اس کے ذریعے زمین کو زندہ کر دے، بندوں کو سیراب فرما، اور اسے شہری و دیہاتی سب کے لیے نفع بخش بنا دے۔
    اے اللہ! ہمارے حکمران خادمِ حرمین شریفین کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جو تجھے محبوب اور پسندیدہ ہیں۔ ان کو اور ان کے ولی عہد کو ہر خیر کی توفیق عطا فرما، یا ارحم الراحمین! اور تمام مسلم حکمرانوں کو تیری کتاب کے مطابق عمل کرنے اور تیری شریعت نافذ کرنے کی توفیق عطا فرما۔
    (رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ) ’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما، آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘[البقرة: 201]
    (إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ) ’’بے شک اللہ عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے، اور بے حیائی، برائی اور زیادتی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔‘‘[النحل: 90]
    پس اللہ کو یاد کرو، وہ تمہیں یاد رکھے گا۔ اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرو، وہ تمہیں اور زیادہ عطا فرمائے گا۔ اور یقیناً اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے، اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں