خطبہ حرم مکی تعظیمِ زمان و مکان؛ تقاضۂ ایمان از ڈاکٹر اسامہ الخیاط 14 ذو القعدہ 1447 ہجری

شفقت الرحمن نے 'خطبات الحرمین' میں ‏مئی 2, 2026 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    770
    فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر اسامہ بن عبد اللہ خیاط حفظہ اللہ نے مسجد الحرام مکہ مکرمہ میں 14 ذوالقعدہ 1447ہجری کا خطبہ جمعہ " تعظیمِ زمان و مکان؛ تقاضۂ ایمان" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ نے بعض زمانوں، مکانوں اور اعمال کو خصوصی فضیلت عطا فرمائی ہے، اور انہی میں اشہرِ حرم بھی شامل ہیں جن کی حرمت قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ خطیب نے بیان کیا کہ جاہلیت کے لوگ ان مہینوں کی ترتیب میں رد و بدل کر کے حرمت کو پامال کرتے تھے، جسے اسلام نے باطل قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ان مہینوں کی تعظیم کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ گناہوں، معاصی اور ظلم سے خصوصی اجتناب کرے، کیونکہ ان ایام میں نافرمانی کی سنگینی بڑھ جاتی ہے، جیسے حرمِ مکی میں گناہ زیادہ شدید ہوتا ہے۔ مزید فرمایا کہ اہلِ ایمان کو چاہیے کہ وہ ان مبارک اوقات کو اللہ کی رضا، توبہ، اصلاحِ نفس اور نیکیوں میں سبقت کے لیے غنیمت جانیں۔ دوسرے خطبے میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت دی ہوئی چیزوں کی تعظیم ہی ایمان کا تقاضا ہے، اور اسی میں اشہرِ حرم کی حرمت کا پاس رکھنا بھی شامل ہے۔ خطبہ دعا، درود اور امتِ مسلمہ کے لیے خیر و نصرت کی دعاؤں پر اختتام پذیر ہوا۔
    مکمل خطبہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں پرنٹ/ پڑھنے کے لیے کلک کریں:
    https://drive.google.com/.../1ha...

    پہلا خطبہ:
    ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے کچھ لمحات کو اضافی فضیلت اور احترام عطا فرمایا۔ میں اس کی فراواں بھلائیوں اور نعمتوں پر اسی کی حمد بیان کرتا ہوں ، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ اپنے بندوں کو عفو، مغفرت اور احسان سے نوازتا ہے۔ اور گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، ہدایت اور رحمت کے نبی، جو بہترین امت کی طرف مبعوث کیے گئے۔ اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر درود و سلام نازل فرما ، آپ کی آل و اصحاب پر جو عقل و حکمت والے ہیں، اور ان تمام لوگوں پر جو قیامت تک ان کی پیروی کریں۔

    بعد ازاں:

    اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو، اس کی نگرانی کا احساس رکھو، اس کی عظمت دل میں بساؤ، اسی کی طرف رجوع کرو اور اس کی اطاعت اختیار کرو، اس کی ناراضی کے اسباب سے بچو اور اس کی نافرمانی نہ کرو، اور اس دن سے ڈرو جب تم سب اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر ہر جان کو اس کے کیے کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہ کیا جائے گا۔

    مسلمانو! مومن کے لیے سب سے حسین اوصاف اور بہترین خصال یہ ہیں کہ اس کے اندر لطیف احساس، بیدار شعور، زندہ دل اور باشعور عقل ہو؛ ایسی عقل و شعور جو اسے اللہ تعالی کی محترم قرار دی ہوئی چیزوں کی حرمت محسوس کرنے اور عظمت یافتہ چیزوں کی تعظیم پر آمادہ کرے۔ یہی صفات مسلمان کے سچے ایمان، پختہ یقین اور ثابت قدم اطاعت کی واضح دلیل بن جاتی ہیں۔

    اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور حکمت کے تحت کسی بھی زمان و مکان کو فضیلت والا قرار دے دیتا ہے، اور ان میں ایسی عبادات اور نیکیاں مقرر کرتا ہے جن کے ذریعے فرمانبردار اور متواضع لوگ اللہ تعالی کا قرب حاصل کرتے ہیں، اور اپنے رب کی طرف سفر میں ان اعمال کو بارگاہِ الہی میں حسین اور مبارک حاضری کا ذریعہ بناتے ہیں۔ انہی حرمت والے زمانوں میں سے اللہ تعالیٰ کے محترم قرار دیے ہوئے حرمت والے مہینے ہیں، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ} ’’بے شک مہینوں کی تعداد آسمانوں و زمین کی تخلیق کے دن سے اللہ کے نزدیک اللہ کی کتاب میں بارہ ہے؛ ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ یہی مضبوط دین ہے، پس ان مہینوں میں اپنے آپ پر ظلم نہ کرو۔‘‘ [التوبہ: 36]

    یہی وہ مہینے ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں بیان فرمایا جسے امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ’’إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ: ثَلَاثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذُو الْقَعْدَةِ، وَذُو الْحِجَّةِ، وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ۔‘‘ ’’زمانہ گھوم پھر کر اسی ترتیب پر آ گیا ہے جس ترتیب پر اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے کے دن اسے بنایا تھا۔ سال بارہ مہینوں کا ہے، ان میں سے چار حرمت والے ہیں: تین پے در پے—ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم—اور مُضَر قبیلے کا رجبِ، جو جمادی اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔‘‘ [بخاری، مسلم]

    یہ نبوی بیان دراصل آپ ﷺ کی طرف سے اللہ کے مقرر کردہ نظام کی توثیق اور تثبیت تھا، تاکہ یہ امر واضح ہو جائے کہ مہینوں کی تعداد اور حرمت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ابتدا ہی سے مقرر فرمائی، نہ اس میں تقدیم ہے نہ تاخیر، نہ زیادتی ہے نہ کمی۔ یعنی آج شریعت میں مہینوں کی گنتی اور حرمت والے مہینوں کا حکم بالکل ویسا ہی ہے جیسا اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے دن اپنی تقدیر میں مقرر فرمایا تھا۔

    یہ اعلان اس لیے بھی تھا کہ اہلِ جاہلیت کی اس خود ساختہ روش کو باطل قرار دیا جائے جو وہ اسلام سے پہلے کرتے تھے کہ محرم کی حرمت کو مؤخر کر کے صفر کے مہینے میں منتقل کر دیتے، یوں ایک حرمت والے مہینے کو حلال اور ایک حلال مہینے کو حرمت والا قرار دیتے تھے۔ یہی وہ ’’ نسیء‘‘ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ يُضَلُّ بِهِ الَّذِينَ كَفَرُوا يُحِلُّونَهُ عَامًا وَيُحَرِّمُونَهُ عَامًا لِيُوَاطِئُوا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ فَيُحِلُّوا مَا حَرَّمَ اللَّهُ زُيِّنَ لَهُمْ سُوءُ أَعْمَالِهِمْ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ} ’’مہینوں کو آگے پیچھے کرنا کفر میں ایک اور اضافہ ہے، جس کے ذریعے کافروں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ وہ ایک سال اسے حلال کر لیتے ہیں اور دوسرے سال اسے حرمت والا ٹھہراتے ہیں، تاکہ اللہ کے حرمت والے مہینوں کی گنتی پوری کر لیں اور یوں اللہ کے حرام کیے ہوئے کو حلال بنا لیں۔ ان کے برے اعمال ان کے لیے خوش نما بنا دیے گئے ہیں، اور اللہ کافر قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ [التوبہ: 37]

    یہ جاہلیت کی اُن صورتوں میں سے ایک تھی جن کے ذریعے تحریف، تبدیلی اور دین کے ساتھ کھیل کیا جاتا تھا؛ یہی ان کی گمراہی، کفر اور اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے رسولوں کی تکذیب کے نمایاں مظاہر میں سے تھی۔

    سنو! ان حرمت والے مہینوں کی عظمت کا حقیقی احساس رکھنے کی سب سے نمایاں علامتوں میں سے ایک—اللہ کے بندو—یہ ہے کہ انسان ان مہینوں میں اپنے نفس پر ظلم کرنے سے بچے؛ گناہوں کا ارتکاب کرنے، معاصی میں پڑنے اور ہر قسم کی خطاؤں سے آلودہ ہونے سے اجتناب کرے؛ تاکہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل ہو: { فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ } ’’پس ان مہینوں میں اپنے آپ پر ظلم نہ کرو۔‘‘ [التوبہ: 36]

    اور گناہ ہر زمانے میں برا، منحوس اور انسان کے اپنے نفس پر ظلم ہے؛ کیونکہ گناہ عظمت والے، بدلہ لینے والے، زبردست رب کے سامنے ڈھٹائی ہے، حالانکہ وہی عظیم نعمتوں اور بے شمار احسانات سے نوازنے والا ہے۔ لیکن حرمت والے مہینے میں گناہ کا معاملہ اور زیادہ سنگین، زیادہ منحوس اور زیادہ بڑا ظلم ہو جاتا ہے؛ کیونکہ اس میں ایک طرف گناہ کی جسارت ہوتی ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حرمت اور عظمت کی بے حرمتی بھی۔

    چنانچہ جس طرح حرمت والے شہر مکہ میں نافرمانی کا گناہ اللہ تعالیٰ کے فرمان: { وَمَن يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ } ’’اور جو اس میں ظلم کے ساتھ کج روی کا ارادہ کرے، ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔‘‘ [الحج: 25] کے مطابق زیادہ شدید ہو جاتا ہے، اسی طرح حرمت والے مہینے میں بھی گناہوں کی سنگینی بڑھ جاتی ہے۔

    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے مہینوں میں سے چار مہینے خاص فرمائے، انہیں حرمت والا قرار دیا، ان کی حرمت کو عظمت بخشی، اور ان میں گناہ کو زیادہ بڑا اور نیکی و اجر کو زیادہ عظیم بنا دیا۔‘‘

    اور قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’حرمت والے مہینوں میں ظلم کرنا دوسرے مہینوں کی نسبت زیادہ بڑا گناہ اور زیادہ بھاری جرم ہے، اگرچہ ظلم ہر حال میں بڑا جرم ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے حکم میں جس چیز کو چاہتا ہے عظمت عطا فرماتا ہے۔‘‘

    اللہ کے بندو! جو شخص اللہ کو اپنا رب، اسلام کو اپنا دین اور محمد ﷺ کو اپنا رسول مان کر راضی ہے، اس کے شایانِ شان یہی ہے کہ وہ اپنے نفس کو گناہوں میں پڑنے سے روکے، اسے خطاؤں کی پھسلن سے دور رکھے، اسے گناہ کی نجاستوں سے محفوظ رکھے، خواہشاتِ نفس، نفسانی نزوات، ہلاکت خیز بے لگامیوں، شیطان کے بہکانے، نفسِ امارہ کی آرائشوں، شیطانی وسوسوں اور اس کے قدم بہ قدم جالوں سے بلند رہے۔

    اور ہمیشہ یہ یاد رکھے کہ زندگی دراصل مراحل اور منزلوں کا نام ہے؛ ان ہی میں عمریں ختم ہو جاتی ہیں، مہلتیں پوری ہو جاتی ہیں اور اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔ انسان نہیں جانتا کہ اسے اس دنیا سے کب جدا ہونا ہے، نہ یہ جانتا ہے کہ زندگی کے کتنے مرحلے ابھی باقی ہیں، اور اس سفر میں وہ کس منزل پر جا کر ٹھہر جائے گا۔

    اور حقیقی سعادت مند وہ ہے جس کا نفس بلند مرتبوں کے حصول کے لیے آمادہ ہو، جو اللہ تعالیٰ کی رضا، محبت اور مغفرت کے اعلیٰ درجات پانے کے لیے کوشاں ہو؛ جو ماضی کی کوتاہیوں کی تلافی کرے، اور مستقبل میں بابرکت اور فضیلت والے اوقات کو غنیمت جانے، اور اس حرمت والے مہینے میں بلکہ سال کے تمام مہینوں میں راہِ راست اور درست منہج کو لازم پکڑے۔

    اور اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا کہ : { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ} ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔‘‘ [الحشر: 18]

    اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو کتابِ ہدایت اور نبی ﷺ کی سنت سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اور اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ سے عظیم و جلیل اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، یقیناً وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔


    دوسرا خطبہ:

    ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرنے والا ہے۔ میں اس کی حمد بیان کرتا ہوں، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ حوضِ کوثر والے ہیں۔ اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر، اور آپ کی آل و اصحاب پر درود و سلام نازل فرما۔

    بعد ازاں:

    اللہ کے بندو! بعض سلفِ صالحین رحمہم اللہ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے بعض چیزوں کو خاص فضیلت عطا فرمائی؛ چنانچہ فرشتوں میں سے پیغام رساں چنے، انسانوں میں سے رسول چنے، کلام میں سے اپنے ذکر کو منتخب فرمایا، زمین میں سے مساجد کو منتخب فرمایا، مہینوں میں سے رمضان اور حرمت والے مہینوں کو منتخب فرمایا، دنوں میں سے جمعہ کے دن کو منتخب فرمایا، اور راتوں میں سے لیلۃ القدر کو منتخب فرمایا۔ پس تم بھی ان چیزوں کی تعظیم کرو جنہیں اللہ نے عظمت دی ہے؛ کیونکہ اہلِ فہم و عقل کے نزدیک کسی بھی چیز کی عظمت اسی بنیاد پر ہوتی ہے کہ اللہ نے اسے عظمت بخشی ہے۔‘‘

    پس اللہ سے ڈرو، اللہ کے بندو! اور ان چیزوں کی تعظیم کرو جنہیں اللہ نے عظمت دی ہے، اور انہی میں یہ حرمت والا مہینہ بھی شامل ہے۔ اس کی حرمت کا احساس اپنے دلوں میں تازہ رکھو، اور اس میں—بلکہ تمام مہینوں میں—اپنے نفس پر ظلم کرنے سے بچو۔ نیکیوں کے خوشہ چیں بنو، قربِ الٰہی کے گلستان میں داخل ہو جاؤ، اور اس دین کو مضبوطی سے تھام لو جو سید الانام ﷺ سے صحیح اور ثابت طور پر منقول ہے۔ اور ہر اس بدعت سے کنارہ کش رہو جس کی نہ اللہ کی کتاب میں کوئی اصل ہو اور نہ اس کے رسول ﷺ کی سنت میں۔

    یقیناً کامیاب وہی ہے جس نے اللہ کی عظمت دی ہوئی چیزوں کی تعظیم کی، اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حرام جانا، خالص اللہ کے لیے عمل کیا، اور رسول اللہ ﷺ کی پیروی اختیار کی۔

    اور ہمیشہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے بہترین بندے پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے، چنانچہ اس نے اپنے سچے اور بہترین کلام میں فرمایا ہے: { إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا } ’’بے شک اللہ تعالی رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔‘‘ [الأحزاب: 56]

    اللهم صلِّ وسلِّم على عبدِك ورسولِك محمدٍ ، یا اللہ! آپ ﷺ کے چاروں خلفائے راشدین: ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم سے راضی ہو جا، نیز آپ کی ازواجِ مطہرات امہات المؤمنین سے، تمام اہلِ بیت، صحابہ، تابعین، اور قیامت تک احسان کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں سے بھی راضی ہو جا، اور اپنے عفو، کرم اور احسان کے صدقے ہمیں بھی ان کے ساتھ شامل فرما، یا اکرم الاکرمین!

    اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔

    یا اللہ! دینی قلعے کی حفاظت فرما، اپنے موحد بندوں کی مدد فرما، مسلمانوں کے دلوں میں باہمی الفت پیدا فرما، ان کی صفوں کو متحد فرما، اور ان کی بات کو حق پر جمع فرما، یا رب العالمین! اس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو امن و اطمینان کا گہوارہ بنا دے۔

    اے اللہ! ہمارے وطنوں میں ہمیں امن عطا فرما، ہمارے حکمرانوں اور ذمہ داران کی اصلاح فرما، اور ہمارے حکمران خادمِ حرمین شریفین کی حق کے ذریعے تائید فرما۔ انہیں نیک مشیر اور صالح معاون مہیا فرما، اور انہیں ان کاموں کی توفیق دے جو تجھے محبوب اور پسندیدہ ہیں، یا سمیع الدعاء! یا اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو ہر اس امر کی توفیق عطا فرما جس میں ملک و قوم اور عوام کے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی ہو، اے وہ ذات جس کی طرف قیامت کے دن لوٹنا ہے!

    یا اللہ! اس ملک کو ہر خیر سے مالا مال فرما اور ہر شر سے محفوظ فرما، اسے ایمان کا مرکز، امن کا گہوارہ اور اطمینان کا مسکن بنا، اور اس کے اطراف و اکناف میں دائمی امن و استحکام پیدا فرما۔ اے اللہ! ہمارے اور تمام مسلم ممالک کو سازش کرنے والوں کی چالوں اور ظالموں کے حملوں سے محفوظ رکھ ، یا رب العالمین!

    اے اللہ! ہماری سرحدوں پر موجود ہمارے محافظوں کی حفاظت فرما، اور ان کے لیے مددگار اور معاون بن جا۔

    اے اللہ! مسجد اقصیٰ کو آزاد فرما۔ یا اللہ! فلسطین میں مسلمانوں کی حفاظت فرما، ان کے لیے مددگار، پشت پناہ، مؤید اور ناصر بن جا، یا ذوالجلال والاکرام!

    اے اللہ! ہماری دینی اصلاح فرما اسی میں ہماری نجات ہے، اور ہماری دنیاوی اصلاح فرما اسی میں ہمارا معاش ہے، اور ہماری آخرت کی اصلاح فرما اسی کی طرف ہم نے لوٹنا ہے، اور ہمارے لیے زندگی کو ہر خیر میں اضافے کا ذریعہ بنا دے، اور موت کو ہمارے لیے ہر شر سے راحت بنا دے۔

    یا اللہ! ہمیں تقوی عطا فرما، اور ہمارا تزکیہ نفس فرما، تو ہی بہترین تزکیہ کرنے والا ہے، تو ہی انہیں سنوارنے والا اور ان کا مالک ہے۔

    اے اللہ! ہمارے تمام معاملات کا انجام اچھا فرما، اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔

    اے اللہ! ہم تیری نعمت کے زوال، تیری عطا کردہ عافیت کے بدل جانے، تیری اچانک پکڑ، اور تیرے ہر قسم کے غضب سے تیری پناہ چاہتے ہیں، یا رب العالمین!

    اے اللہ! ہم تجھ سے نیک اعمال کی توفیق، برائیوں سے بچنے کی ہمت، مسکینوں کی محبت، اور تیری مغفرت و رحمت کا سوال کرتے ہیں۔ اور جب تو کسی قوم کے لیے آزمائش کا فیصلہ کرے تو ہمیں اس فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنے پاس بلا لینا۔

    اے اللہ! ہمارے بیماروں کو شفا عطا فرما، ہمارے مرحومین پر رحم فرما، ہمارے ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر فرما جو تیری رضا کا ذریعہ ہوں، اور ہمارے اعمال کا انجام باقی رہنے والی نیکیوں پر فرما۔

    { رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ } ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم ضرور خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘ [الأعراف: 23]

    { رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ } ’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘ [البقرۃ: 201]

    اور اللہ تعالیٰ ہمارے نبی محمد ﷺ پر، آپ کی آل اور تمام صحابہ پر رحمت و سلامتی نازل فرمائے۔ اور تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں