خطبہ حرم مدنی نعمتِ امن اور ہماری ذمہ داریاں از ڈاکٹر علی الحذیفی 21 ذو القعدہ 1447 ہجری

شفقت الرحمن نے 'خطبات الحرمین' میں ‏مئی 8, 2026 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    770


    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر پروفیسر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 21 ذوالقعدہ 1447ہجری کا خطبہ جمعہ "نعمتِ امن اور ہماری ذمہ داریاں" کے عنوان پر ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے اسلام میں امن کی عظیم نعمت اور اس کی اہمیت کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام صرف عبادات کا دین نہیں بلکہ ایسا مکمل نظامِ حیات ہے جو اللہ تعالیٰ کے حقوق، رسولِ اکرم ﷺ کے حقوق، اور بندوں کے باہمی حقوق کو قائم کر کے معاشرے میں حقیقی امن، رحم اور اطمینان پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کامل ایمان، خالص توحید اور گناہوں سے اجتناب انسان کے لیے دنیا و آخرت کے امن کا سبب بنتے ہیں، جبکہ ظلم، معصیت اور حقوق العباد میں کوتاہی امن اور سکون کو ختم کر دیتی ہے۔ انہوں قرآنِ مجید کی متعدد آیات کی روشنی میں یہ بیان کیا کہ نماز، زکاۃ، حج اور دیگر شعائرِ اسلام بھی امن ہی کے ماحول میں صحیح طور پر ادا ہوتے ہیں۔ اسی طرح بیت اللہ، حرمین شریفین اور مقدس مقامات کے ساتھ امن و امان کی نسبت کو بھی نمایاں کیا۔ خطیب محترم سنت نبوی کی روشنی میں بتایا کہ اسلام نے انسانیت کو ایسا امن عطا کیا کہ عورت تنہا دور دراز علاقوں سے سفر کرتی تھی اور اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوتا تھا۔ دوسرے خطبے میں فضیلت والے ایام سے فائدہ اٹھانے، صحت و فراغت کی قدر کرنے، نیک اعمال میں سبقت لے جانے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر و شکر کو لازم پکڑنے کی تلقین کی۔ آخر میں عالمِ اسلام، فلسطین، حرمین شریفین اور تمام مسلمانوں کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں، اور مسلمانوں کو اتحاد، ایمان، شکر اور تقویٰ اختیار کرنے کی نصیحت کی گئی۔

    پی ڈی ایف فارمیٹ میں پڑھنے یا پرنٹ کرنے کے لیے کلک کریں۔
    https://drive.google.com/file/d/1I99ciqCSP4UHNgpmNanSVhGWpmWr2AP3

    پہلا خطبہ:
    ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جو زبردست اور مغفرت فرمانے والا، حکمت والا اور قدردانی کرنے والا ہے۔ میں اپنے رب کی معلوم اور نامعلوم نعمتوں پر اس کی حمد بیان کرتا ہوں؛ کیونکہ ہر نعمت اسی کی عطا ہے، ہر فضل اسی کا ہے، اسی لیے بہترین ثنا اسی کے لیے ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ دلوں کے بھیدوں کو خوب جاننے والا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں، جو ہر نیک اور مقبول عمل کی طرف دعوت دینے والے اور رہنمائی فرمانے والے ہیں۔ یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر، آپ کی آل اور ان صحابۂ کرام پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرما جنہوں نے ہدایت اور نور کی پیروی کی۔

    بعد ازاں:

    تقویٰ الہی اپنائے رکھو، اس کی اطاعتوں پر عمل کر کے، خواہشاتِ نفس اور حرام چیزوں سے بچ کر؛ تاکہ تم آگ سے نجات پا جاؤ اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنتوں سے سرفراز ہو جاؤ۔

    مسلمانو!

    اسلام زمین میں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت قائم کرنے کے لیے آیا ہے، نیز اس عبادت کی بنیادوں کو مضبوط کرتا ہے، اور یہ واضح کرتا کہ اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں پر کون سے واجب حقوق ہیں، رسولِ اکرم ﷺ کے کیا حقوق ہیں، اور بندوں کے ایک دوسرے پر کیا حقوق ہیں؛ تاکہ مسلمان حقیقی معنوں میں اللہ تعالیٰ کا بندہ بن جائے، اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں شامل ہو جائے: (وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَٰئِكَ رَفِيقًا) ’’اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے؛ یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ، اور یہ لوگ بہترین رفیق ہیں۔‘‘ [النساء: 69]

    اہلِ علم کہتے ہیں: صالح وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کا حق بھی ادا کرے اور بندوں کے حقوق بھی؛ تبھی وہ نمازیوں کی تشہد میں پڑھی جانے والی دعا کا مستحق بن جاتا ہے: ’’السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ ‘‘یعنی: ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو۔

    اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي القُرْبَى وَاليَتَامَى وَالمَسَاكِينِ وَالجَارِ ذِي القُرْبَى وَالجَارِ الجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا)’’اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، نیز رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، رشتہ دار پڑوسی، اجنبی پڑوسی، پہلو میں موجود شخص، مسافر اور اپنے ماتحت لوگوں کے ساتھ بھی بھلائی کرو۔ بے شک اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو تکبر کرنے والا، فخر جتانے والا ہو۔‘‘ [النساء: 36] اہلِ علم کہتے ہیں: اس آیت کو ’’آیتِ حقوق‘‘ کہا جاتا ہے۔

    اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ( النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ) ’’نبی ﷺ مؤمنوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں۔‘‘ [الأحزاب: 6]

    اسی مفہوم میں اللہ تعالی کا ایک اور مقام پر فرمان ہے: (مَا كَانَ لِأَهْلِ المَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُمْ مِنَ الأَعْرَابِ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ وَلَا يَرْغَبُوا بِأَنْفُسِهِمْ عَنْ نَفْسِهِ)’’مدینہ والوں اور ان کے آس پاس رہنے والے دیہاتیوں کے لیے یہ جائز نہ تھا کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ سے پیچھے رہ جائیں اور آپ کی جان سے بڑھ کر اپنی جانوں کو عزیز سمجھیں۔‘‘ [التوبة: 120]

    اسی طرح فرمایا: (وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ)’’اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم واقعی مؤمن ہو۔‘‘ [الأنفال: 1]

    اس کے بعد اسلام کا پیغام زمین میں امن، سلامتی اور رحمت قائم کرنے کے لیے آتا ہے۔ اسی لیے اس دین نے سب سے پہلے مسلمان کے امن و اطمینان کا اہتمام کیا اور ایمان کی بنیادوں کو مضبوط بنایا۔ فرمانِ باری تعالی ہے: (الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَٰئِكَ لَهُمُ الأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ)’’جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا، انہی کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ [الأنعام: 82]

    چنانچہ جس شخص نے ایمان کو کامل کر لیا، اور اللہ تعالیٰ نے اسے ظلم یعنی ہمہ قسم کے شرک سے محفوظ رکھا ، ـ نیز ایسے ہی اللہ تعالیٰ نے اسے گناہوں کے ذریعے اپنے نفس پر ظلم کرنے اور بندوں پر زیادتی کرنے سے بچا لیا، تو اس کے لیے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کامل امن ہے؛ یہ اللہ تعالیٰ پکا وعدہ ہے۔

    اور جس کے ایمان میں کمی آ گئی، اور وہ بندوں یا اپنی جان پر ظلم کرنے میں مبتلا ہو گیا، تو اس کے دنیا و آخرت کے امن اور سعادت میں بھی اسی قدر کمی آ جائے گی جس قدر اس کے توحید میں کمی آئی ہو گی، اور جس قدر اس کی استقامت میں رخنہ پیدا ہوا ہو گا۔

    اسی لیے فرمانِ باری تعالی ہے: (الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ القُلُوبُ ۝ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ طُوبَىٰ لَهُمْ وَحُسْنُ مَآبٍ) ’’جو لوگ ایمان لائے، اور ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان پاتے ہیں۔ یاد رکھو! اللہ تعالیٰ کے ذکر ہی سے دلوں کو سکون حاصل ہوتا ہے۔ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے، ان کے لیے خوش حالی ہے اور بہترین ٹھکانا ہے۔‘‘ [الرعد: 28-29]

    اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ( مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ) ’’مؤمن خواہ کوئی مرد ہو یا عورت نیک عمل کرے تو ہم اسے ضرور پاکیزہ زندگی عطا کریں گے، اور انہیں ان کے بہترین اعمال کے مطابق اجر عطا کریں گے۔‘‘ [النحل: 97]

    اور جب اللہ تعالیٰ کسی خطے کو امن و اطمینان کی نعمت عطا فرما دیتا ہے تو دین غالب، مضبوط اور باعزت ہو جاتا ہے، نمازیں، جمعے اور جماعتیں قائم ہونے لگتی ہیں، مصالح، تجارتیں، منفعتیں اور خیر کے کام منظم ہو جاتے ہیں، لوگ اپنی جانوں، عزتوں اور مالوں کے بارے میں مطمئن ہو جاتے ہیں، آبادیاں ترقی کرتی ہیں، راستے پرامن ہو جاتے ہیں، شہر آپس میں جڑ جاتے ہیں، علاقے کے لوگ اپنی ضرورت کی ہر چیز کا تبادلہ کرتے ہیں، رزق آسان ہو جاتا ہے، خوش حالی عام ہو جاتی ہے، مال کی فراوانی ہو جاتی ہے، دل مطمئن ہو جاتے ہیں، ہر شخص اپنی ضروریات کو حاصل کر لیتا ہے، اور مویشی بڑھ جاتے ہیں۔

    لہذا امن ہر خیر جمع کرنے والی نعمت ہے، جبکہ امن بگڑ جائے تو ہمہ قسم کا شر اور فساد یکجا ہو جاتا ہے۔

    اور امن اسلام کے غالب ہونے کا لازمی نتیجہ ہے؛ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: (لَيُتِمَّنَّ اللهُ هٰذَا الأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ، لَا يَخَافُ إِلَّا اللهَ وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ)’’اللہ تعالیٰ اس دین ضرور غالب فرمائے گا، یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک سفر کرے گا اور اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا خوف نہیں ہو گا، سوائے اس اندیشے کے کہ کہیں بھیڑیا اس کی بکریوں پر حملہ نہ کر دے۔‘‘ اسے امام بخاری نے سیدنا خباب بن أرت رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

    اور یہ وعدہ اسلام کے ابتدائی دور ہی میں، نبی کریم ﷺ کی زندگی مبارک میں جلد پورا ہو گیا تھا۔

    چنانچہ ایک بار آپ ﷺ نے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ( وَلَئِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ، لَتَرَيَنَّ الظَّعِينَةَ تَرْتَحِلُ مِنَ الحِيرَةِ حَتَّى تَطُوفَ بِالكَعْبَةِ، لَا تَخَافُ أَحَدًا إِلَّا اللهَ)’’اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو تم ضرور دیکھو گے کہ ایک عورت حیرہ سے سفر کرے گی، یہاں تک کہ کعبہ کا طواف کرے گی، اور اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا خوف نہیں ہوگا۔‘‘ تو اس پر سیدنا عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ فَرَأَيْتُ الظَّعِينَةَ تَرْتَحِلُ مِنَ الحِيرَةِ حَتَّى تَطُوفَ بِالكَعْبَةِ، لَا تَخَافُ إِلَّا اللهَ ‘‘ پھر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک عورت حیرہ سے چلتی، اور کعبہ کا طواف کرتی، لیکن اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوتا تھا۔ اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

    یہ اسلام کے ہمہ گیر امن کا ایک مظہر تھا جس کی نعمت سے ساری انسانیت بہرہ مند ہوئی۔

    نبی کریم ﷺ جب چاند دیکھتے تو امن کی چاہت میں یہ دعا فرمایا کرتے تھے: ( اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالأَمْنِ وَالإِيمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالإِسْلَامِ، هِلَالَ خَيْرٍ وَرُشْدٍ، رَبِّي وَرَبُّكَ اللهُ) ’’یا اللہ! اس چاند کو ہم پر امن، ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ طلوع فرما۔ یہ خیر و رشد کا چاند ہو۔ چاند! میرا اور تیرا رب اللہ تعالیٰ ہے۔‘‘اسے امام ترمذی نے سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

    اور اسلام کے شعائر بھی امن ہی کے سائے میں قائم ہوتے ہیں۔ چنانچہ نماز بھی امن کی حالت میں ادا کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ ۝ فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا ۖ فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ)’’تمام نمازوں کی حفاظت کرو، خصوصاً درمیانی نماز کی، اور اللہ تعالیٰ کے سامنے ادب سے کھڑے رہو۔ پھر اگر تمہیں خوف ہو تو پیدل یا سواری پر نماز پڑھ لو، اور جب امن حاصل ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کو اسی طرح یاد کرو جس طرح اس نے سکھایا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔‘‘ [البقرة: 238-239]اور زکاۃ بھی امن ہی کی فضا میں جمع کی جاتی ہے۔

    نیز اللہ تعالیٰ نے حج کے بارے میں فرمایا: (فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالعُمْرَةِ إِلَى الحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الهَدْيِ)’’پھر جب تمہیں امن حاصل ہو جائے تو جو شخص عمرہ کر کے حج سے فائدہ اٹھائے، وہ حسبِ استطاعت قربانی دے۔‘‘ [البقرة: 196]

    ایسے ہی اللہ تعالی نے اپنے حرمت والے گھر میں داخل ہونے والوں کے امن کے متعلق فرمایا: (إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ ۝ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَقَامُ إِبْرَاهِيمَ ۖ وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا)’’بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا، وہی ہے جو مکہ میں ہے، بابرکت اور تمام جہانوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ۔ اس میں کھلی نشانیاں ہیں، مقامِ ابراہیم ہے، اور جو اس میں داخل ہو جائے وہ امن پا لیتا ہے۔‘‘ [آل عمران: 96-97]

    ابراہیم خلیل علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ ان مقدس مقامات کو پرامن، مطمئن اور پھلوں سے مالا مال بنا دے فرمانِ باری تعالی ہے: (وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا البَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الأَصْنَامَ)’’اور یاد کرو جب ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی: اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنا دے، اور مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے بچا۔‘‘ [إبراهيم: 35]

    اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے عمرہ کرنے والوں پر امن کی نعمت جتا کر فرمایا: (لَقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالحَقِّ ۖ لَتَدْخُلُنَّ المَسْجِدَ الحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَ)’’یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا تھا۔ کہ اگر اللہ نے چاہا تو تم ضرور مسجدِ حرام میں امن کے ساتھ داخل ہوگے، اپنے سر منڈواتے اور بال کٹواتے ہوئے، اور تمہیں کسی قسم کا خوف نہ ہوگا۔‘‘ [الفتح: 27] اور اس موضوع پر آیات بہت زیادہ ہیں۔

    اور تو اور جنت بھی امن کے بغیر خوشگوار نہیں ہو گی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ آمِنِينَ)’’اس [جنت ] میں سلامتی اور امن کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔‘‘ [الحجر: 46]

    بلکہ امن ایک ایسی نعمت ہے جو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا تقاضا کرتی ہے؛ تاکہ اللہ تعالیٰ امن کو مزید پائیدار بنا دے۔ اسی طرح یہ نعمت گناہوں اور معاصی سے بچنے کا بھی تقاضا کرتی ہے، کیونکہ یہی گناہ ہی عذابوں کے نازل ہونے کا سبب بنتے ہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ نعمتیں شکر کیے جانے پر برقرار رہتی ہیں، اور جب ناشکری کی جائے تو چھن جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ) ’’اور جب تمہارے رب نے اعلان فرما دیا کہ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں ضرور تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو بے شک میرا عذاب بہت سخت ہے۔‘‘ [إبراهيم: 7]

    اللہ تعالیٰ میرے اور آپ سب کے لیے قرآنِ عظیم بابرکت بنائے، اور قرآنی آیات اور حکمت بھری نصیحتوں سے نفع پہنچائے، نیز سید المرسلین ﷺ کی ہدایت اور آپ کی سچی باتوں سے ہمیں فائدہ عطا فرمائے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اور اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔ یقیناً وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔


    دوسرا خطبہ:
    ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب اور متقیوں کا والی ہے۔ میں اپنے رب کی معلوم اور نامعلوم نعمتوں پر شکر ادا کرتا ہوں، شکر گزار بندوں والی حمد بیان کرتا ہوں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ قوت والا، نہایت مضبوط ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے امانت دار رسول ہیں۔ یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر، آپ کی آل اور تمام صحابۂ کرام پر رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

    بعد ازاں:

    تقویٰ الہی اپناؤ، چنانچہ ہمیشہ شکر اور ذکرِ الہی میں مشغول رہو؛ کیونکہ اللہ U ہی اس بات کا حق دار ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور نافرمانی نہ کی جائے، اسے یاد رکھا جائے اور بھلایا نہ جائے، اس کا شکر ادا کیا جائے اور ناشکری نہ کی جائے۔

    مسلمانو! آپ بابرکت دنوں اور فضیلت والے اوقات کا استقبال کرنے والے ہو، لہٰذا ان اوقات کو نیک اعمال سے آباد کرو، اور مہلتِ زندگی ختم ہو نے سے پہلے اپنے لیے حتی المقدور نیکیاں ذخیرہ کرو۔ فرمانِ باری تعالی ہے: (وَقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلَاقُوهُ ۗ وَبَشِّرِ المُؤْمِنِينَ)’’اور اپنے لیے اعمال پیش کرو، تقویٰ الہی اپنائے رہو، اور یقین رکھو کہ تم اس سے ملنے والے ہو، اور مؤمنوں کو خوش خبری سنا دیجیے۔‘‘ [البقرة: 223]

    اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ( وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا ۚ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ) ’’اور جو نیکی بھی تم اپنے لیے پیش کرو گے، اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں موجود پاؤ گے، وہی بہتر اور اجر کے اعتبار سے بہت عظیم ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے رہو، یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ [المزمل: 20]

    ابنِ آدم! جب تک تم صحت و عافیت میں ہو، اور نیک عمل کرنے کی قدرت رکھتے ہو، تو آخرت کے لیے عمل کرتے رہو۔

    اسی لیے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ( نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالفَرَاغُ) ’’دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ خسارے میں رہتے ہیں: صحت اور فراغت۔‘‘

    اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ( مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا فِي سِرْبِهِ، مُعَافًى فِي جَسَدِهِ، عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ؛ فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا) ’’تم میں سے جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ اپنے گھر اور ماحول میں امن میں ہو، اپنے جسم میں تندرست ہو، اور اس کے پاس اس دن کی خوراک موجود ہو، تو گویا پوری دنیا اس کے لیے سمیٹ دی گئی۔‘‘
    اسے امام ترمذی نے سیدنا عبید اللہ بن محصن الاسدی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

    اللہ کے بندو!(إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا)’’بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجا کرو۔‘‘ [الأحزاب: 56]

    یا اللہ! محمد ﷺ پر اور آلِ محمد ﷺ پر رحمت نازل فرما، جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام اور آلِ ابراہیم علیہ السلام پر رحمت نازل فرمائی، یقیناً تو بہت تعریف والا، بڑی بزرگی والا ہے۔اور محمد ﷺ پر اور آلِ محمد ﷺ پر برکتیں نازل فرما، جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام اور آلِ ابراہیم علیہ السلام پر برکتیں نازل فرمائیں، یقیناً تو بہت تعریف والا، بڑی بزرگی والا ہے، اور خوب سلامتی نازل فرما۔

    یا اللہ! خلفائے راشدین: ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم سے راضی ہو جا۔

    یا اللہ! تمام صحابۂ کرام سے راضی ہو جا، اور ان لوگوں سے بھی جو قیامت تک اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کریں، اور اپنے فضل، کرم اور رحمت سے ہمیں بھی ان کے ساتھ اپنی رضا نصیب فرما، یا ارحم الراحمین!

    یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، اور کفر و کافروں، نیز شرک و مشرکین کو ذلیل و خوار فرما۔

    یا اللہ! ہر زمانے اور ہر جگہ اپنے دین، اپنی کتاب اور اپنے نبی ﷺ کو غلبہ عطا فرما، یا رب العالمین! یا ذوالجلال والاکرام!

    یا اللہ! ہر مسلمان مرد اور عورت کے معاملات کی خود نگرانی اور سرپرستی فرما، یا رب العالمین!

    یا اللہ! ہمارے فوت شدگان اور تمام مسلمان فوت شدگان کی مغفرت فرما، ان کی نیکیوں میں اضافہ فرما، ان کی لغزشوں سے درگزر فرما، اور ان کی قبروں کو نور سے بھر دے۔

    یا اللہ! ہمارے مریضوں کو شفا عطا فرما۔ یا اللہ! ہمارے مریضوں اور تمام مسلمان مریضوں کو شفا عطا فرما، یا اللہ! غم زدہ مسلمانوں کے غم دور فرما، اور مقروضوں کے قرض ادا فرما۔

    یا اللہ! ہماری اور ہماری اولاد کی حاجات پوری فرما، اور اپنی رحمت سے تمام مسلمانوں کی ضروریات پوری فرما، یا ارحم الراحمین!

    یا اللہ! مسلمانوں کے دلوں میں باہمی الفت پیدا فرما، یا رب العالمین!

    یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو ابلیس، اس کے ساتھیوں اور اس کے لشکر سے اپنی پناہ میں رکھ، اور تمام مسلمانوں کو بھی محفوظ فرما، یا رب العالمین!

    یا اللہ! اس ملک کی حفاظت فرما؛ کیونکہ یہ اسلام کا قلعہ اور مسلمانوں کے لیے قبلہ ہے۔

    یا اللہ! اس مبارک ملک کی سرحدوں، اس کے محافظوں، اس کے وقار، اس کی خیر و برکت، اس کے اتحاد، اس کے امن اور اس کے ایمان کی حفاظت فرما۔

    یا اللہ! اسے دشمنوں کی جارحیت، شریر لوگوں اور ظالموں کے شر سے محفوظ رکھ۔

    یا اللہ! مملکت سعودی عرب کو کافروں کی چالوں اور ان کے شر سے محفوظ فرما، اور تمام مسلم ممالک کو کافروں کے شر سے بچا۔

    یا اللہ! خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبد العزیز، اور ان کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی حفاظت فرما۔

    یا اللہ! فلسطین کی حفاظت فرما۔ یا اللہ! فلسطین کو قابض اور جارح دشمنوں کے تسلط سے محفوظ فرما، اور اہلِ فلسطین مسلمانوں کے لیے کشادگی اور نجات کا راستہ پیدا فرما، انہیں شریر دشمنوں کے شر سے بچا، اور ان کی پریشانیاں دور فرما، یا رب العالمین!

    یا اللہ! ان پر رزق، لباس، پوشاک، خوراک اور دوا کے دروازے کھول دے، اور انہیں ان کے اپنے نفس کے سپرد نہ کر کہ وہ عاجز آ جائیں، اور نہ لوگوں کے حوالے کر کہ وہ ضائع ہو جائیں۔

    اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو، اور اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو، وہ تمہیں اور زیادہ عطا فرمائے گا۔ اور یقیناً اللہ تعالیٰ کا ذکر سب سے بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں