خطبہ حرم مکی حجِ مبرور اور بندۂ مؤمن کی اصلاح از ڈاکٹر عبد اللہ بن عواد جہنی 21 ذو القعدہ 1447ہجری

شفقت الرحمن نے 'خطبات الحرمین' میں ‏مئی 8, 2026 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    770


    فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر عبد اللہ بن عواد جہنی حفظہ اللہ نے مسجد الحرام مکہ مکرمہ میں 21 ذوالقعدہ 1447ہجری کا خطبہ جمعہ " حجِ مبرور اور بندۂ مومن کی اصلاح" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے حج کی عظمت، اس کے روحانی اثرات، اور حجاجِ بیت اللہ کے لیے ضروری ہدایات کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ پر عظیم احسان فرمایا کہ حج کو صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں صرف ایک مرتبہ فرض کیا، اور حجِ مبرور کا بدلہ جنت قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ حج کی قبولیت کے لیے اخلاصِ نیت، سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی، حلال کمائی، پاکیزہ اخلاق، اور گناہوں سے اجتناب بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ نیز اس بات کی بھی تاکید کی گئی کہ حاجی اپنی تمام حاجات اور دعائیں صرف اللہ تعالیٰ سے وابستہ رکھے، کیونکہ وہی دعاؤں کو قبول کرنے والا اور تکلیفوں کو دور کرنے والا ہے۔ خطیب محترم نے حجاج کو بیت اللہ اور مدینہ منورہ کے آداب ملحوظ رکھنے، حسنِ سلوک اپنانے، اور عبادات کو سنت کے مطابق ادا کرنے کی نصیحت کی۔ دوسرے خطبے میں حج و عمرہ کے ارکان، واجبات اور آداب کی یاد دہانی کرائی گئی، اور حجاج کو علماء سے مسائل سیکھنے اور فراہم کردہ سہولیات سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی گئی۔ آخر میں امتِ مسلمہ، حجاج، مسلم حکمرانوں، اور تمام مسلمانوں کے لیے جامع دعائیں کی گئیں، اور بارانِ رحمت کی دعا بھی مانگی گئی۔
    مکمل خطبہ پڑھنے کے لیے کلک کریں:
    https://drive.google.com/file/d/1GhwCotewH3WnesskyRojfPVZEMxl0jKR

    پہلا خطبہ:
    ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، وہی ذات جس نے اس امت کے لیے اسلام کے احکام کامل فرما دیے، اور ان میں سے صاحبِ استطاعت لوگوں پر بیت اللہ کا حج فرض کیا، پھر حج کرنے پر عظیم فضل و انعام عنایت فرمایا۔ نیز یہ وعدہ فرمایا کہ جو شخص بیت اللہ کا حج کرے اور دورانِ حج نہ بے حیائی کی بات کرے اور نہ گناہ و نافرمانی میں مبتلا ہو، تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو کر لوٹتا ہے جیسے اس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔ یہی حجِ مبرور ہے، جس کا بدلہ اللہ تعالیٰ نے جنت کے سوا کچھ نہیں رکھا۔ میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہوں اور اس کا شکر ادا کرتا ہوں، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہی بادشاہ، نہایت پاکیزہ اور سلامتی والا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جو نماز، حج، زکاۃ اور روزہ سب سے اعلی طریقے سے انجام دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ آپ پر، آپ کی آل اور آپ کے نیکوکار اور معزز صحابہ پر رحمتیں اور سلامتی نازل فرمائے، نیز ان لوگوں پر بھی جو قیامت تک احسان کے ساتھ ان کے نقشِ قدم پر چلتے رہیں۔

    بعد ازاں:

    مسلمانو! اور بیت اللہ کے حجاج کرام! میں آپ سب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور ظاہر و باطن میں اس کی نگرانی کا احساس رکھنے کی وصیت کرتا ہوں؛ کیونکہ آپ سب اسی کی گرفت میں ہو، اسی کے اقتدار کے تحت ہو، اور اسی کی مشیت کے تابع ہو۔ اس سے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی پناہ گاہ ہے۔ خلوص دل کے ساتھ اپنے اقوال و اعمال صرف اللہ تعالیٰ کے لیے بجا لاؤ، اور اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کو مضبوطی سے تھام لو؛ کیونکہ انہی میں سعادت، عزت اور نجات ہے۔ اور یاد رکھو !اللہ تعالیٰ تمہارے باطن کو بھی ایسے ہی جانتا ہے جیسے تمہارے ظاہر کو جانتا ہے، تمہاری کوئی پوشیدہ بات اس سے مخفی نہیں۔

    اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ نے امتِ محمدیہ ﷺ پر بڑا احسان فرمایا کہ اسے حق کی راہیں دکھائیں، اس کے لیے ہدایت کا راستہ روشن فرمایا، خیر اور سعادت کے اسباب آسان فرما دیے، اور امید و رجاء کے دروازے اس پر کھول دیے۔ چنانچہ خیر کا ایک موسم گزرتا نہیں کہ اس کے بعد دوسرا آ جاتا ہے۔

    انہی دنوں میں مسلمان کے دل میں بیت اللہ الحرام کی حاضری کا شوق اور تڑپ بیدار ہوتی ہے، تاکہ وہ عمرہ اور حج کے مناسک ادا کرے اور رسول اللہ ﷺ کی مسجد کی زیارت کرے۔ اسی لیے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ ان کے سفر میں آسانی عطا فرمائے، قیام میں راحت نصیب کرے، اور ہمیں اور انہیں حجِ مبرور، مقبول نیک عمل اور قابل قدر جد و جہد عطا فرمائے۔

    امتِ اسلامیہ! اللہ تعالیٰ کی اس امتِ محمدیہ ﷺ پر یہ بھی رحمت ہے کہ اللہ تعالی نے حج کو زندگی میں صرف ایک مرتبہ صاحبِ استطاعت مسلمان پر فرض کیا ہے۔ اور جو شخص حج کا ارادہ کرے تو لازمی طور پر اپنی نیت اور قصد کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرے، اپنے عمل کو رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق بنائے، اور اپنا نفقہ و خرچ وافر مقدار میں حلال کمائی سے لے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور صرف پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے۔

    یہی چیز حج اور عمرے کے اجر کو زیادہ عظیم بھی بنا دیتی ہے۔ چنانچہ حاکم رحمہ اللہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے ان کے عمرے کے موقع پر فرمایا: (إِنَّ لَكِ مِنَ الْأَجْرِ عَلَى قَدْرِ نَصَبِكِ وَنَفَقَتِكِ) ’’تمہیں تمہارے اجر میں سے اتنا ہی ملے گا جتنی تم نے مشقت اٹھائی اور جتنا خرچ کیا۔‘‘ اسے حاکم اور دارقطنی نے روایت کیا ہے۔

    محترم حاجی صاحبان! آپ سب کو میں خصوصی طور پر یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی عبادات خالص اللہ تعالیٰ کے لیے کریں، اپنے دل کو اسی کے ساتھ وابستہ رکھیں، اور اپنی حاجت روائی کے لیے صرف اللہ تعالیٰ ہی سے سوال کریں؛ کیونکہ وہی حاجتیں پوری کرنے والا، دعائیں قبول فرمانے والا، اور ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے، جبکہ اس کے سوا ہر ایک اللہ تعالی کا ہی محتاج ہے۔

    جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: { أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ۗ أَإِلٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ} ’’بھلا کون ہے جو بے قرار اور مجبور کی پکار اس وقت سنتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے، اور پھر وہ تکلیف کو دور بھی کر دیتا ہے، اور تمہیں زمین میں جانشین بناتا ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو۔‘‘ [النمل: 62]

    ایک اور مقام پر فرمایا: { وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِنْ يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ ۚ يُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ} ’’اور اگر اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اسے دور کرنے والا کوئی نہیں، اور اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے، اور وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘ [يونس: 107]

    لہذا اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، اس کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرو، آپ سب اللہ کے گھر کے پاس، اس کے امن والے شہر میں، اور اس کے معزز رسول ﷺ کے شہر میں آداب ملحوظِ خاطر رکھیں۔ اپنے حج کو ہر آلودگی سے پاک رکھنے، اللہ تعالیٰ کے لیے عمل میں اخلاص پیدا کرنے، اچھے اخلاق اپنانے، پاکیزہ گفتگو کرنے، اور سنتِ نبوی ﷺ کی درست پیروی کرنے کا اہتمام کریں؛ اس لیے کہ آپ اجر و ثواب حاصل کر سکیں۔

    یا اللہ! ہم تجھ سے سچا ایمان، مقبول نیک عمل، خالص توبہ، حجِ مبرور، اپنے گناہوں کی مغفرت، اپنی کوتاہیوں پر پردہ، اپنے دلوں کے لیے ہدایت، اپنی بصیرتوں کے لیے نور، اور تیری رحمت و رضا کا سوال کرتے ہیں۔ یا اللہ! ہماری، ہمارے والدین کی، اور تمام مسلمانوں کی مغفرت فرما، بے شک تو ہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔


    دوسرا خطبہ:

    ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ انجامِ خیر متقین ہی کے لیے ہے، اور ظلم و زیادتی صرف ظالموں پر ہوتی ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ یا اللہ! ہمارے نبی محمد ﷺ پر، آپ کی آل اور صحابہ پر، اور ان سب لوگوں پر جو احسان کے ساتھ ان کے نقشِ قدم پر چلیں اور ثابت قدم رہیں، اپنی رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

    بعد ازاں: بیت اللہ کے حجاج کرام! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، اور جان لو کہ حج اور عمرے کے ارکان، واجبات، سنتیں اور آداب ہیں۔ چنانچہ جب کوئی مسلمان احرام باندھ لیتا ہے تو وہ اپنے آپ کو ایسے اعمال کا پابند کر لیتا ہے جنہیں پورا کرنا ضروری ہوتا ہے، اور ساتھ ہی وہ اپنے آپ کو احرام کی ممنوع چیزوں سے بچانے کا بھی پابند بناتا ہے۔

    نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ( خُذُوا عَنِّي مَنَاسِكَكُمْ) ’’اپنے حج کے مناسک مجھ سے سیکھ لو۔‘‘ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے اپنی ان پاک اور مقدس سرزمینوں میں ایسے لوگوں کو ذمہ دار بنایا ہے جو حرمین شریفین کی خدمت، مقدسات کی حفاظت، اور وہاں آنے والوں کی رہنمائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ حکومتِ مملکت سعودی عرب -ـ اللہ تعالیٰ اسے عزت و استحکام عطا فرمائے- ـ نے حرمین شریفین اور ہر میقات پر ایسے علماء مقرر کیے ہیں جو لوگوں کی رہنمائی کرتے، انہیں ان کے مناسک سکھاتے، اور درست راستے کی طرف ان کی راہنمائی کرتے ہیں۔

    انہی اہل علم کے متعلق اللہ تعالی کا فرمان ہے:{ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ } ’’اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھ لیا کرو۔‘‘ [النحل: 43]

    اس کے ساتھ ساتھ ضیوفِ رحمن کی خدمت کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام بھی مہیا کیے گئے ہیں۔ لہٰذا مرد و خواتین حجاج کرام! اس بات کی کوشش کریں کہ آپ کا حج اور عمرہ مقبول ہو، اور آپ کی جد و جہد شرفِ قبولیت حاصل کرے۔

    اس لیے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: (الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ) ’’حجِ مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔‘‘ اسے طبرانی نے روایت کیا ہے۔

    ایک اور جگہ پر آپ ﷺ کا فرمان ہے: (مَنْ حَجَّ للهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ) ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے حج کرے، پھر نہ بے حیائی کی بات کرے اور نہ گناہ و نافرمانی میں مبتلا ہو، وہ اس دن کی طرح پاک ہو کر لوٹتا ہے جیسے اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔‘‘ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔

    بیت اللہ کے حجاج کرام! نزولِ وحی اور ہدایت والی اس مقدس سرزمین میں آپ کے لیے ایک عظیم موقع ہے کہ آپ اپنے گناہوں کی آلائشوں پر ندامت کے آنسو بہائیں جن سے گناہ دھل جائیں، اپنے رب سے خطاؤں کی معافی مانگیں تاکہ اللہ تعالی انہیں بخش دے، اور اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کریں جسے وہ قبول فرما لے۔

    اللہ کے بندو! خیر خلق اللہ، محمد بن عبد اللہ ﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجیں۔

    یا اللہ! خلفائے راشدین، تمام صحابۂ کرام، اور قیامت تک احسان کے ساتھ ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے تابعین سے راضی ہو جا۔

    یا اللہ! حجاج اور معتمرین کی حفاظت فرما، اور انہیں امن و سلامتی کے ساتھ اپنے مناسک ادا کرنے کی توفیق عطا فرما۔

    یا اللہ! ہمیں اور تمام مسلمانوں کو بلا، برائی، بیماریوں، تکلیفوں، فتنوں اور آزمائشوں سے دور فرما، یہ ایسی مصیبتیں جنہیں تیرے سوا کوئی دور نہیں کر سکتا۔

    یا اللہ! ہمیں اور تمام مسلمانوں کو بلا، برائی، بیماریوں، تکلیفوں، فتنوں اور آزمائشوں سے دور فرما، یہ ایسی مصیبتیں جنہیں تیرے سوا کوئی دور نہیں کر سکتا۔

    یا اللہ! جس طرح تو چاہے اور جیسے تو چاہے ہم سے برائی کو پھیر دے، بے شک تو ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔

    یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، اور اپنے فضل سے حق اور دین کے کلمے کو سربلند فرما۔

    یا اللہ! حق، توفیق اور درستی کے ساتھ ہمارے حکمران خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبد العزیز کی تائید فرما۔ یا اللہ! انہیں ان کاموں کی توفیق عطا فرما جو تجھے محبوب اور پسندیدہ ہیں، ان کی پیشانی کو نیکی اور تقویٰ کی طرف موڑ دے، انہیں نیک مشیر عطا فرما، ان کے ذریعے اپنے دین کو غلبہ عطا فرما، اپنے کلمے کو سربلند فرما، انہیں اسلام اور مسلمانوں کے لیے نصرت کا ذریعہ بنا، اور ان کے ذریعے مسلمانوں کو حق اور ہدایت پر جمع فرما، یا رب العالمین۔

    یا اللہ! ان کے ولی عہد، ان کے بھائیوں اور معاونین کو بھی حق، ہدایت اور ہر اس کام کی توفیق عطا فرما جس میں ملک و قوم کی بھلائی ہو، اور انہیں اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے بہترین جزا عطا فرما۔

    یا اللہ! مسلمانوں کے تمام حکمرانوں کو کتاب و سنت کے نفاذ کی توفیق عطا فرما، انہیں اپنے مومن بندوں کے لیے رحمت بنا دے، اور ان سب کو حق پر متحد فرما، یا رب العالمین۔

    یا اللہ! ہمارے ملک مملکت سعودی عرب کی، اس کے امن و استحکام کی، اس کے حکمرانوں اور فوجیوں کی حفاظت فرما، اور تمام مسلم ممالک کی بھی حفاظت فرما۔

    یا اللہ! ہم تیری رضا کے ذریعے تیرے غضب سے پناہ مانگتے ہیں، تیری معافی کے ذریعے تیری سزا سے پناہ چاہتے ہیں، اور تجھ ہی سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔ ہم تیری پوری تعریف بیان نہیں کر سکتے، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف بیان فرمائی ہے۔

    یا اللہ! ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمیں سزا نہ دے، اور ہم میں سے نادان لوگوں کی حرکتوں پر ہماری گرفت نہ فرما۔ ہر اس معاملے میں جو ہمیں پریشان کرے ہماری کفایت فرما، اور ہمارے لیے مددگار اور کارساز بن جا۔

    یا اللہ! ہر جگہ اسلام اور اہلِ اسلام کی مدد فرما۔

    یا اللہ! ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں، بے شک تو بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔ یا اللہ! ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں، بے شک تو بہت زیادہ بخشنے والا ہے، ہم پر خوب بارش نازل فرما۔

    یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما۔

    یا اللہ! ہم تیرے ہی بندوں میں سے ایک مخلوق ہیں، پس ہمارے گناہوں کی وجہ سے اپنا فضل ہم سے نہ روک۔

    اے ہمارے رب! ہم سے قبول فرما، بے شک تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے، اور ہماری توبہ قبول فرما، بے شک تو ہی بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔

    (سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ ۝ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ ۝ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ) ’’پاک ہے آپ کا رب، عزت والا رب، ان باتوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ اور سلام ہو تمام رسولوں پر۔ اور سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔‘‘ [الصافات: 180-182]
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں