خطبہ حرم مدنی " حجِ مبرور کے مسلمان کی زندگی پر اثرات" از ڈاکٹر عبد المحسن بن محمد القاسم 12 ذوالحجہ 1447ہجری

شفقت الرحمن نے 'خطبات الحرمین' میں ‏مئی 31, 2026 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    783
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 12 ذوالحجہ 1447ہجری کا خطبہ جمعہ " حجِ مبرور کے مسلمان کی زندگی پر اثرات" کے عنوان پر ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے عبادات کو مختلف صورتوں میں مشروع فرمایا ہے، اور حج ان میں ایک عظیم عبادت ہے جو توحید، اخلاص، امت کی وحدت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی و بندگی کا عملی مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حج سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا کی قبولیت، سنتِ نبوی ﷺ کی حفاظت اور دینِ اسلام کی عالمگیریت کی روشن دلیل ہے۔ خطیب محترم نے زور دیا کہ حاجی کو حج کے بعد اپنی زندگی کو نیکی، استقامت اور اطاعتِ الٰہی سے مزین کرنا چاہیے، کیونکہ حج کا حقیقی اثر کردار اور عمل میں ظاہر ہونا چاہیے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے ان سے محبت، ان کی پیروی اور ان کے دفاع کی اہمیت بیان کی۔ مزید فرمایا کہ نیکی کی قبولیت کی علامت اس کے بعد مزید نیکیوں کی توفیق ہے، جبکہ شرک اعمال کو ضائع کر دیتا ہے۔ آخر میں انہوں نے دین پر ثابت قدمی، قبولیتِ اعمال اور حجاج کرام کے لیے دعا کی۔

    پی ڈی ایف کے لیے کلک کریں۔

    پہلا خطبہ:
    ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ ہم اسی کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں، اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں، اور اپنے نفسوں کی برائیوں اور اپنے اعمال کی خرابیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ پر، آپ کی آل اور آپ کے صحابہ پر بہت زیادہ رحمت و سلامتی نازل فرمائے۔

    بعد ازاں: اللہ کے بندو!

    اللہ کا تقویٰ ایسے اپناؤ جیسے اپنانے کا حق ہے، اور خلوت و جلوت ہر حال میں اسے اپنا نگران سمجھو۔

    لوگو!

    اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر یہ عظیم احسان فرمایا ہے کہ عبادات کو مختلف شکلوں میں شریعت کا حصہ بنایا ہے۔ چنانچہ بعض عبادات دل سے تعلق رکھتی ہیں اور بعض اعضا و جوارح کے ذریعے ادا کی جاتی ہیں۔ اسلام اور ایمان کے ارکان انہی دونوں بنیادوں پر قائم ہیں۔ ابھی چند ہی لمحوں میں حجاج کرام بیت اللہ الحرام اور مشاعرِ مقدسہ سے واپس لوٹنے والے ہیں، جہاں انہوں نے جسمانی مشقت کے اعتبار سے سب سے طویل عبادت ادا کی ہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے حج کے معاملے میں صحابۂ کرام میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور سب سے بڑھ کر فقاہت کے حامل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ذمہ داری سونپی، تاکہ وہ لوگوں کو حج کے مناسک سکھائیں اور ان کے لیے پیش آنے والے مسائل کی وضاحت کریں۔

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ سے ادا کیے جانے والے پہلے حج پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر فرمایا۔ حج کے مناسک عبادات کے نہایت دقیق اور باریک مسائل پر مشتمل ہیں، اور اگر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ان کا وسیع علم حاصل نہ ہوتا تو آپ ﷺ انہیں یہ ذمہ داری نہ سونپتے۔‘‘

    حج میں اسلام کی عظمت ایک نمایاں صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ چنانچہ حج مسلمانوں کو حق پر متحد کرتا اور انہیں اسلام کے ایک ہی پرچم تلے جمع کرتا ہے۔ سب ایک ہی مقام کا رخ کرتے ہیں، ایک ہی رب کو پکارتے ہیں، ایک ہی نبی کی پیروی کرتے ہیں اور ایک ہی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں۔ وہاں دنیا کی ظاہری شان و شوکت اور تفاخر کی تمام دیواریں گر جاتی ہیں، اور انسان ایک دوسرے کے برابر نظر آتے ہیں۔ ان کے درمیان تقویٰ کے علاوہ فضیلت اور برتری کا کوئی معیار باقی نہیں رہتا ۔

    حج میں اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی صداقت کی روشن نشانیاں بھی نمایاں ہوتی ہیں۔ چنانچہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی تھی: { فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ } ’’چنانچہ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے۔‘‘ (سورۃ إبراہیم: 37) تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور ارشاد فرمایا: { وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ } ’’اور وہ دور دراز راستوں سے دبلی پتلی سواریوں پر سوار ہو کر آئیں گے۔‘‘ (سورۃ الحج: 27)

    امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اہلِ اسلام میں کوئی شخص ایسا نہیں جس کے دل میں کعبہ کی زیارت اور اس کے گرد طواف کا شوق نہ ہو، اور لوگ دنیا کے ہر گوشے اور ہر سمت سے اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔‘‘

    جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے مخلص ہو اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو قبول فرماتا ہے، خواہ اس کی وفات کے بعد ہی اس کے اثرات ظاہر ہوں۔ آج بھی ہر سال سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کا اثر نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ مسلمان آپ کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے، سفر کی مشقتیں برداشت کر کے، بے آب گیاہ وادی میں پہنچتے ہیں۔ حجاج کرام عرفات اور دیگر مشاعرِ مقدسہ میں حاضر ہو کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی محتاجی کا اظہار کرتے ہیں، اور سلے ہوئے لباس اتار کر اور اپنے سر منڈوا کر اپنے رب کے حضور عاجزی، فروتنی اور کامل بندگی کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں۔

    اللہ تعالیٰ نے اس دین کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے۔ چنانچہ وقت کتنا ہی گزر چکا ہو اور حالات کتنے ہی بدل جائیں، یہ دین اپنی اصل روشنی، اپنی کامل صورت اور اپنی واضح تعلیمات کے ساتھ باقی رہے گا، بالکل ایسے ہی جیسے وحی آج ہی نازل ہوئی ہو۔ چنانچہ حاجی وہی دو چادروں پر مشتمل لباس پہنتے ہیں جو نبی کریم ﷺ نے پہنا، وہی تلبیہ پڑھتے ہیں جو آپ ﷺ نے سکھایا، اسی طرح رمی کرتے ہیں جس طرح آپ ﷺ نے کی، اور اسی طرح بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں جس طرح آپ ﷺ نے کیا۔

    وفاداری جواں مردوں کی نمایاں صفات میں سے ہے، اور ہمارے نبی محمد ﷺ نے اذیتوں اور سخت آزمائشوں پر صبر کیا تاکہ آپ کی امت ہدایت کی نعمت سے بہرہ مند ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: (لَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ عزوجل وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ، وَأُخِفْتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ) ’’مجھے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایسی اذیتیں دی گئیں جو کسی اور کو نہیں دی گئیں، اور مجھے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس قدر خوفزدہ کیا گیا کہ کسی اور کو اس طرح خوفزدہ نہیں کیا گیا۔‘‘ مسند احمد

    اسی طرح صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی رسول اللہ ﷺ کا پیغام دنیا تک پہنچانے کے لیے اپنے گھر بار چھوڑے، مختلف علاقوں میں جا بسے، اور بھر پور عزم و امانت کے ساتھ دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیا۔ انہوں نے اپنے کردار اور اپنی دعوت کے ذریعے اسلام کو دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچایا۔

    اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے ان عظیم احسانات کا حق ادا کرے جو آپ ﷺ نے اس دین کی خاطر انجام دیے۔ یہ حق آپ ﷺ سے محبت، آپ کی سنت کی پیروی اور آپ کے طریقے پر چلنے سے ادا ہوتا ہے۔ اسی طرح صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ وفاداری کا تقاضا یہ ہے کہ ان سے محبت کی جائے، ان کا نام آنے پر ’’رضی اللہ عنہ‘‘کہا جائے اور ان کے مقام و مرتبے کا دفاع کیا جائے۔

    جو شخص اپنے حج میں نبی کریم ﷺ کے طریقے کی پیروی کرے اسے اپنی پوری زندگی میں بھی آپ ﷺ کی اقتدا کرنی چاہیے، کیونکہ یہی کامیابی اور فلاح کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: { وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا } ’’اور اگر تم رسول کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے۔‘‘ (سورۃ النور: 54)

    اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ( إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ شَيْئَيْنِ، لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِي) ’’میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے ہرگز گمراہ نہیں ہو گے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔‘‘ مستدرک حاکم

    نعمتیں شکر کے ذریعے باقی بھی رہتی ہیں اور بڑھتی بھی ہیں۔ جب کوئی شخص کسی عبادت کی توفیق پانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد و شکر بجا لاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے مزید عبادات کی توفیق عطا فرماتا ہے، تاکہ وہ مزید اجر و ثواب سے بھی بہرہ مند ہو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: { وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَآتَاهُمْ تَقْوَاهُمْ } ’’اور جو لوگ ہدایت پا چکے ہیں، اللہ انہیں مزید ہدایت عطا کرتا ہے اور انہیں ان کا تقویٰ نصیب فرماتا ہے۔‘‘ (سورۃ محمد: 17)

    نیکی کی قبولیت کی ایک علامت یہ ہے کہ اس کے بعد مزید نیکی کی توفیق حاصل ہو۔

    جب کوئی مسلمان کوئی نیک عمل انجام دے تو اس پر لازم ہے کہ اس کی حفاظت کرے، اور خصوصاً شرک سے بچنے کی پوری کوشش کرے، کیونکہ شرک تمام نیکیوں کو ضائع کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: { وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ } ’’اور یقیناً آپ کی طرف اور آپ سے پہلے گزرنے والے انبیاء کی طرف یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کا عمل ضرور ضائع ہو جائے گا اور آپ یقیناً خسارہ اٹھانے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔‘‘ (سورۃ الزمر: 65)

    جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے تو اس کے دل سے اپنی نیکیوں پر نظر رکھنے کا احساس نکال دیتا ہے، اس کی زبان کو ان کا چرچا کرنے سے روک دیتا ہے، اور اسے اپنے گناہوں کی فکر میں لگا دیتا ہے۔

    نیک اعمال کی قبولیت کی دعا کرنا بھی سچے ایمان کی علامت ہے۔ چنانچہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ کی تعمیر جیسے عظیم کام میں مصروف تھے، لیکن اس کے باوجود اپنے رب سے یہ دعا کر رہے تھے: { رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ } ’’اے ہمارے رب! ہم سے یہ خدمت قبول فرما، بے شک تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔‘‘ (سورۃ البقرۃ: 127)

    دین پر ثابت قدم رہنا بڑی ہمت اور عزم کا کام ہے، اور نبی کریم ﷺ کی دعاؤں میں یہ دعا بھی شامل تھی: (يَا مُثَبِّتَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ) ’’اے دلوں کو ثابت رکھنے والے! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔‘‘ سنن ابن ماجہ

    جو شخص حج میں توحید کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لیے لبیک کہتا ہے اور عید کے دن تکبیرات پڑھتا ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے گئے اپنے عہد کو پورا کرے، اس طرح کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہ پکارے اور اسی کے سوا کسی کے سامنے اپنی حاجت پیش نہ کرے۔

    بعد ازاں مسلمانو!

    حج ایسی عبادت ہے جو دوسری عبادات کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ مؤمن جب ایک نیکی سے فارغ ہوتا ہے تو اسے دوسری نیکی سے جوڑ لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: { فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ } ’’پس جب آپ ایک عبادت سے فارغ ہو جائیں تو دوسری عبادت میں مشغول ہو جائیں۔‘‘ (سورۃ الشرح: 7)

    اس کی تفسیر میں امام ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’یعنی مسلسل محنت اور عبادت میں لگے رہو۔‘‘

    عبادت کا سلسلہ موت آنے تک ختم نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: { وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ} ’’اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہیں موت آ جائے۔‘‘ (سورۃ الحجر: 99)

    لہٰذا نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو، اعمالِ صالحہ میں مسابقت اختیار کرو، تاکہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور انعامات سے بہرہ مند ہو سکو۔

    اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: { فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ } ’’کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا کیا سامان چھپا کر رکھا گیا ہے؛ یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ (سورۃ السجدۃ: 17)

    اللہ تعالیٰ میرے اور آپ سب کے لیے قرآنِ عظیم کو بابرکت بنائے، اور اس کی آیات اور حکمت بھری نصیحتوں سے ہمیں فائدہ پہنچائے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور اپنے لیے، آپ سب کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔ تم بھی اس سے مغفرت مانگو، یقیناً وہی غفور و رحیم ہے۔


    دوسرا خطبہ:
    اللہ تعالی کے احسانات پر ہمہ قسم کی حمد اسی کے لیے ہے، اور اس کی توفیق و عنایت پر اسی کا شکر ہے۔ میں اللہ تعالی کی عظمت و بزرگی کا اعتراف کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں؛ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ پر، آپ کی آل اور آپ کے صحابہ پر ڈھیروں رحمت و سلامتی نازل فرمائے۔

    مسلمانو!

    فریضۂ حج ادا کرنے والے حجاج کرام کو چاہیے کہ اب اپنے اعمال نامے کو پاکیزہ اور روشن رکھیں؛ کیونکہ (مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ)’’ جس نے حج کیا اور اس دوران بے حیائی اور گناہ سے بچا رہا، وہ اس دن کی طرح گناہوں سے پاک ہو کر لوٹتا ہے جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔‘‘(بخاری، مسلم)

    ان پر لازم ہے کہ وہ نیکی اور استقامت میں دوسروں کے لیے نمونہ بنیں، دین کی سمجھ حاصل کریں، مسجد میں با جماعت نمازوں کی پابندی کریں، اور حکمت و عمدہ نصیحت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیں۔ اپنی دعوت کا آغاز اپنے قریبی رشتہ داروں سے کریں اور اپنے تمام اعمال میں اپنے رب کے ساتھ سچا رہیں۔

    پھر جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے نبی ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: { إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا } ’’بے شک اللہ تعالیٰ نبی پر رحمت نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے بھی ان کے لیے دعا کرتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔‘‘ (سورۃ الأحزاب: 56)

    یا اللہ! ہمارے نبی محمد ﷺ پر رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

    یا اللہ! آپ ﷺ کے خلفائے راشدین سے راضی ہو جا، جنہوں نے حق کے ساتھ فیصلے کیے اور عدل و انصاف کے مطابق حکومت کی؛ یعنی ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم سے، اور تمام صحابۂ کرام سے بھی راضی ہو جا، اور اپنے جود و کرم کے صدقے ان کے ساتھ ہم سے بھی راضی ہو جا، یا اکرم الاکرمین!

    یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکین کو ذلیل و خوار کر دے، اور دین کے دشمنوں کو تباہ و برباد فرما۔

    یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو امن، اطمینان اور خوش حالی کا گہوارہ بنا دے ۔

    یا اللہ! ہمارے حکمران، خادمِ حرمین شریفین، اور ان کے ولی عہد کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جو تجھے محبوب اور پسندیدہ ہیں، انہیں نیکی اور تقویٰ کے راستے پر گامزن رکھ، اور ان کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچا۔

    اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔

    یا اللہ! حجاج کرام کا حج قبول فرما، انہیں سلامتی اور کامیابی کے ساتھ ان کے گھروں کو واپس لوٹا، ان کے حج کو حجِ مبرور، ان کی کوشش کو مقبول و مشکور بنا، اور ان کے اعمال کو شرفِ قبولیت عطا فرما، یا رب العالمین!

    اللہ کے بندو!

    { إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى، وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ، يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ } ’’بے شک اللہ تعالیٰ عدل، احسان اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے، اور بے حیائی، برائی اور زیادتی سے روکتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔‘‘ (سورۃ النحل: 90)

    پس اللہ تعالیٰ کو یاد کرو، وہ تمہیں کبھی نہیں بھولے گا۔ اس کی نعمتوں اور احسانات پر اس کا شکر ادا کرو، وہ تمہیں اور زیادہ عطا فرمائے گا، اور اللہ تعالیٰ کا ذکر سب سے بڑی عبادت ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں