خطبہ حج عرفات 1447 ہجری از فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر پروفیسر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ

شفقت الرحمن نے 'خطبات الحرمین' میں ‏مئی 31, 2026 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    770
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر پروفیسر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے میدان عرفات مسجد نمرہ میں 09ذوالحجہ 1447ہجری کو خطبۂ حج "سورۂ حج کی روشنی میں حج کے مقاصد" کے عنوان پر ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے سورۂ حج کی آیات کی روشنی میں حج کے مقاصد، توحید کے تقاضوں اور تقویٰ الٰہی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ آخرت کی نجات تقویٰ، نیک اعمال اور گناہوں سے اجتناب میں ہے، جبکہ اس کی سب سے مضبوط بنیاد توحید ہے۔ خطیب نے واضح کیا کہ حج حضرت ابراہیم علیہ السلام کی توحیدی دعوت کی تجدید اور اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم کا عظیم مظہر ہے، جس میں مسلمان دنیا بھر سے جمع ہو کر اخوت، محبت، تعاون اور بندگیِ الٰہی کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے حجاج کو سیاسی نعروں، جھگڑوں اور ہر اس عمل سے بچنے کی تلقین کی جو حج کی روح کے منافی ہو۔ خطبے میں یومِ عرفہ کی فضیلت، مناسکِ حج کی ترتیب، ذکر و دعا کی اہمیت اور سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی پر زور دیا گیا۔ آخر میں حجاج کی قبولیت، امتِ مسلمہ کے اتحاد، اصلاحِ احوال اور مسلمانوں کی سربلندی کے لیے دعا کی گئی۔
    پی ڈی ایف فارمیٹ کے لیے کلک کریں۔

    السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته

    ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے، جو بادشاہ، نہایت پاک اور سلامتی والا ہے، اس نے مسلمانوں پر اپنے گھر بیت اللہ کا حج فرض کیا اور اسے دینِ اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن قرار دیا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہی حقیقی بادشاہ اور سب کچھ جاننے والا ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ تمام مخلوق میں سب سے افضل ہیں؛ اللہ تعالیٰ آپ پر، آپ کی آل، آپ کے صحابہ اور آپ کے پیروکاروں پر بہترین رحمت و سلامتی نازل فرمائے۔

    بعد ازاں:

    لوگو! تم پر لازم ہے کہ تقوی الہی اختیار کرو ؛کیونکہ اسی کے ذریعے بندہ آخرت میں نجات پاتا ہے، اسی لیے سورت الحج کے آغاز میں ہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ ۚ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ ۝ يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَىٰ وَمَا هُمْ بِسُكَارَىٰ وَلَٰكِنَّ عَذَابَ اللهِ شَدِيدٌ﴾ [الحج: 1-2] ’’لوگو! اپنے رب کا تقوی دل میں بساؤ، بے شک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔ جس دن تم اسے دیکھو گے، ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہو جائے گی، ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی، اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے حالانکہ وہ مدہوش نہ ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب نہایت سخت ہو گا۔‘‘

    اور تقویٰ الہی میں یہ بھی شامل ہے کہ انسان قیامت کے دن کے لیے نیک اعمال کر کے تیاری کرے اور گناہوں اور برائیوں کو چھوڑ دے۔ اسی سورت میں چند آیات کے بعد اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللهَ هُوَ الحَقُّ وَأَنَّهُ يُحْيِي المَوْتَىٰ وَأَنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۝ وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي القُبُورِ﴾ [الحج: 6-7] ’’یہ اس لیے ہے کہ اللہ ہی حق ہے، وہی مردوں کو زندہ کرے گا، وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے، اور قیامت یقیناً آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں، اور اللہ قبروں میں موجود لوگوں کو ضرور اٹھائے گا۔‘‘

    اور آخرت کی سب سے بڑی تیاری عقیدہ توحید ہے؛ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت صرف اللہ تعالی ہی کے لیے کی جائے، اور اس کے سوا کسی کو نہ پکارا جائے۔ بھلا انسان؛ اللہ کو چھوڑ کر اسے کیسے پکار سکتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع دے سکتا ہے؟ یہ بہت دور کی گمراہی ہے، وہ اسے پکارتا ہے جس کا نقصان اس کے فائدے سے زیادہ قریب ہے، ایسا مدد گار بھی برا ہے اور ایسا ساتھی بھی برا۔ چنانچہ آگے چل کر فرمایا: ﴿وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ﴾ [الحج: 31] ’’اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا، پھر اسے پرندے اچک لیں یا ہوا اسے کسی دور دراز جگہ پھینک دے۔‘‘

    اور اہلِ ایمان کا شعار ہی عقیدہ توحید ہے۔ اسی لیے سورت الحج میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ المُخْبِتِينَ ۝ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَالصَّابِرِينَ عَلَىٰ مَا أَصَابَهُمْ وَالمُقِيمِي الصَّلَاةِ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ﴾ [الحج: 34-35] ’’تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، لہٰذا اسی کے لیے مسلمان ہو جاؤ، اور عاجزی اختیار کرنے والوں کو خوشخبری دے دو؛ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں، وہ مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘

    تو مسلمان ہونے کے لیے یہ ارکان ضروری ہیں: کلمہ توحید یعنی اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔

    ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے ڈر اور خوف بھی پایا جائے؛ چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے: ﴿وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ﴾ [الرحمن: 46] ’’اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا، اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔‘‘

    ایسے ہی اللہ تعالیٰ کی اطاعت ڈٹ کر کرنے اور تکلیف دہ تقدیروں پر ثابت قدم رہنے کی نصیحت بھی اسلام کا حصہ ہے: ﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ [الزمر: 10] ’’صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔‘‘

    اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر بھی مسلمان کی زندگی کا حصہ ہے: ﴿كَذَٰلِكَ سَخَّرْنَاهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾ [الحج: 36] ’’اسی طرح ہم نے انہیں تمہارے لیے مسخر کیا تاکہ تم شکر گزار بنو۔‘‘

    اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں اللہ تعالی کے مقرر کردہ قوانین اور طریقے جاری ہیں، بندے پر لازم ہے کہ وہ ان پر ایمان رکھے اور انہیں اپنے پلے باندھ لے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّ اللهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا ۗ إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُورٍ﴾ [الحج: 38] ’’بے شک اللہ ایمان والوں کی طرف سے دفاع کرتا ہے، اور اللہ کسی خیانت کرنے والے ناشکرے کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

    آگے چل کر فرمایا: ﴿وَلَيَنْصُرَنَّ اللهُ مَنْ يَنْصُرُهُ ۗ إِنَّ اللهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾ [الحج: 40] ’’اور اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کے دین کی مدد کرے گا، بے شک اللہ بڑی قوت والا، غالب ہے۔‘‘

    جبکہ ظالموں کے متعلق فرمایا: ﴿فَكَأَيِّنْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَشِيدٍ﴾ [الحج: 45] ’’تو کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر دیا کیونکہ وہ ظالم تھیں، تو وہ اپنی چھتوں سمیت گری پڑی ہیں، اور کتنے ہی کنویں بے کار پڑے ہیں اور کتنے ہی بلند و بالا محل ویران ہو گئے ہیں۔‘‘

    پھر مزید فرمایا: ﴿وَكَأَيِّنْ مِنْ قَرْيَةٍ أَمْلَيْتُ لَهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ أَخَذْتُهَا وَإِلَيَّ المَصِيرُ﴾ [الحج: 48] ’’اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں میں نے مہلت دی حالانکہ وہ ظالم تھیں، پھر میں نے انہیں پکڑ لیا، اور میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔‘‘

    بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام کو لوگوں میں حج کا اعلان کرنے کا حکم دیا۔ اسی سورت الحج میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ۝ لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ﴾ [الحج: 27-28] ’’اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو، وہ تمہارے پاس پیدل بھی آئیں گے اور ہر دُبلی اونٹنی پر بھی، جو دور دراز راستوں سے آئیں گی، تاکہ وہ اپنے لیے فائدے حاصل کریں اور مقررہ دنوں میں اللہ کا نام لیں اس پر جو اللہ تعالی نے انہیں مویشی عطا کیے ہیں ہے۔‘‘

    اسی کی تعمیل میں حجاج کرام مناسک ادا کرنے کے لیے دور دراز راستوں سے آتے ہیں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کریں اور اللہ تعالی سے ثواب کے طلبگار ہوں، حجاج یہاں آ کر بیتِ عتیق اور مقدس مقامات کی تعظیم بجا لاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَالمَسْجِدَ الحَرَامَ الَّذِي جَعَلْنَاهُ لِلنَّاسِ سَوَاءً العَاكِفُ فِيهِ وَالبَادِ وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ [الحج: 25] ’’اور یہ مسجدِ حرام جسے ہم نے تمام لوگوں کے لیے چاہے وہاں رہنے والا ہو یا باہر سے آنے والا سب کے لیے برابر رکھا ہے، ، اور جو اس میں ظلم کے ساتھ کج روی کا ارادہ بھی کرے تو ہم اسے درد ناک عذاب چکھائیں گے۔‘‘

    حجاج کرام ان مقدس مقامات پر اس لیے حاضر ہوتے ہیں کہ توحید کی دعوت پر لبیک کہیں، اللہ کی عبادت کو اسی کے لیے خالص کریں اور شرک کو چھوڑ دیں۔ اسی تعمیل کے لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ البَيْتِ أَنْ لَا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ﴾ [الحج: 26] ’’اور جب ہم نے ابراہیم کو بیت اللہ کی جگہ مقرر کر دی اور کہا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں، قیام کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھنا۔‘‘

    پس اس گھر کو ہر اس چیز سے پاک رکھا جائے جو اس کی شان کے خلاف ہو؛ چنانچہ حج میں نہ کوئی گناہ کی بات ہو، نہ جھگڑا، نہ سیاسی نعرے اور نہ ہی گروہی آوازیں، بلکہ اللہ کے سامنے عاجزی ہو، نبی کریم ﷺ کی پیروی ہو، ظاہر اور باطن کی پاکیزگی ہو، عہد و پیمان کی پابندی ہو اور حقوق کا احترام ہو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَنْ يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ عِنْدَ رَبِّهِ﴾ [الحج: 30] ’’اور جو اللہ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرے تو یہ اس کے رب کے نزدیک اس کے لیے بہتر ہے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى القُلُوبِ﴾ [الحج: 32] ’’اور جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ میں شامل ہے۔‘‘

    دورانِ حج مسلمانوں کے درمیان باہمی تعارف، الفت، تعاون اور ہمدردی کے مناظر نمایاں نظر آتے ہیں، وہ مختلف زبانوں، رنگوں اور ملکوں کے ہونے کے باوجود آپس میں بھائی بن کر اکٹھے ہوتے ہیں، ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اپنے فوائد پاتے ہیں اور اپنی ہدی میں سے محتاج اور فقیر کو کھلاتے ہیں، اور حجاج کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے اعمال میں حسن کارکردگی اور اپنی باتوں میں سچائی اختیار کرتے ہیں۔ اسی لیے سورت الحج میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ﴾ [الحج: 30] ’’اور جھوٹی بات سے بچو۔‘‘

    عرفات کے مقام پر اللہ تعالیٰ تم پر فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے، اور یہی وہ عظیم موقع ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلَامَ دِينًا﴾ [المائدة: 3] ’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کر لیا۔‘‘

    چنانچہ تم نبیِ ہدایت آپ ﷺ کی پیروی کرو؛ آپ نے ظہر اور عصر کی نمازیں جمع اور قصر کر کے ادا فرمائیں، پھر کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، پھر آپ مزدلفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ المَشْعَرِ الحَرَامِ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ﴾ [البقرة: 198] ’’پھر جب تم عرفات سے لوٹو تو مشعرِ حرام کے پاس اللہ کو یاد کرو، اور اسے اسی طرح یاد کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت دی، اور اس سے پہلے تم یقیناً گمراہوں میں سے تھے۔‘‘

    پھر جب عید کا دن طلوع ہوا تو آپ منیٰ کی طرف روانہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللهَ ۚ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [البقرة: 199] ’’پھر تم وہیں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں، اور اللہ سے مغفرت مانگو، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘

    پھر آپ نے جمرۂ عقبہ کو کنکریاں ماریں، اپنی قربانی کی، سر منڈوایا، اور بال کٹوانے کی بھی اجازت دی، پھر بیت اللہ کا طواف کیا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالبَيْتِ العَتِيقِ﴾ [الحج: 29] ’’پھر وہ اپنی میل کچیل دور کریں، اپنی نذریں پوری کریں اور قدیم گھر بیت اللہ کا طواف کریں۔‘‘

    اور اس کے ساتھ یہ تاکید کی گئی کہ حجاج سکون اور وقار اختیار کریں، نرمی سے برتاؤ کریں، دھکم پیل سے بچیں، انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں اور نقل و حرکت کے مقررہ نظام کی پابندی کریں، تاکہ مصلحت حاصل ہو، نقصان اور بد نظمی سے بچا جا سکے، جانوں کی حفاظت ہو اور مناسک کی ادائیگی آسان ہو۔

    اور منیٰ میں اللہ تعالیٰ کا کثرت کے ساتھ ذکر کرنا مستحب عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا﴾ [البقرة: 200] ’’پھر جب تم اپنے مناسک پورے کر لو تو اللہ کو اس طرح یاد کرو جیسے تم اپنے باپ دادا کو یاد کرتے ہو یا اس سے بھی زیادہ۔‘‘

    اور ایامِ تشریق میں حاجی تینوں جمرات کو کنکریاں مارتا ہے، ہر جمرہ کو ہر دن سات کنکریاں ماری جاتی ہیں، اور افضل یہ ہے کہ تیرہویں دن تک قیام کیا جائے، جبکہ بارہویں دن جلدی واپس آنے کی بھی اجازت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَاذْكُرُوا اللهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ لِمَنِ اتَّقَى وَاتَّقُوا اللهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾ [البقرة: 203] ’’اور ان گنے ہوئے دنوں میں اللہ کو یاد کرو، پھر جو دو دن میں جلدی کر لے اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو دیر کرے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ وہ تقویٰ اختیار کرے، اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ تم اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔‘‘

    اور سفر سے پہلے طوافِ وداع کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ ۚ مِلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ ۚ هُوَ سَمَّاكُمُ المُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ وَفِي هَٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ۚ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَاعْتَصِمُوا بِاللهِ هُوَ مَوْلَاكُمْ ۖ فَنِعْمَ المَوْلَىٰ وَنِعْمَ النَّصِيرُ﴾ [الحج: 78] ’’اسی نے تمہیں چن لیا ہے اور تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی، تمہارے باپ ابراہیم کا دین تمہارے لیے مقرر کیا، اسی نے تمہارا نام پہلے بھی مسلمان رکھا اور اس قرآن میں بھی، تاکہ رسول تم پر گواہ ہوں اور تم لوگوں پر گواہ بنو؛ پس نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو اور اللہ کو مضبوطی سے تھام لو، وہی تمہارا کارساز ہے، پس کیا ہی اچھا کارساز ہے اور کیا ہی اچھا مدد گار ہے۔‘‘

    اور اللہ تعالیٰ کو مضبوطی سے تھامنے میں یہ بھی شامل ہے کہ بندہ اپنے رب سے کثرت کے ساتھ دعا کرے، خاص طور پر حج کے مقامات میں، کیونکہ یہ قبولیت کی جگہیں ہیں۔ اور حدیث میں آیا ہے: ( أَفْضَلُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ عَرَفَةَ، وَخَيْرُ مَا قُلْتُه أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي يَوْمَ عَرَفَةَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ) ’’سب سے افضل دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے، اور سب سے بہتر کلمہ جو میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء نے کہا: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ‘‘ سنن ترمذی

    دعا کی ترغیب میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ﴾ [غافر: 60] ’’اور تمہارے رب نے فرمایا: مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا، بے شک جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔‘‘

    اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ۝ أُولَٰئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا ۗ وَاللهُ سَرِيعُ الحِسَابِ﴾ [البقرة: 201] ’’اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا؛ یہی لوگ ہیں جن کے لیے ان کے اعمال میں سے حصہ ہے، اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔‘‘

    یا اللہ! حجاج کے دعاؤں اور ان کے مناسک کو قبول فرما، ان کے معاملات آسان فرما، ان کے گناہ بخش دے، اور انہیں اپنے گھروں کی طرف سلامتی، کامیابی اور کامرانی سمیٹ کر واپس لوٹا۔

    یا اللہ! مسلمانوں کے حالات درست فرما، اور انہیں حق بات پر متحد فرما، یا اللہ! مسلمانوں کے حالات درست فرما، اور انہیں حق بات پر متحد فرما، یا اللہ! مسلمانوں کے حالات درست فرما، اور انہیں حق بات پر متحد فرما، اور ان کے تمام معاملات کا تو ہی کارساز بن جا، اور ان کے دینی اور دنیاوی حالات سنوار دے، یا رب العالمین۔

    یا اللہ! خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ان کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو توفیق عطا فرما، اور انہیں دنیا و آخرت میں بہترین بدلہ عطا فرما؛ انہوں نے تیرے بندوں کے ساتھ احسان کیا، حجاج کے لیے مناسک کی ادائیگی کو آسان بنایا، اور حرمین شریفین اور ان کے زائرین کی خدمت میں فراخ دلی سے خرچ کیا۔ یا اللہ! ان کے ذریعے اپنے دین کو غالب فرما، یا اللہ! ان کے ذریعے اپنے دین کو غالب فرما۔

    اللہ تعالیٰ ہمارے سردار اور نبی محمد ﷺ پر، آپ کی آل اور آپ کے صحابہ پر خوب رحمت و سلامتی نازل فرمائے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں