روزوں کی بدعات اور سنت سے ان کا ردّ

منہج سلف نے 'ماہِ رمضان المبارک' میں ‏ستمبر 8, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    روزوں کی بدعات اور سنت سے ان کا ردّ


    روزے ان عطیم ترین عبادات میں سے ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالی کا تقرب حاصل ہوتا کیا جاتا ہے، چاہے فرص رووے ہوں جیسے رمضان کے مھینے کے روزے یا نفل روزے ہوں جیسے ایام بیض کے تین روزے (13،14،15)، ہر ہفتے سومورا اور جمعرات کے روزے یا عرفات، نو محرم اور دس محرم کے روزے وغیرہ ہوں جن کا فضیلت والے اوقات سے تعلق ہے- مگر قابل افسوس بات یہ ہے کہ دوسری عبادت کی طرح اس عبادت میں بھی بہت سی بدعات داخل ہوچکی ہیں حتی کہ غلط کار پرہیزگاروں کے حصے میں ثواب و مغفرت کے بدلے گناھ اور خسارہ ہی آتا ہے-
    اور اب میں یہاں روزوں کی چند مشھور بدعات کا تذکرہ کروں گا- ان شاءاللہ

    اپنے علائقے، شہر یا ملک کے علاوہ دوسرے ملک کی رؤیت پر روزہ رکھنا یا عید کرنا:

    آج کل کی یہ بہت زیادہ مشہور بدعت ہے کہ متشددین کی ایک جماعت اپنے رہائشی علائقے (شہر یا ملک) کی رؤیت ہلال رمضان ہو یہ شوال پر قناعت نہیں کرتی، وہ دوسرے ملک کی رؤیت کے مطابق روزہ رکھتے ہیں، حالانکہ علماہ کے نزدیک مطالع کا اختلاف معتبر ہے- حتی کہ بعض لوگ بعص مسجدوں میں خفیہ طور پر عید کی نماز پڑھ لیتے ہیں جب کہ اس علائقے والے رمضان کا تیسواں روزہ پورا کررہے ہوتے ہیں، یا آپ دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے علائقے کے لوکوں سے ایک دن پہلے روزہ رکھ رہے ہوتے ہیں حالانکہ یہ بذاتہ شک کا روزہ ہے جس پر کلام بعد میں آرہا ہے-

    احتیاط اور ورع کے طور پر شک کے دن روزہ رکھنا:

    اور یہ بھی سنت کے مخالف ہے، شک کا روزہ رکھنے والے نے ابن عمر رض کی حدیث کی مخالفت کی ہے:
    " جب تک رمضان کا ہلال (چاند) نہ دیکھ لو روزے رکھنا شروع نہ کرو اور نہ افطار (یعنی عید) کرو جب تک ہلال دیکھ نہ لو، اگر تمہارے اوپر بادل آجائيں تو اندازہ لگالو یعنی 30 دن پورے کرلو-"
    ( صحیح بخاری، کتاب الصوم، باب قول نبی ۖ اذارایتم اہلال فصوموا "1906"-)
    اور اس طرح اس نے ام مومنین عائشہ رض سے مروی حدیث کی بھی مخالفت کی ہے جس میں ہے:
    " رسول اللہ ۖ شعبان میں (تاریخ) اچھی طرح یاد رکھتے جبکہ شعبان میں اس کا اتنا خیال رکھتے تھے- پھر رمضان کی رؤیت ہلال پر روزہ رکھتے اگر شعبان میں بادل ہوتا تو 30 دن پورے کر لیتے پھر (رمضان کا) روزہ شروع کردیتے-"
    ( صحیح، سنن ابی داؤد، کتاب الصیام، باب اذا اغمی الشھر (2325) اسے ابن حزیمہ، ابن حبان، حاکم اور ذہبی وغیرہم نے صحیح کہا ہے: حافظ زبیر علی زئی)
    اور اس طرح وہ ابو ہریرہ رض کی اس حدیث کے بھی مخالف ہے جس میں آیا ہے یا نبی ۖنے فرمایا کہ:
    " تم میں سے کوئی بھی رمضان سے ایک دو دن پہلے روزہ نہ رکھے سوائے اس آدمی کے جو پہلے سے ہی روزے رکھ رہا تھا تو وہ اس دن روزہ رکھ سکتا ہے-"
    ( صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب لا تقدموا رمضان بصوم یو اؤیومین "1082")
    ابن القیم رح نے فرمایا کہ:
    " نبی ۖ بادل والے دن روزہ نہیں رکھتے تھے اور نہ اس کا حکم دیتے تھے بلکہ آپ نے بادل والے دن شعبان کے 30 دن پورے کرنے کا حکم دیا، آپ اسی پر عمل کرتے تھے اور یہی آپ کا فعل اور حکم تھا-"
    (ذادالمعاد: 2/39)

    لیکن ہم نے شک والے دن کے روزے کی بدعت اور حرام ہونے کا جو ذکر کیا ہے یہ اس حالت میں ہے جب کوئی شخص احتیاط اور پرہیزگاری کے جذبے اور حوف سے یہ روزہ رکھے- اگر وہ پہلے سے ہی ورع اور شک کے بغیر بطور عادت روزے رکھتا تھا تو سابق حدیث ابی ہریرہ رض کی رو سے یہ جائز ہے-
    امام احمد رح نے فرمایا کہ:
    " شک وانے دن، اگر رمضان کی نیت نہ کرے تو روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے-"
    (مسائل عبداللہ: 675)
    [ امام صاحب کا یہ قول بلا دلیل ہونے کی وجہ سے قابل حجت نہیں ہے- کیونکہ اس سے شک والے دن روزے کا چور دروازہ کھل سکتا ہے: حافظ زبیر علی زئی-]

    رمضان کے ہمیشہ 30 روزے رکھنا:

    شیخ عبدالعزیز بن باز رح نے فرمایا " رسول اللہ ۖ سے مروی صحیح و مشہور احادیث، اجماع صحابہ رض اور اجماع تابعین رح سے ثابت ہے کہ مہینہ 30 کا بھی ہوتا ہے اور 29 کا بھی اور جو شخص چاند دیکھنے کے بغیر ہمیشہ 30 روزے رکھے تو وہ سنت اور اجماع کا مخالف ہے اور دین میں اپنی مرضی سے بدعت جاری کرنے والا ہے-
    ( البدع والمحدٹات ومالا اصل لہ: ص 534)

    اعتکاف کے لیے تین مسجدوں کی شرط لگانا:

    یعنی اعتکاف مین صرف تین مسجدوں میں جائز ہے، مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصی- اس سلسلے میں حذیفہ بن الیمان رض سے ضعیف معلول حدیث مروی ہے-
    ( اس کے سند سفیان بن عینیہ کی تدلیس اور دیگر علل کی وجہ سے ضعیف ہے)

    اقتباس: عبادات میں بدعات اور سنت نبوی ۖ سے ان کا ردّ
    تالیف: عمرو بن عبدالمنعم بن سلیم حفظ اللہ
    ترجمہ و تحقیق: حافظ زبیر علی زئی حفظ اللہ
     
  2. Abu Abdullah

    Abu Abdullah -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    934
    جزاک اللہ خیرا بھائی
     
  3. sjk

    sjk -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 8, 2007
    پیغامات:
    1,754
    عتیق بھائی جب آپس میں رؤیت ہلال کمیٹی والوں نے ہی جماعتیں بنا لی ہو تو پھر کیا کریں؟
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں