حج کی بدعات اور سنت سے ان کا رد

منہج سلف نے 'ماہ ذی الحجہ اور حج' میں ‏دسمبر 7, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    [font="alvi nastaleeq v1.0.0"]حج کی بدعات اور سنت سے ان کا رد[/font]​


    [font="alvi nastaleeq v1.0.0"]زبانی نیت کرنا:

    یہ حج اور عمرے کے سلسلے میں مشھور ترین بدعت ہے- بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حج اور عمرے کی کی لبیک کہنا ہی زبانی نیت کا جواز ہے، حالانکہ یہ بات صحیح نہیں- نیت تو صرف ارادے کو کہتے ہیں جیسا کہ گزرچکا ہے، بلند آواز سے جو لبیک کہی جاتی ہے وہ نماز کی تکبیر تحریمہ کے قائم مقام ہے اور کوئی عقل مند آدمی تکبیر کو نماز کی نیت نہیں کہتا اور نہ وضو پر بسم اللہ کو وضو کی نیت سمجھتا ہے-
    ابن رجب رحمہ اللہ نے کہا کہ
    " ان مسائل میں ہمیں نہ سلف صالحین سے کوئی ثبوت ملا ہے اور نہ کسی امام سے-"
    پھر مزید کہا ہے:
    " اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح ثابت ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو احرام باندھنے کے وقت یہ کہتے سنا کہ اے اللہ! میں حج اور عمرے کا ارادہ کرتا ہوں تو انہوں نے فرمایا کہ کیا تو لوگوں کو بتارہا ہے؟ کیا تیرے دل میں جو کچھ ہے اس سے اللہ تعالی باخبر نہیں ہے؟"
    (جامع العلوم والحکم:ص40)
    یہ قول اس بات کی دلیل ہے کہ حج اور عمرہ میں لفظی نیت جائز نہیں، جو اسے ضروری سمجھتے ہیں اور خوامخواہ اس پر زور دیتے ہیں تو انہوں نے دین میں ایسی بدعت ایجاد کی جس کی نہ اللہ نے اجازت دی اور نہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے-

    گھر سے حج کے لیے نکلتے وقت دو رکعتیں پڑھنا:

    یہ وہ بدعت ہے جس کے ساتھ امام عزالی نے اپنی کتاب "احیاء علوم الدین" کو آلودہ کیا ہے، غزالی کہتے ہیں کہ:
    " جو حج کے لیے خروج کا ارادہ کرے اسے چاہیے کہ پہلے دو رکعتیں پڑھے اور پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد قل یا ایھا الکافرون پڑھے اور دوسر؛ رکعت میں سورۃ الاخلاص پڑھے-"
    (احیاء الدین: 45001)
    اس مسئلے میں کوئی صحیح سنت قابل ذکر نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ ایک منکر حدیث اور ایسا ہی موقوف اثر ہے جس سے حجت نہیں پکڑی جاسکتی- اس حدیث کو ابن ابی شیبہ (1/424) نے حدثنا عیسی بن یونس عن الاوزاعی عن المطعم بن مقدام قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    " آدمی جب سفر کا ارادہ کرتا ہے تو دو رکعتوں سے زیادہ افضل کوئی چيز اپنے گھر میں نہیں چھوڑتا-"
    امام نووی نے اپنی کتاب "الاذکار (ص 296)" میں اسے طبرانی کی طرف منسوب کیا ہے-
    میں کہتا ہوں کہ صحیح یہ ہے کہ یہ سند معضل (یعنی منقطع) ہے کینکہ مطعم بن مقدام تابعین کے شاگرد ہیں اور غزالی کا ان دو رکعتوں کو ان مذکورہ سورتوں کے ساتھ خاص کرنا مزید دوسری بدعت ہے- اگرچہ نووی نے "الاذکار" میں اس کی متابعت کی ہے مگر عبادات میں اصل یہی ہے کہ کہ توقف کیا جائے گا یعنی بغیر دلیل کے کوئی عبادت جائز نہیں ہے-
    رہا اثر تو اسے عبد الرزاق (9257) نے "عن الثوری عن ابی اسحاق عن الحارث وھو الاعور کی سند سے روایت ہے کہ جب تو سفر کے لیے نکلے تو اپنے گھر میں دو رکعتین پڑھ لے –"
    اسے ابن شیبہ نے عن وکیع عن سفیان عن ابی اسحاق عن الحارث عل علی بن ابی طالب کی سند سے متصلا بیان کیا ہے جو زیادہ راجح ہے مگر الحارّ الاعور سخت ضعیف اور اس کی علی سے روایت اور ابو اسحاق کی حارث سے روایت میں بھی کلام ہے-
    ابن عمر رضی اللہ عنہ سے جو ثابت ہے کہ وہ جب سفر کا ارادہ کرتے تو مسجد نبوی میں داخل ہوکر دو رکعتین پڑھتے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ پر سلام کہتے پھر سفر کے لیے نکلتے، میرے نزدیک ظاہ ریہی ہے یہ یہ دو رکعتیں تحیتہ المسجد کی ہوتی تھین نہ کہ سفر کی- واللہ اعلم

    اجتما‏ی طور پر لبیک کے ساتھ آوازیں بلند کرنا:

    ابن الحاج نے "المدخل (4/221)" میں لکھا ہے کہ؛
    'بعض لوگ حلق پھاڑ پھاڑ کر اجتماعی طور پر لبیک کی جو آوازيں بلند کرتے ہیں اس سے بچنا چاہیے- بعض آواز اتنی آہستہ کرلیتے ہین کہ تقریبا کچھ بھی سنائی نہیں دیتا، سنت اس دونوں کی درمیانی راہ ہے بشرطیکہ یہ تلبیہ (لبیک کہنا) ایک آواز نہ ہو کیونکہ یہ بدعت ہے، بلکہ ہر انسان دوسرے کی آواز کی پرواہ کیے بغیر خود لبیک کہتا رہے-"
    اس سے یہ مسئلہ بھی نکلتا ہے کہ بعض لوگ سر کے ساتھ پڑھنے والا ایک شخص مقرر کرکے اس کی سر میں سر ملانا شروع کردیتے ہیں، یہ بھی جائز نہیں ہے-

    طواف کے وقت بیت اللہ کے چاروں ارکان کا چومنا یا چھونا:

    یہ بدعت ہے*اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کام، اس کی اجازت یا ترغیب ثابت نہیں ہے، مسنون ت وصرف حجر اسود چھونا یا جومنا ہے بشرطیکہ دوسروں کو تکلیف نہ دے، ورنہ پھر حجر اسود کی طرف اشارہ کردینا ہی کافی ہے- اور رکن یمانی کا بھی یہی معاملہ ہے کہ بغیر تکلف کے، نہ اپنے آپ کو تکلیف دے نہ دوسروں کو، تو اسے چھوسکتا ہے- اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو اشارہ وغیرہ کرنا مسنون نہیں ہے- حجر اسود کے بعد پہلا رکن عراقی ہے، اسی طرح اس کے بعد رکن شامی ہے، ان کا چھونا استلام یا اشارہ مسنون نہیں اس سلسلے میں کچھ بھی مروی نہیں ہے-
    اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جسے بخاری و سلم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ:
    " میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف دونوں رکن یمانی کو چھوتے ہوئے ہی دیکھا ہے-"
    [صحیح بخاری، کتاب الحج، باب من لم یستلم الا الرکنین الیمانین (1609)، صحیح مسلم، کتاب الحج، باب (1187)]
    صحیح بخاری میں بطور تعلیق بالکل صحیح سند کے ساتھ مروی ہے کہ معاویہ چاروں ارکان کا چھونا جائز سمحھتے تھے، جس کا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان پر انکار کیا ہے- (بخاری:1186)
    * جو عمل معاویہ سے ثابت ہے اسے بدعت کھنا صحیح نہیں ہے- تاہم راجح یہی ہے کہ ارکان اربعہ کو نہ چھویا جائے صرف رکن یمانی کو ہی چھویا جائے- (حافظ زبیر علی زئی)

    کعبہ کی دیواروں، غلاف اور حلقات کو تبرک کے لیے چھونا:

    عوام، خاص طور پر جاہل لوگوں کے درمیان یہ بدعت بہت زیادہ مشہور ہے، اس پر رد کرنے سے زیادہ اس کا فاسد باطل ہونا واضح ہے-

    زمزم کے پانی سے نہانا:

    سلف صالحین میں سے کسی سے یہ فعل ثابت نہیں، مستحب صرف یہ ہے کہ خوب سیر ہوکر زمزم پیا جائے اور گرمی کی وجہ سے سر پر بھی انڈیلا جائے-

    سر کے بال مونڈتے یا کٹاتے وقت قبلہ رخ ہونا:

    غزالی نے کہا:
    " پھر اس کے بعد سر کے بال مونڈدے اور سنت یہ ہے کہ قبلہ رخ ہو-"
    (احیاء علوم الدین: 1/466)
    غزالی کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں اور نہ ہی یہ سلف صالحین سے ثابت ہے-

    سر مونڈنے کے وقت دعا:

    غزالی نے اس کی ایک دعا بھی ذکر کی ہے:
    " ا ےاللہ! ہر بال کے بدلے میرے لیے ایک نیکی عطا کر اور میرا ایک گناہ مٹادے اور اپنے ہاں میرا درجہ بلند کر-"
    علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ" میرے علم کے مطابق سنت میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے-"
    (حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم: ص133)

    عورت کا نقاب اور دستانوں کے ساتھ طواف کرنا:

    یہ ممنوع ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
    " احرام والی عورت نہ نقاب پہنےاور نہ دستانے پہنے-"
    [بخاری، کتاب جراء الصید، باب ما ینھی من الطیب للمحرم والمحرمۃ (1838)]
    اگر اس کی تحقیق یہ ہو کہ چہرہ ڈھاپنا اور چھپانا فرض ہے تو اس کے لیے جائز ہے کہ اپنے چہرے پر کپڑا لٹکائے جیسا کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کی بہن اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے-

    حاجی کے لوٹنے کے وقت اور استقبال کے لیے اس کے گھر کا چونا اور صفائی کرنا:

    گھر کو قسما قسم کے رنگوں سے رنگنا، چراغاں کرنا، اس کے گھر کی دیوار پر کشتی یا ہوائی جہاز کی تصویر بنانا، جس کے ذریعے اس نے سفر کیا ہے اور "حج مبرو و ذنب مغفور و حمدللہ علی السلامۃ یا حاج" وغیرہ عبارت لکھنا ان تمام چيزوں کی دین میں کوئی اصل نہیں ہے- بلکہ اس میں فضول کاموں پر اموال کا اسراف ہوتا ہے اور قصد صرف فخرو تکبر اور جھوٹا وقار ہوتا ہے جس کے بارے میں ہر عقل مند کو یقین ہ ےکہ یہ احرام ہے-

    اقتباس: عبادات میں بدعات اور سنت سے ان کا رد
    تالیف: عمرو بن عبدالمنعم بن سلیم حفظ اللہ
    ترجمہ و تحقیق: حافظ زبیر علی زئی حفظ اللہ
    [/font]
     
  2. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    واہ واہ

    جزاک اللہ میرے بھائی

    ہمیشہ خوش رہیے میں اس سے بڑی دعا نہیں دے سکتا
     
Loading...
Similar Threads
  1. شفقت الرحمن
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    53
  2. شفقت الرحمن
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    76
  3. شفقت الرحمن
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    51
  4. شفقت الرحمن
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    72
  5. شفقت الرحمن
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    65
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں