لاتشھد علینا حتی تسمع منا

الطحاوی نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏ستمبر 30, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    موجودہ دور میں بہت سے لوگ ایساکرتے ہیں کہ کسی حدیث کی کتاب میں کوئی حدیث پڑھی اورجہاں کسی آئمہ فقہ کا قول اس کے خلاف دیکھاتوفوراًائمہ پر طعن کرنے لگتے ہیں کہ وہ حدیث کی مخالفت کرتے ہیں۔اورپھرویسے بھی اس زمانہ میں ایک ٹرینڈ چل پڑاہے کہ آئمہ فقہ کو اورخاص طورپر احناف کو مخالفت حدیث کاالزام دیاجائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو خواہ مخواہ کے پروپگنڈہ سے متاثرہوکر واقعتاً نیک نیتی سے یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ فقہ حنفی احادیث کی مخالف ہے ۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کچھ لوگ جان بوجھ کر شرارت اورفتنہ کے مقصد سے ایسے الزامات ابھارتے رہتے ہیں۔
    خطیب بغدادی نے تاریخ بغداد میں 11/158پرعیسی بن ابان کے ترجمہ میں محمد بن سماعہ کے حوالہ سے لکھاہے کہ عیسی بن ابان ہمارے ساتھ اسی مسجد میں نماز پڑھاکرتے تھے جس میں امام محمد بن حسن الشیبانی نماز پڑھتے تھے اورفقہ کی تدریس کیلئے بیٹھاکرتے تھے۔میں (محمد بن سماعہ)عیسی بن ابان کو محمد بن حسن الشیبانی کی مجلس فقہ میں شرکت کیلئے بلاتارہتاتھا لیکن وہ کہتے تھے کہ یہ وہ لوگ ہیں جواحادیث کی مخالفت کرتے ہیں۔اصل الفاظ ہیں۔
    "ھولاء قوم یخالفون الحدیث"
    عیسی بن ابان کو خاصی احادیث یاد تھیں۔
    ایک دن ایساہوا کہ فجر کی نماز ہم نے ساتھ پڑھی۔اس کے بعد میں نے عیسی بن ابان کو اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک کہ امام محمد بن حسن کی مجلس فقہ نہ لگ گئی پھر میں ان کے قریب ہوا اورکہایہ آپ کے بھانجے ہیں۔یہ ذہین ہیں اوران کو حدیث کی معرفت بھی ہے۔ میں انکو جب بھی آپ کی مجلس فقہ میں شرکت کی دعوت دیتاہوں تویہ کہتے ہیں کہ حدیث کی مخالفت کرتے ہیں۔
    امام محمد ان کی جانب متوجہ ہوئے اورفرمایا اے میرے بیٹے تم نے کیادیکھاکہ ہم حدیث کی مخالف کرتے ہیں(یعنی ہمارے کونسے ایسے مسائل اورفتاوی ہیں جس میں حدیث کی مخالفت کی جاتی ہے)پھراسی کے ساتھ امام محمد نے نصیحت بھی فرمائی
    لاتشھد علینا حتی تسمع منا
    ہمارے بارے میں کوئی رائے قائم مت کرو جب تک ہماری بات نہ سن لو
    یہ ایک اہم نصیحت ہے جو امام محمد نے عیسی بن ابان کو فرمائی تھی۔ آج ہم میں سے بیشتر لوگ وہ ہیں جو اصل ماخذ کو دیکھنے کی زحمت نہیں اٹھاتے اورخواہ مخواہ کے پروپگنڈہ کے شکار ہوجاتے ہیں۔اسی جانب قران کریم نے بھی اشارہ کیاہے کہ اگر کوئی فاسق کوئی خبر تمہارے پاس لائے تو فورااس کی تصدیق نہ کرلینا چاہئے ۔اسی سے اشارہ اس جانب بھی نکلتاہے کہ افواہیں جو بساوقات فسادات اورقتل وغارت کا پیش خیمہ ہوتی ہیں ان پر من وعن یقین نہ کرلیاجائے ۔بلکہ اس کی تحقیق کی جائے۔کیونکہ بیشتر افواہیں لوگوں کے گمان اورتخمینہ پر مبنی ہوتی ہیں اوران بعض الظن اثم قران کاارشاد ہے۔
    عیسی بن ابان نےامام محمد سے حدیث کے پچیس ابواب کے متعلق سوال کیا(جن کے بارے میں ان کو شبہ تھا کہ ائمہ احناف کے مسائل اس کے خلاف ہیں)امام محمد نے ان تمام پچیس ابواب حدیث کے متعلق جواب دیا اوران احادیث میں سے جومنسوخ تھیں اس کو بتایااوراسپر دلائل اورشواہد پیش کئے۔
    عیسی بن ابان نے باہر نکلنے کے بعد مجھ سے کہاکہ میرے اورروشنی کے درمیان ایک پردہ حائل تھاجو اٹھ گیا میرانہیں خیال ہے کہ اللہ کی زمین میں اس جیسا(صاحب فضل وکمال)کوئی دوسرابھی ہے۔اس کے بعد انہوں نے امام محمد کی شاگردی اختیار کی اوران سے فقہ اخذ کیااورائمہ احناف میں شمار ہوئے۔
    اس واقعہ سے چند عبرت اورنصیحت کی جوباتیں سمجھ میں آتی ہیں ان کو پیش کیاجاتاہے۔
    اولاً یہ کہ ائمہ کرام سے حسن ظن رکھنا چاہئے ان سے بدگمانی علم کے نور کے سلب کا یاحجاب کا سبب ہواکرتاہے۔ آج کل بعض لوگ یہ ظلم کررہے ہیں کہ ائمہ حدیث کا توخوب اکرام کرتے ہیں اورائمہ فقہ پر بے پروائی سے اس طرح طعنے کستے ہیں جیسے وہ علم وفضل میں ان کے ہمسر ہوں۔یاد رکھناچاہئے کہ ائمہ حدیث ہوں یاائمہ فقہ دونوں ہمارے لئے قابل تعظیم وتکریم ہیں۔بعض لوگ یہ ظلم کرتے ہین کہ یہ مان کر کہ فقہ توقرآن وحدیث سے ہی اخذ کی جاتی ہے ہرمحدث کو زبردستی فقیہ بنانے پر تلے بیٹھے رہتے ہیں۔جب کہ یہ بات کہ محدث اورفقیہہ کا وظیفہ الگ ہوتاہے اورصرف حدیث یاد کرلینا فقہ کیلئے کافی نہیں ہے۔ ایک محسوس اورمشاہد امر ہے۔ ورنہ خطیب بغدادی النصیحہ لاہل الحدیث اورالفقیہ والمتفقہ لکھنے کی ضرورت نہ پڑتی۔
    اس واقعہ سے یہ بھی سبق ملتاہے کہ انسان کو اپنی رائے پر بہت زیادہ اعتماد نہ ہوناچاہئے بلکہ فریق مخالف کی بات کو بھی پورے شرح صدر اورکشادہ دلی کے ساتھ سنناچاہئے۔ورنہ بسااوقات اپنی رائے پر اصرار علم سے محرومی کا سبب بن جاتاہے۔
     
  2. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,358
  3. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    جمشید بھائی ! درج بالا اقتباس کے اس فقرے :
    محدث اورفقیہہ کا وظیفہ الگ ہوتاہے اورصرف حدیث یاد کرلینا فقہ کیلئے کافی نہیں ہے
    سے ایسا لگا کہ جیسے آپ یہ کہنا چاہتے ہوں کہ :
    "محدث" کی تعریف یہ ہے کہ وہ صرف حدیث کو یاد کرتا ہے۔

    ممکن ہے کہ محدث کی تعریف آپ کے نزدیک کچھ اور ہو ، امید ہے کہ وضاحت فرمائیں گے۔
     
  4. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    باذوق بھائی اگرآپ یہ بتادیں کہ محدث کی تعریف آپ کے نزدیک کیاہے تومجھے اپنی بات پیش کرنے میں آسانی ہوگی۔ ہم تومحدث کی وہی تعریف جانتے ہیں جو اصول حدیث کی کتابوں‌میں درج ہے۔
     
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    ان ہی عیسی بن ابان کے متعلق اسی تاریخ بغداد میں مرقوم ہے کہ فقہ حنفی کی محبت نے اتنا جوش مارا کہ ایک اور شخص کے ساتھ مل کر امام شافعی کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ پھر اس کتاب کا جواب لکھا۔ !!!
    شاید اسی خدمت کے نتیجے میں مدت تک قاضی احناف کے عہدے پر رہے۔!!!!!
    حوالہ دینے کی بے کار روایت کے مطابق تفصیلی حوالہ دیا جائے یا رہنے دیا جائے؟؟؟؟
     
  6. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    جمشید بھائی ! براہ مہربانی میرے سوال کا براہ راست جواب دیں ، میں نے آپ سے یہ قطعاَ نہیں پوچھا کہ آپ کیا کیا جانتے ہیں۔
    میرا سوال صرف یہ ہے کہ :
    آپ کے اس جملے ۔۔۔۔۔ محدث اورفقیہہ کا وظیفہ الگ ہوتاہے اورصرف حدیث یاد کرلینا فقہ کیلئے کافی نہیں ہے
    سے اگر کسی کے ذہن میں یہ تاثر پیدا ہو کہ : "محدث" کی تعریف یہ ہے کہ وہ صرف حدیث کو یاد کرتا ہے۔
    تو ایسا تاثر آپ کے نزدیک درست کہلائے گا یا غلط ؟؟
     
  7. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    حوالہ کہاں ہے
     
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,865
    بھائی میرا خیال ہے کہ ائمہ کرام سے سب ہی حسن ظن رکھتے ہیں ــ مسئلہ یہ ہے کہ اگر آئمہ کرام رحمہ اللہم کے کسی قول کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحیح حدیث کے آ جانے کے بعد چھوڑ دینا بدگمانی ہے تو میرا خیال ہے یہ صحیح نہیں ـ
    طعنے کوئی بھی نہیں کستا ـ آئمہ حدیث اور آئمہ فقہ دونوں قابل تعظیم وتکریم ہیں ـ اگر آئمہ کرام کے کسی قول کو رد کر دینا کسی صحیح حدیث کے مقابل مین یہ طعنہے کسنا ہے تو سب سے پہلے یہ کام خود آئمہ کے مقلد علماء نے کیا ہے ـ
    یقین جانیے جمشید بھائی وظیفہ کی یہ تقسیم سمجھ میں نہیں آیا ــ اگر آپ اس کی تھوڑی وضاحت کر دیں تو بڑی مہربانی ہو گی ـ
    ''ایک مسلک احناف سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم سے ملنے کا اتفاق ہوا، میں نے پوچھا کہ صحیح بخاری اور مسلم کونسے سال پڑھائی جاتی ہے کہنے لگے آخری سال تمام صحاح ستہ پڑھائی جاتی ہیں ـ اور ہھر فخر سے بتا رہے تھے ہم ایک سال میں تمام صحاح ستہ کی کتب کو یاد کرکے شیخ الحدیث کو سنا دیتے ہیں اور جلدی اور تیز سنا نے والے کو شیخ الحدیث کی طرف سے انعام بھی دیا جاتا ہے ـ ''
     
  9. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    قال طاہرالجزائری المتوفی سنۃ 1338۔المحدث من ہو تحمل الحدیث روایۃ واعتنی درایۃ
    قال زین الدین العراقی : وھومن یکون لہ کتب وقراءۃ وسمع ووعی ورحل الی المدائن والقری وحصل اصولاً من متون الاحادیت وفروعا میں کتب الاسانید والعلل والتواریخ التی تقرب من الف تصنیف
    وقال فتح الدین بن سید الناس :المحدث من ہو اشتغل بالحدیث روایۃ ودرایۃ وجمع مرویاتہ ،واطلع علی کثیر من الرواۃ والروایات فی عصرہ ،وتمیز فی ذلک حتی عرف فیہ خطہ واشتھہرضبطہ واقل درجاتہ فی الحفظ ان یحیط علمہ بعشرین الف حدیث مع معرفۃ اسانیدھا ورجالھا جرحاً وتعدیلاً
    محدث کی یہ چند تعریف میں نے السراج المنیر فی القاب المحدثین سے مصفنہ سعد فہمی بلال صفحہ68سے نقل کی ہے۔جودارابن حزم سے شائع ہوئی ہے یہی میرے نزدیک محدثین کی تعریف ہے۔
    ویسے جیساکہ میں پہلے ہی کہہ چکاہوں کہ فقیہ اورمحدث دوالگ الگ شخصیتوں کے نام ہیں بہت سے علماء ایسے بھی گزرے ہیں جو فقہ اورحدیث دونوں کے جامع تھے۔ لیکن ان سے بہت زیادہ ایسے ہیں جویاتومحدث تھے یافقیہ تھے۔یہ کہنا کہ "ہرمحدث فقیہ ہے "ایک ایسی بات ہے جو حس اورعقل کے اورمشاہدہ کے بھی منافی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
     
  10. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    اب اس دورمیں ایسے لوگ کہاں کہ تمام صحاح ستہ یاد کرکے شیخ الحدیث کو سنادیں۔ویسے اس پیراگراف میں آپ نے کہناکیاچاہا ہے کہ کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔
     
  11. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    جمشید بھائی ! بصد معذرت عرض ہے کہ یا تو میری اردودانی کمزور ہے یا پھر میں عربی کو اس طرح نہیں سمجھتا جس طرح کہ ان اقتباسات کے سہارے آپ سمجھانا چاہتے ہیں۔
    کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ آپ درج بالا اقتباسات کا اردو ترجمہ بھی یہاں پیش کر دیں تاکہ میرے ساتھ ساتھ دیگر قارئین کے بھی علم میں اضافہ ہو۔ ورنہ مجھے تو نہیں لگتا کہ ان اقتباسات سے درج ذیل مفہوم اخذ کیا جا سکتا ہے:
    "محدث" کی تعریف یہ ہے کہ وہ صرف حدیث کو یاد کرتا ہے۔

    مزید ۔۔۔۔ ذرا مہربانی کر کے ہم کو یہ بھی بتائیں کہ ۔۔۔
    • کسی "روایت" کو "حدیث" کا درجہ کون عطا کرتا ہے ؟ محدث یا فقیہہ؟
    • راویوں کی جرح و تعدیل کس کی ذمہ داری ہوتی ہے ؟ محدث کی یا فقیہہ کی؟
    • حدیث کے مراتب و درجات کون قائم کرتا ہے ؟ محدث یا فقیہہ؟
    • حدیث کے سمع ، قراءت ، اجازۃ ، مناولہ ، مکاتبہ ، اعلام ، وصیۃ کے حقوق کس کو ملتے ہیں؟ محدث کو یا فقیہہ کو؟
    جمشید بھائی ! میں یہ بات بھی آپ کو یاد دلانا چاہوں گا کہ مجھے بےشک آپ کی نیت پر شک نہیں ہے اور نہ ہی میری کوشش ہے کہ حدیث یا فقہ کے طبقات میں سے کسی ایک کی برتری کے ذیل میں وہ زور لگاؤں جس کے متعلق کوئی طے شدہ فیصلہ یا نقطہ نظر زمانہ قدیم سے معروف چلا آ رہا ہو۔
    اتنا تو یقیناً آپ کا بھی ماننا ہوگا کہ فقہ کا اولین اصل ماخذ قرآن و حدیث ہوتے ہیں۔ اور کسی روایت کا بطور حدیث ثابت ہونا محدثین ہی کے ذریعے ہوتا ہے۔
    تو ذرا آپ ٹھنڈے دل سے سوچئے کہ اگر روایت کا (صحیح / حسن ) حدیث ہونا ثابت نہ ہوتا تو کیا فقہاء ہر الٹی سیدھی منکر و موضوع روایت پر اپنی فقاہت کا دارومدار رکھتے ؟؟؟

    جمشید بھائی ! آپ نے شائد جذبات میں یا گرما گرمی میں یہ تو لکھ دیا کہ :
    بعض لوگ ائمہ فقہ کو حدیث کی مخالفت کا طعنہ دیتے ہیں۔
    مگر فقہ یا فقہاء کی تائید میں کچھ لوگ محدثین کو درپردہ یا براہ راست جو مطعون کرتے ہیں یا محدثین کی خدمات کو فقہاء کی خدمات سے گرا کر بتاتے ہیں ، ان کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا آپ نے !

    جیسا کہ خود آپ بھی اپنے اس فقرے
    پر غیر جانبداری اور کھلے دل سے اگر غور کریں تو اس کا مذموم ہونا آپ پر آشکار ہو جائے گا۔

    واقعہ یہ ہے کہ درج بالا اقتباس شدہ جملے میں صرف یہ ایک فقرہ کافی تھا :
    محدث اورفقیہہ کا وظیفہ الگ ہوتاہے
    جبکہ یہ دوسرا فقرہ :
    اورصرف حدیث یاد کرلینا فقہ کیلئے کافی نہیں ہے۔
    محدثین کے خلاف آپ کی اسی "گرمی" کو ظاہر کرتا ہے جس کی شکایت آپ ان "بعض" لوگوں کے خلاف کر چکے ہیں جو بقول آپ کے ائمہ فقہ کے تئیں غیرضروری گرمی ظاہر کرتے رہتے ہیں۔
     
  12. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
  13. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,865
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    بھائی جمشید ـاہل حدیث کی منزلت اپ بھی جانتے ہیں اور تمام مذاہب کے مقلدین علماء بھی اچھی طرح جانتے ہیں ـ اس کے لئے مجھے لمبی لمبی تحریروں یا صفائیوں کی ہرگز ضرورت نہیں ـ آپ کے دیے ہوئے لنک میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اہل حدیث کی منزلت فقہی سے کم یا برابر ہے ـحوالے کے طور پر نصيحة أهل الحديث للخطيب البغدادي کا نام لیا گیا ـ
    اگر کبھی فرضت ملے تو للخطیب بغدادی کی شرف أصحاب الحديث للخطيب البغدادي پر بھی نظر ڈال لیں ـ ان شاء اللہ افاقہ ہو گا ـ

    من هم أهل الحديث ؟ وما هي صفاتهم ومميزاتهم ؟
     
  14. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    محدثین کی قدرومنزلت سے انکار کہاں کیاگیاہے ۔انکار اس بات پر ہے کہ ہرمحدث صرف احادیث کا حامل ہوجانے کی وجہ سے فقیہ نہیں بنتا۔استنباط احکام کیلئے اوردیگر شرائط اورصلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلااختلاف ائمہ کا علم،ناسخ ومنسوخ کا علم،عربی زبان پر گہری نظر،قیاس اوراس کے شرائط کا علم بلکہ ایک حد تک خداداد ملکہ بھی اسکے لئے چاہئے۔اجماع علمائ کا علم۔یہی وجہ ہے کہ اجتہاد کیلئے صرف احادیث کاحفظ کافی نہیں ہے۔
    یہ حدیث اس مسئلہ پر توشاید نص صریح ہے۔ نَضَّرَ اللَّا امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَہ حَتَّى يُبَلِّغَہ فَرُبَّ حَامِلِ فِقْہ الَى مَنْ ھوَ افْقَہ مِنْہ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْہ لَيْسَ بِفَقِيہ ) رواہ ابو داود (3660)حدیث پاک میں صراحت ہے کہ ورب حامل فقہ لیس بفقیہ یعنی بہت سے حاملین فقہ فقیہ نہیں ہیں۔قرآن اورحدیث جوفقہ کا منبع اورمصدرہے اس کے حامل ہیں لیکن استنباط فقہ پر قادر نہیں ہیں۔

    قال ابن وھب: "لولا انّ اللہ انقذني بمالك والليث لضللت.
    فقيل لہ: كيف ذلك ؟.
    قال: اكثرت من الحديث فَحَيرني، فكنت اعرض ذلك على مالك والليث، فيقولان لي: خذ ہذا ودع ہذا
    ". ترتيب المدارك (1/ 153.
    روي الخطيب البغدادي باسنادہ في (نصيحۃ لاھل الحديث، ص: 38) انّ: امراۃ وقفت على مجلسٍ فيہ يحيى بن معين وابو خيثمہ وخلف بن سالم في جماعۃ يتذاكرون الحديث، فسمعتھم يقولون: قال رسول اللہ و قد رواہ فلان، وما حدث بہ غير فلان، فسالتھم عن الحائض تغسل الموتى ؟ وكانت غاسلۃ، فلم يجُبِھا احد منھم !!!! وجعل بعضھم ينظر الى بعض، فاقبل ابو ثور فقالوا لھا: عليك بالمقبل، فالتفتت اليہ وقد دنا منھا، فسالتہ فقال: تغسل الميت، لحديث القاسم عن عائشۃ انّ النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال لھا اما انّ حيضتك ليست في يدك"، ولقولھا: "كنت افرق راس رسول اللہ بالماء وانا حائض"، قال ابو ثور: فاذا فرقت راس الحي فالميت اولى بہ.
    فقالوا: نعم، رواہ فلان، وحدثناہ فلان، ويعرفونہ من طرق كذا، وخاضوا في الطرق، فقالت المراۃ: فاين كنتم الى الآن".

    اس کے علاوہ حوالے تواوربھی بہت زیادہ ہیں مگر اسی پر اکتفاکرتاہوں۔اوپر ذکر کئے لنک میں چند مزید ایسے ہی واقعات ہیں کہ امام اعمش نے ایک مرتبہ امام ابویوسف سے ایک مسئلہ پراس کی دلیل پوچھی توانہوں‌نے جواب دیا کہ یہ تواسی حدیث سے اخذ کیاہے جو آپ نے ہم سے روایت کی ہے۔اس پر امام اعمش نے کہا۔یامعشرالفقہائ انتم الاطبائ ونحن الصیادلہ اے گروہ فقہائ تم ڈاکٹرہو اورہم دوافروش ہیں۔ والسلام
     
  15. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    أحسن الله إليكم وجزاكم خيرا
     
  16. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    محترم بهائي ني بهت اچهي بات کهي هي که صرف أحاديث کي حفظ سي کوئي شخص فقيه نهين بنتا. اور يه حقيقت هي که حفظ الحديث ايک الگ باب هي اور فقه الحديث ايک اور شاهراه هي . ليکن ياد رهي که فقيه کي ليي حافظ الحديث هونا ضروري هي . جب تک فقيه أحاديث مبارکه کو اس انداز مين ضبط نه کرلي که ان کي استحضار پر هر وقت قادر هو ' وه فقيه نهين بن سکتا.
    نيز يه که محدثين کرام رحمهم الله عليهم أجمعين مين سي أکثر حافظ الحديث بهي تهي اور فقيه بهي تهي اور فقيه هوني کي ساته ساته مجتهد مطلق بهي تهي. امام مالک ' شافعي ' أحمد بن حنبل وغيره فن حديث مين بهي امام تهي اور فقه اجتهادکي بهي آفتاب ومهتاب . اسي طرح تقريبا تمام تر مؤلفين محدثين مثلا أمام بخاري ' ابو داود ' نسائي ' ترمذي ' ابن ماجه وغيره بهي فن حديث اور فقه واجتهاد مين امام تهي . اگرچه وه فقه مين مقتدي نه بني . ليکن انکي فقه اور دقت استنباط پر انکي کتب کي تراجم ابواب منه بولتا ثبوت هين.
    اور ياد رهي که ما سوا امام ابو حنيفه تمام تر معروف فقهاء کرام محدثين هي تهي حتي که انکي شاگرد امام محمد بن الحسن الشيباني بهي فن حديث مين دسترس رکهتي تهي گوکه وه اس فن مين معروف نهين هين . يهي وجه هي که وه بهت سي مسائل مين اپني شيخ أبو حنيفه رحمه الله سي اختلاف کرتي تهي .
     
  17. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,865
    السلام علیکم‌!
    بھائی جمشید حدیث کا حکم عام ہے ـ فہم اور تدبر قرآن ، حدیث اور اجتہاد میں ہوتا ہے ـ ترجمے کرتے ہوئے یہ کہنا صرف قرآن وحدیث کا علم استنباط فقہ پر قادر نہیں ــ یہ صحیح نہیں ــ
    برائے مہربانی آپ فقہی کی تعریف کریں ــ کہ فقہی کہتے کسے ہیں ؟
    کہیں خاموش مجاہد بھائی نے لکھا تھا کہ حنفی مدارس میں آخری سال میں کتب ستہ حفظ کرائی جاتی ہیں ــ اور یہ بات میرے مشاہدے میں ہے ــ اب آپ یہ بتائیں کہ کیا آخری سال صحاح ستہ کو حفظ کرنے والے صرف حفظ کرتے ہیں یا جو ابتدائیہ سے لیکر عالی تک پڑھتےہیں وہ حفظ کرتے ہیں ؟ کیا دونوں کا تدبر اور فہم برابر ہو سکتا ہے ؟
    آپ کو نصيحة أهل الحديث للخطيب البغدادي میں نقل یہ ایک واقعہ تو نظر آ گیا ــ لیکن شرف أصحاب الحديث للخطيب البغدادي میں شامل واقعات نظر نہیں آیا ـــ برائے مہربانی یہ ثابت کریں‌امام اعمش رحمہ اللہ نے یہ جملہ کب اور کس مسئلے پر امام ابویوسف کو کہا تھا ؟ کوشش کیا کریں کہ عربی عبارت کا ترجمہ ہی کر دیا کریں ـ
    کیسے ہیں شیخ ـ پوچھنا یہ تھا کہ اگر کسی فقہی کو صرف 17 حدیثیں یاد ہوں تو ہم اس کے بارے میں یہ کہ سکتے ہیں کہ اس کا ہر مسئلہ یا اس کے شاگردوں کا ہر مسئلہ قرآن و حدیث کے مطابق ہو گا ؟
     
  18. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    ابن خلدون نے سترہ احادیث والی بات قیل سے ذکر کی ہے یعنی یہ قول ابن خلدون کے نزدیک بھی ضعیف اورکمزور ہے تعجب ہے کہ آپ اسی کو صحیح ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ورنہ اگر الردعلی سیرالاوزاعی ،کتاب الخراج، امام ابویوسف اورامام محمد کی الحجۃ علی اھل المدینہ،کتاب لاثار وغیرہ ہی کو ایک نظر دیکھ لیں توپتہ چلے کہ ان دونوں‌نے امام ابوحنیفہ سے کتنی زیادہ روایتیں نقل کی ہیں۔
    رفیق طاہر صاحب سے عرض کرنا یہ ہے کہ وہ تذکرۃ الحفاظ میں جوحافظ ذہبی کی تصنیف ہےاس میں امام ابوحنیفہ کا ترجمہ پڑھ لیں اورپھر غورکریں کہ اس میں حافظ ذہبی نے امام ابوحنیفہ کا تذکرہ بطور محدث کیاہے یابطور فقیہ اورپھر اس پر بھی غورکرلیں کہ حافظ حدیث کی اصطلاح میں کس کو کہتے ہیں۔امید ہے کہ اپنے سابقہ اقوال سے رجوع کریں گے ۔والسلام
     
  19. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,865
    السلام علیکم !
    بھائی جمشید مولانا منظور احمد نعمانی اپنی کتاب سیرت النعمان کے صفحہ سترہ پر لکھتے ہیں کہ نعمان بن ثابت سے صرف 17 احادیث ثابت ہیں ـ اب ان کو میں نے نہیں کہا وہ اس بات کو صحیح‌ کہیں ـ
    برائے مہربانی آپ فقہی کی تعریف کریں ــ کہ فقہی کہتے کسے ہیں ؟
     
  20. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    1.وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

    2.الحمد للہ آپکی خیریت کا طلبگار عافیت سے توہے مگر یہ کہتے ہوئے کہ :
    زبانیں کاٹ کر بیٹھیں کہیں ایسا نہیں ہوتا ۔۔۔ یہ تیری بزم ہے عکاشہ ! جہاں ایسا بھی ہوتا ہے
    ٣۔ یہ کیسی عجب الزامی سی بات کردی آپ نے ؟ کیونکہ سترہ لاکھ أحادیث کے حافظ کے بارہ میں بھی یہ بات نہیں کہی جاسکتی کہ
    اور ویسے امام اہل الرائے أبو حنیفہ رحمہ اللہ تو اپنے بارہ میں خود فرماتے ہیں کہ :

    عامة ما أحدثكم خطأ

    عموما جو باتیں میں تم کو بیان کرتاہوں وہ غلط ہوتی ہیں.
    یہ بات امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب العلل الکبیر میں بأیں سند نقل فرمائی ہے
    سمعت محمود بن غيلان يقول سمعت المقري يقول سمعت أبا حنيفة يقول.....
    اور یہ ایسی شاند سند ہے کہ دنیا کا کوئی شخص بھی اس کے راویوں پر جرح کا ایک لفظ ثابت نہیںکرسکتا ولوکان بعضہم لبعض ظہیرا
    والسلام عليكم وعلى من لديكم ورحمةالله وبركاته
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں