لاتشھد علینا حتی تسمع منا

الطحاوی نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏ستمبر 30, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    میں نے کبھی یہ بات نہیں کہی کہ امام أبو حنیفہ رحمہ اللہ کو أحادیث یاد نہ تھیں یا بہت کم أحادیث یاد تھیں
    بلکہ میں تو ہمیشہ سے اس بات کا قائل رہا ہوں کہ امام صاحب کافی ساری أحادیث مبارکہ جانتے تھے ۔ ان کا طرز استدلال اور فقہی مسائل اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔
    اور انکا زمانہ بھی اس بات کی دلیل ہے اور انکا اپنے شیخ کی وفات کے بعد انکی مسند ارشاد پر براجمان ہونا بھی اس پر شاہد عدل ہے۔
    یہ سترہ أحادیث اور تین سو احادیث اور دو سو أحادیث والی بات ہرگز درست نہ ہے۔
    اور محدثین کرام کا انکو کتب جرح وتعدیل میں ذکر کرنا بھی یہ واضح کرتاہے کہ وہ راوی حدیث تھے۔
    نیز یہ بھی یاد رہے کہ کسی کو اجتہاد کرنے کے لیے تمام تر یا کافی ساری أحادیث وآیات کو از بر کرنا یا پڑھ لینا بھی ضروری نہیں ہے۔
    اور یہ بات ہر اصول فقہ کی کتاب میں موجود اس روایت سے آشکار ہوتی ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم أجمعین کو ایک خاص جگہ پہنچ کر نماز پڑھنے کا حکم دیا تھا۔
    کہ ان میں سے مجتہدین نے صرف ایک ہی نص کو سامنے رکھ کر اجتہاد کیا اور وہا ں پہنچنے سے قبل ہی نماز پڑھ لی
    لہذا اگر امام صاحب کو احادیث میں مہارت تامہ نہ بھی ہو تو انکے فقیہ اور امام أہل الرائے ہونے پر کو زد نہیں آتی۔
    ۔۔۔۔۔
    جب میرا موقف یہ ہے تو مجھے حافظ ذہبی کی تذکرة الحفاظ کے بارہ میں نقطہ آفرینی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
    والسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
     
  2. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    چلئے آپ کے اس اعتراف سے کم ازکم یہ بات توثابت ہوہی گئی کہ فقیہ اورمحدث کا وظیفہ الگ ہوتاہے اورصرف محدث ہونے سے یہ لازم نہیں آتاکہ وہ فقیہ بھی ہوگا۔
     
  3. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    اور يه بات بهي كه هر فقيه محدث نهين هوتا !!!
     
  4. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    اس میں کس نے شک کیاہے نہ ہرفقیہ محدث ہوتاہے اورنہ ہر محدث فقیہ ہوتاہے
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,865
    کونسی بات یہی کہ اس کا ہر مسئلہ قرآن و حدیث کے مطابق ہو گا ـ !

    یعنی آج تک کسی نے بھی جرح کا ایک لفظ ثابت نہیں کیا ـ
     
  6. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    جي هاں
    جي هاں آج تک کسی نے بھی جرح کا ایک لفظ ثابت نہیں کیا !!!
     
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,865
    السلام علیکم !
    ـ میں تو ثابت کرنی کی کوشش نہیں کر رہا کہ ان کو صرف سترہ احادیث یاد تھی یا تین سو ـ حنفی عالم نے جو لکھا تھا وہ بتا دیا جمشید بھائی ــ کیونکہ حنفی پلس دیوبندی اکثر محدث ثابت کرنی کی کوشش کرتے رہتے ہیں ـ ــ اب آپ نے کہ دیا کہ جرح کا ایک لفظ ثابت نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے غلطیاں ہوئیں ـ یا احادیث نہیں پہنچیں ـ اب ان غلطیوں سے رجوع نہ کرنا ـ جیسا کہ اصول الکرخی میں‌ لکھا ہے ـ اس کو ہم کیا نام دیں ـ

    چلیں شیخ رفیق نے بھی مان لیا کہ محدث اور فقیہ کا وظیفہ الگ الگ ہوتا ہے ــ بھائی طاہر رفیق کا علمی میدان چونکہ حدیث ہی ہے اس لیے ہم بحثیت طالب علم ان سے پوچھنا چاہیں کیا سلف صالحین یا محدیثین کی کسی جماعت کا اس وظیفہ پر اجماع ہوا یا نہیں ـ
     
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,865
    السلام علیکم !
    بھائی معلومات کے لئے پوچھا تھا کہ امام اعمش نے کس مسئلے پر امام ابویسف کو کہاں تھا کی تم طبیب ہو اور ہم داوفروش ہیں ـ کیا امام ابوسف کو ہی کہا تھا یا کسی اور کو ؟

    ایک دوسرا سوال بھی علم کی خاطر ہی پوچھا تھا کہ آپ کے نزدیک فقہی کی تعریف کیا ہے ؟
     
  9. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938

    غلطیوں سے رجوع نہ کرنا ہٹ دھرمی کہلاتا ہے۔اور یہ کا فروں کا وصف ہے جو اللہ نے بیان فرمایا ہے
    وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْماً وَعُلُوّاً فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ [النمل : 14]
    اور انہوں نے ان کا انکار کر دیا ظلم اور تکبر کی بناء پر حالانکہ انکے دل ان کا یقین کر چکے تھے، سو دیکھ لو کہ کیسا ہوا انجام فساد مچانے والوں کا
    نيز فرمايا :
    ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِ رُسُلاً إِلَى قَوْمِهِمْ فَجَآؤُوهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُواْ لِيُؤْمِنُواْ بِمَا كَذَّبُواْ بِهِ مِن قَبْلُ كَذَلِكَ نَطْبَعُ عَلَى قُلوبِ الْمُعْتَدِينَ [يونس : 74]
    پھر نوح کے بعد ہم نے اور رسولوں کو بھی بھیجا ان کی قوموں کی طرف کھلے دلائل کے ساتھ، مگر جس چیز کو انہوں نے پہلے جھٹلا دیا تھا اسے انہوں نے مان کر نہ دیا اسی طرح ہم مہر لگا دیتے ہیں حد سے بڑھنے والوں کے دلوں پر،

    تِلْكَ الْقُرَى نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَآئِهَا وَلَقَدْ جَاءتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُواْ لِيُؤْمِنُواْ بِمَا كَذَّبُواْ مِن قَبْلُ كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللّهُ عَلَىَ قُلُوبِ الْكَافِرِينَ [الأعراف : 101]

    یہ ان بستیوں کے کچھ حالات ہیں جو ہم (عبرت اور نمونہ کے طور پر) آپ کو سنا رہے ہیں، بلاشبہ آئے ان کے پاس ان کے رسول کھلے دلائل لے کر، پھر بھی انہوں نے ایمان لا کے نہ دیا اس پر، جس کو وہ جھٹلا چکے تھے اس سے پہلے، اسی طرح اللہ مہر کر دیتا ہے کافروں کے دلوں پر، ف۲
    اجماع ؟؟؟
    سمجھ نہیں آئی !
    وضاحت مطلوب ہے
     
  10. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,865
    السلام علیکم‌!
    یہی کہ محدث اور فقیہ کا وظیفہ الگ ہوتا ہے ـ ـ ـ صرف محدث ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ فقیہ بھی ہو گاــ جیساکہ جمشید بھائی نے لکھا ہے ــ
    اجماع سے مراد وہ والا اجماع نہیں تھا ــ بلکہ یہ معلوم کرنا مقصود تھا کہ کہ جمہور علماء اور محدیثین نے کیا کسی ایسے وظیفہ پر اتفاق کیا ہے ــ کہ محدث کے لئے ضروری نہیں‌کہ وہ فقیہ بھی ہو ــ
     
  11. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938

    یہ ایک اصولی مسئلہ ہے
    دکتور عبد الکریم زیدان الوجیز فی اصول الفقہ میں فقہ کی تعریف اور اس تعریف کی شرائط کی شرح بیان کرتے ہوئے صفحہ ١٠ پر رقمطراز ہیں :

    ویترتب علی ہذا لشرط : أن علم اللہ بالأحکام أو علم الرسول بہا أو علم المقلدین بہا کل ذلک لا یعتبر فی الاصطلاح فقہا ولا یسمی صاحبہا فقیہا فعلم اللہ لازم لذاتہ وہو یعلم الحکم والدلیل وعلم الرسول مستفاد من الوحی لا مکسب من الأدلة وعلم المقلد مأخوذ بطریق التقلید لا بطرق النظر والاجتہاد
     
  12. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    اور انہوں بہت باریک بینی کے ساتھ أصولی اور فقیہ کا فرق بھی واضح کیا ہے لکھتے ہیں :
    فالأصولي : يبحث عن الأدلة الإجمالية من حيث دلالتها على الأحكام الشرعية من أدلتها الجزئية
    والفقيه : يبحث في الأدلة الجزئية ليستنبط الأحكام الجزئية منها مستعينا بالقواعد الأصولية والإحاطة بالألة الإجمالية ومباحثها
     
  13. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    لیکن یہ بات یاد رہے کہ جب ہم خارج میں دیکھتے ہیں تو تقریبا ہر محدث کو فقیہ بھی پاتے ہیں
    یعنی گویا کہ علم أصول فقہ علم أصول حدیث علم حدیث اور علم فقہ سب الگ الگ علوم ہیں لیکن یہ کسی ایک شخص میں جمع بھی تو ہو سکتے ہیں اور محدثین کرام رحمہم اللہ نے بفضل اللہ تعالی وعونہ ان علوم کو اپنے اندر جمع کیا ہے جسکے دلائل میں اجمالا پہلے دے چکا ہوں کہ تقریبا ہرمحدث أصولی بھی ہوتا تھا اور فقیہ بھی اور محدث بھی اور مفسر بھی اور مجتہد مطلق بھی۔
     
  14. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    کاش اس مسئلہ پر رفیق طاہر صاحب الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف میں شاہ ولی اللہ نے محدث اورفقیہ کے فرق پر جوروشنی ڈالی ہے خطابی نے معالم السنن میں فقیہ اورمحدث کے فرق کو جوواضح کیاہے اس پر روشنی ڈالتے اس کے بجائے انہوں‌نے ایک دکتور کا حوالہ دینازیادہ پسند کیاہے افسوس
     
  15. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    صرف اس لیے کہ ہمارے ان اسلاف کا کلام کافی طویل ہے اور اسکا خلاصہ نکال کر پیش کرنا وقت مانگتا ہے۔ جبکہ دکتور زیدان کا کلام مختصر ہے ۔
    اور اگر آپ غور فرمائیں تو د۔زیدان نے کوئی نئی بات نہیں کہی بلکہ وہ نتیجہ نکالنے حتی کہ کلام بنانے میں بھی ان ہی کے محتاج نظر آتے ہیں!!!
     
  16. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    اگردکتورزیدان نے یہ نتیجہ نکالاہے توغلط ہے کیونکہ شاہ ولی اللہ الدہلوی کا کلام اورامام خطابی کا کلام اس کے بالکل منافی ہے۔مجھے وقت لگے گا لیکن میں دونوں حضرات کی عبارت پیش کردوں بلکہ شاہ ولی اللہ نے ہی اپنے کلام کی تائید میں امام خطابی کا کلام پیش کیاہے۔
    اوپر میں اس بات پر متفق ہونے کے باوجود کہ نہ فقیہ محدث ہوتاہے اورنہ ہر محدث فقیہ ہوتاہے یہاں یہ کہنا کہ خارج میں ہر محدث فقیہ ہوتاہے سوائے بات گھمانے کی کوشش کے علاوہ اورکچھ نہیں ہے۔ ذرامثال توپیش کیجئے اپنی اس بات کی کہ ہر محدث خارج میں فقیہ ہوتاہے۔
    ویسے حدیث رسول صاف اورصریح رب حامل فقہ لیس بفقیہ یعنی بہت سے حاملین فقہ فقیہ نہیں‌ہیں۔پھر کیامطلب اس عبار ت کاکہ خارج میں ہر محدث فقیہ ہوتاہے۔
    والسلام
     
  17. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    بالکل ٹھیک ہے !
    آپ یہ بات ثابت کردیں کہ کوئی محدث بھی فقیہ نہیں ہو سکتا اور کوئی فقیہ بھی محدث نہیں ہو سکتا ہم آپکی بات مان جائیں گے۔
    میں تو شروع سے یہی کہتا چلا آرہا ہوں کہ محدث کا وظیفہ الگ او رفقیہ کا الگ ہے ۔لیکن یہ دونو ں صفات ایک شخص میں جمع بھی ہو سکتی ہیں ۔ان دونوں کا جمع ہونا محا ل نہیں ہے ۔ جیساکہ خارج میں اسکی بے شمار مثالیں ہیں۔

    میں نے یہ بات ہرگز نہیں کہی کہ کوئی محدث بھی فقیہ نہیں ہوسکتا
    اور کوئی فقیہ بھی محدث نہیں ہوسکتا
    یہ بات تو صرف آپ ہی کے نہاں خانہ دماغ میں گھوم رہی ہے۔
    ہاں میں اتنا البتہ ضرور کہا ہے کہ
    محدث ہونا ایک الگ بات ہے اور فقیہ ہونا ایک الگ بات ہے
    محدث کے لیے فقیہ ہونا ضروری نہیں اور فقیہ کے لیے محدث ہونا لازم نہیں
    لیکن یہ دونوں وصف ایک شخص میں جمع تو ہو سکتے ہیں جسکی میں مثال بھی دے آیا ہوں کہ خارج میں ایسا ہوا ہے۔


    ہر محدث کے فقیہ ہونے والے بات میں نے نہیں کی اگر کی ہے تو حوالہ درج فرمائیں
    باقی اکثر محدثین کے فقیہ ہونے کی بات میںنے کی ہے اور اسکی دلیل بھی دے چکا ہوں
    چلو پھر دہرا دیتا ہوں
    امام مالک امام شافعی امام احمدبن حنبل تینوں محدث بھی تھے اور فقیہ بھی
    ان کے علاوہ دیگر بھی بہت سے محدثین بلکہ تقریبا ہر مشہور زمانہ محدث فقیہ ہواکرتا تھا
    ( میرے لفظ : تقریبا ہر محدث کو ضرور یاد رکھیے گا)
    اور اس مثال سے آپکے دعوی : :کوئی محدث فقیہ نہیں ہو سکتا :: کی قلعی بھی کھل گئی ہے۔



    رب حامل فقه ليس بفقيه كامعنى آپ نے درست کیا ہی نہیں ہے اس لیے آپکو اسکی سمجھ نہیں آرہی
    اس حدیث کا معنی ہے
    کچھ حامل فقہ فقیہ نہیں ہوتے
    کیونکہ رب تقلیل کے لیے آتا ہے اور کم کثر ت کے لیے جیساکہ لغت کی کتابوں میں صراحت موجود ہے۔

    مشهور زمانه كتاب تاج العروس من جواهر القاموس جلد 2 صفحه 476 مين محمّد بن محمّد بن عبد الرزّاق الحسيني أبو الفيض ، الملقّب بمرتضى ، الزَّبيدي رقمطراز هين

    قال النحويونَ رُبَّ مِنْ حُرُوفِ المَعَانِي ، والفَرْقُ بَيْنَهَا وبينَ كَمْ أَن رُبَّ للتقليلِ وكمْ وُضِعَت للتكثيرِ إِذا لم يُرَدْ بها الاستفهام

    لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان بھی اس بات پر دلالت کررہا ہے کہ اکثر محدثین فقیہ ہوتے ہیں کچھ محدث فقیہ نہیں ہوتے اور یہی میرا دعوی ہے
    فللہ الحمد علی ذلک
     
  18. ابو یاسر

    ابو یاسر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    2,413
    محترم رفیق طاہر بھائی
    بس ایک رکویسٹ ہے آپ سے
    فونٹ کی سائز جیسی پوسٹ 33 میں ہے ویسی مت رکھیے بہت بڑی ہے اورہم لوگ آفس میں بڑی رازداری سے پڑھا کرتے ہیں
    میں آپ تمام کو موضوع سے نہیں ہٹا رہا اگر میں نے صحیح کہا ہے تو بس شکریہ کا بٹن دبا دینا امید ہے میری تکلیف آپ سمجھ گئے ہونگے۔


    مع السلامۃ
     
  19. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938

    اندازہ نہیں تھا کہ اتنا بڑا ہو جائے گا۔ وگرنہ نہ کرتا
    اسی لیے دوبارہ ایسا نہیں کیا
    فی الحال مجھے شکریہ ادا کرنیکی اجازت نہیں ہے
    صرف اسی لیے یہ تھریڈ لکھ رہا ہوں
    والسلام علیکم وعلی من لدیکم
     
  20. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    یہ تومیں خود مانتاہوں کہ بہت سے علمائ امت ایسے ہیں جو حدیث اورفقہ دونوں کے جامع ہیں نزاع لفظ ’’ہر‘‘پر ہے جوآپ نے کہاکہ ہرمحدث خارج میں فقیہہ ہوتاہے۔میراکہنا ہے کہ خارج ہویاداخل ہرمحدث صرف احادیث اورعلوم احادیث کی بنائ پر فقیہہ نہیں بن سکتا۔بلکہ اس کیلئے اس کو دوسرے علوم سے بھی متصف ہونے کی ضرورت ہے۔جیسے اختلاف ائمہ،عربی زبان کا بہتر علم،قیاس اوراس کے شرائط پر حاوی ہونااوراسکیلئے دوسرے شرائط جو کتب اصول فقہ مین مذکور ہیں۔
    یاد رہے کہ نزاع لفظ ’’ہرمحدث‘‘پر ہے جس کاآپ خارج میں اثبات کررہے ہیں۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں