لاتشھد علینا حتی تسمع منا

الطحاوی نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏ستمبر 30, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    باذوق صاحب طیش میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بڑھک سے میری مراد رفیق طاہر صاحب کے اس جملہ کی طرف اشارہ تھا
    اسی لئے میں نے آگے لکھ دیاتھاکہ عقل مند کو اشارہ کافی ہے۔ لیکن آپ نے کچھ اورسمجھا۔
    چونکہ یہ تھریڈ محدثین اورفقہ تک محدود ہے اس لئے تقلید پر بحث اورعدم بحث کیلئے دوسراتھریڈ جورفیق طاہر صاحب نے کھولاہے اس میں بحث کرلیں۔
     
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    أگر آپ اسکو بڑھک سمجھ رہے ہیں تو تلاش کرکے دکھائیںپتہ چل جائے گا۔
    هاتوا برهانكم إن كنتم صادقين !!!
    فإن لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التي وقودها الناس والحجارة .....

    اور اگر میں چاہوں تو یہ کہہ سکتا ہوں کہ آپ نے ابھی تک ایک مثال بھی پیش نہیں کی
    کیونکہ میں نے شرط لگائی تھی کہ اس محدث کے غیر فقیہ ہونے کی دلیل بھی پیش کریں
    یہ تومحض ایک قول ہے اور قول بسا أوقات درست بھی ہوتا ہے اور غلط بھی۔۔
    عدم تفقہ کی دلیل سے ہی کسی کا غیر فقیہ ہونا ثابت ہوتا ہے نہ کہ قول سے ۔
    مثلا بہت سے راوی ہیں جن کے بارہ قدری ہونیکا الزام لگا لیکن حقیقت ایسی نہ تھی
    یہی وجہ ہے کہ محدثین اکثر ایسے رواة کے بارہ میں فرماتے ہی : رمی بالقدر اور بسا أوقات صراحت فر ما دیتے ہیں کہ : رمی بالقدر ولم یثبت!
     
  3. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    اب یہی چیز باذوق کوبھی دیکھنی چاہئی کہ ایات قرانی کاکتنا ’برمحل‘استعمال ہورہاہے۔

    اس طرح کی بات علمی معیار سے کتنی فروتر ہے اس کااندازہ اپ کو بھی ہوگا اگراس پرسنجیدگی سے غورکریں گے۔جس محدث کے بارے حافظ ذہبی نے یہ لکھاہے اس کی کتنی کتابیں اج دستیاب ہیں جو ہم اندازہ لگائیں۔امام صاحب کی تابعیت کے بارے میں تواپ امام دارقطنی کےصرف قول پر بھروسہ کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سارے محدثین ایسے ہیں جن کے بارے میں صرف متقدمین کے اقوال سے ہی ہمیں پتہ چل سکتاہے کہ ان کا علمی مقام ومرتبہ کیاتھا۔اپنے فرمودات پر سنجیدگی سے غورکرین۔
    آپ نے یہ مقولہ کس عالم میں تحریر فرمایاہے مجھے نہیں پتہ لیکن ذراسی توجہ اگرآپ کریں گے اس کاکھوکھلاپن معلوم ہوگا۔حافظ ذہبی اورحافظ ابن حجر وامثالھم جیسے اجلہ محدثین وحفاظ حدیث کے قول کے غلطی کی دلیل جب تک واضح نہ ہواسے صحیح ہی سمجھاجائے گا اوراسی پر ہرایک کاعمل ہے۔
    بہت سارے محدثین ایسے ہیں جن کی کوئی تصنیف نہیں ہے توکیاہم انہیں محدث مانناچھوڑدیں۔اگرآپ کے اس زریں مقولہ پر عمل کیاجائے توبہت کم محدثین محدث ثابت ہوپائیں گے۔علاوہ ازیںوہاں سند تھی سمعت محمود بن غیلان سمعت المقری یقول اس کے بعد ابوحنیفہ کا قول نقل کیاکہ عامۃ مااحدثکم خطاوہاں اپنایہ زریں مقولہ کیوں بھول گئے تھے حضرت کہ ادمی کبھی صحیح بھی سنتاہے اورکبھی غلط بھی۔
    ا
    وربہت سی قدری اورخارجی راوی صحیحین کے راوی بھی ہیں۔
    اوربسااوقات صراحت بھی کردیتے ہیں خارجی یاقدری کہہ کر۔اورویسے بھی اپ کے پاس کیادلیل ہے کہ وہ قدری تھے یانہ تھے سواءے قول کو چھوڑ کر چاہے مثبتین کا قول ہویانفی کرنے والوں کا،آپ کے پاس دونوں حالت میں دلیل کیاہے ؟اپنامزعومہ دلیل ثابت کریں۔آپ جوبھی پہلو اختیار کریں گے وہ صرف قول کی بنائ پر۔آپ کے پاس کسی راوی کے بارے میں جس پرقدری یاخارجی ہونے کا الزام ہوائمہ محدثین کے اقوال کوچھوڑ کر ان کا قدری یاخارجی نہ ہونے کیادلیل ہے۔
    اب کچھ آپ کی اوپر کی بات کا جواب
    محدثین غیرفقیہہ بھی ہوتے ہیں۔ اس کے لئے اگراپ تلبیس ابلیس میں ذکرتلبیس ابلیس علی اصحاب الحدیث والا باب پڑھ لیتے توشاید یہ ارشاد فرمانے کی نوبت نہ اتی۔اگریہ کتاب میسر نہ ہو تومیں یہ پوراباب پیسٹ کرکے روانہ کردوں گا۔
     
  4. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    كاش كه بهائي جمشيد اصول محدثين كا مطالعه فرمائين اور بچکانه حركتوں سے باز آجائين
     
  5. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    :dance1:
    جواب دینے سے گریزاورمخاطب کو بچکانہ حرکتوں کا مرتکب قراردینا واقعتابچکانہ حرکت ہے۔
     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492

    سمائلز کے اس بر محل استعمال نے آپ کے بزرگانہ اقوال کے ساتھ مل کر پوسٹ کے علمی وقار کو چار چاند لگا دئیے ہیں ۔
    خدایا فقھاء کی نمائندگی کے لیے اسی قبیل کے لوگ باقی رہ گئے ؟ مقام عبرت ہے ۔
     
  7. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    وقال الحافظ الذهبي في رسالته (( بيان زغل العلم )) : وأما المحدثون فغالبهم لا يفهمون, ولا همة لهم في معرفة الحديث ولا في التدين به, بل الصحيح والموضوع عندهم بنسبة, وإنما همتهم في السماع على جهلة الشيوخ, وتكثير العدد من الأجزاء والرواية, فأيّ شيء ينفع السماع على جهلة المشيخة, الذين ينامون والصبيان يلعبون, والشيبة يتحدثون ويمزحون, وكثير منهم ينعسون ويكابرون, والقارئ يصحَّف وإتقانه في تكثير ( أو كما قال ), والرضع يتصاعقون, بالله خلونا ضحكة لأولي العقول . أ هـ

    وقال ابن الجوزي في كتابه (( تلبيس إبليس ص: 111, 113 )) : وأعلم أن عموم المحدثين حملوا ما يتعلق بصفات الباري سبحانه على مقتضى الحس, فشبهوا لأنهم لم يخالطوا الفقهاء, فيعرفوا حمل المتشابه على مقتضى المحكم, وقد رأينا في زماننا من يجمع الكتب منهم, ويكثر السماع ولا يفهم ما حصّل, ومنهم من لا يحفظ القرآن ولا يعرف أركان الصلاة, فتشاغل هؤلاء على زعمهم بفروض الكافية عن فروض الأعيان, وإيثار ما ليس بمهم على المهم .

    وقال الخطيب البغدادي في كتابه (( الفقيه والمتفقه ج:2 ص:81, 84 )) وأكثر من كتبة الحديث في هذا الزمان بعيد عن حفظه, خال عن معرفة فقهه, لا يفرقون بين معلَّل وصحيح, ولا يميزون بين معدل من الرواة ومجروح, ولا يسألون عن لفظ أشكل عليهم رسمه, ولا يبحثون عن معنى خفي عنهم علمه, مع أنهم قد أذهبوا في كتبه أعمارهم, وبعدت في الرحلة لسماعه أسفارهم, كل ذلك لقلّة بصيرة أهل زماننا بما جمعوه, وعدم فقههم بما كتبوه وسمعوه, ومنعم نفوسهم عن محاضرة الفقهاء, وذمهم مستعملي القياس من العلماء, لسماعهم الأحاديث التي تعلَّق بها أهل الظاهر في ذم الرأي والنهي عنه والتحذير منه, وأنهم لم يميزوا بين محمود الرأي ومذمومه, بـل سبق إلي نفوسهم محظور على عمومه, ثمّ قلدوا مستعملي الرأي في نوازلهم, وعولوا فيها على أقوالهم ومذاهبهم, فنقضوا بذلك ما أصَّلوه, واستحلوا ما كانوا حرموه, وحق لمن كانت هذه حاله أن يطلق فيه لقول, ويشنَّع عليه بضروب التشنيع .
     
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    اگر کوئی فاسق ۔۔۔۔۔!!!

    اس پورے تھریڈ ميں فقہاء كى شان پر استدلال كے ليے دو قصے پیش کیے گئے ۔

    1_ پہلا قصہ :
    اس قصے کی حقیقت :

    اس دلچسپ قصے کو پڑھ کر ہم نے اصل ماخذ کو دیکھا ، تو یہ معلوم ہوا :

    اب خود ہی فیصلہ کیجیے !

    2_ فقہاء کی عظمت کا دوسرا مشہور قصہ :

    اب اس قصے کو دیکھیے اصل ماخذ میں :
    يہ قصہ ہے خطیب بغدادی کی الفقیہ والمتفقہ میں ، ج2، ص 390، رقم 789،
    [ar] - أنا القاضي أبو عبد الله : الحسين بن علي الصيمري ، أنا عبد الله بن محمد الشاهد ، نا مكرم بن أحمد ، نا أحمد بن عطية ، وأنا الحسن بن علي الجوهري ، أنا محمد بن العباس الخزاز ، نا أبو بكر عبد الله بن محمد بن زياد النيسابوري ، قال : سمعت أبا إبراهيم المزني ، قالا : نا علي بن معبد ، نا عبيد الله بن عمرو ، قال : كنا عند الأعمش وهو يسأل أبا حنيفة عن مسائل ، ويجيبه أبو حنيفة ، فيقول له الأعمش : من أين لك هذا ؟ فيقول : أنت حدثتنا عن إبراهيم بكذا ، وحدثتنا عن الشعبي بكذا ، قال : فكان الأعمش عند ذلك ، يقول : « يا معشر الفقهاء أنتم الأطباء ونحن الصيادلة » واللفظ لحديث الصيمري[/ar]

    اس قصے کی حقیقت :
    مولانا ارشاد الحق اثرى حفظہم اللہ تعالى اپنی كتاب اسباب اختلاف الفقہاء ميں لکھتے ہیں :
    اس كا مدار احمد بن محمد الصلت بن المغلس الحمانى پر ہے ، جسے بعض تدليس كر كے احمد بن عطيہ کہتے ہیں !
    اور وہ سخت ضعيف بلکہ كذاب ہے ۔
    امام ابن عدى فرماتے ہیں : ميں نے كذابوں ميں اس سے زيادہ بے حیا کسی کو نہیں دیکھا ! كاتبوں سے کتابيں اٹھا كر لے جاتا اور جن راويوں كا ان ميں نام ہوتا ان سے روايت ليتا اور اس كى بھی پرواہ نہیں کرتا تھا کہ وہ کب فوت ہوئے ؟ اور کیا راوی ، مروی عنہ سے کی وفات سے پہلے پیدا بھی ہوا ہے یا نہیں ؟
    ابن حبان فرماتے ہیں : وه حديثيں وضع كرتا تھا ، ميں نے اسے ديكھا کہ وہ ان سے حدیثیں بیان کرتا تھا ، جن سے اس نے سنا بھی نہ ہوتا تھا ۔
    امام دارقطنى فرماتے ہیں : وہ حديثيں گھڑا کرتا تھا ۔
    حافظ عبدالباقي بن قانع فرماتے ہیں : وہ ثقہ نہیں ۔
    ابن ابي الفوارس اور امام حاكم وغيرہ نے کہا : وہ کذاب اور وضاع ہے ۔
    خطيب بغدادى فرماتے ہیں : اس نے ثابت بن محمد اور نعيم وغيرہ سے روایتیں کی ہیں جو اكثر باطل ہیں جنیں اس نے خود گھڑا ہے ۔
    حافظ ابن حجر فرماتے ہیں : اس كى روايات منكر اور باطل ہیں ۔
    دیکھیے : الكامل لابن عدي: ج1،ص202،
    لسان : ج1، ص 270_271،
    تاريخ بغداد: ج5، ص 104،
    الضعفاء لابن الجوزى: ج1، ص 86،
    المجروحين: ج1، ص 153۔

    مولانا ارشاد الحق اثرى حفظہ اللہ مزيد فرماتے ہیں :

    " اب اس كا فيصلہ تو قارئين آسانى سے کر سکتے ہیں كہ ايسے كذاب اور وضاع كے بيان كردہ واقعہ كى حيثيت كيا ہو گی ؟؟؟؟؟

    اسى احمد الحمانى كو علمائے احناف نے حنفى اكابرين ميں شمار کیا ہے !!!!!!!!!!!!

    علامہ عبد القادر القرشي نے الجواھر المضيہ في طبقات الحنفيہ ج1، ص 69 میں اس كا ترجمہ لکھا ہے مگر حق حنفيت ادا كرتے ہوئے ائمہ ناقدين كا كوئى قول نقل نہیں کیا اور لطف يہ کہ كسى كى توثيق بھی نقل نہیں كرسكے ۔

    اسى الحمانى نے مناقب ابي حنيفہ (رحمہ اللہ) كے نام سے ایک مستقل کتاب لکھی جس كے بارے ميں امام دارقطنى كہتے ہیں :تمام كى تمام موضوع روايات اور قصوں پر مبنی ہے جنہیں حمانی نے خود وضع کیا ہے ۔" (انتھی)

    ( ديکھیے : اسباب اختلاف الفقہاء : استاذ ارشاد الحق الاثري (حفظہ اللہ ورعاہ) ص 71_ 72، ناشر: ادارة العلوم الاثريہ ، فيصل آباد)

    خلاصہ :

    قارئین دونوں قصوں کی حقیقت آپ کے سامنے ہے ، اب ذرا صاحب سلسلہ کے یہ الفاظ دیکھیے :

    اب فیصلہ کیجیے :

    1_ کون ہیں جو اصل ماخذ دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے ؟

    2_ کون ہیں جو جھوٹے قصے پھیلا کر پروپیگنڈہ کرتے ہیں ؟

    3_ کن کی آئندہ خبر پر یقین نہ کیا جائے کہ بار بار بے حوالہ جھوٹ پکڑے جا چکے ؟

    4_ عيسى بن ابان اور احمد الحمانى جيسوں کو اکابر اور ائمہ بنانے والے کون ہیں ؟

    5ـ کسی کی شان میں جھوٹ گھڑنے سے اس کا وقار بڑھتا ہے ؟

    میرے خیال میں یہ جھوٹ گھڑنے والے لوگ خود ا پنے ائمہ کے سب سے بڑے مجرم ہیں !

    سمعنا منکم بل استمعنا ونشھدعلیکم ۔۔۔۔ واللہ انکم لکاذبون !!!
     
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    يا لھا من عبرة !!!

    اب دیکھیے کہ یہ تحریر کہاں سے لی گئی تھی ؟



    [QH]نسألك الشيخ سفيان بن احمد الجزائري ، لماذا حذفت سند هذه القصة العظيمة ، وقد رواها الخطيب البغدادي بسندها ؟[/QH]

    [QH]إليكم أيها القراء الكرام القصة كما أوردها الخطيب البغدادي في تاريخه : [/QH]

    [QH]نعم ، هذا هو السبب ، حذف السند حتى لا يعرف أن القصة من أكاذيب احمد بن محمد بن مغلس الحمانى الكذاب !!!!

    يا لها من خزي!!!! يا لها من فضيحة !!!!

    يا لها من قصة !!! يا لها من عبرة !!!
    [/QH]
     
  10. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    قلت لداود بن علي الأصبهاني ان إبراهيم بن إسماعيل بن علية وعيسى بن أبان وضعا على الشافعي كتابا وردا عليه فلو نقضته عليهم
     
  11. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    انہوںنے وضع کتابا کے الفاظ دیکھ کر شاید یہ سمجھ لیاکہ عیسی بن ابان نے امام شافعی کے نام سے ایک کتاب گھڑی اورپھر اس کا جواب لکھاجب کہ اس کا ترجمہ یہ قطعانہیں ہے میں رفیق طاہر صاحب سے گزارش کروں گا کہ وہ اس کا صحیح ترجمہ بتائیں بڑی مہربانی ہوگی ۔جب کہ خود عین صاحبہ کے پیش کردہ حوالہ کو دوبارہ دیکھئے خاص طورپر اس کے یہ الفاظ
    ولكني قد وضعت على إبراهيم بن إسماعيل بن علية نقض كتابه
    اس جملہ میں وضعت علی ابراہیم بن اسماعیل بن علیہ نقض کتابہ کے کیامعنی ہوں گے۔ذرابتایاجائے۔
    جب لاتحکمواعلیناکی سند پر اتنی بحث کی تھی توذراتھوڑی اورمحنت اٹھاکر اس سند پر اورخلق قران کے عقیدہ والی روایت پر تھوڑی روشنی ڈالی ہوتی اورروایت کادرجہ استناد بتایاہوتا میں تو رفیق طاہر صاحب سے گزارش کروں گاکہ وہ اپنے قیمتی اوقات مین سے کچھ وقت نکال کر ان دونوں روایتوں کی استنادی حیثیت پر ذراروشنی ڈال دیں۔بڑی مہربانی ہوگی۔
    دوسرے مجھے ابھی تک کوئی بھی کتاب عیسی ابن ابان کی ایسی نہیں ملی جو انہوں‌نے امام شافعی پر گھڑی ہوان کی کتابیں درج ذیل ہیں اور وجہ تالیف بھی ظاہر ہے۔
    عيسى بن أبان بن صدقة؛ أبو موسى الفسوي الحنفي، المتوفى سنة: 220 هـ ، وله من المصنفات الأصولية:
    ـ إثبات القياس.
    ـ اجتهاد الرأي.
    ـ خبر الواحد.
    ـ كتاب الحجج
    : وسبب تأليفه أن بعض العلماء المخالفين للمذهب الحنفي في عهد المأمون جمعوا له أحاديث كثيرة، ووضعوها بين يديه، وقالوا له: إن أصحاب أبي حنيفة – وهم أصحاب الحظوة لديك، والمقدَّمون عندك – لا يعملون بها، فصنف عيسى بن أبان هذا الكتاب، وبين فيه وجوه الأخبار، وما يجب قبوله، وما يجب تأويله، وبين فيه حُجج أبي حنيفة، فلما قرأه المأمون، ترحم على أبي حنيفة. [انظر: تاج التراجم: 227]

    تیسری چیز یہ ذہن میں رہناچاہئے ہمارے درمیان آپس میں اختلاف ہوسکتاہے اورہونابھی چاہئے لیکن اس کااثریہ ہو کہ متقدمین علماء کواس طرح یاد کیاجائے کہ
    جب کہ حقیقت یہ ہے کہ خلق قران کا عقیدہ جوان کی جانب منسوب ہے کسی صحیح بنیاد پر قائم نہیں ہے۔اس کے لئے یہ ربط ملاحظہ ہو۔
    http://www.vblinks.urdumajlis.net/showthread.php?p=194730#post194730
    والسلام
     
  12. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    اس سب کے جواب کے لیے یہاں تشریف لائیے ۔



    یہ بات کہنے والے خود امام البانی رحمہ اللہ کو کن الفاظ میں یاد کر چکے سب جانتے ہیں ۔
     
  13. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    776
    یہ پاپڑ صرف اس لئے بیلے جارہے ہیں کہ (امام) ابوحنیفہ محدث نہیں تھے۔ اب اگر کوئی شخص محدث کو فقہی پر فوقیت دے دے تو خودبخود امام ابوحنفیہ کی شان گھٹ جاتی ہے اور امام بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی رحمہ اللہ وغیرہ کی شان ابوحنفیہ سے بہت اونچی ہو جاتی ہے۔ لامحالہ اسی طرح کے جملوں سے کہ ہر محدث فقہی نہیں ہوتا اور حدیث کے فہم کو محدث سے زیادہ فقہی جانتا ہے ڈوبتا تنکے کا سہارا لیتا ہے۔

    یہ سچ ہے کہ (امام) ابوحنیفہ کا فقہی ہونا بھی محل نظر ہے۔ انکی فقہی ہونے پر جو کچھ بھی پیش کیا جاتا ہے وہ محض ان سے منسوب ہے اور اسکے خالق کوئی اور۔ بہتر یہی ہے کہ (امام) ابوحنیفہ کو محدث یا فقہی ثابت کرنے کے بجائے ان پر سکوت اختیار کیا جائے کیونکہ انکی کوئی تصنیف یا تحریر تو دنیا میں موجود ہی نہیں جسے ثبوت کے طور پر پیش کیا جائے۔
     
  14. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    شاہد نذیر صاحب جب انسان بولنانہ جانے توخاموش رہناچاہئے۔پہلے موضوع کو دیکھئے اورسوچئے کہ کس موضوع پر بات ہورہی ہے۔یہ دیکھے بغیر اپنی بات شروع کردینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا شیوہ ہے۔امید ہے کہ خالی جگہ میں‌کیا کہنا چاہتاہوں آپ سمجھتے ہوں گے۔امام ابوحنیفہ کا بخار سرپر سوارکرلینا مناسب نہیں ہے کہ کوئی ٹاپک ہو اوربات امام ابوحنیفہ پر کی جائے۔والسلام
     
  15. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    یہ طرز گفتگو انتہائی فضول ہے ۔
    اگر صاحب نصیحت خود کو اپنے ان الفاظ کے آئینے میں دیکھیں تو علم ہو کہ علم حدیث شریف کے متعلق ان کے تمام مراسلات پر بہت سی "خالی جگہوں" کے ساتھ تبصرہ کیا جا سکتا ہے ۔اور کہا جا سکتا ہے کہ

    [qh]لا تنه عن خلق وتأت بمثله
    عار عليك إذا فعلت عظيم [/qh]

    دیگراں را نصیحت ، خود میاں فضیحت
     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 20, 2010
  16. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    عکاشہ صاحب نے خود تھریڈ بناکر مقفل کردیاہے اوراسے صرف شکریہ کے بٹن کے ساتھ خاص کردیاہے اورچونکہ وہ بات اسی تھریڈ سے شروع ہوئی تھی لہذا اس میں گفتگو کرنا زیادہ بہتر ہے۔
    وہاں انہوں نے بہت سی باتیں عرض کی ہیں اور امام اعمش کے امام ابوحنیفہ کو انتم الاطباء ونحن الصیادلۃ کہنے کی سند پر بحث کی ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بات دیگرعلماء کرام کے واسطے سے بھی ثابت ہے۔چنانچہ کچھ حوالہ جات ملاحظہ ہوں۔
    - قال الربيع: سمعت الشافعي قال لبعض أصحاب الحديث: أنتم الصيادلة، ونحن الاطباء . ( سير أعلام النبلاء ج10 ص23 نسخة المكتبة الشاملة )
    ب - قال الاعمش لابي حنيفة يا نعمان ما تقول في كذا كذا قال كذا وكذا قال من أين قلت قال أنت حدثتنا عن فلان بكذا قال الاعمش أنتم يا معشر الفقهاء الاطباء ونحن الصيادلة . ( انظر القصة بإسنادها في ثقات ابن حبان رحمه الله ج8 ص467 الشاملة )
    ج- قال الإمام أحمد بن حنبل : " كان الفقهاء أطباء والمحدثون صيادلة فجاء محمد بن إدريس الشافعي طبيبا صيدلانيا ما مقلت العيون مثله أبدا " ( انظر المقولة بإسنادها في تاريخ دمشق لابن عساكر رحمه الله ج51 ص 334 نسخة المكتبة الشاملة

    ہمین عکاشہ صاحب سے امید ہے کہ وہ ان اقوال کی بھی سند پر تحقیقی بحث کرکے مستفید کریں گے۔
     
  17. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    ایک اور جھوٹ بے نقاب !

    ایک اور جھوٹ بے نقاب !
    امام ذھبی رحمہ اللہ كى جانب رسالہ " زغل العلم " كى جھوٹی نسبت
    URDU MAJLIS FORUM - تنہا پوسٹ دیکھیں - علمى سرقے، خيانت اور جعل سازي
     
  18. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    لگتاہے آپ لکھنے سے پہلے سوچتی نہیں ہیں کیالکھ رہی ہیں؟
    خداکی پناہ کتنی بڑی خیانت ہے کہ ایک طرف تو دکتور بشاد عواد صلاح الدین المنجد اوردیگرمورخین جن رسالہ زغل العلم کاانتساب حافظ ذہبی کی جانب صحیح مان رہے ہوں اور یہاں پوری ڈھٹائی کے ساتھ اعلان ہورہاہے ’’ایک اورجھوٹ بے نقاب‘‘ !
    جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ انتساب غلط ماننے والوں کاجھوٹ بے نقاب ہے ،خواہ مخواہ ایک کتاب جو حافظ ذہبی نے اپنے عہد کے علماء کی خرابیوں کے بارے میں لکھی اوراس میں ضمناابن تیمیہ کاذکر کردیاہے تو زبردستی اس کتاب کو حافظ ذہبی کے بجائے کسی اورکی طرف انتساب کررہے ہیں۔صرف اس بناء پر اس میں ابن تیمیہ پر تھوڑی تنقید کردی ہے۔
    اگرانتساب کا دعوی غلط ماننے والوں کے پاس کوئی دلیل ہے تولائو،لیکن دلائل کے نام پر صرف چند مفروضے پال رکھے ہیں اورانہی بے بنیاد دلائل کی بنیاد پر چاہتے ہیں کہ اس کتاب کو حافظ ذہبی کی تصنیف سے خارج کردیاجائے۔
     
  19. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    انتساب کا دعوى جس نے کیا ہے وہ اپنے دعوى پر دلیل پیش کرے
    کیونکہ اصول ہے "من ادعى فعلیہ البیان "
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں