تحقيق و تقليد :: محاضرة علمية

رفیق طاھر نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏اکتوبر، 24, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. طالب نور

    طالب نور -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 28, 2008
    پیغامات:
    366
    جزاک اللہ، بازوق بھائی
     
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    شكر الله سعيك وأذاقك طعم الإيمان
    يا باذوق !!
    وجزاك خيرا في الدنيا وفي الجنان
     
  3. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    ١۔ اتباع سنت کا درس اس لیے کہ اسی ہی کی توتحقیق کرنی ہے کہ سنت ہے کیا اور بدعت کیا ہے اگر سنت کی اہمیت کا علم ہی نہ ہو تو اسکی تحقیق میں کون وقت کھپائے گا۔
    ٢۔ کوشش کی گئی یا ثابت کیا گیا ؟؟؟ اگر آپکی نظر میں اس ایک آیت سے محدثین کا اصول ثابت نہیں ہوتا تو دلیل دیں !!!
    اور اسکو اس لیے ذکر کیا گیا کیونکہ یہی تو اصول ہے جسکے ذریعہ سنت کی تحقیق ہوتی ہے!!!
    اور حدیث کی تحقیق پر توجہ اس لیے دلائی کہ یہی تو شریعت کا مأخذ ثانی ہے !!!
    ٣۔کتاب وسنت میں عدم تعارض کو اس لیے ثابت کیا گیا کیونکہ بہت سے لوگ تعارض کوثابت کرکے ثابت شدہ احادیث کا رد کر بیٹھتے ہیں اور سادہ لوگ انکے اس جال میں بہت جلد پھنس جاتے ہیں لہذا توجہ دلائی کہ أگراپنی عقل کوتاہ ہو تو زیادہ عقل والے سے سمجھ لے تعارض دور ہو جائے گا یہ بھی توتحقیق کا طریقہ ہے بدلیل فتبینوا
    ٤۔قرآن مجید کسی خاص قوم یا وقت کے لیے نہیں اترا اسی لیے اہل علم کے ہاں یہ اصول مسلّم ہے کہ العبرة بعموم اللفظ لا بخصوص السبب کہ اعتبار الفاظ کے عموم کا کیا جائے گا نہ کہ سبب کے خصوص کا!!
    ٥۔ عثمانی صاحب کی ساری بحث صرف ایک سوال سے خس خاشاک کیطرح بہہ جاتی ہے کہ : کیاکتاب اللہ کے کلیات کی جزئیات کو بیان کرنا اور انکا مصداق تلاش کرنا اور پھر اسکو عوام تک پہنچانا جائز ہے یا ناجائز یا آپ اسکو کیا نام دیتے ہیں اور کیا یہ اسی قبیل سے نہیں ؟؟؟
    ٦۔ محاضر نے انہیںحنفی نہیں کہا بلکہ وہ تو تمام تر اہل تقلید سے مخاطب ہے!!
    کیا آپ شوافع کو مقلد نہیں سمجھتے؟؟؟؟
    کم من عائب قولا صحیحا وآفتہ من الفہم السقیم !!!

    ٧۔محترم بھائی جان مؤید بالوحی تو فقط نبی کی ذات ہی ہوتی ہے ۔کوئی اور نہیں اور محاضرنے اسی قبیل سے ہی یہ بات کہی ہے کیونکہ وہ ان لوگوں کا رد کررہاہے جویہ کہتے ہیں کہ یہ تونبی کی تقلید بھی نہیں کرتے
    لہذا یہ بات مبہم بھی نہیں جسے آپکی فکر کوتاہ سمجھنے سے قاصر ہے۔
    ٨۔ کیا عجب نقطہ آفرینی کی ہے کہ نص کے نہ ہوتواجتہاد ہوتا ہے !!!!!!!!!! ۔۔۔۔ یاللعجب!!!!!
    محترم بھائی اجتہادتو ہوتا ہی نص پر ہے خوہ اسکے اشارہ یااقتضاء یادلالت سے ہی کیا جائے۔
    اگر نص نہیں ہو گی تو اجتہاد کیسے ہوگا ؟؟؟

    اس واقعہ پر ذرا غور فرمائیں!!
    سمعت الشافعي يقول: قال لي محمد بن الحسن: أيما أعلم، صاحبنا أو صاحبكم؟ قلت: على الإنصاف. قال: نعم. قلت: أنشدك بالله من أعلم بالقرآن. قال: صاحبكم. قلت: فمن أعلم بالسنة قال: اللهم صاحبكم. قلت: فمن أعلم بأقاويل الصحابة والمتقدمين قال: صاحبكم، يعني مالكاً. قلت: لم يبق إلا القياس، والقياس لا يكون إلا على هذه الأشياء، فمن لم يعرف الأصول على أي شيء يقيس.
    تاريخ الإسلام للذهبي الجزء الحادي عشر الصفحة331و 330
    نیز اگر مؤید بالوحی سے وہی مراد ہے جو آپ مراد لے رہے ہیں تو پھر تقلید کا تو سرے سے نام ہی ختم ہوجاتاہے
    کیونکہ ہر مجتہد اپنے اجتہاد کے لیے کتاب وسنت کو ہی دلیل بناتا ہے ۔ !!!
    تو کیا امام ابوحنیفہ نے سارے یا بعض مسائل کتاب وسنت سے اخذ کیے ہیں یا اپنی طرف سے گھڑے ہیں ؟؟؟
    اگر تو کتاب وسنت کی نصوص سے اخذ کیے ہیں تو پھر انکی تقلید ختم اور اگر کہیں اور سے تو انکا ایمان ختم !!!

    ٩'١٠ ۔ ان دونوں کا جواب سابقہ باتوں میں موجود ہے۔
     
  4. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    جمشید بھائی !
    شاہ ولی اللہ دہلوی نے حجة اللہ البالغہ میں کیا کہا ہے ، ذرا وہ بھی تو بتا دیتے۔
    [qh]اتخذوا أحبارهم ورهبانهم[/qh] والی آیت کے حوالے سے شاہ صاحب نے تقلید کی حرمت بیان کی ہے کہ نہیں ؟؟
    [qh]" وفيمن يكون عامياً ، ويقلد رجلاً من الفقهاء بعينه يرى أنه يمتنع من مثله الخطأ ، وأن ما قاله هو الصواب ألبتة ، وأضمر في قلبه ألا يترك تقليده وإن ظهر الدليل على خلافه ، وذلك ما رواه الترمذي عن عدي بن حاتم أنه قال : سمعته - يعني رسول الله صلى الله عليه وسلم _ يقرأ . ! ( اتخذوا أحبارهم ورهبانهم أربابا من دون الله ) ! . قال : ' إنهم لم يكونوا يعبدونهم ، ولكنهم كانوا إذا أحلوا لهم شيئا استحلوه ، وإذا حرموه عليهم شيئا محرما '" . . .[/qh]
     
  5. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    یہ کون مانتاہے برادربزگ ،ہم تویہی کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ کاقول درست ہے خطاکااحتمال ہے اورفریق مخالف کاقول درست نہیں ہے لیکن ہوسکتاہے کہ وہ درست ہو۔توپھرشاہ ولی اللہ نے جوکچھ کہاہے اس کا اطلاق ہم پر کیسے ہوسکتاہے۔اوریہ جوآپ نے شاہ ولی اللہ نے کہاکہ کسی ایک معین شخص کا ہی قول پکڑنابالکل غلط ہے۔کیاآپ کو نہیں معلوم کہ کتنے ہی مسائل ایسے ہیں جہاں صاحبین نے یاصاحبین میں سے ایک نے امام ابوحنیفہ سے اختلاف کیاہے اورفتوی امام ابوحنیفہ نہیں بلکہ صاحبین کے قول پر ہے۔ اوراس کے علاوہ بھی فقہائ احناف ضرورت کی بنائ پر دوسرے ائمہ کے قول کی طرف رجوع کرتے رہے ہیں۔مثلا وہ عورت جس کا شوہر گم ہوجائے اس کے بارے میں 90سال تک انتظار کرنے کا قول منقول ہے لیکن متاخرین فقہائ نے اس میں مالکیہ کی طرف رجوع کیاہے اوران کا قول اختیار کیاہے کہ عورت فقط چار سال انتظار کرے گی۔توپھراحناف پر یہ الزام کہاں کہ وہ متعین طورپر صرف امام ابوحنیفہ کی تقلید کرتے ہیں۔آپ کو یہ بھی معلوم ہوناچاہئے کہ صاحبین فقہ وافتائ میں ویسے ہی مجتہد مطلق ہیں جیسے کہ امام ابوحنیفہ اوردیگر ائمہ ۔شاہ ولی اللہ کی کتابیں اگر غورفکر سے پڑھیں تو تقلید اورائمہ اربعہ کے متعلق مزید شبہات کا ازالہ ہوگا لیکن سمجھ کر پڑھیں۔
     
  6. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    آپ پورے دن رات تقریرکریں ہمیں کوئی اعتراض نہیں آپ کے محاضر صاحب چوبیس گھنٹے محاضرہ دیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اعتراض اس بات پر ہے کہ بحث میں جو لنک دیاکریں وہ موضوع سے متعلق نہ ہو کہ اصل موضوع پر تودس منٹ بات ہو اورغیر متعلق باتیں تیس پینتیس منٹ ہوں۔اس میں دوسرے کا وقت ضائع ہوتاہے کم سے کم دوسرے کے اوقات کار کاخیال رکھیں۔
    ابن حزم پر بھی علمائ نے اسی لئے اعتراض کیاہے کہ اس نے مشرکوں والی آیات مسلمان مقلدین پر چسپاں کیاہے مزید حصول علم کیلئے ابوبکر ابن عربی کا العواصم والقواصم کا مطالعہ کریں۔
    ایسی تاویل پرتواحناف جنہیں اہل الرائے کہاجاتاہے انہیں شرمندہ ہوناچاہئے تقریر کا سیاق وسباق دیکھ لیں پتہ چلے گاکہ اصل مخاطب کون ہیں تمام اہل تقلید یا صرف احناف
    ٧
    اللہ اکبر اس واقعہ پرحافظ ذہبی نے جو تبصرہ کیاہے اسے بھی نقل کرتے توبہترہوتا۔
    [/quote]
    عقل حیران ہے کہ میں کیابتائوں۔ کم سے کم فقہ پر تونگاہ ہونی چاہئے تھی میرے بھائی۔ بہت سارے مسائل ایسے ہیں جس کا استنباط قران وحدیث کے اشارۃ النص دلالت النص اوراقتضائ النص کسی سے بھی نہیں ہے بلکہ اس کوعرف ،مصالح مرسلہ،استحسان اوردوسرے وجوہات کی بنائ پر اختیار کیاگیاہے اوراسی کے بارے میں میں نے بات کی تھی۔
    امید ہے کہ میری بات سمجھ میں آگئی ہوگی۔
     
  7. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    بات صاف صاف کرو یار،گھمانے پھرانے سے کیافائدہ ہے۔کیاشاہ ولی اللہ نے مطلقاتقلید کوحرام کہاہے ابن حزم ظاہری اوران کے متعبین کی طرح یاتقلید میں غلو کو حرام کہاہے۔ تدلیس اورمغالطہ سے اجتناب کیجئے۔
     
  8. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    دوسروں کے متعلق اتباہوی والی بات کہنا شاید غیرذاتیات ہے۔

    آیت ربانی ہی ہے وجادلھم بالتی ھی احسن

    جبکہ مفتی تقی عثمانی حفظہ اللہ تو اس عظیم مطالبے کو سرے سے نظرانداز ہی نہیں کر رہے بلکہ تقلید کی اصطلاحی تعریف کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمے میں تحریف سے بھی نہیں ہچکچائے
    ملاحظہ فرمائیے ص:14 ۔۔۔۔ لکھا ہے :

    اقتباس:
    چنانچہ علامہ ابن الہمام اور علامہ ابن نجیم "تقلید" کی تعریف ان الفاظ میں فرماتے ہیں :-
    التقلید العمل بقول من لیس قولہ احدی الحجج بلا حجة منھا
    تقلید کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کا قول مآخذ شریعت میں سے نہیں ہے اس کے قول پر دلیل کا مطالبہ کئے بغیر عمل کر لینا

    (عبارت حذف منجانب ناظم اعلیٰ)

    توکوئی ایک حرف نہ بولے۔کیونکہ قران کا اپنا ہے حدیث کے تو وہ ٹھیکہ دار ہیں اورحدیث کا جومطلب انہوں نے سمجھاہے وہی آخری مطلب ہے اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔

    ایک "ڈنڈی" کی مثال یہ ہی لے لیں ، ص:19

    اقتباس:
    ۔۔۔۔ جو قرآن و سنت سے براہ راست احکام مستنبط نہیں کر سکتے ان کا فریضہ یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کریں جس کا طریقہ یہ ہے کہ "اولوالامر" یعنی فقہاء سے مسائل پوچھیں اور ان پر عمل کریں ۔۔۔۔۔ لہذا اس جملے میں مقلدین کو تقلید کا حکم ہے۔

    اب مزے کی بات دیکھئے اور غور کیجئے کہ کیوں مفتی عثمانی صاحب نے مکمل عبارت نہیں لکھی تھی
    ( التقليد العمل بقول من ليس قوله إحدى الحجج بلا حجة منها ) وإنما عرفه ابن الحاجب بالعمل بقول | الغير من غير حجة . وخرج بقوله من غير حجة العمل بقول الرسول والعمل بالإجماع ورجوع العامي | إلى المفتي والقاضي إلى العدول في شهادتهم لوجود الحجة في الكل ، ففي الرسول المعجزة الدالة على | صدقه في الأخبار عن الله تعالى وفي الإجماع ما مر في حجيته ، وفي قول الشاهد والمفتي الإجماع على | وجوب اتباعهما ، وإنما عدل المصنف عنه وقيد الغير بمن ليس قوله إحدى الحجج من الكتاب |

    قارئین اگر پورے پوسٹ پڑھ لیں گے اس تھریڈ کے ،توانہیں ضرور معلوم ہوگا کہ کون کتنے اورکیسے دلائل لارہاہے۔اورمغالطے بھی کون پھیلارہاہے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 26, 2009
  9. بشیراحمد

    بشیراحمد ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اپریل 1, 2009
    پیغامات:
    1,568
    جمشید نے لکھا ہے
    یہ کون مانتاہے برادربزگ ،ہم تویہی کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ کاقول درست ہے خطاکااحتمال ہے اورفریق مخالف کاقول درست نہیں ہے لیکن ہوسکتاہے کہ وہ درست ہو۔


    یہ ہم سے کون کون سے حنفی علماء مراد ہیں جو کہتے ہیں امام ابوحنیفہ قول خطا پر مبنی ہوسکتا ہے ذرا دس مسنتد حنفی علماء کے نام اور ان کے موقف جن کتب سے لیا ہے ان کتب کا تفصیلی حوالہ دیں اور یہ بتائیں کہ یہ کس قسم کے احناف کا موقف ہے
    لعنۃ اعداد رمل علی من رد قول ابی حنیفۃ

    جمشید نے لکھا
    توپھرشاہ ولی اللہ نے جوکچھ کہاہے اس کا اطلاق ہم پر کیسے ہوسکتاہے۔اوریہ جوآپ نے شاہ ولی اللہ نے کہاکہ کسی ایک معین شخص کا ہی قول پکڑنابالکل غلط ہے۔کیاآپ کو نہیں معلوم کہ کتنے ہی مسائل ایسے ہیں جہاں صاحبین نے یاصاحبین میں سے ایک نے امام ابوحنیفہ سے اختلاف کیاہے اورفتوی امام ابوحنیفہ نہیں بلکہ صاحبین کے قول پر ہے۔

    معین شخص کی تقلید کی بات اگر آپ لوگ نہیں کرتے توائمہ اربعہ کی اصطلاح کا کیا مطلب ہے صرف حنفی ہونے کا ڈھونڈرا کیون پیٹا جاتا ہے اپنے یوسفی کیوں نہیں کہتے اگر امام صاحب سے صاحبیں اختلاف کیا ہےیقینا وہ دلائل کی بنیاد پر ہوگا جب ایک مقلد ان اقوال کی کے دلائل کی تحقیق کرکے ایک قول راجح قرار دے سکتا ہے تو پھر وہ اتنی استعداد کے باوجود تقلید کا پھندا کیون پہنے اورقرآن وحدیث سے برائے راست رجوع کیوں نہیں کرتا
    جمشید نے لکھا ہے
    اوراس کے علاوہ بھی فقہائ احناف ضرورت کی بنائ پر دوسرے ائمہ کے قول کی طرف رجوع کرتے رہے ہیں۔مثلا وہ عورت جس کا شوہر گم ہوجائے اس کے بارے میں 90سال تک انتظار کرنے کا قول منقول ہے لیکن متاخرین فقہائ نے اس میں مالکیہ کی طرف رجوع کیاہے اوران کا قول اختیار کیاہے کہ عورت فقط چار سال انتظار کرے گی۔توپھراحناف پر یہ الزام کہاں کہ وہ متعین طورپر صرف امام ابوحنیفہ کی تقلید کرتے ہیں۔


    یہی تو عجیب اور حیران کن معاملہ ہے مقلدکہ اپنے مفاد کیلئے اپنے امام کے قول سے دستبردارہوکر فورا کسی اور امام کے قول لے لیتا ہے لیکن اپنے امام کے قول خلاف قرآن وحدیث کے واضح نصوص کو خآطر میں نہیں لاتا بالکل اصول کرخی کے مطابق تو ایسی آیات قابل تاویل یا منسوخ سمجھی جائین گی
    جمشیدنے لکھا ہے
    آپ کو یہ بھی معلوم ہوناچاہئے کہ صاحبین فقہ وافتائ میں ویسے ہی مجتہد مطلق ہیں جیسے کہ امام ابوحنیفہ اوردیگر ائمہ ۔شاہ ولی اللہ کی کتابیں اگر غورفکر سے پڑھیں تو تقلید اورائمہ اربعہ کے متعلق مزید شبہات کا ازالہ ہوگا لیکن سمجھ کر پڑھیں۔
    یہ بات تو صحیح ہے صاحبین بھی امام صاحب کی طرح مجتھد اور غیر مقلد تھے
    دیگر ائمہ ،شاہ ولی اللہ کی کتابیں پڑھنے سے بہتر ہے کہ فقہ حنفی کی معتبر کتابیں ھدایہ ، فتاوی عالمگیری وغیرہ پڑھی جائیں تو تقلید کے بھیانک نتائج روزروشن کی طرح واضح ہوجائیں گے
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    جزاکم اللہ خیرا بشیر احمد بھائی۔
     
  11. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    ائمہ اربعہ کا کیامطلب ہے اس کیلئے شاہ ولی اللہ کی عقدالجید میں باب الاخذبمذاھب الاربعہ کا مطالعہ کرو۔سمجھ میں آئے گاکہ ائمہ اربعہ ہی کیوں،دوسرے کیوں نہیں۔پھر ویسے بھی آپ لوگ پتہ نہیں یہ کیوں بھول جاتے ہو کہ فقہ حنفی کیاصرف امام ابوحنیفہ کاکارنامہ ہے اس میں نہ جانے کتنے علمائ محدثین اورفقہائ نے اپنی عمر اوراپنی ذہانت لگائی ہے اسی طرح فقہ شافعی کیاصرف امام شافعی کی حد تک ہے اس میں نہ جانے کتنے علمائ فقہائ محدثین زہاد عباد نے اپنے فکر ونظر کے چراغ روشن کئے ہیں تب جاکر فقہ شافعی موجودہ شکل وصورت میں ہمارے سامنے ہے پھر یہ کہنا کہ صرف ایک فرد کی تقلید ہوتی ہے عقل وفہم سے گئی گزری بات ہے۔لیکن ظاہرہت کی وجہ سے اللہ نے عقل ہی چھین لی ہو اورسامنے کی بات بھی نظرنہ آرہی ہو توکوئی کیاکرسکتاہے۔واللہ المستعان والیہ التکلان

    اس میں کس کا مفاد ہے۔ذراواضح توکرنااوراصول کرخی کبھی پڑھی بھی ہے یاصرف اپنے علمائ کی تقلید اورسنی سنائی باتوں پر ایساکہہ رہے ہو
    دیگر ائمہ ،شاہ ولی اللہ کی کتابیں پڑھنے سے بہتر ہے کہ فقہ حنفی کی معتبر کتابیں ھدایہ ، فتاوی عالمگیری وغیرہ پڑھی جائیں تو تقلید کے بھیانک نتائج روزروشن کی طرح واضح ہوجائیں گے ۔
    اجتہاد کی صلاحیت ہوتومجتہد اوراگر اجتہاد کی صلاحیت نہ ہو اورپھربھی اجتہاد کا دعوی کرے تو وہ غیر مقلد یہ تعریف کیسی ہے ذرابتانا:00003:
    اگرکچھ باتیں ہی قابل گرفت ہوں اورصرف اس کی وجہ سے کسی پوری کتاب کو ٹھکرانا غیرمقلدوں کا کام ہے ہم خذماصفاودع کدر کے قائل ہیں۔ والسلام
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 26, 2009
  12. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,358
  13. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,396
    میں نے بھی اپنے بیٹے کو میتھ کے پیپر کی تیاری اس کی رویژن شیٹ سے خوب کروائی، جب امتحان کا وقت ہوا تو اسے سوال حل کرنے میں تھوڑا وقت لگا، جلدی کی خاطر ساتھ والے کا دیکھ کر لکھ آیا، جو کہ سارا غلط تھا، اور اسے پتا بھی تھا کہ پری ایگزام ٹیسٹ میں بھی وہ فیل تھا! بتائیں بھلا میری پچھلے کئی مہینوں کی محنت کا کیا ہوا؟
     
  14. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    اسے تقلید نہیں کچھ اور۔۔۔۔۔۔۔کہتے ہیں:00006:
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں