ایک دیوانہ فقیر اور حسین دوشیزہ،!!! ایک سچی کہانی

عبدالرحمن سید نے 'ادبی مجلس' میں ‏جنوری 27, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    آج بابا کی درگاہ کی سیڑھیوں پر ایک کونے سے لگا ایک فقیر میلا سا پھٹا پرانا کمبل لپیٹے ھوئےبیٹھا، کچھ اپنی پرانی یادوں میں کھویا ھوا سوچوں میں گم تھا،!!!!!

    اسکی پتھرائی ھوئی سی آنکھیں، سر کے بال میلے کچیلے کمبل کے پھٹے سوراخوں میں سے سرد ھوا کے جھونکوں میں ھلتے ھوئے دکھائی دے رھے تھے، اس کی داڑھی کچھ سفید کچھ کالے بالوں کے ساتھ بے ترتیبی سے بڑھی ھوئی مٹی میں اٹی ھوئی دکھائی دے رھی تھی،!!!!!!

    اسے اپنا کوئی ھوش نہیں تھا، سامنے اسکے کئی چمکتے ھوئے سکے اور بکھرے ھوئے نوٹ پڑے تھے، لیکن اسے اس سے کوئی غرض نہیں لگتا تھا، کچھ آس پاس بیٹھے بچے بھی شاید ان سکوں اور نوٹوں کو اچکنے کے لئے موقع کے انتظار میں بیٹھے تھے،!!!!

    آج کچھ زیادہ ھی ٹھنڈ محسوس ھورھی تھی، سرد ھوا کی سرسراتی ھوئی تھپیڑے اسے مزید کمبل میں سمٹنے کے لئے مجبور کررھے تھے، لیکن وہ اس کمبل میں اپنے آپ کو مکمل طور سے لپیٹنے میں ناکام نظر آرھا تھا،!!!!

    وہ کون ھے پہلے تو کبھی کسی نے اسے یہاں نہیں دیکھا تھا، اور بھی کئی فقیر کٹورا ھاتھ میں لئے بھیک مانگتے ھوئے آوازیں نکالتے ھوئے آس پاس بیٹھے نظر آئے، لیکن نہ اس کے منہ سے کوئی آواز سنائی دی اور نہ ھی کوئی صدا، بس ایک خاموشی سی تھی، بس اس کے کبھی کبھی ھلنے جلنے سے اس کے سلامت ھونے کا گمان ھوتا تھا،!!!!

    ایک کار سیڑھیوں کے آخری سطح کے پاس ایک کنارے پر رکی، کار کا دروازہ کھلا اس میں سے ایک بہت ھی خوبصورت دوشیزہ نفیس لباس زیب تن کئے نکلی، اور سیدھا اسی فقیر کے پاس رکی اور اس کے سامنے بیٹھ گئی، اسکی آنکھوں میں آنسوں کی ایک قطار سی بہہ رھی تھی،!!!!

    اس دوشیزہ کے منہ سے ایک کپکپاتی ھوئی آواز سنائی دی،!!!!

    شہزاد !!!!! میرےشہزاد،!!!!! ایک بار میری بات تو سن لو،!!!!

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔

    یہ وہی شہزاد بھائی ھیں، جو کبھی تقریباً 10 سال پہلے ایک اسمارٹ خوبرو نوجوان ھوا کرتے تھے، ایک اچھی کمپنی میں اچھے عہدہ پر فائز تھے، ھمارے یہاں وہ اپنے بھائی اور بھابی کے ساتھ کبھی کبھی آیا کرتے، اور بہت ھی نفیس کپڑے پہننے کا شوق تھا، انکی شادی ابھی تک طے نہیں پائی تھی، یہ ھمارے دور کے رشتہ دار بھی تھے،!!!!!

    میں ان دنوں میٹرک کا طالب علم تھا، اور شہزاد بھائی مجھ سے شاید 10 سال بڑے ھی ھونگے، وہ شروع شروع میں تو اپنے بھائی کے ساتھ ھی رھا کرتے تھے، لیکن کچھ ھی دنوں بعد انہوں نے کسی کے گھر میں ایک کمرہ کرائے پر لے لیا، جس کا دروازہ باھر کھلتا تھا، کمرے کے ساتھ باتھ روم کی سہولت موجود تھی، اور اس کمرے کی کھڑکی مالک مکان کے صحن میں ھی کھلتی تھی، جس کے شروع شروع میں کھولنے پر بالکل پابندی تھی،!!!!

    میں بھی کبھی کبھی والدین کے ساتھ شہزاد کے بھائی اور بھابھی کے یہاں چلے جایا کرتا تھا، جہاں شہزاد بھائی بھی ھمارا سن کر آجایا کرتے، یہ معلومات بھی مجھے ان کے یہاں آنے جانے سے ھی جو ان کی آپس میں گفتگو کے دوران ھی معلوم ھوتی رھتی تھی، میری تو کوئی شہزاد سے کوئی خاص بات چیت نہیں تھی،!!!!! لیکن ان کے ساتھ بازار کا چکر لگا لئے کرتے،!!!!

    شہزاد بھائی بہت اچھے تھے ان کے بھتیجے بھتیجیاں جو کہ بہت چھوٹے چھوٹے تھے، اور میرے بہن بھائی بھی ساتھ ھی ان کے ساتھ بازار یا پارک کا چکر لگا لیا کرتے،!!!!

    شہزاد بھائی کے مکان مالک بہت سخت مزاج تھے، نیچے کے حصہ میں خود رھتے تھے اور اوپر کا حصہ بھی اپنے کسی رشتہ دار کو کرایہ پر دیا ھوا تھا، جس کی سیڑھیاں مکان مالک کے صحن سے ھی گزرتی تھیں، بہ بڑا دومنزلہ مکان تھا، شاید کوئی اچھی کمپنی میں کسی بڑی پوسٹ پر تھے، ایک اچھی کار بھی رکھی ھوئی تھی، جو صحن میں ھی پارک ھوتی تھی، گھر کے سامنے ڈبل سڑک تھی، اندر آنے کیلئے ایک بڑا اسٹیل کا گیٹ اور ایک چھوٹا گیٹ بھی تھا، اوپر جانے والی سیڑھیوں کے ساتھ ھی شہزاد بھائی کے کمرے کی کھڑی بھی تھی، جو کبھی نہیں کھلتی تھی،!!!! کیونکہ مکان مالک کی طرف سے کھڑکی کھولنے پر پابندی تھی، ان کے کمرے کادروازہ باھر گلی میں کھلتا تھا، اور شہزاد بھائی بس رات کو ھی وہاں سونے آتے تھے اور صبح ھوتے ھی اپنے کام پر نکل جاتے تھے، نوکری سے واپسی پر بھی وہ شام کو اپنے بھائی کے ھاں وقت گزارتے اور رات تک کھانے وغیرہ سے فارغ ھوکر ھی اپنے کمرے کی طرف چل دیتے جو وہاں سے چند قدم کے فاصلے پر ھی تھا،!!!!

    اس علاقے میں شہزاد بھائی نے سب کے ساتھ اچھے تعلقات بنائے ھوئے تھے سب ان کی بہت عزت بھی کرتے تھے، ان کیلئے دو تین اچھے رشتے بھی آئے لیکن انہوں نے فی الوقت شادی سے انکار کردیا تھا، ان کے بڑے بھائی ان کی شادی کے لئے فکر مند بھی تھے، کافی انہوں نے بچت کی ھوئی تھی، اس میں سے اپنے بڑے بھائی کو بھی ھر مہینہ کچھ نہ کچھ گھر کے خرچے کیلئے دیتے بھی رھے، وہ چاھتے تھے کہ ان کا ایک چھوٹا سا مکان بمعہ تمام آسائیش کے، اگر ھوجائے تو پھر وہ شادی کیلئے کچھ سوچ سکتے ھیں،!!!!!

    اس محلے میں کئی خاندان ان کے رشتے کیلئے اپنی بہن بیٹی بھی دینے کو تیار تھے اور ایک دو نے تو شاید مکان اور اچھا جہیز کا لالچ بھی دیا ھوا تھا، لیکن شہزاد بھائی کی غیرت یہ گوارہ نہیں کرتی تھی کہ وہ لڑکی والوں سے کچھ جہیز یا کسی اور چیز کی لالچ رکھیں وہ جہیز کے بالکل خلاف تھے، ان کا ماننا تھا کہ جہیز ایک لعنت ھے، اوہر وہ یہی کہتے تھے کہ جب تک ان کا اپنا مکان تمام ساز و سامان کے ساتھ نہ ھوجائے، وہ کسی قیمت پر کسی بھی رشتہ کو قبول نہیں کریں گے، انہوں نے اپنے کرائے کے کمرے کو بھی بہت اچھا سجایا ھوا تھا، ایک چھوٹا سوفہ سیٹ اور ساتھ ھی ایک سنگل بیڈ بمعہ ایک چھوٹی الماری بھی کمرے میں قرینے سے رکھی ھوئی تھی،اوپر چھت پر ایک پنکھا بھی لٹکا ھوا تھا،!!!!

    ایک دن ھم سب ان کے بھائی کے یہاں آئے ھوئے تھے، لیکن وہاں پر شہزاد بھائی کو نہیں دیکھا تو باتوں باتوں میں معلوم ھوا کہ آج کل وہ یہاں بہت کم آنے جانے لگے ھیں،!!! مجھے کچھ تشویش سی ھوئی، میں چپکے سے ان کے بھتیجے کو ساتھ لئے ان کے کمرے کی طرف نکل پڑا، جلدی جلدی قدم بڑھاتے ھوئے ان کے کمرے کے باھر گلی کی طرف دروازے پر پہنچ کر دستک دی، دروازہ کھلا تو شہزاد بھائی سامنے تھے بڑی گرم جوشی سے ملے، اب تو ان کے کمرے میں ایک نیا چھوٹا فرج بھی دیکھا، ایک دیوار کے ساتھ ٹیبل پر نیشنل کا ٹرانسسٹر ریڈیو بھی رکھا ھوا تھا، پہلے بھی کئی دفعہ ھم ان کا کمرہ دیکھ چکے تھے، لیکن اب تو مزید خوبصورت سجا سجایا نظر آرھا تھا،!!!!! اس سے پہلے کہ کچھ گپ شپ ھوتی، شہزاد بھائی اپنے بھتیجے کو ساتھ لئے باھر نکل پڑے جاتے ھوئے کہہ گئے کہ بس ھم یبھی بازار سے آتے ھیں،!!!! شاید کچھ کھانے پینے کا اہتمام کرنے گئے ھوں،!!!!

    لیکن میری حیرت کی انتہا نہیں رھی جب میں نے دیکھا کہ کھڑکی کھلی ھوئی ھے اور وہاں سے ٹھنڈی ھوا کے جھونکے پردوں کو چھوتے ھوئے اندر آرھے ھیں، میں کھڑکی کی طرف آگے بڑھا تو مکان مالک کا صحن دیکھا جہاں کچھ ھری بھری گھاس اور مختلف قسم کے پھول پودے لگے ھوئے تھے، میرا بھی دل چاھتا تھا کہ ھمارے گھر میں بھی ایک چھوٹا سا صحن ھو اور وہاں میں خوب اچھا سا ایک باغیچہ بناؤں اور اس میں مختلف پھلواری لگاؤں، ابھی کھڑکی پر کھڑا میں کچھ سوچ ھی رھا تھا، کہ اچانک میرے سامنے ایک خوبصورت حسین سی لڑکی کھڑکی کے دوسری طرف میرے عین سامنے آگئی،!!!!

    میں گھبرا سا گیا اور کھڑکی سے پیچھے آگیا،!!!! شہزاد بھائی اور ان کا بھتیجا شاید بازار سے کچھ کھانے پینے کیلئے لانے گئے تھے،!!!! اور آج کل سنا تھا کہ وہ رات کا کھانا بھائی کے یہاں نہیں کھاتے تھے، اور نہ ھی ان کے کمرے میں کوئی پکانے کا انتظام تھا، اس سے صاف ظاھر تھا کہ انہوں نے باھر ھی ھوٹل وغیرہ میں اپنا کھانے پینے کا بندوبست کیا ھوا ھوگا،!!!!!

    جیسے ھی میں اس لڑکی کو دیکھ کر کھڑکی سے پیچھے ھٹا، اس لڑکی نے مجھے آواز دی،!!!!!

    سنو،!!!! کیا نام ھے تمھارا،!!!!!!
    میں نے جواباً گھبراتے ھوئے اپنا نام بتایا،!!!!!

    لڑکی نے پوچھا کہ شہزاد کہاں ھیں،؟؟؟؟؟؟

    میں نے اپنے آپ کو سنھالتے ھوئے کہا کہ،!!! وہ شہزاد بھائی ذرا باھر گئے ھیں، بس ابھی آتے ھی ھونگے،!!!!

    اس لڑکی نے ھاتھ بڑھاتے ھوئے، مجھے ایک پلیٹ ڈھکی ھوئی مجھے دی، اور کہا کہ،!!!! اس میں گاجر کا حلوہ ھے،!!!!

    میں نے بھی فوراً اس لڑکی سے وہ پلیٹ لے لی، مگر اس وقت مجھے گھبراھٹ کے عالم میں وہ پلیٹ بہت بھاری لگ رھی تھی، اس سے پہلے کہ پلیٹ میرے ھاتھ سے گر جائے، میں نے دونوں ھاتھوں سے بہت ھی محتاط ھوکر ٹیبل پر رکھ دی جہاں ریڈیو رکھا ھوا تھا،!!!!!

    میں نے کھڑکی کی طرف دیکھا تو وہ حسین لڑکی اب بھی مجھے دیکھ کر مسکرائے جارھی تھی،!!!!! مجھ سے مخاطب ھوکر دوبارہ میرا نام پوچھا،!!!!!!

    میں نے کہا،!!!! میں نے ابھی تو آپکو اپنا نام بتایا تھا،!!!!
    لڑکی نے کہا کہ دوبارہ بتانے میں کیا کوئی حرج ھے، میں ذرا بھول گئی تھی،!!!!!

    میں نے دوبارا اپنا نام بتاتے ھوئے اس سے اسکا نام بھی پوچھ لیا، بہت ھی پیاری اور خوبصورت لگ رھی تھی،!!!!

    اس نے بہت ھی مدھم سر میں کچھ کھا،!!!!! نازنین،!!!!! اور کھڑکی سے غائب ،!!!! میں بس اسے دیکھتا ھی رہ گیا، اتنی خوبصورت اور حسین لڑکی میں نے نہیں دیکھی تھی، میں ابھی شاید 17 برس کا بھی نہیں ھونگا، لیکن دل میں حسن و جمال کے پرکھنے کے جذبات ضرور رکھتا تھا،!!! میرے دل میں ایک دم خیال آیا کہ یقیناً اس لڑکی کا شہزاد بھائی سے کوئی چکر ضرور ھے،!!!!

    اسی اثناء میں شہزاد بھائی اپنے بھتیجے کے ساتھ کمرے میں داخل ھوئے ان کے ھاتھ میں ایک دو تھیلیاں تھیں، جس میں کچھ سموسے، جلیبیاں اور نمک پارے وغیرہ تھے، میں نے فوراً ھی شہزاد بھائی کو ٹیبل پر رکھی ھوئی پلیٹ دیکھنے کو کہا اور ابھی میں کچھ ھی کہہ پاتا،!!!! انہوں نے فوراً پوچھا،!!!!! کیا نازنیں آئی تھی،!!!!

    میں نے جواباً اپنی گردن ھلادی، اور میں نے بھی کچھ ھمت کرکے پوچھ ھی لیا کہ،!!!! یہ کیا چکر ھے شہزاد بھائی، یہ نازنین کون ھیں،!!!!!!!

    وہ پہلے تو خوب مسکرائے،!!! اور بہت ھی رازداری لہجہ میں کہنے لگے، !!!! دیکھو تمہیں قسم ھے، ابھی کسی سے بالکل نہیں کہنا، یہ بس جلد کچھ ھی عرصہ میں تمھاری بھابھی بننے والی ھیں، ھمارے بھتیجے کو تو پہلے سے ھی معلوم ھے،!!!!!

    مییں نے کہا، کہ شہزاد بھائی،!!! واقعی آپ بہت ھی خوش قسمت ھیں، جبھی تو آجکل آپ بھی ھر وقت بنے ٹھنے رھتے ھیں،!!!!!

    مجھے بعد میں شہزاد بھائی نے کہا کہ،!!!!! یہ لڑکی مجھے صبح کالج جاتے ھوئے ھر زوز نظر آتی تھی، لیکن میں نے کبھی دھیان نہیں دیا جبکہ مجھے معلوم تھا کہ یہ مکان مالک کی بیٹی ھے،!!!!

    بات کو بڑھاتے ھوئے انہوں نے اپنے دل کا سارا حال کھول دیا، ایک دو دفعہ اس لڑکی کے والد سے بھی انکی ملاقات ھوئی اور انہیں ایک شریف لڑکا سمجھتے ھوئے، انہیں کھڑکی کھولنے کی اجازت بھی دے دی تھی، اور مکان مالک کے گھر میں کوئی اچھی چیز پکتی تھی تو اس کھڑکی کے ذریعے ان تک پہنچ جاتی، ایک دو دفعہ شہزاد بھائی بھی ان کے گھر پر کسی تقریب میں کھانے کی دعوت پر بھی جاچکے تھے،!!!!!

    آھستہ آھستہ ایک دوسرے کو دیکھتے ھوئے اسی کھڑکی کی بدولت ان دونوں کی محبت پروان چڑھتی رھی، جس کا کہ کسی کو بھی علم نہیں تھا، نہ ان کے بھائی بھابھی کو اور نہ ھی لڑکی کے گھر والوں کو،!!!!!!

    مجھے واقعی ان دونوں کی قسمت پر رشک آنے لگا تھا، مجھے واقعی ان دونوں کی محبت کو دیکھ کر ایک دل کے اندر بہت ھی زیادہ خوشی محسوس ھوتی تھی، ساتھ کچھ حسد بھی،!!!!! دونوں بہت ھی اپنی اپنی جگہ خوبصورتی کے ساتھ ساتھ بہت ھی اچھے دل کے مالک تھے، شہزاد بھائی جب بھی مجھ سے ملتے تو اپنی محبت کے قصے بہت پیار سے مجھے سناتے تھے،!!! اور میں بھی خود ان دنوں ان کے پاس جانے لگا تھا، اور کئی دفعہ ان دونوں ایک ساتھ اس کھڑکی کے پاس آمنے سامنے باتیں کرتے ھوئے بھی دیکھا، روز بروز ان دونوں کی محبت شدت اختیا کرتی چلی گئی، مگر شھزاد بھائی نے کبھی اس نازنین سے کہیں باھر ملنے کی کوشش نہیں کی اور اپنے اور اسکے ساتھ تعلقات کا رشتہ صرف اور صرف اس کھڑکی تک ھی محدود رھا،!!!!!!

    شہزاد کا کہنا تھا کہ بس کچھ ھی دنوں کی بات ھے، میں اپنا ایک ذاتی مکان خریدنے والا ھوں، انہیں اپنی کمپنی سے مکان کے لئے قرضہ بھی مل چکا تھا اور اس کے علاوہ بنک میں بھی ایک اچھی خاصی رقم ان کے اکاؤنٹ میں جمع تھی، کیونکہ وہ شروع سے ھی ھر مہینہ کچھ نہ کچھ اپنی تنخواہ میں سے بچا کر اکاؤنٹ میں جمع کرتے رھتے تھے، اب تو ایک ان کے پاس موٹر سائیکل بھی آچکی تھی،!!!!! وہ بہت خوش تھے کہ وہ بہت جلد ھی ایک مکان خرید کر اور اسے مکمل ڈیکوریٹ کرکے اپنے بھائی اور بھابھی کو ان کے گھر نازنین کا رشتہ مانگنے بھیجیں گے،!!!!!

    وہ بہت خوش تھے کہ ان کی منزل اب بالکل قریب ھے، وہ اب مزید اسمارٹ لگنے لگے تھے، ایک خوبرو جوان کی طرح اور ادھر نازنین بھی اپنے حسین خوابوں کی بہت جلد تعبیر اپنے سامنے دیکھتے ھوئے بہت ھی زیادہ خوش تھی،!!!!!!

    وقت تیزی سے گزررھا تھا، چھ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا تھا، میں بھی گریجویشن کرچکا تھا اور سروس کررھا رھا، والد صاحب کا دوسرے شہر تبادلہ ھوچکا تھا، اور ساتھ ھی مجھے اور سب بہن بھائی والدہ سمیت، والد صاحب کے ساتھ ھی روانہ ھونا پڑ گیا تھا، اور پھر کافی عرصہ سے اس دوران اپنے چکروں کی وجہ سے شہزاد بھائی سے ملاقات بھی نہ ھو سکی، ان دونوں کی شادی ھوئی یا نہیں کچھ پتہ نہیں چلا، اور ھمارا ان کے یہاں آنا جانا بھی تقریباً بند ھو چکا تھا، کچھ اپنی پریشانیاں کچھ گھریلو مسئلے مسائل کی وجہ سے شہزاد اور نازنین کی طرف دھیان ھی نہیں گیا،!!!!!

    دوسرے اپنے ھی ملک کے ایک اور شہر میں ھم سب اپنا ایک نئے ماحول کا آغاز کر چکے تھے، سب بہن بھائی اسکولوں میں پڑھتے رھے، میں اور والد صاحب اپنے اس کنبے کو چلانے میں اپنی اپنی جگہ محنت سے کام کرتے رھے، یہاں بھی وقت اتنی جلدی سے گزرا کہ مزید تین سال اور بیت گئے،!!!!!

    اسی دوران وہاں سے بھی والد صاحب کا تبادلہ کسی اور شہر میں ھو گیا، بہن بھائی اور والدہ واپس پرانے شہر جاچکی تھیں، اور میں بھی کچھ مہینوں بعد ھی اپنے پرانے شہر میں واپس آگیا میں بہت خوش تھا، واپسی کے سفر میں بس مجھے شہزاد اور نازنین کی بہت یاد آرھی تھی افسوس کہ میں نے اور نہ ھی ھمارے والدین نے شہزاد اور ان کے بھائی بھابھی کی کوئی خبر لی اور نہ ھی میں اس عرصے میں شہزاد سے کوئی رابطہ رکھا،!!!!!! ٹرین جتنی تیزی سے میرے پرانے شہر کی طرف بڑھ رھی تھی مجھے شہزاد اور نازنیں کی طرف سے بہت ھی زیادہ فکر بھی بڑھتی جارھی تھی، مگر میں دل میں یہی تمنا کررھا تھا کہ اللٌہ کرے کہ ان دونوں کی شادی ھو گئی ھو،!!!!!!

    گھر پہنچتے ھی میں نے کچھ دیر آرام کیا، اور تازہ دم ھوکر شہزاد بھائی کی طرف سب بہن بھائیوں اور والدہ کو لے کر چل دیا، والدہ کو بھی کافی عرصہ ھوگیا تھا ان کے بھائی بھابھی کی خبر لئے ھوئے، کچھ ھی دیر میں شہزاد بھائی کے بھائی بھابھی کے گھر پہنچے، تمام گلے شکوؤں کے بعد ان کی بھابھی نے شہزاد کے بارے میں ایک سرد آہ بھرتے ھوئے میری والدہ سے کہا کہ،!!!!!

    کیا پوچھتی ھو چچی جان،!!! آپ کے جانے کے کچھ ھی دنوں بعد شہزاد کی طرف سے کافی پریشانیاں اٹھانی پڑیں، ایک تو ھمارے میاں کی نوکری ختم ھوگئی، دوسرے شہزاد کی تو زندگی برباد ھی ھوگئی،!!!!!!

    میں یہ سن کر چونک سا گیا،!!!! کہ یہ کیا کہہ رھی ھیں،!!!!! شہزاد کے بڑے بھائی بھی گھر پر نہیں تھے، بقول بھابھی کے وہ نوکری کی تلاش میں اسی طرح نکل جاتے ھیں اور رات گئے تک ان کی واپسی ھوتی ھے،!!!!‌

    انہوں نے مزید بات کو آگے بڑھاتے ھوئے کہا،،!!!! شہزاد تو بالکل پاگل سا ھوگیا ھے، نہ اسے کھانے کا ھوش ھے، نہ پینے کا، بس گلیوں میں داڑھی بڑھائے مجنوں کی طرح پھٹے پرانے کپڑے پہنے گلی گلی بھٹکتا پھرتا ھے، اور ھر وقت ان کے پیچھے محلے کے بچے آوازیں کستے، پتھر مارتے ھوئے بھاگتے رھتے ھیں، !!!!!!!

    یہ کہتے ھوئے ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے،!!!! اور وہ رونے لگیں،!!!! ھماری والدہ نے ھم سب کو کہا کہ جاؤ باھر چلے جاؤ،!!! باقی بچے تو دوسرے کمرے میں چلے گئے، لیکن میں نے شہزاد بھائی کے بڑے بھتیجے کو ساتھ لیا اور باھر نکل آیا، اور اس سے پوچھاَ!!!!!

    یہ کیا ماجرا ھے، شہزاد کے بارے میں تمھاری امی یہ کیا کہہ رھی تھیں،،!!!!!

    جواباً اس نے کہا،!!! کیا بتاؤں بھائی، کہاں سے شروع کروں کچھ سمجھ میں نہیں آرھا، آپ کے جانے کے بعد شہزاد بھائی پر کیا کیا بیت گئی، اگر آپ سنیں گے تو آپ کے ھوش گم ھوجائیں گے،!!!!!

    میں نے کہا کہ،!!!! پہلے مجھے ان کے پاس لے چلو،!!!!!

    انہیں ڈھونڈنا پڑے گا نہ جانے وہ کس گلی میں پڑے ھوں، اب تو یہ پورا علاقہ انہیں جانتا ھے، وہ اس علاقے سے کہیں نہیں جاتے جبکہ انہیں بچے بہت تنگ کرتے ھیں، اور ساتھ پتھر بھی مارتے رھتے ھیں، حالانکہ بڑے بوڑھے، بچوں کو ڈانٹ کر سمجھا کر بھگاتے بھی ھیں اور وہ لوگ اس حالت میں بھی شہزاد بھائی کا بہت احترام کرتے ھیں، انہیں کھانے پینے کو بھی کچھ نہ کچھ دیتے رھتے ھیں،!!!!

    ابھی ھم کچھ ھی دور چل پائے تھے، کہ اچانک بچوں کا ایک شور سنائی دیا،!!! ھم دونوں بھاگتے ھوئے گئے، اور ان بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کی اور ایک طرف کردیا،!!!!!

    میں نے آگے بڑھ کر شہزاد بھائی کی جو حالت دیکھی، تو مجھ سے رھا نہیں گیا، میری آنکھوں میں آنسو چھلک پڑے،!!!! وہ بالکل سہمے ھوئے پھٹا پرانا سا کوٹ لادے داڑھی میلی کچیلی سی بڑھی ھوئی، گلے میں کئی قسم کی مالائیں ڈالے ھوئے پھٹی پرانی چپل پیر میں تھی، ایک دیوار کے سہارے بیٹھے ھوئے کانپ رھے تھے،!!!!!


    میں نے بالکل انکے قریب جاکر ان سے پوچھا،!!!! کیسے ھو شہزاد بھائی،!!!!
    وہ مجھے گھورنے لگے انہوں ‌نے بہت غور سے پاگلوں کی طرح مجھے دیکھا، اور کہا،!!!!! اب کیوں آیا ھے، جب سب کھیل ختم ھوگیا،!!!! میں اب آزاد ھوں، مجھے تنگ مت کرو،!!!!! جاؤ چلے جاؤ یہاں سے میرے نزدیک مت آنا میں پتھر ماردوں گا،!!!!!!

    ان کے ھاتھ میں واقعی ایک بڑا پتھر تھا انہوں نے ھاتھ کو اوپر اٹھایا، میں تو ڈر کے مارے فوراً کھڑا ھوگیا،،!!!!!

    شہزاد بھائی کے بھتیجے نے کہا کہ،!!!!!! بھائی ڈریں نہیں، یہ کبھی کسی کو نہیں مارتے، بس ڈراتے رھتے ھیں، ھالانکہ بعض اوقات تو یہ بچوں کے پتھر مارنے سے جگہ جگہ ان کے خون بھی نکل آتا ھے، لیکن یہ بچوں کو بس ڈراتے ھیں چیختے ھیں لیکن کبھی پتھر نہیں مارا اور نہ ھی کسی کو نقصان پہنچایا ھے، اس وقت بھی دیکھیں ان کے پیروں سے خون رس رھا ھے،!!!!!

    میری حالت بالکل غیر تھی، میں جاننا چاہ رھا تھا کہ ان کی یہ حالت کیسے ھوئی اور اس کا ذمہ دار کون ھے،!!!!!!

    ان کا بھتیجا بھی مجھے ایک ھی سانس میں ان پر بیتی ھوئی کہانی کو سنانا چاہ رہا تھا، لیکن میں نے اس سے کہا کہ،!!!! آرام سے چلو پارک میں چلتے ھیں وہاں بیٹھ کر تسلی سے تمام ان پر گزرے ھوئے واقعات شروع سے سنانا،!!!!!

    ھم دونوں پھر قریبی پارک کی طرف چل دئے، اور وہاں ایک کونے میں بیٹھتے ھی میں نے کہا،!!!!! ھاں اب بتاؤ، مگر بالکل سکون کے ساتھ،!!!!!

    بھتیجے نے ان کی کہانی شروع کی، اور میں نے بھی اپنی تمام تر توجہ اس کی طرف کردی،!!!!!!

    بھائی کیا کہوں جب آپ لوگ چلے گئے، تو شہزاد بھائی بار بار آپ کو بہت یاد کرتے تھے، کیونکہ وہ آپ سے یا مجھ سے ھی اپنے دل کی بات شئیر کرتے تھے، وہ نازنین کو بے انتہا چاھتے تھے اور نازنین بھی ان پر دل و جان سے فدا تھی، یہ بات شاید مجھے یا آپکو پتہ تھی، اور کسی کو بھی کانوں کان خبر نہیں تھی، کیونکہ شہزاد بھائی نازنین اور کے گھر والوں کی رسوائی نہیں چاھتے تھے،!!!!!!

    یہی وجہ تھی کہ یہاں پر اس پیار محبت کی کہانی کا میرے علاوہ کسی کو علم نہیں تھا، انکی محبت بس اسی کھڑکی سے پروان چڑھی اور انتہاء محبت تک پہنچتے ھوئے، انکی اس کہانی نے اسی کھڑکی پر ھی دم توڑ دیا،!!!!!!

    میں تو بالکل حیران پریشان اس سے شہزاد بھائی کی داستان بربادی سن رھا تھا،!!!!!

    بھتیجے نے بات کو آگے بڑھات ھوئے کہا،!!!!!! اس طرح کا ان دونوں کے روز روز ملنے کے دورانیہ میں مزید اضافہ ھی ھوتا چلا گیا، اب تو رات کو بھی ان دونوں نے کھڑکی پر جم کر ایک دوسرے سے باتیں کرنا شروع کردیا، نا جانے انی ساری باتیں کیا کیا کرتے تھے، انہوں نے راتوں کی نیند دن کا چین خود ھی برباد کرلیا تھا، ایک دوسرے کے بناء بالکل بھی نہیں رہ سکتے تھے، مگر بس کھڑکی کی حد تک،!!!! اس سے باھر کبھی ان دونوں نے ملنے کا سوچا بھی نہیں،!!!!!!

    کھڑکی بھی اوپر جانے والی سیڑھی کے آڑ میں تھی، جیسے ھی کسی کے آنے جانے کا خدشہ ھوتا یا کوئی آہٹ سنائی دیتی تو نازنین فوراً ھی سیڑھی کے نیچے ایک کونے میں چھپ جاتی، جہاں ویسے بھی اندھیرا رھتا تھا، اور شہزاد چچا بھی پردے کی آڑ میں یا بستر پر لیٹ جاتے تھے، یہ تو میں نے کئی دفعہ اپنے سامنے بھی دیکھا تھا،!!!!

    وہ دن میں ویسے بھی کسی نہ کسی بہانے کوئی کھانے پینے کی چیز دینے کے بہانے آجاتی تھی، جب تک اسکی امی کی آواز نہیں آتی تھی، وہ کھڑکی سے ھٹتی ھی نہیں تھی، وہ اب کالج میں تھی اور اس کی پڑھائی اب بالکل توجہ ھٹتی جارھی تھی، شاید کلاس میں بھی وہ سب سے پیچھے تھی، اور دوسری طرف شہزاد چچا بھی دفتر سے اکثر غیر حاضری کرنے لگے تھے، وہاں ان کو نوٹس پر نوٹس مل رھے تھے، مگر انہوں نے بھی کھڑکی کو نہیں چھوڑا، اور نہ ھی نازنین نے، اپنی پڑھائی کی بھی پرواہ نہیں کی،!!!!!!

    نازنین کی والدہ کو اپنی بیٹی کی فکر ھونے لگی، وہ ماں تھی اس لئے وہ شاید اپنی بیٹی کے دل کا حال جانتی تھی، شاید وہ یہ بھی چاھتی ھوں کہ شہزاد اچھا لڑکا ھے اگر نازنین کی شادی اس سے ھوجائے تو کتنا ھی اچھا ھو،!!!!!

    ایک رات نازین کی والدہ نے ان دونوں کی چوری پکڑ لی اور خاموشی سے وہ کھڑکی کے پاس پہنچی اور نازین کا ھاتھ پکڑ کر لے گئیں، !!!!!
    یہ باتیں مجھے خود چچا نے بتائی تھی،!!!!! وہ ھر روز مجھ سے اپنے راز و نیاز کی باتیں کیا کرتے تھے، اور مجھے بھی اس میں دلچسپی بڑھ رھی تھی،!!!!!

    شہزاد کے بھتیجے نے اس کہانی کو مختصر کرتے ھوئے کہا کہ،!!!!!! وہ مجھے بھائی ھی کہتا تھا،!!!!!

    بھائی اس دن کے بعد نازنین کا کھڑکی پر آنا بند ھو گیا اور شہزاد چچا تو بالکل پریشان ھوگئے، دوتین دن بعد ان کی کھڑکی پر نازنین کی والدہ شام کا وقت تھا، چچا فوراً کھڑکی کی طرف جلدی میں پہنچے وہ سمجھے کہ شاید نازنین ھے لیکن وہاں تو اسکی والدہ تھیں، انہوں نے آھستہ آہستہ چچا کو خوب ڈانٹ پلائی، اور واسطے دیئے کہ میری بیٹی کا پیچھا چھوڑ دو، اس کا باپ بہت ظالم ھے وہ تو نہ تمہیں چھوڑے گا اور نازنین کو تو زمین میں دفن کردے گا،!!!!!

    اس کے علاوہ نازنین کی والدہ نے یہ بھی کہا کہ کوئی شریفانہ طریقہ اختیار کرو، میں تو تمھیں بہت ھی شریف سمجھتی تھی، وغیرہ وغیرہ،!!!! اگر تم واقعی اس سے شادی کے لئے سنجیدہ ھو تو اپنے گھر والوں کو ھمارے یہاں پیغام لے کر بھیجو، اور یہ بھی کہا کہ،!!! آئیندہ سے میں اس کھڑکی کو کھلا ھوا نہ دیکھوں، دوسرے دن ان کی والدہ نے اپنی طرف سے کھڑکی کے پاس ایک پرانی الماری لا کر کھڑی کروادی،!!!!!

    جاری ھے،!!!!!!
     
  2. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    اس کے علاوہ نازنین کی والدہ نے یہ بھی کہا کہ کوئی شریفانہ طریقہ اختیار کرو، میں تو تمھیں بہت ھی شریف سمجھتی تھی، وغیرہ وغیرہ،!!!! اگر تم واقعی اس سے شادی کے لئے سنجیدہ ھو تو اپنے گھر والوں کو ھمارے یہاں پیغام لے کر بھیجو، اور یہ بھی کہا کہ،!!! آئیندہ سے میں اس کھڑکی کو کھلا ھوا نہ دیکھوں، دوسرے دن ان کی والدہ نے اپنی طرف سے کھڑکی کے پاس ایک پرانی الماری لا کر کھڑی کروادی،!!!!!

    اب جو کچھ بھی ان کے بھتیجے نے اپنی طرف سے مجھے جو تفصیل بتائی، اس کے علاوہ میں نے ان کی بھابھی سے بھی بہت کچھ سنا، شہزاد بھائی کے آس پاس کے دوست احباب سے جو معلومات حاصل ھوئی، اس کے علاوہ میری والدہ سے جو بھی ان کی بھابھی سے بات ھوئی انہوں نے ھمارے ابا جی کو بتائی، سب کچھ ملا جلا کر جو مجھے حالات کا علم ھوا اس کو میں مزید واضع کرکے اپنی تحریر میں آپ کے سامنے پیش کررھا ھوں،!!!!!

    یہ تو سب کو پتہ ھی ھے کہ عشق اور مشک کی خوشبو چھپائے نہیں چھپتی، اور شہزاد بھائی تو یہی سمجھ رھے تھے جیسے کسی کو بھی علم نہیں ھے،!!! وہ تو اپنی آنکھیں اس کبوتر کی طرح بند کئے ھوئے تھے، جو بلی کے جھپٹا مارنے سے پہلے اپنی آنکھیں اس لئے بند کرلیتا ھے، کہ جیسے اسے کوئی بھی دیکھ نہیں رھا ،!!!!

    اب تو شہزاد بھائی کچھ زیادہ ھی پریشان ھوگئے، ان کی کشتی تو ڈوبتی نظر آرھی تھی، بقول ان کے بھتیجے کے انہوں نے اپنے پیروں پر کلہاڑی خود ھی دے ماری تھی،!!!! کیونکہ انہوں نے نازنین کے ساتھ اپنے کمرے کی کھڑکی پر ملنا جلنا کچھ ضرورت سے زیادہ ھی شروع کردیا تھا، اور نازنین بھی عشق میں دیوانی ھوگئی تھی کہ اسے آس پاس کی کوئی خبر نہیں تھی، !!!!

    اب ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آرھا تھا، کہ اب کونسا قدم پہلے اٹھایا جائے، کہ الجھا ھوا معاملہ کچھ بہتر طریقے سے سلجھ جائے، انہوں نے فوراً ھی اپنی بھابھی سے یعنی ان کے بھتیجے کی والدہ سے رابطہ قائم کیا، اور اپنے بھیا کے گھر پہنچ گئے!!!!!

    "بھابھی میں آپ سے کچھ کہنا چاھتا ھوں اگر آپ برا نہ مانیں تو،!!!!!"
    شہزاد بھائی نے بھابھی کی منت سماجت کرتے ھوئے کہا،!!!!

    "مجھے معلوم ھے،!!! جو بھی تم مجھ سے کہنا چاھتے ھو،!!!! آج بھابھی کی کیوں یاد آئی، پہلے تو اسی کھڑکی سے چپکے رھتے تھے،!!!! آج وہ کھڑکی بند ھوگئی ھے تو بھابھی بھابھی کی مالا جپنے لگے،!!!!!! تمھیں‌ معلوم ھے کہ کتنا عرصہ بیت گیا کہ تم وہ میرے دیور نہیں رھے جو پہلے کبھی تھے، میرے چھوٹے بھائی کی طرح، ھر وقت مجھے خوش رکھنے کی کوشش کرتے رھے، ساتھ کھانا کھاتے تھے، ھر دکھ سکھ میں اپنے بھائی کا ساتھ دیتے تھے، اور میرے بچوں کا خیال رکھتے تھے،!!!!!!"
    بھابھی نے کچھ ناراضگی کے لہجے میں آنسو بہاتے ھوئے کہا اور بغیر رکے مزید کہتی چلی گئیں،!!!!
    "کیا تم سمجھتے ھو!!!!! کیا باھر تم جو مرضی کرتے پھرو اور کسی کو کان و کان خبر نہ ھو، تم نے اپنے بھائی کی عزت کا بھی خیال نہیں کیا،!!!!!!"
    "اگر تم اس لڑکی سے شادی کرنا ھی چاھتے تھے، تو پہلے ھم سے کیوں نہیں کہا ھم خود خوشی خوشی اسکا رشتہ مانگنے جاتے اور کب کی شادی بھی ھوچکی ھوتی،!!!!! تم نے ھمیں اس قابل نہیں سمجھا،!!!!!!"


    شہزاد بھی بہت افسردہ سا ھوگیا، اور اپنی بھابھی سے کہا، کہ،!!!
    "بھابھی یہ بات نہیں ھے، آپکی قسم آپ تو میری ماں جیسی ھو،!!! میں نے اس بات کو بہت ھی پوشیدہ رکھا تھا لیکن آپکو تو تمام تفصیل معلوم ھے کیا آپ کے بڑے بیٹے نے تو آپ سے کچھ نہیں کہا،!!!!!"

    بھابھی نے فوراً ھی بیچ میں بات کاٹتے ھوئے کہا،!!!
    "نہیں نہیں اس نے آج تک مجھ سے اس بارے میں کچھ بھی ذکر نہیں کیا، چاھے جو بھی تم مجھ سے اس کی قسم لے لو،!!!! تم سمجھتے تھے کہ کسی کو علم نہیں ھے، جناب تمھارے عشق کے چرچے تو سارے محلے میں مشہور ھوچکے ھیں،!!!!!"

    شہزاد نے اپنی بھابھی سے اپنی صفائی پیش کرتے ھوئے کہا،!!!!
    "وہ کیسے میں نے تو کسی کو نہیں بتایا، اور اپنے آپ کو کھڑکی تک ھی محدود رھا،!!!!! "

    بھابھی کو تو آج موقع ملا تھا، خوب اپنے دل کا غبار شہزاد پر نکال رھی تھیں،!!!!
    "دیکھو تم کچھ عورتوں ک نہیں جانتے، جن کا کام ھی یہی ھوتا کہ دن بھر اڑوس پڑوس کے یہاں جھانک تانک کرکے ایک دوسرے کو خوب مصالہ لگا کر ایک سے بڑھ کر ایک چٹپٹی خبرین پہنچاتی رھتی ھیں،!!!!!"

    شہزاد بھائی تو حیرانگی سے اپنی بھابھی کی زبانی اپنی ھی کہانی سن رھے تھے، ان کے علم میں تھا کہ کسی کو کچھ خبر نہیں مگر وہ سب کچھ ساری دنیا کو معلوم تھا،!!!

    بھابھی نے مزید ایک گلاس پانی پیا اور پینے کے بعد پھر شروع ھوگئیں،!!!
    " کیا تمھیں کچھ خبر بھی ھے،!!! تمھارے پڑوس کا جو مکان ھے وہاں کی اوپر والی "صابری خالہ" کے کمرے کی کھڑکی سے تمھاری کھڑکی بالکل صاف نظر آتی ھے،!!!!!"

    شہزاد بھائی نے دل میں یہ تو ضرور سوچا ھوگا کہ واقعی وہ بہت بڑے صبر والی خالہ تھیں،!!!

    شہزاد کی بھابھی نے تو ساری کسر، جو بھی دل میں غصہ بھرا ھوا تھا وہ سب شہزاد پر نکال دیا،!!!! اب شہزاد کیا کرتا خاموش ھوکر ھی اپنی بھابھی کا غصہ سہتا رھا، آخیر میں اس نے اپنی بھابھی سے معافی بھی مانگی اور پھر جب ان کی ناراضگی میں کمی ھوئی تو شہزاد نے ان سے مشورہ مانگا کہ اب اسے کیا کرنا چاھئے،!!!!

    ان کی بھابھی نے کہا کہ،!!!!! "تمھارے بھائی آئینگے تو میں ان سے صلاح کرکے ھی کچھ بتا سکتی ھوں لیکن شہزاد،!!! اب وقت ھاتھ سے نکل گیا ھے،!!!!! اب کچھ بھی تمھارے حق میں کوئی فیصلہ ھونا ممکن نہیں ھے، بات اب بہت آگے تک بڑھ چکی ھے، کیونکہ،!!!!!

    بھابھی نے مزید کہا کہ،!!!! "تمھیں تو کچھ بھی ھوش نہیں ھے، جو کچھ مجھے دوسروں کی زبانی معلوم ھوا ھے، اگر میں تمھیں بتاؤں تو تمھارے ھوش اڑ جائیں گے،!!!! تم دونوں نے بہت جذبات سے کام لیا اور عشق و محبت کی پینگیں افسانوی اور فلموں کے کرداروں کی طرح بڑھاتے رھے، جبکہ ھمارے معاشرے میں اصلی زندگی میں ایسا نہیں ھوتا، شادی سے پہلے اس قسم کے رشتے کو کوئی بھی قبول نہیں کرتا ھے، اس قسم کی حرکات اگر پہلے سے معلوم ھوجائیں تو گھروں میں خاص کر لڑکی کے گھر میں ایک طوفان کھڑا ھوجاتا ھے،!!!!"
    "اگر تم بہت پہلے مجھے اپنی پسند بتادیتے تو کچھ بھی مشکل نہیں تھا، لیکن اس وقت ان کے گھر میں تو اس بات کو لے کر ایک ھنگامہ کھڑا ھوا ھے، وہ لڑکی نازنین تمھارے چکر میں اپنی ماں سے الجھی ھوئی ھے، اور اس کے باپ نے اپنی بیٹی کے گھر سے باھر نکلنے پر پابندی لگائی ھوئی ھے،!!!! اس کے علاوہ مجھے ڈر ھے کہ اس کا باپ نہ جانے اگلے لمحے کیا قدم اٹھائے،!!!! کوئی نہیں جانتا،!!! انکی خاموشی کسی بڑے طوفان کا اندیشہ لگتی ھے،!!!!!

    شہزاد نے کچھ سوچتے ھوئے کہا،!!!! کہ " بھابھی میرا دماغ کام نہیں کررھا اب آپ ھی بتاؤ کہ مجھے کیا کرنا چاھئے، میں نے اپنی طرفسے مکمل تیاری کی ھوئی ھے، معذرت کے ساتھ کہ میں نے اپنی کسی بھی تیاری میں کوئی آپ سے مشورہ نہیں مانگا، جس کی سزا میں اب بھگت رھا ھوں،"

    میں نے بھابھی مکان خریدنے کیلئے دفتر سے قرضہ لے کر اور بنک میں جو جمع پونجی تھی اس میں سے کچھ ملا کر ایک ایجنٹ کو مکان کی قیمت بھی ادا کردی ھے، ایک دو دن تک میرے نام پر رجسٹری بھی ھو جائے گی،!!!!! اگر آپ کسی طرح بھی بھائی کے ساتھ جاکر میرے رشتے کی بات کرکے تو دیکھیں، شاید کہ قدرت ھم پر مہربان ھوجائے،!!!!!!

    بھابھی نے کہا کہ،!!!!!! اوٌل تو پہلے تمھارے بھائی کو منانا مشکل ھے، کیونکہ وہ بھی تم سے بہت سخت ناراض ھیں، پہلے تم ان کو تو مناؤ پھر کچھ سوچتے ھیں،"

    اسی دوران انکی بھابھی نے چائے بنانے کیلئے کچھ دیر کی اجازت لیتے ھوئے باورچی خانے کی طرف چلی گئیں اور ادھر شہزاد بیٹھے ھوئے اپنے بھتیجے بھتیجیوں سے گپ شپ کرنے لگا، بچے بھی بہت خوش تھے کہ ان کے چچا ان کے گھر آئے ھوئے تھے،!!!!!

    اتنے میں ان کے بھیاء اچانک وارد ھوئے، اور جیسے ھی شہزاد کو دیکھا تو غصہ سے لال پیلے ھوگئے، اب تو ایک اور مشکل آن پڑی، ان کے بھیاء فوراً ھی اپنی بیگم کے پاس باورچی خانے میں پہنچے اور چیخ و پکار شروع کردی،!!!!

    " اس ذلیل کی یہاں آنے کی ھمت کیسے ھوئی، تم نے اسے گھر میں گھسنے کیوں دیا، یہ ھمارا کون لگتا ھے، اس نے تو ھماری محلے میں جو عزت تھی اسے بھی برباد کردی ھے، اب یہاں کیا لینے آیا ھے، اس سے جاکر کہو کہ فوراً ھی یہاں سے چلا جائے، میں اسکی شکل تک دیکھنا نہیں چاھتا، اگر یہ یہاں سے اس وقت نہیں گیا تو مجھ سے برا کوئی نہ ھوگا، !!! سمجھی تم،!!! جاؤ اور اسے یہاں سے دفع کرو،!!!!!!!!!!

    شہزاد کو بھی اپنے بھیاء کی زور زور سے آوازیں صاف سنائی دے رھی تھیں، اس سے پہلے کہ بھابھی اس کے پاس آتیں وہ فوراً ھی وہاں سے بچوں کو خدا حافظ کہتا ھوا باھر نکل گیا،!!!!!!

    اب تو شہزاد کو ھر طرف مایوسیوں کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آرھا تھا، بہت مشکل آن پڑی تھی، اس نے اپنا کوئی خاص دوست بھی نہیں بنایا تھا، صرف دفتر میں چند ایک دوست تھے، لیکن وہ صرف وہیں تک ھی محدود رھے، نہ وہ سگریٹ پیتا تھا نہ کبھی اس نے پان کو چھوا تھا، تنہا پسند ضرور تھا لیکن محلے میں جاتے وقت سب سے راستے میں دعاء سلام کرلیا کرتا تھا،!!!!

    اب تو ان کی کہانی کا چرچہ گھر گھر ھو چکا تھا، اسی لئے جب سے کھڑکی بند ھوئی تھی وہ رات کو دیر سے گھر آنے لگا ،کچھ شرم کی وجہ سے اور دوسرے اب تو کھڑکی بند ھی ھوچکی تھی، اس لئے شہزاد کیلئے کوئی اس کمرے میں دلچسپی باقی رھی ھی نہیں تھی،!!!!!

    کچھ دنوں بعد پتا چلا، کہ وہ گھر نہیں آرھے ھیں، اور جس کمرے میں وہ رہ رھے تھے، اس کے دروازے کے بجائے اینٹوں کی دیوار چنی ھوئی دکھائی دی،!!! کسی نے کہا کہ وہ شہزاد صاحب نے دو دن پہلے ھی مکان خالی کردیا ھے، اور سارا ساماں ایک ٹرک پر لاد کر کہیں اور چلے گئے ھیں،!!!!

    اور ساتھ یہ بھی سننے میں آیا کہ نازنین کے والد نے اپنا یہ مکان بھی بیچ دیا اور انہوں نے بھی یہ محلہ چھوڑدیا ھے،!!!!!! اب نہ جانے دونوں پر کیا بیت رھی ھوگی، کس کو کچھ معلوم نہیں تھا، جبکہ ھر کوئی ان دونوں کے بارے میں بے چینی سے جاننے کی فکر میں تھا،!!! خاص کر محلے کی عورتیں،!!!!

    جتنی مننہ اتنی باتیں، عورتوں کو آپس میں بحث کرنے کے لئے ایک بہترین موضوع ایک دوراھے پر آکر بالکل ختم ھوچکا تھا، مگر ھر کوئی یہ راز جاننے کی چکر میں تھا، کہ دونوں کی کہانی کا انجام کیا ھوا،!!!!!

    کچھ مہینے اور بیت گئے،!!! اس کہانی کو بھی لوگ آھستہ آھستہ بھولتے چلے گئے،!!! لیکن شہزاد کی بھابھی اپنے دیور کو نہ بھول سکی، اور بڑے بھائی تو اپنے بھائی کیلئے دل میں بہت تڑپتے تھے، لیکن یہ تڑپ انہوں نے کسی پر بھی ظاھر نہیں کی، انہوں نے اپنے جانتے میں اسے ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن نا کامیابی ھوئی، وہ دل ھی دل میں اپنے آپ کو کوستے رھے کہ انہوں نے اسے برا بھلا کیوں کہا،!!!!!

    رات کا وقت تھا، شہزاد کی بھابھی باورچی خانہ میں رات کے کھانے کا انتظام کررھی تھیں، سالن تو تیار ھوچکا تھا، بس اب روٹیاں پکا رھی تھی،!!! انکے بچے پڑوس میں ٹیوشن پڑھنے ھر روز رات کو ھی جاتے تھے، اور وہ ھمیشہ ھر کام سے فارغ ھوکر اس وقت بچوں کیلئے رات کے کھانے کا بندوبست کرتی تھیں، تاکہ بچے ٹیوشن پڑھ کر آئیں تو فوراً ھی انہیں کھانا کھلا دیا جائے،!!! ویسے تو وہ روز ھی اپنے شہزاد کو یاد کرتی تھیں لیکن انہیں آج شہزاد کی بہت شدت سے یاد آرھی تھی، وہ اسے اپنے چھوٹے بھائی کی طرح چاھتی تھیں، بلکہ شہزاد تو ان کو اپنی ماں کا درجہ دیتا تھا، آج ان کا وہ بھائی وہ بیٹا ان کے ساتھ نہیں ھے، نہ جانے وہ کہاں ھوگا، کس مشکل میں ھوگا اس پر کیا بیت رھی ھوگی، نہ جانے بھابھی کے دل میں عجیب عجیب سے خیال آرھے تھے،!!!!!!

    کہ اچانک باھر کے دروازہ کی جھٹکے سے کھلنے کی آواز آئی، وہ سمجھی کہ شاید شہزاد کے بڑے بھائی کام سے واپس آگئے ھیں، مگر آج اتنی جلدی کیسے، وہ تو ھمیشہ رات کے گیارہ بارہ بجے گھر آتے تھے، وہ بے چارے بھی ڈبل ڈبل ڈیوٹیاں کرکے اپنا گھر چلا رھے تھے،!!!! وہ ابھی روٹی پکاتے پکاتے اٹھنے ھی نہ پائی تھیں کہ ان کے سامنے ایک داڑھی بڑھی ھوئی پاگل سا آدمی کھڑا تھا،َ!!!!

    وہ ایک دم گھبرا سی گئی اور پوچھا ،!!!!!

    " تم کون ھو، اور اس طرح گھر میں کیسے گھسے چلے آئے ھو، تمھیں شرم نہیں آتی،!!!!"

    بچے تو برابر کے گھر میں ٹیوشن پڑھنے گئے تھے اور بڑا بیٹا تو اپنے باپ کے ساتھ ھی رات کو دیر سے لوٹتا تھا، وہ تو اندر ھی اندر گھبرا رھی تھیں کہ یہ کیا مصیبت آگئی ھے،!!! وہ ابھی ڈر کر بس باھر گھبرا کر نکلنا چاہ رھی تھیں کہ ان کو اس آدمی کی آواز نے روک لیا،!!!!!

    " بھابھی مجھے سخت بھوک لگی ھے، تین دن سے میں نے کچھ بھی نہیں کھایا، مجھے بس ایک روٹی دے دو، میں واپس چلا جاؤں گا، اور پھر نہیں آؤں گا،!!!!! "

    یہ شہزاد ھی تھا، جس نے اپنی حالت بالکل پاگلوں والی بنا لی تھی،!!!!! داڑھی بے ترتیبی سی بڑھی ھوئی، کپڑے میلے کچیلے، پھٹے ھوئے اس پر ایک پرانا ھر طرف سے تار تار کوٹ جو کسی وقت اس کی شخصیت کو اسمارٹ بنائے رکھتا تھا، اور یہی کوٹ نازنین کو بھی بہت پسند تھا،!!!!!!!

    ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــ

    بھابھی تو ایک دم شہزاد کی حالت دیکھ کر پریشان ھو گئیں، جلدی جلدی انہوں نے وہیں باورچی خانے میں چھوٹا سا دسترخوان زمین پر بچھا دیا اور شہزاد کو فوراً سہارا دے کر بٹھایا، کیونکہ وہ کانپ رھا تھا، اور جلدی جلدی ایک پلیٹ میں سالن اور روٹیاں بھی ایک پلیٹ میں رکھ دیں، اور پھر سلاد کاٹتے ھوئے بولیں،!!!!

    "شہزاد یہ تمہیں کیا ھوگیا ھے، تم نے اپنی یہ کیا حالت بنالی ھے،!!!!"

    شہزاد نے کوئی جواب نہیں دیا، وہ بس تیزی سے کھانے میں مصروف تھا، واقعی لگ رھا تھا کہ وہ کئی دنوں کا بھوکا ھے،!!!!! اسکی بھابھی حیرانگی سے اسے دیکھے جارھی تھیں،!!!! وہ کچھ کہتے کہتے خاموش ھوگئیں، شاید وہ یہ نہیں چاھتی ھوں کہ کھانے کے دوران شہزاد کو کوئی پریشانی ھو،!!!!

    جب شہزاد کھانا کھا چکا تو اسکی بھابھی نے پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا، شہزاد نے بس ایک ھی گھونٹ میں سارا گلاس ختم کردیا اور ھاتھ بڑھا کر ایک اور گلاس پانی پینے کی خواھش کی تو بھابھی نے پانی کے بھرے جگ سے اس کا گلاس بھر سے بھر دیا، اس گلاس کو بھی شہزاد نے فوراً ھی غٹا غٹ پی گیا،!!!! اور فوراً کھڑے ھوتے ھوئے کہا کہ،!!!!

    "بھابھی میں اب چلتا ھوں، بھائی آگئے تو مجھے ڈانٹیں گے، خوب غصہ کریں گے، ویسے بھی مجھے ابھی بہت کام ھیں، کافی مشکل میں ھوں، میرے سارے کام بگڑ گئے، میری نازنین کو مجھ سے ان لوگوں نے چھین لیا،،!!!!!"
    یہ کہتے ھوئے شہزاد پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا،!!!!

    بھابھی نے شہزاد کی منت سماجت کرتے ھوئے کہا ،!!!
    " میں تمہارے آگے ھاتھ جوڑتی ھوں، خدارا اسے بھول جاؤ،!!!! اگر اس وقت تم نازنین کو کسی طرح بھی بھلا سکو تو تمھارے حق میں بہت ھی بہتر ھوگا، ورنہ تمام حالات کے تم خود ھی ذمہ دار ھوگے،!!!!!!!"
    مگر شہزاد نے ان کی اس بات پر کوئی توجہ نہیں دی، یا پھر وہ بالکل اپنے ھوش وحواس میں نہیں تھا،!!!!

    بھابھی نے اسے صوفے پر بٹھاتے ھوئے کہا کہ،!!!!
    " رات ھوگئی ھے، تم پریشان مت ھو،!!! اور تمھارے بھائی کوئی غصہ نہیں کریں گے، وہ تمھارے لئے تو بہت ھی فکر مند ھیں،!!! اب آرام کرو صبح ترو تازہ ھوکر چلے جانے اور تم اس حالت میں کہاں جاؤ گئے، ابھی جاؤ باتھ روم میں اپنے یہ میلے کچیلے کپڑے اتارو، میں تمھارے بھائی کے کپڑے دیتی ھوں تم غسل کرکے بدل لینا، جب تک میں تمھارے لئے چائے بناتی ھوں،!!!!"

    مگر شہزاد نے کوئی جواب نہیں دیا، بس اسے کچھ کپکپی سی لگ رھی تھی، بس وہ وہیں صوفے پر ھی نیم دراز ھوگیا، اور کچھ ھی دیر میں گھری نیند سو رھا تھا،!!!!

    اسکی بھابھی نے اپنے میاں جی کا ایک شلوار قمیض کا جوڑا نکالا اور صاف دھلا ھوا تولیہ باتھ روم میں رکھ کر شہزاد کے پاس آئی تو دیکھا کہ وہ تو گہری نیند میں تھا،!!!!! بھابھی کو اس پر بہت ھی زیادہ ترس آرھا تھا، انہوں نے فوراً ھی ایک چادر شہزاد کو اڑا دی اور کمرے کی لائٹ بند کرکے صحن میں آگئیں اور رسی پر سے لٹکے ھوئے کپڑے جو دن میں دھوئے تھے، وہ اتارنے لگی،!!!

    اسی دوران بچے ٹیوشن پڑھ کر واپس آگئے، اور اپنی اماں سے بڑی بیٹی نے پوچھا،!!!!!
    "اماں کیا شہزاد چچا آئے ھیں،"

    ان کی اماں نے غصہ سے پوچھا،!!!!!
    " تمھیں کیسے پتہ چلا، کس نے بتایا تمھیں،"

    "وہ باھر بہت سے بچے جمع ھیں، اور ان کی زبانی ھی معلوم ھوا ھے، کہ شہزاد چچا آئے ھوئے ھیں،،" بڑی بیٹی نے خاموشی سے جواب دیا،!!!!

    ان کی اماں نے فوراً کہا کہ،!!!! " ھاں آئے ھوئے ھیں لیکن وہ بیٹھک میں سورھے ھیں انہیں شور کرکے اٹھا نہیں دینا،!!!! اور جاؤ ھاتھ منہ دھو کر باورچی خانے میں بہن بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر خاموشی سے کھانا کھا لو،!!! اور بالکل بھی شور نہیں کرنا، سمجھے!!!!!"
    بس یہ سنتے ھی تینوں بہن بھائی، وہاں سے سیدھا خاموشی سے کھسک لئے، انہیں اپنی اماں کا غصہ پتہ تھا،!!!!!

    بھابھی تو بس عجیب ھی کشمکش کا شکار تھیں، کہ یہ شہزاد کو کیا ھو گیا ھے، اسکی حالت یہ کیسے ھوگئی، وہ بس دل ھی دل میں شہزاد کیلئے دعاء کررھی تھیں، جبکہ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ شہزاد کی یہ حالت زار صرف اور صرف نازنین کی وجہ سے ھی ھوا ھے!!!! وہ سوچ رھی تھی کہ کاش اس کے بس میں ھوتا تو وہ اس کی شادی نازنین سے ضرور کروا دیتی،،!!!!

    بس کچھ ھی دیر میں شہزاد کے بھائی اور ان کا بیٹا بھی کام سے واپس آگئے، اور آتے ھی اپنی بیگم سے پوچھا،!!!!
    "باھر ھمارے دروازے کے پاس یہ کیا بچوں کی بھیڑ کیوں جمع ھوئی ھے، وہ کیا شور کررھے ھیں، کہ شہزاد چچا آگئے، وہ کہاں ھے،!!!!"

    میاں جی تسلی دیتے ھوئے ان کی بیگم نے کہا،!!!!
    "ھاں ھاں میں سب کچھ بتاتی ھوں ذرا آپ منہ ھاتھ تو دھو لیں تھکے ھوئے باھر سے آئیں ھیں، کھانے پینے سے فارغ ھوجائیں تو میں تسلی سے سب کچھ بتاتی ھوں، ابھی وہ بیٹھک میں گہری نیند سورھا ھے، اسے اس وقت کچی نیند میں جگانا ٹھیک نہیں ھے "

    شہزاد بھائی نے اپنی تسلی کے لئے بیٹھک کے دروازے کا پردہ اٹھا کر دیکھا، اور شہزاد کو سوتا دیکھ کر غسل خانے کی طرف بڑھ گئے،!!!

    میان جی نے ھاتھ منہ دھو کر صحن میں رسی پر لٹکے ھوئے تولیے سے ھاتھ منہ صاف کیا اور وہیں پر بچھے ھوئے پلنگ پر بیٹھ گئے جہاں ان کی بیگم نے پہلے سے ھی کھانا لگا دیا تھا، بچے تو پہلے ھی سے کھانا کھاکر اپنے کمرے میں چلے گئے تھے، یہاں صحن میں بڑا بیٹا اور دونوں میاں بیوی خاموشی سے کھانا کھا رھے تھے، مگر دونوں کا دل و دماغ شہزاد کی طرف ھی تھا،!!!!!

    کھانا کھانے کے دوران ھی میاں جی نے خاموشی کو توڑتے ھوئے کہا کہ،!!!!
    " شہزاد نے تمھیں کچھ بتایا کہ وہ اتنے عرصہ تک کہاں غائب تھا، اور کچھ اپنے بارے میں کہا"

    انکی بیگم نے وہی سب کچھ سچ سچ دھرا دیا، جو شہزاد نے ان سے کہا تھا،!!!!!

    " مجھے آج ادھر ادھر سے اس کے بارے میں تھوڑی بہت معلومات حاصل ھوئی ھیں، پتہ نہیں صحیح ھے یا غلط، بس اوپر والا ھی جانتا ھے، "
    انہوں نے اپنی بیگم کی بات کاٹتے ھوئے کہا،!!!! اور کہتے چلے گئے،!!!
    " شہزاد تو جب سے یہاں سے گیا ھے، دفتر تو اس نے جانا ھی چھوڑ دیا تھا، اور اس کے ایک دوست نے مجھے بتایا، کہ جو اس نے قرضہ لیا ھوا تھا، دفتر والوں نے اس کا جو بھی حساب کتاب بنتا تھا اس میں برابر کرکے اسے وہاں سے بالکل فارغ کردیا ھے،"

    "اس کے علاوہ اس نے جو روپیہ پیسہ جمع کرکے مکان خریدنے کے لئے ایک ایجنٹ کے حوالے کیا تھا، وہ ایجنٹ بھی اور کئی لوگوں سے روپے پیسے اینٹھ کر رفوچکر ھوگیا ھے، اور اس کا کوئی اتا پتا نہیں ھے،!!!!! اور پہلے ھی نازنین کے گھر والوں نے شہزاد کو بہت دھمکیاں دی تھیں، ڈرایا بھی تھا، اور کچھ غنڈوں سے شہزاد کی اچھی خاصی پٹائی بھی کروائی تھی، اور ساتھ ھی اسے دھمکی بھی دی کہ اگر وہ باز نہ آیا تو پھر قانونی چارہ جوئی کرنے پر مجبور ھونگے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا، کیونکہ انہیں اپنی عزت بھی پیاری تھی،!!!!

    اب پتا نہیں کہ وہ لوگ کہاں ھیں، اور شہزاد کو ان کے بارے میں معلوم ھے یا نہیں کچھ نہیں پتہ،!!! لیکن ایک خاص آدمی سے پتا چلا ھے کہ نازنیں کی زبردستی شادی کردی گئی ھے، جبکہ نازنین نے اسی وجہ سے اپنے آپ کو مارنے کیلئے خودکشی کی بھی ناکام کوشش کی تھی،!!!!!!
    __________________

    شہزاد کے بھائی بھابھی نے یہی فیصلہ کیا کہ شہزاد سے صبح سویرے ھی بات کریں گے، ابھی اسے سونے دیا جائے تو بہتر ھے،!!!!! اور بھابھی نے باھر کے دروازے کی کنڈی لگائی، اور تمام کھانے کے برتن سمیٹتے ھوئے باورچی خانے کی طرف چل دیں، اور ان کے میاں بھی بہت تھکے ھوئے تھے، اپنے بستر پر ایسے گرے کہ ان کو ھوش نہیں رھا، مگر سونے سے پہلے وہ بہت مطمئین نظر آرھے تھے اور دل ھی دل میں بہت خوش بھی تھے کہ ان کا بھائی واپس آگیا ھے،!!!!!!!!

    شہزاد کی بھابھی تو ویسے بھی ھر روز صبح سویرے ھی اٹھ جاتی تھیں، مگر آج وہ کچھ پہلے نیند سے بیدار ھوچکی تھیں، ویسے بھی رات بھر وہ بےچین ھی رھیں، وہ شہزاد کی فکر میں صحیح طرح سو ھی نہیں سکی تھیں،!!!!!

    آج وہ چاہ رھی تھیں کہ فجر کی نماز کے بعد جلدی جلدی تمام گھر کے کاموں سے فارغ ھوجائیں، سب سے پہلے تو وہ ھمیشہ بچوں کے لئے ناشتہ تیار کرتی ھیں، اسی دوران بڑی بیٹی اپنے سمیت دوسرے بہن بھائی کے اسکول کے یونیفارم استری کررھی ھوتی تھی، اور ساتھ انہیں اسکول جانے کے لئے اٹھاتی بھی رھتی تھی،!!!!

    "ارے شبانہ،!!!!! بھئی جلدی اٹھ جاو تیار ھوجاؤ، اسکول کیلئے دیر ھورھی ھے، ابھی ناشتہ بھی کرنا ھے، فواد،!!!! جلدی کرو بھئی تمھارے جوتے دیکھو‌ ھر روز کتنے خراب ھوجاتے ھیں، خیال رکھا کرو، یہ روز روز میں پالش نہیں کرسکتی آخر مجھے بھی تیار ھوتا ھے،!!!!"

    ادھر شہزاد کے بھائی بھی فجر کی اذان ھوتے ھی اٹھ جاتے، کبھی انہیں الارم کی ضرورت ھی نہیں پڑی، مسجد سے آنے جانے میں ان کی صبح کی چہل قدمی بھی ھوجاتی تھی، ان کا بڑا بیٹا بھی اکثر ان کے ساتھ ھی ھوتا تھا مسجد سے آنے کے بعد کچھ دیر تلاوت کرتے اور اس کا ترجمہ بھی ساتھ ھی پڑھ لیتے، اسی دوران بچوں کے اسکول جانے کی تیاریاں اور ان کا ایک شور بھی روز کا ایک معمول تھا،!!!!!

    شہزاد کی بھابھی کے شب و روز کی مصروفیات بالکل معمول کے مطابق تھیں اور اسی دوران ان کی عبادات کے لئے بھی وقت مخصوص ھوتا ھے، اور ان مختلف کاموں کے اوقات بھی انہوں ھر نماز کے بعد ایک شیڈول بنایا ھوا تھا، جس میں آج تک کوئی فرق نہیں آیا تھا، بشرطیکہ ان کی طبعیت ناساز نہ ھو تو، اس وقت بھی ان کی بڑی بیٹی ان کی بیماری کے دوران سارے گھر کا کام سنبھال لیتی تھی اور باقی دونوں بہن بھائی بھی گھر کے کاموں میں ھاتھ بٹاتے تھے، بڑے بھائی تو اپنے والد کے ساتھ ھی روز کی طرح کام پر نکل جاتے تھے،!!!!!!!!!!

    اسے ایک متوسط گھرانہ کا ایک خوشحال کنبہ کہہ سکتے ھیں، آپس میں بہت پیار محبت سے رھتے ھیں، اس کنبے کو چلانے کیلئے دونوں باپ بیٹے دن رات محنت سے کام کرتے اور اللٌہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ھوئے اپنے اس کنبے کو لے کر چل رھے تھے،!!!!

    تینوں بچوں نے یونیفارم پہنے، ناشتہ سے فارغ ھوئے، اور بستے گلے میں لٹکائے اسکول کے لئے نکل رھے تھے،!! ادھر بھائی صاحب اور ان کا بیٹا بھی کام پر جانے کی تیاری کررھے تھے، اور شہزاد کی بھابھی مزید ان کے لئے ناشتہ تیار کرنے میں مصروف تھیں،!!!!

    آج تو انہوں شہزاد کی وجہ سے بھی ناشتے میں خاص اھتمام کیا ھوا تھا، اور اوپر سے بھائی صاحب بھی باھر سے گرماگرم حلوہ پوری اور چنے اور پائے کا سالن لے آئے تھے،!!!! اور بھابھی نے تو شہزاد کیلئے خاص طور سے شاھی ٹکڑے بنائے تھے، کیونکہ شہزاد کو بہت پسند تھے، انڈوں کے آملیٹ کے ساتھ ھاف فرائی انڈے بھی بنا لئے تھے کہ نہ جانے شہزاد کی اب ناشتے میں ھوسکتا ھے کہ پسند بدل گئی ھو، اور اس کے علاوہ اصلی گھی کے پراٹھے بھی کافی سارے بنادیئے تھے،!!!!!

    دوپہر کے لئے بھی انہوں نے کافی کچھ سوچ رکھا تھا کہ شہزاد کو پالک پنیر بہت پسند تھا، اس کے علاوہ وہ آلو گوشت بہی بہت شوق سے کھاتا تھا، فرائی بھنڈیاں بھی بہت پسند تھیں، شہزاد کی بھابھی تو چاھتی تھیں کہ آج ھی اس کی پسند کے پکوان بنا کر اسے کھلا دیں، وہ آج پہت خوش تھیں،!!!!

    انہوں نے ناشتہ لگانے سے پہلے بیٹھک کے باھر سے ھی شہزاد کو اٹھانے کیلئے آواز لگائی،!!!!! آج انہوں نے پہلی مرتبہ شہزاد کو بیٹا کہہ کر آواز دی،!!!!!! پہلے تو وہ ھمیشہ اسے بھائی یا پھر دیورجی کہتی رھی تھیں،!!!!

    " شہزاد بیٹا،!!!! اٹھ جاؤ دیکھو سورج نکل آیا، چلو منہ ھاتھ دھو کر جلدی سے ناشتہ کرلو،!!!!! "
    یہ کہتی ھوئی وہ پھر اپنے کاموں میں لگ گئیں، بچوں کے کمرے میں صفائی کرکے وہاں فرش پر دستر خوان بچھایا، اور ایک ایک کرکے باورچی خانے سے ناشتہ کا سارا سامان لا کر بہت ھی قرینے سے سجا دیا، اور ساتھ دیکھتی بھی جارھی تھیں کہ کسی چیز کی کمی تو نہیں ھے، ادھر ان کے شوھر اور برا بیٹا بھی تقریباً کام پر جانے کیلئے تیار ھوچکے تھے،!!!!!!

    جب شہزاد کے کمرے سے کوئی جواب نہیں ملا تو بھابھی کو کچھ تشویش سی ھوئی، تو انہوں نے اپنے شوھر سے مخاطب ھوکر کہا، !!!!!

    "سنئے جی،!!!!! ذرا آپ شہزاد کو دیکھیں کہ وہ ابھی تک کیوں نہیں اٹھا، دن چڑھنے کو آیا ھے، اور وہ ابھی تک سو ھی رھا ھے، "

    شہزاد کے بھائی نے فوراً بیٹھک کے کمرے میں جھانکا، لیکن انہیں تو شہزاد وہاں دکھائی نہیں دیا بس صوفہ پر ایک چادر بے ترتیبی سے پھیلی ھوئی تھی،!!!!

    : ارے سنتی ھو،!!!!! یہاں اس بیٹھک میں تو شہزاد نہیں ھے، شاید حمام میں تو نہیں، دیکھو، تو ذرا " ان کے شوھر نے ذرا اونچی آواز میں کہا،!!!!

    ان کی بیگم اپنے دوپٹے ساے ھاتھ پوچھتی ھوئی بیٹھک کی طرف آئیں، انہوں نے بھی اندر جھانک کر اطمنان کرلیا اور بہت حیران ھوئیں،
    کہ شہزاد کہاں چلا گیآ،!!!!!!

    ان کے شوھر نے کہا کہ " ھاں مجھے یاد آیا، میں تم سے پوچھنا بھول گیا، کہ میں جب فجر کی نماز کیلئے جارھا تھا، تو باھر کے دروازے کی کنڈی کھلی ھوئی تھی،!!!!!!!! کیا تم نے کھولی تھی،!!!!"

    یہ سنتے ھی ان کی بیگم کا ماتھا وھیں ٹھنکا،!!!!
    " نہیں تو،!!!! میں کیوں اتنی صبح کھولوں گی، دودھ والا تو کافی دیر بعد آتا ھے، ھاں ،!!!! اب میں سمجھ گئی، شہزاد ھی ھوگا جو سب کے اٹھنے سے پہلے ھی یہاں سے چلا گیا،!!!!!!!"

    ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــ

    شہزاد کے اس طرح بغیر بتائے چلے جانے سے دونوں کو بہت ھی زیادہ افسوس ھوا، اب کیا کرسکتے تھے، خاموشی سے تینوں نے مل کر ناشتہ کیا، اور دونوب باپ بیٹا کام پر نکل گئے، اور شہزاد کی بھابھی نے ناشتے کے برتن سمیٹے اور اپنے معمول کے مطابق گھر کے صاف صفائی کے کاموں میں مصروف ھوگئیں،!!!!!

    لیکن انہیں اس بات کا بہت ھی دکھ تھا کاش کہ وہ کسی طرح بھی شہزاد کو جاتے ھوئے دیکھ لیتی یا کوئی ایسی آہٹ سن لیتی جس سے انکی آنکھ کھل جاتی،!!!!!!

    کافی دنوں تک شہزاد کی کوئی خبر نہیں ملی لیکن ایک ماہ بعد ھی، کسی نے بھابھی کا دروازہ کھٹکھٹایا، وہ سمجھی شاید پڑوس سے کوئی خاتون ملنے آئی ھوں گی، دروازہ جیسے ھی کھولا تو سامنے گلی کے بچے تھے،
    ان میں سے ایک نے کہا کہ خالہ،!!!! "شہزاد چاچا کو ھم نے ان کے پرانے گھر کے پاس دیکھا ھے،!!!!!"

    شہزاد کی بھابھی نے گلی کے بچے کو ساتھ لیا اور اپنی چادر سنبھالتی ھوئی، جلدی جلدی قدم بڑھاتی ھوئی، اس جگہ پہنچی،!!!

    شہزاد ہہلے سے بھی زیادہ بدتر حالت میں تھا، وہی میلے کچیلے پھٹے پرانے کپڑے، اوپر سے وہی کوٹ جو اب جگہ جگہ سے پھٹ چکا تھا، گلے میں کئی قسم کی مالائیں ڈالے ھوئے، خود بخود ھنس ھنس کر اپنے آپ سے باتیں کررھا تھا، مالاؤں کے ساتھ ایک چیز کا اور اضافہ ھو چکا تھا، وہ تھی بہت ھی گھٹیا قسم کی سگریٹ منہ میں لگائے خوب مزے مزے کش لگا رھا تھا، اور آس پاس بچے بھی خوب اس کی اس حالت زار دیکھ کر خوب ھنس رھے تھے، اور بچوں کو تو بس کوئی موقع ملنا چاھئے،!!!!!

    شہزاد کی بھابھی اس کے نذدیک پہنچی اور بہت ھی شفقت سے کہا کہ،!!!!! " چلو شہزاد بیٹا،!!!گھر چلو،!!!!!"

    اس نے فوراً پاگلوں کی طرح جیسے نشے کی حالت میں جواب دیا،!!!!
    " کون شہزاد کیسا شہزاد وہ تو مرگیا، یہیں میں نے اسے دفن کردیا، جاؤ یہاں سے چلے جاؤ سب لوگ مجھے مت تنگ کرو"

    اسکی بھابھی نے چادر سے اپنا منہ بھی ڈھک لیا، ان کی آنکھوں میں آنسو تھے، وہ بالکل اسی مکان کے پاس جہاں وہ رھتا تھا، اس کمرے کی دیوار کے سہارے ایک چبوترے پر بیٹھا، کبھی اسی جگہ اس کے کمرے کا دروازہ ھوا کرتا تھا، جو اب پکی اینٹوں سے چنوا کر بند کردیا گیا تھا، اسی دروازے کے پساتھ ھی یہ ایک چبوترہ بھی بنا ھوا تھا،!!!!!

    وہ دیوار سے کان لگا کر کچھ پاگلوں کی طرح بولتا بھی جارھا تھا، جیسے کسی سے باتیں کررھا ھو، اور جو اس کے پاس کھڑے تھے، ان سے بھی باتیں کرتا، ورنہ وہ خود بخود ھی باتیں کرتا رھا، اسکی بھابھی نے بھی بہت کچھ سنا، !!!!!!

    " دیکھو دیکھو سنو اندر سے اسکی آواز آرھی ھے، وہ کچھ پوچھ رھی ھے، ھاں بھئی میں بالکل ٹھیک ھوں، میں نے سوٹ پہنا ھوا ھے، ابھی مجھے لینے گاڑی آئے گی اور میں بس دوسری طرف سے ابھی بس آرھا ھوں"!!!!!
    وہ نہ جانے کیا کیا الٹی سیدھی پاگلوں کی طرح کبھی صحیح طریقے سے باتیں کرتا رھا، مگر اس نے کسی کا بھی نام نہیں لیا، بس اسے اپنا نام یاد تھا، مگر اس کے بارے میں بھی یہی کہتا کہ وہ تو مر گیا،!!!!!

    بھابھی اسکی اس حالت میں دیکھ کر دل برداشتہ ھوگئیں اور فوراً ھی پلٹ کر گھر طرف روتے ھوئے چل دیں، اور ان کے پیچھے ان کی گلی کا بچہ بھی تھا،!!!!

    رات کو شہزاد کے بھائی آئے تو ان کی بیگم ابھی شہزاد کے بارے میں کچھ کہنے ھی والی تھیں کہ انہوں اشارے سے روک دیا اور کہا،!!!!

    " ھاں مجھے سب کچھ معلوم ھوگیا ھے، میں ابھی شہزاد کو ھی دیکھ کر آرھا ھوں، وہ تو اب کسی کو پہچانتا بھی نہیں ھے، اس کے آس پاس میں نے کئی لوگوں کو دیکھا، جو اسے پیرسائیں سمجھ کر اس سے کوئی سٹہ کا نمبر پوچھ رھا ھے کوئی جواری اپنے جیتنے کا دن پوچھ رھا ھے، تو کوئی اپنی قسمت کا حال جاننے کیلئے بے چین ھے،، نہ جانے اسے کس جرم کی سزا مل رھی ھے،!!!!"

    اب تو شہزاد بھی اس محلے کا ھو کر رہ گیا تھا، اس محلے کے آس پاس پاگلوں کی طرح چکر لگاتا اور تھک ھار کر پھر اسی چبوترے پر آکر بیٹھ جاتا اب تو یہی چبوترا اس کا اوڑھنا بچھونا تھا، لوگ بھی اس پر ترس کھا کر اسے وھیں پر کھانے پینے کو کچھ نہ کچھ دیتے رھتے تھے، زیادہ تر لوگ اسکی کہانی کو جانتے بھی تھے،!!!!!

    میرا بھی کافی عرصے بعد اپنے پرانے شہر میں تبادلہ ھوا تو مجھے بھی ان کے بھتیجے اور بھابھی سے شہزاد کی اس روداد سے واقفیت ھوئی،!!!!

    میں خود بھی حیران پریشان تھا کہ اتنا اسمارٹ خوبرو نوجوان آج جس حالت میں پڑا ھے، جسے خود اپنا ھی حوش نہیں ھے اس کا ذمہ دار کون ھے،!!!!!!

    خیر میں بھی کیا کرسکتا تھا، مجھے خود بھی وہ پہچانتا نہیں تھا، بلکہ غلط غلط باتیں مجھے اس سے سننی پڑتی تھیں، اس لئے میں نے اس کے پاس جانا بھی چھوڑ دیا، مگر دل پھر بھی نہیں مانتا تھا، کبھی کبھی میں خود ھی انکی بھابھی کے یہاں اکیلے ھی ھو آتا تھا اور وہاں سے ھی مجھے شہزاد کی کیفیت کا پتہ چلتا تھا،!!!!

    ایک دن میں ان کے گھر بیٹھا ھوا تھا کہ بھابھی کی زبانی مجھے پتہ چلا، کہ ایک دن وہ لڑکی نازنین ان کے گھر آئی تھی، اور ان سے لپٹ کر خوب روئی، اور ساری اس پر ساری داستان انہیں سنائی،!!!!!

    وہ شہزاد کو علاج کے لئے نفسیاتی اسپتال لے جانا چاھتی تھی، لیکن کوئی بھی اس کے ساتھ جانے کو تیار نہیں تھا، اس کے اکیلے کی بس کی بات بھی نہیں تھی، اور شہزاد بھی اس کو اب پہچانتا نہیں تھا، دو تین دفعہ اس کے پاس گئی لیکن اس نے بس پاگلوں‌کی طرح باتیں کرکے اسے مایوس ھی کیا،!!!!

    مگر وہ چاھتی تھی کہ کہ کسی طرح بھی ھو شہزاد کا علاج ھوجائے، کئی نفسیاتی ڈاکٹروں کو بھی پیسہ خرچ کرکے شہزاد کے پاس لے گئی، مگر شہزاد جیسے ھی ان کو دیکھتا واپس دوسری طرف کو بھاگ لیتا تھا، وہ کسی کے قابو میں ھی نہیں آتا تھا، اور کچھ وہاں کے لوگوں کی مہربانیاں بھی تھیں، کہ اسے اپنے علاقے کے لئے اچھا شگون بھی سمجھتے تھے، اور سارے محلے کی ھمدردیاں بھی اسکے ساتھ تھیں، بہت پہلے بھی کئی دفعہ محلے والوں نے بھی کوشش کی تھی کہ شہزاد کا علاج ھوجائے لیکن سب بے سود ثابت ھوا،!!!!!

    نازنین کی جہاں شادی ھوئی تھی، وہ بھی ناکام ثابت ھوئی اور علیحدگی کی اطلاع ملی، اسکے والد کا بھی انتقال ھو چکا تھا اور شاید اسکی والدہ بھی اس دنیا میں نہیں رھیں، سنا تھا کہ اس کے والد کافی جائداد چھوڑ کر گئے تھے، اور نازنین کو اس سے کوئی غرض نہیں تھا، یہ بھی بات سننے میں آئی تھی کہ نازنین کے والد نازنین کی علیحدگی بعد نازنین کی حالت دیکھتے ھوئے شاید شہزاد سے شادی کے لئے رضامند بھی ھوگئے تھے، لیکن وقت نے شہزاد کا ساتھ نہیں دیا اور وہ نازنین کے غم میں اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا تھا،!!!!!

    ـــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــ

    جاری ھے،!!!!!!
     
  3. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    نازنین کی جہاں شادی ھوئی تھی، وہ بھی ناکام ثابت ھوئی اور علیحدگی کی اطلاع ملی، اسکے والد کا بھی انتقال ھو چکا تھا اور شاید اسکی والدہ بھی اس دنیا میں نہیں رھیں، سنا تھا کہ اس کے والد کافی جائداد چھوڑ کر گئے تھے، اور نازنین کو اس سے کوئی غرض نہیں تھا، یہ بھی بات سننے میں آئی تھی کہ نازنین کے والد نازنین کی علیحدگی بعد نازنین کی حالت دیکھتے ھوئے شاید شہزاد سے شادی کے لئے رضامند بھی ھوگئے تھے، لیکن وقت نے شہزاد کا ساتھ نہیں دیا اور وہ نازنین کے غم میں اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا تھا،!!!!!

    لگتا تھا کہ نازنین کی حالت کو دیکھتے ھوئے ان کے والدین اپنی بیٹی کا غم برداشت نہ کرسکیں ھوں، ویسے بھی وہ ان کی اکلوتی بیٹی تھی، اور بہت ھی لاڈ پیار میں اس کی زندگی پروان چڑھی تھیََ!!!!

    کاش کہ اس کی شادی شہزاد سے ھوجاتی تو شاید یہ نوبت نہ آتی، مگر ان دونوں نے جو طریقہ کار اختیار کیا تھا وہ غلط تھا، کیونکہ کوئی بھی والدین کو اپنی بیٹی کیلئے شادی سے پہلے اس کے عشق اور محبت کے چرچے برداشت نہیں کرسکتے،!!!! کاش کہ وہ دونوں پہلے اپنے والدین یا سرپرست کو راضی کرتے اور شہزاد کو چاھئے تھا کہ اپنی محبت کی پینگیں بڑھانے سے پہلے اپنا رشتہ اپنے بڑوں کے ذریعہ نازنین کے گھر بھجواتا تاکہ دو خاندان اپنے بچوں کی شادی کے بارے میں صحیح فیصلہ کر سکتے، ویسے بھی شہزاد ایک اچھے روزگار سے لگا ھوا اور شریف النفس انسان تھا، ھر کوئی اس کی بہت عزت کرتا تھا اس کے علاوہ وہ ایک خوبرو نوجوان اور پروقار شخصیت کا مالک تھا،!!!!!

    ھفتے میں ایک دو دفعہ نازنین ضرور آتی اور اپنی پوری کوشش کرتی کہ کسی طرح بھی شہزاد اسے پہچان لے، لیکن وہ اس کی شکل دیکھتے ھی کچھ نہ کچھ بکتے ھوئے بھاگ کھڑا ھوتا تھا،!!!!

    نازنین نے ھر طریقے سے دیکھ لیا کہ کسی طرح سے بھی شہزاد اپنا علاج کرانے میں رضامند ھوجائے، لیکن ساری محنت بے کار گئی، اب تو نازنین بھی تھک گئی تھی، وہ اپنے گھر میں اکیلی اپنی ایک سہیلی اور ایک دو رشتہ داروں کے ساتھ اپنے والد کے ایک خوبصورت گھر میں رہ رھی تھی، دو کاریں نوکر چاکر، اس کے والد کے قریبی رشتہ داروں نے اس کا کاروبار سنبھالا ھوا تھا، انہیں نازنین کی کوئی فکر نہیں تھی، کہ وہ کہاں جاتی ھے کیا کرتی ھے اسے کیا پریشانی ھے، ان رشتہ داروں کو تو بس نازینن کے دولت سے پیار تھا، وہ اھستہ آھستہ اس کی تمام دولت اور جائیداد کو سمیٹتے جارھے تھے، کاروبار کی ساکھ آھستہ آھستہ گر رھی تھی، بلکہ بالکل ختم ھونے کے نذدیک تھی، ان رشتہ داروں نے جو نازنین کے کاروبار کے ٹرسٹی تھے، انہوں نے ھی مل کر نازنین کو تباھی کے راستے پر ڈالنے کیلئے ھر ممکن کوشش کرنے پر تلے ھوئے تھے، اور نازنین اس سے بالکل بے خبر تھی، وہ تو اپنے ھی چکروں میں ماری ماری پھر رھی تھی،!!!

    نازنین کے والد کے وقت چند بھروسہ مند لوگ بھی ان کے ساتھ تھے، لیکن ان کے جانے کے بعد ان کے ٹرسٹی رشتہ داروں نے وقت سے فائدہ اٹھاتے ھوئے، ان بھروسہ مند لوگوں کو فارغ کردیا، اور جو باقی بچے انہوں نے تو خود ھی اپنی جان چھڑا لی، اب کیا تھا کاروبار خود بخود ھی ٹھپ ھوتا چلا گیا، اور ان ٹرسٹی رشتے داروں کے نصیب جاگ گئے،!!!!!

    اب تو نازنین نے روحانی علاج کی طرف توجہ دینا شروع کیا، تعویز گنڈوں کے چکروں میں جعلی پیر فقیروں کے پاس دوڑنے لگی، حتیٰ کہ وہ مزاروں پر جاکر شہزاد کی صحتیابی کے لئے چادریں چڑھانے اور منت کی طرف راغب ھوگئی،!!!!! جو کچھ اس سے بن پڑا وہ کرتی رھی،!!!!!

    جو بھی اسکے پاس پیسہ تھا وہ شہزاد کے لئے ھر ایک کے کہنے پر لٹاتی رھی،!!!!!! لیکن کچھ بھی حاصل نہ ھوسکا، آخر ایک دن وہ ھمت ھار کر اپنی کار میں شہزاد کے پاس بالکل مایوسی کے عالم میں پہنچی، لیکن شہزاد وہاں پر موجود نہیں تھا، اس نے سارا علاقہ چھان مارا لیکن اسے نہ پا سکی،!!!!!

    آخرکار وہ بالکل پریشان حال سمندر کے کنارے جاکر اپنی کار کو کنارے لگایا، اور وہیں پر اپنی چادر بھچا کر اللٌہ کے حضور سر بسجود ھوگئی، اسکے ساتھ محلے کی ایک ان کی سہیلی موجود تھیں، جو اس کا اس معاملے میں اس کا ساتھ دے رھی تھیں، اسی نے نازنین کو سنبھالا ھوا تھا، اور انہیں کی زبانی ان تمام حالات سے آگاھی بھی ھوئی، جو کہ انہوں نے تمام واقعات کی تفصیل شہزاد کی بھابھی تک پہنچائی،!!!!!!

    نازنین نے وہیں پر اللٌہ کے حضور سر بسجود ھوکر خوب گڑگڑایا اور روتے ھوئے درخواست کی کہ،!!!! ایک دفعہ مجھے بس شہزاد سے ملادے، ایک دفعہ بس میں اسے دیکھ لوں،!!!! مجھے کچھ اور نہیں چاھئے،!!!! اور وہ وہاں روتی رھی،!!!! اس کی سہیلی نے اسے اپنے ھاتھوں سے غم سے نڈھال نازنین کو اٹھایا، اور اسے کار میں بٹھایا، اور سہیلی نے ھی کار کا اسٹئیرنگ سنبھال لیا، لیکن کار کو اسٹارٹ کرنے سے پہلے اس نے نازنین کو چہرہ جو مٹی سے اٹا ھوا تھا، خوب اچھی طرح پانی ایک بوتل جو ان کے پاس موجود تھی اس سے صاف کیا، اس کے کپڑوں کو درست کیا، نازین اتنی خوبصورت تھی کہ اسے کبھی بھی میک اپ میں کی ضرورت ھی نہیں پڑی اس کے پاس قدرتی حسن تھا،!!!

    اس کی سہلی نے کار چلاتے ھوئے نازنین سے کہا کہ،!!!!! " آج تو تم پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت دکھائی دے رھی ھو،!!!!!"

    مگر نازنین نے کوئی جواب نہیں دیا وہ تو اپنے ھی خیالوں میں گم تھی، اس کی سہیلی خاموش ھوگئی اور اپنی توجہ کار چلانے پر ھی منحصر کیا، اور کار کا رخ نازنین کے گھر کی طرف کردیا!!! جیسے ھی وہاں کے ایک مزار کے پاس سے کار گزری، نازنین فوراً ھی چیخ مارتے ھوئے کہا کہ!!!!!!
    " روکو روکو مجھے اس مزار پر جانا ھے، بس ایک آخری مرتبہ،!!!!!

    اسکی سہیلی نے کہا کہ،!!!! " اچھا چھا بس ابھی واپس موڑ کر کار کو لاتی ھوں، صبر کرو ابھی دروازہ مت کھولو،!!!!!!"

    نازنین تو بس چلتی کار میں سے کودنا چاھتی تھی، لیکن بروقت اسکی سہیلی نے ایک ھاتھ سے اسے کھینچ لیا، اور کار کا دروازہ بند کرتے ھوئے اسکی سہیلی اس پر چیختے ھوئے کہا،،!!!!!

    "تمھارا دماغ خراب ھوگیا ھے، کیوں اپنی جان دینے پر تلی ھوئی ھو، کم از کم اپنا نہیں تو میرا تو خیال کرو میں گاڑی چلارھی ھوں، کوئی حادثہ ھوجاتا تو،!!!!!! "

    جواباً نازنین نے افسردگی کی حالت میں کہا کہ،!!!!!
    " اب اس زندگی سے کیا فائدہ ایسی زندگی سے تو موت ھی اچھی ھے، میں اسے دیکھے بناء مر بھی نہیں سکتی، کاش کہ ایک دفعہ اللٌہ مجھے اس سے ملادے، بس ایک دفعہ اسے دیکھ لوں، اب میری یہی بس ایک خواھش ھے، بہت تھک چکی ھوں،!!!!"

    اسکی سہیلی بس غصہ میں ھی بڑبڑاتے ھوئے کار کو آگے چوراھے سے موڑ کر مزار کی طرف کردیا اور وہان کی سیڑھیوں کے پاس پہنچ کر ایک کنارے کار کو روک دیا، جیسی ھی کار رکی نازنین نے فوراً ھی کار کا دروازہ کھولا اور سیڑھیوں کی جانب لپکی،،!!!!

    اسکی سہیلی کار میں اسٹیرئنگ سیٹ پر بیٹھے ھوئے ھی نازنین کو سیڑھیوں پر جاتے ھوئے دیکھ رھی تھی، لیکن اچانک اس نے نازین کو غائب پایا، یہ کیسے ھوسکتا ھے ھالانکہ وہاں اس وقت کوئی رش نہیں تھا، دھوپ نکلی ھوئی تھی، اس کی سہیلی کو تعجب ھوا کہ نازنین ایک دم کیسے نظروں کے سامنے سے غائب ھوسکتی ھے،!!!!

    اسکی سہیلی نے فوراً ھی کار کا دروازہ کھولا اور وہ بھی سیڑھیوں کی طرف دوڑی، اور بھاگتے ھوئے اچانک رک گئی، اس نے دیکھا کہ نازنین ایک فقیر کے پاس بیٹھی ھوئی کچھ کہہ رھی ھے،!!!!!

    وہ کون ھے پہلے تو کبھی کسی نے اسے یہاں نہیں دیکھا تھا، اور بھی کئی فقیر کٹورا ھاتھ میں لئے بھیک مانگتے ھوئے آوازیں نکالتے ھوئے آس پاس بیٹھے نظر آئے، لیکن نہ اس کے منہ سے کوئی آواز سنائی دی اور نہ ھی کوئی صدا، بس ایک خاموشی سی تھی، بس اس کے کبھی کبھی ھلنے جلنے سے اس کے سلامت ھونے کا گمان ھوتا تھا،!!!!

    ایک کار سیڑھیوں کے آخری سطح کے پاس ایک کنارے پر رکی، کار کا دروازہ کھلا اس میں سے ایک بہت ھی خوبصورت دوشیزہ نفیس لباس زیب تن کئے نکلی، اور سیدھا اسی فقیر کے پاس رکی اور اس کے سامنے بیٹھ گئی، اسکی آنکھوں میں آنسوں کی ایک قطار سی بہہ رھی تھی،!!!!

    اس دوشیزہ کے منہ سے ایک کپکپاتی ھوئی آواز سنائی دی،!!!!


    شہزاد !!!!! میرےشہزاد،!!!!! ایک بار میری بات تو سن لو،!!!!

    شہزاد کو کچھ ھوش نہیں تھا، فقیروں جیسی حالت میں مزار کی سیڑھیوں پر ایک کنارے پڑا تھا، بس اسکی ھلکی ھلکی سانسیں چل رھی تھیں، کچھ بولنے کے قابل نہیں تھا،!!!!

    نازنین بھی اس کے پاس بیٹھی اسے ھلاتی جلاتی رھی، کہ اچانک شہزاد نے ایک جھٹکے سے اپنی آنکھیں کھولی اور سامنے اپنی نازنین کو دیکھتے ھی کہا،!!!!

    "نازنین تم آگئی، میں نے تو تمھارا برسوں تک بہت انتظار کیا لیکن تم نے اب آنے میں بہت دیر کردی، اب تم واپس چلی جاؤ،!!!!! "

    تعجب تو اس بات کا تھا کہ اس وقت شہزاد بالکل ھوش میں اور صحیح طرح سے بات کررھا تھا،!!!!!

    نازنین نے اسکی منت کرتے ھوئے کہا،!!!!
    "دیکھو شہزاد اب میں تمھارے پاس ھمیشہ کے لئے آگئی ھوں،!!! اب میں وعدہ کرتی ھوں کہ تم سے کبھی بھی دور نہیں جاؤں گی،!!!! خدارا اب تو میرے ساتھ چلو،!!!! "

    مگر پھر وہ خاموش ھوگیا،!!!! اسکی سہیلی اور خود نازنین نے اسے سہارا دے کر اٹھانے کی کوشش کی، لیکن اس کے جسم میں جیسے جان ھی نہیں رھی، فوراً ھی کچھ لوگوں کی مدد سے اسے سیڑھیوں کے کنارے لا کر کار کی پچھلی سیٹ پر ڈالا،!!!!!

    اور پھر وہ دونوں اسے ایک قریبی اسپتال لے کر گئی، وہاں ایمرجنسی میں ڈاکٹر نے اس کا چیک اپ کیا، اور پھر باھر آکر اس نے کہا کہ یہ تو یہاں آپ کے لانے سے پہلے ھی دم توڑ چکے ھیں،!!!!

    ڈاکٹر کی بات سنتے ھی نازین کی آنکھیں پتھرا سی گئیں، اور جیسے اسے سکتا ھو گیا،،!!!!!

    نازنین کو سہارا دے کر اسکی سہیلی نے اسے ایک کرسی پر بٹھایا، اور اس نے وہیں سے شہزاد کے بھائی کے پڑوس میں ٹیلیفون کرکے شہزاد کی بھابھی کو ساری تفصیل سے آگاہ کیا،!!!

    کچھ ھی دیر میں شہزاد کے بھائی اور بھابھی اور بڑا بیٹا وہاں پہنچ چکے تھے، تمام اسپتال کی کاغذی کاروائی سے فارغ ھوکر انہوں نے نازنین کی سہیلی کا شکریہ ادا کیا، اور نازنیں کی حالت دیکھتے ھوئے کہا کہ آپ اسے اپنے گھر لے جائیں، اور ھم شہزاد کی آخری رسومات کیلئے اپنے گھر لے جاتے ھیں،!!!!!!

    آخری اطلاعات کے مطابق نازنین کو بالکل چپ لگ گئی تھی، اسکی سہیلی ھمیشہ اسے وھیل چئیر پر لئے ایک سکتے کی حالت میں لئے اس کے ساتھ رھتی رھی، وہ جہاں بھی ھو چھت کو یا آسمان کو گھورتی رھتی تھی، نہ جانے وہ خدا سے کیا شکوہ کرنا چاہ رھی تھی، جبکہ اس کی دعاء تو اوپر والے نے پہلے ھی سن لی تھی،!!!!!!

    "ایک دفعہ مجھے بس شہزاد سے ملادے، ایک دفعہ بس میں اسے دیکھ لوں،!!!! مجھے کچھ اور نہیں چاھئے،!!!!"

    " اب اس زندگی سے کیا فائدہ ایسی زندگی سے تو موت ھی اچھی ھے، میں اسے دیکھے بناء مر بھی نہیں سکتی، کاش کہ ایک دفعہ اللٌہ مجھے اس سے ملادے، بس ایک دفعہ اسے دیکھ لوں، اب میری یہی بس ایک خواھش ھے، بہت تھک چکی ھوں،!!!!"

    ------------------------------------------اختتام-----------------------------------------
     
  4. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    السلام علیکم
    عمدہ تحریر ہے۔۔ایک عبرتناک فسانہ۔
    اس میں عبرت کی وہ ساری چیزیں‌ہیں‌جو ہر دو اصناف کےلئے کارآمد ثابت ہوسکتی ہیں اگر سبق لیا جائے تب۔!
    ہر تصویر کے مختلف پہلو ہوتے ہیں۔اسکو اسلامائیز انداز میں دیکھیں تو لڑکی اور لڑکا دوںوں‌نے اپنے حدود سے تجاوز کیا تھا۔جو کہ مکمل غیر اسلامی تھے۔
    یہ اگر ایک کہانی بھی ہوتی بس تو بھی اس میں عبرت ہوتی۔لیکن جبکہ یہ ایک سچی کہانی متصور کی جارہی ہے تب تو واقعی ہمیں ایسی چیزوں سے سبق لیکر ہماری نئی نسل کو اسکی آفتوں سے بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
    بڑی ہی عبرتناک تصویر کشی خوبصورت انداز میں کی ہے۔
    واقعی دل کو چھولینے والی عبرتناک تحریر ہے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 27, 2010
  5. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    بہت بہت شکریہ پر خلوص جی،!!!!!

    یہ واقعی حقیقت میں کسی پر گزری ھوئی ایک سچی داستان ھے، جو میں نے ان کچھ واقعات کو اپنی آنکھوں سے بھی دیکھا اور باقی دوسروں کی زبانی بھی جو میں معلوم کرسکا اسے میں نے قلم بند کرنے کی کوشش کی ھے، بس اس میں کرداروں کے اصل ناموں، مکالمہ نگاری اور منظر کشی میں کچھ تھوڑی بہت تبدیلیاں کی ھیں، تاکہ کسی کو کسی بات سے دکھ نہ پہنچے اور کسی کی رسوائی بھی نہ ھو،!!!!

    خوش رھیں،!!!
     
  6. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,396
    یوں تو ساری کہانی بہت عمدہ ہے لیکن ذیل کی منظر کشی ایک مثالی مسلمان گھرانے کا تصور ذہن میں لاتی ہے۔ یوں تو آج کل افسانہ نویسی میں کئی جدید اختراعات دیکھنے کو ملتی ہیں لیکن اسلامی اقدار سے روشناسی کم تحریریں‌ ہی کرا پاتی ہیں۔ بہت خوب عبدالرحمٰن سید صاحب۔

     
  7. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    بہت بہت شکریہ رفی جی،!!!

    یہی حوصلہ افزائی میرے اندر ایک ہمت اور حوصلہ پیدا کرتی ھیں، جبکہ میں نہ تو کوئی شاعر ھوں اور نہ ھی کوئی مستند ادیب بس جو بھی زباں پر آتا ھے لکھتا چلا جاتا ھوں، اس میں غلطیاں بھی ھو سکتی ھیں، جس کے لئے معذرت !!!!

    کوشش کرتا ھوں کہ عام فہم اور آسان لفظوں سے اپنی تحریروں میں ایک چاشنی پیدا کروب تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے لطف اندوز ھوسکیں،!!!

    میں نے اپنی زندگی پر بیتی ھوئی حقیقی کہانی کو بھی کئی مختلف اردو محفل اور ھماری اردو کے فورم پر قلم بند کیا ھے، اور اپنی غلطیوں کو زیادہ سے زیادہ سامنے لانے کی کوشش کی ھے، تاکہ پڑھنے والے اس سے سبق لیں سکیں اور اپنی زندگی میں ایک بہتر سدھار لاسکیں ساتھ ھی اپنے بچوں کی صحیح تربیت بھی کرسکیں،!!!

    اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں یہاں پر بھی اپنی خود توشت سوانح حیات کے چند اقتباسات کو اپنے رنگ میں پیش کرسکتا ھوں،!!!!

    اب اجازت ، اللٌہ حافظ،!!!
     
  8. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,396
    محترم عبدالرحمٰن سید صاحب!
    ہماری خوش نصیبی ہوگی کہ آپ ہمیں مزید اپنے تجربات و مشاہدات سے مستفیذ فرمائیں!
     
  9. ابو یاسر

    ابو یاسر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    2,413
    محترم عبدالرحمٰن سید صاحب سے معذرت کے ساتھ
    اگر جس نے یہ کہانی پڑھی ہے کوئی بھائی اس کا اختصار بھی لکھ دیں تو بڑی مہربانی ہوگی
    ناکافی وقت اور کمرے کی بجلی کٹ جانے کی وجہ سے میں بڑی پوسٹ کرنے اور پڑھنے سے قاصر ہوں
     
  10. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    بہت خوب عبد الرحمن بھائی
     
  11. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    بھائی الیکس۔۔
    خلاصہ
    ملاحظہ فرمائیں۔:00003::00003::00003:

    ایک تھے شہزاد بھائی۔۔خوبرو سے اور پڑھے لکھے اچھے سے عہدہ پر فائز۔لیکن نادان
    ایک تھی شہزادی بی (نازنین) وہ بھی تھی نادان۔
    دونوں نادانوں کو ایکدوسرے سے "وہ" ہوگیا۔
    لیکن نازنین کے گھر والے اس وہ کو اپروو نہ کرسکے اور یہ غم شہزاد بھائی برداشت نہ کرسکے۔
    اور "پاگل" ہوکر کچھ دنوں بعد اس دنیا سے چل بسے۔
    اور نازنین بھی "نیم پاگل" ہوکر اس دنیا سے "پراکٹیکلی ناطہ توڑ لیا" اسے ایک خواہش تھی کہ "ایک نظر" ہی سہی اپنے عاشق کو دیکھ لے، بالآخر اسکی یہ خواہش پوری ہوئی۔اور اسی لمحہ شہزاد بھائی بھی اس دنیا سے چل بسے۔اللہ بیچارے اور بیچاری دونوں‌ پر رحم کرے۔آمین
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 30, 2010
  12. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    بہت شکریہ الیکس جی، خوش رھیں،!!!
    اس کا خلاصہ پرخلوص جی نے بہت ھی خووبصورت پیرائے میں تحریر کردیا ھے،!!! امید ھے کہ آپ کو پسند آیا ھو گا،!!!!
     
  13. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205

    بہت بہت شکریہ ساجد تاج جی،
    خوش رھیں،!!!!
     
  14. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    بہت بہت شکریہ جناب رفی جی،!!!!
    آپکی اجازت ملتے ھی میں نے اپنی سوانح حیات کی بھولی بسری یادوں میں سے اپنے بچپن سے اخذ کے ھوئے چند خاص خاص اقتباسات پیش کئے ھیں امید ھے کہ پسند آئے ھونگے،!!!! کوئی اگر لکھنے میں غلطی سرسزد ھوگئی ھو تو معذرت چاھتا ھوں،!!!!

    آگے اب آپ انہیں یادوں کے ساتھ ساتھ میرے لڑکپن کے دور کے بھی چند خاص خاص بھولی بسری یاداشتیں ملاحظہ کیجئے گا،!!!!

    خوش رھیں،!!!
     
  15. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,702
    عبد الرحمٰن بھائی بہت اچھی اور سبق آموز کہانی لکھی ہے۔
    میں بھی معزرت کے ساتھ یہی کہنا چاہوں گا کہ اگر مختصر کر کے بیان کی جاتی تو زیادہ بہتر تھا تاکہ ہر آدمی آسانی سے اسے پڑھ سکے۔شکریہ
     
  16. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    زاھد صاحب ،!!!
    پسندیدگی کیلئے بہت بہت شکریہ، آپکے خیال کو میں بالکل درست مانتا ھوں، بس کچھ اندازہ ھی نہ رھا اور میں لکھتا چلا گیا، جس کا کہ مجھے بعد میں احساس بھی ھوا، جس کیلئے معذرت چاھتا ھوں،!!!!
    خوش رھیں،!!!
     
  17. محمد اکبر فیض

    محمد اکبر فیض -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2007
    پیغامات:
    1,393
    عبد الرحمٰن سید بھائی بہت ہی اچھی اور سبق آموز کہانی ہے اللہ تعالٰی ہم سب پر رحم فرمائے انسان کی کیا کیا حالتیں ہیں ۔
    بہت شکریہ
     
  18. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    آپکی حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ جناب محمد اکبر فیض صاحب،!!!
    خوش رہیں،!!!!
     
  19. thetrueman

    thetrueman -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 21, 2010
    پیغامات:
    40
    واہ کمال کر دیا بھائی۔ پہلے اوکھے سوکھے اتنی لمبی تحریر پڑھی اور آخر پر عبرت کے ساتھ رونا بھی آیا۔:00005: پھر آپ کی sms ٹائپ کی سمارٹ تحریر پڑھ کر ہنسی بھی آئی جس سے عبرت کے ساتھ رونے کا اثر کافور ہو گیا۔:00026: آپ نے تو اتنی مختصر کر دی کہ بلبل کا بچہ کھاتا تھا کھچڑی کی نظم یاد آگئی۔
     
  20. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    ابو طلحہ جی اور سچے آدمی جی،!!!!

    بہت بہت شکریہ، اس خوبصورت تبصرے کے لئے،!!!!!

    آپ نے میری اس طویل تحریر کے لئے آپ سب نے اپنا قیمتی وقت ضائع کیا،!!! جس کے لئے میں دست بستہ معافی کا خواست گار ہوں، مجھے افسوس ہے کہ میں نے آپ سب کو اس طرح کی کہانی لکھ کر مایوس کیا، جس کے لئے میں بہت شرمندہ ہوں، میں نے اپنے اس لکھنے کے شوق کو جو 1972 میں چند ناگزیر مجبوریوں کی وجہ سے خیرباد کہنا پڑا تھا، اور 35 سال بعد دوبارہ میں نے کوشش کی کہ اپنے شوق کو دوبارہ پروان کرنے کی کوشش کروں، اور کچھ بہتر لکھنے کی کوشش کرسکوں،!!! جس کے لئےاتنے لمبے عرصہ کے بعد 2007 میں نے اردو ویب سائٹ کا سہارا لیا، اور کچھ سیکھنے کی کوشش لیکن میری بدقسمتی کہ میں اس ادب کے معیار پر پورا نہیں اتر سکا، اس لئے میں نے یہی فیصلہ کرلیا ہے، کہ اب ایسی کوئی گستاخی کرنے کی کوشش نہیں کروں گا، جس کا کہ میں اس قابل نہیں ہوں،!!!!!

    خوش رہیں،!!!!!
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 11, 2011

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں