ابن تیمیہ کا عقیدہ سماع موتٰی

bheram نے 'نقطۂ نظر' میں ‏فروری 12, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. bheram

    bheram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2009
    پیغامات:
    261
    کتاب: روح عذاب قبر اور سماع موتٰی
    مصنف: عبدالرحمٰن کیلانی
    اقتباس:

    ابن قیم اور ان کے استاد ابن تیمیہ دونوں بزرگ نہ صرف یہ کہ سماع موتٰی کے قائل تھے بلکہ ایسی طبقہ صوفیاء سے تعلق رکھتے تھے جنھوں نے اس مسئلہ کو اچھالا اور ضیعف اور موضوع احادیث کا سہارا لیکر اس مسئلہ کو علی الاطلاق ثابت کرنا چاھا ابن تیمیہ اور ابن قیم دونوں صاحب کشف و کرامات بھی تھے اور دونوں بزروگوں نے تصوف و سلوک پر مستقل کتابیں بھی لکھی .

    صفحہ نمبر 55.56
     
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,323


    بھائی آپ بہتر ہے ان عبارات کو کوٹ کریں تاکہ مسئلہ واضح ہو۔ شکریہ جناب
     
  4. Abu Abdullah

    Abu Abdullah -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    934
    جزاک اللہ خیرا عین سسٹر!

    اللہ اپکے علم و عمل میں مذید اضافہ کرے آمین!
     
  5. asim10

    asim10 -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 3, 2009
    پیغامات:
    187
    اسلام علیکم
    اس پوسٹ سے بات سمجھ نہیں آئی۔کہ بھرام صاحب ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں‌۔کیا ابن قیم اور ابن تیم کی بات ھمارے لیے دلیل شرعی ہے نہیں‌میرے لیے تو نہیں‌۔جب تک کہ قرآن و سنت سے ثابت نہ ہو۔
     
  6. ابو طلحہ السلفی

    ابو طلحہ السلفی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    555
    اصل میں بہرام صاحب کو اس طرح کی اوٹ پٹانگ ہانکنے کی عادت ہے، میری ایک طویل عرصے تک ان موصوف سے مختلف فورمز پر بات چیت ہوتی رہی ہے لیکن یہ بہت ڈھیٹ انسان ہیں ان کے سامنے دلائل کے جتنے مرضی ڈھیر لگا دیے جائیں لیکن نہ ماننا تو ان کی فطرت میں شامل ہے، میں ان کو ان گنت بار یہ بات سمجھا چکا ہوں کے بھئی ہر ایک کو اپنی طرح اندھا مقلد مت سمجھا کرو یہ ہمارا بنیادی اصول ہے ہر شخص کی بات کو کتاب و سنت پر پیش کیا جائے گا اگر موافق ہو تو لے لیا جائے گا اور اگر خلاف ہو تو چھوڑ دیا جائے گا {فتاوی علماء اہلحدیث} کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا ایسی کوئی ہستی ہے ہی نہیں جس کی سب باتوں کو بنا تحقیق تسلیم کر لیا جائے
     
  7. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    سماع موتٰہ
    ’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بندے کو (مرنے کے بعد) جب اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی (تدفین کے بعد واپس) لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے تو اس وقت اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر کہتے ہیں تو اس شخص یعنی (سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے متعلق (دنیا میں) کیا کہا کرتا تھا؟ اگر وہ مومن ہو تو کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے (کامل) بندے اور اس کے (سچے) رسول ہیں۔ اس سے کہا جائے گا : (اگر تو انہیں پہچان نہ پاتا تو تیرا جو ٹھکانہ ہوتا) جہنم میں اپنے اس ٹھکانے کی طرف دیکھ کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے اس (معرفتِ مقامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) بدلہ میں جنت میں ٹھکانہ دے دیا ہے۔ پس وہ دونوں کو دیکھے گا اور اگر منافق یا کافر ہو تو اس سے پوچھا جائے گا تو اس شخص (یعنی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے متعلق (دنیا میں) کیا کہا کرتا تھا؟ وہ کہتا ہے کہ مجھے تو معلوم نہیں، میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔ اس سے کہا جائے گا تو نے نہ جانا اور نہ پڑھا. اسے لوہے کے گُرز سے مارا جائے گا تو وہ (شدت تکلیف) سے چیختا چلاتا ہے جسے سوائے جنات اور انسانوں کے سب قریب والے سنتے ہیں۔‘‘

    أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الجنائز، باب : ما جاء في عذاب القبر، 1 / 462، الرقم : 1308، وفي کتاب : الجنائز، باب : الميت يسمع خفق النعال، 1 / 448، الرقم : 1673، ومسلم في الصحيح، کتاب : الجنة وصفة نعيمها وأهلها، باب : التي يصرف بها في الدنيا أهل الجنة وأهل النار، 4 / 2200، الرقم : 2870، وأبوداود في السنن، کتاب : السنة، باب : في المسألة في القبر وعذاب القبر، 4 / 238، الرقم : 4752، والنسائي في السنن کتاب : الجنائز، باب : المسألة في القبر 4 / 97، الرقم : 2051، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 126، الرقم : 12293.
    غیر اللہ کی عبادت - مباحث - صفحہ 2 - URDU MAJLIS FORUM

    اب کیا خیال ہے اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بات کو مانو گے جو فرمارہیں ہیں کہ " مردہ تدفین کے بعد جانے والوں کے جوتوں کی چاپ سن رہا ہوتا ہے"
    یا اب بھی چوں چرہ کرو گے
    جب مردہ جوتوں کی معمولی آواز سن لیتا ہے تو پھر دیگر آوازیں سن لینا اس کے لیے کیا دشوار ہے
     
  8. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    اس سے ایک بات تو ثابت ہوجاتی ہے کہ صوفی ابن تیمیہ
     
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,923
    قرآن کی آیت ہے کہ
    ‏[qh]إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى --- الخ‏‏ ‏[‏سورة النمل‏:‏ آية 80‏][/qh]
    بیشک آپ ان مردوں کو نہیں سنا سکتے

    [qh]وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ إِنَّ اللَّهَ يُسْمِعُ مَن يَشَاءُ وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ[/qh]
    ترجمہ آیت:اور زندے اور مُردے برابر نہیں ہو سکتے اللہ جس کو چاہتا ہے سنوا دیتا ہے ،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں۔(سورہ فاطرآیت21،22 )؎
    1-ان آیات سے واضح‌ہوتا ہے کہ اللہ جس کو چاہتا ہے سنوا دیتا ہے ۔ اور اللہ نے یہ کہیں نہیں کہا کہ مردے سنتے ہیں‌۔

    2- حدیث میں ہے کہ جب وہ مردے کو دفنا کر جاتے ہیں تو مردا جانے والوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے ۔ یہ بھی مخصوص وقت کے لیے ہے ۔ اور نہ ہی حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مردہ بار بار سنتا رہتا ہے کیا کسی نے آج تک یہ دیکھا ہے کہ مردے نے جانے والوں کو بلایا ہو اورکہا ہو کہ ''کیوں مجھے زمین میں‌دفن کر کے جا رہے ہو ابھی تو میں زندہ ہوں۔ بھلا زندہ کو بھی دفن کرتے ہیں‌۔''

    3- اگرفرض کریں کہ مردہ سنتا ہے تو اسے جواب بھی دینا چاہے ۔ اگر جواب نہیں دیتا تو پھر سننے کا فائدہ ۔یہ تو ایسے ہی ہوا کہ آپ کسی جانور کو سنائیں وہ سن لیتا ہے لیکن جواب نہیں دیتا۔

    4
    آپ کی یہ بات قرآن کے خلاف ہے کیونکہ اللہ نے فرمایا کہ آپ ان کو نہیں‌ سنا سکتے ۔
    پھر آپ نے کہا کہ اگر مردہ یہ معمولی آواز سن لیتا ہے تو دیگر آوازیں سن لینا اس کے لیےکیا دشوار ہے ۔ ۔ یہ آپ کی اپنی طرف سے ہے اس پر قرآن کی کوئی آیت اور صحیح حدیث نہیں‌۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 27, 2010
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,050
    کیا قائیلینِ تصوف امام ابن تیمیہ اور ان کی کتاب کو قبول کریں گے اور امام ابن قیم رحمہما اللہ کو بھی۔
     
  11. ابو طلحہ السلفی

    ابو طلحہ السلفی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    555
    بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سر آنکھوں پر لیکن آپ نے اپنی پیش کردہ حدیث سے جو استدلال کیا ہے وہ کچھ یوں ہے:


    لیکن آپ کا یہ استدلال قرآن کی اس آیت مبارکہ کے بالکل خلاف ہے:

    إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى --- الخ‏‏ ‏[‏سورة النمل‏:‏ آية 80‏]
    بیشک آپ ان مردوں کو نہیں سنا سکتے

    اس لیے اس حدیث سے آپ نے جو استدلال کیا وہ بالکل باطل ہے اور اس حدیث کا صحیح مفہوم یہی ہے کہ اس میں صرف ایک خاص وقت میں مردے کے سننے کا زکر ہے نہ کہ مستقل طور پر، باقی ابن رواحة بھائی نے بھی آپ کو یہی بات سمجھانے کی کوشش کی ہے اللہ آپ کو سمھجھنے کی توفیق دے آمین۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 27, 2010
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,050
    صوفیاء گانا سننے والے، حال کھیلنے والے، مفسد بے دین ہیں۔
    (ہدایہ جلد 4، صفحہ 317
    رقص کرنے والے، حال جاننے والے اور حال کھیلنے والے کافر ہیں
    (در مختارجلد 2، صفحہ 610
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    اور اندھوں کو ان کی گمراہی سے تم ہدایت کرنے والے نہیں تمہارے سنائے تو وہی سنتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور وہ مسلمان ہیں

    سورۃ النمل آیۃ 81

    اب آیا آپ کی سمجھ میں کہ آیت نمبر 80 میں مردوں سے مراد کافر ہیں چونکہ یہاں مُردہ کُفّار کو فرمایا گیا اور ان سے بھی مطلقاً ہر کلام کے سننے کی نفی مراد نہیں ہے بلکہ پند و موعِظت اور کلامِ ہدایت کے بسمعِ قبول سننے کی نفی ہے اور مراد یہ ہے کہ کافِر مُردہ دل ہیں کہ نصیحت سے منتفع نہیں ہوتے ۔
     
  14. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
  15. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    اور برابر نہیں زندے اور مردے بیشک اللّٰہ سناتا ہے جسے چاہے اور تم نہیں سنانے والے انہیں جو قبروں میں پڑے ہیں ۔
    سورۃ فاطر آیۃ 22

    اس آیت میں بھی کُفّارکو مُردوں سے تشبیہ دی گئی کہ جس طرح مردے سنی ہوئی بات سے نفع نہیں اٹھا سکتے اور پند پذیر نہیں ہوتے ، بدانجام کُفّار کا بھی یہی حال ہے کہ وہ ہدایت و نصیحت سے منتفع نہیں ہوتے ۔ اس آیت سے مُردوں کے نہ سننے پر استدلال کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ آیت میں قبر والوں سے مراد کُفّار ہیں نہ کہ مردے اور سننے سے مراد وہ سنتا ہے جس پر راہ یابی کا نفع مرتب ہو ،

    اور اب تفسیر ابن کثیر بھی دیکھ لیں‌

    http://qurango.com/images/t4/363.jpg



    ثثثثث
     
  16. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    مگر حدیث شریف میں ایسی کوی بات بیان نہیں ہوی کہ مردے کا یہ سننا صرف مخصوص وقت کے لیے ہوتا ہے بشک مردہ آواز دیتا ہے مگر مردے کی آواز سواے انسانوں اور جنوں کے تمام مخلوق سن لیتی ہے یہ بھی بیان کی گئی حدیث سے ثابت ہے اور جہاں تک آپ کی یہ بات کہ " بھلا زندہ کو بھی دفن کرتے ہیں "
    اللہ تعالٰٰی فرماتا ہے کہ " جو اللہ کی راہ میں شہید ہوں انہیں مردہ گمان بھی نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں "
    اب آپ یہ بتادیں کہ شہید جو کہ زندہ ہے اسے دفن کیا جاتا ہے یا نہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     
  17. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    لگتا ہے آپ حدیث کو پڑہے بغیر ہی چوں چراہ کئے جارہے ہیں اگر آپ حدیث شریف کو پڑھ لیتے تو اتنی بےتکی بات نہ کرتے حدیث میں صاف طور سے بیان ہوا ہے کہ مردہ فرشتوں کے سوال کا جواب دیتا ہے
     
  18. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    سورۃ النمل اور سورۃ فاطر کی آیات میں مردوں سے مراد کفار ہیں یہ بات ثابت ہو چکی
    جوتوں کی معمولی آواز سن لینا یہ ایک عقلی دلیل ہے
     
  19. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    اب جب ابن تیمیہ اور ابن قیم کے اپنے عبدالرحمٰن کیلانی ان کو قبول نہیں کررہے تو پھر آپ دوسروں سے ایسی امید کیوں رکھتے ہیں کہ وہ ان دو کو قبول کریں ؟؟؟؟
     
  20. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    کیا یہ فتوے صوفی ابن تیمیہ اور صوفی ابن قیم پر بھی لاگو ہوں گے؟؟؟؟؟ کیونکہ بقول عبدالرحمٰن کیلانی ان دو صاحبان نے تصوف اور سلوک پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں