ابلیس

ابو ہریرہ نے 'مجلس اطفال' میں ‏مئی 16, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو ہریرہ

    ابو ہریرہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 18, 2015
    پیغامات:
    42
    ملعون اعظم
    ابلیس​
    ابلیس ایک بڑے مرتبے کا جن تھا۔وہ اللہ کو مانتا تھا۔ وہ اللہ کوایک مانتا تھا۔ وہ اللہ کے سخت عذاب سے واقف تھا۔وہ جنت میں جا چکا تھا، اللہ سے باتیں کرچکا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس کا ایمان کس درجے کارہاہوگا! لیکن یہ دنیا کا سب بڑا عبرتناک واقعہ ہے کہ وہی ابلیس دنیاجہان کے بدنصیبوں سب سے بڑھ کربدنصیب نکلا جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان کی سلامتی کے ساتھ زندہ رہیں اور ایمان کی سلامتی ہی کے ساتھ مریں ان کے لیے ابلیس کے عبرت ناک واقعے میں بڑی نصیحتیں ہیں۔ قرآن مجید میں اس بدنصیب کا حال جگہ جگہ بیان ہوا ہے جو اس طرح ہے:
    اللہ تعالیٰ نے سیدناآدم﷤کوپیدا کرنے سے پہلے فرشتوں سے فرما دیا تھا کہ میں جلد ہی مٹی سے ایک انسان بنانے والا ہوں۔ انسان کواپنا خلیفہ بناؤں گا تو جب میں اس کو بنا اور سنوارلوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو سب اسے سجدہ کریں۔
    یہ فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نےسیدناآدم﷤کومٹی سے پیدا فرمایا۔ سب کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں ۔ابلیس کے سوا سب نے انسان کو سجدہ کیا ۔ابلیس نے آدم کو سجہ نہیں کیا تواللہ تعالیٰ اس نافر مانی پر ناراض ہوا اور فرمایا: ’’تونے میرے حکم کو کیوں ٹالا؟ آدم کو سجدہ کیوں نہیں کیا؟ ‘‘بولا:’’اے اللہ! میں اسے سجدہ کیوں کرتا جبکہ میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور آدم کومٹی سے بنایا۔‘‘
    ابلیس کے اس جواب میں غرور تھا۔ اللہ تعالیٰ کوغرور پسند نہیں ۔
    اسی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ابلیس سے ناراض ہوگیا۔ ناراض ہوکر فرمایا:’’ جا نکل جا میری اس جنت سے ،تو اس لائق نہیں کہ یہاں رہ کرگھمنڈ کرے۔
    دور ہویہاں سے ۔ توواقعی ان میں سے ہے جوذلیل و خوار ہیں ۔‘‘
    ابلیس کو چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ کوناراض دیکھ کر جھٹ سجدے میں گر جاتا اور اپنی غلطی کی معافی ما نگتا ،لیکن اس بدنصیب نے ایسا نہیں کیا۔
    اسے’’آدم‘‘سے حسد پیدا ہوگیا تھا کہ اس کے ہوتے ہوئے ’’آدم‘‘کو یہ بڑائی کیوں دی گئی ؟وہ اپنے گھمنڈ میں چور اور اندھا ہورہا تھا۔اس نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بری طرح پھٹکار دیا اور اپنی جنت سے نکل جانےکا حکم دےدیا ، وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہوگیا۔اسے کسی حال میں اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا نہیں چاہیے تھا،اسے چاہیے تھا کہ وہ اللہ کے حضور گڑگڑاتا ، توبہ کرتا۔اللہ اپنے بندوں پربڑا مہربان اور رحیم ہے اور توبہ کرنے والوکوبہت پسند کرتا ہے۔اللہ ضرور اسے معاف کردیتا۔ مگر حسد، غرور اور مایوسی کی وجہ سے ابلیس کی عقل پر پتھر پڑ گئے تھے۔ توبہ کرنے کے بجائے اس نے اللہ تعالیٰ کوبڑی ڈھٹائی سے جواب دیا،بولا:’’توخودمجھے ذلیل خوار کرنا چاہتا تھا، اسی لیے توآدم کو یہ بڑائی دی، تونے میری راہ میں روڑا اٹکایا۔اچھا! تو اب میں ایسا ضرور کروں گا کہ جس کو تو نے یہ بڑائی دی، میں اس کی جڑ، بنیاد اکھاڑ پھینکوں گا۔ میں تو ڈوبا ہی،اسے بھی لے ڈوبوں گا۔
    دیکھ لینا! میں اسے بھی تیری رحمت سے دورہٹاکر رہوں گا، بہت تھوڑے انسان میری زد سے بچ سکیں گے۔‘‘
    ابلیس کی ڈھٹای کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’دور ہو اے ملعون! اورسن!آدم کی اولاد میں سے جو تیرے کہے پر چلےگا وہ تیراساتھی ہوگا میں تیرے سارے ساتھیوں سے جہنم کوبھردوں گا، لیکن تو یہ بھی یادر کھ! تومیرے مخلص بندوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکےگا، ان کا نگر ان اور پرست میں خود ہوں۔‘‘یوں ابلیس ہمیشہ کے لیے ملعون قرار دیا گیا۔اس کا انجام بھی اسے بتایا گیا۔ ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا گیا کہ جو ابلیس کی پیروی کرے گا اس کا انجام بھی ابلیس کے ساتھ ہوگا۔اس کا اور اس کے ساتھیوں کا ٹھکانا جہنم قرار پایا۔ استغفراللہ!
    ہم نے جب اس واقعے کو قرآن مجید میں پڑھا توہم اس نتیجے پر پہنچے کہ کوئی کیسا ہی بلند مرتبے والا ہو اور اس کااونچے سے اونچے درجےکاکیوں نہ ہولیکن اسےاللہ کے سامنے عاجزی ہی اختیار کرتے رہناچاہیے۔غرورسے بچنا چاہیے۔اپنے ایمان کی سلامتی کے لیے ہر وقت دعا کرتے رہنا چاہیے۔معلوم نہیں دوسرے لمحے کیاہو؟نیز یہ کہ کتنی ہی بڑی غلطی اور کیسا ہی بڑے سے بڑا گناہ ہوجائے،اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔اللہ بڑے سے دامن ہاتھ نہ چھوڑے اور توبہ و استغفارسے منہ نہ موڑے۔

    اَللّٰؔھُمَّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الٗاَرٗض اَنٗتَ وَلَىِ فِى الدَّنٗیَا وَالٗاخِرَةِ تَوَفَّنِىٗ مُسٗلِمًا وَّ الٗحَّقٗنِيٗ بِالصَّالِحِيٗنَ

    ***​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
    • مفید مفید x 2
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,234
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. انا

    انا ناظمہ خاص انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,320
    جزاک اللہ خیرا ۔
    آج ہی میں سورہ ص کا ترجمہ پڑھ رہی تھی ۔اس سورہ کی آخری آیات میں بھی یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,975
    جزاک اللہ خیرا۔
     
  5. أبو مجاهد

    أبو مجاهد رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2016
    پیغامات:
    54
    جزاک اللہ خیرا-بہت مفید الله سبحانه وتعالى ہم سب کو ابلیس کی مکّاری سے بچا ہے-اور ہم سب کے گناھون کو معاف فرمایے -آمين
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں