{اجماع}

منہج سلف نے 'علم و اصولِ حدیث' میں ‏جولائی 16, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,051
    اجماع


    قرآن و سنت کے بعد فقہ کے ذیلی ماخذ میں سے پہلا ماخذ اجماع ہے اور جمہور علماء کے نزدیک یہ ماخذ دیگر ماخذ سے قوت اور حجیت سے زیادہ قوی ہے۔

    اجماع کی تعریف:

    لغوی اعتبار سے تو اجماع "عزم، پختہ ارادہ اور کسی بات پر متفق ہونے" کو کہتے ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے۔

    لاَ صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يُجْمِعْ قَبْلَ الْفَجْرِ
    "اس شخص کا روزہ نہیں ہوگا جو فجر سے پہلے ہی روزہ رکھنے کی نیت نہ کرے"
    (صحیح: النسائی، کتاب الصیام: باب ذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ حَفْصَةَ فِي ذَلِك:2348 ، 2349)

    اور قرآن میں ہے کہ:
    [فَأَجْمِعُواْ أَمْرَكُمْ وَشُرَكَاءكم]
    "تم اپنا معاملہ اپنے شرکاء سے مل کر پختہ طور پر طے کرو"
    (سورہ یونس:71)

    اصطلاحی اعتبار سے اجماع کی تعریف یہ کی جاتی ہے:

    (ھو اتفاق المجتہدین فی عصر من الغصور علی حکم شری بعد وفاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم بدلیل)
    "اجماع سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کسی خاص دور میں (امت اسلامیہ کے) تمام مجتہدین کا کسی دلیل کے ساتھ کسی شرعی حکم پر متفق ہوجانا ہے-"
    [ الارشاد المفحول (1/285)، المستصفی الغزالی (1/183)]

    اجماع کی شرائط:

    ٭ مطلوبہ مسئلے پر متفق ہونے والے افراد مجتہد ہوں ورنہ اجماع معتبر نہ ہوگا۔

    ٭ مجتہدین کے اتفاق سے مراد تمام مجتہدین کا اتفاق ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ صرف ایک شہر والے یا ایک بستی کے علماء ہی کسی مسئلے پر جمع ہوں کیونکہ ایک کی مخالفت بھی اجماع کے منعقد ہونے مین رکاوٹ ہے-

    ٭ تمام مجتہد مسلمان ہوں۔

    ٭ جب کسی مسئلے پر تمام مجتہد متفق ہوجائيں تو پھر ضروری ہے کہ اتفاقی فیصلہ عمل میں آجائے- علاوہ ازیں یہ شرط نہیں ہے کہ تمام مجتہدین کی موت بھی اس اتفاق پر ہی ہو-

    ٭ اجماع کے لیے ضروری ہے کہ کسی شرعی حکم پر اتفاق ہو نہ کہ طب، ریاضی یا لغت سے متعلقہ کسی مسئلے پر ہو۔
    ٭ صرف وہی اجماع قابل قبول ہوگا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفات کے بعد ہوا ہو-

    ٭ اجماع کے لیے کسی شرعی دلیل کا ہونا ضروری ہے جس پر سب متفق ہوئے ہوں محض اپنی خواھش پر کیا جانے والا اجماع معتبر نہیں ہوگا۔

    اجماع کی مثالیں:

    ٭ مسلمان عورت کا کسی غیر مسلم مرد سے نکاح نہیں ہوسکتا

    ٭ پھوپھی او ر بھتیجی، خالہ اور بھانجی کو بیک وقت نکاح میں نہیں رکھا جاسکتا

    ٭ مفتوحہ اراضی کو فاتحین کے درمیان دیگر اموال غنیمت کی طرح نہیں بانٹا جائے گا

    ٭ اگر سگے بھائی، بہن نہ ہوں تو باپ کی طرف سے بننے والے بھائی بہن کو ان کا حصہ دیا جائے گا۔

    اجماع کی حجیت:

    جمہور علماء کے نزدیک اجماع حجیت ہے اور وہ حجیت اجماع کے جو دلائل پیش کرتے ہیں ان میں سے چند حسب ذیل ہیں:


    ٭ ارشاد باری تعالی ہے کہ:

    {وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءتْ مَصِيرًا}
    "اور جس نے ہدایت واضح ہوجانے کے بعد رسول کی نافرمانی کی اور مومنین کے راستے کے علاوہ کسی دوسرے راستے کی پیروی کی تو اسے ہم اسی کی طرف لے جائيں گے جدھر وہ خود گیا اور اسے جہنم میں داخل کردیں گے جو بہت بری جائے قرار ہے-"
    (النساء:115)

    ٭ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    { إن أمتي لا تجتمع على ضلالة }
    " بلاشبہ میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہوگی-"
    (صحیح: ابن ماجہ، کتاب الفتن: باب السواد الاعظم3950)

    ٭ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    { لا نزال طائفۃ من امتی ظاھرین علی الحق}
    " میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر غالب رہے گا-"
    (صحیح بخاری: کتاب التوحید: باب قول اللہ تعالی [ انما قولنا لشیئی اذا اردناہ}، 7459)

    اجماع کی اقسام:

    ٭ اجماع صریح: اس سے مراد یہ ہے کہ تمام مجتہدعلماء کسی مسئلے پر اس طرح متفق ہوں کہ وہ اس کے متعلق صراحت سے اظہار کریں حواہ قول سے کریں یا افتاء سے کریں یا قضاء سے کریں- یہ اجماع بالاتفاق حجت ہے-
    ٭ اجماع سکوتی: اس سے مراد یہ ہے کہ جب کوئی مسئلہ پیش کیا جائے تو چند اہل اجتہاد علماء تو اس پر متفق ہوجائيں لیکن دیگر مجتہدین اس پر خاموشی اختیار کریں اور کوئی اعتراض نہ کریں- یا اجماع احناف کے نزدیک حجت ہے جبکہ امام مالک رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ اسے اجماع تسلیم نہیں کرتے
    ۔
    لنک

    اقتباس: فقہ الحدیث
    تالیف: حافظ عمران ایوب لاھوری حفظ اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. بشیراحمد

    بشیراحمد ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اپریل 1, 2009
    پیغامات:
    1,575
    جزاک اللہ خیر ا
     
  3. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,912
    یہ تمام تر مثالیں غلط ہیں !!!
    مسلمان عورت کا کسی غیر مسلم مرد سے نکاح قرآن کی نص میں حرام ہے
    إِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ [الممتحنة : 10]
    اور مسلمان مرد کا غیر مسلم عورت سے نکاح بھی نص قرآنی میں حرام ہے
    وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ [الممتحنة : 10]
    پھوپھی او ر بھتیجی، خالہ اور بھانجی کو بیک وقت نکاح میں نہیں رکھا جاسکتا یہ بھی فرمان نبوی کے نص سے ثابت ہے
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا
    صحیح بخاری کتاب النکاح باب لا تنکح المرأۃ على عمتہا حــــ 5109
    مفتوحہ اراضی کو فاتحین کے درمیان دیگر اموال غنیمت کی طرح نہیں بانٹا جائے گا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے فیصلے سے متناقض تھا اور انہوں نے اس فیصلہ سے رجوع کا بھی اظہار کیا تھا اور یہ بھی یاد رہے کہ اس پر اجماع بھی نہیں ہوا بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس بارہ میں عمر رضی اللہ عنہ سے اختلاف کیا حتی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تنگ آکر جب دلائل سے بات نہ بن پڑتی تو فرمایا کرتے اللہ أکفنی بلالا و ذویہ !!! ( اے اللہ مجھے بلال رضی اللہ عنہ اور ان جیسوں سے کافی ہو جا(
    اگر سگے بھائی، بہن نہ ہوں تو باپ کی طرف سے بننے والے بھائی بہن کو ان کا حصہ دیا جائے گا
    یہ مسئلہ بھی نص قرآنی سے ثابت ہے
    يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلاَلَةِ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَا إِن لَّمْ يَكُن لَّهَا وَلَدٌ فَإِن كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ وَإِن كَانُواْ إِخْوَةً رِّجَالاً وَنِسَاء فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ يُبَيِّنُ اللّهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّواْ وَاللّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ [النساء : 176]
     
  5. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,051
    جزاک اللہ شیخ!
    میں اس بارے میں شیخ عمران ایوب حفظ اللہ سے فون پر بات کروں گا۔ ان شاءاللہ
    والسلام علیکم
     
  6. بشیراحمد

    بشیراحمد ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اپریل 1, 2009
    پیغامات:
    1,575
    اجماع کی مثالوں کے لئے ملاحظہ فرمائیں
    کتاب الاجماع
    مصنف :امام ابوبکربن المندز نیشاپوری (242 ، 318)
     
  7. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,912
    یہ بھی ایک غلط العلماء ہے !!!!
    یاد رہے کہ اجماع شریعت کا مأخذ قطعا نہیں ہے مآخذ صرف اور صرف وحی الہی ہے اور وہ قرآن یا حدیث نبوی ہے فقط
    مأخذ کا معنی ہوتا ہے کہ اسکو بنیاد بنا کر اس سے مسائل وأحکام کا استخراج و استنباط کیا جائے
    اور یہ حق صرف اور صرف کتاب وسنت کو حاصل ہے
    اجماع یا قیاس یا دیگر جیزوں کا یہ حق حاصل نہیں ہے !!!
    اجماع یا قیاس وغیرہ کا صرف اور صرف اعتبار کیا جاتا ہے اور اقرب إلى الصواب لیکن محتمل الخطأ سمجھا جاتا ہے اور جونہی کتاب وسنت کی کوئی نص اس
    اجماع یا قیاس وغیرہ کے مقابلہ میں نظر آجائے تو یہ سب غیر معتبر ہو جاتے ہیں
    اجماع وغیرہ کو بنیاد بنا کر مسائل کا استخراج واستنباط کرنا جمیع اہل علم کے ہاں حرام ہے !!!
    کیونکہ اجماع بھی دلیل کا محتاج ہے اور دلیل صرف اور صرف کتاب وسنت ہی ہے
    اجماع کی حجیت سے مراد صرف یہ ہے کہ اجماع أقرب إلى الصواب لیکن محتمل الخطأ ہے
    فریق واحد کی رائے اور اجتہاد کے مقابلہ میں زیادہ قوی ہے بشرطیکہ اس فریق واحد کے پاس کوئی مضبوط دلیل نہ ہو
    لیکن اگر کسی فرد واحد کے پاس کوئی مضبوط دلیل موجود ہوگی تو کسی بھی زمانے کے فقہاء و مجتہدین کا کسی مسئلہ پر جمع ہو جانا رائیگاں ٹھرے گا
    جیسا کہ خلق قرآن اور جبری طلاق کے مسئلہ میں صرف اور صرف ایک ایک شخص امام مالک اور احمد بن حنبل نے آوز اٹھائی جبکہ باقی سارے کے سارے ایک ہی بات پر متفق ہوچکے تھے
    خوب سمجھ لیں !
    اور مذکورہ بالا دلائل میں سے پہلی دلیل اجماع کی دلیل نہیں بنتی ہے
    کیونکہ
    سبیل المؤمنین اجماع نہیں بلکہ اہل ایمان کا راستہ اجتہاد واستنباط ہے !!!
    گویا حکم اہل ایمان کے طرز کو اپنانے کا ہے نہ کہ انکے فرمودات کو اپنانے کا !!
    دوسری دونوں دلیلیں اجماع کے معتبر ہونے کی مضبوط دلیلیں ہیں فللہ الحمد والمنۃ
     
  8. ابن شہاب

    ابن شہاب ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اپریل 13, 2011
    پیغامات:
    224

    یہ دلیلیں‌ اجماع کے معتبر ہونے کی دلیل ہیں یا حجت ہونے کی ؟؟؟
     
  9. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    367
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں