اسلامى جمہوریہ پاكستان ميں باحجاب خواتين كى مشكلات

عائشہ نے 'اسلام اور معاصر دنیا' میں ‏اکتوبر، 18, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,983
    بسم اللہ الرحمن الرحيم

    اسلامى جمہوریہ پاكستان ميں باحجاب خواتين كى مشكلات

    السلام عليكم ورحمت اللہ وبركاتہ،

    مغربى ممالك ميں باحجاب خواتين كى مشكلات كا ذكر اكثر نظر سے گزرتا رہتا ہے اور جہاں لب ان مسلمان بہنوں كے ليے بے ساختہ دعا گو ہوتے ہیں تو بہت سی پاكستانى بہنوں کےچہرے بھی تيزى سے نگاہوں کے سامنے لہرا جاتے ہیں جو حجاب كے فرض كى ادائيگی كى خاطر صعوبتوں سے بھرے شب و روز سے نبرد آزما ہیں۔۔۔

    يہ ايك تلخ زمينى حقيقت ہے كہ مكمل شرعى حجاب اپنانا نہ ديہات ميں آسان ہے نہ شہر میں۔نہ يونيورسٹی كى سطح تك تعليم يافتہ لڑکی کے ليے اور نہ ہی ديہاتی اور قصباتى مدرسے اور سكول سے نا آشنا لڑکی کے ليے۔ عجيب بات ہے ملك ميں اسلام كے نفاذكے نعرے لگانے كے ليے پاكستانى قوم جتنى جذباتى ہے اتنى ہی ذاتى زندگی ميں اسلام كے نفاذ كے ليے لاپرواہ بلکہ دانستہ غافل۔شايد اس ليے كہ سارى ذمہ دارى حكمرانوں پر ڈال دينا آسان كام ہے اور خود مسلمان بننے ميں پڑتی ہے محنت زيادہ !

    بہرحال يہ ايك پاكستانى مسلمان مہوش بھٹی كے بلاگ كى ايك تحرير ہے جوايك اہم اسلامى فريضے (حجاب ) كے متعلق پاكستانى معاشرے كى اشرافيہ اور تجارتى اداروں كى اخلاقيات كو بے نقاب كرتى ہے۔۔۔۔
    مہوش بہن نے تحرير كا اختتام اس سوال پر كيا ہے:
    My question is that how does following my beliefs make me a security concern? Where do advocates of freedom go when I am not allowed to freely practice my religion in this Islamic Republic Of Pakistan since that shows my inflexibility to cope with the requirements of firms? Why am I not allowed to be honest when ICAP claims to regulate the profession for creating an air of honesty and transparency? Isn’t this extremism to outcast a person and destroy the career of a student because of his or her attire?​
    ميں اس سوال ميں ايك اور اضافہ كرنا چاہوں گی۔پاكستان ميں عورت كى آزادى كے علمبردار كبھی عورت كے حق حجاب كے ليے آواز بلند كرنا پسند كريں گے؟
    ثمينہ احمد(برقعہ ويگنزا فيم)، مديحہ گوہر، فريحہ گوہر،حنا جيلانى، عاصمہ جہانگیر اور ناصرہ جاويد اقبال جیسی انتہا پسند "ہیومن رائٹ ایکٹوسٹس" ، باحجاب خواتين كے حقوق كے ليے کبھی نم دیدہ نظر کیوں نہیں آتیں؟ کیا نقاب پہن لینے سے عورت ہیومن کی تعریف کی حدود سے باہر نکل جاتی ہے؟
    سوال تو بہت سے ہیں مگر ايك عوامى فورم كے صفحات ان كے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس تحرير پر آپ کے خصوصا بہنوں کے تبصروں كا انتظار رہے گا۔
     
  2. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,693
    سسٹر آپ نے یہ لکھ کر (خصوصا بہنوں کے تبصرے کا انتظار رہے گا ) ہم سے ریپلائی کرنے کا حق تو چھین لیا ہے لیکن چند الفاظ ضرور کہوں گا

    کہ جب یہ نام لکھا جاتا ہے کہ ۔۔۔اسلامی جمہوریہ پاکستان۔۔۔۔۔
    جب اسلام کو جمہوریت کے ساتھ اٹیچ کریں گی ۔۔۔تو باقی کیا رہ جات ہے۔؟
    مہوش بہن نے جو تحریر لکھی ہے یقینا ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔۔۔۔۔ہم صرف دعا ہی کر سکتے ہیں۔
    اللہ ہمارے اس ملک کو کوئی قرآن و سنت کا علمبردار حکمران عطا کرد ے آمین
    یا اللہ ہمیں کوئی عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ جیسا حکمران عطا کردے۔۔آمین
    ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ کی رحمت سے نا اُمید نہیں‌ ہونا چاہیے اگر اللہ چاہے تو سب کچھ ممکن ہے۔۔۔۔اس لیے ہمیں دعا ضرور کرنی چاہیے ۔۔

     
  3. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    474
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
    پاکستان میں آئے دن بیرونی ممالک میں حجاب اور نقاب پر لگنے والی پابندیوں کے خلاف مظاہرے ہوتے ہیں، ان ممالک کے پرچم جلائے جاتے ہیں، پتلے جلائے جاتے ہیں،بڑے بڑے علما تقریریں بھی جھاڑتے ہیں،لیکن اپنے ہی ملک میں، حجاب اور نقاب لینے والی خواتین اور بچیوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے اس پر کسی کی نظر نہیں پڑتی،غیرت کے نام پر عورت کو قتل کر دیا جاتا ہے لیکن بے نقاب اور بے حجاب عورتوں کو دیکھ کر غیرت نہیں جاگتی۔آج سے کئی سال پہلے جب میں پاکستان میں بطور ڈاکٹر کئی بڑے اسپتالوں میں جاب انٹرویو کے لئے جانا ہوا تو میرا حجاب دیکھ کر انٹرویو کرنے والوں کے منہ بھی لٹک جایا کرتے تھے، اور حجاب والوں کیلئے جاب دستیاب نہیں کا بورڈ بن جایا کرتے تھے۔اب پاکستان میں حجاب کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے اس ویڈیو سے ظاہر ہے ۔

    http://www.youtube.com/watch?v=Pt7ZXzxNIwo
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,976
    صرف خواتین ہی نہیں، کسی بھی مذہبی انسان کے لیے پاکستانی معاشرے میں یا اداروں میں اپنی ساکھ بحال کرنا یا نوکری حاصل کرنا کافی مشکل ہے۔خادم کو اس کا ذاتی تجربہ ہے۔
    جہاں تک بات ہے ناصرہ جاوید اقبال اور جاوید اقبال کی، تو کسی نے صھیح کہا ہے۔۔۔۔۔نور محمد کے گھر اقبال پیدا ہوا اور اقبال کے گھر پھر نور محمد پیدا ہو گیا،
    اقبال نے جاوید کو نصیحت بھی کی لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔:00039:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. ثانیہ

    ثانیہ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 14, 2010
    پیغامات:
    165
    اچھا سوال ہے! میری بہن یہ تو خود باحجاب خوایتن سے خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔

    ہیومن رائٹ ، کون سے رائٹ باحیا مسلمان خوایتن کے اپنے رائٹ؟
     
  6. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,423
    جمہوریت کے ساتھ لفظ اسلامی لگانا ہی اسلام کی بہت بڑی گستاخی ہے اسلام کا اپنا ایک نظام حکومت ہے بلکل پاک شفاف ہے۔
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,983
    ايك غلط فہمی دور كر لیجیے ميں نے اسلام كو جمہوریت سے اٹیچ نہیں كيا، پاكستان كا مكمل سركارى نام ذكر كيا ہے۔اگر پاكستان كا نام كچھ اور ہے تو تصحيح كيجيے۔
     
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,983
    بالكل درست! اسى دوہری پاليسى كى جانب ميں بھی توجہ دلانا چاہتی ہوں کہ مغربى ممالك ميں پابندى پر اتنا شور اور اپنے گھر كے ظلم پر خاموشى ۔۔۔
    انہی لٹکے مونہوں كا ذكر مہوش بھٹی كى تحرير ميں بھی ملے گا۔ سوال يہ ہے كہ یہ منہ كيا مسلمانوں کے منہ نہیں؟ ان كی تربيت كہاں ہوئی ہے كہ يہ حجاب سے اتنے بے زار اور متنفر ہیں؟انہیں ايك اسلامى فريضے كى ادائيگی تكليف كيوں ديتى ہے؟
    ابھی وڈیو چیک نہیں كر پائى ، مگر ايك بات ہے کہ اب ہسپتالوں ميں باپردہ يا فقط ہیڈ سكارف والى ڈاكٹرز اور نرسز كى تعداد ميں اضافہ ہورہا ہے۔
    درست فرمايا، يہ بھی ايك حقيقت ہے كہ جس كارپوریٹ ورلڈ كا ذكر مہوش بہن نے كيا ہے اس ميں صرف نقاب ہی نہیں، داڑھی كے ليے بھی یہی رويہ اختيار كيا جاتا ہے۔ اور باريش افراد سے انٹرویو كے دوران يہ بھی پوچھا جاتا ہے كہ جاب كے ليے داڑھی صاف كروانا اور ٹائى اور سوٹ پہننا پڑے تو كيا كرو گے؟
    یہ ايك فرد كى كہانى نہیں۔ بہت سے لوگوں كا تجربہ ہے۔مگر سوال يہ ہے كہ ہم اپنے حق كے ليے آواز كيوں بلند نہیں كرتے؟
     
  9. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,976
    میں اپنی ذات کے اعتبار سے احتجاج ریکارڈ کروانا اور جلسے جلوس نکالنے کو صحیح نہیں سمجھتا۔ یہ صرف اسی طرح ممکن ہے کہ جو اسلامسٹس دنیا میں موجود ہیں وہ اسلامسٹس کی اہمیت کو اجاگر کریں اور میرٹ‌ کے مطابق فیصلے کریں۔دینداروں سے ہماری محبت بے دینوں کی نسبت زیادہ ہونی چاہیے۔ دین داری ایک ایڈیشنل خوبی ہونی چاہیے نہ کہ خامی۔۔۔
    احتجاج ہمیشہ کمزور لوگ کیا کرتے ہیں۔ اور ہمیں اپنے آپ کو کمزور نہیں سمجھنا چاہیے۔ بلکہ خودی کو پہچان لیں اور اپنی قابلیت کے بل بوتے پر اپنا حق لے لیں۔ ہاں کہیں تھوڑا سا معاملہ فہم اور ڈپلومیٹیک ہونا پڑھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  10. منصف

    منصف -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 10, 2008
    پیغامات:
    1,917
    یہ تلخ حقیقت ہے کہ حجاب اور حجاب والیوں کو کافی بدنام کیا جارہا ہے ۔۔تاہم اس جاہل مسلم معاشرہ کو سب سے پہلے یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ
    آخر "حجاب" کہتے کس کو ہے ؟؟ محض "اسکارف" اوڑھ کر چہرہ کھلا باقی پورا لباس مردانہ وضع و قطع اپنا کر سمجھ لیا جاتا ہے "حجاب یا پردے" کی غرض
    و غایت پوری کردی ۔۔۔
    پتا نہیں "اسکارف" کو اسلام سے کیوں منسلک کیا جاتا ہے؟؟ جبکہ میرے مطابق اور ناقص علم کے مطابق "اسکارف" تو بہت دور کی بات، وہ برقعہ یا عبایا بھی
    ہرگز "اسلامی" نہیں ہے جو بڑھکیلے اور شیطانی نگاہوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے والا ہو ۔۔۔۔
    بلکہ اس سے کئی بہتر پھٹی پرانی گندی میلی "اوڑھنی" ہے ۔۔۔میرے نذدیک پردہ تو یہ ہے کہ شیطانی نگاہ خود اس قابل التفات نہ سمجھے ۔۔۔۔بلکہ کراہیت سمجھے

    بہرکیف ہر معاشرہ میں اچھائی برائی ہوتی ہے ۔۔۔کسی بھی بہن کا بے حجاب ہونے سے یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ کردار کی بھی خراب ہو جیسا کہ ہمارے
    ہاں کا تصور ہے ۔۔۔۔درس و تبلیغ سے انکا راہ راست پر آنا زیادہ مشکل نہیں ۔۔۔پر ہمارے ہاں "امر بالمعرف و نہی عن المنکر" کی بجائے یا تو خوب آنکھون سے "اسکیننگ" ہوتی ہے یا پھر زیادہ سے زیادہ تنقیدی نگاہ سے اس کو "ایسی ویسی" کہہ دیا جاتا ہے ۔۔ان نوجوان لڑکوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاتا جو
    سر کو مرغے کی کلغی ۔۔پھٹی پرانی واہیات جینز ۔۔پتلی چپکی بے ہییت قسم کی ٹی شرٹ (جس پر کسی خوفناک گلوکار کی تصویر ہوتی ہے)۔۔جوگر۔۔منہ میں سگریٹ اور موٹر سائکلز پر بیٹھے یا تو اپنی
    "گرل فیرنڈز" کو بے وقوف بنانے کے قصے ۔۔۔موبائل ہر فحش لطیفہ سناکر بے ہنگم قہقہ اور یا پھر آنے جانے "والیوں" پر اپنے بے ہودہ تبصرہ کئے جاتے ہیں
    ۔۔یہ سب معصوم اور بری الذمہ ہوتے ہیں۔۔۔خراب ہے تو "بے حجاب" عورت اور سارا نزلہ اسی پر گرتا ہے ۔۔۔جیسے معاشرہ کی بگاڑ کی ذمہ داری تن تنہاء
    اسی ہر ہے ۔۔۔
    یہ بات بھی ٹھیک ہے آج کل کی بہنیں ۔۔ضرورت سے زیادہ واہیات لباس زیب تن کررہی ہیں۔۔ پر میرے حساب سے ایسا ہر جگہ نہیں بلکہ "پوش" علاقوں میں یا شاپنگ مال وغیرہ میںزیادہ ہوتا ہے جہاں ممی ڈیڈی برگر فیلملیز زیادہ ہوتے ہیں جو "باپر ممالک" سے آنے کا "شو آف" کرنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔۔۔۔
    بہرکیف اب بھی عام جگہوں پر الحمداللہ اتنا برا اثر نہیں ہے ۔۔۔بہنیں حجاب بھی کرتی ہیں ۔۔ابھی بھی پاکستانی معاشرہ بالعموم الحمداللہ اتنا بھی برا نہیں ۔۔
    جتنا میڈیا اور دوسروں کی مرچ مسالہ بات سن کر ہوتا ہے ۔۔۔۔۔
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 19, 2010
  11. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,423
    منصف صاحب آپ کی باتیں ٹھک ہیں لیکن عورت کا باپردہ ہونا ضروری ہے بے حیائی اسی بے پردگی سے پھیلتی ہے
     
  12. منصف

    منصف -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 10, 2008
    پیغامات:
    1,917
    جی بالکل یہی تو میں کہنا چاہ رہا ہوں۔۔۔معاشرہ مین "حجاب" کو عام کرنے کی ضرورت
    ہے اور اس کے لیے "دینی بہنیں" اپنا کردار مؤثر طریقہ سے ادا کرسکتیں ہیں۔۔۔
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 19, 2010
  13. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,814
     
  14. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,631

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ سسٹر

    اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حجاب پر کوئی پابندی نہیں، کسی گھر کے کھلے ماحول کے باعث بھی جس نے حجاب کرنا ہوتا ھے وہ خواتین حجاب کرتی ہیں۔ جیسا کہ آپ نے اپنا پرسنل ایکسپیرئینس پر روشنی ڈالی ھے تو سسٹر کمرشل فیلڈ میں ہر ادارے کی اپنی شرائط ہوتی ہیں اس میں اگر کوئی عورت پردہ کرتی ھے پڑھی لکھی بھی ھے تو وہ بھی جانتی ھے کہ پاکستان میں کمرشل فیلڈ میں سب جگہ پر پردہ والی عورت کے لئے جگہ نہیں ہوتی، تو وہ گھر میں بچوں کو قرآن کی تعلیم بھی دے سکتی ھے اس کے علاوہ اور بھی بہت سے کام ہیں جس میں حجاب میں رہ کر بھی کام کیا جا سکتا ھے۔ اس لئے کسی ادارہ کو الزام نہیں دیا جا سکتا۔

    میرا فرسٹ کزن جب اس کو داڑھی ہوئی اس دن سے اس نے داڑھی کو کنچی نہیں لگائی داڑھی اور سفید امامہ شریف میں ہی اس نے سوفٹویئر انجینئرنگ کی اور اسی دوران قرآن مجید بھی حفظ کیا۔ پاکستان میں اس نے ہر بڑی فیلڈ میں جاب اپلائی کی اس کی سلکشن اس شرط پر آ کر رک جاتی تھی کہ داڑھی کو سیٹ کرو اور امامہ شریف کی جگہ ٹوپی پہن لو مگر وہ ایسا نہیں کرتا تھا اس کے گھر والوں نے بھی اسے بہت سمجھایا مگر وہ یہی کہتا تھا کہ ایسا ناممکن ھے مجھے جاب ملنی ہو گی تو اسی حالت میں بھی ملے گی۔ اور اسے اس امتحان سے گزر کر جاب ملی اور وہ اب اسلام آباد ٹیلی کمنیکیشن منسٹری میں انجینئر ھے داڑھی اور امامہ شریف کے ساتھ ۔

    آپ نے جو کلپ پیش کیا ھے وہ تجربہ کے لحاظ سے تو ٹھیک ھے مگر اس فیلڈ میں حجاب پر اس ادارے کو الزام دینا درست نہیں کیونکہ میڈیا ایک بزنس ھے اور ان کو چہروں کی ضرورت ہوتی ھے۔

    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  15. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    474
    اسلام کے نام پر بننے والی اسلامی مملکت ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ میں پردہ والی عورت کمرشل فیلڈ میں کام نہیں کر سکتی لیکن ہوسپٹل میں جہاں لوگ تکلیف میں ہوتے ہیں، مریض بھی اور تیماردار بھی، وہاں حجاب میں کام کیوں نہیں کر سکتی۔جہاں تک ہوسپٹل یا اسکولز کا تعلق ہے میرے خیال سے یہ کمرشل ادارے نہیں پھر وہاں حجاب پر پابندی کیوں؟؟ جاب تو مجھے بھی حجاب اور عبایا کے ساتھ ہی ملی تھی الحمدللہ۔ لیکن انٹرویو لینے والے مسلمان بہن بھائیوں کی جہالت پر افسوس بھی بہت ہے۔
    جہاں تک اس ویڈیو کا تعلق ہے تو کیا عورت کے بغیر خبریں نہیں پڑھی جا سکتیں، مجھے ذاتی طور پر یہ بہت عجیب لگتا ہے کہ ٹی وی پرایک طرف تو سیلاب ،زلزلے یا کسی بم دھماکے میں ہونے والی تباہی کے دلدوز اور دل ہلادینے والے مناظر دکھائے جا رہے ہوں اوردوسری طرف خبر دینے والی فل میک اپ میں، جدید فیشن کا لباس زیب تن کئے ہوئے، ایک کندھے پر رسی نما دوپٹہ ڈالے اسکرین پر نظر آ رہی ہوں، یا ملکی مسائل پر دھواں دار تقریر کرنے والی اینکرز روزانہ نت نئےمغربی لباسوں میں آکر عوام کے مسائل کا رونا روئیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  16. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    474
    ان کے ذہنوں پر مغرب اور بزنس کا زنگ چڑھا ہوا ہے، عورتوں کے ذریعے ہی انکا منجن بکتا ہے تو ان کو تکلیف کیوں نہ ہو۔ اور قصور عورتوں کا بھی ہے کہ انکو ایسے اداروں میں کام کرتے ہوئے اپنی تذلیل کیوں نہیں محسوس ہوتی؟
    سارا مسئلہ علم کی کمی کا ہے، دینی علم کی کمی کا، دنیاوی علوم میں تو پی ایچ ڈی ہیں۔
     
  17. ثانیہ

    ثانیہ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 14, 2010
    پیغامات:
    165
    وہ ہی تو نہین ہوئی۔:00002:

    صحیح دینی علم سے دوری کہہ سکتے ہیں، کیوں کہ علم تو بہت ہے۔ پر راہ درست نہیں۔
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 20, 2010
  18. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    926
    یہ الفت کہ شہادت میں قدم رکھنا ہے
    لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا

    اسلام اور اسلامی تہذیب و تمدن ، ثقافت ، روایات ،قوانین ، ان سب کو سمجھنے کیلئے اور ان پر چلنے کیلئے اسلام کو اچھی طرح پڑھ کر سمجھنا اور اس پر عمل کر کے ہی ہم اک بہترین مسلمان بن سکتے ہیں
    جو لوگ اسلام اور اسلامی افکار و نظریات کا مذاق بناتے ہیں وہ اصل میں جاہل ہیں شیطان نے ان کے ذہنوں کو دنیا کی چکا چوند سے قابو کیا ہوا ہے ، اس لیے وہ شیطان کے فریب میں آ کر اس طرح سرعام اسلام اور عملی مسلمان کا مذاق اڑاتے پھرتے ہیں
    اس وقت ضرورت ہے اک باعمل اور صحیح العقیدہ ماں کی ضرورت ہے جو اک اچھی نسل بنا سکے ، تاکہ پھر وہ نسل آگے اک اور نسل پروان چڑھا سکے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  19. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    بہت ہی عمدہ بات کہی سلمان بھائی آپ نے۔
    میں‌مثالی معاشرہ کے تحت یہ بات مختلف انداز کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ ماں کا وجود بچوں‌کے لئے، جو کہ میں سوسائیٹی کے بننے میں معاون ثابت ہوتا ہے، اور بیوی کا وجود شوہر کے لئے جو کہ مثالی معاشرہ بننے میں‌معاون ثابت ہوتا ہے بہت ہی اہم ہے۔
    اب اسکا مطلب ہرگذ کوئی یہ نہ لے کہ شوہر یا مرد حضرات یا بات کو سات خون معاف ہیں (محاورتا)۔۔۔بلکہ اپنی اپنی ذمہ داریاں‌ہیں، اور ماں‌کی ذمہ داریاں‌بہت ہی اہم ترین ہیں، دوسرے معنوں‌میں‌ماں‌کی گو د ایک انٹرنیشل یونیورسٹی ہے (محاورتا)۔۔۔اور اس ماں‌کو ذمہ داریاں‌یاد دلانا ، باپ یعنی شوہر کی ذمہ داری ہے (اگر وہ ناآشنا ہو) اسکے لئے سب سے پہلے شوہر محترم، یعنی والد بزرگوار کو ، اپنے آپکو مکمل اسلام سے آشنا کرانا پڑتا ہے۔۔۔
    واللہ اعلم
    وما توفیقی الا باللہ
     
  20. طارق راحیل

    طارق راحیل -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2009
    پیغامات:
    341
    آج کل کی عورتوں کے کپڑے تو چڑیا گھر میں پنجرے میں لگی گِرل کی طرح ہو گئے ہیں۔۔۔۔
    قیمتی سامان محفوظ بھی ہو جائے اور دیکھنے والے خوش بھی ہو جائیں۔

    یہ تو ایک لطیفہ تھا جانے دیجئے۔
    اسلامی نام رکھ لینے سے یا مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے سے کوئی مسلمان نہیں ہو جاتا۔
    ایسا ہوتا تو آدم کے ایک دوسرے کا قتل نہیں کرتے۔
    حضرت لوط کی بیوی اور بیٹیوں پر عذاب نازل نہ ہوتا۔
    حضرت نوح کو اپنے بیٹے کے لئے عذاب سے بچنے کی دعا نہیں کرنا پڑتی جو کہ رد بھی ہو جاتی۔۔

    اللہ کے کلام میں دی گئی لباس کی ہدایت کو ننجا ڈریس قرار دیئے جانے والے اللہ کے کلام کا نہیں اپنے نفس کی خواہشات پوری کر رہے ہیں۔
    پردہ انسان کے لئے کیا جاتا ہے جو اللہ نے فرض قرار دیا ہے اور اس کی حد بھی معین کر دی گئی ہے۔ کلام اللہ میں۔۔۔
    پھر آپ میں یا اور کوئی بھی نبی پیغمبر ولی قطب کسی بھی عالم یا پڑھے لکھے کو حق حاصل نہیں کہ وہ اس پر انگلی اٹھا سکے وہ پردہ پر نہیں
    اللہ پر انگلی اٹھانے کی جسارت کر رہا ہے کہ یہ لباس اس باری تعالٰی نے ہی پہننے کو کہا ہے۔

    سب داڑھی والوں کو دہشت گرد کہا جاتا ہے اگر نہیں تو پھر ہر پردہ کرنے والے کو ننجا نہیں کہہ سکتے۔
    اگر ہاں تو سکھ اور یہودیوں کی بھی داڑھی ہے وہ سکھ ہمہ وقت کرپان یعنی ہھتیار اپنے ہمراہ رکھتے ہیں۔
    کیا وہ دہشت گرد نہیں۔۔۔

    یہ سب مسلمان ہی کو کیوں کہتے ہیں۔۔
    کیوں کہ انہیں فیشن کے نام پر ننگا پن پسند ہے۔
    آزادی کے نام پر مردوں کے ساتھ گھومنا پسند ہے
    کیا علم شعور یہی تعلیم دیتا ہے؟

    نام مہوش مسلمانوں والا ساہی پر ان کے اقوال ان کے اغراض مسلمانوں کے دلی جذبات کی توہیں کرتے ہیں
    اللہ کی کتاب کو جھٹلاتے ہیں

    اللہ انہین علم تو دیا پر شعور نہیں دے سکا
    اللہ ان پر کرم فرمائے

    آمین
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں