اسلامى جمہوریہ پاكستان ميں باحجاب خواتين كى مشكلات

عائشہ نے 'اسلام اور معاصر دنیا' میں ‏اکتوبر، 18, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. منصف

    منصف -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 10, 2008
    پیغامات:
    1,917
    بحث کہیں کی کہیں چلی جائے گی اس لیے مختصراً بتادے کہ ایک کہ ایک ہی قطار میں
    نبی پیغمر اور ولی عالم وغیرہ کو کھڑا کیسے کردیا ۔۔۔۔؟؟؟

    انبیاء اور ان میں فرق ہے ۔۔۔جملہ عجیب سا لگا س لیے لکھ دیا

    میری ناقص علم کے مطابق
    نبی اور پیغمبر اللہ کی جانب سے اللہ کے حکم کے مطابق شرعیت سازی کرتے ہیں انکے علاوہ کسی کو اجازت نہیں نہ ہی چاہے وہ کتنے ہی "پہنچے" ہوئے ولی کیوں نہ ہو ۔۔۔۔اس لیے انبیاء و رسول ( واضح رہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی شرعیت کے بعد پچھلی تمام شرعیتیں منسوخ ہوچکی ہیں)
    کسی چیز یا اصول کے بارے میں کہہ دے کہ یہ نہیں تو نہیں ۔۔۔۔یہ ہے تو ہے ۔۔۔۔

    اور براہ مہربانی یہ "قطب" صاحب کون ہیں؟؟؟ ۔۔۔۔یہ بھی بتادے ۔۔۔
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 20, 2010
  2. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,618
    السلام علیکم سسٹر

    میڈیا پر تو پہلے ہی لکھا ھے کہ وہ ایک بزنس ھے اس لئے اس پر دوبارہ لکھنے سے آپ نے ضرورت محسوس کی۔ سیلاب پر وہ رونا اپنے لئے نہیں روتے جو اتنی بڑی مصیبت جس کا پاکستان کو سامنا تھا ان کے لئے وہ کوشش کر رہے ہیں جبکہ یہ کا گورنمنٹ کا تھا مگر انہوں نے تو کھجوریں بھی بیچ کر پیسے ہڑپ کر لئے۔

    حجاب پر پابندی آپ کس کو کہتی ہیں۔ فرانس میں حجاب پر پابندی پر تو ان کی گورنمنٹ کی جانب سے لگی ھے، وہ نن مسلم ملک ھے۔ پاکستان میں حجاب پر پابندی نہیں ھے۔

    اداروں کی طرف سے ہر گورنمنٹ/ نن گورنمنٹ کی طرف سے ان کی اپنی ٹرم اینڈ کنڈیشن ہوتی ہیں۔ اس کو پابندی نہیں‌ کہتے کیونکہ پاکستان اسلامی مملکت ھے جس کو ان کی کنڈیشن منظور ہوتی ہیں وہی وہاں پر کام کرتے/کرتی ہیں۔ اگر قابلیت ہو تو ان اداروں میں حجاب کرنے کی اجازت بھی مل جاتی ہو گی۔ اگر نہیں تو پھر ایسی جاب نہ کریں سکول میں پڑھا لیں قرآن مجید کی بچوں کو تعلیم دیں اس سے تو دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں گی۔

    والسلام
     
  3. ثانیہ

    ثانیہ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 14, 2010
    پیغامات:
    165
    سسٹر ماہا آپ کمرشل فیلڈ کی بات کرتی ہیں۔ وہاں تو خواتین دین کا کام بھی کرنا چاہیں تو مشکل کھڑی ہوجاتی ہے۔ کتنے کتنے فتوی جاری ہونے لگتے ہیں۔:00002:
     
  4. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    474
    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
    معذرت کے ساتھ مجھے آپکی باتوں سے اتفاق نہیں،
    سعودی عرب میں دنیا کے ہر حصے کی خواتین کام کرتی ہیں، جاب پر انکے لئے سر ڈھانکنا ضروری ہے اور باہر نکلنے کیلئے عبایا سے جسم چھپانا لازمی ہے، وہ بھی ایک اسلامی ملک ہے جہاں دوسرے مذاہب کی خواتین سے اسلام کے اس حکم کی تعمیل کروائی جاتی ہے، جبکہ بقول آپکے پاکستان ایک اسلامی ملک ہے وہاں اپنے ہی ملک کی خواتین کیلئے یہ کنڈیشن لگائی جا رہی ہے کہ وہ نہ سر ڈھانکیں اور عبایا یا گا؂ن کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔میڈیا ہو یا جو بھی ہو اگر ملک اسلامی ہے تو اسلام پر عمل بھی ہونا چاہئے، دوہرا معیار کیوں بھائی۔ اسی لئے یہ میڈیا کبھی ایسی خبریں نہیں دیتا کہ فرانس میں حجاب پر پابندی لگا دی گئی یا بیلجیئم میں یا کس ملک میں حجاب کو لے کر کیا مسئلہ اٹھ رہا ہے۔ اسلامی ملک کا غیر اسلامی میڈیا۔
    اور آپ جو یہ بات کر رہے ہیں کہ وہ گھر پہ قرآن کی تعلیم دیا کریں، تو بھائی اگر خواتین ڈاکٹر نہ بنیں، نہ ٹیچر بنیں، نہ آفس کا کام کریں، تو کیا نسوانی علاج، پیدائش اور دوسری ضروریات کیلئے مرد ڈاکٹرز کے پاس جائیں، مردوں سے پڑھیں، جبکہ وہ صرف عورتوں کے اسکولز میں بھی پڑھا سکتی ہیں، بینکوں میں اور دوسرے آفسز میں جہاں ممکن ہو سکے عورتوں کیلئے الگ حصہ بنایا جا سکتا ہے جہاں صرف خواتین ہی خواتین سے معاملات کریں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • ناپسندیدہ ناپسندیدہ x 1
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,803
    اس كا مطلب ہے كہ ہم ميں سے كافى لوگ اس بات سے اتفاق كرتے ہیں كہ پاكستان ميں با پردہ خواتين اور لڑكيوں كو مشكلات كا سامنا ہے۔۔۔ انفرادى سطح سے لے كر اجتماعى سطح تك، افراد سے لے كر اداروں تك، نقاب، ہیڈ سكارف ، چادر،برقعے، عبايا يا گؤن كا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ طرح طرح كے نام دیے جاتے ہیں، معاشرے سے الگ يا حقير چیز سمجھا جاتا ہے۔معاشرے كے مركزى دھارے ميں ان كى شموليت كى حوصلہ افزائى كرنے كى بجائے ان كو مزيد عليحدگی كى طرف دھکیلا جاتا ہے۔۔۔
    اب سوال يہ ہے كہ یہ سب كرنے والے كون ہیں؟ پاكستان كے اپنے باشندے، 95 في صد مسلم آبادى والے ملك كے باشندے!
    وہ كزنز اور بھائى جو اپنی بہنوں اور كزنز كےپردہ كرنے پر ان سے ناراض ہوتے ہیں، مسلمان ماؤں کے بیٹے ہیں۔
    وہ جو باپردہ لڑکیوں سے شادى كرنے سے انكار كر ديتے ہیں مسلمان مرد ہیں۔۔۔۔
    وہ جو شادى كے بعد بيويوں سے نقاب يا عبايا اتار دينے كا مطالبہ كرتے ہیں وہ بھی رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے امتى ہیں ۔۔۔
    جو گلی محلوں ميں سكول كالج، بازار سے لوٹ كر آتى لڑکیوں اور عورتوں کے راستے میں کھڑے ہو كر ان كو گھورتے اور آوازے كستےہیں ۔۔ وہ بھی اسلامى جمہوریہہ پاكستان کے باشندے اور مسلمان ماؤں کے بيٹے ہیں ۔۔۔
    جو تعليمى اور تجارتى اداروں كى ایگزيكٹو چئئیر پر بیٹھے دوران انٹرویو، باپردہ خواتين كا تمسخر اڑا رہے ہیں وہ مسلمان سپوت ۔۔۔
    تو سوال يہ پیدا ہوتا ہے كہ یہ ہے پاكستانى عوام كا اعمال نامہ!
    اب جو ہم حکمرانوں سے اسلام نافذ كرنے كے مطالبے كرتے ہیں تو كس برتے پر؟
    خود ہم كتنا شعائر اسلام كى عظمت كو مانتے ہیں کہ پاكستان كو سركارى طور پر اسلام كا قلعہ بنانے كى بات كرتے ہیں؟
    كيا ہمیں شعائر اسلام كا مذاق اڑانے كا حكم معلوم نہیں؟
    شرعی پردہ کرنے والى عورت كا مذاق اڑانا - URDU MAJLIS FORUM
    علمائے كرام كےے مطابق:
    جو شخص كسى مسلمان خاتون يا مرد كا اس ليے مذاق اڑاتا ہے كہ وہ پابند شريعت ہے تو ايسا شخص كافر ہے ۔
    اس ليے كہ عبد اللہ بن عمر رضي اللہ عنہما سے روايت ہے كہ : ايك شخص نے غزوہ ء تبوك كے موقع پر ايك مجلس ميں كہا : ميں نے ان قراء حضرات جيسا پیٹو، جھوٹا اور بزدل كوئى نہيں ديکھا ۔ اس پر ايك شخص نے اسے كہا : تو جھوٹ بولتا ہے ، تو منافق ہے ! ميں ضرور اس بات سے رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم كو آگاہ كروں گا ۔
    يہ خبر سول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم كو پہنچی آسمان سے قرآن نازل ہو گیا ۔ عبد اللہ بن عمر رضي اللہ عنہما كا بيان ہے : ميں نے اس شخص كو ديكھا كہ وہ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم كى چلتی اونٹنی كے كجاوے والى پٹی كے ساتھ لٹکتا ہوا جا رہا تھا اور پتھر اسے زخمى كر رہے تھے وہ كہہ رہا تھا : يا سول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم ہم تو صرف مذاق كررہے تھے تو رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے قرآن كريم كے ان كلمات كے ساتھ جواب ديا :
    ۔۔۔۔۔۔ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ (65) لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ إِنْ نَعْفُ عَنْ طَائِفَةٍ مِنْكُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةً بِأَنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ (66)
    آپ فرما ديجيے كيا تم اللہ ، اس كى آيات، اور اس كے رسول سے ہنسی مذاق كرتے تھے ؟ بہانے مت بناؤ ! تم ايمان لانے كے بعد كافر ہو چکے ہو ۔ اگر ہم تم میں سے ایک جماعت كو معاف كرديں تو دوسرى جماعت كو سزا بھی دیں گے كيوں کہ وہ مجرم تھے ۔( سورة التوبة 9، آيات 65_66)
    اس آيت میں اللہ تعالى نے مسلمانوں کے ساتھ استہزاء كو اللہ رسول اللہ ( صلى اللہ عليہ وسلم ) اور آيات اللہ كے استہزاء كے مترادف قرارديا ہے ۔ وباللہ التوفيق ۔

    سوال يہ ہے كہ كيا يہ نفاق كى واضح علامات نہیں؟
    تو كيا ہمارے معاشرے ميں نفاق كا تناسب اتنا بڑھ چکا ہے؟
    ہم كب سوچیں گے؟
    ہم كب سنبھلیں گے؟
    اے اللہ، ہميں ہدايت دے۔
    اے ہمارے رب،ہمیں نفاق سے بچا !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,618
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ سسٹر

    اب میں کیا کروں۔

    چلیں بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے، میرے یہاں میری اہلیہ کی ایک دوست ھے جو کہ انگلش ھے اور اس کا خاوند گجرات سے پاکستانی اور فیملی قریشی ھے۔ اس کی 4 بیٹیاں حیات ہیں ایک فوت ہو چکی ھے۔ پردہ اگر دیکھا ھے تو ان میں دیکھا ھے اور صوم صلات کی پابند، گھر میں ان کے کسی رشتہ دار کے لڑکے کو بھی آنے کی اجازت نہیں اور نہ ان کا والد ان کو کسی کے گھر جانے دیتا ھے۔ ان کے گھر صرف عورتیں ہی جا سکتی ہیں۔ ان کی پرورش اس طرح کی کہ لڑکیوں کو بھی شوق تھا کہ وہ فلاں فلاں تعلیم حاصل کریں مگر اس کے والد صاحب نے ان سے کہا تھا کہ وہ تعلیم کرنی ھے جس میں سکول ٹیچر بن سکو اس کے علاوہ کوئی ایسی تعلیم حاصل نہیں کرنی جس میں آدمیوں کے ساتھ کام کرنا پڑے۔ والد ان کا انپڑھ ھے مگر تربیت اپنے بچوں کی اس نے بڑے اچھے طریقے سے کی ھے خود ہی سب بچوں کو قرآن مجید پڑھایا ہوا ھے۔ اب بڑی بیٹی تعلیم مکمل کر کے گھر کے قریب سکول ٹیچر لگی ھے سکول 7 ائر تک ھے۔ دوسری بیٹی بھی اگلے سال تعلیم مکمل کر کے سکول ٹیچر لگ جائے گی۔ تو یہ تھی سسٹر ایک گھر میں سربراہ کی تعلیم جس کی 4 سال کی بیٹی بھی حجاب اوڑھتی ھے۔ ان کی تعلیم ہی ایسی کہ جس میں مردوں کے ساتھ کام نہ کرنا پڑے ان کے باپ کی نیت اور پھر اللہ سبحان تعالی کا فضل۔



    ماشا اللہ اگر آپ ڈاکٹر ہیں تو آپ اپنا کلینک کھول کر بھی یہ کام کر سکتی ھیں جس میں آپ بھلہ جتنا مرضی نقاب اوڑھ لیں، دوسری جگہ کام کرنے سے آپ دوسرں کو الزام دیں گی تو یہ بے بنیاد ھے۔ جب آپ جانتی ہیں کہ کسی کے پاس کام کرنے سے ان کی شرائط پر عمل کرنا ہوتا ھے انٹرویو میں ہائی پروفائل کنڈیڈیٹ کو پہلے پریفر کیا جاتا ھے جو ان کے معیار پر پورا اترتا ھے۔ میرے خیال میں اس پر اتنی ہی گفتگو کافی ھے، آپکو اگر ضرورت محسوس ہو تو لکھ سکتی ہیں، پھر کسی اور دھاگہ میں ملیں گے۔

    والسلام
     
  7. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,618
    السلام علیکم

    یہاں پر حجاب و مکمل پردہ کا مذاق اڑانے والا کوئی نہیں، اور جو عورت یہ سمجھتی ھے کہ پاکستان میں اس کو پردہ کرنے پر مذاق اڑایا جاتا ھے تو وہ اس کی اپنی کمزوری و احساس کمتری ھے۔

    والسلام
     
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,803
    واہ ثانیہ سسسٹر بالکل ٹھیک نشان دہی کی۔۔۔ اس کا مطلب ہے یہ سلوک بھی عام ہے ۔
     
  9. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    474
    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    گھر کے سر براہوں کے بارے میں بات نکلی تو لمبی ہو جائیگی،بھائی میرا ارادہ بھی بیکار بحث کا نہیں ہے۔ آپکے خیالات معلوم ہو گئے حجاب کےحوالے سے اتنا کافی ہے۔
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,803
    يہی تو وہ ذہنیت ہے جو اچھے خاصے اسلامى ذہنوں كو بھی غلط محسوس نہیں ہوتی ۔اور اسى طرح كى باتيں كركے ہم با حجاب خواتين كو معاشرے كے مركزى دھارے يا مين سٹریم میں آنے سے روكتے ہیں!
    ايك مسلم اكثريتى ملك ميں ان باحجاب خواتين كے ليے كوئى سہوليات يا مواقع كون پیدا كرے گا؟ جبكہ پاکستان كے آئين اور قرار داد مقاصد کے مطابق :
    جس کی رو سے مسلمانوں کو اس قابل بنا دیا جائے گا کہ وہ انفرادی اور اجتما عی طور پر اپنی زندگی کو قرآن و سنت میں درج اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق ترتیب دے سکیں۔
    Wherein the Muslims shall be enabled to order their lives in the individual and collective spheres in accordance with the teachings and requirements of Islam as set out in the Holy Quran and the Sunnah;​
    تو كيا يہ باپردہ عورت كا حق نہیں كہ معاشرہ اور رياست پردے كے فريضے كى ادائيگی ميں اس كى مدد كرے اور اسے فيسيلٹییٹ كرے؟
    بالك درست كہا سسٹر، زيادہ تر سنجيدہ خواتين محسوس كر رہی ہیں كہ ميڈیا عورت كو Objectify كر رہا ہے، اور توہین اور تذليل كى حد تك فضول اور بے ہودہ انداز ميں پیش كر رہا ہے ۔افسوس بھی یہی ہے کہ ہمارى اكثريت كو اس طوفان بدتميزى كے نتائج و عواقب كا اندازہ ہی نہیں۔ ميڈیا تو آزادئ اظہار كے نام پر اسلامى، اخلاقى سب حدود پامال كر رہا ہے ۔
    ماں كى گود، تربيت كى اہمیت اپنی جگہ مگر گھر كے سربراہ كے بھی تو فرائض ہیں اور جب سربراہ ہی بيگم كو خاص خاص دوستوں اور ديور جیٹھ سے پردہ نہ كرنے كا حكم صادر كر دے تو ماں بیٹیوں كى خاك تربيت كرے گی؟
    اور يہ كوئى فرضى مسائل نہیں یہ روز مرہ زندگی ميں ہمارى با پردہ بہنوں كی عام مشكلات ہیں۔
    درست !
     
  11. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    926
    ہفت روزہ اہلحدیث شمارہ نمبر 34
    جلد نمبر 39 12 شعبان تا 18 شعبان 1429 16 تا 22 اگست 2008 ء
    مولانا ابو محمد عبدالستارالحماد ( میاں چنوں ) احکام و مسائل

    ہمارے ہاں کچھ روشن خیال لوگوں کا کہنا ہے کہ اسلام میں عورت کیلئے چہرے کا پردہ ضروری نہیں ہے جب ان کے سامنے یہ آیت پیش کی جاتی ہے ۔ ” اے نبی ! اپنی بیویوں ، اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادر کے پلو اپنے اوپر لٹکا لیا کریں ۔ “ ( الاحزاب : 59 ) وہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد چادر کو اپنے جسم پر لپیٹنا ہے جسے پنجابی میں بکل مارنا کہتے ہیں ۔ براہ کرم اس الجھن کو دور کریں ۔ ( محمد علی ۔ کچا کھوہ )
    دراصل عورت کا چہرہ ہی وہ چیز ہے جو مرد کے لئے عورت کے باقی تمام بدن سے زیادہ پرکشش ہوتا ہے اگر اسے ننگا رکھنے کی اجازت دی جائے اور اسے شرعی حجاب سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے تو حجاب کے احکام بے سود ہیں ، سوال میں آیت کریمہ کا جو معنی کیا گیا ہے یہ لغوی ، عقلی اور نقل کے اعتبار سے غلط ہے ، اب ہم اس کی تفصیل بیان کرتے ہیں ۔

    لغوی لحاظ سے ادناءکا معنی قریب کرنا ، جھکانا اور لٹکانا ہے ، قرآن میں یدنین کے بعد علی کا لفظ استعمال ہوا ہے جو کسی چیز کو اوپر سے لٹکا دینے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ، جب اس کا معنی لٹکانا ہے تو اس کا معنی سر سے لٹکانا ہے جس میں چہرہ کا پردہ خود بخود آ جاتاہے ۔

    عقلی اعتبار سے اس لئے غلط ہے کہ اگر کوئی شادی سے پہلے اپنی ہونے والی بیوی کو دیکھنا چاہتا ہے تو اسے لڑکی کا چہرہ نہ دکھایا جائے باقی سارا جسم دکھا دیا جائے ، تو وہ اس پر اطمینان کا اظہار نہیں کرے گا یہ ممکن ہے کہ لڑکی کا صرف چہرہ دکھا دیا جائے تو وہ مطمئن ہو جائے ، جب یہ چیزیں ہمارے مشاہدہ میں ہیں تو چہرے کو پردے سے کیونکر خارج کہا جا سکتا ہے ۔

    نقل کے اعتبار سے یہ معنی درست نہیں ہے کیونکہ سورت احزاب5 ہجری میں نازل ہوئی ، اس کے بعد واقعہ افک 6ہجری میں پیش آیا ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس کی تفصیل بیان کرتی ہیں کہ میں اسی جگہ بیٹھی رہی ، اتنے میں میری آنکھ لگ گئی ، حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ وہاں آئے ، اس نے مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا اور اونچی آواز سے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا ، اتنے میں میری آنکھ کھل گئی تو میں نے اپنی چادر سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا ۔ ( صحیح بخاری ، المغازی : 1041 )

    بہرحال روشن خیال لوگوں کا یہ مؤقف مبنی برحقیقت نہیں ہے کہ چہرے کا پردہ مطلوب نہیں ، بلکہ اس سلسلہ میں صحیح مؤقف یہی ہے کہ چہرے کا پردہ اسلام میں مطلوب ہے ، اسلامی معاشرتی زندگی کا بھی یہی تقاضا ہے ۔ ( واللہ اعلم )

    ہمارے ہاں کچھ روشن خیال لوگوں کا کہنا ہے کہ اسلام میں عورت کیلئے چہرے کا پردہ ضروری نہیں ہے جب ان کے سامنے یہ آیت پیش کی جاتی ہے ۔ ” اے نبی ! اپنی بیویوں ، اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادر کے پلو اپنے اوپر لٹکا لیا کریں ۔ “ ( الاحزاب : 59 ) وہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد چادر کو اپنے جسم پر لپیٹنا ہے جسے پنجابی میں بکل مارنا کہتے ہیں ۔ براہ کرم اس الجھن کو دور کریں ۔ ( محمد علی ۔ کچا کھوہ )
     
  12. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,618
    السلام علیکم سسٹر

    اس معاملے میں بریطانیہ میں مسلمانوں کے لئے بہت سہولتیں میسر ہیں،

    جن جگہوں پر مسلمز کی تعداد ہوتی ھے وہاں سکول، کالجز اور یونیورسٹی مین نماز پڑھنے کے لئے جگہ ہوتی ھے تعلیم اور ڈیوٹی اوقات میں وہاں نماز آسانی سے پڑھی جاتی ھے۔

    جعہ ادا کرنے کے دن 2 گھنٹہ کی چھٹی بھی آسانی سے ملتی ھے اس وقت کے دو گھنٹے بندہ آگے کام کر سکتا ھے۔ کسی کو دین کے معاملے میں نماز پڑھنے کو کوئی منع نہیں کرتا۔ داڑھی رکھنے کے لئے زبانی کلامی اجازت لینی پڑتی ھے مگر اس میں بھی مشکل نہیں۔ لا تعداد مساجد ہیں جہاں پر پاکستان سے ہی علماء کا انتخاب کیا جاتا ھے اور ان مساجد کو اپنی کمیونٹیاں کی سپورٹ کرتی ہیں۔ جمعہ کا وعظ اردو میں ہوتا ھے اور کچھ مساجد میں تین زبانوں میں وعظ ہوتا ھے اردو ، انگلش، عربی پندہ پندہ منٹ کا۔

    والسلام
     
  13. dani

    dani -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,339
    :00001: بالکل ٹھیک۔ آپ نے جو ویڈیو شئیر کی ہے میرے خیال میں اس لڑکی كو وہاں نہیں جانا چاہیے تھا
     
  14. dani

    dani -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,339
    :00001: زبردست
     
  15. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,803
    جزاکم اللہ خیرا۔ یہ فتوی مجلس پر موجود ہے۔
    چہرے کا پردہ (گوشہ ء نسواں ) - URDU MAJLIS FORUM
     
  16. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    926
    اور يہ كوئى فرضى مسائل نہیں یہ روز مرہ زندگی ميں ہمارى با پردہ بہنوں كی عام مشكلات ہیں۔


    یہ بات جو میں نے لکھی تھی اس کی گہرائی میں جاتے ہیں صحیح العقیدہ ماں کے پاس جب بچی یا بچہ 5 سال تک گھر میں رہے تو وہ اس کی احسن طریقہ سے پرورش کر سکتی ہے ، اس کی بیس بناسکتی ہے بچہ ماں سے مانوس ہوتا ہے ماں کی گود نرسری ہے ، جب بیس اچھی ہوگی تو انشاء اللہ وہ آگے بھی اچھا انسان اور اچھا مسلمان بھی بنے گا ،
    اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ، کہ باپ بچوں کی تعلیم و تربیت سے بری الزمہ ہے بلکہ اس کا بھی پورا حق ہے وہ گھر کا سربراہ ہے قیامت کے دن اس سے بھی اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا اس کو بھی بچوں کی تعلیم و تربیت میں پورا کردار ادا کرنا چاہیے ، یہ صرف ماں کی ہی زمہ داری نہیں بلکہ باپ کی بھی ہے
    مرد اور عورت کے کردار کا تعین تو ہو گیا ،
    اب یہ دیکھتے ہیں جو بات ام نور العین بہن نے کہی ہے ،،، اور جب سربراہ ہی بيگم كو خاص خاص دوستوں اور ديور جیٹھ سے پردہ نہ كرنے كا حكم صادر كر دے تو ماں بیٹیوں كى خاك تربيت كرے گی؟
    میری بہن اس کا سادہ جواب ہے کوئی بھی غیرت مند مسلمان اپنی خواتین کو کسی بھی غیر محرم کے سامنے پیش نہیں کرتا مطلب سامنے نہیں آنے دیتا ، ننگے سر تو بہت دور کی بات ہے
    جب غیرت ایمانی کا جنازہ نکل جائے تو پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے
    اب اک اور بھی مسئلہ درپیش ہے
    دین والی صحیح العقیدہ بیوی ، لیکن شوہر بے دین ،
    دین والا صحیح العقیدہ شوہر ، لیکن بیوی بے دین ،

    اب اس کا ذمہ دار کون ہے؟
    یہ بھی اک سوال کھڑا ہو گیا ، پہلے ہمیں اس کا جواب تلاش کرنا ہوگا

    میں بحیثت اک مرد کھبی بھی بے دین عورت کا انتخاب نہیں کروں گا ،کیونکہ میں نے سن رکھا ، ایسا ساتھی تلاش کرو جو تمہیں جنت کے راستے کی طرف لیکر چلے ، نا کہ آگ کی جانب

    میں بحیثت اک باپ کھبی اپنی بیٹی کی شادی اک بے دین انسان سے نہیں کروں گا ، جو میری بیٹی کی دینا و عاقبت خراب کر دے ،

    یہ کچھ گزارشات تھی جو آپ کے گوش گزار کی ہیں
     
  17. ابن عمر

    ابن عمر رحمه الله تعالى

    بانی و مہتمم اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,369
    بہترین تحریر ہے ، جزاکِ اللہ خیراً
     
  18. dani

    dani -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,339
    جزاك اللہ خيرا بھائى مگر ايسى سوچ والے كتنے فيصد ہیں؟
     
  19. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    سلمان بھائی
    بہت ہی مفید گذارشات پیش کی ہے آپ نے۔
    میرا تو ماننا ہے کہ اسلام نے جو سوسائیٹی کا کانسپٹ پیش کیا ہے، جو ہمیں قران و حدیث سے قریب ہونے پر بہ آسانی سمجھ میں‌آسکتا ہے، بہ آسانی تمام مسائل پر قابو پالیا جاسکتا ہے۔
    عام طور پر جب تک ہم ہماری شادی نہیں‌ہوتی، بہت سی چیزوں‌کو نالج کے طور پر جانتے ہیں، لیکن وہی ایک فیملی لائف شروع ہونے کے بعد اکثر سے (خود کے ساتھ زیادتی ہوجاتی ہے)۔۔ورنہ جب ہم کبھی بھی کسی بھی (تھوڑا بھی مذہبی رجحانات رکھنے والے اشخاص سے بات کریں) تب ہمیں‌یہی لگے کہ ہر کسی کہ وہی خیالات ہیں، جو آپ نے پیش کئے۔۔لیکن وقت کے ساتھ شیطان اسقدر حاوی ہوجاتا ہےکہ پھر آنکھوں پر ایک پٹی سی پڑجاتی ہے۔۔۔اگر کوشش کی جائے، نیت کو درست رکھاجائے، اور اس چھوٹی سی امتحان گاہ، دنیا میں رہکر ایک ایک لمحہ خود احتسابی میں گذارا جائے تب، ہیڈ آف دی فیملی ہونے کے ناطے سے جو اختیارات ہمیں تفویض‌ہیں، اس پر عدل کے ساتھ چلکر ایک صحت مند گھر، فیملی، اور پھر سوسائیٹی تعمیر ہونا بہت مشکل بھی نہیں۔۔۔الحمدللہ
     
  20. sfahad10

    sfahad10 -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 27, 2010
    پیغامات:
    265
    اللہ وہ وقت لائے جب ہمارے لئے اسلام پر عمل کرنا آسان ہو جائے
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں