اسلامى جمہوریہ پاكستان ميں باحجاب خواتين كى مشكلات

عائشہ نے 'اسلام اور معاصر دنیا' میں ‏اکتوبر، 18, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    926
    دانی بھیا یہ سوال آپ کو خود سے کرنا چاہیے نا کہ میرے سے ، بلکہ یہ سوال ہر مسلمان کو اپنے نفس سے کرنا چاہیے
     
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,977
    جى ميں نے وڈیو دیکھی ہے ماہا سسٹر،شايد آپ كى مراد آخرى ايك دو منٹس سے تھی جس ميں داڑھی اور حجاب پر كمنٹس ہیں۔ظاہر ہے کہ افسوس ناك بات ہے مگر اس سے زيادہ افسوس ناك اس لڑکی كا جوابى رويہ ہے۔ اس قدر مسكرا مسكرا كر ايسے ذلت آميز كمنٹس سن كر اس نے بزدل ہونے كا ثبوت ديا ۔
    ميں اس بات سے اتفاق كرتى ہوں كہ لڑکیوں كو شوبز بطور پروفیشن ہر گز نہیں چننا چاہیے اور اس لڑکی كو وہاں نہیں جانا چاہیے تھا ، مگر اس كو مسترد كرنے كا جو سبب ان حضرات نے ديا وہ بالكل بچگانہ اور بودا ہے۔
    ايك بد دماغ شخص نے سكارف سے تمسخر كرتے ہوئے کہا ہمیں ايرانى ٹی وی کے ليے خبريں نہیں پڑھوانا۔ سوال يہ ہے کہ جب یہی چینلز پینٹ كوٹ والى اينكرز سے خبریں پڑھواتے ہیں تو كبھی انہوں نے سوچا ہے كہ وہ كسى يورپی ملك كے ليے خبريں نہیں پڑھوارہے؟
    یہ حقيقت ہے اس وقت پاكستانى معاشرے ميں یورپی پہناووں كو رواج ان نجى چینلز نے ہی ديا ہے۔
    اصل بات وہی ہے کہ داڑھی اور حجاب چاہے كتنا چھوٹا اور كم سے كم ہو ان كے منہ واقعى لٹک جاتے ہیں۔اور يہی دينى شعائر سے بے زارى اور تمسخر منافقت كى علامت ہے۔
     
  3. m aslam oad

    m aslam oad -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 14, 2008
    پیغامات:
    2,439
    آمین‎
     
  4. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,423
    اللہ ہمیں اسلام کی سچی کھری اور اور دن سے زیادہ روشن تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
     
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,977
    یہ بات بالكل درست ہے۔ گھی کے ڈبے کے اشتہار ميں نام نہاد ماڈل گرل كو ڈبے كا ہم رنگ لباس پہنایا جاتا ہے، كمپنیوں سے لے كر ہوٹلوں اور دكانوں کے استقباليہ پر پیسٹری كى طرح رنگے ہوئے چہروں والى عورتيں كاروبارى مسكراہٹ سجائے بٹھائى جاتى ہیں تاكہ بيوقوف مردوں كى جيبيں اچھی طرح خالى كروائى جا سكيں۔
    نہ ان كو محسوس ہوتى ہے نہ ان كے گھر والوں كو شرم آتى ہے۔
    ماہا سسٹر اسى ہفتے ہمارا لڑكيوں كا ايك اجتماع تھا، زيادہ تر ہائیر سٹڈیز كى سٹوڈنٹس تھیں، اور ہم يہی بات ڈسکس كر رہے تھے تو ميں نے سوال كيا كہ مكمل شرعى حجاب شروع كرنے كى صورت ميں ميل فيملى ممبرز سے كتنى سپورٹ كى توقع ہوتی ہے؟ اس قدر پريشان كن حالات سامنے آئے کہ بہت دکھ ہوا۔ ہم اگر سمجھتے ہیں كہ ميڈیا كى بے حيائى ديكھنے سے ايمان رخصت نہیں ہوتا تو خام خيالى ہے۔ بے حيائى كا مشاہدہ كرنے والے بالآخر حيا اور غيرت سے محروم ہو جاتے ہیں۔اس وقت ہمارے معاشرے كے مردوں كے خيالات تيزى سے بدل رہے ہیں۔
    ميرى ايك ٹین ایجر سٹوڈنٹ نے مکمل پردہ شروع كيا مگر اس كا سگا بھائى اس كا مذاق اڑاتا رہا اس كے ساتھ كالج ، بازار وغيرہ جانا چھوڑ ديا۔سارى فيملى كا يہی مطالبہ تھا كہ گاؤن نہیں تو كم از كم نقاب چھوڑ دو۔ جہاں بات طے تھی انہوں نے بھی يہی مطالبہ كيا۔ آخر اس بيچارى نے مجبورا ايك سال كے بعد نقاب كرنا چھوڑ ديا۔ا س طرح كے اتنے معاملات ميرے مشاہدے ميں آ چکے ہیں كہ خوف آتا ہے خدانخواستہ کہیں ہم بھی اس آندھی کی لپیٹ میں نہ آ جائیں۔
     
  6. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,423
    جزاک اللہ خیرا بھائی جان سلمان
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,977
    :00002::00002::00002::00039::00039:
     
  8. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,365
    سب تبصرے اور تجزیے اپنی جگہ درست،مگر یہ حقیقت چھپائی نہیں جا سکتی کہ بلاد اسلامیہ میں با حجاب خواتین کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ھے۔اور حجاب کا مقصد بھی یہی ہے۔ ان یعرفن فلا یوءذین۔بعض بدنصیب مسلمان اگر اس سےجان چھڑانا چاہتے ہیں تو ان کی فکر میں خامی ہے،اسلام کے نظام حجاب میں نہیں۔حجاب ایسا ہو کہ جسمانی خدوخال واضح نہ ہوں بلکہ چھپے ہوں۔۔۔بصورت دیگر حجاب بھی فیشن بن جائے گا۔
     
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,977
    ايك معاصر جريدے كے قارى كا مكتوب :
    طالبہ کا پردہ ناکامی کا سبب بن گیا
    مکرمی!23 مئی 2012ءکے نوائے وقت کے شمارہ کے صفحہ 8 پر پپلاں کے علاقہ سے ایک خبر شائع ہوئی جسے پڑھ کر بحیثیت مسلمان میرا سر شرم سے جھک گیا، خبر کا عنوان کچھ یوں تھا کہ”پبلک سروس کمشن کے امتحان میں نمایاں نمبروں سے پاس ہونے والی طالبہ کا پردہ انٹرویو میں ناکامی کا سبب بن گیا“ بقول طالبہ حکومتی پینل نے میرے حجاب کا مذاق اڑایا۔ ایسا لگا جیسے کسی غیر اسلامی ملک میں انٹرویو دے رہی ہوں۔ پردے اور حجاب کے متعلق پینل نے نفرت انگیز سوالات کئے۔ اس سے قبل اس قسم کے واقعات فرانس و دیگر غیر مسلم ممالک میں پیش آتے تھے تو ہمارے ملک کے مذہبی حلقے آسمان سر پر اٹھا لیتے تھے اور غیر مسلم ممالک کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات منقطع کر دینے کا کہتے تھے۔ افسوس کہ اس واقعہ کو ہوئے کتنے دن گذر گئے ہیں کسی بھی مذہبی حلقے کی طرف سے اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے خطے میں ملازمت کے حصول کےلئے دیئے گئے ایک باپردہ عورت کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس کا نوٹس نہ لینا قابل افسوس بات ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مذہبی حلقے اس لڑکی کی حمایت کےلئے اور حکومت کے اس اقدام کے خلاف میدان میں نکل آتے۔ اس واقعہ کے بعد مذہبی حلقوں کی طرف سے مکمل خاموشی ایک افسوسناک بات ہے۔ آج کے بعد ہم اس بارے غیر مسلم ممالک کے خلاف بات کس منہ سے کرینگے۔ (غلام مصطفی مغل قصور)Nawaiwaqt eNewspaper - A house of quality news content | Urdu News | Pakistan News | Nawaiwaqt | Nawaiwaqt Group | A house of quality news contents
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں