اسلامى جمہوریہ پاكستان ميں باحجاب خواتين كى مشكلات

عائشہ نے 'اسلام اور معاصر دنیا' میں ‏اکتوبر، 18, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. منصف

    منصف -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 10, 2008
    پیغامات:
    1,916
    بحث کہیں کی کہیں چلی جائے گی اس لیے مختصراً بتادے کہ ایک کہ ایک ہی قطار میں
    نبی پیغمر اور ولی عالم وغیرہ کو کھڑا کیسے کردیا ۔۔۔۔؟؟؟

    انبیاء اور ان میں فرق ہے ۔۔۔جملہ عجیب سا لگا س لیے لکھ دیا

    میری ناقص علم کے مطابق
    نبی اور پیغمبر اللہ کی جانب سے اللہ کے حکم کے مطابق شرعیت سازی کرتے ہیں انکے علاوہ کسی کو اجازت نہیں نہ ہی چاہے وہ کتنے ہی "پہنچے" ہوئے ولی کیوں نہ ہو ۔۔۔۔اس لیے انبیاء و رسول ( واضح رہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی شرعیت کے بعد پچھلی تمام شرعیتیں منسوخ ہوچکی ہیں)
    کسی چیز یا اصول کے بارے میں کہہ دے کہ یہ نہیں تو نہیں ۔۔۔۔یہ ہے تو ہے ۔۔۔۔

    اور براہ مہربانی یہ "قطب" صاحب کون ہیں؟؟؟ ۔۔۔۔یہ بھی بتادے ۔۔۔
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 20, 2010
  2. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,673
    السلام علیکم سسٹر

    میڈیا پر تو پہلے ہی لکھا ھے کہ وہ ایک بزنس ھے اس لئے اس پر دوبارہ لکھنے سے آپ نے ضرورت محسوس کی۔ سیلاب پر وہ رونا اپنے لئے نہیں روتے جو اتنی بڑی مصیبت جس کا پاکستان کو سامنا تھا ان کے لئے وہ کوشش کر رہے ہیں جبکہ یہ کا گورنمنٹ کا تھا مگر انہوں نے تو کھجوریں بھی بیچ کر پیسے ہڑپ کر لئے۔

    حجاب پر پابندی آپ کس کو کہتی ہیں۔ فرانس میں حجاب پر پابندی پر تو ان کی گورنمنٹ کی جانب سے لگی ھے، وہ نن مسلم ملک ھے۔ پاکستان میں حجاب پر پابندی نہیں ھے۔

    اداروں کی طرف سے ہر گورنمنٹ/ نن گورنمنٹ کی طرف سے ان کی اپنی ٹرم اینڈ کنڈیشن ہوتی ہیں۔ اس کو پابندی نہیں‌ کہتے کیونکہ پاکستان اسلامی مملکت ھے جس کو ان کی کنڈیشن منظور ہوتی ہیں وہی وہاں پر کام کرتے/کرتی ہیں۔ اگر قابلیت ہو تو ان اداروں میں حجاب کرنے کی اجازت بھی مل جاتی ہو گی۔ اگر نہیں تو پھر ایسی جاب نہ کریں سکول میں پڑھا لیں قرآن مجید کی بچوں کو تعلیم دیں اس سے تو دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں گی۔

    والسلام
     
  3. ثانیہ

    ثانیہ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 14, 2010
    پیغامات:
    165
    سسٹر ماہا آپ کمرشل فیلڈ کی بات کرتی ہیں۔ وہاں تو خواتین دین کا کام بھی کرنا چاہیں تو مشکل کھڑی ہوجاتی ہے۔ کتنے کتنے فتوی جاری ہونے لگتے ہیں۔:00002:
     
  4. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    474
    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
    معذرت کے ساتھ مجھے آپکی باتوں سے اتفاق نہیں،
    سعودی عرب میں دنیا کے ہر حصے کی خواتین کام کرتی ہیں، جاب پر انکے لئے سر ڈھانکنا ضروری ہے اور باہر نکلنے کیلئے عبایا سے جسم چھپانا لازمی ہے، وہ بھی ایک اسلامی ملک ہے جہاں دوسرے مذاہب کی خواتین سے اسلام کے اس حکم کی تعمیل کروائی جاتی ہے، جبکہ بقول آپکے پاکستان ایک اسلامی ملک ہے وہاں اپنے ہی ملک کی خواتین کیلئے یہ کنڈیشن لگائی جا رہی ہے کہ وہ نہ سر ڈھانکیں اور عبایا یا گا؂ن کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔میڈیا ہو یا جو بھی ہو اگر ملک اسلامی ہے تو اسلام پر عمل بھی ہونا چاہئے، دوہرا معیار کیوں بھائی۔ اسی لئے یہ میڈیا کبھی ایسی خبریں نہیں دیتا کہ فرانس میں حجاب پر پابندی لگا دی گئی یا بیلجیئم میں یا کس ملک میں حجاب کو لے کر کیا مسئلہ اٹھ رہا ہے۔ اسلامی ملک کا غیر اسلامی میڈیا۔
    اور آپ جو یہ بات کر رہے ہیں کہ وہ گھر پہ قرآن کی تعلیم دیا کریں، تو بھائی اگر خواتین ڈاکٹر نہ بنیں، نہ ٹیچر بنیں، نہ آفس کا کام کریں، تو کیا نسوانی علاج، پیدائش اور دوسری ضروریات کیلئے مرد ڈاکٹرز کے پاس جائیں، مردوں سے پڑھیں، جبکہ وہ صرف عورتوں کے اسکولز میں بھی پڑھا سکتی ہیں، بینکوں میں اور دوسرے آفسز میں جہاں ممکن ہو سکے عورتوں کیلئے الگ حصہ بنایا جا سکتا ہے جہاں صرف خواتین ہی خواتین سے معاملات کریں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,106
    اس كا مطلب ہے كہ ہم ميں سے كافى لوگ اس بات سے اتفاق كرتے ہیں كہ پاكستان ميں با پردہ خواتين اور لڑكيوں كو مشكلات كا سامنا ہے۔۔۔ انفرادى سطح سے لے كر اجتماعى سطح تك، افراد سے لے كر اداروں تك، نقاب، ہیڈ سكارف ، چادر،برقعے، عبايا يا گؤن كا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ طرح طرح كے نام دیے جاتے ہیں، معاشرے سے الگ يا حقير چیز سمجھا جاتا ہے۔معاشرے كے مركزى دھارے ميں ان كى شموليت كى حوصلہ افزائى كرنے كى بجائے ان كو مزيد عليحدگی كى طرف دھکیلا جاتا ہے۔۔۔
    اب سوال يہ ہے كہ یہ سب كرنے والے كون ہیں؟ پاكستان كے اپنے باشندے، 95 في صد مسلم آبادى والے ملك كے باشندے!
    وہ كزنز اور بھائى جو اپنی بہنوں اور كزنز كےپردہ كرنے پر ان سے ناراض ہوتے ہیں، مسلمان ماؤں کے بیٹے ہیں۔
    وہ جو باپردہ لڑکیوں سے شادى كرنے سے انكار كر ديتے ہیں مسلمان مرد ہیں۔۔۔۔
    وہ جو شادى كے بعد بيويوں سے نقاب يا عبايا اتار دينے كا مطالبہ كرتے ہیں وہ بھی رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے امتى ہیں ۔۔۔
    جو گلی محلوں ميں سكول كالج، بازار سے لوٹ كر آتى لڑکیوں اور عورتوں کے راستے میں کھڑے ہو كر ان كو گھورتے اور آوازے كستےہیں ۔۔ وہ بھی اسلامى جمہوریہہ پاكستان کے باشندے اور مسلمان ماؤں کے بيٹے ہیں ۔۔۔
    جو تعليمى اور تجارتى اداروں كى ایگزيكٹو چئئیر پر بیٹھے دوران انٹرویو، باپردہ خواتين كا تمسخر اڑا رہے ہیں وہ مسلمان سپوت ۔۔۔
    تو سوال يہ پیدا ہوتا ہے كہ یہ ہے پاكستانى عوام كا اعمال نامہ!
    اب جو ہم حکمرانوں سے اسلام نافذ كرنے كے مطالبے كرتے ہیں تو كس برتے پر؟
    خود ہم كتنا شعائر اسلام كى عظمت كو مانتے ہیں کہ پاكستان كو سركارى طور پر اسلام كا قلعہ بنانے كى بات كرتے ہیں؟
    كيا ہمیں شعائر اسلام كا مذاق اڑانے كا حكم معلوم نہیں؟
    شرعی پردہ کرنے والى عورت كا مذاق اڑانا - URDU MAJLIS FORUM
    علمائے كرام كےے مطابق:
    جو شخص كسى مسلمان خاتون يا مرد كا اس ليے مذاق اڑاتا ہے كہ وہ پابند شريعت ہے تو ايسا شخص كافر ہے ۔
    اس ليے كہ عبد اللہ بن عمر رضي اللہ عنہما سے روايت ہے كہ : ايك شخص نے غزوہ ء تبوك كے موقع پر ايك مجلس ميں كہا : ميں نے ان قراء حضرات جيسا پیٹو، جھوٹا اور بزدل كوئى نہيں ديکھا ۔ اس پر ايك شخص نے اسے كہا : تو جھوٹ بولتا ہے ، تو منافق ہے ! ميں ضرور اس بات سے رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم كو آگاہ كروں گا ۔
    يہ خبر سول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم كو پہنچی آسمان سے قرآن نازل ہو گیا ۔ عبد اللہ بن عمر رضي اللہ عنہما كا بيان ہے : ميں نے اس شخص كو ديكھا كہ وہ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم كى چلتی اونٹنی كے كجاوے والى پٹی كے ساتھ لٹکتا ہوا جا رہا تھا اور پتھر اسے زخمى كر رہے تھے وہ كہہ رہا تھا : يا سول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم ہم تو صرف مذاق كررہے تھے تو رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے قرآن كريم كے ان كلمات كے ساتھ جواب ديا :
    ۔۔۔۔۔۔ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ (65) لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ إِنْ نَعْفُ عَنْ طَائِفَةٍ مِنْكُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةً بِأَنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ (66)
    آپ فرما ديجيے كيا تم اللہ ، اس كى آيات، اور اس كے رسول سے ہنسی مذاق كرتے تھے ؟ بہانے مت بناؤ ! تم ايمان لانے كے بعد كافر ہو چکے ہو ۔ اگر ہم تم میں سے ایک جماعت كو معاف كرديں تو دوسرى جماعت كو سزا بھی دیں گے كيوں کہ وہ مجرم تھے ۔( سورة التوبة 9، آيات 65_66)
    اس آيت میں اللہ تعالى نے مسلمانوں کے ساتھ استہزاء كو اللہ رسول اللہ ( صلى اللہ عليہ وسلم ) اور آيات اللہ كے استہزاء كے مترادف قرارديا ہے ۔ وباللہ التوفيق ۔

    سوال يہ ہے كہ كيا يہ نفاق كى واضح علامات نہیں؟
    تو كيا ہمارے معاشرے ميں نفاق كا تناسب اتنا بڑھ چکا ہے؟
    ہم كب سوچیں گے؟
    ہم كب سنبھلیں گے؟
    اے اللہ، ہميں ہدايت دے۔
    اے ہمارے رب،ہمیں نفاق سے بچا !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,673
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ سسٹر

    اب میں کیا کروں۔

    چلیں بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے، میرے یہاں میری اہلیہ کی ایک دوست ھے جو کہ انگلش ھے اور اس کا خاوند گجرات سے پاکستانی اور فیملی قریشی ھے۔ اس کی 4 بیٹیاں حیات ہیں ایک فوت ہو چکی ھے۔ پردہ اگر دیکھا ھے تو ان میں دیکھا ھے اور صوم صلات کی پابند، گھر میں ان کے کسی رشتہ دار کے لڑکے کو بھی آنے کی اجازت نہیں اور نہ ان کا والد ان کو کسی کے گھر جانے دیتا ھے۔ ان کے گھر صرف عورتیں ہی جا سکتی ہیں۔ ان کی پرورش اس طرح کی کہ لڑکیوں کو بھی شوق تھا کہ وہ فلاں فلاں تعلیم حاصل کریں مگر اس کے والد صاحب نے ان سے کہا تھا کہ وہ تعلیم کرنی ھے جس میں سکول ٹیچر بن سکو اس کے علاوہ کوئی ایسی تعلیم حاصل نہیں کرنی جس میں آدمیوں کے ساتھ کام کرنا پڑے۔ والد ان کا انپڑھ ھے مگر تربیت اپنے بچوں کی اس نے بڑے اچھے طریقے سے کی ھے خود ہی سب بچوں کو قرآن مجید پڑھایا ہوا ھے۔ اب بڑی بیٹی تعلیم مکمل کر کے گھر کے قریب سکول ٹیچر لگی ھے سکول 7 ائر تک ھے۔ دوسری بیٹی بھی اگلے سال تعلیم مکمل کر کے سکول ٹیچر لگ جائے گی۔ تو یہ تھی سسٹر ایک گھر میں سربراہ کی تعلیم جس کی 4 سال کی بیٹی بھی حجاب اوڑھتی ھے۔ ان کی تعلیم ہی ایسی کہ جس میں مردوں کے ساتھ کام نہ کرنا پڑے ان کے باپ کی نیت اور پھر اللہ سبحان تعالی کا فضل۔



    ماشا اللہ اگر آپ ڈاکٹر ہیں تو آپ اپنا کلینک کھول کر بھی یہ کام کر سکتی ھیں جس میں آپ بھلہ جتنا مرضی نقاب اوڑھ لیں، دوسری جگہ کام کرنے سے آپ دوسرں کو الزام دیں گی تو یہ بے بنیاد ھے۔ جب آپ جانتی ہیں کہ کسی کے پاس کام کرنے سے ان کی شرائط پر عمل کرنا ہوتا ھے انٹرویو میں ہائی پروفائل کنڈیڈیٹ کو پہلے پریفر کیا جاتا ھے جو ان کے معیار پر پورا اترتا ھے۔ میرے خیال میں اس پر اتنی ہی گفتگو کافی ھے، آپکو اگر ضرورت محسوس ہو تو لکھ سکتی ہیں، پھر کسی اور دھاگہ میں ملیں گے۔

    والسلام
     
  7. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,673
    السلام علیکم

    یہاں پر حجاب و مکمل پردہ کا مذاق اڑانے والا کوئی نہیں، اور جو عورت یہ سمجھتی ھے کہ پاکستان میں اس کو پردہ کرنے پر مذاق اڑایا جاتا ھے تو وہ اس کی اپنی کمزوری و احساس کمتری ھے۔

    والسلام
     
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,106
    واہ ثانیہ سسسٹر بالکل ٹھیک نشان دہی کی۔۔۔ اس کا مطلب ہے یہ سلوک بھی عام ہے ۔
     
  9. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    474
    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    گھر کے سر براہوں کے بارے میں بات نکلی تو لمبی ہو جائیگی،بھائی میرا ارادہ بھی بیکار بحث کا نہیں ہے۔ آپکے خیالات معلوم ہو گئے حجاب کےحوالے سے اتنا کافی ہے۔
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,106
    يہی تو وہ ذہنیت ہے جو اچھے خاصے اسلامى ذہنوں كو بھی غلط محسوس نہیں ہوتی ۔اور اسى طرح كى باتيں كركے ہم با حجاب خواتين كو معاشرے كے مركزى دھارے يا مين سٹریم میں آنے سے روكتے ہیں!
    ايك مسلم اكثريتى ملك ميں ان باحجاب خواتين كے ليے كوئى سہوليات يا مواقع كون پیدا كرے گا؟ جبكہ پاکستان كے آئين اور قرار داد مقاصد کے مطابق :
    جس کی رو سے مسلمانوں کو اس قابل بنا دیا جائے گا کہ وہ انفرادی اور اجتما عی طور پر اپنی زندگی کو قرآن و سنت میں درج اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق ترتیب دے سکیں۔
    Wherein the Muslims shall be enabled to order their lives in the individual and collective spheres in accordance with the teachings and requirements of Islam as set out in the Holy Quran and the Sunnah;​
    تو كيا يہ باپردہ عورت كا حق نہیں كہ معاشرہ اور رياست پردے كے فريضے كى ادائيگی ميں اس كى مدد كرے اور اسے فيسيلٹییٹ كرے؟
    بالك درست كہا سسٹر، زيادہ تر سنجيدہ خواتين محسوس كر رہی ہیں كہ ميڈیا عورت كو Objectify كر رہا ہے، اور توہین اور تذليل كى حد تك فضول اور بے ہودہ انداز ميں پیش كر رہا ہے ۔افسوس بھی یہی ہے کہ ہمارى اكثريت كو اس طوفان بدتميزى كے نتائج و عواقب كا اندازہ ہی نہیں۔ ميڈیا تو آزادئ اظہار كے نام پر اسلامى، اخلاقى سب حدود پامال كر رہا ہے ۔
    ماں كى گود، تربيت كى اہمیت اپنی جگہ مگر گھر كے سربراہ كے بھی تو فرائض ہیں اور جب سربراہ ہی بيگم كو خاص خاص دوستوں اور ديور جیٹھ سے پردہ نہ كرنے كا حكم صادر كر دے تو ماں بیٹیوں كى خاك تربيت كرے گی؟
    اور يہ كوئى فرضى مسائل نہیں یہ روز مرہ زندگی ميں ہمارى با پردہ بہنوں كی عام مشكلات ہیں۔
    درست !
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں