اسلامی ناول مضر یا مفید؟

عائشہ نے 'ادبی مجلس' میں ‏دسمبر 11, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,106
    عام آدمی پر دین کا صرف اتنا علم حاصل کرنا فرض ہے جس سے وہ دینی فرائض ادا کر سکے۔ اس کو علما جتنا علم نہیں چاہیے۔
    ابھی اپنی ذات کو ایک طرف کر دیں۔ میں پوری ذمہ داری سے کہہ رہی ہوں کہ جو لڑکیاں ان سستے ناولوں اور ڈراموں میں غرق ہیں ان کی اکثریت نماز کے متعلق بھی ضروری علم نہیں رکھتی۔ میرا تدریسی تجربہ اسی میدان میں ہے۔ جو لڑکی نماز کی ضروری باتوں کا علم بیس بائیس سال کی عمر میں بھی نہیں رکھتی، اس نے کب روزے، زکاۃ، سود، حلال اور حرام کو سیکھنا ہے اور کل اپنے بچے کو کیا سکھا کر بڑا کرنا ہے؟ یونیورسٹی کی سطح کی لڑکیوں کا یہ حال ہے کہ شرم آتی ہے بتاتے ہوئے۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیلوں میں شطرنج کو منع کیا، گھڑ سواری اور نشانہ بازی کی حوصلہ افزائی کی۔ جنگی کرتب اپنی بیوی کو بھی دکھائے۔ یعنی اعلی قوموں کے اعلی افراد معیاری تفریح کرتے ہیں۔ یہ اس قوم کی تیاری تھی جس نے چند برسوں میں مدینہ کے تین سو گھروں کی بستی سے اٹھ کر پورے جزیرۃ العرب اور پھر روما کو فتح کرنا تھا۔
    آپ کے مریض کو جنک فوڈ پسند ہے لیکن آپ بطور ماہرِ طب اسے یہی کہیں گی کہ معیاری کھانا کھائیے تا کہ جان بنے۔ صرف ٹیسٹ بڈز کی نہ مانیں، معدے کی دہائی بھی سنیں۔ میری بھی یہی مجبوری ہے۔ مجھے بھی آپ کو بار بار کہنا ہے کہ اپنا ٹیسٹ معیاری چیزوں کے لیے ڈویلپ کریں۔
    جسم جیسا حال دماغ کا ہے۔ اسے معیاری غذا دیں، معیاری تفریح دیں، یہ آپ کو معیاری سوچ دے گا، آپ کےافکار معیاری الفاظ میں ڈھل کر دنیا تک پہنچیں گے۔آپ کی سوچ ہی آپ کے الفاظ اور پھر آپ کے اعمال میں ظاہر ہوتی ہے۔ آپ کے اعمال آپ کی شخصیت اور پھر آپ کی کتاب زندگی تحریر کرتے ہیں۔ اسی لیے یہ اہم ہے کہ آپ نے زندگی بھر کس چیز کا مطالعہ کیا۔ فصیح ادب میں بہت معیاری تفریح موجود ہے۔
    بات صرف فصاحت اور بلاغت کی بھی نہیں، بات ان غیر حقیقی اور حرام باتوں کی آمیزش کی بھی ہے جس کا ذکر پہلے ہو چکا۔
    دیکھے اللہ فرماتا ہے فلما زاغوا ازاغ اللہ قلوبھم: جب انہوں نے بری راہوں کی طرف بار بار جانا معمول بنا لیا تو اللہ نے بھی ان کے دل برے بنا دئیے۔
    یعنی انسان برائی اور برائی ملی چیزوں کی طرف بار بار جاتا رہتا ہے تو ایک دن دولت ایمان جاتی رہتی ہے۔
    دیکھیے جب زندگی بامقصد بنانی ہو تو بے مقصد چیزیں زندگی سے خارج کرنی پڑتی ہیں چاہے ان سے ہمیں کتنا پیار ہو۔ ایک وقت آنا ہے جب کچھ لوگوں نے کہنا ہے یا لیتنی قدمت لحیاتی! اللہ کرے ہم ان میں سے نہ ہوں۔
     
    Last edited: ‏جنوری 10, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,106
    قرآن مجید اور احادیث میں جو قصے بیان ہوئے فرضی نہیں ہیں۔ مثالیں دے کر جو بات سمجھائی گئی ہے وہ بھی حقیقی زندگی کی مثالیں ہیں۔ اس سے پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ قرآن مجید اور احادیث میں جو قصے آئے ہیں ان میں برائی کی تفصیل نہیں ہے۔
    قرآن آپ کو حقیقی قوموں کی تاریخ اور عظیم شخصیات کی زندگی کے حوالے دیتا ہے، حدیث میں بھی پچھلی قوموں کے نیک لوگوں کی آزمائشوں کے قصے آئے ہیں۔
    ہر ادیب سو فی صدی خیالی قصہ نہیں گھڑتا، وہ اپنا روزمرہ مشاہدہ ہی کہانی میں پیش کرتا ہے، لیکن تجارتی ادب عیاشی اور تخیلاتی مبالغہ آمیزی کی جانب مائل ہوتا ہے۔ کیوں کہ اس کا مقصد پیسہ یا عوامی مقبولیت ہوتا ہے۔ ڈائجسٹ کی مجبوری ہے کہ اس نے تھرل یا ہیجان بیچنا ہے۔ وہ بکتا ہی اس لیے ہے۔ یہ جو انتقاما شادی کرکے نفرت کرنے والا پاپولر پلاٹ ہے نا یہ اسی لیے ڈئجسٹ کی "مصنفات" میں مقبول ہے کہ اس میں تھرل کے بہت مواقع ہیں۔ کہانی چٹخارے دار ہو جاتی ہے۔ ہر تیسرے ناول میں یہی بکواس، ہر دوسرے ڈراموں کی یہی سٹوری لائن ، نتیجہ ہر لڑکی میاں سے گدھے جیسا سلوک کرے اور معاشرے میں نئے نئے جڑنے والے خاندان چاہے برباد ہو جائیں۔ حقیقی زندگی میں آپ کا بھائی یا بیٹا ایسے حالات سے گزر چکا ہو اور آپ نے اس کی حالت دیکھی ہو تو آپ برداشت نہیں کر سکیں گی۔ ایسے حالات پورےخاندان کو ڈپریس کرنے کو کافی ہوتے ہیں۔ اور کیا اسلامی لحاظ سے انتقام پورا کرنے تک کی گئی شادی حلال بھی ہے؟ ایک خاص مدت تک شادی کرنا تو متعہ میرج ہے جو حرام کر دی گئی ہے تو آپ کیا لکھ رہے ہیں اسلامی کے نام پر؟ مرد اگر طلاق کی نیت سے شادی کرے تو برا اور عورتیں انتقام کے لیے شادیاں رچائیں تو ہیروئنز؟ کچھ ہوش کے ناخن لینے چاہئیں ایسے ناول نگاروں کو یا نہیں؟
    پھر ہمارےدین میں شادی کب سے ٹشو پیپر ہو گئی کہ پہلی شادی انتقام لینے کے لیے، یا سچ جاننے کے لیے کی تھی، مشن کی کامیابی کے بعد دوسری شادی کا پلان بنایا جائے؟ عام زندگی میں ایسی عورت کو ہم آئیڈیلائز کریں گے یا اس پر نفرین بھیجیں گے؟
    ڈائجسٹ میں اصلاحی ناول لکھنے والے، قرآنی قصے کے برعکس برائی کو اتنی باریکی سے دکھاتے ہیں کہ بری فطرت والے باقاعدہ داؤپیچ سیکھ سکتے ہیں۔ پھر برائی کے 25 مناظر کسی انگریزی فلم کی طرز پر لکھ کر 26 ویں منظر میں کسی مبلغانہ کردار سےقرآنی آیات کا وعظ کروا دینا کافی نہیں ہوتا۔ آپ نے سار زور بیان برائی کی ترویج پر صرف کر دیا، نیکی کی جیت کا منظر آیا تو آپ ہانپ چکے تھے۔ ایسے میں آپ کے ناول کا کلائمکس برائی ہی رہا۔
    میں ان اسلامی یا اصلاحی ناولز سےکچھ نمونے آپ کو پیش کرتی ہوں۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے گا اگر آپ کی بیٹی ایسا کرے تو آپ کا جی اس کو کچا چبانے کو کرے گا یا نہیں۔ اور یہ بھی کہ حقیقت میں اسلامی لڑکیاں ایسی ہوتی ہیں؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,106
    قصہ مختصر "اسلامی" کے نام پر جو کچھ سامنے آ رہا ہے اس کے پیچھے چل پڑنے والوکے لیے مختار مسعود کا یہ جملہ یاد آتا ہے
    تمہاری طرف جو ہاتھ بڑھاتا ہے تم اس پر بیعت کر لیتے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ تمہیں اب تک راستہ نہیں ملا۔
    http://www.urdumajlis.net/threads/پیرادانیا-۔۔۔-سری-لنکا-peradeniya.23324/
    میں نے تاریخ میں بھی یہ بار بار پڑھا ہے اور اب اپنی زندگی میں بھی ہوتا دیکھ رہی ہوں کہ ہم اسلامی کے لفظ سے ایسا دھوکا کھاتے ہیں کہ تمام احتیاط بھول جاتے ہیں۔ اسلام سوال اٹھانا سکھاتا ہے، قرآن بار بار منطقی سوال اٹھاتا ہے تو ہم نے یہ مریدانہ طبیعت کہاں سے پائی ہے کہ جس پر اسلامی کا گمان ہوا سو فی صد آنکھیں بند کر کے اس کے مرید ہو گئے۔

    تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
    ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,544
    دینی لٹریچر پر پوسٹ نمبر 44 میں بہت کچھ وضاحت میں موجود ہے۔ اس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ مزید فرصت میں ان شاءاللہ
    شیخ محمد بن صالح العثيمين رحمه اللہ کی بات درست ہے لیکن مذکورہ ناول ان شرائط پر پورے نہیں اترتے۔کئی حوالے تو اسی تھریڈ میں موجود ہیں۔ جن پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے ۔اس کے علاوہ کئی ایسے فتوی بھی ہیں۔ جن کی رو سے اصلاح کے لئے فرضی قصوں کی ممانعت موجود ہے
    فطری طور پر مسلمان کے دل میں پاکیزگی موجود رہتی ہے۔ کرنا صرف یہ ہوتا ہے کہ کلام الہی(قرآن اور نبی کریم کس فرمان سمیت۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت و دین کا فہم) کے ذریعے اس گرد کو صاف کرنا ہوتا ہے جو جمی رہتی ہے۔ کچھ لوگ بچپن میں یہ چیز حاصل کر لیتے ہیں۔ اور بہت سے دوسرے زندگی کے کسی نا کسی حصے یہ معرکہ سر کر لیتے ہیں۔ اور بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو حاصل نہیں کر ۔ یوں نہیں کہا جاسکتا کہ ہمارے دل پاکیزگی کو نہیں پہنچے۔۔ تو پھر پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ شریعت میں کوئی ایسی قید تو موجود نہیں ہے کہ جو پاکیزگی کسی صحابی رسول رضی اللہ عنہ نے حاصل کر لی کوئی اور نا کرے۔بلکہ ایمان ویسا ہی قبول ہو گا۔ جیسا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تھا۔ تو پھر پاکیزگی کے حصول میں یہ تفریق اور پابندی کیوں ہے۔
    رہی بات کہ قرآن کا وقت دینے کے بعد یا یوں کہ لیں کہ باقی تمام کام سے عہدہ برا ہونے کے بعد اس کو پڑھا جائے تو کیا پھر بھی منع ہے؟ میرا خیال ہے منع کوئی نہیں کررہا۔ لیکن ایسی چیزوں کے فوائد سے زیادہ مضر پہلو کی طرف توجہ دلائی گئی۔ جیسے اسلام نے خمر کو مکمل حرام قرار دیا ہے۔ اگرچہ اس میں فوائد بھی ہیں۔خصوصاً یہ چیز نوجوان نسل کے لئے شارٹ کٹ راستہ ہے جس سے انہیں گزارا جاتا ہے۔جیسے جہاد یا پردہ کے موضوعات ہیں ۔ ان دونوں موضوعات پردینی لٹریچر سے ہٹ کر ایمان کو تازہ کرنے والے ہمارے ارد گرد موجود ہیں ۔ اول الذکر تکفیریت کی طرف مائل ہیں ۔ کوئی اصول اور ضوابط نہیں ۔ ان کا یہ حال ہے کہ وہ اہل علم کی بات کو رد کرنے سے گریز نہیں کرتے ۔ بے ادبی اور گستاخی اتنی ہوتی ہے کہ کوئی شریف النفس شخص دعوت دین یا اصلاح نہیں کر سکتا ۔ ثانی الذکر پردہ ہے ۔پردہ کا اصل مقصد ظاہر اور باطن دونوں کی حفاظت ہے ۔ اب پردہ کی تذکیر کے لئے بہت کچھ نئے طریقہ موجود ہیں جو ہماری نظر میں صرف ظاہر کی اصلاح کرتے ہیں ـ شاید یہی وجہ ہے کہ بہت سے لڑکیاں کسی سے متاثر ہوکر پردہ شروع کر لیتی ہیں، پھر چھوڑ دیتی ہیں ـ لیکن اگرپردہ کے لئے ان کو ازواج مطہرات ؓ، صحابہ کرامؓ کی سیرت کے مطالعہ کی دعوت دی جائے تو نا صرف یہ چیز اثر کرتی ہے ـ بلکہ آئندہ نسلوں کے لئے بھی فائدہ مند ہوتی ہے ـ
    مزید یہ نئے طریقے تحقیق یا محنت پر مجبور نہیں کرتے ـ آسانیاں و تساہل لاتے ہیں ۔ جب کہ دینی ادب و لٹریچر سیکھنے سکھانے اور تحقیق پر ابھارتا ہے۔ چاہے وہ تاریخ ہو۔ سیرت ہو۔ حدیث ہو۔ علوم قرآن ہو۔ انسان کے لئے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔ وہ نہیں جو اسے خود بخود ملا گیاـ زندگی گزارنے کے لئے ڈاکٹر ، انجینئر ، بننے والے ضرورت پر کسی مولوی یا مولانا کی تحقیق نہیں پڑھیں گے ـ بلکہ کوشش کریں گےکس اسی شخص کا لیکچر سنیں جو اس شعبہ میں مہارت رکھتا ہوں ـ اسلام بھی یہی تقاضا کرتا ہے کہ آپ ہر معاملے میں اصل کی طرف رجوع کرنے کی کوشش کریں ـ کوشش میں یہ ہوتا ہے کہ اگر زیادہ نہیں تو کچھ نا کچھ حاصل ضرور ہوتا ہے ـ اس میں کوئی شک نہیں شروع میں مشکل ہوتی ہے ـ طبیعت مائل نہیں ہوتی ـ بوریت الگ ہوتی ہے ـ لیکن اگر اخلاص ، دل جمعی ،اچھا دینی ماحول ، متقی ، پرہیز گارعلماء و لوگوں کی صحبت حاصل ہو جائے تو منزل قریب اور آسان ہو جاتی ہے ـ
     
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,106
    لکھنے کی حد تک ٹھیک ہے نام بھی میں نے سوچ رکھا ہے
    " اور چائے ٹھنڈی ہو گئی!"
    اللہ کرے کہ کوئی اور یہ نام چرا نہ لے۔۔۔ البتہ چھپوانے کی میں قائل نہیں، جیب کو نقصان ہوتا ہے۔


     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,972
    آپ کے کرنے کا کام اس سے بلند ہے اگر آپ اس پر توجہ دیں اور یہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے

    Sent from my H30-U10 using Tapatalk
     
    • دلچسپ دلچسپ x 1
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,544
    یا سلا م ، محق
    : )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,544
    نہیں یا اختی ۔ میرے رائے میں اگر ہم کسی چیز کے مضر ہونے کی بات کرتے ہیں تو متبادل میں اس سے بہتر چیز کی طرف رہنمائی کرتے ہیں ۔ جیسا کہ قرآن ، سیر ت رسول ﷺ،سیرت امہات المؤمنین ،سلف صالحین وغیرہ ۔ ہاں ، اگر ہم یہ کہیں کہ ناول جیسی ہی کسی چیز کو اصلاح اور علم کی خاطر اختیار کر لیں تو پھر فیس بک کا حوالہ بن سکتا ہے ۔ سوشل میڈیا کو استعمال کرنے والوں لوگوں میں فرق ہو سکتا ہے ۔ فتنہ سے تو انسان گھر کےاندر بھی نہیں بچ سکتا ۔ لیکن اگرمعلوم ہو کہ فتنہ سے بچنا کیسے ہے تو ان شاء اللہ ، انسان کہیں بھی رہا کربچ سکتا ہے ۔ فیس بک یا ٹویٹر استعما ل کرنے والوں میں صاحب علم حضرات بھی ہیں ۔ اور فتنہ پرور بھی ۔ عوام الناس کی کثیر تعداد جو کہ جاہل ہے وہ بھی استعمال کرتی ہے ۔ اگراہل علم یہ سوچ کر فیس بک کا استعمال ترک کردیں کہ گٹر میں رہتے ہوئے اس کی صفائی ممکن نہیں ،تو کتنے لوگ ہیں جو فیس بک چھوڑ کر مساجد یا کتابوں سے استفادہ کی کوشش کریں گے ۔ شاید ایک فیصد بھی نہیں ۔ لوگوں کو فتنہ اور فتنہ پرور لوگوں سے بچانا اہم فریضہ ہے ، بجائے اس کہ انسان گھر میں بیٹھ کرلوگوں کی صلاح کے لئے کوئی ناول یا مضمون لکھتا رہے ،یاکتابیں لکھے ۔ یا پھرجمعہ کے دن صرف خطبہ کو ہی کافی سمجھ لے ۔دعوت دین کے لئے ضروی ہے عالم دین اصل ما خذ کو نا چھوڑے، ذریعہ کوئی بھی استعمال کرے ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اگر کسی کا علم اتنا ہی کمزور ہے(یا جذباتی لوگ یا اساتذہ) کہ وہ جلد ہی فتنہ میں مبتلا ہوجاتا ہے تو پھر اسے چاہے کہ بلاضرورت گھر سے بھی باہر نا نکلا کرے ، کیونکہ پہلے اپنے آپ کو فتنہ سے محفوط رکھنا ، ایمان کی سلامتی کے لئے ضروری ہے ـ
     
  9. حیا حسن

    حیا حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 6, 2017
    پیغامات:
    118
    متفق
    مصحف جنہوں نے پڑھا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اس میں ایسا کچھ نہیں جو عام طور پر سطحی سوچ رکھنے والے پڑھتے ہیں، وہ لوگ تو کبھی بھی یہ ناول نہ پڑھیں کیونکہ ان کو اس میں وہ سب نہیں مل سکتا جو وہ پڑھنے کے عادی ہیں.

    مصحف دراصل ہے ہی قرآن پر، اور جو لوگ قرآن سے دور ہیں مجھے یقین ہے کہ ایک دفعہ یہ ناول پڑھنے کے بعد ان کے ذہن میں یہ خیال ضرور آیا ہو گا کہ قرآن مجھے پڑھنا ہے آج سے

    یہاں پر میں نے کچھ اعتراضات پڑھے
    ہر انسان ایک مختلف ماحول میں پرورش پاتاہے، آپ کا اٹھنا بیٹھنا ایسے ماحول میں رہا ہو گا جہاں آپ کو ملا ہی ایک بہت اچھا ماحول ہو گا کہ آپ کو ناول پڑھنا ٹھیک نہیں لگ رہا، کچھ غلط بھی نہیں ہے آپ کی بات، انسان کی زندگی تھوڑی ہے مگر علم زیادہ تو وہ علم حاصل کرنا چاہیے جو اس کو نفع بخشے لیکن آپ یہ سوچیں کہ آپ کا ایسا مزاج بنا کیسے؟ کیا ایک دم سے ہی آپ اس طرف راغب ہو گئیں؟ عین ممکن ہے کہ آپ کو شروع سے ہی ایسے لوگ ملے ہوں جنہوں نے آپ کو صراط مستقیم پر چلنا سکھ دیا ہو، اب آپ کو اس راستے سے ذرا بھی ادھر ادھر ہونا ٹھیک نہیں لگتا.
    لیکن بہت سے ایسے افراد ہیں جن کو نہیں پاتا ہوتا کہ حیا کیا ہے؟ پردہ کیوں کرتے ہیں؟ پردہ کرنا فرض ہے یا نہیں؟ ہمیں تھوڑا سا دوسرے کی سوچ تک پہنچنے کی ضرورت ہوتی ہے. ایسے افراد کی زندگی عام کتابیں پڑھتے ہی گزری ہوتی ہیں.، وہ لوگ اگر یہ پڑھ لیتے ہیں تو ان کا ذہن تھوڑا سا کھلتا ہے، انھیں محسوس ہوتا ہے کہ کچھ کمی ہے ان کے اندر اور پھر ہدایت دینا تو اللہ کا کام ہے پھر وہ ان کو قرآن کا صحیح علم بھی دیتا ہے اور وہ حقیقی کامیابی تک پہنچ جاتے ہیں.

    انسان کسی چیز کو پڑھ کر وہی رائے قائم کرتا ہے جیسا وہ سوچتا ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,106
    ویسے جب کوئی کسی چیز کا ڈائے ہارڈ فین ہو تو پھر کوئی دوسری بات کم ہی سمجھ آتی ہے۔ لیکن کوئی مجھے بتائے پیر کامل کی اسلامی ہیروئن کو دین بدلنا ہوتا ہے تو سیدھا پڑوسیوں کے بیڈروم میں پہنچ جاتی ہے۔یعنی انسان کے پاس پناہ لیے کئی معقول جگہیں ہوتی ہیں۔
    اور یہ کون سا اسلام ہے کہ عورت نے اسلام قبول کرنا ہے تو ایک مرد ضروری ہے۔ کیا اسلامی تاریخ میں تنہا عورتوں نے اسلام قبول کر کے اس کے لیے قربانیاں نہیں دیں؟ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی شادی شدہ بیٹی رضی اللہ عنہا اسلام قبول کر کے تنہا ہجرت کو نکلتی ہیں۔ اسلامی ہیروئنوں پر کیا آفت آ گئی ہے کہ ترکیب قبول اسلام میں ایک عدد ہمدرد صنف مخالف سے اڑانا ضروری ہے؟
    آنکھ نہ کھولنی ہو تو مصحف بھی اسلامی ناول ہے لیکن میں تو ایسے اسلامی ناولوں پر لعنت بھیجتی ہوں جہاں دو بہنوں کو ایک ہی بندے کی محبت میں مبتلا دکھایا جائے، یا ایک ہی انسان دو بہنوں کی محبت میں کنفیوز ہو، یہ کون سا اسلامی ناول ہے جہاں عورتیں اپنے بہنوئی سے پردے کی بجائے اس کے سامنے پونی ٹیل لہراتی پھرتی ہیں؟اللہ پر یقین رکھنے والی ایک مسلمان عورت ایسی سوچ کا قطعا ساتھ نہیں دے سکتی، لیکن ہندوانہ فلمیں دیکھ دیکھ کر ہمارے یہاں بھی محرم و نامحرم کے معیار بدل کر شیطانی خیالات کو رواج مل رہا ہے۔دینی معیار پر قائم رشتوں کا تقدس ایک ایسی چیز ہے جس پر انسان جان دے سکتا ہے لیکن تصوراتی رومانس لکھنے والے پوری کوشش میں ہیں کہ رہی سہی اقدار بھی تباہ ہو جائیں۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں