القاء کسے کہتے ہیں

ابوعکاشہ نے 'مطالعہ' میں ‏مئی 16, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,544
    القاء کسے کہتے ہیں

    ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ محاضرات قرآنی، ص:۵۰

    بعض اوقات اللہ تعالی کی طرف سے عام انسانوں کے دل میں بھی کوئی بات ڈال دی جاتی ہے ۔ جس القاء کہتے ہیں
    آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ کبھی درس قرآن دیتے وقت یا پڑھاتے وقت کوئی طالب علم آپ سے سوال کرتا ہے ۔ اور آپ کو پہلے سے اس کا جواب معلوم نہیں ہوتا ۔ لیکن اچانک طالب علم کے سوال کرتے ہی آپ کے دل میں جواب آجاتا ہے اور صاف محسوس ہوتا ہے کہ اللہ نے دل میں ڈال دیا ہے ۔ یہ القاء ہے ۔
    لیکن یہ القاء قطع اور یقینی نہیں ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ یہ بات اللہ تعالی نے آپ کے دل میں نہ ڈالی ہو ۔ بلکہ آپ ہی کے نفس نے آپ کو سمجھا دی ہواور غلط ہو ۔ اور یہ بھی بلکل ممکن ہے کہ بات واقعی اللہ کی طرف سے ہو اور صحیح ہو ۔
    اس فرق کا پتہ نصوص سے چلے گا کہ کون ساالقاءصحیح اور من جانب اللہ ہے اورکون سی بات نفس کی سرگوشی اوروہم ہے ۔
    جو چیز قرآن پاک ،سنت ثابتہ کے مطابق ہے وہ القاءہے اورمن جانب اللہ ہے ۔اور اگرقرآن مجید ،سنت ثابتہ اور عقل سے متعارض ہے تو محض وسوسہ اوروہم ہے اور ناقابل قبول ہے ۔
    اس کے برعکس وحی الہی ہمیشہ قطعی اور یقنی ہوتی ہے ۔ وحی الہی خودمیزان ہے ۔جس میں تول کر کسی دوسری چیزوں کے صحیح یا ٖغلط ہونے کا فیصلہ کیاجائے گا ۔خودوحی الہی کوکسی خارجی میزان کی ضرورت نہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,581
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. Abdulla Haleem

    Abdulla Haleem رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جولائی 19, 2014
    پیغامات:
    69
    القاء اور الہام میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟
    دکتور غازی صاحب کے مضمون پڑھنے کے بعد مجھے الہام، ودیعت اور القاء ایک ہی چیز کے مختلف نام معلوم ہو رہےہیں. کوئی صاحب اس بارے تفصیل سے روشنی ڈال دیں تو ہماری معلومات میں اضافہ ہو جائیگی.
    شکریہ
    والسلام علیکم
     
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,544
    مفردات القران از شیخ عبد الرحمن كيلانى رحمہ اللہ
    الہام:: بمعنى وہ بات جو اللہ تعالى يا ملاء أعلى كى جانب سے كسى كے دل ميں ڈال دى جائے(مف) اور بمعنى سمجھ اور بصيرت عطا فرمانا۔ توفيق دينا (منجد) وحى كى طرح الہام بھی شيطانى ہو سكتا ہے۔ خصوصا جب كہ اس كا كسى آيت شرعيہ سے استدلال نہ ہو سکتا ہو۔ اسى ليے صوفیہ كے طبقے كو چھوڑ كر كسى عالم كے نزديك الہام قابل حجت نہیں ہوتا۔(م.م)
    وحى اور الہام ميں فرق يہ ہے کہ
    ايك الہام كا اطلاق صرف ذوى العقول پر ہوتا ہے۔ جب كہ وحی عام ہے۔
    دوسرے یہ کہ الہام كا تعلق صرف كام كے كرنے یا نہ كرنے سے ہوتا ہے جب كہ وحى ميں بہت زيادہ وسعت ہے(م.م)۔ارشاد بارى ہے: فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا (سورة الشمس،سورة نمبر:91، آيت 8) پھر انسان كو بدى (سے بچنے) كى اور پرہیزگاری (اختيار كرنے) كى سمجھ دی۔

    القاء:: كا لغوى معنى صرف ڈالنا ہے اور القى على بمعنى تعليم دينا(م.م) قرآن كريم ميں ہے:أَأُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِنَا (سورة القمر، سورة 54، آيت 25) "كيا ہم سب ميں سے اسى پیغمبر پر ہی نصيحت نازل ہونا تھی؟"
    اور تلقّى الشيئ منہ بمعنى سيكھ لينا ۔تعليم حاصل كرنا (منجد) جيسے فرمايا:فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ(سورة البقرة، سورة 2، آيت 37) "پھر آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ كلمات سیکھے۔" گویا القاء صرف ايسى دل ميں ڈالى ہوئی بات كو كہتے ہیں جس كا تعلق تعليم اور سيكھنے سكھانے سے ہو۔ وحى اور الہام كى طرح القاء شيطانى بھی ہو سكتا ہے ۔ ارشاد بارى تعالى ہے :فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ (سورة الحج: سورة22، آيت 52) "پھر اللہ تعالى شيطان كے القاء كو دور كر ديتا ہے۔"
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں