اللہ تو دیکھ رہا ہے۔

بابر تنویر نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏اگست 13, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,523
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
    ایک دوست نے واٹ ساپ پر یہ تحریر بھیجی ہے۔ جسے آپ سب کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔

    مجھے لکھنئو سے رام پور آنا تھا، لکھنئو میل کے روانہ ہونے میں صرف چند منٹ باقی تھے۔ ٹکٹ لینے کا موقع بالکل نہ تھا، اس لیے مجبوراً بے ٹکٹ ہی سوار ہو گیا۔ میں نے سوچا کہ راستے میں ٹی ٹی سے ٹکٹ بنوالوں گا۔ راستے بھر کوئی ٹی ٹی میرے ڈبّے میں نہیں آیا اور ٹرین رام پور پہنچ گئی۔ رات کے ڈھائی بجے تھے، جنوری کا مہینہ تھا، سخت برفیلی ہوائیں چل رہی تھیں۔ اسٹیشن پر سنّاٹا تھا۔ چند مسافر اس ٹرین سے اترے اور چلے گئے۔ میں اسٹیشن سے باہر جانے والے گیٹ پر گیا تاکہ وہاں موجود ٹکٹ کلکٹر سے ٹکٹ بنوالوں۔ لیکن گیٹ پر محکمہ ریل کا کوئی کارندہ موجود نہ تھا۔ غالباً کڑاکے کی سردی کی وجہ سے وہ اپنے آفس میں دبکے ہوئے تھے۔ باہر چند رکشے والے اِکّا دُکّا مسافر کو لپکنے کے لیے بے تاب تھے۔
    میں چاہتا تھا کہ ٹکٹ بنواکر ہی باہر نکلوں، تاکہ کسی قسم کے جرم کا احساس میرے ضمیر کو ملامت نہ کرے۔ میں نے اِدھر اُدھر دیکھا، جب کوئی ٹی ٹی نظر نہ آیا تو میں باہر نکل کر ٹکٹ کھڑکی پر گیا کہ وہاں سے رام پور سے لکھنئو کا ٹکٹ خرید کر ریلوے کو پیسے ادا کر دوں، مگر ٹکٹ کھڑکی بھی بند تھی۔ مجبوراً میں سیدھے اسٹیشن ماسٹر کے آفس میں گیا۔ اسٹیشن ماسٹر انگیٹھی جلائے سردی سے مقابلہ کر رہے تھے۔ میں نے اسٹیشن ماسٹر سے عرض کیا کہ لکھنئو سے بے ٹکٹ آیا ہوں۔ لکھنئو میں ٹکٹ لینے کا بالکل موقع نہ تھا، اس لیے مجبوراً ٹکٹ لیے بغیر ہی ٹرین پر سوار ہو گیا، راستے بھر کوئی ٹی ٹی نہیں آیا کہ میں اس سے ٹکٹ بنوا لیتا۔ یہاں رام پور اسٹیشن کے گیٹ پر بھی کوئی ٹی ٹی موجود نہیں ہے اور ٹکٹ کھڑکی بند ہے۔ اس لیے آپ سے درخواست ہے کہ لکھنئو سے رام پور کا ٹکٹ بنا دیں تاکہ ریلوے کے اس قرض کو میں ادا کر دوں۔ میری بات سن کر گویا اسٹیشن ماسٹر کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ اس نے حیرت سے مجھے دیکھا اور پھر فوراً ہی ایک کرسی میری طرف بڑھا کر بیٹھنے کے لیے کہا۔ میرے بیٹھتے ہی اسٹیشن ماسٹر نے اپنے کچھ ساتھیوں کو آواز دے کر اپنے پاس بلایا۔ دیکھتے ہی دیکھتے تین چار افراد اس کے پاس جمع ہو گئے۔ اب اسٹیشن ماسٹر نے مجھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جناب اپنی بات کو پھر دہرائیے جو ابھی آپ نے مجھ سے کہی تھی۔
    وہاں موجود سبھی لوگ ہمہ تن گوش میری طرف متوجہ ہو گئے۔ یہ جاننے کے لیے کہ نہ معلوم کیا ایسی انوکھی بات ہے، جس کے لیے اسٹیشن ماسٹر نے انہیں بلایا ہے۔ میں نے اسٹیشن ماسٹر سے نہایت ادب کے ساتھ عرض کیا کہ جناب آپ مجھے ان سب لوگوں کے سامنے شرمندہ نہ کریں۔ مجھے نہایت مجبوری کی حالت میں ٹکٹ کے بغیر سفر کرنا پڑا ہے۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ میرا ٹکٹ بنا دیں۔ اسٹیشن ماسٹر نے میری پوری بات اپنے ساتھیوں کے سامنے دہرادی۔ یہ سن کر کہ میں خود ہی اسٹیشن ماسٹر کے پاس حاضر ہوا ہوں اور ٹکٹ بنوانے پر مصر ہوں، وہاں موجود سبھی لوگ حیرت سے مجھے اس طرح دیکھنے لگے گویا میں انسان نہ ہوکر کوئی دوسری مخلوق ہوں۔ اسٹیشن ماسٹر پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور مجھ سے پوچھا کہ جب راستے میں کسی نے آپ سے ٹکٹ نہیں مانگا اور یہاں اسٹیشن پر بھی گیٹ پر کوئی موجود نہیں تھا تو آپ باہر کیوں نہیں نکل گئے؟ میں مسکرایا اور ان سے عرض کیا کہ جناب میں ایسا ہرگز نہیں کر سکتا تھا۔ کیونکہ میں جس دین یعنی اسلام کا پیرو ہوں، وہ ہمارے خالق و مالک، پروردگار کا بھیجا ہوا دین ہے۔ اس دین کی تعلیم یہ ہے کہ ہمارا خالق و مالک خدا ہمیں دیکھ رہا ہے، ہماری ہر حرکت پر اس کی نظر ہے اور وہ ہر وقت ہمارے ساتھ ہے۔ اسی دین نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ کل قیامت کے دن ہمیں اپنے کاموں کا حساب خدا کو دینا ہے۔ خدا کی کتاب قرآن مجید میں جگہ جگہ یہ بات بتائی گئی ہے کہ ہم جو کچھ بھی اس دنیا میں کریں گے، مرنے کے بعد آنے والی زندگی میں اپنے سامنے اسے حاضر پائیں گے۔ جو نیکی ہم کریں گے وہ بھی ہمارے سامنے آئے گی اور جو برائی کریں گے اسے بھی ہم دیکھیں گے۔ خدا سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔ وہ تو ہمارے دلوں کے حال تک سے واقف ہے۔ خدا کے فرشتے بھی ہماری زندگی کا پورا ریکارڈ تیّار کر رہے ہیں۔
    دین اسلام نے ہمیں اس بات سے بھی متنبہ کیا ہے کہ اس دنیا میں اگر ہم کسی کا کوئی حق ماریں گے تو کل قیامت کے دن ہم سے وہ حق حقدار کو دلوایا جائے گا اور اس وقت عام لوگوں کے سامنے ہماری رسوائی ہوگی۔ قرآن نے ہمیں بتایا ہے کہ ہماری یہ زندگی ہماری آزمائش کے لیے ہے۔ مرنے کے بعد ہمارا خدا ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا اور ہمارے اعمال کے مطابق جزا و سزا دے گا۔ اگر ہم خدا کے دین کے مطابق عمل کرتے ہوئے زندگی گزاریں گے تو ہمارا پروردگار ہم سے خوش ہوگا اور ہمیں جنّت عطا فرمائے گا اور اس کی نافرمانی کرنے پر ناراض ہوگا اور جہنّم کی آگ میں ڈالے گا۔
    میں نے انہیں یہ بھی بتایا کہ میں ایک اسلامی مدرسے میں پڑھتا ہوں اور وہاں اس طرح کی باتیں طلبہ کو سکھائی اور پڑھائی جاتی ہیں۔ میں نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ٹرین کا سفر کیا ہے میرے اوپر ریلوے کا یہ حق ہے کہ میں اس کا کرایہ ادا کروں۔ کسی کے دیکھنے اور نہ دیکھنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ ہمارا خدا تو ہمیں دیکھ ہی رہا ہے۔ اس لیے میری گزارش ہے کہ آپ میرا ٹکٹ بنا دیں اور میرا بوجھ ہلکا کرکے مجھے شکریہ کا موقع دیں۔
    میری یہ باتیں وہاں موجود سبھی لوگ خاموشی کے ساتھ بت بنے سنتے رہے۔ میرے خاموش ہوتے ہی اسٹیشن ماسٹر نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ قرآن اور اسلام کی یہ زبردست تعلیمات ہمیں پہلی بار سننے کو ملی ہیں۔ اگر ان تعلیمات کو ہمارے اہلِ وطن اور ہمارے رہنما و حکمراں اپنی زندگیوں میں داخل کرلیں تو یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ ہمارا ملک سورگ (جنّت) بن جائے گا۔ ان لوگوں نے اسلام اور قرآن پاک سے متعلق ہندی زبان میں لٹریچر کی خواہش ظاہر کی تو میں نے انہیں اس سلسلے میں رام پور ہی کے کچھ اسلامی اداروں سے رابطہ قائم کرنے کے لیے کہا۔
    اسٹیشن ماسٹر نے نہ چاہتے ہوئے بھی میرے اصرار پر میرے جذبات کا خیال کرتے ہوئے میرا ٹکٹ بنایا۔ چائے وغیرہ سے میری تواضع بھی کی۔ جب میں وہاں سے جانے کے لیے کھڑا ہوا تو اسٹیشن ماسٹر نے مجھ سے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ اس وقت سرد رات میں آپ شہر نہ جائیں، کیونکہ شہر اسٹیشن سے کافی فاصلے پر ہے اور راستے میں لوٹ پاٹ کی واردات بھی ہوتی رہتی ہیں۔ آج رات آپ ہمارے گیسٹ ہاوس میں آرام کریں اور صبح کو گھر جائیں۔ میں اس کے لیے آمادہ ہو گیا۔ چنانچہ اسٹیشن ماسٹر نے اپنے کارندے کو گیسٹ ہاوس کی چابی دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے خاص مہمان ہیں، گیسٹ ہاوس میں ان کے سونے کا نظم کردیں۔ میں نے رات کو وہاں قیام کیا اور صبح کو شہر روانہ ہو گیا۔
    حقیقت یہ ہے کہ اسلام اس سر زمین پر خدا کی سب سے بڑی نعمت ہے اور اس کی تعلیمات جادوئی اثر رکھتی ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ اپنے عمل سے ان تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ اسلام کی روشن تاریخ گواہ ہے کہ جب جب ان کے پیرووں اور علمبرداروں نے اسلام کا عملی نمونہ لوگوں کے سامنے پیش کیا تو اس کی تعلیمات نے لوگوں کے دلوں کو جھنجھوڑ دیا اور انہوں نے اسی دین کے سائے میں آکر سچّی راحت محسوس کی۔ حفیظ میرٹھی مرحوم نے کیا خوب کہا ہے:
    تحریر سے ممکن ہے نہ تقریر سے ممکن
    وہ کام جو انسان کا کردار کرے ہے نسیم غازی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
  2. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    349
    جزاک اللّہ خیرا
    بہت ہی عمدہ تحریر ہے یہ تحریر صرف پڑھنا ہی نہیں بلکہ اس پر ہم تمام مسلمانوں کو عمل بھی کرنا چاہئے
    اللّہ ہم سب کو دین کا داعی اور اس پر عمل کرنے والا بنائے آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں