اللہ كى رحمت سے مايوسى مت پھیلائیں

عائشہ نے 'حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون' میں ‏اگست 22, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,803
    بسم اللہ الرحمن الرحيم
    السلام عليكم ورحمت اللہ وبركاتہ

    اللہ كى رحمت سے مايوسى مت پھیلائیں

    آپ كى خدمت ميں چند احاديث مباركہ پیش ہیں ۔ اللہ كرے كہ ہمیں فہم نصيب ہو۔

    [QH] عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا قَالَ الرَّجُلُ هَلَكَ النَّاسُ . فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ ».[/QH]
    حضرت ابو ہریرہ رضي اللہ عنہ سے روايت ہے كہ اللہ كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: جب كوئى شخص كہتا ہے لوگ ہلاک ہو گئے تو وہ کہنے والا ان سب سے زيادہ ہلاکت میں پڑ گیا۔

    (صحيح مسلم: كتاب البر والصلة والآداب، باب [QH]النَّهْىِ عَنْ قَوْلِ هَلَكَ النَّاسُ[/QH]. حديث6850)
    [QH]
    عَنْ جُنْدَبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَدَّثَ أَنَّ رَجُلاً قَالَ وَاللَّهِ لاَ يَغْفِرُ اللَّهُ لِفُلاَنٍ وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ مَنْ ذَا الَّذِى يَتَأَلَّى عَلَىَّ أَنْ لاَ أَغْفِرَ لِفُلاَنٍ فَإِنِّى قَدْ غَفَرْتُ لِفُلاَنٍ وَأَحْبَطْتُ عَمَلَكَ ». أَوْ كَمَا قَالَ. [/QH]

    حضرت جندب سے روايت ہے كہ اللہ كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم نے واقعہ بيان فرمايا كہ ايك شخص نے کہا: "اللہ كى قسم اللہ فلاں كو ہر گز نہ بخشے گا!"
    تو اللہ تعالى نے فرمايا: تم كون ہو کہ ميرى قسم كھاؤ کہ ميں فلاں كو نہ بخشوں گا؟ جاؤ ميں نے فلاں كو تو بخش ديا اور تمہارے سارے عمل ضائع كر دئیے!

    ( صحيح مسلم: كتاب البر والصلة والآداب: باب النهی عن تقنيط الناس من رحمت اللہ، حديث 6847)

    ميرى درخواست ہے ان لوگوں سے جو قوموں اور افراد كے نام لے لے كر ان كى بربادى اور عذاب ميں تباہ و برباد ہونے كى پیش گوئیاں كر رہے ہیں كہ اللہ تعالى كے غضب سے ڈریں، علم غیب کے دعوے نہ کریں ۔اللہ كے بندوں كو اللہ كى رحمت سے مايوس نہ كريں ۔ مايوسی اور بد دلى نہ پھیلائیں ۔ برائيوں كى مذمت كے بہانے اپنی دين دارى پر فخر ونمائش نہ كريں ۔ ايسا نہ ہو کہ گناہگار تو بخش ديے جائيں اور مايوسى پھیلانے والے دھر لیے جائيں ۔ اللہ سے ڈریں اور دين ميں صرف اتنا كہیں جتنا ان كو علم ہے اور جہاں علم نہ ہو خاموش رہیں ۔

    جن لوگوں كا خيال ہے كہ فلاں اور فلاں تو ايمان سے فارغ ہیں۔۔۔ ان سے عرض ہے كہ ايك صحابي رسول رضي اللہ عنہ نے جنگ سے واپسی پر بتايا كہ ايك شخص نے اسلحہ دیکھتے ہی لا الہ الا اللہ کہا، مگر ان صحابى نے اس كو قتل كر ديا، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: اس نے لا الہ الا اللہ کہا اور تم نے اسے مار ديا؟ صحابى رضي اللہ عنہ نے جواب ديا كہ ميرا خيال ہے کہ اس نے موت كے خوف سے لا الہ الا اللہ کہا ہو؟ تب نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: كيا تم نے اس كا دل چیر كر ديكھ ليا تھا ؟ اور آپ صلى اللہ عليہ وسلم مسلسل اس بات كو دہراتے رہے يہاں تك كہ صحابي رسول كو اتنى پشیمانی ہونے لگی كہ انہوں نے سوچا کہ كاش وہ آج مسلمان ہوئے ہوتے !
    (صحيح مسلم: كتاب الايمان، باب: تحريم قتل الكافر بعد أن قال لا اله الا الله، حديث 287)
    تو كسى كے مومن يا كافر ہونے كا فيصلہ انسانوں کے ذمے ہے نہ ہی انہیں كسى كے دل كا حال معلوم ہے۔ علم غيب صرف اللہ کے پاس ہے۔ دلوں كے راز بس وہی جانتا ہے۔

    جن اللہ کے بندوں سے گناہ سرزد ہو گئے ہیں ان كے ليے اللہ تعالى نے اپنی كتاب ميں كيا پیاری پکار لگائی ہے :
    "اے نبى صلى اللہ عليہ وسلم کہہ دیجیے کہ اے ميرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زيادتی كى ہے ، اللہ کی رحمت سے مايوس نہ ہو جاؤ ، يقينا اللہ سارے گناہ معاف كرديتا ہے ۔ وہ تو غفور ورحیم ہے ۔
    پلٹ آؤ اپنے رب کی طرف اور مطیع بن جاؤ اس سے قبل کے تم پرعذاب آجائے اور پھر تمہیں کہیں سے مدد نہ مل سکے ۔
    اور پیروی اختیار کر لو اپنے رب کی بھیجی ہوئی کتاب کے بہترین پہلو کی ، قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آ جائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو ۔
    کہیں ايسا نہ ہو کہ بعد میں کوئی شخص کہے افسوس ميرى اس تقصير پر جو ميں اللہ کی جناب میں کرتا رہا ، بلکہ میں تو الٹا مذاق اڑانے والوں میںشامل تھا !
    يا کہے كاش اللہ نے مجھے ہدایت بخشی ہوتی ، تو ميں بھی متقیوں میں سے ہوتا !
    يا عذاب ديكھ کر کہے کاش مجھے ایک موقع اور مل جائے ، اور میں بھی نیک عمل کرنے والوں میں شامل ہو جاؤں ۔
    (اور اس وقت اسے یہ جواب ملے ) کیوں نہیں، ميرى آيات تيرے پاس آچکی تھیں ، پھر تُو نے انہیں جھٹلایا اور تكبركيا اور تو كافروں ميں سے تھا ۔
    آج جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھے ہیں قيامت كے روز تم ديكھو گے كہ ان كے منہ کالے ہوں گے كيا جہنم ميں متكبرين کے ليے كافى جگہ نہیں ہے ؟
    اس كے برعكس جن لوگوں نے یہاں تقوی کیا ہے ان کے اسبابِ کامیابی کی وجہ سے اللہ ان کو نجات دے گا ، ان کو نہ کوئی گزند پہنچے گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے !

    (سورة الزمرسورة نمبر39، آيات: 53_61، ترجمہ : سید ابوالاعلی مودودی رحمہ اللہ)

    بحوالہ: کہیں ایسا نہ ہو ! - URDU MAJLIS FORUM

    اور اللہ كے كلام سے بہتر كس كى بات ہو گی؟​

    تحریر ام نورالعین​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. 03arslan

    03arslan -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2009
    پیغامات:
    418
    وعلیکم السلام و دحمت اللھ وبرکاتھ
    جزاک اللھ بھت شاندارٹاپک آپ نےمنتخب کیا ھے۔
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,803
    واياكم ۔
     
  4. Abu Abdullah

    Abu Abdullah -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    934
    جزاک اللہ خیرا!
     
  5. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    اصلاحی عمل کے لئے نہایت ہی مفید دلائل سے بھر پور اور مدلل تحریر ہے ۔جزاک اللہ خیر۔ خاص طور پر یہ اقتباس اس فورم پر ہمیں‌مفید سے مفید تر رہنمائی کرے گا کہ "كسى كے مومن يا كافر ہونے كا فيصلہ انسانوں کے ذمے ہے نہ ہی انہیں كسى كے دل كا حال معلوم ہے۔ علم غيب صرف اللہ کے پاس ہے۔ دلوں كے راز بس وہی جانتا ہے۔"
    جزاک اللہ خیر
     
  6. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,717
    جزاک اللہ خیرا
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,803
  8. بنت واحد

    بنت واحد محسن

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2008
    پیغامات:
    11,972
    جزاک اللہ خیرا
     
  9. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,155
    جزاک اللہ خیرا
    بہت خوب صورت تحریر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,706
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,803

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں