انجلینا جولی ، ملالہ ، عافیہ صدیقی ،نیکولا باسیلے اور ٹیری جونز

عائشہ نے 'اركان مجلس كے مضامين' میں ‏اکتوبر، 18, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,965
    انجلینا جولی نامی ایک امریکی عفیفہ نے کہا ہے کہ ہم سب ملالہ ہیں ۔
    میرا خیال ہے سب امریکی نیکولے باسیلے اور ٹیری جونز ہیں ۔
    جب ہم ٹیری جونز نامی ملعوں پادری اور نیکولا باسیلے نامی ملعوں پروڈیوسر پر کچھ لکھتے ہیں تو فواد نامی امریکی زر خرید اور اس کی قبیل کے دوسرے بکاؤ مال ہمیں بار بار تلقین کیا کرتے ہیں کہ تمام امریکی قوم ایسی نہیں ۔ ہم ایک کیس کی بنیاد پر امریکی حکومت کو برا بھلا نہ کہیں ۔۔۔ اب کیا یہ امریکیوں کو یہ متانا چاہیں گے کہ سب پاکستانی لڑکیوں کو تعلیم کی وجہ سے قتل نہیں کیا جاتا ؟ پاکستان کا ہر شخص ملالہ کو گولی مارنے والوں جیسا نہیں ؟ اگر چہ ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ اس کو گولی کسی مذہبی رجحان کے حامل شخص نے ماری یا پاکستان میں موجود امریکی خفیہ ایجنٹوں نے ؟
    ملالہ کا حادثہ واقعی افسوسناک ہے لیکن پاکستانی قوم نے اس صدمے میں یادداشت نہیں کھوئی ہے کہ قرآن مجید کو جلانے ، اور رسول رحمت ﷺ کے توہین آمیز خاکے بنانے کا دن منانے والے ملعون امریکی پادری ٹیری جونز اور انوسینس آف مسلمز جیسا بے ہودہ توہین آمیز فلم بناے والے نیکولا باسیلے کو بھول جائے ۔
    انجلینا جولی اور میڈونا تم ملالہ نہیں تم ٹیری جونز اور نیکولا باسیلے ہو
    کیوں کہ
    پاکستانیوں نے اجتماعی طور پر ملالہ پر حملے کی مذمت کی
    جب کہ امریکی حکومت نے مکمل طور پر ٹیری جونز اور نیکولابسیلے نامی دریدہ دہن کتوں کو کھلی چھوٹ دی ۔۔۔
    امریکی کمپنی نے اس بے ہودہ فلم کو پھیلایا اور معذرت تک نہ کی ۔
    ایک ملالہ کے قتل کو پکڑنے کے لیے ہماری حکومت اور فوج سے نئے آپریشن کا مطالبہ کرنے والوں نے خود اپنے ملک میں موجود ہمارے مجرموں کے ساتھ کیا کیا ؟
    کیا گوانٹانموبے میں قرآن کریم کی بے حرمتی کرنے والے پکڑے ؟
    کیا جج قرآن ڈے منانے والے انتہا پسند مسخرے ٹیری جونز کی سائٹ بند کی گئی ؟
    کیا اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے والا اس کا چرچ بند کیا گیا ؟
    اس کو مذہبی منافرت پھیلانے کے جرم میں پکڑا گیا ؟
    کیا گستاخانہ خاکوں کا دن ڈرا محمد ڈے منانے پر اس ملعون پادری کی کوئی سرزنش کی گئی ؟
    کیا ملعون فلم پروڈیوسر نیکولا باسیلے کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی؟
    اس فلم نے ساری دنیا میں نفرتوں کا جو الاؤ بھڑکایا اس پر کسی نے اس کی کاسٹ اور کریو سے باز پرس کی ؟
    کیا بن غازی میں اپنا سفیر مروا کر بھی گوگل جیسی حقیر کمپنی کو اس دلآزار فلم ہٹانے کا حکم دیا گیا ؟
    نہیں !
    تو پھر یہ سارے دوغلے امریکی کس منہ سے ہمارے ملک کے انتہائی داخلی معاملات میں اول فول بک رہے ہیں ؟
    میڈونا کسی کنسرٹ میں ٹیری جونز کی مذمت کیوں نہیں کرتی ؟
    یہ وہی ہیں نا جن کی عدالت کے انتہاپسند جج نے عافیہ صدیقی کو ایک فوجی پر بندوق تاننے کے جرم میں ۸۶ سال کی سزا سنائی تھی ؟
    انجلینا جولی کو عافیہ صدیقی کی حالت زار کیوں نظر نہیں آتی؟
    افغانستان میں بی باون طیاروں کی بمباری سے مرنے اور معذور ہونے والے بچوں کے متعلق انجلینا کی آہیں کیوں نہیں نکلتیں ؟
    بہتر ہے کہ یہ انتہا پسند امریکی اپنے غلیظ گھر کو دیکھیں جہاں صاف کرنے کو بہت گند ہے ۔۔۔
    بداخلاق آمر بن کر دنیا پر مسلط امریکیوں کو دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرنے کی حاکمانہ عادت درست کر لینی چاہیے ۔۔۔
    ہم اپنے مسائل خود حل کر لیں گے !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,228
    ملالہ کامسئلہ بہرحال تحقیق طلب ہے
     
  3. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,051
    کیونکہ آپ کا قصور یہ ہے کہ آپ لوگ مسلمان ہو اور وہ بھی بکھرے ہوئے اور ایک دوسرے کی خون کے پیاسے، اس لیے باقی قومیں آپ پر مسلط کی گئی ہیں۔
    باقی آپ خود سمجھدار ہیں۔
    والسلام علیکم
     
  4. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    857
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    کسی بھی ايسے واقعے کے ضمن ميں جس ميں امريکہ ميں بسنے والے کسی فرد واحد نے اپنے اظہار راۓ کے حق کو بروۓ کار لاتے ہوۓ کو‏ئ ايسی حرکت يا بيان ديا ہے جسے متشدد سوچ يہ توہين سمجھا جاۓ، ميں ايسی بے شمار مثاليں دے سکتا ہوں جس ميں امريکيوں کی اکثريت نے يا تو اس متشدد سوچ کو مسترد کيا ہے يا پھر ايسے فعل کی برملا مذمت کی ہے۔ علاوہ ازيں يہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ کوئ بھی فرد يا گروہ جو تشدد کی ترغيب دے وہ قانون کی گرفت سے بالاتر ہرگز نہيں ہے۔

    ليکن کسی فرد واحد کے اظہار راۓ کے عمل کو، چاہے وہ کتنا ہی قابل نفرت يا قابل مذمت ہی کيوں نا ہو کسی بھی طور سے ايک وحشيانہ حرکت سے تشبيہہ نہيں دی جا سکتی جس ميں ايک سکول کی بچی کو محض اس ليے سر ميں گولی مار دی جاۓ کہ وہ سکول جانے کی متمنی ہے۔ يہی وجہ ہے کہ امريکہ سميت دنيا بھر کے بے شمار معاشروں ميں ملالہ کی کہانی اور اس کے درد کو شدت سے محسوس کيا گيا ہے۔

    کيا آپ واقی يہ سمجھتے ہيں کہ وہ سوچ جو غير مسلح بچوں پر حملوں تک کو درست قرار ديتی ہے، اس کی مذمت اس منطق کے تحت نہيں کرنی چاہيے کيونکہ حملہ آور محض اپنی آزاد راۓ کا اظہار کر رہا تھا؟

    دنيا کا کوئ معاشرہ، قوم يا ملک يہ دعوی نہيں کر سکتا کہ مذہب سميت کسی بھی معاملے پر تمام افراد ميں يکساں سوچ پائ جاتی ہے۔ افراد کے کسی بھی گروہ ميں اختلاف راۓ اور متضاد سوچ کا پايا جانا ايک ناگزير حقيقت ہے۔ ليکن انسانيت کا تقاضا اور بحثيت انسان يہ ہماری ذمہ داری ہے کہ جب کوئ گروہ طاقت کے ناجائز استعمال کے ذريعے اپنی سوچ دھونس اور زبردستی کے ساتھ عوام پر مسلط کرنے کی ٹھان لے تو تمام تر مذہبی، سياسی اور جغرافيائ تضادات کو بالاۓ طاق رکھ کر خدا کی جانب سے ديے گۓ اس حق کی حمايت کے ليے سب کو آواز اٹھانی چاہيے جس کے تحت ہر انسان کو زندہ رہنے کا بنيادی حق ہے۔

    ملالہ کے واقعے کے بعد دنيا بھر ميں جو گونج سنائ دی ہے وہ اسی اجتماعی انسانی جذبے اور سوچ کی آئينہ دار ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
     
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,965
    ناموس حرمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ ملالہ کو لگی گولی سے کہیں بڑھ کر اہم ہے ۔ لیکن مقدسات مذاہب کی عظمت کے ادراک سے محروم تمہاری مادہ پرست عقل میں یہ بات آنا مشکل ہے ۔
    یاد رکھو ملالہ کے سر میں گولی امریکی زرخریدوں نے ماری تھی ۔ چور بھی چور چور کہنے والوں میں شامل ہو جائے تو اس کا جرم معاف نہیں ہو جاتا۔
    اگر پاکستانی طالبان نامی امریکی پلانٹڈ جنونیوں کے فعل کو مثال بنا کر سارے پاکستان پر کیچڑ اچھالی جا سکتی ہے تو ٹیری جونز اور نیکولا باسیلے جیسوں کو لے کر سارے امریکا کو برا بھلا کیوں نہ کہا جائے ؟ جب کہ تمہارا موجودہ صدر اباما اپنی ایک انتخابی مہم میں کعبۃ اللہ پر بم برسانے کی تجویز دے چکا ہے ؟ اس جیسا کوئی جنونی کبھی پاکستان میں قیادت میں نہیں آیا ۔ بات یہ ہے کہ امریکی اپنے گھر کا گند چھپاتے ہیں اور دوسروں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں ۔
     
  6. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    857
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    يہ واضح ہے کہ آپ کے خيالات اور تاثرات بھی آپ کی معلومات کی طرح غلط ہيں۔ ريکارڈ کی درستگی کے ليے يہ نشاندہی کر دوں کہ صدر اوبامہ نے کسی بھی موقع پر خانہ کعبہ سميت کسی بھی مقدس مقام پر حملے کے حوالے سے کوئ بيان نہيں ديا۔ يہ محض ايک بے بنياد اور من گھڑت کہانی ہے۔

    اس کے برعکس صدر اوبامہ نے مسلم امہ سے روابط استوار کرنے اور امريکہ کے دنيا بھر کے مسلمانوں کے ساتھ بات چيت اور ڈائيلاگ کے ذريعے تعلقات میں بہتری کے لیے بہت سے اقدامات اٹھاۓ ہیں۔

    جون 4 2009 کو صدر اوبامہ نے قاہرہ ميں اپنی حکومت اور انتظاميہ کی جانب سے مسلم دنيا کے ساتھ باہم احترام، ذمہ داری اور يکساں مفادات کے حصول کی بنياد پر تعلقات کے ايک نۓ دور کے آغاز کيا تھا۔ ان کی قاہرہ کی تقرير طويل المدت سوچ اور ان اصولوں کا اظہار تھا جس کی بنياد پر امريکی حکومت مسلم اکثريتی ممالک اور دنيا بھر ميں مسلمانوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اپنی پاليسياں مرتب کرے گی۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
     
  7. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    ملالہ کے واقعہ میں دنیا بھر میں‌ موفق امریکہ پوپیگنڈا کی گونج ہے نہ کہ ملالہ کے واقعہ پر، کیونکہ ایسے ہزاروں‌واقعہ ساری دنیا میں‌ہر لمحہ واقع ہوتے ہیں‌کیوں‌اس پر ساری دنیا میں‌گونج نہیں‌ہوتی۔
    یہ نام نہاد خدا بننے والے امریکہ کو حقیقی خدائے تعالی کی چھوٹ کا مطلب ہرگز بھی یہ نہیں‌کہ یہ پاورز اللہ تمہارے پاس ہمیشہ باقی رکھے گا "یہ چند دن کی خدائی" کو ہمیشگی سمجھنے والوں‌اور اس پر بڑھکر ترجمانی کرنے والوں‌کی معصومیت پر ترس آتا ہے۔ظلم کرکے خود ہی ناصح بنجانا۔۔۔۔مگر مچھ کے آنسو جیسی بات ہے۔۔بچہ بچہ بھی ایسی حقیقتوں سے آشنا ہے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 10, 2012
  8. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    857
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    ميرا آپ سے سوال ہے کہ جب امريکی حکومت نے اپنے ہی ايک شہری ايڈم غدان کو دہشت گردی کے الزام ميں مطلوبہ افراد کی لسٹ ميں شامل کيا تھا تو کيا اس کا يہ مطلب تھا کہ ہم اپنی پوری قوم کی مذمت کر رہے تھے اور پورے امريکہ کو ہی دہشت گرد قرار دے رہے تھے؟

     Adam Yahiye Gadahn - Wikipedia, the free encyclopedia

    ہم نے بغير کسی تفريق کے ہميشہ دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ہماری جاری کاوشوں ميں امريکی شہريوں سميت دنيا بھر ميں متحرک صرف وہ افراد اور گروہ شامل ہيں جو دہشت گردی کے واقعات کے ذمہ دار ہيں۔

    دہشت گردوں کی کوئ قومی شناخت نہيں ہوتی اور ان کے مقاصد اور طريقہ واردات ممالک اور سرحدوں کی قيد سے مبرا اور آزاد ہوتے ہيں۔ القائدہ اور اس سے منسلک تنظيموں نے برملا يہ واضح کيا ہے کہ وہ علاقوں کی تفريق کے بغير اپنا طرز زندگی پوری دنيا ميں مسلط کرنے کے متمنی ہيں۔ امريکی حکومت نے ہميشہ يہ موقف اختيار کيا ہے کہ دہشت گردی ايک عالمی مسلہ ہے جس کے سدباب کے ليے تمام فريقين کو مشترکہ کوششيں کرنا ہوں گي۔ يہ الزام کہ امريکہ دہشت گردی کی آڑ ميں پوری پاکستانی قوم کو بدنام کر رہا ہے، سراسر غلط ہے۔ بلکہ حقيقت تو يہ ہے کہ ملالہ کا واقعہ دہشت گردی کی بربريت کی ايک مثال کے علاوہ ايک ايسی بہادر پاکستانی بچی اور متحرک اور قابل فخر معاشرے کو بھی اجاگر کرتا ہے جو مجرموں کے ايک گروہ اور اس سوچ کے سامنے جھکنے کو تيار نہيں ہے جو زبردستی اپنا طرز فکر مسلط کرنا چاہتے ہيں۔

    ہم پاکستانی عوام اور معاشرے کی ان آوازوں کی پرزور تائيد اور حمايت کرتے ہيں جو اپنی آنے والی نسلوں کے تحفظ اور بہتری کے ليے ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوۓ ہيں۔

    دنيا بھر ميں القائدہ کی موجودگی اور کرہ ارض پر ان کی جانب سے لگائ جانے والی دہشت گردی کی آگ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ يہ تنظيم جذبہ حب الوطنی کو خاطر ميں نہيں لاتی۔ حقائق بھی يہی بتاتے ہيں کہ اس تنظيم کے سرکردہ ليڈر اور اس سے منسلک مختلف گروہوں ميں امريکہ سميت دنيا کے کئ ممالک کے شہری شامل ہيں۔

    جہاں تک ملالہ کے واقعے کا تعلق ہے تو عالمی مذمت اور گونچ کا محور پاکستان کے عوام کی سپورٹ کے علاوہ دہشت گردی کے حقيقی خطرات کو سمجھنے کے حوالے سے ہے جو قومی، مذہبی اور سياسی وابستگی سے قطع نظر دنيا بھر ميں عام شہريوں کی زندگيوں کی بربادی کا باعث بن رہے ہيں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
     
     
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,965
    حیرت ہے ان کی سوئی اب تک ملالہ میں اٹکی ہے جب کہ دنیا ان کے کروسیڈی کمانڈرز کی ’روحانی بلندیوں‘ پر تبصرے کر رہی ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مقدس جنگ کرنے نکلے تھے ؟ تف ہے امریکی قوم کی پستی پر ۔
    دوسروں پر انگلی اٹھا کر اپنے آنگن کا گند چھپانے کی پرانی امریکی عادت !
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,965
    جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا
    http://www.thedeenshow.com/watch/3218/u.s-attorney-general-ramsey-clark-on-aafia-siddiqui


    Former U.S. Attorney General Ramsey Clark has said that Dr. Aafia Siddiqui is innocent and has been victimized by the international politics for power.

    “Dr Aafia Siddiqui was victimized by the international politics being played for power. I haven’t witnessed such bare injustice in my entire career,” the Daily Times quoted Clark, as saying.



    “Neither did Dr Aafia kill anyone, nor did she attempt it. In fact she was shot thrice and should be released immediately,” he said, adding that relations between Pakistan and the U.S. could be strengthened through repatriation of Dr Aafia.



    Clark expressed his intention to gather people in America, for a one-point agenda of Dr Aafia’s repatriation.



    “Significant peace and justice activists will join me in promoting this agenda. Under the law, justice should be provided to each and everyone without any condition,” he said.



    Clark hailed the role of Pakistani people and particularly lawyers, saying that the nation’s voice on state level could play a significant role in Dr Aafia’s repatriation.



    He vowed that he would raise his voice for her repatriation at all levels in the U.S. A.



    Rev. Kathleen Day An American Christian Pastor Speaks Out in Defense of Dr. Aafia Siddiqui.



    Former U.S Presidential candidate Mark Gravel and 2 time U.S Senator speaks out in Defense for Aafia Siddiqui.



    Congresswoman Cynthia McKinney Speaks Out in Defense of Dr. Aafia Siddiqui.
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں