ايک اور امريکی منصوبہ

Fawad نے 'حالاتِ حاضرہ' میں ‏اگست 7, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    857
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    اسلام آباد پولیس کے ۱۴ویں سالانہ یوتھ سمر کیمپ کے لئے امریکی سفارتخانہ کی اعانت


    گزشتہ چار سالوں کی طرح امسال بھی امریکی سفارتخانہ نے اسلام آباد پولیس کو سالانہ یوتھ سمر کیمپ کے انعقاد کے لئے مالی اعانت اور افرادی قوت فراہم کی۔ اس سال یوتھ سمر کیمپ میں جو ایک اعلی معیار کی عوامی پولیس کی سرگرمی ہے، چھ سے چودہ سال کی عمر کے ۳۰۷ بچوں نے تمام مقابلوں میں بھر پور حصہ لیا جس میں گُھڑ سواری، مارشل آرٹ، تیراکی، رکاوٹوں والی دوڑ، تیر اندازی، ذاتی دفاع، جمناسٹکس اور مقامی آبادی کی خدمت کے پروگرام شامل تھے۔ آئی سی ٹی پولیس کے سینئر اہلکاروں نے یوم آزادی کے موقع پر اختتامی تقاریب منعقد کیں جس میں نوجوانوں کی شرکت اور پولیس کے تعاون کو اجاگر کیا گیا۔


    پولیس لائنز میں منعقدہ تقریب میں امریکی سفارتخانہ کے انٹرنیشنل کرمنل انویسٹیگیٹو ٹریننگ اسسٹنس پروگرام (آئی سی آئی ٹی اے پی) کے پروگرام منیجر شہزاد حمید نےاپنے خطاب میں کہا کہ پولیس سمر کیمپ کے لئے امریکی حکومت کی مسلسل اعانت کا مقصد منعقد ہونے والے ہر کیمپ میں نوجوانوں کی شرکت کو بڑھانا اور اس چھ ہفتوں پر مشتمل دورانیہ میں پولیس اور نوجوانوں میں موجود تال میل کو برقرار رکھنا تھا۔ اس موقع پر اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل آف پولیس طارق مسعود یاسین اورسینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس محمد بن اشرف نے بھی تقریب سے خطاب کیا جس میں سابق انسپکٹر جنرل سید محب اورسپرنٹنڈنٹ آف پولیس سُمیرا اعظم نے بھی شرکت کی۔


    امریکی محکمہ انصاف کی کرمنل ڈویژن میں قائم آئی سی آئی ٹی اے پی دنیا کے ۳۰ سے زیادہ ممالک میں کام کرتا ہے تاکہ قانون کے مئوثر، پیشہ ورانہ اور شفاف نفاذ کے قیام کے لئے کوششیں کی جا سکیں جس سے انسانی حقوق کا تحفظ، بدعنوانی کا انسداد اور مختلف اقوام کے مابین جرائم اور دہشت گردی کے خطرہ کو کم کیا جا سکے جو امریکہ کی خارجہ حکمت عملی اور قومی سلامتی کے اغراض و مقاصد کا حصہ ہیں۔ آئی سی آئی ٹی اے پی کے بارے میں مزید جاننے کے لئے درج ذیل ویب سائٹ بھی دیکھی جا سکتی ہے۔


    https://www.justice.gov/criminal-icitap.


    ###

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
     
  2. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    404
    افسوس کا مقام ہے. میں نے دیکھا کہ آپ کئ فورمز میں امریکہ کے گن گا رہے ہیں. آپ سے ایک سوال ہے:
    کیا کفار مسلمانوں کے دوست ہو سکتے ہیں؟؟؟
     
  3. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,224
    1. یہ پاکستان ہے جس نے نہ صرف امریکہ کو یکطرفہ طور پر اڈے دیے، سرد جنگ میں سرخوں کے خلاف امریکہ کا رضاکارانہ اتحادی بنا۔ افغان جنگ میں روس کو شکست دینے کے لیے سی آئی اے کے لیے نہ صرف اپنے گھر کے دروازے بلکہ کھڑکیاں اور روشن دان تک کھول دیے۔ امریکہ نے جتنی بھی امداد دی اسے صبر شکر کے ساتھ دعا دیتے ہوئےقبول کرلیا۔ رمزی یوسف سے ایمل کانسی تک اور افغان سفیر ملا ضعیف سے عافیہ صدیقی تک امریکہ نے جس جس پاکستانی یا غیر پاکستانی کو مجرم جانا اسے نمک خواروں نے خود اغوا کر کے منہ پر نقاب پہنا، جہاز پر چڑھایا۔ سینکڑوں لوگوں کو غائب کروا دیا گیا۔ بلکہ یہاں تک اہتمام کیا کہ کوئی پاکستانی ادارہ یا عدالت کسی مغربی پر بالعموم اور امریکی پر بالخصوص ہاتھ نہ ڈالے چاہے وہ بلا اجازت پاکستان کے کسی بھی حصے میں جاکر کسی بھی سیاسی و غیر سیاسی شخص سے ملے یا حساس مقامات کی تصاویر بنائے یا سادہ کپڑوں میں پاکستان کی سڑکوں پر اسلحہ لے کر دندنائے ۔
      "امریکہ نے دنیا بھر میں اپنے ایجنٹ پھیلا رکھے ہیں جو اس کے لیے جاسوسی کرتے ہیں، شکیل آفریدی امریکی ایجنٹ تھا اور پاکستان کے ساتھ غداری کا مرتکب ہوا، اپنے ایجنٹ کی رہائی کے لیے امریکہ نے پاکستان کی امداد روک دی ہے، امریکی جنگ کی خاطر پاکستان نے اپنا سب کچھ، حتیٰ کہ آزادی اور قومی وقار تک داﺅ پر لگا دیا ہے لیکن امریکہ کے آگے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکمرانوں نے قومی مفادات کی قربانی دے کر امریکی مقاصد کو پورا کیا لیکن امریکہ نے آج تک پاکستان پر اعتماد نہیں کیا اور بار بار ڈو مور کے احکامات کے ساتھ بداعتمادی کا اظہار کرتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے غداری کرنے اور امریکی اشاروں پر ناچنے والا شکیل آفریدی امریکہ کی آنکھ کا تار ا بنا ہوا ہے اور وہ ہرحالت میں اسے رہا کروانا چاہتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت تین بے گناہ پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کی طرح غدار وطن شکیل آفریدی کو بھی امریکہ کے حوالے کر دیتی ہے یا اپنے قومی وقار کا تحفظ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ امریکی امداد پر لعنت بھیج کر اتحادی جنگ سے فوری علیحدگی اور لاتعلقی کا اعلان کر دیں۔(نوائے وقت
      01 اکتوبر ,2016)"

      "پاکستان وجود میں آیا تو محب وطن عوام اور رہنما¶ں کے ساتھ اس وقت کے گورنر جنرل غلام محمد، اور وزارت خارجہ کے اکرام اللہ اور سر ظفر اللہ خان جیسے عیدو بھی تھے جنہوں نے پاکستان کو امریکہ کی جھولی میں ڈالنے کے لئے نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی آزاد خارجہ پالیسی یعنی Friendship to all malice to none کی نفی کی اور صرف اور صرف امریکہ کے ساتھ نتھی ہوگئے۔
      1960 کی دہائی میں پاکستان کی سرزمین سے امریکی یو۔ٹو جاسوس طیارے روس کی جاسوسی کرتے ہوئے گرائے گئے تو روس نے پشاور کے قریب بڈابیر کے امریکی اڈے کو میزائل مار کر تباہ کرنے کی دھمکی دی۔ صدر محمد ایوب خان نے بڈابیر کا امریکی اڈہ بند کرایا اور آزاد خارجہ پالیسی اختیار کرتے ہوئے چین اور روس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بڑھائے۔ آخر امریکہ نے ایوب خان کی حکومت کو غیر مستحکم کیا اور ایوب خان کو استعفیٰ دے کر صدارت سے علیحدہ ہونا پڑا۔
      جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید کی حکومت آئی تو انہوں نے پاکستان کو عظیم بنانے کے لئے کوشش کی۔ جناب بھٹو صاحب نے چین اور روس کے ساتھ اچھے تعلقات بنائے رکھے۔ دنیا کے مسلم ممالک میں یکجہتی کو فروغ دیا۔ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے لئے ادارے بنائے جہاں پر سائنسدان اپنی کاوشوں میں مصروف رہے۔ راکٹ ٹیکنالوجی کے سلسلہ میں ادارے بنائے جو راکٹ موٹر ڈیزائن کرنے اور بنانے میں مصروف رہے۔ گوادر بندرگاہ کا منصوبہ بنایا اور اسے ملک کے شاہراہ جات سے منسلک کرنے کے لئے NHA کا ادارہ بنایا اور سڑکوں کے تعمیر کا کام شروع کیا تاکہ گوادرر سے چین تک اور براستہ افغانستان روس تک تجارتی مال کی آمدورفت کو سہل بنایا جا سکے۔ 1977ءمیں امریکہ کو ایک عیدو کی تلاش ہوئی جو جنرل ضیاءالحق کی صورت میں انہیں ملا۔ جنرل ضیاءالحق نے امریکہ کے مفاد میں پاکستان کے وسائل کا بے دریغ استعمال کیا روس کو افغانستان میں پھنسا کر اس کی طاقت کو توڑ دیا۔دوسری طرف افغانستان بھی معاشی معاشرتی اور طبعی طور پر کھنڈر بن گیا۔ وہاں ایسی تباہی ہوئی کہ صدیوں تک اس کی تصحیح ہونا ممکن نہ ہوگا۔ مرنے سے پہلے جنرل ضیاءالحق نے پاکستان کو معاشی غلام بنا دیا۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے حکومت میں آتے ہی پاکستان میں ایٹمی پروگرام کو فروغ دیا گیا اور راکٹ ٹیکنالوجی کو سرعت سے آگے بڑھایا گیا۔ 1988ءسے 1999ءتک سیاسی رہنما¶ں کے حکومتوں نے ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا۔ اب پھر امریکہ کو ایک عیدو کی خدمات حاصل کرنے پڑیں جنرل پرویز مشرف امریکہ کے خاص وفادار تھے۔ جنرل پرویز مشرف نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگایا اور پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ امریکہ نے پاکستان سے توقعات کی بات کی تو جنرل مشرف صاحب نے قوم کو ڈرا دھمکا کر امریکہ کو ان کے توقعات سے کہیں زیادہ دیا۔ مختصراً یہ صورت ہوئی کہ پاکستان کی بندرگاہ، ہوائی اڈے اور خصوصاً جیکب آباد کا ہوائی اڈہ سارے شاہرات کے علاوہ جہاں امریکی چاہتے وہاں پر جاسوسی کے اڈے بنا کر پاکستان کے خلاف سازشیں تیار کرنے میں مصروف کار رہتے۔ جنرل مشرف صاحب تو عیدو کی طرح خطیر رقم لے کر لندن میں سکونت پذیر ہوئے مگر پاکستان ایک بڑی مصیبت میں پھنس کر رہ گیا۔ ہمارے رہنما یہ کہتے نہیں تھکتے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثہ جات محفوظ ہیں۔ آخر ہمیں دنیا اور خصوصاً امریکہ کو یہ باور کرانے کی کیا ضرورت پڑ رہی ہے کہ ہمارے ایٹمی اثاثہ جات محفوظ ہیں اگر ہم میں صلاحیت ہے کہ ساری دنیا کے آنکھوں میں دھول جھونک کر ہم نے ایٹمی اثاثہ جات بنائے تو ان کی حفاظت کرنا بھی جانتے ہیں۔
      اب امریکہ کے لئے افغانستان سے رخصت ہونے کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ امریکہ نے پاکستان کے ایٹمی اثاثہ جات اچک لینے کے لئے کام تیز کر دیا۔ امریکہ، افغانستان سے رخصت ہوتے ہوتے کوئی نہ کوئی تماشہ کرنے کے لئے بے چین ہے۔ ایک طرف انڈیا کو ہوا بھری جا رہی ہے اور ان کے جنرل دیپک کپور سے بیان دلوائے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف جناب رچرڈ ہالبروک نے امریکی سفارتخانہ میں دربار لگایا ہوا ہے وہاں پر پاکستانی سیاستدانوں کو بلا کر یا پھر ان کے پاس جا کر ان میں ایک عیدو تلاش کر رہا تھا جناب آصف علی زرداری صاحب نے بھی حکومت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے سازشوں کا کھل کر ذکر کیا ہے۔
      (نوائے وقت
      01 اکتوبر ,2016)
      "

     
  4. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    857
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    پاکستانی کاروباری افراد کی امریکہ میں شعبہ صحت کی نمائش میں شرکت


    پاکستان کے گیارہ کاروباری افراد نے حال ہی میں پینسلوانیا میں منعقد ہونے والی امریکی ایسوسی ایشن برائے کلینیکل کیمیاء کے ۶۸ ویں سالانہ اجلاس اور کلینیکل لیب ایکسپو میں شرکت کی۔ اس نمائش میں پاکستانی وفد نے صحت کے شعبے میں استعمال ہونیوالی جدید ترین ٹیکنالوجی کے بارے میں جانا اور کلینیکل لیب کی ٹیسٹنگ میں متعدی بیماریوں سے لے کر اس شعبے میں ہونے والی ترقی ایسے موضوعات پر منعقدہ خصوصی نشستوں میں شرکت کی۔ اس پروگرام کے ذریعے پاکستانی اور امریکی کاروباری لوگوں کو منڈی میں نئے مواقع سے واقفیت حاصل ہوئی اور انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان کاروباری سطح پر روابط قائم کرنے کے طریقوں کا جائزہ لیا۔

    امریکی سفارتخانہ ، اسلام آباد، کی کمرشل قونصلر چیرل ڈیوکلو نے کہا کہ امریکی سفارتخانہ کا ایک اہم مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کیلئے پاکستانی اور امریکی کاروباری افراد کے درمیان روابط قائم کرنا ہے۔

    امریکی تجارتی سروس ، انٹرنیشنل بائرز پروگرام کے تحت ہر سال پاکستان کی کاروباری برادری سے تعلق رکھنے والے ۱۵۰ سے ۲۰۰افراد کو امریکہ میں منعقد ہونے والی تجارتی نمائشوں میں شرکت کیلئے رہنما ئی فراہم کرتی ہے۔ امسال اس تجارتی سروس نے ایسی نمائشوں میں شرکت کیلئے پاکستانی وفود کی راہنمائی کی جن میں صارفین سے متعلق الیکٹرانکس، مرغبانی اور اس کی مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہونے والے آلات، ریستورانوں، تعمیرات، ہومیوپیتھک کی قدرتی طور پر پائی جانے والی اشیاء، اسمارٹ گرڈ ٹیکنالوجی اور بجلی کی ترسیل، تقسیم اور ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ مستقبل قریب میں منعقد ہو نے والے پروگراموں میں انٹرنیشنل وُوڈ ورک فیئر، فارم پراگریس شو اور سولر پاور انٹرنیشنل شامل ہیں۔ یہ تجارتی میلے پاکستان کی معاشی ترقی اور استحکام کو فروغ دینے کےحوالے سے امریکہ کے مستقل عزم کا ایک لازمی جزو ہیں۔

    یوایس سی ایس اور انٹرنیشنل بائرز پروگرام کے بارے میں مزید معلومات کیلئے اپنے مقامی چیمبر آف کامرس سے رابطہ کریں ،یادرج ذیل ویب سائٹ ملاحظہ کریں:

    http://islamabad.usembassy.gov/us-commercial-service-pakistan.html


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
     
  5. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    857
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    ميرا مختلف فورمز پر آپ لوگوں سے براہراست رابطہ افواہوں اور غلط خبروں سے ہٹ کر سرکاری ذرائع سے درست معلومات آپ تک پہنچانے کی ايک مخلصانہ کوشش ہے۔ میرا مقصد قطعی طور پر غير مسلموں کا دفاع کرنا يا مسلمانوں پر اثرانداز ہونا نہيں ہے۔ ميں کسی بھی مذہبی وابستگی سے ہٹ کر صرف مختلف موضوعات پر امريکی حکومت کا موقف اور پوزيشن آپ کے سامنے پيش کر رہا ہوں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
     
  6. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    404
    مسلمانوں کے خلاف جو غلط فہمیاں ہیں آپ انکو کیوں نہیں دور کرتے؟؟؟ جو کہ ہر مسلمان پر فرض ہے. آپ امریکہ کا دفاع تو کر سکتے ہیں لیکن آپ اسلام کا نہیں؟؟؟
    افسوس صد افسوس.
     
  7. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    404
    ایسے لوگوں کا دفاع کرتے پھر رہے ہیں جو مسلمانوں کے دشمن ہیں. اور اپنے مذہب کی کوئ فکر ہی نہیں؟؟؟
     
  8. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    857

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    ڈاکٹر شکيل آفريدی کے معاملے پر ہماری واضح پوزيشن اور ان کی حراست پر ہمارے بيان کردہ تحفظات کے باوجود امريکی وزير خارجہ جان کيری نے واضح کيا ہے کہ ہم دھمکيوں، پابنديوں اور يکطرفہ اقدامات کی بجاۓ صرف سفارتی ذرائع سے اس معاملے کو اٹھائيں گے۔

    کچھ راۓ دہندگان کی جانب سے مسلسل يہ اعتراض کيا جاتا ہے کہ آخر امريکہ ڈاکٹر شکيل آفريدی کے معاملے ميں اتنی دلچسپی کيوں لے رہا ہے تو اس ضمن ميں واضح کر دوں کہ دنیا کے سب سے زیادہ مطلوب دہشت گرد اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکی حکومت کی مدد کرنے کے لئے ڈاکٹر شکيل آفریدی کے اقدامات نے نہ صرف انتہا پسندوں کے خلاف پاکستان کی اپنی جاری کوششوں میں حمایت کی ہے بلکہ دنیا کو ایک زیادہ محفوظ جگہ بنانے میں بھی ایک زبردست اور اہم کردار ادا کیا ہے۔

    يہ نوٹ کرنا بھی نہايت ضروری ہے کہ ڈاکٹر آفريدی کا فعل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے کئی سال پرانی منظور شدہ قانونی قراردادوں کے عين مطابق تھا۔ ہم اتنی آسانی سے کیوں بھول جاتے ہیں کہ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن نے جولائی 2007 ء ميں پاکستان کی حکومت کے خلاف ایک عام جنگ کا اعلان کيا تھا۔ اس کے علاوہ، القاعدہ اور اس سے منسلک تنظیموں نے پاکستان میں خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں معصوم لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔

    يہ ہمارا اصولی موقف ہے جو شروع دن سے تبديل نہيں ہوا۔ تاہم ہم نے يہ بھی واضح کيا ہے کہ ہم پاکستان کے نظام انصاف کا احترام کرتے ہيں اور يہ اختيار حکومت پاکستان کا ہے کہ وہ ملک ميں رائج قوانين کے عين مطابق اس معاملے کا فيصلہ کريں۔

    ہم اپنے موقف کو اجاگر کرنے اور اپنے تحفظات کے اظہار کے ليے سفارتی ذرائع کو استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرتے رہيں گے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
     
  9. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    857

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    [​IMG]

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
     
  10. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    404
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    857

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    ايک طرف تو امريکہ پر الزام لگايا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کو کمزور کر کے اس کے ايٹمی اساسوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ليکن يہ نظرانداز کر ديا جاتا ہے کہ جو چيز پاکستان کو کمزور کر رہی ہے وہ دہشت گردی اور اس کے نتيجے ميں پيدا ہونے والی بے چينی کی فضا ہے نا کہ امريکی حکومت جو کہ اب تک حکومت پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمے کے ليے کئ ملين ڈالرز کی امداد دے چکی ہے۔ اگر امريکہ کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا ہوتا تو اس کے ليے دہشت گردوں کی کارواۂياں ہی کافی تھيں، امريکہ کو اپنے 10 بلين ڈالرز ضائع کرنے کی کيا ضرورت تھی۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
     
  12. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,224
    ویسے امریکہ میں پاکستان کوامدادکے سلسلے میں کافی بحث ہورہی ہے کہ اس امدادکوروک دیاجائےخودبی بی سی کی خبرہے
    امریکی محکمۂ دفاع نے حقانی نیٹ ورک کے خلاف ٹھوس کارروائی نہ کرنے کے الزام میں پاکستان کو دی جانے والی فوجی امداد کے 30 کروڑ ڈالر روک دیے ہیں۔

    پینٹاگون کے ترجمان کے مطابق سیکریٹری دفاع ایش کارٹر نے وہ سرٹیفیکیٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے جس سے یہ رقم پاکستان کو مل سکتی تھی۔

    ٭ ایف 16 کی خریداری، امریکہ کا پاکستان کی مدد سے انکار

    ٭ ’کانگریس کے اہم ارکان امداد دینے کے حق میں نہیں‘

    ٭’مشروط امداد کا مقصد پاکستان پر دباؤ ڈالنا ہے‘

    كولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت سنہ 2002 سے ہی امریکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں پاکستان فوجی مدد کرتا رہا ہے۔

    یہ ایک طرح سے وہ رقم ہوتی ہے جو پاکستان کہتا ہے کہ اس نے دہشت گردی کے خلاف كارروائی میں خرچ کی ہے۔

    سال 2015 میں اس بجٹ کے تحت پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر کی رقم طے ہوئی تھی لیکن کانگریس نے اسے جاری کرنے سے پہلے ایک شرط رکھی تھی کہ اس میں سے 30 کروڑ ڈالر تبھی جاری کیے جائیں جب سیکریٹری دفاع حقانی نیٹ ورک کے خلاف پاکستان کی کارروائی سے مطمئن ہوں اور اس کا سرٹیفیکیٹ دیں۔
    http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/08/160804_us_pakistan_funding_sh
    ’مشروط امداد کا مقصد پاکستان پر دباؤ ڈالنا ہے‘
    http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/05/160525_pakistan_america_relations_zz


     
  13. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,224
    امریکہ یہ زحمت کیوں کرتاتھااس کاجواب بھی بی بی سی نے ہیں دیاہے خودپڑھ لیں
    1954ء کے معاہدے کے تحت امریکہ نے صرف میپ یونٹوں کی امداد کرنا تھی اور اس کا مقصد ان یونٹوں کی جدید خطوط پر تربیت کرنا بتایا گیا تھا۔

    اسی معاہدے کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ اسکے بعد جنرل ایوب خان نے امریکہ کو پاکستان میں اپنا پہلا خفیہ فوجی اڈہ قائم کرنے کی اجازت دی تھی۔ پشاور میں قائم اس فوجی اڈے کے ذریعے امریکی حکام حریف ملک سوویت یونین کی دفاعی تنصیبات کی خفیہ نگرانی کرتے تھے اور اس مقصد کے لیے مشہور امریکی یو ٹو طیارے استعمال ہوتے تھے۔

    پاکستان کے اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے 1959ء میں اس اڈے کا دورہ کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی تو امریکی بیس کمانڈر نے جواب دیا تھا کہ وزیر موصوف کو (اڈے کے) کیفے ٹیریا کا دورہ کرنے پر خوش آمدید کہا جائے گا وہاں انہیں کافی اور سینڈویچ بھی پیش کیے جائیں گے۔

    امریکہ نے 1960ء میں اپنے اس خفیہ اڈے کی موجودگی کا اعتراف اس وقت کیا تھا جب سوویت یونین نے اسی اڈے سے پرواز بھرنے والے ایک یو ٹو طیارے کو مار گرایا تھا اور اسکے پائلٹ کو گرفتار کرلیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ہی امریکہ کو بغیر پائلٹ کے اڑنے والے ڈرون طیارے بنانے کا خیال آیا۔

    1954ء میں ہوئے امریکی امداد کے اس پہلے معاہدے کے خلاف مشرقی پاکستان میں کئی احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے اور وہاں کی صوبائی اسمبلی کے 162 ارکان نے اپنے دستخطوں سے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں اس معاہدے کی شدید مخالفت کی گئی تھی۔
    امریکہ نے افغانستان سے سوویت یونین کی فوجوں کو نکالنے کے لیے مجاہدین کی تربیت اور اسلحے کی فراہمی کے لیے دل کھول کر مدد کی اور 1980ء سے 1990ء کے دوران جنرل ضیاء الحق کی حکومت کو مجموعی طور پر پانچ ارب ڈالر کی رقم دی۔

    افغان جنگ کے دوران ہی جب امریکی انتظامیہ پاکستان کی فوجی حکومت کے لیے بھاری رقوم بھیج رہی تھی۔
    گیارہ ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد امریکی ترجیحات بدلیں تو پاکستان میں دو سال پہلے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر آنے والی ایک اور فوجی حکومت اپنے قدم جماچکی تھی۔ جنرل پرویز مشرف کے پہلے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والی نہ صرف ایک نئی عدلیہ آگئی تھی اور اس نے ان کے فوجی انقلاب کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں آئین میں ترمیم کرنے کی مشروط طور پر اجازت بھی دے دی تھی۔

    جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ نے ایک بار پھر پاکستان کی فوجی حکومت کے لیے امداد بحال کردی۔ امریکہ نے جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت کو مجموعی طور پر گیارہ ارب ڈالر دیے جس میں آٹھ ارب ڈالر فوجی امداد کی مد میں دیے گئے۔
    (بی بی سی Thursday, 8 October, 2009)

     
  14. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,224
    میں نے بھی درج بالا جوحوالہ دیا ہے وہ بھی ایک یورپ کے لیڈنگ میڈیاہاؤس کادیاہے ناکہ الجزیرہ،اے آروائےیاکسی محدث فورم وغیرہ کا دیاہے۔
     
  15. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    857
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    یو ایس ایڈ پاکستان کو مکئی کے بیجوں کی پیداوار میں خود کفیل بنائے گا

    اسلا م آباد (۱۱ اپریل، ۲۰۱۷ء) __ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کی ڈپٹی مشن ڈائریکٹر جولی چین اور وزیر برائےقومی غذائی سلامتی و تحقیق سکندر حیات خان بوسن نے مکئی کی پیداوار سے متعلق آج ایک قومی ورکشاپ کا افتاح کیا۔ ورکشاپ میں مکئی کے ان نئے بیجوں کی کارکردگی اجاگر کی گئی جو یو ایس ایڈ کے فنڈز سے چلنے والے ایگریکلچرل انوویشن پروگرام (اے آئی پی) کے تحت گذشتہ سال بیس پاکستانی زرعی تحقیقی ادارں اور زرعی بیجوں کی پاکستانی کمپنیوں کو نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر میں فراہم کئے گئے تھے۔ مکئی کے بیجوں کی ان نئی اقسام سے پاکستان میں مکئی کے معیاری ہائیبرڈ بیج کی پیداوار تیزی سے پھیلی ہے۔

    یو ایس ایڈ کے فنڈز سے چلنے والا ایگریکلچرل انوویشن پروگرام پچاس ہائیبرڈ اور اوپن پولینیٹڈ مکئی کی اقسام جو پاکستان کے ماحول سے مطابقت رکھتی ہیں، کی نشاندہی کے لئے پاکستان ایگریکلچر ریسرچ سینٹر (پی اے آر سی) کے ساتھ ملکر کام کررہا ہے۔ مکئی کے بیجوں کی یہ اقسام خشک سالی اور موسم کی حدت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کی گئی ہیں، جن سے غذائیت (مزید پروٹین، پروٹامن اے اور زنک) میں اضافہ ہوا ہے۔ ان اقسام سے کاشتکاروں اور صارفین دونوں کے لئے پیداواری صلاحیت اور غذائیت میں بہتری رونما ہوئی ہے۔

    ورکشاپ ان بیجوں کی ایک سالہ پیشرفت کا جائزہ لینے اور ۱۹۶۰ء کی دہائی جب امریکی اور پاکستانی سائنسدانوں نے پاکستان میں گندم کی میکسی پاک قسم متعارف کرائی تھی، سے جاری امریکہ۔پاکستان تعاون کے اعتراف میں منعقد کی گئی۔ ۱۹۶۱ء سے ۱۹۶۹ء کے دوران پاکستان میں گندم کی پیداوار میں ۲۵ فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

    یو ایس ایڈ کی ڈپٹی مشن ڈائریکٹرجولی چین نے کہا کہ مکئی کے بیجوں کی ان نئی اقسام کے ساتھ اب ہمارے پاس مقامی سیڈ کمپنیوں اور زرعی تحقیق کے سرکاری اداروں کے لئے مزید زیادہ قابل رسائی اور موسم کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور زیادہ غذائیت کے حامل مکئی کے بیج موجود ہیں۔ گزشتہ سال نئی بیجوں کی فراہمی اس تعاون کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے جو امریکہ پاکستان کو زرعی شعبے میں فراہم کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکئی کے ان بیجوں کی صلاحیت لاکھوں پاکستانی کسانوں کی زندگی میں بہتری کا موجب بنے گی۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر برائے قومی غذائی سلامتی و تحقیق سکندر حیات خان بوسن نے پاکستانی کاشتکاروں کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی و تحقیق کا تبادلہ کرنے پر امریکہ کا شکریہ اا کیا اور امید ظاہر کی کہ پاکستانی ادارے ان بیجوں سے مستفید ہوں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ یہ بیج کسانوں کو ان کے مقامی سپلائی اسٹور پر دستیاب ہوں۔

    ۲۰۱۳ء میں شروع کیا جانے والا ایگریکلچرل انوویشن پروگرام یو ایس ایڈ، انٹرنیشنل میز اینڈ ویٹ امپروومنٹ سینٹر اور پاکستان ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کا منصوبہ ہے جو گندم، مکئی، چاول، مویشیوں، پھلوں اور سبزیوں کے لئے جدید ٹیکنالوجی کی حوصلہ افزائی اور فراہمی کے ذریعے زرعی پیداوار اور آمدنی میں اضافہ کے لئے کام کرتا ہے۔

    مزید معلومات کے لئے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجئے۔

    aip.cimmyt.org


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
     
  16. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    857
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    پاکستان کی سیکورٹی مضبوط بنانے کے لیے سرحدی چوکیوں کی تعمیر کے منصوبے کا افتتاح


    اسلام آباد (۱۲ ِمئی ، ۲۰۱۷ ء)__ جنرل ہیڈ کوارٹر ز راولپنڈی میں ڈی آئی جی ایف سی خیبر پختونخواہ بریگیڈیر محمد یو سف ماجوکا اورشعبہ انسدادِمنشیات ونفاذِقانون (انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لاء انفورسمنٹ افئیرز) کی ڈائر یکٹر کیٹی اسٹا نا نے سرحدی چو کیوں کی تعمیر کے منصوبے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر ڈی آئی جی ایف سی خیبر پختونخواہ نے شعبہ انسدادِمنشیات ونفاذِقانون کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امریکی سفارتخانہ کا انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لاء انفورسمنٹ افئیرز ایک عشرے سے زیادہ عرصہ سے ایف سی کے ساتھ کھڑا ہےاور پاکستان کی مغربی سرحد پر قانون نافذ کرنے والےاداروں اور عام شہریوں کےجانی نقصانات ، سرحد پاردراندازی ، اسمگلنگ اور منشیات ،اغواء برائے تاوان اور دیگرجرائم کو کم کرنے میں اعانت فراہم کر رہا ہے۔

    یہ تقریب ۲۰۱۴ء میں شروع ہونے والے ایک کروڑ ڈالر لاگت کے تین سالہ منصوبے کے مکمل ہونے کی خوشی میں منعقد کی گئی جس میں پانچ کمپنی ہیڈ کوارٹرز ، تینتیس سرحدی چوکیوں کی تعمیر ، ۵۴حفاظتی چوکیوں کی تزئین و آرائش شامل تھی ۔ قبل ازیں ۵۵ لاکھ ڈالر کی لاگت سے ۵۴ سرحدی چوکیوں کی تعمیر جبکہ تیس تنصیبات کی تزئین و آرائش کی گئی۔

    تقریب میں انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لاء انفورسمنٹ افئیرز اسلام آباد کی سربراہ کیٹی سٹانا نے پاکستان کی افغانستان کے ساتھ سرحد پر فر نٹیر کور کی بطور اولین دفاعی لائن کردارکی تعریف کی اور اس کے ساتھ تعاون کو قابل فخر قرار دیا ۔ کیٹی اسٹانا نے خاص طور پر شعبہ انسدادِمنشیات ونفاذِقانون کے تعاون سے چترال ، مہمند اور باجوڑ ایجنسی میں قائم سرحدی چوکیوں کا ذکر کیا جن سے ۲۰۱۴ ء سے ۲۰۱۶ء کے دوران کئی حملوں میں انسداد منشیات اور سرحد پار در اندازی روکنے میں مصروف عمل ایف سی اہلکاروں کی قیمتی جانوں کو محفوظ بنانے میں مدد ملی۔

    شعبہ انسدادِمنشیات ونفاذِقانون انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ رواں سال انسداد منشیات اہلکاروں کے تحفظ اور فاٹا اور پاک افغا ن سرحد پر ایف سی کی موجودگی بہتر بنانے کے لیے بلٹ پروف جیکٹس ، ہیلمٹ اور بم ڈسپوزل سوٹ کی فراہمی سمیت سازو سامان کی شکل میں پچاس لاکھ ڈالر مہیا کرے گا۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
     
  17. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    857
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    امریکہ کی جانب سے پاکستان میں صحت کے بہتر نظام کیلئے مزید سرمایہ کاری

    امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یوایس ایڈ) کے مشن ڈائریکٹر جان گرورک، وزارت قومی صحت کے سیکرٹری ایوب شیخ، ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر اسد حفیظ اور شعبہ صحت حکومت سندھ ڈاکٹر فضل اللہ پیچوہو نے حکومت امریکہ کی جانب سے پاکستانی عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے مختص بجٹ میں اعانت کیلئے نئے منصوبے شروع کرنے کی غرض سے تین لیٹرز آف کمٹمنٹ پر دستخط کئے۔

    یو ایس ایڈ اور وزارت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن کے درمیان طے پانے والے پہلے لیٹر آف کمٹمنٹ کا مقصد صوبے میں صحت وآبادی کے شعبے میں منصوبہ بندی اور اصلاح کو فروغ دینا، صحت سے متعلق سرکاری شعبہ کی مالی استعداد بڑھانا،محفوظ زچگی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور صحت کے شعبہ میں افرادی قوت ، بالخصوص ماہر دائیوں اور لیڈی ہیلتھ ورکرز، کو تیارکرناہے۔

    یو ایس ایڈ اور وزارت صحت حکومت سندھ کے درمیان دستخط کئے جانے والے دوسرے لیٹر آف کمٹمنٹ کا تعلق عوام کی صحت کے حوالے سے منصوبہ بندی میں معلومات فراہم کرنے کیلئے اعدادوشمارکے استعمال میں بہتری لانا ہے۔ امریکی اعانت سے اس محکمے کو صوبے بھر میں نگرانی کی صلاحیتوں کو مؤثربنانے اور ڈائریکٹر جنرل صحت سندھ کے نگرانی اور جائزے کےشعبے کو ترقی دینے میں مدد ملے گی۔

    یوایس ایڈ اور ہیلتھ سروسز اکیڈمی کےمابین طے پانے والے تیسرے لیٹر آف کمٹمنٹ کے ذریعے اساتذہ کی ترقی ، مطلوبہ تحقیق، سابق طالب علموں کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانے، بین الاقوامی ادارہ جاتی روابط کو فروغ دینے اور فاصلاتی تعلیم کے پروگرام وضع کرنے میں مدد ملے گی۔

    مشن ڈائریکٹر جان گرورک نے پاکستان کے شعبہ صحت کے حوالے سے امریکہ کے دیر پا عزم کو اجاگر کیا۔ انھوں نے کہا کہ امریکی حکومت سمجھتی ہے کہ پاکستانی عوام پر سرمایہ کاری کرنااور ہر سطح پر ضروری خدمات کی فراہمی کیلئے حکومت پاکستان کی استعداد کو بہتر بنانا انسانی زندگیوں کو بچانے اور صحت کے حوالے سے بہتر نتائج حصول کے دو لازمی اجزاء ہیں۔

    وزارت قومی صحت کے سیکرٹری ایوب شیخ نے صحت کے شعبے میں حکومتوں کی سطح پر نئے پروگرام شروع کرنے اور تزویراتی سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز کرنے پر، جس سے قومی صحت پالیسی، خدمات، مالیات اور نگرانی میں بہتری آئے گی ، امریکہ کا شکریہ ادا کیا۔

    فوٹو دیکھنے کیلئے درجہ ذیل پیج ملاحظہ کیجئے۔

    U.S. Embassy’s Flickr page.

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں