اچھا قلم کار کیسے بنیں!

ابوعکاشہ نے 'اركان مجلس كے مضامين' میں ‏ستمبر 4, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,534
    اچھا قلم کار کیسے بنیں؟

    تحریر : ریاض الإسلام ندوی

    تحریر کی اہمیت

    ٭ اظہار و بیان کی صلاحیت اللہ تعالی کی نعمت ہے۔
    ٭ اظہار کے بنیا دی ذرائع دو ہیں : (1) زبان یعنی تقریر(2)قلم یعنی تحریر
    ٭ تقریر کے مقابلے میں تحریر کی اہمیت زیادہ ہے۔ اس لیے کہ :
    1۔ وہ زیادہ مستند ہوتی ہے۔
    2۔ اس کے اثرات دور رس ہوتے ہیں۔
    3۔ اس کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔
    4۔ مخاطب کو سہولت ہوتی ہے کہ جب چاہے اس سے استفادہ کرے۔
    5۔ تحریر پر غور و فکر کا موقع زیادہ ملتا ہے۔

    ٭ آسمانی کتابیں تحریری شکل میں دی گئیں۔
    ٭ قرآن کریم میں بھی تحریر کو اہمیت دی گئی ہے:الذی علّم بالقلم(العلق:4)ن و القلم و ما یسطرون(القلم:۱)
    قرآن میں کتاب؍ کتب کے الفاظ 263 مرتبہ اور اس مادہ سے دیگر الفاظ 57 مرتبہ آئے ہیں۔ کل: 320 مرتبہ
    صرف ایک آیت(آیت مداینہ: البقرۃ:282) میں کتب کے مادے سے یہ لفظ 9 مرتبہ آیا ہے۔
    ٭ تحریک اسلامی کے اکابر نے بھی تحریر کی طرف خاطر خواہ توجہ دی ہے۔

    تحریر و تصنیف کا فن __ خداداد یا اکتسابی؟

    ٭ خطابت اور انشاء پردازی خداداد صلاحتیں ہیں۔عربی کی مشہور مثل ہے: لیست النائحۃ کالثکلی(جس عورت کو کسی میت پر رونے کے لیے کرایے پربلایا گیا ہو، وہ اس طرح رو ہی نہیں سکتی جس طرح وہ عورت روتی ہے جس کا اپنا بچہ مر گیا ہو۔)
    ٭ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مشق و مزاولت سے ہر صلاحیت پیدا کی جا سکتی ہے اور ہر فن میں مہارت حاصل کی جا سکتی ہے۔

    تحریر و تصنیف سے قبل چند بنیادی باتیں:

    1۔ مقصد صالح اور نیت پاکیزہ رکھیے۔جو کچھ لکھیں گے اس پر اللہ تعالی اجر سے نوازے گا۔

    2۔ لکھنے کا آغاز کرنے سے قبل موضوع متعین کیجیے۔

    3۔ اس موضوع پر اب تک جتنا کچھ لکھ جا چکا ہے اس کا مطالعہ کیجیے۔ جدید اصطلاح میں اسےLiterature Surveyکہتے ہیں۔

    4۔ لکھنے سے قبل معلومات جمع کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھیے کہ وہ مستند ہوں۔

    5۔ جو کچھ لکھنا ہے اس کا پہلے سے ایک خاکہ(Synopsis)تیار کر لیجیے،کہ کس ترتیب سے مضمون لکھنا ہے؟

    دورانِ تصنیف ملحوظ رکھے جانے والے آداب:

    1۔ تحریر کا مختصرہونا پسندیدہ ہے:خیرالکلام ما قلّ و دلّ( بہترین کلام وہ ہے جس میں الفاظ کم ہوں مگر مفہوم واضح ہو۔)

    2۔ مضمون بڑا ہو توذیلی عناوین (Sub-Headings) ضرور شامل کیجیے۔

    3۔ تمہید مختصر رکھیے۔وہ ایسی ہو کہ قاری آگے پڑھنے پر آمادہ ہو جائے۔

    4۔ مضمون کا خاتمہ ’حاصل بحث ‘ پر کیجیے۔

    5۔ ایک بات کو ایک جگہ ہی لکھیے۔تکرار سے بچیے۔

    6۔ حوالوں کا اہتمام کیجیے۔

    7۔ تحریر مکمل ہو جانے کے بعد اس پر نظر ثانی ضرور کیجیے۔ اپنے ناقد خود بنیے۔

    مؤثر تحریر کے لیے ضروری امور:

    1۔ لکھنے کا آغاز کرنے سے قبل افکار کو ذہن میں صاف کیجیے،پھر انھیں ترتیب وار کاغذ پر منتقل کیجیے۔

    2۔ افکار میںربط و تسلسل کو ملحوظ رکھیے۔

    3۔ مناسب اور موزوںالفاظ کاانتخاب کیجیے۔

    4۔ مشکل الفاظ سے پرہیز کیجیے۔ مترادفات کا استعمال کم سے کم کیجیے۔

    5۔ صحتِ الفاظ پر توجہ دیجیے: املا،تذکیر و تانیث، فعل فاعل،واحد جمع

    6۔ جملوں کی بناوٹ درست رکھیے۔

    7۔ جملے چھوٹے چھوٹے استعمال کیجیے۔

    8۔ مثالوں اور دلیلوں سے بات کیجیے۔

    اسلوب؍ اندازِ پیش کش کو بہتر بنانے کا طریقہ

    ۔ مستند اہلِ زبان ادیبوں کی تصنیفات کا برابر مطالعہ کرتے رہیے۔
    -----------------------
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 8
  2. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,351
    بہت خوب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    377
    ماشاء اللہ
    حالت حاضرہ میں تحریر کی بہت ضرورت پیش آرہی ہے ایک اور بات یہ کہ بہت سارے لوگ شکایت کرتے ہیں ہمیں لکھنا نہیں آتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ لکھنے سے لکھنا آتا ہے
    دوسری بات یہ کہ بہت سارے لوگ لکھتے ضرور ہیں مگر ان کی تحریر میں جان نہیں رہتی اس کا سببِ واحد یہی ہے کہ مطالعہ کے بغیر لکھنا شروع کردیتے ہیں جبکہ مؤلف نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایک صفحہ لکھنا ہو تو دسوں صفحات کا مطالعہ کرنا بے حد ضروری ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  4. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,630
    بہت خوب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں