اہل قرآن سے ایک بھاگتی دوڑتی ملاقات کا احوال

عائشہ نے 'اہلِ مجلس : دکھ سکھ کے سانجھی' میں ‏اکتوبر، 8, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,043
    جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے یہ ویک اینڈ پر بھی مصروف رہنے والے لوگوں کی ایک بھاگتی دوڑتی ملاقات کی روداد ہے۔ ستمبر کے اواخر میں ام محمد کا پیغام ملا کہ وہ اسلام آباد میں ہیں۔ میری خوشی کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ جب ہم ملاقات کے لیے موزوں وقت طے کر رہے تھے،عفراء نے بھی انہیں دعوت دے ڈالی۔ میری خواہش تھی کہ وہ میرے گھر آئیں جہاں سے ہم عفرا کی طرف جائیں لیکن راستے اور وقت کے حساب سے طے پایا کہ میں ام محمد کے ہاں پہنچوں وہاں سے مل کر عفراء کی طرف جائیں اور یوں ان انتہائی مصروف لوگوں کا ملنا ممکن ہو۔
    جس دن ملاقات طے تھی ام محمد سسٹر نے مجھ سے کہا کہ ذرا وقت پہلے آئیے گا تا کہ کچھ دیر اکٹھے بیٹھیں۔ میرا بھی یہی ارادہ تھا لیکن مجھے ایک جگہ درس کے بعد ام محمد کے گھر پہنچنا تھا ۔ میں تو مقررہ وقت سے پہلے پہنچ گئی لیکن مجھ سے پہلے مقرر نے ہر پندرہ منٹ بعد بس دوباتیں کہنے کی اجازت جو طلب کرنا شروع کی تو پون گھنٹہ وہیں گزر گیا۔ خواتین مفت میں بدنام ہیں کہ لمبی بات کرتی ہیں۔ ابوجان نے وقت کی پابندی کی ایسی عادت ڈالی ہے کہ پانچ منٹ کی تاخیر پر بھی معذرت کرنے کی عادت ہے ، اس لیے میرے لیے ان کا رویہ حیران کن تھا۔ ارادہ کیا کہ اب میں واپس چلتی ہوں میرا وقت تو حضرت لے چکے، لیکن میزبان بہنوں کی محبت کہ انہوں نے اجازت نہیں دی۔ خیراللہ اللہ کر کے بھائی صاحب کا جوش تقریر کم ہوا، جس دوران میں نے صبر کا اجر حاصل کیا۔ اپنی باری پر ٹائمر سامنے رکھا، 35 منٹ میں درس مکمل کر کے اجازت چاہی، لیکن موصوف حجاب کے متعلق اپنی "روپہلی" تقریر سے جو فضا بنا کر تشریف لے گئے تھے اس کے نتیجے میں سوالات کی بھرمار ہو گئی حالاں کہ میرا موضوع حجاب نہیں تھا (موضوع تو ان کا بھی حجاب نہیں تھا ویسے )، اور میرا ارادہ نہیں تھا کہ میں اس موضوع میں الجھوں۔جب سے حجاب کیا ہے ہمیں تو نشانہ ستم بننے کی عادت ہے سوتجربہ کام آیا لیکن سوال وجواب کی نشست پندرہ سے تیس منٹ پر پھیل گئی۔ اس دوران مجھے رہ رہ کر ام محمد کا خیال آ رہا تھا کہ وہ پہلی ملاقات میں ہی میری پابندیء وقت سے کتنی متاثر ہو چکی ہوں گی۔ اور یوں عصر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ نماز کے بعد منتظمات چائے لا چکی تھیں، جس کے دوران کچھ مزید سوالات منتظر تھے۔ وقت اتنا آگے جا چکا تھا کہ اب مجھے عفرا کی فکر لاحق ہو گئی تھی کہ ہم نے تو ان کے ساتھ شام کی چائے پینی تھی۔ اس لیے لیپ ٹاپ اور نوٹس سمیٹنے کے دوران جوابات دیے اور اس کے بعد ساری مروت ایک طرف رکھ کر میزبانوں سے معذرت کی۔ عجلت میں گھر پہنچ کر "بستے" سے جان چھڑائی اور ام محمد کے گھر کی جانب تقریبا دوڑ لگائی۔ اللہ کا شکر ہے جس نے مغرب کی نماز سے پہلے پہنچنے کی توفیق دے دی۔ راستے میں فون پر بات ہوئی تھی، گھر آرام سے ہی مل گیا۔ ام محمد کے بیٹے دروازے سے باہر انتظار کر رہے تھے، خود ام محمد نے بھی دروازے پر استقبال کیا، یہ ان کی تواضع ہے اوریہ تواضع ہی ان کی بڑائی ہےماشاءاللہ ۔ان کی تحریر دیکھ کر اور باتیں سن کر ذہن میں جو تصور تھا وہ بالکل ویسی ہیں بلکہ اس سے کچھ زیادہ اچھی ہیں اس لیے ملاقات بہت ہی خوش گوار رہی۔مختصرا تعلیم یافتہ، دین دار، سادہ اور مادیت پرستی سے دور۔ دین داروں میں کچھ لوگ عجیب سے تکلف پسند ہو جاتے ہیں، ام محمد کی سادگی سب سے اچھی لگی۔ میرے لیے قابل رشک بات یہ ہے کہ انہوں نے درس قرآن سے اپنے تعلق ٹوٹنےنہیں دیا۔ یہاں منتقل ہوتے ہی مقامی حلقہ قرآن میں شامل ہو گئیں۔ اس سے بڑی سعادت کوئی اور نہیں ہے کہ اللہ کا دین ہماری زندگی میں سب سے پہلی ترجیح ہو۔ باقی سب کچھ ثانوی ہے۔ کل جب ہم اپنی زندگی کو مڑ کر دیکھیں گے تو اسی وقت کو قابل فخر پائیں گے جو اللہ کی خاطر صرف ہوا۔قرآن کریم سے تعلق رکھنے والے اللہ کے پیارے بندے ہوتے ہیں(اھل القرآن ھم اھل اللہ و خاصتہ) اسی خیال سے دینی علم حاصل کرنے والوں سے محبت ہونا لازمی ہے۔ اسی دوران ام محمد کی بیٹی آ گئیں۔ ماشاءاللہ یہ بھی اپنی والدہ کے ساتھ کورس کر رہی ہیں اور کم عمری میں ہی تجوید کی ماہر معلمہ ہیں۔ میری دعا ہے کہ وہ اس علم میں مزید آگے بڑھیں اور قراءات کی ماہر ہو جائیں۔ گپ شپ کے دوران ام ثوبان کی یادیں تازہ کیں، عبدالرحمن بھیا کا بھی ذکر آیا۔ اللہ ان پر اپنا رحم فرمائے۔ باتوں کے دوران نماز مغرب کا وقت ہو گیا، جس کے بعد ہم عفرا کے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ ام محمد ایک بھاری بیگ لے کر آئیں جس میں ڈھیر ساری کتابیں، شہد، کھجوریں اور نجانے کیا کچھ بھرا ہوا تھا۔ یہ میرے لیے ان کا محبت بھرا تحفہ تھا جس کے لیے میں ان کی بہت شکرگزار ہوں۔ راستے میں ام محمد کہنے لگیں کہ میں سوالات کر کے آپ کا دماغ کھاتی رہوں گی، میں نے بصد خوشی قبول کیا کیوں کہ میرا گلا پہلے ہی بیٹھا ہوا تھا تو سوالات سننا ایک آسان کام تھا، اگر میری آواز ٹھیک ہوتی تو پھر ام محمد کو بولنے کا موقع نہیں ملتا۔ راستہ کافی لمبا تھا اس لیے یہ بھاگتی دوڑتی ملاقات جاری رہی۔ اس دوران معلوم ہوا کہ ام محمد کے گھر مہمان آ گئے ہیں۔ اب کچھ لوگ فون پر مہمانوں کو بتا رہے تھے کہ وہ کہاں جائیں اور کچھ راستے کی تلاش میں عفرا اور اس کے بھائی سے گفتگو کر رہے تھے۔ عفرا کے گھر کے قریب ہمیں راستے میں مشکل ہو رہی تھی۔قافلے والوں کی توقعات مجھ سے تھیں کہ مجھے کچھ معلوم ہو گا اور مجھے کچھ معلوم تھا نہیں۔ ایک دو جگہ بند راستوں میں پھنس کر واپس نکلے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ ام محمد کی بیٹی نے معصومیت سے سوال کیا کہ عفرا اور میری بہت سال پرانی دوستی ہے تو مجھے ان کے گھر کا راستہ کیوں نہیں معلوم؟ مجھے بہت ہنسی آئی۔ انہیں بتایا کہ میری اور عفرا کی زیادہ تر ملاقات یونیورسٹی، مسجد یا کسی دینی تقریب میں ہوتی رہی ہے۔ اور رہے راستے تو میں اپنے گھر کا راستہ بھی بآسانی گم کر سکتی ہوں۔ بہرحال ام محمد کے دونوں بچوں نے بہت صبر و تحمل سے راستہ بھی ڈھونڈ لیا اور ہم دو بزرگوں کو بھی برداشت کیا جس کے لیے یہ بہت داد کے مستحق ہیں۔ ایک جگہ پہنچ کر رک گئے کہ عفراء کے بھائی ہمیں تلاش کرنے نکل چکے تھے۔ مجھے عفرا کے دو بھائیوں کی پہچان ہے جو کام آ گئی، جیسے ہی ان میں سے ایک گاڑی کے پاس سے گزرا میں نے فورا آواز لگا دی یہی ہے یہی ہے۔ ام محمد جو مجھ سے بات کر رہی تھیں کافی پریشان ہو کر مڑیں کہ کیا ہو گیا۔ بعد میں مجھے بھی بہت ہنسی آئی ۔ بہرحال دونوں کی معصومانہ باتیں سنتے ان کی رہنمائی میں بالاخر ہم گھر پہنچ گئے۔ عفرا مین گیٹ پر ہی نظر آ گئیں۔ جو آج کل نظر آنا کم ہو گئی ہیں۔ یونیورسٹی میں تو ان سے ملاقات ہوئے زمانے گزر گئے ہیں۔
    عفرا کی بہن مریم بھی رکن مجلس ہیں یوں ایک ہی چھت کے نیچے کئی ارکان مجلس جمع ہو گئیں۔ مریم کا اگلے دن امتحان تھا پھر بھی انہوں نے ہمارے لیے وقت نکالا۔ ان کی بڑی بہن سے بھی ماشاءاللہ کافی اچھی بات چیت رہتی ہے وہ بھی موجود تھیں۔ عفرا کی چھوٹی بہن اور امی جان بھی آ گئیں تو خوب مجلس جمی۔ عفرا نے چائے کا پوچھا تو میں نے سچ سچ بتا دیا کہ پی لی۔ اس پر وہ کہنے لگیں کہ میں نے آپ کے انتظار میں نہیں پی۔ اف میری شرمندگی کا کیا عالم تھا۔ عفرا اب تو آپ نے پڑھ لیا کہ ہمیں اتنی تاخیر کیوں ہوئی اس لیے در گزر کیجیے۔ اس کے بعد عفرا اور ان کی بہن اپنی کوکنگ اوربیکنگ کے تازہ ثبوتوں کے ساتھ وارد ہوئیں۔ مجھے لگتا ہے یہ بہنیں سارا دن کچن میں لگی رہیں۔ سب کچھ گھر میں بنایا اور اتنا مزے کا تھا، کہ میں تو خاموشی سے انصاف کرتی رہی اور سب کی باتیں سنتی رہی۔ عفرا نے اتنا اچھا چاکلیٹ کیک بنایا تھا کہ میں جو میٹھا دو چمچ سے زیادہ نہیں کھا سکتی، خوب ڈٹ کر کھایا۔ ام محمد کے منتظر مہمانوں کا خیال کر کے ہم ذرا جلدی واپس جانا چاہتے تھے لیکن اس جلدی میں بھی کافی باتیں کیں۔ عفرا کے سارے گھر والے ماشاءاللہ علمی ذوق رکھتے ہیں، ان کا گھر ہمارے گھر کی طرح کتابوں سے بھرا ہے، مریم کا کمرا دیکھ کر مجھے اپنا اور اپنی چھوٹی بہن کا وقت یاد آ گیا جب ہم دونوں ایک ہی کمرے میں ہوتی تھیں، کتابوں سے بھرے کمرے میں مل کر پڑھائی کرتے، نئی کتابوں پر بحث کرتے وقت کب گزرا خبر نہیں۔ بہت اچھے دن تھے۔ غرض ملاقات میں زیادہ تر یونیورسٹی سٹوڈنٹس تھے جو تحقیق کے میدان کی کٹھنائیاں دیکھ چکے ہیں۔ مستزاد سب کا دینی رجحان خواہ وہ علم دین کے باقاعدہ طالب علم نہیں۔ ملاقات میں موجود سب لوگوں کی دین سے محبت دیکھ کر خوشی ہو رہی تھی، کوئی نہ کوئی دین سے متعلق بات ہورہی تھی۔ اس سے زیادہ اچھی بات اور کیا ہو گی۔ عفراء آپ کے چھوٹے بہن بھائی بہت کیوٹ ہیں۔ان کو بتائیے گا واپسی پر میرا جی چاہ رہا تھا کہ دونوں کو جیب میں ڈال کر ساتھ لے آؤں۔ میں اپنے بھانجے کو کہوں کہ میں آپ کو جیب میں ڈال لوں تو وہ کہتا ہے میں آپ کی جیب کو دانتوں سے کاٹ کر نکل جاؤں گا۔
    ایک تھکا دینے والے ہفتے کے اختتام پر بہت خوش گوار ملاقات کی یادیں لے کر ہم واپس آئے۔ واپسی کے راستے میں ام محمد کے بچوں کی میرے بارے میں خوش فہمی دور ہو چکی تھی کہ مجھے کچھ راستوں کا پتہ ہو گا اس لیے وہ خود ہی راستے ڈھونڈتے رہے البتہ مجھ سے جھجک کچھ دور ہو چکی تھی اس لیے انہوں نے بھی سوالات کیے، سن کر بہت خوشی ہوئی کہ ماشاءاللہ وہ بھی اپنے والدین کی طرح دین سے کتنی محبت کرتے ہیں اور اس کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں۔ واپس آ کر میں نے انہیں کچھ حوالے ارسال کیے تھے۔ امید ہے ان سوالات کا جواب مل چکا ہو گا۔ ام محمد نے مجھے گھر چھوڑا تو کافی رات ہو چکی تھی، اس لیے وہ اندر نہیں آئیں۔ اب اس دن کا انتظار ہے جب وہ اپنے بچوں کے ساتھ میرے گھر آئیں گی۔امید ہے اس دوران میں ان ساری کتابوں کی ورق گردانی کر چکی ہوں گی جو وہ بہت محبت سے میرے لیے لائیں۔
     
    Last edited: ‏اکتوبر، 15, 2016
    • دلچسپ دلچسپ x 5
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • اعلی اعلی x 2
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,524
    بہت خوب۔ جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,738
    جزاک اللہ خیرا۔
    اتنی محنت سے ہمارا ذکر خیر کرنے کی جزا عند اللہ محفوظ ہو گی ان شاء اللہ۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے ہاں اہل القرآن میں شامل فرمالے۔

    کچھ باتیں اس میں ویسے میرے لیے بھی معلوماتی ہیں : )
    یہ تجزیہ درست نہیں ہے بھئی، اتوار کے دن کچن کے علاوہ کئی ساری مصروفیات ہوتی ہیں اور میں سست ضرور ہوں پر اتنی تو نہیں کہ دو ڈشز بنانے میں پورا دن ہی کچن میں گزار دوں : )
    عین باجی کوئی باطنی آنکھ سے تو نہیں دیکھ لیں کتابیں؟ آپ لوگوں کے راستے میں تو کہیں کتابیں تھی ہی نہیں :ROFLMAO:
    یہ بھی درست نہیں، کیک کا واحد پیس جو میں نے ڈرتے ڈرتے ڈال کر دیا کہ یہ بھی پتہ نہیں کھائیں یا نہ کھائیں تو بس آخر تک اسی پر گزارا چلاتی رہیں!

    ماشاء اللہ، اس کا علم نہیں تھا مجھے، دوسرا ان سے بات نہیں ہوسکی ورنہ استفادہ کرتی میں بھی۔ چلیں نیکسٹ ٹائم ان شاء اللہ۔

    آپ لوگوں کا شکریہ کہ مجھے اس قابل سمجھا، ہمارے گھر کو شہر کی معروف معلمہ نے بالآخر رونق بخشی : ) اور زیادہ خوشی اس بات کی تھی کہ ام محمد نے میرا مان رکھتے ہوئے پہلی فرصت میں میری دعوت قبول کی ورنہ گھر اتنا بھی دور نہیں جتنا لوگ سمجھ لیتے ہیں اور آنے سے انکاری ہوتے ہیں! اس کی ایک مثال انا بھی ہیں : ) یاد ہے انا مجھے آپ کےلیے بریانی یونیورسٹی بنا کر لانی پڑی تھی اور جلدی میں وہ بنی بھی بہت ہی مسکین سی تھی : )

    ام محمد کے ساتھ ام ثوبان کی یاد آنا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ دوبارہ جب پاکستان آؤں گی تو آپ سے ملاقات ہوگی۔ لیکن یہ ہمارے نصیب میں نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی قبر کو جنت کے باغات میں شامل فرمائے۔ دونوں بہنوں میں یہ قدر مشترک ہے کہ جب بھی ملیں گی کتب اور مصحف کے قیمتی تحائف سے نوازیں گی۔ ام ثوبان کا بھجوایا ہوا خوبصورت مصحف میری پروفائل پکچر میں موجود ہے اور ترجمہ والا قرآن میری میز پر رہتا ہے جس سے استفادہ ہوتا رہتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  4. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,167
    جزاک اللہ خیرا سسٹر عین
    آپ نے ہمارے بارے میں جو لکها محبت ہے آپ کی .
    شوق تهاآپ دونوں سے ملنے کا الحمد للہ پورا ہوا.
    بہت اچها لگا سچ محسوس ہوا کہ اصل رشتہ دین کا ہے
    وہی لوگ ہمارے دلوں میں بستے ہیں جن کا اور ہمارا رستہ ملتا ہے.
    اور ابهی تو ان شاء اللہ اور بہت ملنا ہے اور میں امید کرتی ہوں کہ جلد آپ اور عفراء وقت نکال کر تفصیلی.ملاقات کے لیے ہمارے.گهر آئیں گی.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,043
    گاڑی میں آتے جاتے لکھا، بے ربطی محسوس ہوئی ہوگی۔ آج کل سب سے مصروف ہفتے ہیں۔ کئی واقعات بہت مزے کے تھے لیکن لکھ نہیں سکی۔
    اہل القرآن کہنا کوئی مبالغہ نہیں، ماشاءاللہ ملاقات میں موجود سب لوگ یا تو حفظ، تجوید، علوم قرآن، تفسیر کی تعلیم حاصل کر چکے، کر رہے ہیں یا دے رہے ہیں۔ عمل کی کوشش بھی جاری ہے۔ یعنی سمت درست ہے سفر باقی ہے اور یہ جاری رہنا چاہیے۔ دعا کریں ہم سب ثابت قدم رہیں اور وہاں بھی اسی حوالے سے جمع ہوں۔
    شروع والا قصہ بعد میں لکھا، ذکر کرنے کا مقصد آپ لوگوںسے کہنا تھا کہ حجاب کے موضوع پر وہ لوگ بھی بولیں جن کی زندگی کا یہ کئی سالوں سے حصہ ہے ورنہ ان فیشنی داڑھیوں والے داعیوں نے جو غل مچا رکھا ہے وہ بہت لوگوں کو گمراہ کر دے گا۔ یہ پیغام شامل ہونے سے رہ گیا ۔ مجھے کئی باحجاب بچیوں کے معصوم چہرے یادآ رہے ہیں جو ایک تو پردے پر باتیں سنتی ہیں اور پھر ایسے دینی لیکچر ان کا مورال ڈاؤن کرتے ہیں۔ جی چاہ رہا تھا ان کو آپ سے ملواؤں کہ یہ لڑکیاں ہیں پردے نے انہیں اعلی تعلیم اور کیرئیر بنانے سے نہیں روکا۔ آپ لوگ چلتے پھرتے رول ماڈل ہیں کم ازکم ان بچوں کی خاطر ضرور بولیں، لکھیں،۔ جس طرح استقامت سے زمانہ طالب علمی میں ایک اصول پر زندگی گزاری ہے اس کے بعد ان کی مدد کرنا آپ سب کا فرض ہے۔
     
    Last edited: ‏اکتوبر، 10, 2016
    • متفق متفق x 1
    • مفید مفید x 1
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,043
    ماشاءاللہ آپ دونوں فریق کسرنفسی کی وجہ سے اپنا تعارف کروانا ہی بھول گئے، لیکن مجھے تو شعر بھی شاعر کے نام کے بغیر یاد نہیں ہوتا، اس لیے راستے میں ام محمد سے تفصیلی تعارف معلوم کر لیا تھا، آپ لوگوں کا بھی کچھ کچھ کروا دیا تھا مجھے معلوم تھا آپ کے سامنے کروایا تو آپ نے مجھے گھور گھور کر میرا خون خشک کر دینا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,043
    جی آپ کے والد محترم کی اصل لائبریری تو نہیں دیکھی لیکن جو کتابیں آپ کےنزدیک کچھ نہیں وہ بھی کافی تھیں۔ مریم کی موٹی موٹی کتابیں دیکھ کر میری کزن یاد آ گئی۔ میری کچھ کتابیں دیکھ کر وہ کہتی ہے آپی اتنی موٹی کتاب آپ اٹھاتی کیسی ہیں۔ میں نے اسے کہا یہ جہاں رکھی ہیں یہیں کھول لیتی ہوں اور سال بھر وہیں رہنے دیتی ہوں۔
    وہ آپ نے کیک کی رشوت ایسی دی کہ ہم نے آپ کو میرٹ لسٹ میں ڈال دیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,043
    آمین۔ میں نے تو لڑکیوں کو کتاب کا تحفہ دینے سے پکی توبہ کر لی ہے۔
    وایاک۔ اس میں کوئی شک نہیں۔
    اللہ اللہ ابھی مزید تفصیلی؟:giggle: میرے خیال میں آپ نے مجھے پورے چار گھنٹے برداشت کیا ہے۔ عفرا سے آپ سولہ گھنٹے بھی ملیں تو یہ اتنے ہی لفظ گن کر بولیں گی جتنے اس دن بولے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  9. انا

    انا ناظمہ خاص انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,351
    زبردست ماشاءاللہ ۔ بہت دلچسپ روداد ہے ۔ اللہ تعالی آپ لوگوں کی ملاقاتوں میں برکت دے اور آپ اسی طرح یہاں خوشیاں بکھیرتی رہیں۔
    اسلام آباد سے راول پنڈی کا راستہ ہمارے گھر میں ایسے ہی سمجھا جاتا ہے جیسے اسلام آباد سےکراچی کا سفر کرنا ہو ۔ اس لیے اس پر تو میرا کوئی اختیار نہین ۔ لیکن کوئی نہیں مجھے تو اسی بات کی خوشی تھی کہ الحمداللہ ملاقات ہو گئی۔ اب بریانی یاد نہین کیسی تھی ۔ دبارہ کھانی پڑے گی یاد کرنے کے لیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    409
    عنوان دیکھ کر کچھ اور ہی محسوس ہوا تھا....... اللہ اکبر
    پڑھ کر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ یہ تو محترمہ بہن نے اپنا واقعہ شئیر کیا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. بنت عبد الغفور

    بنت عبد الغفور نوآموز

    شمولیت:
    ‏دسمبر 16, 2016
    پیغامات:
    8
    ماشاءاللہ بہت مزا آیا پڑھ کر.
    ((ملاقات میں موجود سب لوگوں کی دین سے محبت دیکھ کر خوشی ہو رہی تھی، کوئی نہ کوئی دین سے متعلق بات ہورہی تھی۔ اس سے زیادہ اچھی بات اور کیا ہو گی۔))
    واقعی.اس سے زیادہ اور اچهی بات کوئی ہوتی ہی نہیں کہ سب ایک ہی موضوع یعنی دین پر باتیں کریں ایسا لگتا ہے حقیقی رشتےدار مل کر بیٹهے ہیں جن کے خیالات ایک ہیں جن کا مقصد ایک ہے... ماشاءاللہ
    جزاك الله خيرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں