ایران، القاعدہ،حزب اللہ، اور داعش کے درمیان اتحاد اور مدد کے دستاویزی ثبوت

عائشہ نے 'اسلام اور معاصر دنیا' میں ‏اپریل 17, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,106
    اصل دستاویزی پروگرام
    http://www.alarabiya.net/ar/arab-an...مرايا-زواج-غريب-بين-تنظيم-القاعدة-وإيران.html
    اہم نکات کا اردو ترجمہ:
    القاعدہ کا پہلا دشمن سعودی عرب ہے۔ تنظیم نے قیام سے ابتک ایران میں کسی شیعہ کو گزند نہیں پہنچایا۔ اس نے مفادات اور ایران میں القاعدہ کی سپلائی لائن کا جھانسہ دلا کر ہمیشہ اپنے ناراض جنگجووں کے جوش کو دبایا حالانکہ وہ ہمہ وقت کسی بھی خطے میں خون کی ندیاں بہانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
    سقوط کابل کے بعد القاعدہ نے ایران کا انتخاب کیا جہاں اس کے ایک سو سے زائد جنگجو پہلے ہی موجود تھے۔ القاعدہ کے جنگجووں نے ایران میں گلبدین حکمت یار کی جماعت حزب اسلامی کے مرکزی دفتر پر قبضہ جمایا۔
    ان خیالات کا اظہار العربیہ نیوز چینل کے فلیگ شپ پروگرام 'مرایا' میں نامور صحافی اور تجزیہ کار مشاری الذایدی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ تہران اور القاعدہ کے تعلقات اور خطے کی سیاست پر اس کے منفی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے جناب مشاری کا کہنا تھا کہ ایران اپنے فارسی، عربی، انگریزی سمیت دوسری زبانوں میں پروپیگنڈے کے ذریعے القاعدہ اور اس کی ذیلی تنظیموں مثلا داعش کو سعودی عرب سے جوڑنے میں کوشاں ہے۔ تہران اور ان کے ہمنوا سعودی عرب کو القاعدہ اور القاعدہ کو سعودی عرب سمجھتے ہیں؛ اس لئے ریاض کی کسی بھی سیاسی یا فوجی جنگ کو القاعدہ کے ذریعے لڑنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔
    بلاشبہ ایران کا گمراہ کن پروپیگنڈہ وارفیئر کبھی نہیں تھما، یہ سب کچھ اس حقیقت کو فراموش کر کے کیا جا رہا ہے کہ القاعدہ کا پہلا دشمن خود سعودی عرب ہے۔ القاعدہ کی تقریریں اور اپنے پیروکاروں کو ہدایات کے نتیجے میں کی جانی والی کارروائیاں اور دھماکے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سعودی عرب القاعدہ کے پورے کلچر، داعش اور بلا شبہ حزب اللہ اور بنیاد پرست شیعہ تنظِموں کو ہاکنے والی سوچ کا پہلا اور حتمی دشمن ہے۔
    القاعدہ کے اپنے اعداو شمار کے مطابق تنظیم نے ایران کی علانیہ اور خفیہ مدد سے فائدہ اٹھایا، تاہم تاہم اس بے جوڑ شادی کی کوئی بات نہیں کرتا۔ خطے میں سعودی عرب کی پالیسی واضح ہے۔ یہ افراتفری اور دہشت گردی کے خلاف ہے، چاہے وہ سنی کریں یا شیعہ۔ یہ صرف زبانی کلامی بات نہیں۔
    پروگرام میں دکھائے جانے والے ایک کلب میں سعودی قیادت یہ حقیقت بیان کرتی دکھائی گئی کہ "عرب قوم کے متعدد ملکوں میں دہشت گردی اور داخلی تنازعات کی تکلیف دہ حقیقت اور خونریزی دہشت گردی اور فرقہ واریت کے درمیان اتحاد کا لازمی نتیجہ ہے۔ اس کی سرخیل وہ علاقائی قوتیں ہیں کہ جن کی عرب دنیا میں کھلم کھلا مداخلت سے ہمارے بعض ملکوں کے استحکام اور سلامتی کو گزند پہنچا۔ دہشت گردی اور فرقہ واریت کے درمیان کوئی فرق نہیں اور دہشت گردی کا اظہار مخصوص بنیاد پرست نظریات, کا مرہون منت ہے، چاہے یہ سنی ہو یا پھر شیعہ۔ سعودی عرب افراتفری کا مخالف ہے، چاہے اس کا ذریعہ کوئی بھی بنے۔"
    داعش کا دوٹوک اعلان ہے، "ہماری اور القاعدہ کی دہشت گردی کا ہدف ایران نہیں۔" یقینا یہ اعلان سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا۔ کیا دولت اسلامیہ المعروف داعش کے ترجمان ابو محمد العدنانی نے یہ نہیں کہا کہ القاعدہ کے پیروکاروں کو حکم تھا کہ وہ ایران کو نشانہ نہ بنائیں؟ جی ہاں، یہ اسلامی ریاست عراق اور شام المعروف داعش کے ترجمان ابو محمد العدنانی کے الفاظ تھے، شاید آپ کو یاد ہو جو انہوں نے کچھ مدت پہلے، میرا خیال ہے چند ماہ یا ایک برس پہلے ایمن الظواہری کو ایک جارحانہ پیغام میں بھیجے تھے۔
    پروگرام میں چلائے جانے والے بیان کے مطابق "دولت اسلامیہ ہمیشہ جہادی مبلغین اور رہنماوں کے مشورے کی طلب گار رہی ہے، اس لئے تنظیم نے اپنے قیام سے ابتک ایران میں کسی شیعہ کو گزند نہیں پہنچایا۔ تنظیم نے ایران میں شیعوں کو محفوظ رکھا اور اپنے ناراض سپاہیوں کے جوش کو دبایا حالانکہ وہ اس وقت ایران میں خون کی ندیاں بہانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان تمام سالوں میں تنظیم کا غصہ کافور اور یہ الزام برداشت کئے جاتے رہے کہ اسے ایران جیسے بدترین دشمن کے لئے بھاڑ کے ٹٹو کے طور پر استعمال کیا گیا اور اسے نشانہ بنانے سے روکا گیا تاکہ شیعہ القاعدہ کی ہدایت پر فراہم کی جانے والی سیکیورٹی کا لطف اٹھا سکیں اور تنظیم کے مفادات اور ایران میں سپلائی لائن محفوظ رہے۔"

    ابو محمد العدنانی داعش کے ترجمان کے طور پر خلیفہ ابو بکر البغدادی کی معیت میں زبان قال سے کہہ چکے ہیں: "القاعدہ نے ہمیں ایران کا سامنا نہ کرنے کا حکم دے رکھا ہے، اس پالیسی پر عمل ہوتا رہا۔" آئیے ہم ولایت فقیہ کے پیروکاروں اور القاعدہ کی خلافت پر مر مٹنے والوں کے اس انوکھے پیار کی سنگ میل بعض اہم تاریخوں پر نظر ڈالتے ہیں"

    مئی 2005 میں القاعدہ کے مصری رہنما سیف العدل کا خط شائع ہوا۔ اس وقت وہ ایران میں مقیم تھا۔ اگر آپ کو یاد ہو، مئی کے مہینے میں ریاض کے علاقے الحمراء میں ہونے بم حملے کا منصوبہ ساز سیف تھا۔ اسی نے مشرقی ریاض کے علاقے گرنادا بم حملے گئے۔ سیف نے اپنے خط میں مشہور اردنی، یقینا، ابو مصعب الزرقاوی سے تعلقات اور افغانستان سے ایران فرار کے حالات کا ذکر کیا، سیف العدل نے اسے 'بڑی کارروائی' کا نام دیا۔ وہ جنگجووں کی بڑی تعداد کے ہمراہ ایران گئے، جہاں انہوں نے ایک افغان کمانڈر گلبدین حکمتیار کی جماعت حزب اسلامی کے مرکزی دفتر پر قبضہ کیا۔ بلا شبہ، یہ ساری کارروائی ایرانی حکام کی آنکھوں کے سامنے ہوئی۔

    جون 2005 میں ایک مشہور خط شائع ہوا جو ایمن الظواہری نے ابو مصعب الزقاوی کو تحریر کیا تھا، اس میں انہوں نے بہت سی باتیں کیں، مگر اس میں الظواہری کی الزقاوی کو نصیحت ہمارے لئے اہم ہے کہ وہ سارے کام ترک کر دیں جس سے لوگ ان کے خلاف ہوتے ہیں، مثلا بقول الظواہری شیعوں کو نشانہ بنانا۔ الظواہری نے اپنے دوست کو یاد دلایا کہ شیعہ ایران نے القاعدہ کے ایک سو افراد کو پناہ دے رکھی ہے، کیا ہم انہیں قربان کر دیں؟

    "ہم آپ کو یاد دلاتے ہیں کہ کویت میں اسامہ بن لادن کے داماد اور القاعدہ کے ترجمان سلیمان ابو الغیث اور عبداللہ عزام بریگیڈ کے بانی اور دہشت گردی کی علامت صالح القراروی، اور بلاشبہ، القاعدہ کے سرکردہ راہنماوں کی ایرانی خفیہ ایجنسیوں نے میزبانی کی۔ سچی بات یہ ہے کہ میں نے ایران کا مرضی سے نہیں بلکہ مجبوری کے تحت انتخاب کیا۔

    افغانستان کے سقوط کے بعد ہمیں پاکستان اور ایران میں کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ پاکستان کا موقف نوشتہ دیوار تھا، جہاں پرویز مشرف بش سے زیادہ امریکی بنے ہوئے تھے،اس لئے ایران کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا، اور درحقیقت ایران ہمیں ان حالات میں اپنے ہاں رکھنے کو تیار بھی تھا، ہمیں جانا پڑا کیونکہ ہمیں کوئی دوسرا راستہ نہیں ملا۔

    جو نہیں جانتے ان کے لئے یہ ابو حفص الموریتانی ہیں، القاعدہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے اور القاعدہ سے وابستہ تنظمیں جانتی ہیں کہ ابو حفص الموریتانی کون ہیں؛ وہ القاعدہ کا ایک اہم ستون اور علامت ہے۔ یہ بات کھلا راز ہے کہ ایران نے القاعدہ کو خدمات پیش کیں اور کوشش کی کہ ان سے فائدہ اٹھائے؛ اس لئے کہ مفادات پر مبنی اتحاد ہے، کیونکہ دشمن جو ایک ٹہرا۔ وہ وہ عرب ریاستیں ہیں، ان میں سب سے آگے سعودی عرب اور مصر ہیں، تاکہ ان ملکوں کی طاقت اور ربط کو 'تمارا اور میرا دشمن ایک' کا اصول اپنا کر کمزور کیا جائے۔

    اس کی تصدیق یمن کی القاعدہ کو چھوڑ کر لوٹنے والے ایک سعودی شہری نے کی، القاعدہ کی حمایت میں تہران کے کردار اور ایرانی خفیہ اداروں اور حوثی باغیوں کے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ سے تعلق اور انہیں دہشت گردی کارروائیوں کے لئے درکار اسلحہ اور مالی معاونت کی فراہمی پر آمادگی کے بارے میں محمد العوفی کیا کہتے ہیں، ذرا سینئے: کچھ ملک اس میں نمایاں ہیں۔ کچھ ملک انہیں مجاہدین سمجھ خفیہ معلومات دینے میں آگے ہیں چاہئے جیسے بھی ہو۔

    دونوں ملکوں کی کوششیں یمن پر مرکوز ہیں، اور وہ پیسہ اپنی خفیہ ایجنسیوں اور ان مجاہدین کے ذریعے بھیج رہے ہیں کچھ حوثیوں کا کہنا ہے، "اگر آپ کو لاکھوں چاہیں، تو ہم آپ کو دیں گے۔" اس دن مجھے معلوم ہوا کہ سب کچھ نوجوان نہیں بلکہ دوسرے لوگ کںڑول کر رہے ہیں، اور حکم اوپر سے آتا تھا، تاہم ظاہری طور پر تاثر مجاہدین کا تھا۔

    یہ ویڈیو اوائل 2009 کو مارچ میں نشر ہوئی اور آپ یقینا آپ اس میں دیکھ رہے ہیں کہ، یہ سعودی ذریعے سے حاصل کی گئی، سعودی ٹی وی سے لی گئی ہے، جب بھی مقرر ایران اور دوسرے ملک ذکر کرتا تو وہ لفظ کٹ جاتا تاکہ ملک کا نام ظاہر نہ ہو۔ بلا شبہ، مقصد واضح ہے اور اس کا کوئی مقصد بھی نہیں اور نہ حالات ابھی محاذ آرائی کی نہج پر پہنچے ہیں۔ تاہم چال سامنے آ گئی ہے۔

    میرا مطلب ہے، کہ میں نہیں سمجھتا کہ القاعدہ کی حمایت کرنے والی ریاست کارخستان ہے، مثال کے طور، اور بلاشبہ یہ ایران ہے، کیونکہ حوثی کا تعلق ایران سے ہے، اس لئے وہ مقامی ایجنٹ ہے ایران کے لئے ایرانی پروپیگنڈے میں سعودی عرب کے ڈانڈے داعش اور القاعدہ سے ملانے کی متعدد کوششیں براہ راست ایرانی حکام، صحافیوں اور سب سے بڑے ایجنٹ حسن نصراللہ کے ذریعے ہوتی ہیں۔ وہی عراق خودکش بمبار بھیجتا رہا اور اسی نے بارود سے بھری کاریں عراق بھیجیں اور اسی نے بغداد اور شمال، جنوبی سمیت عراق کے وسطی شہروں میں عربوں، کردوں، ترکمانوں، سنیوں، شیعہ، عیسائی اور مسلمان سب کو بلاتفریق مروایا۔ تم نے عراقیوں کو نقصان پہنچایا، تمہاری آخری زیادتی داعش تھی۔ سعودی عرب بین الاقوامی اتحاد میں پارٹنر ہے۔
    درحقیقت اسی نے پہلے عرب اور یورپی ملکوں کے ساتھ ملکر بین الاقوامی اتحاد بنانے کا کہا تاکہ داعش اور اس کے شام میں بریگیڈیز ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا جائے۔ اس لئے اگر اتحاد اور اس سے تعاون ایسا رہے تو میرا خیال ہے کہ یہ اتحاد داعش کے لئے خطرناک ہو گا۔ درحقیقت، میری دانست میں، یہ پروپیگنڈے اور کاونٹر پروپیگنڈے کا حصہ ہے، تاہم داعش، القاعدہ اور اور ایسی تمام ملتی جلتی تنظیموں کا حتمی مقصد سعودی عرب کو نشانہ بنانا ہے کیونکہ یہ اسلامی، دینی اور اخلاقی وزن رکھتا ہے، جو ایسی تنظیموں کے جواز کی نفی کرتا ہے، اس لئے ایسی تنظیمیں سعودی عرب کو مٹائے بغیر دوام نہیں پا سکتیں۔

    http://urdu.alarabiya.net/ur/intern...ایران-میں-کسی-شیعہ-کو-گزند-نہیں-پہنچایا-.html
     
  2. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,327
    شیئرنگ کا شکریہ
     
  3. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,327
    اسامہ کی دستاویزات میں ایران، القاعدہ تعلقات کا انکشاف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    القاعدہ اور ایران کے باہمی فکری اور نظریاتی اختلافات کے باوجود دونوں کے درمیان ماضی میں خفیہ تعلقات کی خبریں مغربی ذرائع ابلاغ میں آتی رہی ہیں۔ حال ہی میں اسامہ بن لادن کی دستاویزات کے حوالے سے یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ القاعدہ اور ایران کے درمیان تعلقات محض قیدیوں کے تبادلے تک نہیں رہا بلکہ کئی دوسرے میدانوں میں بھی تہران اور القاعدہ ایک دوسرے کے قریب رہے ہیں۔

    اسامہ بن لادن کی تازہ دستاویزات موقر عربی اخبار "الشرق الاوسط" نے شائع کی ہیں۔ یہ دستاویزات سنہ 2011ء میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ کے خلاف کیے گئے امریکی میرینز کے خفیہ آپریشن کے دوران ان کے ہاتھ لگی تھیں۔

    ان دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ القاعدہ اور ایران کے درمیان تعلقات 90 کی دہائی سے جاری ہے۔ دوطرفہ تعاون کے تحت ایران نے القاعدہ کو اپنے ہاں خفیہ نقل وحرکت کی اجازت فراہم کی تھی۔ اسی کو آگے بڑھاتے ہوئے سنہ 2006ء میں القاعدہ کے تہران میں دفتر کھولنے کی تجویز بھی سامنے آئی مگر دفتر کھولنے کے اخراجات بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے اس تجویز پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ۔

    اسامہ بن لادن کے کمپائونڈ سے ملنے والی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اور القاعدہ کے تعلقات اس دور میں بھی قائم تھے جب اسامہ بن لادن سوڈان میں پناہ گزین تھے۔

    انسداد دہشت گردی کے امریکی تجزیہ نگار پال کریشنک کا کہنا ہے کہ امریکی وزرا خزانہ نے ایران میں موجودہ القاعدہ کے چھ لیڈروں کے اثاثے منجمد کیے تویہ ثابت ہوا کہ القاعدہ کو فنڈنگ فراہم کرنے میں افغانستان اور پاکستان کے بعد ایران کا بھی اہم کردار تھا۔

    دستاویزات میں بتایا گیاہے کہ ایران سے قربت کی کوششوں کے باوجود اسامہ بن لادن ذاتی طورپر ایران کے معاملے میں بہت محتاط رہے۔ انہوں نے اپنے پیروکاروں کو بھی ایران کے کردار کے حوالے سے متنبہ رہنے کی ہدایت کی تھی۔ اسامہ بن لادن نے اپنی اہلیہ کو لکھے گئے مکتوب میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ایران اس کے تہران سے نکلنے کے بعد ہمارے خاندان کی جاسوسی کر رہا ہے۔

    http://urdu.alarabiya.net/ur/middle...یزات-میں-ایران،-القاعدہ-تعلقات-کا-انکشاف.html
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,106
    وقت نے ثابت کر دیا یہ سب ایک تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔
     
    • متفق متفق x 1
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,106
    ایران کی خبررساں ایجنسی مہر کی رپورٹ کے مطابق عالمی فورم برائے اتحاد اسلامی مکاتب فکر کے سیکریٹری جنرل محسن آراکی نے تہران میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ طالبان کی اعتدال پسند شخصیات کو دارالحکومت میں منعقد ہونے والی دو روزہ بین الاقوامی اتحاد اسلامی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔انھوں نے بتایا ہے کہ ''طالبان تحریک کی ان بعض اسلامی اور سیاسی شخصیات کو دعوت نامہ بھیجا گیا ہے جو مسلمانوں کے اتحاد میں یقین رکھتی ہیں''۔انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ہمیشہ طالبان تحریک کی ان بعض شخصیات سے روابط رہے ہیں، جو اسلامی اتحاد کی حامی ہیں۔اس اعلان سے دو روز قبل ہی کابل میں متعیّن ایرانی سفیر محمد رضا بہرامی نے ایک بیان میں افغان طالبان اور ایران کے درمیان بات چیت کی اطلاع دی تھی۔ایران اس سے پہلے طالبان تحریک سے براہ راست روابط کی تردید کرتا رہا ہے۔
    واضح رہے کہ افغان حکام نے گذشتہ مہینوں کے دوران میں ایران پر طالبان کو فوجی امداد اور پناہ دینے کا الزام عاید کیا تھا اور اس کی بدولت ان کے بہ قول افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان کی مزاحمتی سرگرمیوں میں شدت آئی تھی۔
    http://urdu.alarabiya.net/ur/intern...-اتحادِ-اسلامی-کانفرنس-میں-شرکت-کی-دعوت-.html
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں