بہو کو کیسے خوش رکھا جائے۔

ام محمد نے 'گپ شپ' میں ‏نومبر 8, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,160
    اسلام علیکم ورحمتہ اللہ برکاتہ
    میں جب 'سسرال کو کیسے خوش رکھا جائے ' والا تھریڈ پڑھتی تھی تو اکثر سوچتی تھی ایک تھریڈ یہ بھی ھونا چاہیے کہ' بہو کو کیسے خوش رکھا جائے'ماہا سسٹر کا تھڑیڈ پڑھ کر سوچا کہ اب یہ سوال پوچھ لینا چاہیے۔
    ------------------------------------------------ بہو کو کیسے خوش رکھا جائے؟ ---------------------------------------
    تھریڈ میری طرف سے اسلیے پہلا جواب میری طرف سے ۔
    لڑکی کو بچپن ہی سے یہ باتیں سننے کو ملتی ہیں کہ 'ایسا سسرال میں نہ کرنا' یا 'ایسا سسرال میں کیا تو پتہ چلے گا ' یہ باتیں اکثر ماں کی طرف سے ہوتی ھیں کبھی سمجھانے اور کبھی دھمکی کے سٹائل میں اسکی وجہ یہ بھی ھوتی ھے کی جب شادی کے بعد لڑکی غلطی کر تی ھے توپہلا الزام ماں پر ھی آتا ھے کہ اسنے ٹھیک تربیت نہیں کی۔
    رشتہ مانگنے والے جب رشتہ مانگنے آتے ھیں تو یہی کہتے ھیں ھم تو آپکی بیٹی کو بیٹی بنا کر لے جائیں گے لیکن کتنے لوگ بعدمیں اپنی اس بات کونبھاتے ھیں؟؟؟شادی کے بعدمعاملات کو ٹھیک رکھنے اور سلجھانے کی ۔اکثرساری ذمہ داری لڑکی پر ڈال دی جاتی ھے لیکن اگر حقیقت کی آنکھ سے دیکھا جائے توسسرال میں سب اپنے ماحول میں سیٹ ھیں۔لڑکی ماں باپ کے گھر کو چھوڑ کر نئی جگہ اور نئے ماحول میں آئی ہے اسکو دوسروں کو سمجھنے میں اور سیٹ ہونے میں کچھ وقت تو لگے گا اس لیے سسرال والوں کو بہوکو کچھ وقت دینا چاہیے وہ سب کو سمجھ سکے اور ماحول میں سیٹ ھوسکےخود بھی خوش ھو اور سسرال والوں کو بھی خوش رکھ سکےاور جب بہو سے پوچھا جائے کہ وہ خوش ھے؟تو وہ پورے اعتما د سے کہے کہ ھاں میں خوش ھوں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ابن حسیم

    ابن حسیم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 1, 2010
    پیغامات:
    891
    قرآن و سنت کی تعلیمات سے آراستہ کر کے۔
    حیات صحابیات کے نمونے دے کر کے۔
    اپنی بیٹیوں سے زیادہ پیار دے کر کے۔
    اسکی جائیز خواہشات کو اپنی خواہشات پہ مقدم کر کے۔
    اسکی بے دینی خواہشات و عادات و اطوار اگر ہوں تو ان پر سیخ پا ہو نے کی بجائے اسے اچھے اور احسن انداز سے سمجھا کر کے۔
    اسکے اور اپنے بیٹے کو جتنا ممکن ہو سکے الگ رہائیش/ پورشن/ کمرہ دے کر کے۔ شائید میری اس بات سے کچھ لوگ متفق نہ ہوں لیکن اگر ایسا ہو تو اس سے لڑائ جھگڑے تقریبا ختم ہو جاتے ہیں۔ لیکن اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ بیٹا اپنے والدین کی خدمات کو پس پشت ڈال دے۔ نہیں، بلکہ اس پر اسکے والدین کی خدمت فرض ہے۔ اسے چاہیے کہ اپنے والدین کو پہلے سے زیادہ پیار دے، وقت دے، خدمت دے، اور والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ اب ان کے بیٹے پر جب ذمہ داریاں بڑھ گئیں ہیں تو اس کی کبھی کبھار عدم توجہ کو ایشو بنانے کی بجائے اگنور کرتے رہیں۔
    اور سب سے اہم بات اگر دونوں فریقین اسوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زندگی کے ہر ہر پہلو میں مقدم کر لیں تو صرف بہو ہی کیا پورے کا پورا گھرانہ خوشیوں سے مالا مال رہے گا۔
     
  3. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,621
    السلام علیکم

    یہ یہ ایسا موضوع ھے کہ جس میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ھے اور اس پر ہر گھر کے الگ سے مسائل ہوتے ہیں اس لئے کب کیا ہو جائے کچھ نہیں کہا جا سکتا، ہر گھر کی الگ سے ایک کہانی ہوتی ھے اس لئے اگر بڑے بزورگ سروں پر قائم ہوں تو کچھ حد تک رزلٹ مثبت نکلتے ہیں ورنہ چند ممبران پر مشتمل گھرانہ میں منفی رزلٹ ہی دیکھنے میں آئے ہیں۔

    سسرال اور بہو دونوں اگر سمجھداری سے کام لیں تو دونوں ایک دوسرے کو خوش رکھ سکتے ہیں اگر کسی وجہ سے کوئی ایرر آ رہا ھے تو پھر والدین کا بیٹا اور بہو کا خاوند اس کا سمجھدار ہونا بھی ایک بہت معنی رکھتا ھے کیونکہ یہ دونوں طرف سے وکیل صفائی اور وکیل استغاسہ کا کام کرتا ھے اگر یہ چاہے تو بھی حالات پر قابو پا سکتا ھے، پھر کچھ بھی ہو ابتدائی دور کٹھن ہوتا ھے اگر بہو صبر سے کام لے تو زندگی کی گاڑی چل ہی پڑتی ھے، مگر ایسے بھی رزلٹ دیکھنے میں آئے ہیں کہ بہو ساری زندگی صبر ہی کرتی رہ جاتی ھے مگر سسرال والے ان کے سر سے جوں بھی نہیں ریڑکتی۔ بہت مشکل سا موضوع ھے یہ اگر آگے بڑھا تو مزید رائے دیں گے ورنہ یہیں تک کافی ھے۔

    والسلام
     
  4. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,706
    اللہ لڑکی کو اور سسرال والوں دونوں کو ھدائیت دے اور دین کی سمجھ دے اللہ کاخوف ھو ڈر ھو تو سب معاملات درست رھتے ھیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,717
    ان شاءاللہ اس ٹوپک پر کچھ لکھنے کا سوچ رکھا ہے فرصت میں‌ لکھوں گا ان شاءاللہ
     
  6. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,160
    بھائی ضرور لکھیئے گا آپ کی شیئرنگ کا انتظار رھے گا
     
  7. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,160
    جزاک اللہ خیرا
    اللہ تعالی ھمیں اپنی بہو کے ساتھ ایسا ھی معاملہ کرنے کی توفیق دے آمین یا رب العالمین
    دو اہم پوائنٹس
    1-الگ گھر یا پورشن یا کمرہ اگر بیٹے کا ساتھ رہنے کی ضرورت شدید نہیں تو اس صورت میں بھی جھگڑوں سے بچا جا سکتا ھے ۔بہر حال کم از کم علیحدہ کمرہ بہو کا حق ھے۔
    2-شادی کے بعد لڑکے کے رویے پر فورًا اعتراض نہیں واقعی یہ سوچنا چاہیئے کہ اسکی ذمہ داری بڑہ گئی ۔
     
    • متفق متفق x 1
  8. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,160
    جزاک اللہ خیرا
    بھائی میرے خیال میں یہ بھی نیکی ہے کہ ایسے موضوع پر بول کر مسائل پر بات کی جائے اور کسی کو حل مل جائے اور ہمیں ثواب ۔انشاء اللہ۔
    1-بالکل صحیع ہر ایک کے مسائل کے لحاظ سے کہا نی علیحدہ اللہ تعالی سب کے مسائل حل فرمائے۔آمین۔
    2-واقعی دونوں فریقین کی سمجھداری ھی سے معاملات سدھرتے ھیں اور جو سمجھداری سے کام نہیں لیتے وہ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے مشکلات پیدا کرتےھیں ۔
     
    • متفق متفق x 1
  9. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,160
    آمین یا رب العالمین
    کچھ اور بھی تو لکھیے ۔چلیں بتائیےکیا کبھی آپنے سوچا کہ آپ اپنی آنے والی بہوؤں کو کیسے خوش رکھیں گی؟
     
  10. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,160
    بھئی باقی خواتین سے گذارش اپنے مفید مشوروں سے نوازیں۔۔۔۔
     
  11. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,717
    موضوع بہت ہی زیادہ احساس ہے

    یقینا ایسا ہی ہوتا ہے کہ لڑکی کی شادی سے پہلے لڑکی کی ماں اپنی بیٹی کو یہی مشورے دیتی ہے کہ بیٹی دیکھو سسرال میں جا کربد زبانی مت کرنا ، اپنے جو کام ہو اُسے پورا کرنا ، اب تمہارے ماں باپ وہ ہیں اور تمہارا گھر بھی وہی ہے اس لیے چُپ چاپ سب سہتی جانا یہ کسی حد تک ٹھیک بھی ہوتا ہے۔ کیونکہ جب لڑکی سسرال میں جا رک کچھ غلط کرتی ہے تو سارے کا سارے الزام والدین کی پروش آ جاتا ہے اور طرح طرح کے طعنے سننے کو ملتے ہیں جو کہ والدین کے لیے بہت تکلیف دہ با ت ہوتی ہے۔ اس لیے ہر ماں شادی سے پہلے اپنی بیٹی کو نصیحتیں ضرور کرتی ہے۔ جو کہ آج کل کی جنریشن کے لیے بہت ضروری بھی ہے

    اب موضوع کی طرف آتا ہوں کہ “ بہو کو سسرال میں کیسے خوش رکھا جائے“

    شروع میں جب رشتے بنتے ہیں تو لڑکے اور لڑکی والوں کی طرف خؤشیوں کی اانتہا نہیں‌ہوتی ، لینا دینا ، آنا جانا ، عید پر آنا جانا یہ سب شروع ہو جاتا ہے۔ لڑکے کے ماں باپ کا لڑکی کے گھر جانا وہاں اپنی بہو کو پیار دینا اور یہ کہنا کہ یہ ہماری بیٹی ہی ہے بہو اور ہم اسے ہمیشہ خؤش ہی رکھیں گے لیکن ایسا ہر فیملی میںنہیں‌ہوتا

    ایک لڑکی اپنے ماں باپ ، بہن بھائی اور اپنے گھر کو چھوڑ کر کسی انجان گھر میں جاتی ہے تو اُس کے لیے سب کچھ نیا ہوتا ہے اور کوئی بھی ایسی لڑکی نہیں ملے گی جو یہ پہلے دن یہ کہہ دے گی کہ میں نے اپنے سسرال کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے اور میں اجسٹ ہو جائوں گی ایسا بلکل نہیں ہوتا ہرلڑکی کو اپنے سسرال میں اجسٹ کرنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے اور یہ بات لڑکے والوں کو اچھی طرح سمجھنی چاہیے ، شروع میں غلطیاں بہت ہوتی ہیں لڑکی سے لیکن آہستہ آہستہ اُس کو سمجھ آنے لگ جاتی ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ سسر اور ساس جو گھر میں بڑے ہیں سمجھداری کا مظاہرہ کریں، لڑکی سے اگر کوئی غلطی ہوتی بھی تو اُسے درگزر کیا جائے نا کہ اُس ڈانٹ ڈپٹ دیا جائے ایسا کرنے سے لڑکی کا حوصلہ بھی ٹوٹ سکتا ہے ، اور اگر یہی روٹین سسرال والے پکڑ لیں تو لڑکی بدزبان اور اپنے سسرال والوں سے لاپرواہ ہو سکتی ہے۔ اس میں لڑکی کے ساتھ سسرال والوں کا بھی قصور ہوتا ہے۔


    میں ام محمد سسٹر کی بات سے ایگری بھی کرتا ہوں کہ اگر سسرال کی طرف سے کوئی پریشانی نہ ہو تو لڑکی کو خؤشی سے یہ بات کرنی چاہیے کہ ہاں میں بہت خوش ہوں اللہ کاشکر ہے نا کہ یہ منہ چڑائے اور جھوٹ کا سہارا لے۔

    شادی کے بعد گھر میں سب سے زیادہ ٹیشن مرد کو ہی رہتی ہے ، ایک طرف والدین ، اور بہن بھائی اور دوسری طرف وائف ، شوہر جاب سے واپس گھر قدم رکھتا ہے تو ساتھ ہی دونوں اطراف شکایات کی بمبھار لگنا شروع ہو جاتی ہے اور مرد کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ کس کو کیا کہے۔ والدین کے آگے اُف تک نہ کرنے کا حکم ہے چاہیں وہ کچھ بھی کہیں اور دوسری طرف بیوی جو سب کچھ چھوڑ کر اپنے سسرال آتی ہے اُس کو نہ مارنے کی اجازت اور نہ گالی گلوچ کرنے بلکہ پیار سے سمجھانا چاہیے اور اگر دونوں اطراف سے کوئی نہ سمجھے تو مرد بیچارہ پِس کر رہ جاتا ہے۔

    شادی کے بعد اگر بیٹا اپنی مسز کے ساتھ الگ گھر میں رہنا چاہے تو گھر والوں کی طرف سے طعنے سننے پڑتے ہیں کہ لڑکا رَن مُرید ہو گیا ہے ، یا یہ کہیں گے کہ اس لڑکی نے ہم سے ہمارا بیٹا چھین لیا ہے ایسے موقعے پر بڑوں کو سمجھداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے ، میرے علم کے مطابق اسلام میں اس چیز سے منع نہیں کیا گیا کہ لڑکا والدین سے الگ ہو کر اپنی بیوی کے ساتھ الگ گھر میں رہنا چاہے تو وہ گناہ کا مُرتکب ہو جاتا ہے، الگ ہونے کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہوتا کہ لڑکے کا والدین سے رشتہ ختم ہو گیا ہے۔

    محسن بھائی کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ہمیں “اسوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زندگی کے ہر ہر پہلو میں مقدم کر لیں“ تو سارا مسئلہ حل ہو جائے گا قرآنی تعلیمات اور احادیث کی روشنی میں رہ کر لڑکا لڑکی اپنی زندگی گزاریں‌گے تو اُن کی زندگی میں کبھی کوئی ٹینشن نہ آئے گی۔

    سب سے پہلے ایک بات لڑکی کے اندر ضروری ہونی چاہیے وہ ہے برادشت اگر لڑکی کے اندر برادشت کا مادہ نہیں ہے تو وہ کبھی بھی اپنے سسرال میں خوش نہیں رہ سکتی ، برادشت نہ ہونے کی وجہ سے وہ بد زبان ، بدتمیز ، مغرور ، بُری صحبت جیسے الفاظ کی زد میں آتی ہے اس لیے لڑکی کے اندر براشت کا ہونا ضروری ہے تبھی بہو اور اُس کے سسرال والے خوش رہ سکتے ہیں۔
     
  12. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    السلام علیکم
    ٹاپک کا عنوان بہت ہی پرفیکٹ ہے۔
    ہمیشہ سسرال میں‌لڑکی کو کیسے رہنا چاہئے پر بحث اور پڑھی گئی، لیکن کبھی سسرال کو بہو کے ساتھ کیسے رہنا چاہئے پر کم ہی پڑھا گیا۔
    میں ادھر ادھر جانے کے بجائے اپنے گھر میں‌مثال دے دوں تو شائد احسن سی مثال بھی ہوگی، اور بات کو سمجھنے اور سمجھانے میں‌آسانی بھی۔
    حسن اتفاق کہیں‌یا قسمت کے، ہماری والدہ محترمہ بہت ہی کم گو اور سافٹ نیچر کی خاتون ہیں اللہ انہیں‌بعد از مرگ۔۔۔۔جنت نصیب کرے۔۔ان شااللہ، ام مصعب کے بقول انکے ساتھ ہماری ممی کا برتاو ایسا ہی ہے جیسا کسی ماں‌کا بیٹی کے ساتھ، بلکہ سونے پہ سہاگہ، کبھی یہ بھی کہہ اٹھتی ہیں‌کہ مجھے اپنی بیٹیوں سے بھی زیادہ چاہتی ہیں۔۔۔کہنے اور سننے اور عملی طور پر بہت بڑا فرق ہوتا ہے، لیکن مجھے بھی اب تک یہی لگا کہ ۔۔۔۔(کم و بیش شادی کے گذرے 4 ہنستے کھیلے مسکراتے سالوں‌میں‌کہ) ام مصعب ہمارے گھر میں‌بہو نہیں‌بلکہ بیٹی بنکر رہی ہیں۔۔۔ابھی ہمارے گھر میں‌ہمارے ایک چھوٹی بہن کی شادی ہوئی، جسن میں‌یہ دیکھا گیا کہ بڑوں سے چھوٹوں‌تک، اور انکی ساسو ماں‌سے لیکر خسر تک، سبھی کی کنجی ام مصعب کے ہاتھ میں‌ہے، یعنی سبھی چاہتے ہیں‌کہ ام مصعب سے شئیر کریں، انوالو ہوں‌، وغیرہ، ام مصعب کا نمبر ہمارے گھر میں نمبر 3 ہے، جبکہ 2 اور بھی بھائی بڑے ہیں‌جنکے تعلق سسرال سے "الحمدللہ بس اچھا ہے" سو ایسے میں‌اختصار کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر سسرال میں‌لڑکی کو مائیکے جسیا ماحول بلکہ اس سے بھی بڑھکر پیار و محبت و خلوص ملے تب ، وہ لڑکی سسرال میں‌مائیکے سے زیادہ خوش بھی رہ سکتی ہے، اور گھر جنت نما بن سکتا ہے۔۔۔۔۔۔اپنے اپنے نصیب کی بات ہے کہ ایک ہی گھر میں‌پیار و محبت و خلوص ملنے کے بعد ، کونسی لڑکی اسکا فائدہ اٹھاتی ہے، اور کون اس سےپرے ہٹکر اپنے مفاد کے بارے میں سوچ کر خود ہی سسرال میں اپنے لئے گڑھا کھود تی ہے۔۔۔یہ دونوں مثالیں ہمارے سامنے ہیں، اور یہی سمجھ میں‌آیا کہ غلطیاں‌ہر دونوں‌سے ممکن ہیں، لیکن اگر اچھے ماحول کے بعد بھی ، اس سے فائدہ نہ اٹھایا جائے تب بدقسمتی ہی کہلائی جاسکتی ہے۔۔۔۔!!! جیسا کہ "کنعان " بھائی کے تجربہ کار قلم نے لکھا کہ ہر جگہ کا ماحول الگ ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,977
    : ) ہم ابھی خطرے کے نشان سے دور ہیں نا ۔ :smile:
     
  14. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,977
    بالکل درست!
     
  15. انا

    انا ناظمہ خاص

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,278
    اپنی اپنی ذمہ داری خود اٹھا کر ۔ ہماری ہاں مسئلہ ہوتے اس لیے ہیں کہ لوگوں کو یہی بات نہیں معلوم کہ ان کی ذمہ داری کیا ہے ۔ جب ایک گھر میں رہنے والوں کو اس بات کا شعور نہیں کہ ان کی کیا ذمہ داری ہے تو وہ اس ذمہ داری کو دوسروں کے کندھوں پر ڈال کر توقع کرتے ہیں کہ سب مل جل کر خوش باش زندگی بسر کریں ۔ جو کہ ممکن نہیں ۔ اور آخر میں صرف جھگڑے اور گلے شکوے ملتے ہیں ۔
    اب وہ ذمہ داریاں کیا کیا ہیں اس کے لیے ایک الگ کالم چاہئے ۔ پھر واپس آ کر لکھتی ہوں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں