بہو کو کیسے خوش رکھا جائے۔

ام محمد نے 'گپ شپ' میں ‏نومبر 8, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,167
    اسلام علیکم ورحمتہ اللہ برکاتہ
    میں جب 'سسرال کو کیسے خوش رکھا جائے ' والا تھریڈ پڑھتی تھی تو اکثر سوچتی تھی ایک تھریڈ یہ بھی ھونا چاہیے کہ' بہو کو کیسے خوش رکھا جائے'ماہا سسٹر کا تھڑیڈ پڑھ کر سوچا کہ اب یہ سوال پوچھ لینا چاہیے۔
    ------------------------------------------------ بہو کو کیسے خوش رکھا جائے؟ ---------------------------------------
    تھریڈ میری طرف سے اسلیے پہلا جواب میری طرف سے ۔
    لڑکی کو بچپن ہی سے یہ باتیں سننے کو ملتی ہیں کہ 'ایسا سسرال میں نہ کرنا' یا 'ایسا سسرال میں کیا تو پتہ چلے گا ' یہ باتیں اکثر ماں کی طرف سے ہوتی ھیں کبھی سمجھانے اور کبھی دھمکی کے سٹائل میں اسکی وجہ یہ بھی ھوتی ھے کی جب شادی کے بعد لڑکی غلطی کر تی ھے توپہلا الزام ماں پر ھی آتا ھے کہ اسنے ٹھیک تربیت نہیں کی۔
    رشتہ مانگنے والے جب رشتہ مانگنے آتے ھیں تو یہی کہتے ھیں ھم تو آپکی بیٹی کو بیٹی بنا کر لے جائیں گے لیکن کتنے لوگ بعدمیں اپنی اس بات کونبھاتے ھیں؟؟؟شادی کے بعدمعاملات کو ٹھیک رکھنے اور سلجھانے کی ۔اکثرساری ذمہ داری لڑکی پر ڈال دی جاتی ھے لیکن اگر حقیقت کی آنکھ سے دیکھا جائے توسسرال میں سب اپنے ماحول میں سیٹ ھیں۔لڑکی ماں باپ کے گھر کو چھوڑ کر نئی جگہ اور نئے ماحول میں آئی ہے اسکو دوسروں کو سمجھنے میں اور سیٹ ہونے میں کچھ وقت تو لگے گا اس لیے سسرال والوں کو بہوکو کچھ وقت دینا چاہیے وہ سب کو سمجھ سکے اور ماحول میں سیٹ ھوسکےخود بھی خوش ھو اور سسرال والوں کو بھی خوش رکھ سکےاور جب بہو سے پوچھا جائے کہ وہ خوش ھے؟تو وہ پورے اعتما د سے کہے کہ ھاں میں خوش ھوں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ابن حسیم

    ابن حسیم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 1, 2010
    پیغامات:
    893
    قرآن و سنت کی تعلیمات سے آراستہ کر کے۔
    حیات صحابیات کے نمونے دے کر کے۔
    اپنی بیٹیوں سے زیادہ پیار دے کر کے۔
    اسکی جائیز خواہشات کو اپنی خواہشات پہ مقدم کر کے۔
    اسکی بے دینی خواہشات و عادات و اطوار اگر ہوں تو ان پر سیخ پا ہو نے کی بجائے اسے اچھے اور احسن انداز سے سمجھا کر کے۔
    اسکے اور اپنے بیٹے کو جتنا ممکن ہو سکے الگ رہائیش/ پورشن/ کمرہ دے کر کے۔ شائید میری اس بات سے کچھ لوگ متفق نہ ہوں لیکن اگر ایسا ہو تو اس سے لڑائ جھگڑے تقریبا ختم ہو جاتے ہیں۔ لیکن اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ بیٹا اپنے والدین کی خدمات کو پس پشت ڈال دے۔ نہیں، بلکہ اس پر اسکے والدین کی خدمت فرض ہے۔ اسے چاہیے کہ اپنے والدین کو پہلے سے زیادہ پیار دے، وقت دے، خدمت دے، اور والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ اب ان کے بیٹے پر جب ذمہ داریاں بڑھ گئیں ہیں تو اس کی کبھی کبھار عدم توجہ کو ایشو بنانے کی بجائے اگنور کرتے رہیں۔
    اور سب سے اہم بات اگر دونوں فریقین اسوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زندگی کے ہر ہر پہلو میں مقدم کر لیں تو صرف بہو ہی کیا پورے کا پورا گھرانہ خوشیوں سے مالا مال رہے گا۔
     
  3. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,674
    السلام علیکم

    یہ یہ ایسا موضوع ھے کہ جس میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ھے اور اس پر ہر گھر کے الگ سے مسائل ہوتے ہیں اس لئے کب کیا ہو جائے کچھ نہیں کہا جا سکتا، ہر گھر کی الگ سے ایک کہانی ہوتی ھے اس لئے اگر بڑے بزورگ سروں پر قائم ہوں تو کچھ حد تک رزلٹ مثبت نکلتے ہیں ورنہ چند ممبران پر مشتمل گھرانہ میں منفی رزلٹ ہی دیکھنے میں آئے ہیں۔

    سسرال اور بہو دونوں اگر سمجھداری سے کام لیں تو دونوں ایک دوسرے کو خوش رکھ سکتے ہیں اگر کسی وجہ سے کوئی ایرر آ رہا ھے تو پھر والدین کا بیٹا اور بہو کا خاوند اس کا سمجھدار ہونا بھی ایک بہت معنی رکھتا ھے کیونکہ یہ دونوں طرف سے وکیل صفائی اور وکیل استغاسہ کا کام کرتا ھے اگر یہ چاہے تو بھی حالات پر قابو پا سکتا ھے، پھر کچھ بھی ہو ابتدائی دور کٹھن ہوتا ھے اگر بہو صبر سے کام لے تو زندگی کی گاڑی چل ہی پڑتی ھے، مگر ایسے بھی رزلٹ دیکھنے میں آئے ہیں کہ بہو ساری زندگی صبر ہی کرتی رہ جاتی ھے مگر سسرال والے ان کے سر سے جوں بھی نہیں ریڑکتی۔ بہت مشکل سا موضوع ھے یہ اگر آگے بڑھا تو مزید رائے دیں گے ورنہ یہیں تک کافی ھے۔

    والسلام
     
  4. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,706
    اللہ لڑکی کو اور سسرال والوں دونوں کو ھدائیت دے اور دین کی سمجھ دے اللہ کاخوف ھو ڈر ھو تو سب معاملات درست رھتے ھیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,712
    ان شاءاللہ اس ٹوپک پر کچھ لکھنے کا سوچ رکھا ہے فرصت میں‌ لکھوں گا ان شاءاللہ
     
  6. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,167
    بھائی ضرور لکھیئے گا آپ کی شیئرنگ کا انتظار رھے گا
     
  7. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,167
    جزاک اللہ خیرا
    اللہ تعالی ھمیں اپنی بہو کے ساتھ ایسا ھی معاملہ کرنے کی توفیق دے آمین یا رب العالمین
    دو اہم پوائنٹس
    1-الگ گھر یا پورشن یا کمرہ اگر بیٹے کا ساتھ رہنے کی ضرورت شدید نہیں تو اس صورت میں بھی جھگڑوں سے بچا جا سکتا ھے ۔بہر حال کم از کم علیحدہ کمرہ بہو کا حق ھے۔
    2-شادی کے بعد لڑکے کے رویے پر فورًا اعتراض نہیں واقعی یہ سوچنا چاہیئے کہ اسکی ذمہ داری بڑہ گئی ۔
     
    • متفق متفق x 1
  8. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,167
    جزاک اللہ خیرا
    بھائی میرے خیال میں یہ بھی نیکی ہے کہ ایسے موضوع پر بول کر مسائل پر بات کی جائے اور کسی کو حل مل جائے اور ہمیں ثواب ۔انشاء اللہ۔
    1-بالکل صحیع ہر ایک کے مسائل کے لحاظ سے کہا نی علیحدہ اللہ تعالی سب کے مسائل حل فرمائے۔آمین۔
    2-واقعی دونوں فریقین کی سمجھداری ھی سے معاملات سدھرتے ھیں اور جو سمجھداری سے کام نہیں لیتے وہ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے مشکلات پیدا کرتےھیں ۔
     
    • متفق متفق x 1
  9. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,167
    آمین یا رب العالمین
    کچھ اور بھی تو لکھیے ۔چلیں بتائیےکیا کبھی آپنے سوچا کہ آپ اپنی آنے والی بہوؤں کو کیسے خوش رکھیں گی؟
     
  10. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,167
    بھئی باقی خواتین سے گذارش اپنے مفید مشوروں سے نوازیں۔۔۔۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں