تربیت کریں اپنے راج دلاروں کی (محمد کاشف)

السعدی نے 'مجلس اطفال' میں ‏جون 21, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. السعدی

    السعدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    478
    آج کے عدیم الفرصت دور میں اگر خوش قسمتی سے فرصت کے کچھ لمحات میسر آجائیں اور اہلِ خانہ مل جل کر کچھ وقت گزار سکیں تو بلا شبہ اللہ کی کسی نعمت سے کم نہیں۔ اسی بات کی اہمیت کے پیش نظر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”مصروفیت سے پہلے فرصت کو غنیمت جانو(ترمذی)۔لہذا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مطابق فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے فرصت کے ان لمحا ت کو بہترین انداز میں صرف کرنا چاہیے۔ بالخصوص انفرادی اصلاح گھر کے ماحول کی بہتری اور بچوں کی تربیت اور کردار سازی کے لیے باقاعدہ منصوبہ بناکر ایک مربوط پروگرا م ترتیب دینا چاہیے۔ہمارا حال یہ ہے کہ ہم فرصت کے لمحات کی صحیح معنوں میں قدر نہیں کرتے ۔ہر سا ل موسم گرما و سرما کی طویل چھٹیاںآتی ہیں ۔ان کی آمد جہاں طالب علموں ،اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے افرادکے لیے باعث مسرت ہوتی ہے ،وہاں گھر کے والدین کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ اس قیمتی وقت کو استعمال کرنے سے قاصررہتے ہیں ۔اس کے علاوہ والدین ذہنی دباو کا شکاربھی ہتے ہیں ۔اس ضمن میں چند عملی نکات پیش ہیں ۔

    ٭پہلا مرحلے میں شب وروز کے لئے نظام الاوقات کا تعین کیجیے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے پیش نظرکہ صبح کے وقت میں برکت ہے ،اپنے دن کا آغاز نماز ِفجر سے کیجئے نماز فجر کے بعد ہی سے دن بھر کی سرگرمیوں کا آغاز کیجیے ۔یہ بہترین اور بابرکت وقت سونے کی نذر نہ کریں ۔عام طور پر تعطیلات کا آغاز ہوتے ہی بچوں کا رات کے وقت جاگنا اور صبح دیر سے اٹھنا معمول بن جاتا ہے جو کہ نامناسب اور خلاف فطرت ہے ۔فجر کی نماز کے لئے اٹھنے پر انعام بھی دیا جاسکتا ہے ایک بھائی یا بہن کی فجر کے وقت اٹھانے کی ذمہ داری لگائیے اور پھر اسے تبدیل کرتے رہیے تاکہ سب کو ذمہ داری کا احساس ہو اور ایک دوسرے کے درمیان نیکی میں تعاون کا جذبہ پیدا ہو۔نماز فجر ادا کر کے سوجانے کی غیر فطری و غیر مناسب روایت کوختم کریں اس روایت نے انسانی روح کاحسن برباد کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رات آرام وسکون کے لیے اور دن کام کے لیے بنایا ہے ۔اس کے لیے والدین خود عملی نمونہ پیش کریں ۔

    ٭ بچوں کی عمر ،تعلیمی مصروفیات کو مد نظر رکھ کر بچوں سے مشاورت کر کے سونے کے اوقات کا تعین کرلیا جائے اور اس پر کاربند بھی رہا جائے۔رشتہ دار بہن بھائیوں کے سامنے اس بات کااظہا ر نہ کریں کہ "لمبی چھٹیا ں ہو گئی ہیں اب تو ہر وقت بچے سر پہ سوار رہیں گے ''۔اگر اپنے بچوں کا استقبال ان جملوں سے کریں گے تو آپ کے اور بچوں کے درمیان فاصلے بڑھ جائیں گے اور وہ وقت جو آپ کے حسن استقبال سے بچوں کے دلوں میں خوش گوار احساس لا سکتا تھا اس عمل سے ضائع ہوجائے گا۔

    ٭بچوں کے ساتھ مل کر ہفتہ وار پروگرام ترتیب دیجئے ۔ان کے ذہن اور دل چسپیوں کے مطابق ذمہ داریاں بانٹیں۔
    ٭اپنی اہم مصروفیات کے بارے میںایک دوسرے کو آگاہ کریں ۔اپنے کام کے سلسلے میں ایک دوسرے سے مشورہ طلب کریں اورتعاون کی پیش کش کریں ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے پیش نظر کہ جس کا آج اس کے کل سے بہتر نہیں وہ تباہ ہوگیا ،گزشتہ کل کا بھی جائزہ لیںاور اپنے آج کو گزشتہ کل سے بہتربنانے کے لئے پلاننگ کریں ۔اگر چند منٹ بھی مل کر بیٹھیں گے تو اس کی برکت کے احساس جلد محسوس ہونے لگیں گے۔

    ٭چھٹیوں میں سب اہل خانہ ایک ساتھ ناشتہ،دونوں وقت کا کھانا کھائیں تو باہمی محبت میں اضافہ ہوگا ۔بچوںاور بچیوں کو جس قدر ہوسکے اپنے قریب رکھیے ۔ گھر میں اگر کمپیوٹرموجود ہو تو ایسی جگہ پہ رکھیے جہاں آپ اس پرنظر رکھ سکیں ۔اگر آپ کو کمپیوٹر سے کوئی لگاو نہیں تو اس کی تھوڑی بہت مشق آپ کو کرنی چاہیے ۔جب چھوٹے بچوں میں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم اپنے والدین سے زیادہ جانتے ہیں تو ایک احساس برتری پیدا ہوتا ہے ۔دوسرا اکثر بچے اپنی ماوں کو اندھیرے میں رکھتے ہیں کہ ہم کام کررہے ہیں حا لانکہ وہ جو کچھ کر رہے ہوتے ہیں مائیں ان سے غا فل ہوتی ہیں ۔

    ٭فرصت کے لمحات کو محض ٹیلی ویژن کی نذر نہ ہو نے دیں ۔بچوں کی صلاحیتوں کا نکھارنے کے لیے ان کو متبادل مصروفیات و مشاغل دیں ۔بچوں کو ان کی عمر اور ذوق کے لحاظ سے کوئی نیا کام سکھانے کی کوشش کیجیے کاغذ کے کھلونے بنانا،کاغذپہ تصویر بنانا ،رنگ بھرنا ،سلائی کرنا ،کسی ڈیکوریشن پیس کو صاف کرنا۔ مل جل کر گھر کے بگڑے کام سنوارنا بھی ایک فن ہے ۔آپ کو یہ کامیابی اسی صورت میں ملے گی ،جب آپ اپنی پوری توجہ ،وقت اور معاونت بچے کو مہیا کریں گے۔

    ٭اسکول کے ہوم ورک کی مرحلہ وار تقسیم کرکے اپنی نگرانی میں روزانہ تھوڑا تھوڑا کر کے کام کروائیے ۔ٹیوشن پڑھوانا مجبوری ہوتو بچے کے معاملات پر نظر رکھیں۔گھر میں لان یا کیا ری کی جگہ ہو تو بچے کوکوئی پودا اُگانے اس کی نگہداشت کرنا سکھائیے۔ بچوں کی ضروریا ت پوری کرنا کافی نہیں بلکہ انھیں وقت اور توجہ کی ضرورت بھی ہوتی ہے ۔اپنی مصروفیات میں اس کے لئے بھی وقت رکھیں ۔یہ بچوں کا حق ہے جوانھیں ملنا چاہیے والدین کی شفقت سے محرومی کے نتیجے میں بچے احساس محرومی کا شکا ہوتے ہیں۔یہی جذبہ منفی رُخ اختیا ر کرلے تو بچے غلط صحبت اختیار کرلیتے ہیں ۔

    ٭بچوں کے دوستوں کو گھر بلوائیے، ان کی عزت کیجیے ،ان کو توجہ دیجیے تا کہ وہ آپ پہ اعتماد کریں ۔بچوں کے دوستوں کے گھر والوں سے تعلقات بہتر رکھیے ۔اگر آپ ان کے گھر کے ماحول سے مطمئن نہیں تو بچے کو برملا نہ کہیں حکمت و تدبر سے کام لیجیے تا کہ آپ کے اور بچے کے درمیان اعتماد کے رشتے کو ٹھیس نہ پہنچے۔

    ٭ بچوں میں ذوق مطالعہ کو پروان چڑھانا ،اس کی تسکین کا سامان کرنا ایک اہم فریضہ ہے ۔اچھی اچھی کتب ورسائل پڑھنے کو فراہم کریں ۔بچوں کو کہانی سننا اچھا لگتا ہے ،دل چسپ انداز میں کہانی سنایئے ،بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کہانی پڑھیے، اس پر بات چیت ہوتویہذوق مطالعہ بڑھانے میں مددگار ہوسکتا ہے ۔

    ٭روزانہ نہ سہی ہفتہ میں چند احادیث بچوں کے ذہن نشین ضرور کرائی جائیں۔کلام اقبال کے مختلف حصے بھی یاد کرائیے ۔یہ چیز بھی ان کی تربیت پہ بڑی خوبی سے اثر انداز ہوگی۔

    ٭۔آج کے بچے کل کے قائد ہیں ۔مستقبل کی قیادت کی تیاری کے پیش نظر گھر کی ذمہ داریوں کو بچوں میں تقسیم کرکے ان کی صلاحیتوں کا امتحان لیا جا سکتا ہے ،مثلاً نو عمر بچوں کے ساتھ کبھی یہ تجربہ کر کے دیکھا جائے کہ ایک دن والدین گھر میں اپنی ذمہ داریاں ،اپنی جگہ اپنے بچو ں کو سونپ کر خودبچے بن جائیں ۔اس کے ذریعے بچوں میں چھپے ہوئے جوہر کو سامنے لایا جا سکتا ہے ،اور یہ ایک دلچسپ تجربہ بھی ہوگا۔

    ٭نو عمر بچوں کو 'جج 'بنا کر گھر میں چھوٹے موٹے خاکے ،کھیل کے طور پر پیش کیے جائیں تا کہ ان کو انصاف کرنے ،فیصلہ کرنے کی تربیت دی جاسکے ۔بچوں کی لڑائی میں صلح کرانا،ان کی شرارتوں ،نادانیوں کی اصلاح کرانے کے لیے ان سے تعاون لیا جا سکتا ہے ۔

    ٭ جمعہ یا اتوارکا ایک دن روزِ خاص کے طور پر منایاجائے ۔جمعہ کی نما ز کے لیے سب اہل خانہ تیار ہوکر مسجد جائیں تو گھر میں صبح سے جمعہ کی تےاری ،نماز میں شرکت سے 'عید 'کا سماں بندھ جائے گا۔

    ٭کبھی کبھا ر بچوں کے ساتھ ان کی ذہنی سطح پہ آکر کھیل میں شریک ہونا ،ان کی باتوں میں دل چسپی لینا ،اپنے بچوں کے ساتھ کھیل میں مقابلہ کرنا ،کبھی جیت کر ،کبھی بچوں سے ہار کر،دونوں کیفیات میں صحیح طرز عمل کی تلقین سے کھیل ہی کھیل میں بچوں کی جذباتی تربیت کے ساتھ ساتھ کئی رویو ں کی رہنمائی ہوگی۔

    ٭نوعمر بچوں پہ اپنے خیالات کو حاوی کرنا ۔اپنی پسند اور رائے کو زبردستی ٹھونسنا مناسب نہیں ۔دلیل سے بات کو منوائیے ۔یہ عمر اپنی صلاحیتو ں کا اظہار چاہتی ہے۔ان سے مشورہ لینا اور تحمل سے ان کا نقطہ نظر سننا ان کے اعتماد کو بڑھاتا ہے ۔

    ٭طویل چھٹیوں میں والدین بچو ں کو مختلف ہنر سکھاسکتے ہیں ،مثلاً خوش خطی ،مضمون نویسی ،تجوید ،آرٹ کے کچھ مزید کام اوربچیوں کو سلائی کڑھائی ،کپڑوں کی مر مت ،مہندی کے ڈیزائن وغیرہ سکھائے جاسکتے ہیں ۔

    ٭بچوں کو ہسپتالوں میں مریضوں کی عیادت کے لیے لے کر جانا ،اللہ تعالیٰ کے شکر کا جذبہ پیدا کرنا ، دوسروں سے ہمدردی ،محبت کا اظہار سکھانا،اس لیے کہ آج کے دور میں ہر کوئی اپنی دنیا میں مگن ہے ۔٭حلقہ احباب ،رشتہ دارو ں وغیرہ کے ساتھ مل کر پکنک پہ جانا ،جہاں حقوق العباد کی اہمیت اُ جا گر کرنے کا ذریعہ ہے وہاں اسلامی تہذیب کے آدا ب سکھانے میں بھی مفید ہے ۔

    ٭اگر والدین اپنے بچوںکے ساتھ چھٹیوں میں کسی تفریحی مقام پہ جارہے ہیں یا کسی رشتہ دار کے ہاں مقیم ہیں تو بھی تربیت کرنے کا بہترین موقع ہے ۔جتنا سفر میں انسان سیکھتا اور سکھاتا ہے ،وہ گھروں میں ممکن نہیں ہوتا ،ہر وقت کا ساتھ ،کچھ نئے عوامل ،سفر کے تجربات ،بہت کچھ نیا سیکھنے کو ہوتا ہے ۔

    ٭بچوں میں اتنی ایمانی جرات پیدا کیجیے کہ وہ مسلمان ہونے اور پاکستانی ہونے پہ فخر کرسکیں ۔اندرونی و بیرونی دشمنوں سے آگاہی دیجیے ۔

    ٭والدین اپنے خاندان کے مزاج ،ماحول ،حالات کو سامنے رکھ کر چھٹیوں کو اپنے لیے یاد گار بنا سکتے ہیں۔حسن نیت اور خلوص سے بھر پورکو شش کرنے والوں کو ہی اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوتی ہے ۔

    ٭ آخرت میں وہ مسلمان والدین ہی اس 'اجر عظیم 'کے مستحق ہو ں گے جنھوں نے اولاد جیسی نعمت کو ضائع نہیں کیا ہوگا بلکہ اپنی پوری ہوش مندی اور شعور سے اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہوں گی ۔

    ٭آج ہی عزم کیجیے ،پروگرام مرتب کیجیے ۔۔چھٹیوں کے ہر دن کو ایسا بنانا ہے کہ وہ 'گزرے کل سے بہترہو '۔اک نئے جذبے سے بچوں کے ساتھ دوستی ،محبت کا رشتہ استوار کیجیے ۔ضروری نہیں کہ وہ سب منصوبے جو آپ بنائیں وہ پورے ہوں ۔حالات و واقعات ا ن میں ردو بدل کروائیں گے لیکن آپ نے اس رد ّ و بدل میں بھی اپنا اصلی ٹارگٹ نہیں بھولنا ۔بچے آپ کے قیمتی خزانہ ہیں ،ان سے غافل نہیں ہوں۔

    ٭ایک بات کا خاص طور پر خیال رہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کو وہ عمل زیادہ محبوب ہے جو ثابت قدمی سے مسلسل کیا جائے ۔لہذا فرصت کے لمحات اور چھٹیوں کے لیے جو نظا م الاوقات اور تربیتی امور طے کرلیں،انھیں باقاعدگی سے انجام دیں ،اور چھٹیوں کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رکھیں ،تب ہی مو ثر اور نتیجہ خیز تربیت ثابت ہوگی ۔اپنی تمام تر کوششوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مدد اور دعاوں کا خصوصی اہتمام بھی ضرور کیجیے۔

    *حوالہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,616
    جزاکم اللہ خیرا۔
     
  3. بنت واحد

    بنت واحد محسن

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2008
    پیغامات:
    11,972
    جزاک اللہ
     
  4. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,717
    جزاکم اللہ خیرا۔
     
  5. irum

    irum Web Master

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,609
    جزاک اللہ خیرا
     
  6. فرینڈ

    فرینڈ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 30, 2008
    پیغامات:
    10,721
    زبردست۔۔۔

    جزاک اللہ خیرا۔۔
     
  7. بنت امجد

    بنت امجد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 6, 2013
    پیغامات:
    1,631
    جزاک اللہ خیرا
     
  8. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,800
    بارک اللہ فیک بھائی بہت ہی مثبت باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
     
  9. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,706
    جزاک اللہ خیرا
     
  10. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,155
    جزاک اللہ خیرا
     
  11. ام مطیع الرحمن

    ام مطیع الرحمن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2013
    پیغامات:
    1,544
    بہت زبردست
    جزاکم اللہ خیر
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں