تقدیر سے متعلق حدیث میں شبہ اور اس کا ازالہ

اعجاز علی شاہ نے 'حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون' میں ‏ستمبر 20, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,214
    کچھ دنوں پہلے ایک ساتھی نے واٹس اپ گروپ میں اس حدیث کو پوسٹ کرکے اس کے متعلق ایک شبہ کا اظہار کیا کہ جب ایک انسان ساری عمر بھلائیاں کرتا ہے اور آخر میں تقدیر کی وجہ سے بری موت مرتا ہے تو کیا یہ اس کے ساتھ ظلم نہیں۔ اس حوالے سے تحقیق کے بعد یہاں پر اس کا ازالہ حاضر خدمت ہے:

    تقدیر سے متعلق حدیث میں شبہ اور اس کا ازالہ
    عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ،قال عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِوَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمُصَدَّقُ إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ فِيبَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يبعث الله ملكاًبِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ فيكتب عَمَلِهِ وأجله ورزقه وَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ ، ثم ينفخ فيه الروح فإن الرجل لَيَعْمَلُ بعمل أهل النار حتى ما يكون بينه وبينها إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ ْالكِتَاب فيعمل بعمل أَهْلِ الجنة فيدخل الجنة ، وإن الرجل ليعمل بعمل أهل الجنة حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وبينها إِلَّا ذِرَاعٌ فَيسبق عليه الكتاب فيعمل بعمل أهل النار فيدخل النار .(صحيح بخاري، أحاديث الأنبياءو باب: 1، حديث 3332)

    ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    "تم میں سے ہر ایک اپنی ماں کے شکم میں پہلے چالیس روز تک (نطفہ کی صورت میں) رکھا جاتا ہے، پھر وہ چالیس روز تک جمے ہوئے خون کی صورت میں رہتا ہے، پھر وہ چالیس روز تک گوشت کا لوتھڑا بن کر رہتا ہے، پھر اللہ تعالی اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتا ہے کہ وہ چار باتیں لکھ دے۔ چنانچہ وہ اس کے اعمال ، اس کی موت کا وقت ، اس کا رزق اور یہ کہ وہ بدبخت ہوگا یا نیک بخت لکھ دیتا ہے ، پھر اس کے جسم میں روح پھونکی جاتی ہے، چنانچہ کوئی آدمی دوزخیوں جیسے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے لیکن اس پر تقدیر کا لکھا غالب آجاتا ہے تو وہ جنتیوں جیسے عمل کرکے جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ایک آدمی جنتیوں جیسے کام کرتا رہتا ہے حتی کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے لیکن اس پر تقدیر کا لکھا غالب آجاتا ہے اور وہ جہنمیوں جیسے عمل کرنے لگ جاتا ہے اور جہنم میں داخل ہوجاتا ہے۔"
    اس حدیث سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ جب ایک انسان ساری عمر نیک اعمال کرتا ہے لیکن آخر میں تقدیر کی وجہ سے وہ جہنم میں چلا جاتا ہے تو پھر انسان کو نیک اعمال کرنے کی کیا ضرورت وہ تقدیر ہی پر ہر چیز چھوڑ دے ؟

    اس غلط فہمی کا جواب شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے ان الفاظ میں دیا ہے:
    حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ: (یہاں تک کہ بندے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے) یہاں یہ مراد نہیں کہ بندے کے عمل نے اسے اس مقام تک پہنچایا کہ جنت اور اس کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا؛ کیونکہ اگر وہ حقیقت میں شروع دن سے اہل جنت کا عمل کرتا تو اللہ تعالی اسے کبهی ذلیل نہ فرماتا؛ اس لیے کہ اللہ تعالی انسانوں سے کہیں زیادہ کرم نواز ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک بندہ سیدھے راستے پر ہے اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تو اللہ اسے گمراہ کر دے؟ یہ ناممکن ہے! لہذا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں کی نظروں میں اہل جنت والے کام کرتا ہے یہاں تک کہ اس کی موت کا وقت بالکل کم رہ جاتا ہے اور اس کا دل گمراہ ہو جاتا ہے -اللہ تعالی کی پناہ، اللہ ہمیں محفوظ رکهے۔ یہ اصل مطلب ہے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کا کہ جب اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ موت کے اعتبار سے باقی رہ جاتا ہے.کیونکہ اصل میں اس نے اہل جنت کا عمل کیا ہی نہیں ہے -اللہ ایسے اعمال سے محفوظ رکھے دعا ہے کہ اللہ ہمارے دلوں کو بھٹکنے سے بچائے- وہ شخص عمل کرتا رہا لیکن اس کے دل میں کوئی خباثت تھی جو اس کو اس مقام پر لایا کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہا لیکن موت (برائی پر) ہوئی۔ "اللقاء الشهري" (13/14)

    اللہ تعالی ہم سب کو ریاکاری اور برائی پر موت سے بچائے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,738
    جزاکم اللہ خیرا۔ بہت مفید پوسٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو صراط مستقیم پر رکھے بہت ہی نازک معاملات ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,106
    جزاک اللہ خیرا۔
    گناہوں کی نسبت ایسا عقیدے کی خرابی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جن کی بنیاد غلط ہو وہ بھٹک جاتے ہیں۔ انسان کو سب سے پہلے عقیدے میں شکوک دور کرنے چاہییں۔ پھر ہی خالص عمل ممکن ہے۔
    ریاکاری اور نفاق کا سبب بھی ایمان کی کمی یا عقیدے کی خرابی ہے۔
     
    • متفق متفق x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں