جرمن اسلام مخالف تحریک پیگیڈا کا رہنما لوتز باخ مین نفرت انگیز بیانات پر گرفتار

عائشہ نے 'اسلام اور معاصر دنیا' میں ‏اپریل 20, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,965
    جرمنی کی اسلام مخالف تحریک پیگیڈا (Patriotische Europäer gegen die Islamisierung des Abendlandes|Patriotic Europeans Against the Islamisation of the West ) کے بانی لوتز باخ مین کو مہاجرین کے خلاف نفرت انگیز بیانات دینے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔
    یاد رہے کہ پیگیڈا تحریک نے جرمن مسلمانوں کی انتہائی پرامن تحریک "لیز" (یعنی اقرا) کے خلاف تحریک چلائی تھی، جس میں مسلمان خاموشی سے قرآن کے ڈھائی کروڑ مترجم نسخے تقسیم کر چکے تھے۔ ڈچ اور جرمن زبان میں قرآنی ترجمے تقسیم کرنے پر اس تحریک کے کچھ لوگوں پر ریاست کے خلاف سازش کا الزام لگایا گیا۔ اس تحریک کے نمایاں رہنماؤں میں جرمن نومسلم باکسر پیرے ووگل حمزہ کوبلنز بھی شامل تھے۔ پیگیڈا ، لیز کی مخالفت میں پیش پیش تھی۔ اس کے کارکنوں نے ان مساجد اور سٹالز کے سامنے جہاں قرآن تقسیم ہوتا تھا نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکوں کی نمائش شروع کر دی جس کا مقصد مسلمانوں کو اشتعال دلانا تھا، اس سے مسلم علاقوں میں ہر جمعے کے روز تناؤ کی کیفیت پیدا ہو جاتی تھی۔ بعد میں مبالغہ آمیز پراپیگنڈا کے سبب مسلم لیز تحریک پر پابندی لگا دی گئی تھی، اور اس تحریک کے بعض تارک وطن سلفی رہنماؤں کو ملک بدر کر دیا گیا تھا، جن کے بارے میں یہ شکایت کی جا رہی تھی کہ یہ غیرملکی لوگ جرمنی میں اپنے افکار پھیلا رہے ہیں، تاہم جرمنی کے اصل باشندے جو برضا و رغبت اسلام قبول کر چکے ہیں ، وہ اب بھی کامیابی سے اسلامی دعوتی تحریک کو جاری رکھے ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہر سال جرمنی میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جب کہ قانونی محاذ پر بھی جرمن مسلم اپنے حقوق کی جنگ میں اہم کامیابیاں حاصل کر چکے ہیں ۔۔ ۔ اس سلسلے میں یہ موضوعات دیکھے جا سکتے ہیں۔
    http://www.urdumajlis.net/threads/ج...-پابندی-غیر-آئینی-قرار-دے-کر-ختم-کر-دی.34497/
    بہرحال تارکین وطن اور جرمن مسلم اقلیت کے لیے یہ خوشی کا دن ہے کہ جرمن حکومت کو پیگیڈا اور اس سے تعلق رکھنے والے انتہا پسندوں کی اشتعال انگیز حرکتوں کی خبر لینا پڑی ہے کیوں کہ تنظیم کے کچھ افراد کی اس شبہے میں گرفتاریاں ہوئی ہیں کہ انہوں نے جرمنی میں پناہ گزینوں کی رہائش گاہ پر بارودی مواد سے حملہ کیا تھا۔ اس سے پہلے لوتز بخمین کوکین جیسی منشیات رکھنے کے جرم میں بھی دو سال جیل میں قید رہا ہے۔
    خبر کا حوالہ : http://www.aljazeera.com/news/2016/04/germany-anti-islam-leader-trial-racism-160419042714010.html
    http://news.sky.com/story/1681528/pegida-founder-accused-of-insulting-migrants
     
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. انا

    انا ناظمہ خاص انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,351
    یورپین ممالک میں مسلمانوں کے لیے بڑی شدید نفرت پائی جاتی ہے ۔ اسی وجہ سے کچھ نہ کچھ وقفہ وقفہ سے شروع ہوتا رہتا ہے۔ شر پسند لوگ نہ خود سکون سے رہتے ہیں نہ دوسروں کو رہنے دیتے ہیں ۔ لیکن اس سے اچھی بات کیا ہو سکتی ہے کہ انہیں کا بنایاہوا قانون ہی انہیں روک رہا ہے ۔ ویسے حیرت کی بات ہےان لوگوں کو آزادی کے نام پر اتنا کچھ کرنے کی اجازت ملی ہوئی ہے پھر بھی ان سے برداشت نہیں ہوتا ۔
     
    • متفق متفق x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں