جنرل راحیل شریف 39 ملکی اسلامی عسکری اتحاد کے سربراہ مقرر

عائشہ نے 'اسلام اور معاصر دنیا' میں ‏جنوری 6, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,965
    پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے تصدیق کی ہے کہ جنرل (ر) راحیل شریف 39 ملکی اسلامی عسکری اتحاد کے سربراہ مقرر کیے گئے ہیں۔
    یہ فیصلہ جی ایچ کیو اور پرائم منسٹر ہاؤس کے اتفاق سے کیا گیا۔ اس اسلامی عسکری اتحاد کی سربراہی سعودی عرب کر رہا ہے اور اس کا ہیڈکوارٹر ریاض میں ہو گا۔
    http://www.dawn.com/news/1306798/
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,224
    جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو اسلامی اتحاد کی فوج کا سربراہ بنا دیا گیا ہے جس پر ہمارے ہاں بہت سے احباب چیں بہ جبیں ہیں اور اکثریت ان احباب کی وہی ہے جو کل تک جنرل موصوف کی شان میں رطب السان تھی۔ ان کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اسلامی فوج کی سربراہی سے ملت اسلامیہ کی یکجہتی متاثر ہو گی۔

    ملت اسلامیہ اور پھر اس کی یکجہتی۔ پہلے تو ضرورت ایک غیر معمولی ذہین سراغ رساں کی ہے جو یہ دریافت کرے کہ مذکورہ دونوں چیزیں کہاں موجود ہیں۔ موجود ہیں بھی یا نہیں، خاص طور سے موخرالذکر شے یعنی یکجہتی کو دریافت کرنا بہت ضروری ہے۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ایسی کوئی شے موجود ہے تو اس کے بعد ہی اس اندیشے پر بات ہو سکے گی کہ اسے جنرل صاحب کا سربراہ اسلامی فوج بننے سے کیا ضرر پہنچے گا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اصل بات یہ ہے کہ یہ عہدہ اعزازی ہے یعنی ایک اعزاز اور تکریم کی گئی ہے۔ ورنہ اسلامی فوج کہیں موجود نہیں۔ ہاں، سعودی عرب کے زیر قیادت اسلامی ممالک کا ایک اتحاد ضرور بنا ہے جو اسلامی کانفرنس سے ہٹ کر ہے اور یہ اتحاد فرقہ وارانہ نہیں، سیاسی نوعیت کا ہے۔ فرقہ وارانہ اس لئے نہیں کہ دنیا کے تین شیعہ ممالک میں سے ایک ایسا ضرور ہے جو اس اتحاد میں شامل ہے یعنی آذربائیجان جو ایران کا پڑوسی ہے۔ دوسرے دو شیعہ ممالک میں عراق اور ایران شامل ہیں۔ ایران تو اس اتحاد میں ہے نہ آئے گا البتہ عراق نیمے دروں نیمے بروں ہے۔ دراصل وہ کسی بھی اتحاد میں شامل نہیں ہو سکتا کہ 60 فیصد آبادی شیعہ اور 40 فیصد سنی ہے۔ وہ کسی بھی اتحاد میں شامل ہو گا تو اس کی فرقہ وارانہ تقسیم ہو جائے گی اور دو حصوں میں تو وہ پہلے ہی بٹ چکا ہے یعنی ایک کردستان اور دوسرا باقی ماندہ عراق اور یہ باقی ماندہ عراق سنی اور شیعہ ملکوں میں بٹ گیا تو دونوں فریق گھاٹے میں رہیں گے۔ سنی عراق پر سعودی عرب کا غلبہ ہو جائے گا اور شیعہ عراق پر ایران کا۔ اس لئے موجودہ عراقی حکمران خاصے بچ بچا کر چل رہے ہیں۔

    رہا سعودی اتحاد تو اس کے سارے رکن دل سے شامل نہیں مشلاً مصر جو سال بھر پہلے تک سعودی عرب کا ''جانثار اتحادی'' بنا ہوا تھا۔ اب اس سے برگشتہ ہے۔ سعودی عرب نے اس کا تیل بند کر دیا ہے اور اس نے جواب میں ایک طرف تو یمن میں تعاون ترک کر دیا ہے تو دوسری طرف وہ جزیرے سعودی عرب کو واپس کرنے سے انکار کر رہا ہے جو چند عشرے پہلے تک سعودی عرب کے پاس تھے، اس نے جنگی ضرورت کے تحت مصر کو عارضی طور پر حوالے کئے۔ سال بھر پہلے دونوں ملکوں میں معاہدہ ہوا جس کے تحت مصر نے یہ جزیرے واپس دینے کا اعلان کیا لیکن اب وہ مکر گیا ہے۔ خلیج عقبہ کے دھانے پر یہ جزیرے بہت اہم ہیں اور ان پر سے مصر اور سعودی عرب کے درمیان ایک عظیم شاہراہ اور ریلوے لائن بننا تھی جواب نہیں بنے گی۔

    امریکہ ناراض ہوا تو سعودی عرب کے ساتھ وہی ہوا جو کبڑے کو لات پڑنے سے ہوا تھا۔ اپنی تاریخ میں پہلی بار سعودی عرب سیاسی اور فوجی خود کفالت کی طرف چل پڑا ہے۔ یمن کی جنگ اس نے کسی غیر ملکی مدد کے بغیر ہی لڑی ہے۔ عرب امارات اور قطر اس جنگ میں سعودی عرب کے ساتھ ہیں لیکن ان کی امداد بہت مختصر سی ہے کہ یہ ننھے منے ملک بس علامتی فوج رکھتے ہیں۔ چنانچہ اصل میں یہ جنگ سعودی عرب نے اکیلے ہی لڑی اور یمن کے دو تہائی سے زیادہ رقبے پر اس کی اتحادی حکومت ہے۔ ایک تہائی سے کم رقبہ اب بھی ایران نواز حوثیوں کے پاس ہے لیکن وہ آہستہ آہستہ اور مسلسل سکڑتا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کی سفارتی کامیابی محض یہ نہیں کہ اس نے آذربائیجان کو ساتھ ملا لیا بلکہ یہ بھی کہ سلطنت اومان جو کل تک ایران سے قضیئے میں غیر جانبدار تھی، اب سعودی عرب کی اتحادی ہو گئی ہے۔ اومان اسلامی ممالک میں واحد ملک ہے جہاں کے مسلمان معروف معنوں میں سنی نہیں بلکہ وہ ہیں جنہیں تاریخ میں ''خوارج'' کا نام دیا گیا ہے۔ خوارج اپنے عقائد میں سخت گیری کی بنا پر ''خارج'' سمجھے جاتے ہیں لیکن اومانی عوام دراصل موروثی خارجی ہیں، عملاً اب ان میں اور دوسرے سنی عوام میں کچھ ایسا فرق نہیں رہا جسے فرق کہا جا سکے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایک محترم کالم نویس نے راحیل شریف کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے دو باتیں خلاف واقعہ لکھ ڈالیں۔ ایک یہ کہ سعودی عرب اتحاد میں شام شامل نہیں۔ یہ سچ ہے کہ شام شامل نہیں لیکن شام بطور مملکت ہے کہاں؟ اس کی 75 فیصد آبادی سنی ہے اور اس سے رائے لی جائے تو سعودی اتحاد میں شمولیت کی حمایت کرے گی لیکن اصل بات تو اب یہ ہے کہ شام بطور ریاست وجود کھو چکا ہے۔ حلب سے لے کر دمشق تک بشارالاسد کی الوائٹ حکومت ہے جو روسی بمباری اور ایرانی افواج کی وجہ سے قائم ہے۔ نیا نقشہ بننے میں اب زیادہ دیر نہیں، تقسیم کے منصوبے پر مذاکراتی عمل شروع ہو گیا ہے جس پر ایران، روس سے ناراض ہے۔ روس کے طرز عمل سے لگتا ہے کہ اسے اصل دلچسپی صوبہ لطاکیہ میں اسی نام کی بندرگاہ اور پھر طرطوس کی چھاؤنی سے ہے جو تقسیم کے معاہدے کے بعد محفوظ ہو جائیں گی۔ بشارالاسد کے پاس حلب کی فتح کے بعد ملک کا بیس سے پچیس فیصد رقبہ آ گیا ہے۔ باقی 75 فیصد پر کردوں، حریت پسندوں اور داعش کا بدستور قبضہ ہے۔ ایسے ملک کے بارے میں یہ سوال نہیں اٹھایا جا سکتا کہ وہ کس اتحاد میں ہے اور کس میں نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہا گیا کہ ترکی اور سعودی عرب کے درمیان سرد مہری ہے۔ یہ احوال واقعی کے برعکس ہے۔ نہ صرف تعلقات اچھے ہیں بلکہ بہت سے معاملات میں قریبی رفاقت بھی ہے۔

    سعودی اتحاد اور بھی مؤثر ہوتا اگر شمالی افریقہ میں ابتری نہ ہوتی۔ اس کے باوجود مشرقی اور وسطی افریقہ کے مسلمان ملک نیز مشرقی ایشیا کے ملائشیا اور انڈونیشیا اس اتحاد میں گرم جوشی سے شامل ہیں۔ بنگلہ دیش البتہ اتنا گرم جوش نہیں لیکن سرد مہری بھی نہیں ہے کہ اس کے اپنے مفاد کے خلاف ہو گی۔

    پاکستان کا سعودی عرب سے تعلق پھر سے بحال ہو رہا ہے اگرچہ ماضی کی سطح پر نہیں آئے گا اور راحیل شریف کی وجہ سے صورتحال بہتر ہو گی۔ جس کی بڑی وجہ وہ قرارداد ہے جو تحریک انصاف نے تیار کی اور جو اپنے وقت کے بعض طاقتور عناصر کے دباؤ پر اسمبلی نے منظور کی تھی جس میں غیر ضروری طور پر سعودی عرب کی مذمت کی گئی تھی۔ سعودی عرب کو یہ گلہ نہیں ہے کہ پاکستان نے یمن کی جنگ میں اس کی مدد سے انکار کر دیا، گلہ مذمت اور ''گالی گلوچ'' کا ہے۔ یہ وہی عناصر ہیں جو نہ صرف پاکستان کے سعودی عرب بلکہ ترکی سے بھی تعلقات ختم کرانا چاہتے ہیں اور چین بھی ان کے ذہن میں زہریلے کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ ان عناصر کی ترجمانی عمران اور شیخ رشید کے علاوہ پانچ چھ چینل کر رہے ہیں جن میں اب ایک کا اضافہ ہو گیا ہے اور اچھی طرح دیکھ لیجئے کہ یہی عناصر اب جنرل راحیل پر تنقید کر رہے ہیں اور بالکل غیر ضروری طور پر کر رہے ہیں کیونکہ کوئی ایسی اسلامی فوج نہیں ہے جو کسی ملک کے خلاف جنگ کرنے والی ہے۔ اصل وجہ تنقید دراصل کچھ دیگر قسم کی تکلیف ہے جو مستقبل قریب میں دور ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ دکھائی تو مستقبل قریب میں بھی نہیں دیتی لیکن سی پیک بن جانے کے بعد ان کی کمرہمت جب از خود ''یو ٹرن'' لے لے گی تو ان کا ڈھول پیٹنا بھی تھم جائے گا۔ اینٹی سعودی عرب، اینٹی چین اور اینٹی ترکی گھروں کے ترجمان شیخ رشید نے کل ہی اپنے بیان میں مارشل لاء لگنے کی ''پراتھنا'' کی ہے۔ ان کیلئے دو افسوناک اطلاعات ہیں، امید ہے شانتی سے سن لیں گے۔ ایک تو یہ کہ اب کبھی مارشل لاء نہیں لگے گا، دوسرے یہ کہ الیکشن اس سال ہوں یا اگلے سال یااس کے بعد پانچ سال کے وقفے سے، قبلہ قومی اسمبلی تک نہیں پہنچ سکیں گے، باقی عمر آہ سرد بھرتے ہی گزرے گی۔ بشکریہ روزنامہ "جہان پاکستان"

    http://urdu.alarabiya.net/ur/politics/2017/01/11/اسلامی-فوج-اصل-تکلیف-دیگر-ہے.html
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,224
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,965
    بالکل درست!
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں