جھوٹ کی سنگینیاں اور ہماری غفلت

نصر اللہ نے 'اركان مجلس كے مضامين' میں ‏فروری 16, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,804
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    اسلامی نظام حیات کو جہاں دیگر بڑی بڑی بیماریوں سے ڈرایا گیا ان ہی بیماریوں میں سے ایک بیماری ایسی بھی ہے جو آج کل فرد فرد میں نہ صرف پائی جاتی نظر آ رہی ہے بلکہ دن بدن ایک ایسے جانور کی طرح پل رہی ہے جس کو کبھی بھی مرنے کا یا ختم ہونے کا خوف ہی نہیں ہو تا اور اس بیماری کا نام ہے"جھوٹ"۔جھوٹ آج کل کے معاشرہ میں اس قدر عام ہو چکا ہے کہ نہ تو جھوٹ بولنے والے کو اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے اور نہ ہی سننے والے اس کو خبردار کرتےہیں کہ میاں زبان کو خیا ل سے استعمال کرو۔اگر معاشرے کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یقینا آپ دیکھیں گے کہ نیک لوگ بھی اس سے محفوظ نظر نہیں آتے۔ذیل میں ہم موجودہ حالات سامنے رکھ کر ایک ،دو مثالیں بطور نمونہ پیش کرتے ہیں تاکہ ہم اپنا جائزہ لے سکیں کہ کہیں ہم ان لوگوں میں سے تو نہیں ہیں۔۔۔۔!
    مثال نمبر1: ان لوگوں کے لئے جو کاروبار کرتے ہیں۔
    دوکاندارگاہک سے: آ جائیں بھائی تشریف رکھیں۔گاہک اندر آکر بیٹھ گیا اورچیزوں کے ریٹس پوچھنے لگا ۔گاہک: یہ سوٹ کتنے کا ہے؟ دوکاندار: بھائی جان ویسے تو ہم منہ مانگے پیسوں سے بیچ سکتے ہیں(پہلا جھوٹ)آپ کو مارکیٹ میں کئی بار دیکھا ہے (دوسراجھوٹ)ہم آپ کو اچھی طرح جانتے ہیں(تیسرا جھوٹ)اس لئے یہ سوٹ صرف آپ کے لئے 300 روپے کا ہے۔
    گاہک : ارے بھائی یہ کافی مہنگا ہےمیں نے چند دن پہلے ہی یہ سوٹ 200 روپے کا خریداہے(پہلا جھوٹ خریدنےوالے کا)اور میں اکثر ہی آپ کی دوکان پر آتا ہوں(دوسرا جھوٹ)لہذاآپ کچھ رعائیت کریں اور اس میں کمی کر لیں۔دوکاندار: بھائی جان یہ آپ کو 250 روپے کا مل جائے گا آپ یقین کریں۔ایک روپیہ منافع نہیں لے رہا(چوتھا جھوٹ)یہ ہماری اتنے کی ہی خرید ہے(پانچواں جھوٹ)اگر آپ مارکیٹ سےلیں گے تو یہ آپ کو 290 سے کم کا نہیں ملے گا(چھٹا جھوٹ)۔گاہک: اچھا بھائی ٹھیک ہے اس کو پیک کر دو۔
    مندرجہ بالا زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ کے مکالمے میں آپ نے ملاحظہ کیا کہ دو آدمی جھوٹ کا ارتکاب کر بھی گئے اور ان کو خبر تک نہیں ہوئی کہ وہ ایک ایسا گناہ کرگئے ہیں جس کے بارہ میں اللہ تعالی کا فرمان ہے"لعنت اللہ علیٰ الکاذبین"(آل عمران61)جو جھوٹا ہو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔
    مثال نمبر2:ان لوگوں کے لئے جو بات کو بڑھا کر بیان کرتے ہیں۔ایک دوست دوسرے کو سفر کی داستان سناتے ہوئے۔۔۔
    شاہد:(داستان گو) ہم لاہور ائیر پورٹ سے چلے اور نیروبی ائیر پورٹ پر پہلا سٹاپ کیا وہاں دو گھنٹے ریسٹ کی اور بعد میں ویسٹ افریقہ سے ہوتے ہوئے ساؤتھ افریقہ کیپ ٹاؤن ائیر پورٹ پر اترے وہاں مجھے ماموں جان لینے آئے ہوئے تھے ۔میں ان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا اور گھر چلا گیا سفر کی تھکان تھی اس لئے جاتے ہی سو گیا اگلے دن اٹھا اور اپنے کام میں لگ گیا(اختصار کے ساتھ)
    زاہد: (داستان سننے والا) اپنے دوستوں کو بات سناتے ہوئے ۔۔۔یار شاہد نے بتایا کہ اس بار اس نے سفر کو خوب انجوائے کیا(پہلا جھوٹ)وہ لاہور ائیر پورٹ سے نکلا اور سیدھا دبئی پہنچا (دوسرا جھوٹ) وہاں دبئی کی سیر کی تقریباًتین یا چار گھنٹے(تیسرا جھوٹ)وہاں سے وہ چلا تو نیروبی پہنچا جہاں کا اس نے بتایا کہ ہر طرف ایک ہی طرح کے لوگ تھے (مطلب سیاہ فام چوتھا جھوٹ)پھر وہ وہاں سے نکلا اور اور نائیجریا سے ہوتا ہوا(چھٹا جھوٹ) افریقہ پہنچا جہاں اس کے ماموں کی پوری فیملی اسےلینے آئی تھی(ساتواں جھوٹ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ
    مندرجہ بالا بات کو مدنظر رکھ کر سوچیں کہ وہ لوگ جو ایک بات سن کر دوسرے کو سنانے تک اس میں آمیز ش کرتے ہیں اور وہ بھی صرف اس لئےکہ لو گ زیا دہ سے زیادہ انہماک سے اس کی بات سنیں اور اس کی تعریف بھی کی جائے ۔ایسے لوگ صرف لوگوں کی آنکھوں کا تجسس دیکھنے کے لئے ایسا کرتے ہیں اور ان کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ اللہ کے لعنت زدہ لوگوں میں سے ہو رہے ہیں ۔وہ صرف دنیاوی محبت و جاویدانی دیکھنے کےلئے یہ سب کر رہے ہوتے ہیں۔(اللہ ہم سب کو محفوظ رکھیں)
    اوپر والی تمام مثالیں ہمارے ہاں دیگر جھوٹ بولنے کے مقابلہ میں بہت زیادہ پایئ جاتی ہیں اس لئے میں نے ان کی ہی کو بیان کیا تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو سکے۔ایسی اور بھی بہت سی مثالیں آپ کو ملیں گی لیکن طوالت کی وجہ سے میں نے ان پر ہی اکتفا کرنا مناسب سمجھا ہے ۔اشارۃ جیسے: موبائل پر جھوٹ بولنا کہ "میں کسی دوسرے شہر میں ہوں"ملازم کا مالک کے سامنے جھوت بولنا ۔شاگرد کا استاد کے سامنے جھوٹ بولنا۔شوہر کا بیوی او ر بیوی کا شوہر کے سامنے جھوٹ بولناوغیرہ۔۔۔۔۔۔!!!
    ذیل میں ہم کچھ ان احادیث کا ذکر کرتے ہیں جن میں جھوٹ کی مذمت و کراہت آئی ہے۔اور جس سے اندازہ کر نا مشکل بھی نہیں رہتا کہ یہ کس قدر غلیظ گناہ ہے اور ہم مد ہوش ہیں۔
    نمبر1:عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"سچ کو لازم پکڑو،کیونکہ سچ نیکی کی طرف راہنمائی کرتاہے اور نیکی جنت کی راہ دیکھاتی ہے ،آدمی ہمیشہ سچ بولتارہتا ہے اورسچ بولنے کا اہتما م کرتاہے،یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں سچا لکھ دیا جاتا ہے،جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم کا راستہ دکھاتے ہیں ،کوئی بندہ جب جھوٹ کو ہی اپنا لیتا ہے ،وہ اللہ کے ہاں بھی جھوٹا ہی لکھ دیا جاتاہے"(صحیح بخاری6094)
    نمبر 2: سیدنا ابوھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"منافق آدمی کی تین نشانیاں ہیں خواہ وہ نماز اور روزہ کی پابندی بھی کرتاہو اور خود کو مسلمان بھی سمجھتا ہو(1) جب بات کرے گا تو جھوٹ بولے گا۔(2) جب وعدہ کرے گا تو وعدہ خلافی کرے گا(3)جب کوئی معاہدہ کرے گا تو دھوکہ دہی کرے گا۔
    (صحیح بخاری 6095)
    نمبر 3:سمرۃ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میرے پاس گزشتہ رات خواب میں دو آدمی آئے انہوں نے کہا :جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اس کا جبڑا چیرا جارہا تھا،وہ بڑا ہی جھوٹا آدمی تھا ،جو ایک بات کو پکڑتا اور ساری دنیا میں پھیلا دیتا تھا ،قیامت تک اسے یہی سزا ملتی رہے گی۔(بخاری6096)
    نوٹ:اختصار کی خاطر انہی احادیث کو لایا ہوں لیکن سمجھنے کے لئے کافی ہیں جیسے پہلی حدیث کہتی ہے کہ آدمی اللہ کے ہاں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔دوسری نے آکر اور ڈرایا تاکہ لوگ اس سے بچ سکیں اور بیان ہو ا کہ جھوٹا بندہ منافق کی علامات سے ایک کا حامل ہو جاتا ہے ۔تیسری نے آکر اس سے بھی زیادہ ڈرا دیا کہ ۔او اللہ کے بندو۔۔۔! ڈر جاو کہ ایسے بندے کےجبڑے پھاڑے جاتے ہیں۔ان کو ہی دیکھنے سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ جھوٹ کس قدر بڑا گناہ ہے ہمارے ہاں اکثر خاندانوں میں اسی بات پر علیحدگیاں ہو جاتی ہیں کہ بات کچھ اور ہو تی ہے مگر جس کے بارہ میں کی جاتی ہے اس تک جاتے جاتے ایک ایسی بلا کی صورت بن جاتی ہے کہ وہ سن کر آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور اس کا نتیجہ ہم آئے روزاپنے اردگرد ماحول میں دیکھ ہی رہے ہیں۔ اللہ سب کو سمجھ بھی دیں اور درست معنی میں بات کرنے اور ہر قسم کی آمیزش سے محفوظ رکھیں۔ان باتوں سے بچنے کے لئے سب سے محفوظ ایک ہی راستہ ہےاور وہ ہے "خاموشی" ۔۔۔۔۔!!! (اللہ ہم سب کو محفوظ رکھیں اور دین کی سمجھ نصبیب کریں)
    واللہ اعلم با لصواب:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,717
    آمین
     
  3. ام مطیع الرحمن

    ام مطیع الرحمن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2013
    پیغامات:
    1,544
    بہت اچھا لگا۔

    اللہ تعالی ہم سبکو اپنی اپنی اصلاح کی توفیق دے۔آمین

    جزاک اللہ خیر
     
  4. اخت طیب

    اخت طیب -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2013
    پیغامات:
    771
    ئاے الله همیں اس جهوڻ کی بیماری سے محفوظ رکه ـ جزاک الله خیر
     
  5. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,423
    جزک اللہ خیرا
    اللہ تعالی ہم سبکو اپنی اپنی اصلاح کی توفیق دے۔آمین
     
  6. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,924
    جزاک اللہ خیرا
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,977
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جزاک اللہ خیرا ۔ کوئی شک نہیں ۔لوگ اب جھوٹ کو برائی ہی نہیں سمجھتے۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں