جہالت کا مرض اور اس کا علاج - ابن قیم رحمہ اللہ

انا نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏مئی 8, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. انا

    انا ناظمہ خاص انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,343
    جہالت کا مرض اور اس کا علاج


    نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم نے جہالت و ناواقفیت کو ایک حدیث مبارک میں بیماری اور مرض قرار دیا ، اور اہل علم سے پوچھ لینا اس کا علاج بتایا، اور یہ علاج قلب و روح اور جسم و بدن دونوں کے امراض میں شامل ہے، چنانچہ امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے "سنن ابی داؤد" میں حدیث جابر رضی اللہ تعالی عنہ بن عبد اللہ نقل کی ہے ۔ حضرت جابر رضی اللہ فرماتے ہیں : ہم لوگ ایک سفر میں نکلے راستہ میں ہم میں سے ایک آدمی کو سر پر پتھر لگا جس سے اس کا سر زخمی ہو گیا ، پھر اتفاق سے اسے احتلام بھی ہو گیا ، اس نے ساتھیوں سے مسئلہ دریافت کیا کہ مجھے بتائیں کیا میں اس حال میں تیمم کر سکتا ہوں؟ ساتھیوں نے کہا تمہیں تیمم کی اجازت نہیں ہے، اس لیے کہ تم پانی استعمال کر سکتے ہو ، چنانچہ اس نے غسل کیا اور اس صدمہ سے فوت ہو گیا، جب ہم لوگ سفر سے واپسی پر نبی محترم و مکرم صل اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ آنجناب علیہ السلام کو بتایا تو آپ صل اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
    "ساتھیوں نے اس کو مار ڈالا، اللہ ان کو مارے ، جب وہ مسئلہ نہیں جانتے تھے تو پوچھ ہی لیا ہوتا ، کیونکہ نا واقف کی شفاء پوچھ لینے میں ہی ہے، اس (بیچارے)
    کے لیے تو بس تیمم ہی کافی تھا اور زخم پر کوئی پٹی باندھ لیتا ، پھر اس پٹی پر مسح کر لیتا ، اور باقی جسم دھو لیتا ۔"
    معلوم ہوا کہ جہالت یعنی نا واقفیت بھی ایک مرض ہے جس کا علاج اہل علم سے سوال کرنا ہے۔


    اقتباس از گناہوں کے نقصانات اور ان کا علاج (الداء والدواء)
    تالیف : امام ابن قیم جوزی
    مترجم : مولوی محمد انس ، مولوی خالد محمود ، مولوی عبدالعظیم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں