حج و عمرہ بار بار کرو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمان ہر مجوسی فلسفے کا جواب

عائشہ نے 'حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون' میں ‏ستمبر 27, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,043
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ذی الحجہ کے پہلے دس دن سال کے افضل ترین دن ہیں، ایک مومن ان دنوں میں جو روحانی لذت محسوس کرتا ہے اس کا دل بھی گواہی دیتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ ہر طرف ایک اللہ کی عبادت کرنے والے نیکیوں کی دوڑ میں آگے نکلنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں، کوئی قربانی کے جانور تلاش کر رہا ہے کوئی احرام پہن کر اپنے رب کے گھر کی جانب پروانہ وار لپک رہا ہے، کسی کو صدقات میں دل کا سکون مل رہا ہے تو کوئی روزے رکھ کر پچھلے اور اگلے سال کے گناہوں کی بخشش کا طالب ہے۔ نیکیوں کے اس موسم بہار میں کچھ بدباطن لوگوں کی پرانی تکلیف جاگ جاتی ہے۔ مجوسی سلطنت کے احیا کا خواب جو اب بوسیدہ ہو کر تار تار ہو چکا ہے لیکن اس کے متروک بدبودار فلسفے اب بھی اتنی ہی شدت سے دہرائے جاتے ہیں۔ مجوسیوں کو سب سے زیادہ تکلیف حرم کی رونق سے ہوتی ہے، وہ رونق جو ہر مومن کی آنکھ کی ٹھنڈک ہے ان کی آشوب زدہ آنکھوں میں خار بن کر کھٹکتی ہے۔ دنیا اولمپک گیمز کے لیے جمع ہو تو ان کے منہ سے ستائش کے ڈونگرے برستے ہیں، نہ پیسے کے ضیاع کا خیال آتا ہے نہ یہ یاد رہتا ہے کہ غریب کا تن ننگا ہے، نہ ہر اولمپک کے لیے نئے سٹیڈیم کے اسراف پر دل دکھتا ہے، کسی فلم کے لیے کئی ملین پونڈ کا سیٹ لگے تو یہ سراہتے ہیں جہ فلم کی ڈیمانڈ تھی، لیکن جونہی حج کا موسم شروع ہو اور دو ان سلے کپڑوں میں ملبوس حاجی، اپنے اپنے خرچ پر سادگی سے لبیک اللھم لبیک کی روح پرور صدائیں بلند کرتے اپنے رب کے گھر کا قصد کریں، ان کے نوحوں کی صدائیں بلند ہونے لگتی ہیں۔ ہوتی ہے شیطان کو آج بھی رحمان کی عبادت سے تکلیف ہوتی ہے۔ جب اذان ہوتی ہے شیطان کانوں میں انگلیاں ڈال کر روتا ہوا وہاں سے بھاگتا ہے، جب حج شروع ہوتا ہے حزب الشیطان کے نوحے اور ماتم دیکھنے والے ہوتے ہیں۔
    نارِ حسد نے دل کو جلایا ہے یوں عدیم
    یہ تو نشاں رہے گا مٹانے کے بعد بھی
    ہر سال ان دکھاوے کے دانشوروں کو یہ غم لگتا ہے کہ قربانی تو گوشت جمع کرنے کا ذریعہ ہے اور حج وعمرہ مذہبی پکنک ہے۔ ان سب کے بے کار فلسفوں کے جواب میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کافی ہے کہ :تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ وَالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلَيْسَ لِلْحَجَّةِ الْمَبْرُورَةِ ثَوَابٌ إِلاَّ الْجَنَّةُ حج و عمرہ بار بار کرو، یہ دونوں عبادتیں غربت اور گناہوں کو مٹا دیتی ہیں جیسے بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کی ملاوٹ ختم کر دیتی ہے۔ اور حج مبرور کا ثواب جنت کے سوا کچھ نہیں۔ " امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اپنی کتاب جامع الترمذی میں ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے" اس باب میں کئی دوسرے صحابہ مثلا: عمر، عامر بن ربیعہ،ابو ھریرہ، عبداللہ بن حبشی،ام سلمہ اور جابرکی احادیث بھی ہیں۔ " گویا ان سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہم تک پہنچایا ہے کہ جس کے پاس استطاعت ہے وہ حج و عمرہ بار بار کرے گو کہ یہ زندگی میں ایک بار فرض ہے۔
    خلیل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کے بعد بیت اللہ کی رونق سے حسد کرنے والے چاہے جو کہیں۔ ایک مسلمان کو فرق نہیں پڑتا۔ اللہ ہمیں بھی ان میں بنا دے جو بار بار حج و عمرہ کریں اور مجوسی فلسفیوں کے سینوں پر مونگ دلیں۔
     
    Last edited: ‏ستمبر 27, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  2. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    924
    بیت اللہ مثابۃ للناس ہے اوریہ مقام اللہ تعالیٰ نے اسے دیا ہے، ان شاء اللہ اسے کوئی نہیں چھین سکتا۔ باقی لوگ اپنی عقل کے تیرتکے لڑاتے رہتے ہیں اور انہیں مسلمانوں کے زوال کے سارے اسباب ہی حج وعمرہ کی کثرت میں نظر آتے ہیں یا وہقربانی کا فلسفہ بیکار محض سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے کچھ عرض کرتا چلوں
    -مثال کے طور پر قربانی کو ہی لیں، کتنی بڑی معاشی ایکٹیوٹی ہے، بہت سے لوگ اس کی بدولت چھوٹے، بڑے گوشت کا مزا چکھ لیتے ہیں، قصاب لوگ، مویشی پالنے والے، کھالوں اور چمڑے کے کاروبار سے وابستہ، جانوروں کی آلائشوں یعنی انتڑیوں سے چیزیں بنانے والے، خانہ بدوش بہت سے لوگ اس وجہ سے کچھ نہ کچھ فائدہ اٹھاتے ہیں اور بلامبالغہ اربوں روپے کی گردش ہوتی ہےذوالحجہ کے چند دنوں میں۔
    -بہت سےتنقید کرنے والے اگر صرف ایک شادی بیاہ کو اٹینڈ کرنے کا خرچہ ہی بچا لیں یا تو اس سے اپنے لیے قربانی خرید سکتے ہیں لیکن اس طرف ان کی نگاہ نہیں جاتی۔
    لوگ بھوکے مرتے ہوں گے لیکن مزار پہ چڑھاوا ضرور چڑھائیں گے، 'داتا صاحب' سلام کے لیے ضرور جائیں گے چاہے دو مہینے کا بجٹ ڈسٹرب ہو جائے لیکن اسلامی عبادات پر تنقید۔
    کوئی دوسری دفعہ عمرہ یا حج پر چلا جائے تو کہتے ہیں پتا نہیں یہ کوئی بزنس کرتا ہے،
    درباروں کی آمدن پر کوئی تنقید کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔
    کوئی لعل شہباز قلندر کے مزار پر گرمی میں دھمال ڈالتے ہوئے مرنے والے زائرین کے اعدادوشمار پیش کرتا ہے؟؟؟
    کوئی سلطان باہوکے عرس پر جاتے ہوئے بس الٹ جانے سے 'ہلاک' ہونے والے زائرین پر نشترتنقید چلاتا ہے۔۔۔۔
    نہیں، عجب دوہرا معیار ہے۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  3. Ishauq

    Ishauq محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,526
    جزاک الله خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,043
    وایاک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,043
    بالکل درست۔ کچھ عرصہ پہلے میرے سٹوڈنٹس نے یہی اعتراض کیا تو میں نے ان کو بتایا کہ حج کے موسم میں کاروبار کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ قرآنی آیات اور احادیث حاجی کو اجازت دیتی ہیں کہ حج کے پہلے اور بعد رزق کی تلاش جاری رکھی جائے، اسے اللہ کا فضل کہا گیا ہے۔ اصل میں تکفیریوں نے یہ اعتراض رافضیوں سے مستعار لیا تا کہ سعودی حکومت پر تنقید کر سکیں لیکن بھول گئے کہ حج کے قوانین تو اللہ کی کتاب اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  6. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    11,355
    جزاکم اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں