حقوقُ العباد

فیاض ثاقب نے 'حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون' میں ‏نومبر 16, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فیاض ثاقب

    فیاض ثاقب رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 12, 2016
    پیغامات:
    32
    رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے رخصت ہونے کا وقت قریب آیا،
    پاک پیغمبر نے اعلان کروایا جس کا مجھ پر کوئی حق ہے وہ آج اپنا حق لے لے،
    صحابہ کرام کا جم غفیر مسجد نبوی میں جمع ہو گیا،
    سمجھ رہے تھے اپنے آقا سے وقت جدائی آن پہنچا ہیں، آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی مگر زبانیں خاموش ہیں،
    تیز بخار کی شدت میں رسول پاک مسجد میں تشریف لائے اور چہرہ مبارک بخار کی شدت سے سرخ ہو گیا ہے،
    رسول پاک نے فرمایا جس کا کوئی حق مجھ پر ہے وہ آج مجھ سے اپنا حق لے لے،
    اپنے آقا کی زبان مبارک سے یہ سننا تھا کہ ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا اور بھری ہوئی آنکھیں سیلاب کی طرح بہنے لگیں،
    اپنے جانثاروں کی حالت دیکھ کر پاک پیغمبر نے فرمایا،
    ہر جان نے موت کا ذائقہ چھکنا ہے، میرا دنیا میں آنے کا جو مقصد تھا وہ پورا ہو گیا، اب تم سے روز محشر ملاقات ہو گی،
    صحابہ کی ہچکیاں بندھ گئی،
    .
    ایک صحابی جن کا نام عکاشہ رضی اللہ عنہ تھا عرض کرتے ہیں :
    اللہ کے رسول! میرا حق آپ پر باقی ہے، جب آپ جنگ احد کے لیے تشریف لے جانے لگے تو آپ کی چھڑی مجھے لگی تھی، میں اس کا بدلہ چاہتا ہوں،
    یہ سننا تھا کہ عمر نے تلوار میان سے نکالی اور اس کی طرف بڑھے کہ تم نبی پاک سے بدلہ لو گے، اس سے پہلے عمر تمہاری گردن اڑا دے گا،
    لیکن رسول پاک نے عمر کو روک دیا، کہا اسے بدلہ لینے دو، اس کا حق ہے میں نہیں چاہتا میں اللہ سے اس حال میں ملوں کے کسی کا مجھ پر حق باقی ہو،
    چھڑی منگوائی گئی اور عکاشہ کو دی گئی، اور کہا چھری مار کر اپنا بدلہ لے لو،
    عکاشہ رضی اللہ عنہ عرض کرتے ہیں اللہ کے رسول! جب آپ کی چھڑی مجھے لگی تھی اس وقت میری پیٹھ ننگی تھی،
    رسول پاک نے اپنا کرتہ مبارک اتار دیا،
    کہا لو اب بدلہ لے لو،
    عکاشہ نے چھڑی پھینکی اور بھاگ کر نبی پاک کے جسم مبارک سے لپٹ گئے، اور آپ کی پیٹھ کو چومنے لگے،
    عرض کی اللہ کے رسول! ہم تو اپنے ماں باپ اپنی اولادیں اپنی جانیں آپ پر قربان کر دیں میری کیا مجال میں آپ سے بدلہ لوں،
    میرا تو ارادہ تھا میرے نبی کے جسم مبارک سے میرا جسم لگ جائے تاکہ جہنم کی آگ حرام اور جنت واجب ہو جائے،
    رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر مسکرا دیے،
    سیرت النبی کی معروف کتاب الرحیق المختوم میں یہ واقعہ موجود ہے،
    .
    لیکن. ...
    رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    مجھ پر جس کسی کا احسان تھا میں نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے،مگر ابوبکر کے مجھ پر وہ احسانات ہیں جن کا بدلہ اللہ تعالیٰ روزِ قیامت انہیں عطا فرمائیگا
    سنن الترمذی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں