خالق اور مخلوق کے درمیان واسطہ کی حقیقت

بابر تنویر نے 'اردو یونیکوڈ کتب' میں ‏ستمبر 13, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,581
    خالق اور مخلوق کے درمیان واسطہ کی حقیقت

    تالیف:شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ
    ترجمہ:عطاء الرحمن ضیاء اللہ
    مراجعہ: شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنیؔ


    ناشر:دفترتعاون برائے دعوت وارشاد وتوعیۃ الجالیات،ربوہ۔ریاض

    مملکتِ سعودی عرب

    الواسطة بين الحق والخلق

    (باللغة الأردية)
    تأليف: شيخ الإسلام ابن تيمية-رحمه الله-
    ترجمة: عطاء الرحمن ضياء الله

    مراجعة: شفيق الرحمن ضياء الله المدني

    لنک اسلام ہاؤس
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,581
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    تمہید
    خالق اور مخلوق کے درمیان واسطہ کا موضوع بہت خطرناک ہے،جس سے اکثر مسلمان نابلد ہیں،جس کا نتیجہ ہے کہ ہم مشقِ ستم بنے ہوئے ہیں،اس لیے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی اس نصرت وحمایت اور تائید سے محروم ہوگئے ہیں جس کا اللہ تعالیٰ نے ہم سے وعدہ فرمایاتھا،بشرطیکہ ہم اس کی طرف رجوع کریں اور اس کی شریعت کی اتباع کریں،چنانچہ ارشاد فرمایا: (وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ) ترجمہ:’’ ہم پر مومنوں کی مدد کرنا ﻻزمہے۔‘‘([1]) (إِن تَنصُرُوا اللَّـهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ)

    ترجمہ:’’ اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وه تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدمرکھے گا ۔‘‘([2]) (وَلِلَّـهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ)

    ترجمہ:’’عزت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور ایمان داروں کے لیے ہے۔‘‘([3]) (وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ)

    ترجمہ: ’’‘تم ہی غالب رہو گے، اگر تم ایماندار ہو۔‘‘ ([4]) خالق اور مخلوق کے درمیان واسطہ کو سمجھنے میں لوگ تین گروہوں میں منقسم ہیں: ۱۔پہلا گروہ وہ ہے جنہوں نے اس بات کا انکار کیا ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے صرف رسولﷺکوشریعت کی تعلیم دینے کے لیے واسطہ بناکربھیجا ہے،اور یہ دعویٰ کربیٹھے کہ یہ شریعت عوام کے لیے ہے، اور اسے علم ظاہرکا نام دینے لگے۔ اور اپنی عبادتوں میں اوہام وخرافات پر بھروسہ کربیٹھے اور اسے علم باطن کا نام دیا،اور اسے ’’کشف ‘‘کے نام سے موسوم کیا،جو کہ حقیقت میں ابلیسی وسوسے اور شیطانی واسطے ہیں جو اسلام کے ادنیٰ ومعمولی اصولوں کے بھی مخالف ہیں۔اس سلسلے میں ان کا نعرہ ہے:’’میرے دل نے میرے رب سے حدیث بیان کی !!‘‘اس بارے میں وہ شریعت کے علماء کا مذاق اڑاتے ہیں،اور ان کے اندر یہ عیب نکالتے ہیں کہ وہ اپنے علم کو مردہ لوگوں سے مردہ لوگوں کے حوالے سے لیتے ہیں.. البتہ وہ لوگ علم کوبراہ راست (اللہ) حی قیوم سے لیتے ہیں! چنانچہ انہوں نے بہت سے لوگوں کوفتنہ وآزمائش میں ڈال دیا ہے اور انہیں گمراہ کردیا ہے،اور ایسی ایسی شرعی خلاف ورزیاں کی ہیں جو ان کی کتابوں میں مدون ہے جن کی وجہ سے علما نے انہیں کافر گردانا ہے اور ان کے ارتداد کے سبب ان کا خون بہانا جائز قراردیا ہے،اس لیے کہ انہوں نے نہ جانتے ہوئے یاتجاہل عارفانہ کے طور پرشریعت کے پہلے اصول کو ترک کردیا ہے،اور وہ یہ کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت اس چیز کے ذریعہ کی جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد ﷺپر نازل نہیں فرمایا ہے وہ لامحالہ کافر ہے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا) ترجمہ:’’سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں اور کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں۔‘‘([5]) اس طرح شیطان نے علم کی مخالفت کرکے اور اس کی روشنی کو بجھاکران کے لیے ان کے اعمال کو مزین کردیا،اور وہ تاریکیوں میں چلنے لگے،اور اپنی خواہشات وخیالات کی طرف پھر گئے جس کے ذریعہ وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں،جبکہ ان کی حالت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان کی ہے:

    (قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُم بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًاالَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًاأُولَـٰئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا)

    ترجمہ: ’’ کہہ دیجئے کہ اگر (تم کہو تو) میں تمہیں بتا دوں کہ باعتبار اعمال سب سے زیاده خسارے میں کون ہیں؟‘‘([6]) یہ گروہ متعدد فرقوں اورراستوں(سلسلے)میں بٹا ہوا ہے جوصراط مستقیم سے دور ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے مخالف ہیں،وہ صراط جس پر اللہ تعالیٰ کا انعام واکرام ہے،ان لوگوں کا راستہ نہیں جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا ہے اور جو گمراہ ہیں۔ اور یہ تمام فرقے جہنمی ہیں جیساکہ رسولﷺنے اپنے اس فرمان میں ذکر کیا ہےسَتَفْتَرِقُ أُمّتي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرقةً، ثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ ، وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَهِيَ : مَنْ كانَ عَلى مِثلِ مَا أنا عَليهِ وأصْحَابِي) ’’عنقریب میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی،بہتر فرقے جہنمی ہوں گے اور ایک فرقہ جنتی ہوگا،اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس راستہ(منہج) پر قائم ہوں گے جس پر میں اور میرے صحابہ قائم ہیں۔‘‘ ([7]) ۲۔کچھ لوگوں نے اس واسطہ میں مبالغہ سے کام لیا ہے،اس کے سمجھنے میں غلطی کے شکار ہوگئے ہیں،اور اس میں وہ معنی ومفہوم داخل کردیا ہے جس کا وہ متحمل نہیں ہے،چنانچہ رسولﷺاور دیگر انبیا وصالحین کی ذات کو واسطے (وسیلے)بنالیے ہیں، یہ عقیدہ رکھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے کسی عمل کوقبول نہیں کرتا ہے الا یہ کہ وہ ان واسطوں کے ذریعہ اس کے پاس آئیں،تاکہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے پاس ان کے لیے وسیلہ اور ذریعہ ہوں۔اس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے وہ اوصاف بیان کئے ہیں جسے ظالم وجابر بادشاہ بھی اپنے آپ کو متصف کروانا نہیں پسند کرتے ہیں جو اپنے دروازوں پر دربان مقر ر کئے ہوتے ہیں اور ان کے پاس بغیر واسطہ کے کوئی شخص نہیں جاسکتا ! یہ اعتقاد کیسے درست ہوسکتا ہے جبکہ اللہ سبحانہ کا فرمان ہے: (وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖفَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ)

    ترجمہ:’’جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وه مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں اس لئے لوگوں کو بھی چاہئے کہ وه میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے۔‘‘([8]) یہ آیت کریمہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے واحد راستہ اس پر صحیح ایمان رکھنا،پھراس کی شریعت کے مطابق اس کی عبادت کرنا ہے۔

    اس آیت میں عبادت کو ایمان پر مقدم کیا گیاہے تاکہ لوگوں کو عمل صالح کی خطورت اور سنگینی سے آگاہ کیا جائے اور یہ کہ وہ اللہ کی رضامندی سے سرفراز ہونے اور جنت کی سعادت حاصل کرنے لیے ضروری شرط ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں واسطہ کا ذکر کیا ہے اور اس سے مراد فرمانبرداریاں اور نیکیاں ہیں،اور نیکیاں ہی وہ اکیلا واسطہ ہیں جو آپ کو اللہ سے قریب کرسکتی ہیں، آپ کے لیے رحمت کے دروازے کھول سکتی ہیں اور آپ کو اس کی جنت میں داخل کرسکتی ہیں: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ)

    ’’اے مومنو! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب تلاش کرو اور اس کی راه میں جہاد کرو تاکہ تمہارا بھلا ہو۔‘‘([9]) نیز اللہ تعالیٰ نے ان جاہلوں اورمغفل لوگوں کا مذاق اڑایا ہے جو اس کے نیک وصالح بندوں کو وسیلہ بناتے ہیں،حالانکہ وہ لوگ خوداس وسیلہ کے حاجتمند ہیں،یعنی طاعت وفرمانبرداری جو انہیں اللہ تعالیٰ سے قریب کردے،اور ان کے لیے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے،جیساکہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہےأُولَـٰئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ ۚ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًا)

    ’’ جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں خود وه اپنے رب کے تقرب کی جستجو میں رہتے ہیں کہ ان میں سے کون زیاده نزدیک ہوجائے وه خود اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے خوفزده رہتے ہیں، (بات بھی یہی ہے) کہ تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہی ہے۔‘‘([10]) افسوس تو اس بات پر ہے کہ یہ غافل لوگ انہی واسطوں پر مکمل اعتماد وبھروسہ کربیٹھے ہیں،جس نے انہیں اس بات پر آمادہ کردیا کہ وہ نیک کاموں سے لاپرواہی کرتے ہیں اور حرام کاموں کا ارتکاب کرتے ہیں،یہی وہ چیز ہے جو مسلمانوں کے زوال اور شکست وریخت کا سبب ہے جواللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو بھول گئے ہیں یا جان بوجھ کر بھلا دئیے ہیں،جس میں وہ اپنے رسول اور تمام اولاد آدم کے سردار کو مخاطب کرکے فرماتا ہے: قُل لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّـهُ)’’آپ فرما دیجئے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لیے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا۔‘‘([11]) نیز نبیﷺکا اپنی لخت جگر سے یہ فرمانا: ((يَا فَاطِمَةُ !سَلِينِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتِ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا)) ’’اے فاطمہ!میرے مال میں سے جو چاہو مانگ لو،(قیامت کے دن)اللہ کی پکڑ سے میں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔‘‘([12])

    نیز آپﷺکا فرمان:’’جب آدمی مرجاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے..۔‘‘([13]) اگر نصوص کے اندرانبیا وصالحین کی ذات سے توسل کے جائز نہ ہونے کی اس کے علاوہ اگر کوئی دلیل نہ ہوتی کہ عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ نے عباس رضی اللہ عنہ کی دعا کا وسیلہ پکڑا اور نبیﷺکی ذات کا وسیلہ نہیں پکڑا تو اس گروہ کی تردید کے لیے کافی ہے۔

    امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے اس موقع پر کتنی بہترین بات کہی ہے:’’ میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں اللہ تعالیٰ سے اس کے علاوہ کسی اورکے واسطہ سے کوئی چیز مانگی جائے۔ اگر اللہ تعالی ٰکی طرف کسی کی ذات کا وسیلہ پکڑنا جائز ہوتا تو قرآن وحدیث کی دعاؤں میں ان کے ذات کے توسل کا ذکر ہوتا ہے،لیکن قرآن وحدیث کے اندر ایک دعا بھی ایسی نہیں ہے جس میں کسی کی ذات کے توسل کا ذکر موجود ہو۔‘‘ ۳۔کچھ مسلمان ایسے ہیں جنہوں نے خالق اور مخلوق کے درمیان اس واسطہ سے یہ سمجھا ہے کہ وہ رسالت ہے،یعنی اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ اور اس کی تعلیم وتربیت ہے،اور وہ اس کے شان کی بلندی اور انسانیت کو اس کی ضرورت کے حد کو پہچانتے ہیں،لہٰذا انہوں نے شریعت کو اخذکرنے اور وحی کے ذریعہ روشنی حاصل کرنے کے لیے رسولﷺ کو بڑا وسیلہ اورواسطہ بنانے میں جلدی کی ،چنانچہ وہ آپ کی سیرت اور سنت کو اسی طرح پڑھتے پڑھاتے ہیں جس طرح قرآن کو پڑھتے پڑھاتے ہیں،اس سلسلے میں ان کا شعار اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

    (يَا أَهْلَ الْكِتَابِقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ يَهْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ)

    ’’ اے اہل کتاب! یقیناً تمہارے پاس ہمارا رسول (ﷺ) آچکا جو تمہارے سامنے کتاب اللہ کی بکثرت ایسی باتیں باتیں ظاہر کررہا ہے جنہیںتمچھپا رہے تھے اور بہت سی باتوں سے درگزر کرتا ہے، تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور اور واضح کتاب آچکی ہے۔‘‘([14]) یہی وہ فرقۂ ناجیہ ہے جس کا سابقہ حدیث میں ذکر کیا گیاہے اور اسے جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ رنج والم کی بات ہے کہ اس طائفہ کا راستہ کانٹوں اور رکاوٹوں سے بھراہواہے،اس لیے کہ صحیح اسلام اجنبی بن گیا ہے،اور مسلمانوں کی اکثریت اس سے دور ہوچکی ہے ، اور اس کی بجائے وہ بدعات وخرافات اوراوہام کے شکار ہوگئے ہیں... یہ مصیبت بہت پرانی ہے، اور اس بارے میں مصلحین کادور بہت خطرناک ہے،عمربن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ’’ہم ایک ایسے معاملہ سے نبٹ رہے ہیں جس پر صرف اللہ تعالیٰ ہی مددکرسکتا ہے،اس راہ میں بوڑھے ختم ہوچکے،بچے جوان ہوگئے اور دیہاتی ہجرت کرگئے،لوگ اسے دین سمجھتے ہیں،حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک دین نہیں ہے!‘‘ یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے،نبیﷺدین کی اجنبیت کی خبرپہلے ہی دے چکے ہیں:

    (بَدَأَ الإِسْلاَمُ غَرِيباً، وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ غَرِيباً، فَطُوبى لِلْغُرَبَاءِ)’’اسلام کی ابتدااجنبیت کی حالت( چند اور تھوڑے لوگوں)سے ہوئی ہے،اور عنقریب وہ اسی اجنبیت کی حالت پر لوٹ آئے گا(یعنی اس کے ماننے والے تھوڑے ہوجائیں گے) تو ایسے تھوڑے لوگوں کے لیے خوشخبری ہے۔‘‘([15])

    احمد اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں ہے:’’دریافت کیا گیا:اے اللہ کے رسول! غرباء کون لوگ ہیں؟ فرمایا:قبائل میں سے کچھ تھوڑے لوگ۔‘‘([16])



    اور ایک روایت میں ہے جسے امام ترمذی نے حسن قراردیا ہے:’’ان غرباء کے لیے خوشخبری ہے جو میری اس سنت کی اصلاح کریں گے جسے لوگوں نے برباد کردیا ہوگا۔‘‘([17])

    اور مسنداحمد کی ایک صحیح روایت میں ہے:جب رسولﷺسے غرباء کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے کہا: ’’بہت سے برے لوگوں کی بیچ کچھ نیک وصالح لوگ ہیں،ان کی نافرمانی کرنے والے ان کی بات ماننے والوں سے زیادہ ہوں گے۔‘‘ لہٰذا اس گروہ کواصلاح کے راستوں میں کام کرنا چاہئیے اور تگ ودو کرنا چاہئیے،اوراپنے ہاتھوں میں تجدید کا مشعل اٹھاناچاہئیے تاکہ مسلمان بیدار ہوں اور صحیح اسلام کی طرف لوٹ آئیں،اور تخریب پسندوں اور مخالفین سے ہمیں وہی بات کہنی چاہئے جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان کے ساتھیوں سے کہی ہے: (وَمَا لَنَا أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللَّـهِ وَقَدْ هَدَانَا سُبُلَنَا ۚ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَىٰ مَا آذَيْتُمُونَا ۚ وَعَلَى اللَّـهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ)

    ’’آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہ رکھیں جبکہ اسی نے ہمیں ہماری راہیں سمجھائی ہیں۔ واللہ جو ایذائیں تم ہمیں دو گے ہم ان پر صبر ہی کریں گے۔ توکل کرنے والوں کو یہی ﻻئقہےکہاللہہیپر توکل کریں۔‘‘([18])

    اب ہم آپ کے سامنے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا ایک گرانقدر رسالہ پیش کررہے ہیں،جس میں آپ نے اس واسطہ کی بہترین تشریح وتوضیح فرمائی ہے،جو اس بات کے قابل ہے کہ اسے سنہرے حروف سے لکھا جائے ،اور مسلمان اسے غوروتدبر سے پڑھیں؛تاکہ وہ اپنی نیند سے بیدار ہوں اور قوت وطاقت ، نصرت وتائید اور عظمت وبلندی کے اسباب کو اختیار کریں۔انبیاء وصالحین کی قبروں ومزاروں پر ناک رگڑنا چھوڑدیں،اور ذلت ورسوائی اور عاجزی وانکساری کے ساتھ ان کی چوکھٹ کا گردچاٹنے سے باز آجائیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس کی توفیق دے۔

    وصلى الله على سيدنا محمد معلم الخير،وعلى آله وصبحه وسلم. وآخردعوانا أن الحمد لله رب العالمين.

    <محمود مہدی استانبولی (صاحب کتاب تحفۃ العروس)

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    (قُلِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ وَسَلَامٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَىٰ ۗ آللَّـهُ خَيْرٌ أَمَّا يُشْرِكُونَ)

    ترجمہ:’’ تو کہہ دے کہ تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے برگزیده بندوں پر سلام ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ بہتر ہے یا وه جنہیں یہ لوگ شریک ٹھہرا رہے ہیں۔‘‘([19]) یہ رسالہ ایک ایسے مسئلہ کی وضاحت سے متعلق ہے جس کے بارے میں دو آدمیوں کے مابین مناظرہ ہوا، چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا: ہمارے اور اللہ کے درمیان ہمارے لئے ایک واسطہ کا ہونا ضروری ہے؛ کیونکہ اس کے بغیر ہم اللہ تک رسائی نہیں حاصل کر سکتے۔

    [انبیا ورسل دین کی تبلیغ کا واسطہ ہیں]
    جواب: الحمد للہ رب العالمین. اگر اس سے اس کی مراد یہ ہے کہ کسی ایسے واسطہ کا ہونا ضروری ہے جو ہمیں اللہ کے حکم کی تبلیغ کرے تو یہ بر حق ہے؛ کیونکہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا اور اس سے راضی وخوش ہوتا ہے، اور جس چیز کااس نے حکم دیا ہے اور جس چیز سے منع کیا ہے، اور اپنے اولیا کے لئے جو عزت وتکریم تیار کررکھا ہے اور اپنے دشمنوں سے جس عذاب کا وعدہ کیا ہے، مخلوق ان سب کا علم نہیں رکھتی ہے، نیز اللہ تعالیٰ اپنے جن اسماے حسنیٰ اور عمدہ واعلی صفات کا مستحق وسزاوار ہے کہ جن کی معرفت سے عقلیں قاصر وعاجز ہیں اور اس کے مثل دیگر چیزیں، ان کی معرفت وجانکاری مخلوق کو ان رسولوں کے بغیر نہیں حاصل ہو سکتی جن کو اللہ تعالی ٰنے اپنے بندوں کے پاس بھیجا ہے۔
    پس رسولوں پر ایمان رکھنے والے اور ان کی اتباع وپیروی کرنے والے لوگ ہی ہدایت یافتہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی قربت سے سرفراز کرتا ہے، ان کے درجات کو بلند کرتا ہے اور دنیا وآخرت میں انہیں عزت وتکریم سے نوازتاہے۔
    رہے رسولوں کی مخالفت کرنے والے تو وہ لوگ ملعون ہیں اور اپنے رب سے بھٹکے ہوئے اور اوٹ میں ہیں، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
    (يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي ۙ فَمَنِ اتَّقَىٰ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ) ’’اے اولاد آدم !اگر تمہارے پاس پیغمبر آئیں جو تم ہی میں سے ہوں جو میرے احکام تم سے بیان کریں تو جو شخص تقویٰ اختیار کرے اور درستی کرے سو ان لوگوں پر نہ کچھ اندیشہ ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور جو لوگ ہمارے ان احکام کو جھٹلائیں اور ان سے تکبر کریں وہ لوگ دوزخ والے ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے ۔‘‘ ([20])
    اور فرمایا:
    (فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَىٰوَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰقَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَىٰ وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًاقَالَ كَذَٰلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا ۖ وَكَذَٰلِكَ الْيَوْمَ تُنسَىٰ) ’’اب تمہارے پاس جب کبھی میری طرف سے ہدایت پہنچے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے نہ تو وہ بہکے گا نہ تکلیف میں پڑے گا۔ اور (ہاں) جو میری یاد سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی تنگی میں رہے گی،اور ہم اسے بروز قیامت اندھاکرکے اٹھائیں گے۔ وہ کہے گا کہ الہی! مجھے تو نے اندھا بناکر کیوں اٹھایا؟ حالانکہ میں تو دیکھتا بھالتا تھا۔ (جواب ملے گا کہ) اسی طرح ہونا چاہیے تھا ،تو میری آئی ہوئی آیتوں کو بھول گیا تو آج تو بھی بھلادیا جاتا ہے ۔‘‘ ([21])
    ابن عباسؓنے فرمایا: قرآن پڑھنے والے اور اس کے اندر جو کچھ احکام ہیں ان پر عمل کرنے والے کے لئے اللہ تعالی ٰنے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ وہ دنیا میں گمراہ نہ ہوگا اور نہ ہی آخرت میں بدبخت (نامراد ومحروم) ہوگا۔‘‘
    اور اللہ تعالیٰ نے دوزخیوں کے بارے میں فرمایا:
    (كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌقَالُوا بَلَىٰ قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ) ’’جب کبھی اس میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا اس سے جہنم کے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے والا کو ئی نہیں آیا تھا؟ وہ جواب دیں گے کہ بیشک آیا تھا لیکن ہم نے اسے جھٹلایا اور ہم نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے کچھ بھی نازل نہیں فرمایا۔ تم بہت گمراہی میں ہی ہو۔‘‘([22])
    اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    (وَسِيقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ جَهَنَّمَ زُمَرًا ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَتْلُونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِ رَبِّكُمْ وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَـٰذَا ۚ قَالُوا بَلَىٰ وَلَـٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكَافِرِينَ)
    ’’کافروں کے غول کے غول جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گے، جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے اس کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے جائیں گے، اور وہاں کے نگہبان ان سے سوال کریں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ جوتم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں درست ہے لیکن عذاب کا حکم کافروں پر ثابت ہوگیا۔‘‘ ([23])
    نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    (وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ ۖ فَمَنْ آمَنَ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ)
    ’’اور ہم پیغمبروں کو صرف اس واسطے بھیجاکرتے ہیں کہ وہ بشارت دیں اور ڈرائیں پھر جو ایمان لائے اور درستی کر لے سو ان لوگوں پر کوئی اندیشہ نہیں اور نہ وہ مغموم ہوں گے۔ اور جو لوگ ہماری آیتوں کو جھوٹا بتلائیں ان کو عذاب پہنچے گا بوجہ اس کے کہ وہ نافرمانی کرتے ہیں۔‘‘ ([24])
    اوراللہ تعالی ٰنے فرمایا:
    (إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَىٰ نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَىٰ وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَيْمَانَ ۚ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۚ وَكَلَّمَ اللَّـهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّـهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ) ’’یقیناًہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی کی ہے جیسے کہ نوح(علیہ السلام)اور ان کے بعد والے نبیوں کی طرف کی، اور ہم نے وحی کی ابراہیم، اسماعیل ، اسحاق، یقوب اور ان کی اولاد پر اور عیسیٰ ، ایوب ، یونس ،ہارون اور سلیمان(علیہما السلام) کی طرف۔ اور ہم نے داود(علیہ السلام)کو زبور عطا فرمائی۔ اور آپ سے پہلے کے بہت سے رسولوں کے واقعات ہم نے آپ سے بیان کیے ہیں اور بہت سے رسولوں کے(حالات بیان) نہیں کیے اور موسی(علیہ السلام)سے اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر کلام کیا۔ ہم نے انہیں رسول بنایا ہے،خوشخبریاں سنانے والے اور آگاہ کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالی پر نہ رہ جائے۔‘‘([25])
    اس مفہوم کی آیتیں قرآن کریم میں بہت زیادہ ہیں۔
    اس پر تمام اہل ملت مسلمانوں،یہودیوں اور نصاریٰ کا اتفاق ہے، وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے مابین واسطے کو ثابت کرتے ہیں،

    ([1])[الروم: ۴۷]

    ([2])[محمد:۷]

    ([3])[المنافقون:۸]

    ([4])[آل عمران:۱۳۹]

    ([5])[النساء:۶۵]

    ([6])[الکہف:۱۰۳۔۱۰۵]َ

    ([7])(ابوداود،ترمذی وغیرہ نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے)

    ([8])[البقرۃ:۱۸۶]

    ([9])[المائدۃ:۳۵]

    ([10])[الاسراء:۵۷]

    ([11])[الاعراف:۱۸۸]

    ([12])(بخاری ومسلم)

    ([13])(مسلم)

    ([14])[المائدۃ:۱۵۔۱۶]

    ([15])اس حدیث کو امام مسلم نے ابوہریرہ سے روایت کیا ہے

    ([16])اس حدیث کا تذکرہ محمود مہدی حفظہ اللہ کے تحقیق کردہ نسخہ میں نہیں ہے۔واللہ اعلم۔

    ([17])اس حدیث کا تذکرہ محمود مہدی حفظہ اللہ کے تحقیق کردہ نسخہ میں نہیں ہے۔واللہ اعلم۔محمودمہدی استنبالوی حفظہ اللہ کے نسخہ میں ہے: (طوبی للغرباء الذین یصلحون إذا فسد الناس) یعنی ان لوگوں کے لیے خوشخبری ہے جو لوگوں کے بگڑجانے کے وقت ان کی اصلاح کریں گے‘‘۔(اسے ابوعمروالدانی نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے) ش۔ر

    ([18]) [ابراہیم:۱۲]

    ([19])[النمل:۵۹]

    ([20])[الاعراف:۳۵۔۳۶]

    ([21])[طہ: ۱۲۳۔۱۲۶]

    ([22])[الملک:۸۔۹]

    ([23])[الزمر:۷۱]

    ([24])[الانعام:۴۸۔۴۹]

    ([25])[النساء:۱۶۳۔۱۶۵]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں