خواتین اور اجتہاد

ماہا نے 'مجلس علماء' میں ‏ستمبر 28, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ماہا

    ماہا ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏نومبر 27, 2010
    پیغامات:
    348
    ہماری ایک دوست ہے اور ماشاءاللہ علم و عمل میں ہم سے بڑھ کر ہے علم حدیث سے خآصا شغف رکھتی ہیں
    ان کا کہنا تھا لہ خواتین مجتہد کیوں نہیں ہوسکتی؟؟؟؟؟؟
    اور میرا نقطہ نظر یہ تھا کے خواتین کو اتنی ہی تعلیم کافی جتنی ان کی ذاتی رہنمائی کے لئے کافی ہو یا پھر وہ اگر درس و تدریس کے میدان میں آتی ہیں تو ان کے پاس کم از کم اتنا علم لازمی ہو کہ وہ طالب علم کو علم حدیث اور علم فقہ کی بنیادی طور پر پہچان کروا دے
    کیونکہ خواتین کے لئے تو مسائل بہت سے آئیں گے جس بنا پر وہ اتنے بڑے منصب کو سنبھال نہیں سکتیں
    اس لئے کہ ان کو جب کہ دیا گیا

    [ar] الرجال قوامون علی النساء[/ar]

    تو بس پھر ٹھیک ہے کیونکہ ہم اس حکم کو رد نہیں کر سکتے اور اسی کے تناظر میں ہمیں اپنے محدثین اور مجتہد علماء کے اجتہا د و اصلاحات کو مان لینا چاہیے ہاں
    یہ ہے کہ ہمیں آگاہی ضرور ہو کہ انہوں نے اس حکم کو کس طرح اخذ کیا تا کہ ہم سحیح اور ضعیف مندوب اور مکرہ میں تمیز کر کے کسی ایک چیز کو اپنے عمل میں لائیں
    اللہ ہم سب کو دین کی سمجھ عطا فرمائے آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,002
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    بہت بہت شكريہ ماہا بہنا ، آپ کے سوال سے قطع نظر ابھی تو آپ كا تھريڈ دیکھ كر مجھے خيال آيا كہ.....
    الحمد لله ! مجلس علماء ميں کچھ سرگرمی تو شروع ہوئی ...
    ميں ان سے ضرور ملنا چاہوں گی : ) کيا خيال ہے وہ مجلس پر آ سكتى ہيں؟
     
  3. دلشاد محمدی

    دلشاد محمدی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 7, 2011
    پیغامات:
    147
    جزا ک اللہ خیرا
     
  4. ماہا

    ماہا ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏نومبر 27, 2010
    پیغامات:
    348
    نورالعین
    بہنا اس دوست کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں ابھی
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,399
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ !جزاکم اللہ خیرا سسٹر۔ اچھا موضوع شروع کرنے پر شکریہ ۔
    آپ کی دوست کی رائے اچھی ہے لیکن اسلام تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسلمان خواتین بھی مجتہد رہی ہیں ،جیسے عائشہ صدیقہ بنت صدیقؓ ،شام میں ام دردہؓ ، مدینہ الرسول میں سکینہ بنت حسین بنت علیؓ ، اورآجکل اردن میں سکینہ بنت البانی رحمہ اللہ وغیرہ ۔ اگر تو بات کچھ خواتین کی ہے تو پھر میں اس سے متفق ہوں ،اگر وہ استطاعت نہیں رکھتیں تو مجتہد جیسے منصب سے دور ہی رہے اوراسلام کی بنیادی تعلیم حاصل کرکے اپنی زندگی گزاریں ، لیکن تمام خواتین پر یہ حکم نہیں لگایا جا سکتا کہ وہ سرے سے قرآن وحدیث اور فقہ کا علم ہی حاصل ہی نہ کریں ۔ اس زمانے میں جتنی زیادہ خواتین کو قرآن وحدیث اور فقہ کی تعلیم کی ضرورت ہے ،ایسی پہلے کبھی نہ تھی ، مسلمان عورت شرعی حدود کی پاسداری کرتے ہوئے قرآن وحدیث و فقہ کا ناصرف علم حاصل کرسکتی ہے بلکہ بلغو عنی ولو آیہ کے تحت اس کواپنی مسلمانوں ماؤں، بہنوں، بیٹیوں تک پہنچا بھی سکتی ہےـ اس موضوع پر ایک بیان سنا تھا ، ان شاء اللہ !کہیں سے ملا تو شیئر کروں گا-
     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,002
    سسٹر اس آيت سے يہ استدلال ميرى سمجھ سے بالاتر ہے۔
    1-ہو سکے تو آپ مذكوره آيت كى تفسيربھی دوبارہ سے دیکھیے ، قوام كا كيا معنى ہے؟

    2- آپ خود سے اس سوال كا جواب تلاش كيجيے کہ مفتى اور مجتهد كى (متفق عليہا) شروط ميں "مرد" ہونے كى شرط ہے ؟
    (اور اس تلاش ميں ہمارے معاشرے كى نام نہاد روايتوں كو ذرا دير كے ليے بھول جائیے گا ،يہاں تو عورت كو مسجد ، جمعة اور عيدين كى نمازوں سے بھی محروم ركھا جاتا ہے۔ بات اس معاشرے كى نہيں اسلام كى ہو رہی ہے۔ )

    كم از كم مجھے مجتهد اور مفتى كى شرائط ميں ايسى كوئى شرط نہيں ملى جو كسى عورت ميں نہ ہو سكتى ہو۔ اس لحاظ سے ميں آپ كى ان فرينڈ سے متفق ہوں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. ماہا

    ماہا ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏نومبر 27, 2010
    پیغامات:
    348
    لیکن میرا کہنا بھی صرف اس لئے تھا کہ کیونکہ ہم لوگ جہاں رہتی ہمیں وہاں مناسب وسائل میسر نہیں آرہے تھے
    اور
    دوسرا یہ کہ اس کے باوجود میں خود علم فقہ اور علوم القرآن میں مہارت حاصل کر رہی ہوں مسئلہ یہ بھی کے چھوٹے شہروں میں جو معلمات ہیں وہ بس واجبی سی تعلیم و تدریس کر رہی ہیں اللہ ان کی محنت قبول فرمائے
    علم فقہ کو جاننا تو ایک اعزاز لیکن ایسی صورت میں آپ کے خیال میں ہمیں کیا کرنا چاہیے جبکہ ہاسٹل میں رہنا شرعی طور پر ٹھیک نہیں مطلب کہ ہم لوگ نہیں جا سکتیں؟؟

    دوسرا اس آیت سے یہ استدلال اس لئے
    کیونکہ میری اس بہن کا کہنا تھا کہ ہر طرف مردوں کی اجارہ داری ہمیں جان بوجھ کر محروم رکھا جا رہا ہے توان کی تسلی کے لئے کہا تھا کہ وہ ہم پر حاکم ہیں
     
  8. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,920
    تمام تر اہل اسلام خواہ مرد ہوں یا خواتین سب ہی مجتہد ہوتے ہیں !
    ہاں
    یہ ضرور ہے کہ ہر ایک کے اجتہاد کا دائرہ کار مختلف ہوتا ہے ۔ کم ازکم معرفت الہی اور ایمانیات میں تمام تر مؤمنین و مؤمنات مجتہد ہی ہیں اور اپنے اسی اجتہاد کی بناء پر وہ منکر نکیر کو جوابا کہیں گے " قرأت کتاب اللہ فآمنت بہ وتصدقت " جبکہ اس کے برعکس کافر کہے گے " ھاہ ! ھاہ ! لا أدری " تو اسے جواب دیا جائے گا " لا تلیت ولا دریت " ....... یعنی تلاوت کتاب اللہ درایت کو پیدا کرتی ہے اور اسی درایت کا نام فقہ واجتہاد ہے ۔
    پھر آپ دیکھیے کہ بڑے بڑے اصولیوں نے بھی اجتہاد کے باب میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ہر مجتہد ہر فن میں مجتہد نہیں ہوسکتا ! إلا نادرا .....
    یعنی مجتہد تمام تر اہل اسلام ہوتے ہیں مگر کوئی اعلى درجہ کا مجتہد ہے اور کوئی کم درجہ کا , کوئی صرف ایک علم کا مجتہد ہے اور کوئی ایک سے زائد علوم میں درجہء اجتہاد پر فائز ہے ۔
    رہی وہ شرطیں جنہیں اصولی لوگ اجتہاد کے لیے لازم قرار دیتے ہیں تو وہ انکے اپنے تسلیم شدہ مجتہدین میں سے بہت سوں کے اندر نہیں پائی جاتیں !
    مثلا :
    اجتہاد کے لیے چند شروط یہ ہیں :
    http://www.deenekhalis.net/play.php?catsmktba=1226
    ان میں سے پہلی شرط تو ہر مؤمن کے ایمان کے تحقق کے لیے ضروری ہے ۔
    جبکہ باقی شروط کا پایا جانا گوکہ مجتہد کے لیے بہتر ہے لیکن لازم نہیں قرار دیا جاسکتا ۔
    مثلا : جب نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نماز عصر بنی قریظہ میں ادا کرنے کا حکم صادر فرمایا تھا تو اس وقت تمام تر صحابہ کرام نے اجتہاد کیا تھا اور کچھ نے بروقت نماز ادا کرلی اور کچھ نے بنی قریظہ پہنچنے تک نماز کو مؤخر کیا
    اب اس اجتہاد میں
    ۱۔ صرف اور صرف ایک ہی نص سامنے تھی , کچھ اور نہ تھا
    ۲۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے بہت سے لوگ لغت عربی سے واقف تھے جبکہ کچھ ایسے بھی تھے جو عرب ہونے کے باوجود قواعد لغت سے کما حقہ آشنا نہ تھے جیسا کہ آج بھی اردو بولنے والوں کی اکثریت اردو کے قواعد لغت سے آشنا نہیں ہوتی ۔
    ۳۔ نماز کو بروقت ادا کرنا اجماعی مسئلہ تھا لیکن ایک نص کے مشترک المعنى ہونے کیوجہ سے مجتہدین کے دو گرہ بنے اور کسی پر نکیر نہ کی گئی
    وغیرہ وغیرہ
    لہذا اگر ان باتوں کو ملحوظ رکھا جائے تو یہ کہنے میں کوئی تردد نہ ہوگا کہ ہر مؤمن مجتہد ہی ہوتا ہے !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,002
    جزاك اللہ خيرا وبارك فيك ۔
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,002

    جزاك اللہ خيرا وبارك فيك ۔
    اس ربط پر بعض معاصر علماء كرام كى مفصل رائے بھی موجود ہے اور ايسى خواتين كا تذكرہ بھی ۔
    موقع الفقه الإسلامي - الفقه اليوم - حكم تصدي المرأة الفقيهة للفتوى لبنات جنسهن

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,002

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں