دکھیاری ماں

ابو ہریرہ نے 'مجلس اطفال' میں ‏دسمبر 26, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو ہریرہ

    ابو ہریرہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 18, 2015
    پیغامات:
    42
    دکھیاری ماں

    ابو امیہ مکہ میں قریش کے خاندان بنومخزوم کے سرداروں میں سے تھے۔ وہ بڑے دولت مندسخی اور شریف آدمی تھے۔اللہ نےان کوایک بیٹی دی تو انہوں نےاس کو اچھی اچھی عادتیں سکھائیں۔جب وہ بڑی ہوئیں تو ان کی شادی اپنے چچاکےبیٹے عبداللہ سے ہوگئی۔عبداللہ بڑےنیک نوجوان تھے وہ رسول پاکﷺ کی پھوپھی بَرّہ کی بیٹے اور آپﷺکے دودھ شریک بھائی تھے۔رسول پاکﷺ نے لوگوں کواسلام کی طرف بلانا شروع کیا تو کچھ مدت بعد عبداللہﷺ اوربی بی ہند دونوں آپﷺ پر ایمان لےآئے۔اس زمانے میں جوشخص اسلام قبول کرتا مکہ کے کا فر اس کو بہت ستاتے اورطرح طرح کی تکلیفیں دیتےتھے۔چنانچہ انہوں نے سیدنا عبداللہ﷛اور بی بی ہند﷠ کو بھی ستانا شروع کردیا۔اس وقت ابوامیہ فوت ہوچکے تھے اور کافروں کوان پرظلم کرنے سے روکنے والا کوئی نہ تھا۔

    آخرنبوت کےپانچویں سال رسول پاکﷺکے فرمانے پردونوں میاں بیوی کچھ دوسرے مسلمانوں کےساتھ مکے سے حبشہ کے ملک کی طرف ہجرت کرگئے وہاں ایک نیک بادشاہ کی حکومت تھی جوکسی پرظلم نہیں ہونے دیتاتھا۔ سیدنا عبداللہ﷛ اور بی بی ہند﷠کوحبشہ گئے ہوئے دوتین ماہ ہی گزرے تھےکہ انہوں نے یہ خبرسنی کہ مکہ کے کافرمسلمان ہوگئے ہیں۔اس پر وہ حبشہ سےمکہ واپس آگئے۔یہاں پہنچ کرمعلوم ہوا کہ وہ خبرغلط تھی‘اب کافروں نے آپ کو اورزیادہ ستانا شروع کردیا‘ اس پر وہ اگلےسال پھر حبشہ چلے گئے اورکئی سال تک وہاں پردیس کی زندی گزارتے رہے‘ اسی زمانے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک چاند سا بیٹا دیا جس کانام انہوں نے سلمہ رکھا۔ اسی کے نام پرلوگ سیدنا عبداللہ﷛کو ابو سلمہ (سلمہ کے باپ) ا ور سیدہ ہند﷠ کوام سلمہ(سلمہ کی ماں ) پکارنے لگے۔ابھی سلمہ﷛ چھوٹے ہی تھے کہ دونوں میاں بیوی حبشہ سے مکہ واپس آگئے جب کافروں نے انہیں پھر ستایا تودونوں نے مدینے کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ کرلیا۔ روانگی کے وقت سیدناابوسلمہ﷛سےکہاکہ تم بچے (سلمہ﷛) کوگودمیں لے کر اونٹ پر بیٹھ جاؤ۔سیدہ ام سلمہ﷠نے ایساہی کیا اور سیدنا ابوسلمہ ﷛ اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل پڑے۔اتنے میں کسی نے سیدہ ام سلمہ﷠کے میکے کو لوگوں کو جاکر بتادیا کہ وہ اپنے شوہر کےساتھ مکہ سےکہیں دورجارہی ہیں۔ وہ دوڑے آئے اورسیدنا ا بوسلمہ﷛ کوروک کرکہنے لگے:تم خود تو ہمارے قابومیں نہیں رہے۔ جہاں تمہارا جی چاہے جاؤ مگرہم اپنی لڑکی (ام سلمہ) کو تمہارے ساتھ نہیں جانےدیں گے‘ پھر جب ابوسلمہ﷛ کےخاندان والوں نے سنا کہ ام سلمہ﷛ کےخاندان والوں نےاپنی لڑکی ابوسلمہ﷛سےچھین لی ہے تووہ ان پاس گئے اور ان سےکہا کہ تم نےجب ہمارے آدی سے اپنی لڑکی چھین لی ہے تو ہم اپنے لڑکے سلمہ کواس کے پاس کیوں چھوڑدیں؟ یہ کہہ کرانہوں نےننھے سلمہ کو سیدنا ام سلمہ﷠ سے چھین لیا ام سلم رضی اللہ عنہا شوہر سے بھی جدا ہوگئی اوربچے سےبھی۔شوہر کےبارے میں تو ان خیال تھا کہ کسی نہ کسی طرح مدینے پہنچ گئے ہوں گے مگر بچے کی جدئی برداشت کرنا ان کی طاقت سے باہر تھا۔دکھیاری ماں ہر روزگھرسے نکل کرمکہ کےایک ٹیلے پر بیٹھ جاتی اور روتی رہتی۔ دوچار دن نہیں‘ پورا ایک سال اسی طرح گزرگیا۔ آخرکو ان (ام سلمہ) خاندان کےایک شخص کو ان پررحم آگیا اور اس نےخاندان کے لوگوں سےجاکرکہا کہ تم اس بے چاری کو کیوں نہیں جانے دیتے؟ تم نےاس کوشوہر کےسےجدا کردیا اوربچے سےبھی۔اب انہیں بھی سیدہ امسلمہ﷠ کی بے کسی کا خیال آگیا اورانہوں نے ان سےکہا کہ تو اپنے شوہر کےپاس جانا چاہتی ہے تو چلی جا۔ادھر سیدنا ابوسلمہ﷛کےخاندان والوں کو جب ییہ خبر ملی توانہوں نے بھی ننھےسلمہ﷛کو ماں کےحوالے کردیا۔ وہ بچے کولیے ہوئے اپنے اونٹ پراکیلے مدینے کی طرف روانہ ہوگئیں۔

    تین سومیل کاسفرتھا لیکن انہیں اللہ تعالیٰ پر پورابھروسا تھا کہ وہ ان کی حفاظت کرے گا۔سیدہ ام سلمہ﷠مکے سے تقریبا پانچ میل کےفاصلے پر تنعیم کے مقام پر پہنچیں تو انہیں مکے کےایک شریف آدمی عثمان بن طلحہ﷛ ملے انہوں نے پوچھا ابوامیہ کی بیٹی کدھر جارہی ہو؟ سیدہ ام سلمہ﷛نےکہا: اللہ اور اس بچے کےسوامیرےساتھ کوئی نہیں‘مدینے میں جارہی ہوں۔ عثمان بولے :اللہ کی قسم! میں تمہیں اکیلی نہیں جانے دوں گا‘ پھر وہ انکےاونٹ کی نکیل پکڑ کرچلنے لگے۔جب کوئی ٹھہر نے جگہ آتی تووہ سیدہ ام سلمہ﷠کےاونٹ کوبٹھاکرپرے ہٹ جاتے۔ جب وہ بچے کولے کواترجاتیں تواونٹ کوکسی درخت سےباندھ دیتے اورخود دور کسی درخت کےنیچے جالیٹتے۔پھر جب چلنے کا وقت آتا تو وہ اونٹ کو لا کر بٹھاتے اور پرے ہٹ کر ان سےکہتے کہ سوارہوجاؤ۔وہ سوارہوجاتیں تو اونٹ کی نکیل پکڑ کرچل پڑتے۔غرض اسی طرح چلتے چلاتے مدینے کے قریب پہنچ گئے۔اب انہوں نے سیدہ ام سلمہ﷠ سے کہا:تمہارے شوہر اسی شہر میں ہیں‘اس کےپاس چلی جاؤ۔اللہ تمہیں برکت دے۔پھر وہاں سے پیدل ہی مکہ واپس چلے گئے۔ بعد میں ام سلمہ﷠ فرمایا کرتی تھیں: اللہ کی قسم! میں نے عثمان سے زیا دہ ساتھ دینے والا شریف آدمی کبھی نہیں دیکھا۔ سیدہ ام سلمہ﷠ کےمدینہ پہنچنے کےتیسرےسال احد کی لڑائی پیش آئی جس میں ان کے شوہر سیدنا ابوسلمہ﷛ شدید زخمی ہوگئے اورچند ماہ بعد فوت ہوگئے۔انہوں نےپیچھے چار بچے چھوڑے دولڑکے اوردو لڑکیاں۔سیدہ ام سلمہ﷠نےاللہ کےراستے میں مصیبتیں جھیلی تھیں‘اس لیے رسول پاکﷺ کو ان کا بڑاخیال تھا۔اب وہ بیوہ ہوگئیں تو آپ ﷺنے کچھ مدت کے بعد انہیں سہارا دینے کےلیے نکاح کا پیغام بھیجا جو انہوں نے قبول کرلیا اوریوں وہ سارے مسلمانوں کی ماں بن گئیں ۔رسول پاکﷺنے ان کےچاروں بچوں کوبڑی محبت اورشفقت سے پالا۔ سیدناام سلمہ﷠ اپنے والد کی طرح بے حدسخی تھیں۔ان کےدروازے سے کوئی سوالی خالی نہیں جاتا تھا۔ عبادت کابھی بہت شوق تھا۔رمضان المبارک کے روزوں کےعلاوہ ہرمہینے تین روزےضرور رکھتی تھیں۔زندگی بہت سادہ تھی۔اللہ اوراللہ کےرسول ﷺکے ہرحکم کی سختی سےپابندی کرتی تھیں۔اللہ تعالیٰ نےعلم بھی بہت عطا کیا تھا۔انہوں نے 23ہجری میں 48سال کی عمرمیں وفات پائی۔

    (غمگساربیوی:طالب ہاشمی)

    ***
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 27, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • اعلی اعلی x 1
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,043
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,803
    بہت خوب جزاک اللہ خیرا۔
     
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    11,253
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں