رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو نفع پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتے

بابر تنویر نے 'تقابلِ مسالک' میں ‏ستمبر 17, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,581
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو نفع پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتے

    علماء انبیاے کرام کے وارث ہیں. البتہ انبیاے کرام کے علاوہ جومشایخِ علم اوردین کے علماء ہیں،تو اگر کسی شخص نے انہیں رسولﷺاورآپ کی امت کے درمیان اس طورپرواسطہ ثابت کیا کہ وہ لوگوں کو (اللہ کے حکم کی )تبلیغ کرتے ہیں ،انہیں تعلیم دیتے ہیں اور انہیں ادب وتہذیب سکھلاتے ہیں اور لوگ ان کی اقتدا کرتے ہیں، تو اس کا یہ عمل درست ہے ۔ یہ علماے دین اگر کسی حکم پر اجماع( اتفاق )کر لیں تو ان کا یہ اجماع قطعی حجت اور دلیل ہے(کیونکہ) یہ لوگ ضلالت وگمراہی پر اتفاق نہیں کر سکتے، اور اگر یہ کسی چیز میں اختلاف کر بیٹھیں تواسے اللہ(کی کتاب) اور اس کے رسول(کی سنت) کی طرف لوٹایا جائے گا؛ کیونکہ ان میں سے کوئی شخص علی الاطلاق (خطاؤں سے) معصوم نہیں ہے،بلکہ سول اللہﷺکے علاوہہر شخص کی بات لی بھی جا سکتی ہے اور چھوڑی بھی جا سکتی ہے۔
    اورنبیﷺکاارشاد ہے
    (اَلْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ، فإِنَّ الأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلاَ دِرْهَمًا، إِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَهُ فَقَدْأَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ)) ’’
    علماء، انبیاے کرام کے وارث ہیں، کیونکہ انبیاے کرام نے دینار ودرہم (سونا وچاندی) ترکہ میں نہیں چھوڑا ہے، بلکہ انہوں نے علم(دین) کی میراث چھوڑی ہے، لہٰذا جس شخص نے اس علم کو حاصل کیا اس نے(اس میراث کا)پورا پورا حصہ حاصل کرلیا۔‘‘
    (ابوداود اورترمذی نے روایت کیا ہے،اوریہ حدیث شواہد کی بنا پر حسن ہے)
    جس شخص نے ان علما ومشایخ کواللہ اور اس کی مخلوق کے درمیان اس طرح واسطہ ٹھہرایا۔جیسے بادشاہ اور اس کی رعایا کے درمیان دربان واسطہ ہوتے ہیں۔ کہ وہی مخلوق کی ضرورتوں کواللہ تعالیٰ کے پاس پہنچاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ انہیں کے واسطہ سے اپنے بندوں کو ہدایت دیتااور روزی بہم پہنچاتا ہے؛ چنانچہ مخلوق ان سے سوال کرتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں؛جس طرح کہ بادشاہوں کے پاس واسطہ والے(یعنی درباری وغیرہ) ان سے لوگوں کی ضرورتوں کا سوال کرتے ہیں،کیونکہ یہ درباری حضرات بادشاہ کے قریبی ہوتے ہیں، لہٰذا لوگ ادب کے مارے براہ راست بادشاہ سے سوال کرنے کے بجائے انہی دربار یوں سے سوال کرتے ہیں،یا اس لئے کہ واسطوں کے ذریعہ سوال کرناان کے لئے بذات خود بادشاہ سے سوال کرنے سے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے، کیونکہ وہ لوگ ضرورتوں کے طلب گار کی نسبت بادشاہ سے زیادہ قریب ہوتے ہیں ! لہٰذا جس شخص نے انہیں مذکورہ بالا طریقے پر(اللہ اور اس کی مخلوق کے درمیان) واسطہ ثابت کیا، وہ کافرو مشرک ہے، اس سے توبہ کرواناوا جب ہے، اگر وہ توبہ کرلیتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ اسے قتل کردیا جائے گا، یہ لوگ اللہ کی تشبیہ دینے والے ہیں، انہوں نے مخلوق کو خالق کے مشابہ قرار دیا اور اللہ تعالیٰ کے لئے شریک ٹھہرایاہے۔ قرآن کریم کے اندر ایسے لوگوں کی تردید میں اتنی آیتیں ہیں کہ جس کے لئے یہ فتویٰ وسعت نہیں رکھتا۔ [مردُود واسطوں کی قسمیں] وہ واسطے جو بادشاہوں اور لوگوں کے مابین ہوتے ہیں وہ تین وجوہ میں سے کسی ایک پر ہوتے ہیں: ۱۔ان(بادشاہوں) کولوگوں کے بعض احوال سے آگاہ کرنے کے لئے جسے وہ نہیں جانتے ہیں، اور جس شخص نے یہ بات کہی کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے احوال کو نہیں جانتا ہے یہاں تک کہ کچھ فرشتے یا انبیاء یا ان کے علاوہ دوسرے لوگ اسے اس کی خبر دیں، تو ایسا شخص کافر ہے، بلکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ تو مخفی اور پوشیدہ چیزوں کی بھی خبر رکھتا ہے، آسمان اور زمین میں کوئی بھی چیز اس سے مخفی اور پوشیدہ نہیں ہے،وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے، مختلف زبانوں اور انواع واقسام کی حاجتوں اور ضرورتوں پر مشتمل آوازوں کے شور کو بھی سنتا ہے، ایک چیز کا سننا اسے دوسری چیز کے سننے سے غافل نہیں کر سکتا، اور نہ ہی سوالوں کی کثرت اسے غلطی میں ڈال سکتی ہے، اور نہ ہی وہ سوال کے اندر الحاح واصرار کرنے والوں کے الحاح واصرار سے اکتاتا ہے۔ ۲۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بادشاہ۔معاونین کی مددکے بغیر۔ اپنی رعایا کے معاملوں کی تدبیر کرنے اور اپنے دشمنوں کا دفاع کرنے سے عاجز وبے بس ہوتاہے، لہٰذااس کی کمزوری وعاجزی کی وجہ سے اس کے لئے معاونین ومددگاروں کا ہونا ضروری ہے ۔لیکن اللہ تعالیٰ کے لئے کمزوری کی وجہ سے کوئی معاون ومددگار اور ولی نہیں ہے،
    اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:
    (قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِن شِرْكٍ وَمَا لَهُ مِنْهُم مِّن ظَهِيرٍ) ’’کہہ دیجئے ! کہ اللہ کے سوا جن جن کا تمہیں گمان ہے (سب) کو پکارلو، نہ ان میں سے کسی کو آسمانوں اور زمینوں میں سے ایک ذرہ کا اختیار ہے نہ ان کا ان میں کوئی حصہ ہے نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے۔‘‘(سباء22)
    اور اللہ تعالی ٰنے فرمایا:
    (وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ ۖ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا)
    ’’اور یہ کہہ دیجئے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو نہ اولاد رکھتا ہے نہ اپنی بادشاہت میں کسی کو شریک وساجھی رکھتا ہے اور نہ وہ کمزور ہے کہ اسے کسی کی حمایت کی ضرورت ہو اور تو اس کی پوری پوری بڑائی بیان کرتا رہ ۔‘‘ (اسراء،111)
    عالم وجود میں جو بھی اسباب ہیں ان کا وہ خالق،رب اور مالک ہے، لہٰذا وہ اپنے ماسوا تمام چیزوں سے بے نیاز ہے اور اس کے ماسوا تمام چیزیں اس کی محتاج ہیں، برخلاف بادشاہوں کے جو اپنے مددگاروں اور معاون کاروں کے محتاج ہوتے ہیں، اور درحقیقت وہ بادشاہت کے اندر ان کے شریک و ساجھی ہوتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کا اس کی بادشاہت میں کوئی شریک و ساجھی نہیں ہے،بلکہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں وہ اکیلاہے اس کا کوئی شریک وساجھی نہیں، اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اسی کے لئے تعریف اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ ۳۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ باشاہ کسی خارجی تحریک اوربیرونی دباؤ کے بغیر اپنی رعایا کے مفاد اور ان کے ساتھ احسان وبھلائی اور رحمت ومہربانی کابرتاؤ کرنے کا خواہاں نہیں ہوتاہے۔ لہٰذا جب بادشاہ سے ایسا شخص مخاطب ہوتا ہے جو اسے وعظ ونصیحت کرتا ہے، یا جو اسے اس کی طرف رہنمائی کرتا ہے ، بایں طور کہ بادشاہ اس سے خوف وامید رکھتا ہے، تو بادشاہ کا عزم وارادہ اپنی رعایا کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے حرکت میں آتا ہے،یا تو اس لئے کہ اس کے دل میں وعظ و نصیحت کرنے والے مشیر کی بات کا اثر پیداہوتا ہے، اور یا تو اس وجہ سے کہ رہنمائی کرنے والے کی بات سے اسے رغبت(لالچ)یارہبت(ڈر) حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ہر چیز کا رب اور مالک ہے، وہ اپنے بندوں پر ماں کے اپنے بچے پر رحم کرنے سے کہیں زیادہ رحم کرنے والا ہے، اور تمام چیزیں اسی کی مشیت سے وقوع پذیر ہوتی ہیں، جس چیز کو اس نے چاہا وہ ہوئی اور جس چیز کو نہیں چاہا وہ نہیں ہوئی، اسی نے بندوں کو آپس میں ایک دوسرے کے لئے نفع بخش بنایا، چنانچہ جس کے نتیجہ میں یہ اس کے ساتھ احسان وبھلائی کرتا ہے ،اس کے لئے دعا کرتا ہے اور اس کے بارے میں سفارش کرتا ہے وغیرہ، تویہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کی ہیں، اسی نے اس محسن (احسان کرنے والے)اور دعا وسفارش کرنے والے کے دل میں احسان، دعا اور سفارش کا ارادہ اور جذبہ پیدا کیا۔ اور یہ جائز نہیں ہے کہ کائنات میں کوئی ایسا شخص ہو جو اسے اس کی مراد کی خلاف ورزی پرمجبور کرسکے، یا اسے ایسی چیز بتلائے جسے وہ نہ جانتا رہاہو،یا یہ کہ اس سے رب تعالیٰ خوف ا ور امید رکھے،
    اسی لئے نبیﷺنے ارشاد فرمایا:
    ((‏لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ ‏، ‏وَلَكِنْ ‏ ‏لِيَعْزِمْ ‏‏الْمَسْأَلَةَفَإِنَّه لَا مُكْرِهَ لَهُ)) ’’تم میں سے کوئی شخص یہ دعا نہ کرے: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ ( اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما) بلکہ اسے عزم کے ساتھ سوال کرنا چاہئے، کیونکہ اسے ( یعنی اللہ کو)کوئی مجبور کرنے والا نہیں ہے۔‘‘(متفق علیہ)
    اوروہ سفارشی جو اس کے پاس سفارش کریں گے اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتے،
    جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
    (مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ) ’’کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے۔‘‘([البقرتہ 255]) اور اللہ تعالی ٰنے فرمایا (وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ) ’’وہ کسی کی بھی سفارش نہیں کرتے بجز ان کے جن سے اللہ خوش ہو۔‘‘
    نیز اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
    (قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِن شِرْكٍ وَمَا لَهُ مِنْهُم مِّن ظَهِيرٍوَلَا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ عِندَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ)(الانبیاء:۲۸) ’’کہہ دیجئے !کہ اللہ کے سوا جن جن کا تمہیں گمان ہے (سب) کو پکارلو، نہ ان میں سے کسی کو آسمانوں اور زمینوں میں سے ایک ذرہ کا اختیار ہے نہ ان کا ان میں کوئی حصہ ہے نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے۔ شفاعت (سفارش) بھی اس کے پاس کچھ نفع نہیں دیتی بجز ان کے جن کے لیے اجازت ہوجائے۔‘‘
    (سبا:۲۲،۲۳])
    اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کردیا کہ ہر وہ شخص جسے اس(اللہ) کے سوا پکارا جاتا ہے نہ تو وہ کسی چیز کا مالک ہے اور نہ ہی اس کا اس میں کوئی حصہ ہے اور نہ ہی وہ مددگار ہے،اور ان کی شفاعت صرف اسی کو فائدہ دے سکتی ہے جس کے لیے اجازت ہو۔ برخلاف بادشاہوں کے کہ ان کے پاس شفاعت کرنے والا بسا اوقات با ا ختیار ہوتا ہے، کبھی کبھار بادشاہت کے اندر ان کا شریک ہوتا ہے اور کبھی کبھی توان کی بادشاہت پر ان کا معاون ومددگار بھی ہوتا ہے۔ نیز یہ لوگ بادشاہ کے پاس ان کی اجازت کے بغیر سفارش کرتے ہیں، اور بادشاہ کبھی تو ان کا حاجتمند ہونے کی وجہ سے ، کبھی تو ان سے ڈرنے کی وجہ سے اور کبھی کبھار اپنے اوپر ان کے احسان کا بدلہ اور صلہ دینے اور اس پرانہیں انعام واکرام سے نوازتے ہوئے ان کی شفاعت کوقبول کرتا ہے، یہاں تک کہ اسی وجہ سے وہ اپنی بیوی اور بچے کی سفارش بھی قبول کرتا ہے، کیونکہ وہ بیوی اور بچے کا محتاج ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر اس کی بیوی اور بچے اس سے اعراض کرلیں تو اسے اس کے سبب نقصان پہنچے گا،نیزاپنے غلام (خادم) کی بھی سفارش قبول کرتا ہے، اگر اس کی سفارش قبول نہ کرے تو اسے خوف ہوتا ہے کہ کہیں اس کی اطاعت سے انکار نہ کربیٹھے،یا اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔ بندوں کا آپس میں ایک دوسرے کے پاس سفارش کرناسب کے سب اسی قسم سے ہے، چنانچہ کوئی شخص کسی کی شفاعت صرف رغبت(کسی لالچ) یا رہبت(کسی ڈر) کی وجہ سے ہی قبول کرتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نہ تو کسی سے کوئی امید رکھتا ہے اور نہ ہی اس سے ڈرتا ہے اور نہ ہی کسی کا وہ محتاج ہے، بلکہ وہ ہر چیز سے بے نیاز اور مستغنی ہے،
    اللہ تعالی ٰنے ارشاد فرمایا:
    (أَلَا إِنَّ لِلَّـهِ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ ۗ وَمَا يَتَّبِعُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ شُرَكَاءَ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ)’’یاد رکھو کہ جتنے کچھ آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں یہ سب اللہ ہی کے ہیں اور جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسرے شرکاء کو پکارتے ہیں وہ تو صرف وہم وگمان پیروی کررہے ہیں ،اور محض اٹکلیں لگارہے ہیں۔‘‘(یونس:۶۶)
    یہاں تک کہ فر مایا:
    (قَالُوا اتَّخَذَ اللَّـهُوَلَدًا ۗسُبْحَانَهُ ۖهُوَ الْغَنِيُّ ۖلَهُ مَا فِيالسَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ) ’’وہ کہتے ہیں کہ اللہ اولاد رکھتا ہے۔ سبحان اللہ! وہ تو کسی کا محتاج نہیں اسی کی ملکیت ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔‘‘(یونس:۶۸)
    اور مشرکین اسی جنس سے سفارشی بناتے ہیں جسے وہ سفارش شمار کرتے ہیں،
    اللہ تعالی ٰنے ارشادفرمایا:
    (وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَـٰؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللَّـهِ ۚ قُلْ أَتُنَبِّئُونَ اللَّـهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ ۚسُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ) ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عباد ت کرتے ہیں جو نہ ان کوضرر پہنچا سکیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کو ایسی چیزوں کی خبر دیتے ہو جو اللہ تعالی ٰکو معلوم نہیں، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں، وہ پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے ۔‘‘ (یونس:۱۸)
    اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    (فَلَوْلَا نَصَرَهُمُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ قُرْبَانًا آلِهَةً ۖ بَلْ ضَلُّوا عَنْهُمْ ۚ وَذَٰلِكَ إِفْكُهُمْ وَمَا كَانُوا يَفْتَرُونَ) ’’پس قرب الہی حاصل کرنے کے لیے انہوں نے اللہ کے سوا جن جن کو اپنا معبود بنا رکھا تھا انہوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی؟ بلکہ وہ تو ان سے گم ہوگئے، (بلکہ در اصل) یہ ان کا محض جھوٹ اور (بالکل) بہتان تھا۔‘‘(الاحقاف:۲۸)
    اور مشرکوں کے بارے میں خبر دی ہے کہ انہوں نے کہا: (مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّـهِ زُلْفَىٰ)
    ’’ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ( بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرادیں۔‘‘(الزمر:۳)
    اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    (وَلَا يَأْمُرَكُمْ أَن تَتَّخِذُوا الْمَلَائِكَةَ وَالنَّبِيِّينَ أَرْبَابًا ۗ أَيَأْمُرُكُم بِالْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ) ’’اور یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ تمہیں فرشتوں اور نبیوں کو رب بنالینے کا حکم کرے، کیا وہ تمہارے مسلمان ہونے کے بعد بھی تمہیں کفر کا حکم دے گا۔‘‘(آل عمران:۸۰)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,544
    جزاک اللہ خیرا و نفع بک
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں