زندگی میں انسان کے پہلا قدم رکھنے کی کہانی

طارق اقبال نے 'اسلام اور سائنس' میں ‏اگست 27, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. طارق اقبال

    طارق اقبال محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 3, 2009
    پیغامات:
    293
    زندگی میں انسان کے پہلا قدم رکھنے کی کہانی

    قرآ ن کی بہت سی سورتوں میں اللہ نے ہماری توجہ تخلیق ِانسان کی جانب مبذول کروائی ہے ۔ وہ لوگوں کو اس تخلیق پر غوروفکر کرنے کی دعوت دیتاہے ۔سورہ الانفظار میں ارشاد ہوتاہے

    '' اے انسان کس چیزنے تجھے اپنے اس رب کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال دیا جس نے تجھے پیداکیا ۔تجھے نک سک سے درست کیا ۔تجھے متناسب بنایا اور جس صورت میں چاہا تجھ کو جوڑ کر تیا رکیا ''(الانفطار :6-8)

    سورة یٰس میں انسان کو خبردار کرتے ہوئے فرمان الہی جاری ہوتاہے:

    ''کیا انسان دیکھتانہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیداکیا اور پھر وہ صریح جھگڑالو بن کر کھڑا ہو گیا ؟اب وہ ہم پر مثالیں چسپاں کرتاہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے ،کہتا ہے کون ان ہڈیوں کو زندہ کرئے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہوچکی ہوں؟اس سے کہو انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پید اکیا تھا اور وہ تخلیق کاہر کام جانتاہے ''۔ (یٰس : 77-79)

    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں انسان کی تخلیق اور پیدائش کے ان مراحل کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیاہے جو ماں کے رحم میں حمل ٹھہرنے کے بعد وقوع پذیر ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سورة المٔومنون میں فرماتاہے:

    (وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍ ۔ ثُمَّ جَعَلْنٰہُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ ۔ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَاالْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَکَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا ق ثُمَّ اَنْشَاْنٰہُ خَلْقًا اٰخَرَ ط فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ)

    '' اور ہم نے انسان کو مٹی کے سَت سے پیداکیا۔پھر ہم نے اسے ایک محفوظ مقام (رحم مادر)میں نطفہ بنا کر رکھا۔پھر نطفہ کو لوتھڑا بنایا پھر لوتھڑے کو بوٹی بنایا پھر بوٹی کو ہڈیاں بنایا پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا،پھر ہم نے اسے ایک اور ہی مخلوق بنا کر پیدا کر دیا۔ پس بڑا بابرکت ہے ،اللہ جو سب بنانے والوں سے بہتر بنانے والا ہے''( 23:12-14)

    آیئے اب جدید سائنس کی روشنی میں یہ معلوم کرتے ہیں کہ ماں کے پیٹ میں بچہ کس طرح پر ورش پا تاہے اور ا س میں اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان قدرت کا جلوہ کس قدر جلوہ گرہے ۔نطفہ جو ایک نئے انسان کی تخلیق کی جانب پہلاقد م ہے ،مرد کے جسم کے ''باہر''پیدا ہوتا ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ سپرم یا مادہ منویہ کا پیدا ہونا صرف اس وقت ممکن ہو تا ہے جب جسم کے عام درجہ حرارت سے دو درجے زیادہ سرد ماحول میسر ہو۔ درجہ حرارت کو اس سطح پر قائم رکھنے کے لیے خصیوں کے اوپر ایک خا ص قسم کی کھال ہوتی ہے۔ یہ سر د موسم میں سکٹرتی اور گرم موسم میں پھیلتی ہے جس سے درجہ حرارت غیر متغیر ہو جاتا ہے۔کیا مرد اس نازک توازن کو خود قائم رکھتا ہے اور اس میںباقاعدگی وہ خود لاتاہے ؟یقینانہیں ...مرد کو تو اس کی خبر بھی نہیں ہوتی۔تو پھر اس چیز کا انتظام کس نے کیا ؟ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ ذات باری تعالیٰ کے سو اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔

    نطفہ خصیوںمیں 1000فی منٹ کی شرح سے پید اہوتاہے۔ایک اوسط درجے کے آدمی کا ایک بار خارج شدہ مادہ تولید اپنے اندر تقریباً 30 تا 40کروڑ سپرم رکھتاہے جس سے تیس سے چالیس کروڑ عورتوں کے حمل واقع ہو سکتے ہیں۔ مگر اللہ کی قدرت کا کرشمہ یہ ہے کہ عموماً ایک ہی سپرم کو عورت کے بیضہ دان کے ساتھ ملاپ کا موقع دیا جاتاہے ۔سپرم کی لمبائی 0.004سے 0.005 ملی میٹر جبکہ چوڑائی 0.002 سے 0.003ملی میٹر تک ہوتی ہے ۔سپرم کو عورت کے بیضہ دان تک پہنچنے کے لیے اسے ایک خا ص شکل دی جاتی ہے۔ یہ سپرم کا ایک ایسا سفر ہو تا ہے جو یوں طے ہوتاہے جیسے وہ اس جگہ سے ''واقف ''ہے جہاں اسے پہنچنا ہے۔ سپرم کا ایک سر ،ایک گردن اور ایک دم ہوتی ہے۔ اس کی دم رحم مادر میں داخل ہونے میں مچھلی کی مانند اس کی مدد کرتی ہے۔اس کے سر والے حصے میں بچے کے جنینی کوڈ کا ایک حصہ ہوتاہے اسے ایک خا ص حفاظتی ڈھال سے ڈھانپ دیا جاتا ہے۔اس ڈھال کا کام اس وقت ظاہر ہوتاہے جب نطفہ رحم مادر میں داخل ہونے والے راستے پر پہنچتا ہے۔ یہاں کا ماحول بڑا تیزابی ہوتا ہے۔یہ بات بالکل واضح ہے کہ سپرم کو حفاظتی ڈھال سے ڈھانپنے والا''کوئی '' ہے جسے اس تیزاب کا علم ہے (اس تیزابی ماحول کا مقصد یہ ہے کہ ماں کو خوردبینی جرثوموں سے تحفظ دیا جائے)۔
    نطفے یا منی کے اندر ان سیال مادوں میں شکر شامل ہوتی ہے جو اسے مطلوبہ توانائی فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی بنیادی ترکیب میں کئی ایک کام کرنے کے ہوتے ہیں۔ مثلاً یہ رحم مادر کے داخلی راستے کے تیزابوں کو بے اثر بناتی ہے اور سپرم کو حرکت دینے کے لیے درکار پھسلن کو برقرا ر رکھتی ہے۔ (یہاں ہم پھر دیکھتے ہیں کہ دو مختلف اور آزاد چیزیں ایک دوسرے کے مطابق تخلیق کی گئی ہیں)۔منی کے جرثومے ماں کے جسم کے اندرایک مشکل سفر طے کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ بیضے تک پہنچ جاتے ہیں۔

    بیضہ
    گو سپرم کا نمونہ بیضہ کے مطابق تیا ر کیا جاتا ہے مگر دوسری طرف اسے با لکل مختلف ماحول میں زندگی کے بیج کے طور پر تیا ر کیا جاتا ہے۔ عورت اس بات سے جس وقت بے خبر ہوتی ہے اس وقت سب سے پہلے ایک بیضہ جسے بیضہ دان میں بلوغت تک پہنچایا جاتاہے ،عورت کی شکمی جوف میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔پھر رحم مادرکی فیلوپی نالیوں کے ذریعے جو دو بازؤوں کی شکل میں رحم مادر کے کنارے پر موجود ہوتی ہیں اسے پکڑ لیا جاتاہے۔اس کے بعد بیضہ فیلوپی نالیوں کے اندر ایک باریک سے بال (Cilia)کی مدد سے حرکت شروع کر دیتا ہے۔یہ بیضہ نمک کے ذرّے کے نصف کے برابر ہوتاہے۔
    وہ جگہ جہاں بیضہ اور نطفہ ملتے ہیں اسے فیلوپی نالی کہتے ہیں۔ یہاں یہ بیضہ ایک خا ص قسم کا سیال مادہ یا رطوبت خارج کرنا شروع کر دیتاہے اور اس رطوبت کی مدد سے منی کے جرثومے یا سپرم بیضہ کے محل وقوع کا پتہ لگا لیتے ہیں، ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے :جب ہم یہ کہتے ہیں کہ بیضہ ''رطوبت خارج کرنا شروع کردیتا ہے''تو ہم انسان کے بارے میں یا ایک باشعور وجود کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہوتے۔ اس بات کی وضاحت اس طرح کرنا یقینا غلط ہو گا کہ اتفاقاً ایک خوردبینی لحمیے کی کمیت اس قسم کا کام از خود کرلیتی ہے۔ اورپھر ایک کیمیائی مرکب تیارکرتی ہے جس میں رطوبت بھی موجود ہو جو منی کے جرثوموں کو خود ہی اپنی طرف کھینچ لے۔یقینایہ کسی ہستی کی صناعی کا کرشمہ ہے۔
    مختصر یہ کہ جسم میں تولید کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے تاکہ بیضہ اور نطفہ یکجا کیے جا سکیں…اس کا مطلب یہ ہوا کہ عورت کا تولیدی نظام منی کے جرثوموں کی ضروریا ت کے مطابق بنایا گیا ہے اور یہ جرثومے عورت کے جسم کے اندر کے ماحول کی ضرورتوں کے مطابق تخلیق کیے جاتے ہیں۔سپرم اور بیضہ کے یکجا ہونے کی خبر اللہ تعالیٰ نے درج ذیل آیت کریمہ میں دی ہے ۔
    (ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنُ مِّنَ الدِّھْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَذْکُورًا ۔ ِانِّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ ٍ نَّبْتَلِیْہِ فَجَعَلْنٰہُ سَمِیْعًا بَصِیْرًا)

    ''کیا انسان پر لامتناہی زمانے کا ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے جب وہ کوئی قابل ِ ذکر چیز نہ تھا؟ ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفہ سے پیدا کیا تاکہ اس کا امتحان لیں اوراس غرض کے لیے ہم نے اسے سننے اوردیکھنے والابنایا '' )الدھر، 1-2:76 (

    نطفے او ربیضے کا ملاپ


    جب وہ سپرم،جس نے انڈے کو بارور کرناہوتاہے ،بیضے کے قریب پہنچتا ہے تو انڈہ ایک بار پھر ایک خاص رطوبت خارج کرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے جسے سپرم کے لیے بطور خاص تیا ر کیا جاتاہے۔یہ سپرم کے سر کی حفاظتی ڈھال کو حل کر دیتی ہے۔اس کے نتیجے میں سپرم کے سر کے کنارے پر موجود خامروں کی محلل تھیلیوں کے منہ کھول دیے جاتے ہیں جو بیضے کے لیے بطور خاص بنائی گئی ہیں۔جب سپرم بیضے تک پہنچتاہے تو یہ خامرے بیضے کی جھلی میں سوراخ کردیتے ہیں تاکہ سپرم اندر داخل ہوسکے۔بیضے کے گرد موجود منی کے جرثومے اندر داخل ہونے کے لیے مقابلہ شروع کردیتے ہیں مگر عموماً صرف ایک سپرم بیضے کو بارور کرتاہے۔
    جب ایک بیضہ ایک جرثومے کو اندر داخل ہونے کی اجازت دے دیتاہے تواس بات کا امکان موجود ہوتا ہے کہ کوئی دوسرا جرثومہ بھی اندر داخل ہوجائے مگر ایسا عموماً ہوتانہیں ہے ۔ اس کا سبب وہ برقیاتی میدان ہے جو بیضے کے گرد بن جاتاہے۔جرثومہ (+)مثبت چارج کا حامل ہوتاہے۔جبکہ انڈے کے اردگرد کا علاقہ (-)منفی طور پر چارج ہو تاہے چنانچہ جونہی پہلاجرثومہ بیضے کے اندر داخل ہو تاہے تو بیضے کا (-)منفی چارج'مثبت چارج(+) میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس لیے وہ بیضہ جس کا وہی برقیا تی چارج ہے جو بیرونی منی کے جرثومے کاہے ، تو یہ ایک دوسرے کو پرے دھکیلنا شروع کردیتے ہیں اور نتیجتاًکوئی دوسرا جرثومہ بیضے کے اندر داخل نہیں ہو پاتا۔
    آخری بات یہ ہے کہ منی میں مرد کے ڈی این اے اور عورت کے ڈی این اے بیضے میں یکجا ہو جاتے ہیں۔اب یہ پہلا بیج ہے ،ایک نئے انسان کا پہلا خلیہ جو رحم مادر میں ہے جسے جفتہ (Zygote)کہتے ہیں۔


    رحم مادر میں چمٹا ہوا جمے ہوے خون کا لوتھڑا

    جب مرد کا سپرم عورت کے بیضے کے ساتھ ملتاہے تو ''جفتہ'' پیدا ہوتا ہے جس سے متوقع بچہ پیداہوتاہے۔ یہ واحدخلیہ جو حیا تیا ت میں ''جفتہ ''کہلاتا ہے ،فوراًتقسیم ہو کر نشوونما پانے لگتا ہے اور بالآخر ''گوشت ''بن جاتا ہے۔یہ جفتہ اپنی نشوونما کی مدت خلا میں نہیں گزارتا۔ یہ رحم مادر سے ان جڑوں کی مانند چمٹ جاتاہے جو اپنی بیلوں کے ذریعے زمین سے پیوست رہتی ہیں۔اس بندھن کے ذریعے جفتہ ماں کے جسم سے وہ مادے حاصل کر سکتا ہے جو اس کی نشوونما کے لیے لازمی ہوتے ہیں۔جنین کے اس طرح چمٹ جانے کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر کیا ہے ۔مثلاً

    ( اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ۔ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ )

    '' اپنے پروردگار کے نام سے پڑھیے جس نے (ہر چیز کو)پیدا کیا (اور) انسان کو (جمے ہوئے) خون کے
    لوتھڑے سے پیداکیا ''(العلق ۔1-2 )
    عربی زبان میں لفظ ''علقہ یعنی خون کے لوتھڑے ''کے معنی یہ ہیں کہ کوئی ایسی چیز جو کسی جگہ سے چمٹ جائے۔اصطلاحاً اس لفظ کو وہاں استعمال کیا جاتا ہے جہاں چوسنے کے لیے جسم کے ساتھ جونکیں چمٹ جائیں۔ رحم مادر کی دیوار کے ساتھ جفتے کے چمٹنے اور اس سے اس کے پرورش پانے کے لیے اس سے بہتر کوئی اور لفظ استعمال نہیں ہو سکتا تھا۔رحم مادر سے پوری طرح چمٹ جانے کے بعد جفتہ کی نشوونما شروع ہو جاتی ہے۔اس اثنا میں رحم مادر ایک ایسے سیا ل مادے سے بھر جاتا ہے جسے ''غلافِ جنین سیا ل مادہ''کہتے ہیں جو جفتے کو گھیرے ہوئے ہوتاہے۔اس غلاف جنین سیا ل مادے کا سب سے اہم کام یہ ہوتاہے کہ یہ اپنے اندر موجود بچے کو باہر کی ضربوں اورچوٹوں سے محفوظ رکھتا ہے۔اس بات کا ذکر اللہ تعالی ٰ نے درج ذیل آیت کریمہ میں کیا ہے ۔
    )
    یَخْلُقُکُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ خَلْقًا مِّنْ م بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ ط ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْک ط لَآ اِلٰہَ اِلِّا ھُوَ ج فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ)

    '' وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ،تین تاریک پردوںمیں ،ایک کے بعد دوسری شکل دیتے ہوئے پیداکرتاہے۔ یہ ہے اللہ (ان صفات کا )تمہارا پروردگار، بادشاہی اسی کی ہے ،اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ پھر تم کہا ں سے پھیر دیے جاتے ہو ؟'' (39- 6)

    اس اثنا میں وہ جنین جو اس سے قبل جیلی کی مانند نظر آتا تھا وقت کے ساتھ ساتھ ایک اور شکل اختیا ر کرلیتا ہے۔ اپنی ابتدائی نرم ساخت میں ،سخت ہڈیاں بننی شروع ہو جاتی ہیں جو جسم کو سیدھا کھڑا ہونے کے قابل بناتی ہیں۔ وہ خلیے جو ابتدا میں بالکل عام سے تھے اب خا ص بن جاتے ہیں۔کچھ میں ہلکے حساس آنکھ کے خلیے متشکل ہو جاتے ہیں اور کچھ لوگوں کے ایسے خلیے تشکیل پا تے ہیں جو سردی گرمی اور درد کے مقابلے میں حساس ہوتے ہیں۔ اور کچھ خلیے آوازوں کی لہروں سے بڑے حساس ہوتے ہیں۔کیا یہ سارا فرق ان خلیوں میں خودبخود پیداہو گیا ہے ؟کیا وہ یہ فیصلہ خودکرتے ہیں کہ سب سے پہلے انسانی دل بنے یا انسانی آنکھ اور پھر وہ یہ ناقابل یقین کام خود مکمل کرتے ہیں ؟دوسری طرف سوال پیدا ہوتاہے کہ کیا ان مقاصد کے لیے ان کو موزوں طور پر تخلیق کیاگیا ہے ؟عقل ودانائی تو پکار پکار کرکہے گی کہ ان کا کوئی خالق یقینا ہے۔
    جب جنین تخلیق کے مراحل پورے کر چکتا ہے تب اس میں روح پھونکی جاتی ہے اور تخلیق کی تکمیل رحم مادر میں نطفہ قرار پانے کے بعد ایک سو بیس دن میں مکمل ہوتی ہے ' جنین میں روح پھونکے جانے سے وہ ایک دوسری مخلوق ہو جاتا ہے کیونکہ وہ حرکت کرنے اورآوازوں کو سننے پر قادر ہوجاتاہے اور اس کا دل برابر دھڑکنے لگتا ہے پھروہ اس دنیا میں پیدا ہوتاہے۔ اب یہ بچہ اپنے آغاز کے مقابلے میں 100ملین بار بڑا اور 6ملین مرتبہ بھا ری ہوتاہے 'اسی جانب قرآن مجید میں اشارہ کیاگیاہے:
    ( ثُمَّ اَنْشَاْ نَاہُ خَلْقًا اٰخَرَ ط فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ)

    ''پھر ہم نے اس کو دوسری مخلوق بنایا 'لہٰذا اللہ تعالیٰ ہی سب سے اچھا پیدا کرنے والا ہے بابرکت ہے''
    )المومنون۔ 23:14(

    یہ تھی زندگی میں ہمارا پہلا قدم رکھنے کی کہانی۔ اس میں دوسرے نامیا تی اجسام کا کوئی ذکر شامل نہ تھا۔ ایک انسان کے لیے اس سے زیادہ اہم بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اس قدر حیران کن تخلیق کے مقصد کی تلا ش کرے ؟یہ کس قدر بے وزن اور غیر منطقی بات لگتی ہے کہ ہم یہ سوچیں کہ یہ سارے کے سارے پیچیدہ کام ''اپنی مرضی اور ارادے سے'' ظہور پذیر ہو گئے۔ کسی میں اتنی قوت نہیں کہ اپنے آپ کو تخلیق کرلے یا کسی دوسرے انسان یا شے کو تخلیق کرنے میں کامیاب ہو جائے۔اس سے قبل جن واقعات کا ذکر ہو اان میں ایک ایک لمحہ ،ایک ایک سیکنڈ اور ہر ایک مرحلہ اللہ نے تخلیق کیا ہے:

    (وَاللّہُ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَکُمْ اَزْوَاجاً ط وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰی وَلاَ تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِہ ط وَماَ یُعَمِّرُ مِنْ مُّعَمِّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِہ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ ط اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْر)

    ''اللہ نے تمہیں مٹی سے ،پھر نطفہ سے پیداکیا پھر تمہیں جوڑے جوڑے بنایا۔جو بھی مادہ حاملہ ہوتی یا بچہ جنتی ہے تواللہ کو اس کا علم ہوتا ہے۔ اورکوئی بڑی عمر والا جو عمر دیا جائے یا اس کی عمر کم کی جائے تویہ سب کچھ کتاب میںدرج ہے۔ اللہ کے لیے یہ بالکل آسان بات ہے'')فاطر۔35-11(

    ہمارا جسم جو صرف پانی کے ایک حقیر قطرے سے بننا شروع ہوا ایک مکمل انسان بن جاتا ہے۔جس میں کئی ملین نازک توازنات ہوتے ہیں گو ہم اس بات سے باخبر نہیں ہیں مگر ہمارے جسموں میں نہا یت پیچیدہ اور نازک نظام کا م کر رہے ہیں جن کی مدد سے ہم زندہ رہتے ہیں۔ یہ تما م نظام انسان کے واحد مالک ،خالق اور آقا ،اللہ نے بنائے ہیں اور وہی ان کو چلا رہا ہے۔ ( 1)


    حواشی


    (1)۔اللہ کی نشانیاں،عقل والوںکے لیے ۔صفحہ63-70
    Microsoft Encarta DVD Edition 2009

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. Sulaman Yaqub

    Sulaman Yaqub نوآموز

    شمولیت:
    ‏دسمبر 14, 2016
    پیغامات:
    1
    السلام علیکم، محترمی، آپ کا مضمون پڑھا۔ بہت بہترین طور پر آپ نے اسے تحریر کیا ہے۔ مگر ایک بات کی وضاحت میں ، میں اپنا نقطۂ نظر آپ تک پہنچانا چاہوں گا۔
    آیت کا آخری حصہ ثُمَّ اَنْشَاْ نَاہُ خَلْقًا اٰخَرَ ط فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ کچھ اور بتا رہا ہے۔
    اصل میں جنین کی شکل جب اس ميں ہڈیاں اور گوشت بنتا ہے تمام "حیوانات لبونہ" (میملز) میں ایک جیسی ہوتی ہے۔ جسے سائنس کی اصطلاح میں گیسٹرولیشن کہتے ہیں اور اس حالت
    میں جنین کو گیسٹرولا کہا جاتا ہے۔ جس کے دوران جنین میں خلیات کی تین تہیں بنتی ہیں اور پھر ان تہوں کے خلیات خود کو مختلف اعضاء میں ڈھالتے ہیں اور ان اعضاء کی ساخت
    تمام حیوانات کے ڈی این اے کے مطابق اپنی اپنی ہوتی ہے۔ اسے قرآن اپنے انداز میں بتاتا ہے کہ ثُمَّ اَنْشَاْ نَاہُ خَلْقًا اٰخَرَ پھر اسے ایک دوسری ہی شکل بنا کر کھڑا کر دیا۔ گویا تمام حیوانات
    اپنی ابتدائی تخلیق کے لحاظ سے ایک جیسے ہوتے ہيں مگر پھر اللہ اپنی صناعی سے ہر ایک کو الگ ساخت اور شکل و صورت پر پیدا فرماتا ہے (جو اس کے ڈی این اے میں محفوظ ہوتا ہے)
    فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ
    سلیمان یعقوب
    لیکچرار (علم لکیمیا فی لادویۃ الانسانیہ)
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں