سفر آداب اور دعائیں

بابر تنویر نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏اپریل 18, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,472
    upload_2017-4-18_17-19-38.png
    تالیف: عائشہ احسان، ام عبداللہ
    ناشر الھدی پبلیکشنز، اسلام آباد
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,472
    ابتدائیہ

    الحمد للہ و کفی و سلام علی عبادہ الذین اصطفی
    سفر ہر انسان کی زندگي میں اہمیت رکھتا ہے۔ موجودہ سفر کی سہولتوں اور ذرائع آمد و رفت کی ترقی کی وجہ سے لوگوں کی کثیر تعداد روزانہ اندرون و بیرون ملک سفر کرتی ہے، لیکن سفر کی سنتوں سے لاعلمی کی بدولت سفر کے فوائد اور خیر و برکت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی سفر کیے اور صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کو بھی مختلف اسفار پر روانہ فرمایا۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہترین نمونہ قرار دیتے ہوۓ فرمایا

    لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا (21)

    یقینا تمہارے لیے اللہ کے رسول (کی ذات) میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے۔

    اس کتاب کو مرتب کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قرآن مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر کے متعلق ملنے والی رہنمائ کو مختصرا بیان کردیا جاۓ۔ قاری کی سہولت کے لیے کتاب کے آخر میں سفر کی تمام دعائیں بھی شامل کردی گئ ہیں تاکہ ہر سفر دنیا اور آخرت کے لیے مفید ہوجاۓ۔ اللہ تبارک و تعالی اس کوشش کو قبول فرماۓ۔ آمین!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    339
    دنیا کی اکثریت سفر پر رہتی ہے لہذا ایسے موقع پر سفر کے آداب بجالانا بے حد ضروری ہوتا ہے۔
    آمین

    محترم اگر اسکی Pdf لنک ہو تو ارسال کریں تاکہ ڈانلوڈ کرنے میں آسانی ہو۔
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,472
    و ایاک!
    نہیں بھائ پی ڈی اف فائل تو میرے پاس نہیں ہے ۔ تلاش کرتا ہوں اگر نیٹ پر کہیں ملی تو شئر کردوں گا۔
     
  5. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,472
    سفر کی تیاری


    نیت
    ہر کام کے لیے حسن نیت ضروری ہے تاکہ وہ اللہ کے ہاں اجر کا باعث ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    إنما الأعمال بالنيات " اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے"۔
    سفر پر جانے سے پہلے نیت کو اللہ کے لیے خالص کرلیں تاکہ سفر عبادت بن جاۓ۔
    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبئ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :" جب بھی کوئ نکلنے والا اپنے گھر سے نکلتا ہے تو اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں۔ ایک جھنڈا فرشتے کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور ایک جھنڈا شیطان کے ہاتھ میں ہوتا ہے اگر وہ ایسی جگہ کے لیے نکلتا ہے جسے اللہ عزوجل پسند کرتا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لے کر اس کے پیچھے پیچھے روانہ ہو جاتا ہے اور وہ گھر لوٹنے تک فرشتے کے جھنڈے تلے ہوتا ہے اور اگر وہ ایسی جگہ کے لیے نکلتا ہے جو اللہ عزوجل کو ناراض کرتی ہے تو شیطان اپنا جھنڈا لے کر اس کے پیچھے روانہ جو جاتا ہے اور وہ گھر واپس آنے تک شیطان کے جھنڈے تلے رہتا ہے۔ (مسند احمد 8286 ج 14۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,472
    استخارہ کرنا

    سفر پر جانے سے قبل استخارہ کیا جاۓ۔ استخارہ کا لفظی معنی ہیں "خیر طلب کرنا" شریعت کی رو سے کسی اہم معاملے مثلا کاروبار، شادی یا سفر وغیرہ کا فیصلہ کرنے سے قبل دو رکعت نفل نماز پڑھنے کے بعد مخصوص دعا کے ذریعے اللہ تعالی سے بھلائ طلب کرنے کو استخارہ کہتے ہیں۔


    ٭ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام کاموں میں استخارہ کرنے کی اس طرح تعلیم دیتے، جس طرح ہمیں قرآن کی سورت کی تعلیم دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ": تم میں سے کوئ شخص جب کسی کام کا ارادہ کرے تو فرض کے علاوہ دو رکعتیں ادا کرے پھر یہ کہے: اللھم انی استخیرک بعلمک واستقدرک بقدرتک واسألک من فضلک العظیم۔۔۔۔۔۔الخ

    اے اللہ! بے شک میں تجھ سے تیرے علم کی بدولت خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کی بدولت تجھ سے طاقت مانگتا ہوں اور تیرے فضل کا طلبگآر ہوں۔۔۔۔۔۔۔"


    مشورہ کرنا

    کسی بھی اہم کام سے پہلے مشورہ کرنا مستحب ہے۔ استخارہ کے بعد ان لوگوں سے مشورہ کر لینا چاہیے جو اس سفر سے متعلق ہوں۔ اللہ تعالی نے اپنے نبئ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کرنے کا حکم دیتے ہوۓ فرمایا:

    وَشَاوِرْهُمْفِيالْأَمْرِ (آل عمران159)
    "اور کاموں میں ان سے مشورہ لیا کرو۔"
     
  7. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,472
    برا شگون نہ لینا۔

    سیدنا ابو دردراء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "

    لن ينال الدرجات العلى من تكهن ، أو استقسم، أو رجع من سفر تطيرا" . صحیح الترغیب و الترھیب 3045 "
    جس نے کہانت کی یا فال لی یا بد شگونی لیتے ہوۓ سفر سے واپس آگيا وہ ہر گز اعلی درجات تک رسائ حاصل نہیں کرسکتا۔"


    گھر والوں میں سے کسی کو ساتھ لے جانے کے لیے قرعہ اندازی کرنا،

    نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ عائشہ کہتی ہیں کہ : عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِه ِ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ "بخاری 2593 مسلم 2770

    رسول اللہ جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے، ان میں سے جس کا نام نکل آتا، اسے اپنے ساتھ (سفر پر) لے جاتے۔۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,472
    سفر کی بہترین جگہیں
    سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    " إن خير ما ركبت إليه الرواحل مسجدي هذا ، و البيت العتيق " .قال الألباني في " السلسلة الصحيحة " 4 / 204:
    وہ بہترین جگہیں جن کی طرف سواریاں سفر کرکے آئيں میری یہ مسجد اور بیت العتیق ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  9. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,472
    قرض امانتوں اور ادھار کی ادائیگي

    سفر پر جانے سے پہلے قرض اتار کر اور امانتیں لوٹا کر روانہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ انسان کو معلوم نہیں کہاں زندگي کا آخری وقت آجاۓ۔

    سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَاءٍ،حَدَّثَنَا، عَمِّيمُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ،عَنْحُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ،عَنْمَطَرٍ الْوَرَّاقِ،عَنْنَافِعٍ،عَنِابْنِ عُمَرَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دِينَارٌ أَوْ دِرْهَمٌ قُضِيَ مِنْ حَسَنَاتِهِ لَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ ".سنن ابن ماجہ 2414
    جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ اس کے ذمے ایک دینار یا ایک درہم تھا تو وہ اس کی نیکیوں سے ادا کیا جاۓ گا، وہاں (آخرت میں) نہ دینار ہوں گے نہ درہم۔


    وصیت کرنا۔

    سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    حدثناعبد الله بن يوسفأخبرنامالكعننافععنعبد الله بن عمررضي الله عنهماأن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال"ما حق امرئ مسلم له شيء يوصي فيه يبيت ليلتين إلا ووصيته مكتوبة عنده" (صحیح بخاری 2738

    کسی مسلمان کے لیے جس کے پاس قابل وصیت کوئ بھی مال ہو درست نہین کہ وہ اپنے پاس لکھی ہوئ وصیت کے بغیر دو رات بھی گزارے۔

    گھر والوں کے لیے خرچ چھوڑ کر جانا

    کسی بھی لمبے سفر پر جانے سے پہلے اپنے اہل و عیال کی ضروریات کے لیے مناسب رقم وغیرہ چھوڑ کر جانا چاہیے نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوات کے لیے سفر کرنے پڑتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ اپنی ازواج مطہرات کو سال بھر کا خرچہ دیا کرتے تھے ( بحوالہ بخاری 4033)

    ٭ سیدنا وہب بن جابر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے غلام نے ان سے کہا کہ میں یہاں بیت المقدس میں ایک ماہ قیام کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کیا تم نے اپنے اہل خانہ کے لیے اس مہینے کی غذائ ضروریات کا انتظام کردیا ہے؟ ان سے کہا نہیں، انہوں نے فرمایا پھر تم اپنے اہل خانہ کے پاس جا کر ان کے لیے اس کا انتظام کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ

    "كفى بالمرء إثما أن يضيِّع من يقوت" (مسند احمد 6842)

    " انسان کے گناہ گار ہونے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ جن کے رزق و اخراجات کا یہ ذمہ دار ہو، انہیں ضائع کردے۔"

    اسی طرح جو خاندان یا افراد کسی کے زیر کفالت ہوں یا ان کی بیشتر گزر اوقات سفر کرنے والے کی زکوۃ، صدقات سے پوری ہوتی ہو تو سفر سے قبل ان کا حق بھی ادا کردیا جاۓ۔

    سفر کے لیے نکلتے ہوۓ کسی کو نائب بنانا۔

    ٭ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ

    عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : ثُمَّمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَفَرِهِ وَاسْتَخْلَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ أَبَا رُهْمٍ كُلْثُومَ بْنَ حُصَيْنِ بْنِخَلَفٍ الْغِفَارِيَّ" ( مسند احمد 2392)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ سفر پر روانہ ہوۓ اور مدینہ میں ابورہم کلثوم بن حصین بن عتبہ بن خلف غفاری کو اپنا نائب بنایا۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,472
    کھانا اور خادم ساتھ رکھنا۔
    قرآن مجید میں موسی علیہ السلام کے سفر کا ذکر کرتے ہوۓ اللہ تعالی فرماتے ہیں : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِن سَفَرِنَا هَـٰذَا نَصَبًا﴿٦٢﴾ الکھف "(موسی نے) اپنے خآدم سے کہا ہمارا ناشتہ لے آؤ سفر میں تو ہم بری طرح تھک گۓ ہیں"

    سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئ خادم نہیں تھا۔ اس لیے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ (جو میرے سوتیلے باپ تھے) میرا ہاتھ پکڑ کے مجھے رسول کی خدمت میں لے گۓ اور عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم انس سمجھدار بچہ ہے یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :: فَخَدَمْتُهُ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ ، مَا قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ : لِمَ صَنَعْتَ هَذَا ھکذا ؟ وَلا لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ : لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا ؟ " بخاری 2768
    "میں نے آپ کی سفر اور حضر میں خدمت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے اس کام کے بارے میں جو میں نے کیا ہو یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں کیا، اسی طرح کسی ایسے کام کے متعلق جسے میں نہ کرسکا ہوں آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام اس طر ح کیوں نہیں کیا؟۔"

    اس آیت اور حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ سفر میں حسب ضرورت کھانا پینا اور خادم ساتھ رکھا جاسکتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,472
    نیک لوگوں کے ساتھ سفر کرنا اور ان سے آداب سفر سیکھنا

    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ زَاهِرٍ أَبَا رُوَاعٍ ، قَالَ :
    سَمِعْتُ عُثْمَانَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ : إِنَّا وَاللهِ قَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ ، فكَانَ يَعُودُ مَرْضَانَا ، وَيَتْبَعُ جَنَائِزَنَا ، وَيَغْزُو مَعَنَا ، وَيُوَاسِينَا بِالْقَلِيلِ وَالْكَثِيرِ ، وَإِنَّ نَاسًا يُعْلِّمُونِي بِهِ ، عَسَى أَنْ لَا يَكُونَ أَحَدُهُمْ رَآهُ قَطُّ (مسند احمد 504-1
    عباد بن ظاہر کہتے ہیں کہ میں نے عثمان رضی اللہ تعال عنہ کو ایک مرتبہ دوران خطبہ یہ کہتے ہوۓ سنا " اللہ کی قسم! سفر اور حضر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم نشین رہے ہیں، نبئ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بیماروں کی عیادت کرتے ہمارے جنازوں میں شرکت کرتے، ہمارے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے، تھوڑے اور زیادہ کے ساتھ ہماری غم خواری فرماتے، اور اب بعض ایسے لوگ مجھے سکھانے کے لیے آتے ہیں جنہوں نے شاید نبئ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا بھی نہ ہو۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,472
    الوداعی ملاقات
    انَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا اسْتُوْدِعَ شَيْئًا حَفِظَهُ» صححه الألباني رحمه الله في "السلسلة الصحيحة" (2547)
    سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ "یقینا جب کوئ چیز اللہ کی حفاظت میں دی جاۓ تو اللہ تعالی اس کی حفاظت فرماتا ہے۔"

    مسافر کو چاہیے کہ سفر سے قبل اپنے اہل و عیال، رشتہ داروں اور ا حباب سے الوداعی ملاقات کرے اور ان سے دعائيں لے کیونکہ یہ نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔
    عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَدَّعَ رَجُلًا أَخَذَ بِيَدِهِ فَلَا يَدَعُهَا حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ يَدَعُ يَدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُ: «أسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَآخِرَ عَمَلِكَ» الترمذی 3442
    سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو رخصت کرتے تو اس کا ہاتھ پکڑتے اور اس وقت نہ چھوڑتے جب تک وہ شخص خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ نہ چھوڑ دیتا اور فرماتے " میں تیرا دین، تیری امانت اور تیرا آخری عمل اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔

    حدثنا إسمعيل بن موسى الفزاري حدثنا سعيد بن خثيم عن حنظلة عن سالم أن ابن عمر كان يقول للرجل إذا أراد سفرا ادن مني أودعك كما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يودعنا فيقول أستودع الله دينك وأمانتك وخواتيم عملك
    سالم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جو شخص سفر کا ارادہ کرتا ابن عمر رضی اللہ عنہ اس سے کہتے کہ میرے قریب آؤ میں تمہیں ویسے ہی الوداع کروں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں الوداع فرمایا کرتے تھے۔ پھر کہتے " میں تیرا دین، تیری امانت اور تیرے عمل کا اختتام اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔"

    ابي هريرة قال:‏‏‏‏ ودعني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال:‏‏‏‏"استودعك الله الذي لا تضيع ودائعه". ابن ماجہ 2825
    " میں تجھے اللہ ک سپرد کرتا ہوں ۔ جس کے سپرد کی ہوئ چیزیں ضائع نہیں ہوتیں"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,472
    مسافر کو بھی چاہیے کہ اپنے پیچھے رہنے والوں کو دعا دے

    موسی بن وردان کہتے ہیں کہ میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور سفر کے لیے الوداع کہنے کے لیے جس کا میں ارادہ رکھتا تھا تو ابو ہریرہ نے کہا : اے بھتیجے! کیا میں تمہیں ایسی چيز نہ سکھاؤں جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائ کہ میں الوداع کے موقع پر کہوں؟ میں نہ کہا کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا : کہو "استودعكم الله الذي لا تضيع ودائعه". (السلسلہ الصحیحہ 2547) " میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں جس کے سپرد کی ہوئ چیز ضائع نہیں ہوتی۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  14. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,472
    تقوی اور بلند اخلاق کا مظاہرہ کرنا
    قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتے ہیں : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ ۚ وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ ﴿١٩٧﴾ البقرہ " اور زادہ راہ لے لو بے شک سے بہترین زاد راہ تقوی ہے۔
    عن أبي هريرة ـ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ ـ ، أن رجلاً قال : يا رَسُول اللَّهِ ، إني أريد أن أسافر فأوصني ، قال : "عليك بتقوى اللَّه ، والتكبير على كل شَرَف " ،سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ وسلم روایت ہے کہ ایک شخص نے نبي صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے اللہ کے رسول مجھے وصیت فرمایے آپ نے فرمایا " تم پر اللہ کا تقوی اور ہر بلندی پر تکبیر(اللہ اکبر) کہنا لازم ہے۔"
    فلما ولى الرجل ، قال : " اللهم اطو له البعد ، وهون عليه السفر " . رَوَاهُ التِّرمِذِيُّ (3441) وَقَالَ حَدِيثٌ حَسَنٌ
    پھر جب وہ پلٹا تو آپ نے فرمایا " اے اللہ اس کے لیے زمین کو لپیٹ دے۔"

    سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سفر کا ارادہ رکھتا ہوں مجھے توشہ دیجیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زَوَّدَكَ اللَّه التَّقْوَى "اللہ تجھے تقوی کا توشہ عطا کرے۔" اس نے کہا کچھ زیادہ کجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ فرمایا وَغَفَرَ ذَنْبَكَ " اور تیرے گناہ معاف فرماۓ" اس نے کہا کچھ اور زیادہ کیجیے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وَيَسَّرَ لكَ الخيْرَ حَيْثُمَا كُنْتَ " اور جہاں کہیں بھی تو ہو تیری لیے خیر کو آسان کرے۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  15. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,472
    سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے سفر کا ارادہ کیا اور کہا " اے اللہ کے رسول مجھے کوئ وصیت فرمائيں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعبد الله لا تشرك به شيئا " تم اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو اسکے ساتھ شریک نہ ٹھراؤ۔"
    قال: يا نبي الله زدني. انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مزید وصیت فرمائیں۔
    قال: (إذا أسأت فأحسن) "جب تم برائ کر بیٹھو تو (بدلے میں) نیکی کرو۔"
    قال: يا نبي الله زدني. انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مزید وصیت فرمائیں"
    قال: (استقم ، وليحسن خلقك). آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "ثابت قدم رہو اور اپنے اخلاق کو اچھا کرو۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  16. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,472
    سفر کے آداب

    عبد الرحمن بن کعب بن مالک سے روایت ہے کہ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے
    عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ لَقَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِذَا خَرَجَ فِي سَفَرٍ إِلَّا يَوْمَ الْخَمِيسِ . بخاری 2949
    "بہت کم ہی ایسا ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعرات کے علاوہ کسی اور دن سفر پر نکلتے۔"

    حدثني عبد الله بن محمد حدثنا هشام اخبرنا معمر عن الزهري عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن ابيه رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم"خرج يوم الخميس في غزوة تبوك وكان يحب ان يخرج يوم الخميس".
    حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"خَرَجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يَخْرُجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ". بخاری 2950
    مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک نے اور انہیں ان کے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے لیے جمعرات کے دن نکلے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعرات کے دن سفر کرنا پسند فرماتے تھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  17. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,472
    علی الصبح روانہ ہونا۔

    سیدنا صخر ‏غامدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اللہم بارک لامتی فی بکورھا۔ " اے اللہ! میری امت کے لیے ان کی صبحوں میں برکت ڈال دے۔"
    چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئ مہم یا لشکر روانہ کرنا ہوتا تو انہیں دن کے پہلے پہر روانہ کیا کرتے۔
    وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلاً تَاجِراً وَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَأَثْرَى وَكَثُرَ مَالُهُ.
    سیدنا صخر رضی اللہ عنہ ایک تاجر صحابی تھے وہ اپنے کارندوں کو دن کے پہلے پہر روانہ کیا کرتے تھے۔ چنانچہ وہ مال دار ہوگۓ اور ان کا مال خوب بڑھ گيا۔ سنن ابی داؤد 2606۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  18. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,472
    رات کو سفر کرنا۔
    سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‏‏‏‏ "عليكم بالدلجة فإن الارض تطوى بالليل". ابی داؤد 2571 ۔" تم رات کو سفر کیا کرو اس لیے کر زمین رات کو لپیٹ دی جاتی ہے۔۔"
    لہذا مہمات اور رزق کی تلاش کے صبح کے اوقات میں نکلنا زیادہ بہتر جبکہ دیگر اسفار کے لیے رات کو سفر جاری رکھنا مفید ہے۔ صحرانورد دوپہر کی دھوپ اور تپتی ریت پر سفر جاری رکھنے کی بجاۓ صبح اور شام نسبتا ٹھنڈے اوقات میں سفر کرتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  19. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,472
    سخت گرمی میں سفر نہ کرنا۔

    حدثنا حماد بن خالد حدثنا هشام بن سعد عن أبي الزبير عن أبي الطفيل عن معاذ بن جبل قال كان النبي صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك لا يروح حتى يبرد۔۔۔۔۔۔۔۔! مسند احمد ج 36 :22036
    سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ " نبئ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں ٹھنڈے وقت میں روانہ ہوۓ۔
     
    Last edited: ‏جون 28, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  20. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,472
    تنہا سفر سے گریز کرنا۔

    عَنْ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ( لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ مَا أَعْلَمُ ، مَا سَارَ رَاكِبٌ بِلَيْلٍ وَحْدَهُ ) البخاري (2998)
    سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبئ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اگر لوگوں کو اکیلے سفر (کی خرابیوں) کا اتنا علم ہوتا جتنا مجھے ہے تو کوئ اکیلا رات کو سفر نہ کرتا۔"

    عن عبد الله بن عمرو بن العاص أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ وَالثَّلَاثَةُ رَكْبٌ ) رواه الترمذي (1674) مستدر الحاکم2541:2 . والألباني في "السلسلة الصحيحة" (62)
    سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص سفر سے واپس آیا تو رسول اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا " تمہارا ساتھی کون تھا؟" اس نے کہا کہ میرے ساتھ کوئ نہیں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔" اکیلا سوار شیطان ہے، دو سوار دو شیطان ہیں اور تین سوار ایک قافلہ ہیں۔

    علامہ البانی فرماتے ہیں " غالبا اس حدیث سے مراد صحرا کا سفر ہے جہاں مسافر بہت کم ہی کسی کو دیکھ پاتا ہے، اس میں آج کل کا سفر داخل نہیں ہے جو معروف راستوں میں ہوتا ہے اور جن پر بہت سی سواریاں چلتی پھرتی ہیں۔ واللہ اعلم

    ان احادیث سے پتا چلتا ہے کہ بالکل تنہا سفر نہیں کرنا چاہیے، ٹرین، بس یہ ہوائ جہاز پر سفر تنہا شمار نہیں ہوگا کیونکہ ان میں بہت سے مسافر موجود ہوتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں