سفر آداب اور دعائیں

بابر تنویر نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏اپریل 18, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,299
    upload_2017-4-18_17-19-38.png
    تالیف: عائشہ احسان، ام عبداللہ
    ناشر الھدی پبلیکشنز، اسلام آباد
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,299
    ابتدائیہ

    الحمد للہ و کفی و سلام علی عبادہ الذین اصطفی
    سفر ہر انسان کی زندگي میں اہمیت رکھتا ہے۔ موجودہ سفر کی سہولتوں اور ذرائع آمد و رفت کی ترقی کی وجہ سے لوگوں کی کثیر تعداد روزانہ اندرون و بیرون ملک سفر کرتی ہے، لیکن سفر کی سنتوں سے لاعلمی کی بدولت سفر کے فوائد اور خیر و برکت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی سفر کیے اور صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کو بھی مختلف اسفار پر روانہ فرمایا۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہترین نمونہ قرار دیتے ہوۓ فرمایا

    لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا (21)

    یقینا تمہارے لیے اللہ کے رسول (کی ذات) میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے۔

    اس کتاب کو مرتب کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قرآن مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر کے متعلق ملنے والی رہنمائ کو مختصرا بیان کردیا جاۓ۔ قاری کی سہولت کے لیے کتاب کے آخر میں سفر کی تمام دعائیں بھی شامل کردی گئ ہیں تاکہ ہر سفر دنیا اور آخرت کے لیے مفید ہوجاۓ۔ اللہ تبارک و تعالی اس کوشش کو قبول فرماۓ۔ آمین!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    295
    دنیا کی اکثریت سفر پر رہتی ہے لہذا ایسے موقع پر سفر کے آداب بجالانا بے حد ضروری ہوتا ہے۔
    آمین

    محترم اگر اسکی Pdf لنک ہو تو ارسال کریں تاکہ ڈانلوڈ کرنے میں آسانی ہو۔
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,299
    و ایاک!
    نہیں بھائ پی ڈی اف فائل تو میرے پاس نہیں ہے ۔ تلاش کرتا ہوں اگر نیٹ پر کہیں ملی تو شئر کردوں گا۔
     
  5. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,299
    سفر کی تیاری


    نیت
    ہر کام کے لیے حسن نیت ضروری ہے تاکہ وہ اللہ کے ہاں اجر کا باعث ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    إنما الأعمال بالنيات " اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے"۔
    سفر پر جانے سے پہلے نیت کو اللہ کے لیے خالص کرلیں تاکہ سفر عبادت بن جاۓ۔
    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبئ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :" جب بھی کوئ نکلنے والا اپنے گھر سے نکلتا ہے تو اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں۔ ایک جھنڈا فرشتے کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور ایک جھنڈا شیطان کے ہاتھ میں ہوتا ہے اگر وہ ایسی جگہ کے لیے نکلتا ہے جسے اللہ عزوجل پسند کرتا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لے کر اس کے پیچھے پیچھے روانہ ہو جاتا ہے اور وہ گھر لوٹنے تک فرشتے کے جھنڈے تلے ہوتا ہے اور اگر وہ ایسی جگہ کے لیے نکلتا ہے جو اللہ عزوجل کو ناراض کرتی ہے تو شیطان اپنا جھنڈا لے کر اس کے پیچھے روانہ جو جاتا ہے اور وہ گھر واپس آنے تک شیطان کے جھنڈے تلے رہتا ہے۔ (مسند احمد 8286 ج 14۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,299
    استخارہ کرنا

    سفر پر جانے سے قبل استخارہ کیا جاۓ۔ استخارہ کا لفظی معنی ہیں "خیر طلب کرنا" شریعت کی رو سے کسی اہم معاملے مثلا کاروبار، شادی یا سفر وغیرہ کا فیصلہ کرنے سے قبل دو رکعت نفل نماز پڑھنے کے بعد مخصوص دعا کے ذریعے اللہ تعالی سے بھلائ طلب کرنے کو استخارہ کہتے ہیں۔


    ٭ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام کاموں میں استخارہ کرنے کی اس طرح تعلیم دیتے، جس طرح ہمیں قرآن کی سورت کی تعلیم دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ": تم میں سے کوئ شخص جب کسی کام کا ارادہ کرے تو فرض کے علاوہ دو رکعتیں ادا کرے پھر یہ کہے: اللھم انی استخیرک بعلمک واستقدرک بقدرتک واسألک من فضلک العظیم۔۔۔۔۔۔الخ

    اے اللہ! بے شک میں تجھ سے تیرے علم کی بدولت خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کی بدولت تجھ سے طاقت مانگتا ہوں اور تیرے فضل کا طلبگآر ہوں۔۔۔۔۔۔۔"


    مشورہ کرنا

    کسی بھی اہم کام سے پہلے مشورہ کرنا مستحب ہے۔ استخارہ کے بعد ان لوگوں سے مشورہ کر لینا چاہیے جو اس سفر سے متعلق ہوں۔ اللہ تعالی نے اپنے نبئ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کرنے کا حکم دیتے ہوۓ فرمایا:

    وَشَاوِرْهُمْفِيالْأَمْرِ (آل عمران159)
    "اور کاموں میں ان سے مشورہ لیا کرو۔"
     
  7. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,299
    برا شگون نہ لینا۔

    سیدنا ابو دردراء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "

    لن ينال الدرجات العلى من تكهن ، أو استقسم، أو رجع من سفر تطيرا" . صحیح الترغیب و الترھیب 3045 "
    جس نے کہانت کی یا فال لی یا بد شگونی لیتے ہوۓ سفر سے واپس آگيا وہ ہر گز اعلی درجات تک رسائ حاصل نہیں کرسکتا۔"


    گھر والوں میں سے کسی کو ساتھ لے جانے کے لیے قرعہ اندازی کرنا،

    نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ عائشہ کہتی ہیں کہ : عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِه ِ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ "بخاری 2593 مسلم 2770

    رسول اللہ جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے، ان میں سے جس کا نام نکل آتا، اسے اپنے ساتھ (سفر پر) لے جاتے۔۔"
     
  8. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,299
    سفر کی بہترین جگہیں
    سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    " إن خير ما ركبت إليه الرواحل مسجدي هذا ، و البيت العتيق " .قال الألباني في " السلسلة الصحيحة " 4 / 204:
    وہ بہترین جگہیں جن کی طرف سواریاں سفر کرکے آئيں میری یہ مسجد اور بیت العتیق ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  9. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,299
    قرض امانتوں اور ادھار کی ادائیگي

    سفر پر جانے سے پہلے قرض اتار کر اور امانتیں لوٹا کر روانہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ انسان کو معلوم نہیں کہاں زندگي کا آخری وقت آجاۓ۔

    سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَاءٍ،حَدَّثَنَا، عَمِّيمُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ،عَنْحُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ،عَنْمَطَرٍ الْوَرَّاقِ،عَنْنَافِعٍ،عَنِابْنِ عُمَرَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دِينَارٌ أَوْ دِرْهَمٌ قُضِيَ مِنْ حَسَنَاتِهِ لَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ ".سنن ابن ماجہ 2414
    جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ اس کے ذمے ایک دینار یا ایک درہم تھا تو وہ اس کی نیکیوں سے ادا کیا جاۓ گا، وہاں (آخرت میں) نہ دینار ہوں گے نہ درہم۔


    وصیت کرنا۔

    سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    حدثناعبد الله بن يوسفأخبرنامالكعننافععنعبد الله بن عمررضي الله عنهماأن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال"ما حق امرئ مسلم له شيء يوصي فيه يبيت ليلتين إلا ووصيته مكتوبة عنده" (صحیح بخاری 2738

    کسی مسلمان کے لیے جس کے پاس قابل وصیت کوئ بھی مال ہو درست نہین کہ وہ اپنے پاس لکھی ہوئ وصیت کے بغیر دو رات بھی گزارے۔

    گھر والوں کے لیے خرچ چھوڑ کر جانا

    کسی بھی لمبے سفر پر جانے سے پہلے اپنے اہل و عیال کی ضروریات کے لیے مناسب رقم وغیرہ چھوڑ کر جانا چاہیے نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوات کے لیے سفر کرنے پڑتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ اپنی ازواج مطہرات کو سال بھر کا خرچہ دیا کرتے تھے ( بحوالہ بخاری 4033)

    ٭ سیدنا وہب بن جابر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے غلام نے ان سے کہا کہ میں یہاں بیت المقدس میں ایک ماہ قیام کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کیا تم نے اپنے اہل خانہ کے لیے اس مہینے کی غذائ ضروریات کا انتظام کردیا ہے؟ ان سے کہا نہیں، انہوں نے فرمایا پھر تم اپنے اہل خانہ کے پاس جا کر ان کے لیے اس کا انتظام کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ

    "كفى بالمرء إثما أن يضيِّع من يقوت" (مسند احمد 6842)

    " انسان کے گناہ گار ہونے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ جن کے رزق و اخراجات کا یہ ذمہ دار ہو، انہیں ضائع کردے۔"

    اسی طرح جو خاندان یا افراد کسی کے زیر کفالت ہوں یا ان کی بیشتر گزر اوقات سفر کرنے والے کی زکوۃ، صدقات سے پوری ہوتی ہو تو سفر سے قبل ان کا حق بھی ادا کردیا جاۓ۔

    سفر کے لیے نکلتے ہوۓ کسی کو نائب بنانا۔

    ٭ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ

    عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : ثُمَّمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَفَرِهِ وَاسْتَخْلَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ أَبَا رُهْمٍ كُلْثُومَ بْنَ حُصَيْنِ بْنِخَلَفٍ الْغِفَارِيَّ" ( مسند احمد 2392)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ سفر پر روانہ ہوۓ اور مدینہ میں ابورہم کلثوم بن حصین بن عتبہ بن خلف غفاری کو اپنا نائب بنایا۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں